ناک کی بیماریاں اور علاج نبوی از ڈاکٹر خالد غزنوی

طالب علم نے 'صحت و طب' میں ‏اکتوبر، 29, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
    1901791_10201667586961914_1918652778318808960_n.jpg 10269503_10201667587161919_8602043924164631872_n.jpg


    السلام علیکم!

    یہ اقتباس ڈاکٹر خالد غزنوی کی کتاب 'سانس کی بیماریاں اور علاج نبوی' سے لیا گیا ہے۔ اس نسخہ کا بیشتر حصہ طب نبوی سے ہی مستعار ہے۔ جیسا کہ زیتون کا تیل اور کلونجی کا آمیزہ ناک میں ڈالنے کے لیے اس سے ملتا جلتا نسخہ ہمیں بخاری شریف کی ایک حدیث میں بھی ملتا ہے،

    مزید براں زیتون، شہد، کلونجی، قسط وغیرہ کی افادیت پر احادیث موجود ہیں، ان شاء اللہ یہ ایک مفیدنسخہ ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • مفید مفید x 2
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,376
    وعلیکم السلام ، انتہائی مفید .اس کے باوجود بھی میرا خیال ہے کہ کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھانا بہتر ہے. پھر یہ علاج جاری رکھا جا سکتا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  3. حیا حسن

    حیا حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 6, 2017
    پیغامات:
    118
    حب الرشاد کیا ہوتا ہے اور بھی کچھ چیزیں سمجھ نہی آئیں
     
  4. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
    Capture.JPG
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
    پاکستان میں حب الرشاد کے نام سے ملتی ہے، انگلش میں مجھےcress seeds کے نام سے اس کی تصویر ملی وہ نیچے لگا دی ہے، حب الرشاد کے بارے میں ڈاکٹر خالد غزنوی کا تعارف بھی شامل کر دیا ہے۔

    منسلکات 2471 دیکھیں
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. حیا حسن

    حیا حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 6, 2017
    پیغامات:
    118
  7. Aamirfarooq13

    Aamirfarooq13 رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2015
    پیغامات:
    178
    زیتون اور کلونجی کے تیل کا مرکب کافی استعمال کیا، پھر بھی زیادہ کچھ خاص فائدہ نا ہوا، ڈاکٹر خالد غزنوی کی کتاب سانس کی بیماریاں والی یہ کتاب جس کے کچھ صفحات آپ نے یہاں دیے
    اس کتاب کو میں نے آج سے آٹھ سال پہلے ہی لے لی تھی، اس کتاب میں مرزبخوش کے پتے، مچلی کا تیل، گلے کے لیے مہندی کے پتے، قسط شیریں اور بھی بہت سی چیزیں یہ سب میں نے کر کے تجربہ کیا ہے مجھے ان سب چیزوں سے اتنا فائدہ نہیں ہوا جتنا کتاب میں زور دیا گیا ہے، میں نے اتنے تجربے کیے ہیں کہ آدھا حکیم بن گیا ہوں، ان سب چیزوں سے ایک چیز سمجھ آئی ہے ایک دوا ہر کسی کے لیے ایک جیسی کام نہیں کرتی، ہر کسی کا اپنا مزاج ہے وہ دوا اسے فائدہ کر رہی ہے اور اگر وہی دوا میں کھا رہا ہوں تو میری طبعیت اور بھاری ہو جاتی ہے، اور تو اور موسم کا بڑا کردار ہے جدہ یہاں کے موسم میں بہت نمی ہے میں اکیلا ہی نہیں بہت سے یہاں لوگ ہیں جن کو یہ مسئلہ درپیش ہے، میں کبھی جدہ سے باہر جاتا ہوں طبیعت میں کافی فرق محسوس ہوتا ہے جیسے دو دن پہلے مدینے گیا تھا وہاں طبعیت جدہ کے مقابلے کافی بہتر تھی جب واپس آ رہا تھا تو مدینے سے تقریباً 120 کلو کے بعد ابیار ماشی وہاں کا موسم کمال ہوتا ہے بارش ہوتی رہتی ہے ابھی بھی ہوئی جب میں آ رہا تھا صاف ہوا کھلا آسمان نہا کر مزہ آگیا، طائف میں جا کر ایسا لگتا ہے آدھی بیماری غائب وہاں کی ہوا شاید مجھے راس ہے، جدہ میں بارش بہت کم ہوتی ہے اور اب تو بارش ہونے ہی نہیں دیتے کتنی دفعہ بارش کا امکان ظاہر ہوا کہ کل بہت تیز بارش ہوگی اور نہیں ہوئی یہاں بادل توڑ دیتے ہیں ایک دوست نے بتایا تھا یہاں کا جو امیر ہے وہ کہتا ہے کہ ہم جدہ میں بارش افورڈ نہیں کر سکتے اس لیے اوپر ہیلی کاپٹر سے بادلوں پر کچھ گرا دیتے ہیں پھر بارش نہیں ہوتی اب پتا نہیں اس میں کتنی سچائی ہے، کہنا کا مقصد ہے اس طرح کے موسم میں رہنا بھی ہے اور علاج بھی کرنا ہے، میں انٹرنیٹ پر سرچ کر رہا تھا اس کا کوئی اچھا علاج کچھ نے کہا یہ صرف ایمیون سیسٹم کمزور ہونے کی وجہ سے پرابلم پیش آتی ہے اس کا علاج ہے قوتِ مدافعت بڑھائی جائے، یوٹیوب پر ایک بوڈی بلڈر ٹرینر نے بتایا وٹامن ڈی تھری ایمیون سیسٹم مضبوط کرتا ہے، تو آج میں وٹامن ڈی تھری کے کیپسول لایا ہوں الله کرے کوئی فائدہ ہو، باقی اگر آپ کے ذہن میں کوئی اور اچھی چیز آئے تو بتائیے گا
     
    • مفید مفید x 2
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,376
    بہت خوب جناب ۔ آپ نے تو کمال ہی کردیا ۔ حاصل کلام یہی ہے کہ ایک دوا ہر کسی کو فائدہ نہیں دیتی ۔ سب کی طبیعت اور بیماری مختلف ہو سکتی ہے ۔جدہ کی نسبت مکہ کا موسم بہت اچھا ہے ۔ اگرچہ گرمی بھی ہوتی ہے ۔
     
    • متفق متفق x 2
  9. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
    جی ٹھیک کہا کہ ہر دوا ہر ایک کو فائدہ نہیں دیتی، اگرچہ ڈاکٹر خالد غزنوی نے اپنی تحقیق کی بنیاد احادیث میں مروی دواوں اور غذاوں پر ہی رکھی ہے (صیح اور ضعیف دونوں قسم کی احادیث) لیکن شفا تو منجانب اللہ ہے،

    یہ میرے بھی تجربے میں ہے کہ کسی شہر کی آب و ہوا آپ کو راس آجاتی ہے اور کہیں پر جا کر آپ بیمار رہتے ہیں۔ علاوہ ازیں حدیث میں بھی واقعہ مذکور ہے کہ ابتدا میں صحابہ کو مدینہ کی آب و ہوا راس نہیں آئی بعد ازاں اللہ کے رسول نے دوا فرمائی اور صحابہ کو شفا ء ملی اور مدینۃالنبی کی آب و ہوا ان کے لیے باعث برکت بن گئی

    اب بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ زیتون و کھجور عرب علاقوں کی اشیاء ہیں اس لیے یہ ان ہی لوگوں کے لیے مفید ہیں جبکہ میں سوچتا ہوں کہ یہ قرآن و حدیث میں مذکور ہیں تو ہمارے لیے بