وہمی علاج (تعویذ ، دھاگے) اور اس کے نقصانات

بابر تنویر نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏اکتوبر، 25, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,109
    الحرز الموهوم
    وہمی علاج
    اور اس کے نقصانات
    تالیف محمد بن سلیمان المفدی

    ترجمہ ذاکر حسین وراثت اللہ

    مراجعہ ابو اسعد قطب محمد الاثری

    ناشر
    مکتب تعاونی برائے دعوت وارشاد ، ربوہ، ریاض ، سعودی عرب

    بسم الله الرحمن الرحيم

    الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله. أما بعد:

    بلا شبہ اللہ تعالی ہی کون ومکاں کو عدم سے وجود میں لانے والا ہے، اور وہی مختار کل ہے، اس میں اپنی مشیئت اور حکمت کے مطابق جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے، نیز وہی مسبب الاسباب (سبب پیدا کرنے والا) ہے، اوروہی اپنی بعض مخلوقات کے وجود کو بعض پر ترتیب دینے والا ہے۔

    زمانۂ ماضی کے اہل شرک اس بات کا اقرار واعتراف کرتے تھے کہ خلق اور تدبیر(پیدا کرنا اور عالم کو چلانا اور اس کی دیکھ ریکھ کرنا) اللہ عزو جل کی خصوصیت ہے، اور یہ کہ اس جہان میں کامل تصرف کا حق اسی کو حاصل ہے اور وہی مختار کل ہے۔ وہ اپنے معبودان کے بارے میں یہ عقیدہ نہیں رکھتےتھے کہ وہ کون ومکاں کی کسی چیز میں تصرف کر سکتے ہیں، یا کسی کو نفع اور نقصان پہونچا سکتے ہیں، بلکہ وہ یہ عقیدہ رکھتے تھےکہ یہ سب کچھ صرف اللہ وحدہ لا شریک کی ملکیت ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:

    وَمَا بِكُم مِّن نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللَّـهِ ۖثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْأَرُونَ﴿٥٣﴾ [النحل: 53]
    ”تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں سب اللہ کی دی ہوئی ہیں، اب بھی جب تمہیں کوئی مصیبت پیش آجائے تو اسی کی طرف گڑگڑاتے ہو۔“

    اور فرمایا:

    وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ ۚقُلْ أَفَرَأَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ إِنْ أَرَادَنِيَ اللَّـهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أَوْ أَرَادَنِي بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكَاتُ رَحْمَتِهِ ۚقُلْ حَسْبِيَ اللَّـهُ ۖعَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ﴿٣٨﴾”
    اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان وزمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقینا وہ یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے۔“

    اسی لئے اللہ تعالی نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ ان سے (آیت میں مذکور سوالوں کا) جواب مانگیں:

    چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے سوال کیا تو انہوں نے خاموشی اختیار کرتے ہوئے کوئی جواب نہیں دیا، اور یہ اسی لئے کہ وہ اپنے معبودوں میں مذکورہ چیزوں کے کرسکنے کی قدرت وطاقت کا اعتقاد نہیں رکھتے تھے۔

    لیکن بعض مسلمان -اللہ انہیں راہ راست دکھائے- شیطان کے دام فریب میں پھنس کر اپنے مستقبل کو پیوند، دھاگے یا جوتے وغیرہ کے ساتھ معلق اور مربوط کردیتے ہیں، اور یہ گمان کرتے ہوئے کہ ان میں نفع پہنچانے اور نقصان دور کرنے کی قوت وصلاحیت ہےاور پھر اپنے امور اورمعاملات کو ان کے حوالے کر دیتے ہیں۔

    پس کہاں ہے مذکورہ آیت کے آخری جزو پر عمل اور اس کی بجا آوری؟ کہاں ہے یہ اعتقاد کہ دھاگے، پیوند، کپڑے اور جوتے وغیرہ نہیں بلکہ اللہ تعالی ہی تم کو کافی ہے؟! کہاں ہے اس ذات الہی پر توکل جو توکل کرنے والوں کے لئے کافی ہے؟! جیسا کہ اس کا فرمان ہے:

    وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ …………! [الطلاق: 3]
    ”اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔“


    سُبْحَانَ اللہ! بتاؤ تو سہی! کیا اللہ تعالی کے کافی ہونے کے بعد بھی تمہارے لئے کوئی چیز رہ جاتی ہے؟! اللہ تعالی نے فرمایا:

    قُلِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ وَسَلَامٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَىٰ ۗآللَّـهُ خَيْرٌ أَمَّا يُشْرِكُونَ﴿٥٩﴾ [النمل: 59]
    ”کیا اللہ بہتر ہے یا وہ جنہیں یہ لوگ شریک ٹھہرا رہے ہیں؟“


    بلکہ یہ گھٹیا اور معمولی چیزیں کیا اپنے سے کوئی ضرر اور نقصان دور کرنے پر قادر ہیں؟! اگر تم ان کو پھاڑ پھینکنے یا جلا دینے کا ارادہ کرو تو کیا یہ تم کو اس سے روک سکتی ہیں؟ اگر نہیں ،تو اے نادان انسان! وہ کیسے تم سے ضرر اور مصییبت کو ٹال سکتی ہیں؟!
    اللہ تعالی نے فرمایا:

    وَلَا تَدْعُ مِن دُونِ اللَّـهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ ۖفَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِّنَ الظَّالِمِينَ ﴿١٠٦﴾ [يونس: 106]
    ”اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا جو تجھ کو نہ کوئی نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے، پھر اگر ایسا کیا تو تم اس وقت ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔“


    پس اے وہ شخص جسے اللہ تعالی نے عقل وخرد سے نوازا ہےاور رسالات (کی اتباع) کے ذریعہ شرف بخشا ہے! ذرا ٹھنڈی سانس لے کر سوچو تو سہی کہ مذکورہ اشیاء کے درمیان اور ان کے علاوہ دیگر اشیاء کے درمیان کیا فرق ہے؟

    کیا ان میں جادو گر نے جادو کا گرہ لگا دیا ہے یا ان میں منتر پڑھ رکھا ہے؟ (اگر یہ اعتقاد ہے تو سنو کہ) بے شک جو شخص کسی نجومی یا جیوتشی کے پاس آئے تو اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کی جاتی، اور اگر ان کی کہی ہوئی بات کی تصدیق کرے اور انہیں سچ مان لے تو اس نے -معاذ اللہ (اللہ کی پناہ)- اس چیز کا کفر کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نیا لباس زیب تن فرماتے تو اس نوازش اور نعمت پر اللہ تعالی کی حمد وثنا کرتے، اور اس سے اس کی بھلائی کا اور جس غرض کے لئے یہ بنایا گیا ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتے، اور اس کے شر سے اور جس غرض کے لئے یہ بنایا گیا ہے اس کے شر سے پناہ طلب کرتےتھے ۔

    صبح وشام کے اذکار بلا شبہ -اللہ کے حکم سے- بچاؤ کا حقیقی ذریعہ اور مضبوط قلعہ ہیں۔ اسی طرح جب تم جماعت کے ساتھ فجر کی نماز ادا کرتے ہو تو شام ہونے تک اللہ کی ذمہ داری اور اس کی حفاظت ورعایت میں آ جاتے ہو۔ نیز جب تم اپنے گھر سے نکلتے ہوئے یہ دعا پڑھتے ہو:

    «بِاسْمِ اللہ ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللہ ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللهِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ، أَوْ أَزِلَّ أَوْ أُزَلَّ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ».

    ”اللہ کے نام سے، اللہ ہی پر میں نے بھروسہ کیا۔ گناہ سے پھرنا اور نیکی کرنے کی قوت کا میسر آ جانا اللہ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں گمراہ ہو جاؤں یا گمراہ کر دیا جاؤں، یا میں پھسل جاؤں یا پھسلا دیا جاؤں، یا میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے،یا میں جہالت کا ارتکاب کروں یا میرے ساتھ جاہلانہ معاملہ کیا جائے۔“


    تو تم سے کہا جاتا ہے: تمہاری کفایت کی گئی، تو ہدایت دیا گیا اور تو بچا لیا گیا، اور شیطان اپنے ساتھیوں سےیہ کہتے ہوئے تم سے دور ہو جاتا ہے کہ تمہارا اس آدمی پر کیسے بس چلے گا جس کے لئے اللہ کافی ہو گیا ہو، وہ ہدایت سے نواز گیا ہو اور اسے بچا لیا گیا ہو۔ پس اے میرے بھائی! اس کے بعد تمہیں اور کیا چاہئے؟!

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ میں پیتل کا حلقہ (چھلا) دیکھ کر پوچھا: ”یہ کیا ہے؟ (اسے کیوں پہنا ہے؟)“ اس نے کہا: واہنہ (پورےبازو اورگردن کے مہرہ کی کمزوری کی بیماری دور کرنے) کے لئے ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    «انْزِعْهَا، فَإِنَّهَا لاَ تَزِيدُكَ إِلاَّ وَهْنًا،فَإِنَّكَ لَوْ مِتَّ وَأَنْتَ تَرَى أَنَّهَا نَافِعَتُكَ مِتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ». [أخرجه الإمام أحمد].
    ”اسے نکال پھینکو، کیوں کہ اس سے تمہارے اندر وہن اور کمزوری ہی بڑھے گی۔ اور اگر تمہاری موت آ گئی اس حال میں کہ تم یہ گمان کر رہے تھے کہ یہ تمہیں نفع پہنچانے والا ہے تو تمہاری موت غیر فطرت (غیر اسلام) پر ہوگی۔“


    بے شک یہ تو اس سے کہیں زیادہ خسارے کا سودا ہے جس سے بھاگ رہا تھا۔ اس سلسلے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مندرجہ ذیل بد دعا ہی کافی ہے:

    «مَنْ تَعَلَّقَ تَمِيمَةً فَلاَ أَتَمَّ اللہ لَهُ، وَمَنْ تَعَلَّقَ وَدَعَةً فَلاَ وَدَعَ اللہ لَهُ». [أخرجه الإمام أحمد].
    ”جو شخص (کسی غرض کے حصول کے لئے) تعویذ لٹکائے تو اللہ تعالی اس کے (غرض کو) پورا نہ کرے (اور چینی و بے قراری، خوف وہراس اور رنج وغم اس کا رفیق حیات بن جائے)، اور جو کوڑی یا گھونگا لٹکائے تو اللہ اسے سکون وراحت سے محروم کر دے۔“


    ان تعویذوں اور گنڈوں کو لٹکانے والےاپنے اوپر اللہ تعالی کی طرف سے حفظ وامان کا دروازہ بند کر لیتے ہیں، اور اس کی حفاظت ورعایت سے پیوند، دھاگے یا جوتے وغیرہ کی حفاظت کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    «مَنْ تَعَلَّقَ شَيْئًا وُكِلَ إِلَيْهِ». [أخرجه الإمام أحمد والترمذي].
    ”جو شخص کوئی چیز لٹکائے وہ اس کے سپرد کر دیا جائے گا (یعنی غیبی مدد نہیں رہے گی)۔“

    مزید بر آں وہ شرک میں بھی واقع ہو جائے گا، جیسا کہ ایک دوسری روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

    «مَنْ تَعَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ».
    ”جس شخص نے تعویذ لٹکائی تو اس نے شرک کیا۔“


    حذیفہ نے ایک آدمی کو اپنے ہاتھ میں بخار کے سبب ایک دھاگہ پہنا ہوا دیکھا تو اسے کاٹ دیا، اور یہ آیت تلاوت فرمائی:

    وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّـهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ﴿١٠٦﴾ [يوسف: 106]
    ”ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں۔“


    اور اس کو سرزنش کرتے ہوئے فرمایا:

    «لَوْ مِتَّ وَهُوَ عَلَيْكَ مَا صَلَّيْتُ عَلَيْكَ». [أخرجه ابن أبي حاتم].
    ”اگر یہ پہنے تیری موت آ گئی تو میں تیری نماز جنازہ نہیں پڑھوں گا۔“


    اگر انسان اس طرح کا عقیدہ رکھے کہ یہ چیزیں خود نفع یا ضرر پہنچانے کے مالک ہیں، تو یہ عمل شرک اکبر کے زمرہ میں شامل ہوگا، چنانچہ یہ اللہ تعالی کی ربوبیت میں شرک ہوگا، اس لئے کہ اس نے اللہ تعالی کے ساتھ اس کی صفت خلق اور تدبیر(پیدا کرنے اور عالم کو چلانے اور اس کی دیکھ ریکھ کرنے کی خصوصیت میں) ان چیزوں کو شریک ٹھہرایا۔ نیز اس کی الوہیت اور معبودیت میں بھی شرک ہوگا، کیوں کہ اس نے غیر اللہ کو معبود بنا لیا، اور اس کے ساتھ اپنے دل کو حصول خیر ومنفعت کی لالچ اور امیدسے وابستہ کر دیا۔

    اور جب اس کا یہ اعتقاد ہو کہ یہ چیزیں صرف وسائل اور اسباب ہیں تو یہ شرک اصغر (چھوٹا شرک) ہے، جو کہ کبیرہ گناہوں سے عظیم اور بڑا ہے، کیوں کہ نہ تو یہ شرعی اسباب (شریعت سے ثابت شدہ وسائل اور ذرائع) ہیں، اور نہ ہی ایسے قدری اسباب ہیں کہ دوا وغیرہ کی طرح تجربہ سے ان کا فائدہ ثابت ہوا ہے۔

    رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کے ساتھ منع فرماتے ہوئے لوگوں میں یہ پیغام دے کر اپنا قاصد بھیجا کہ وہ اپنے سواریوں کی گردنوں سے قلادے کو کاٹ ڈالیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے الفاظ یہ تھے:

    «لاَ يُبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلاَدَةٌ مِنْ وَتَرٍ (أَوْ قِلاَدَةٌ) إِلاَّ قُطِعَتْ». [أخرجه البخاري ومسلم].
    ”کسی اونٹ کی گردن میں ایک بھی تانت کا گنڈا (قلادہ / ہار) نہ رہنے پائے، سب کاٹ دیئے جائیں۔“


    جو شخص کسی بندہ کو اس شرک کے دلدل میں پھنسنے سے بچانے کا ذریعہ بنے وہ اجر عظیم کا مستحق ہے،سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا:

    «مَنْ قَطَعَ تَمِيمَةً مِنْ إِنْسَانٍ كَانَ كَعِدْلِ رَقَبَةٍ».
    ”جو شخص کسی انسان سے تعویذ کو کاٹ ڈالے تو وہ ایک غلام آزاد کرنے کے مانند ہے۔“ یعنی گویا کہ اس نے ایک غلام آزاد کیا۔


    والحمد لله رب العالمين، وصلى اللہ وسلم وبارك على النبي الأمين.
     
    Last edited: ‏اپریل 21, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
    • اعلی اعلی x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • مفید مفید x 1
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,325
    جزاک اللہ خیرا شیخ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    352
    عمدہ شیئرنگ

    تحریر کے اس ایئرر کو درست کرلیں

    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,208
    جزاک اللہ خیرا!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,109
    و ایاکم،
    شکریہ تصیح کر دی ہے
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں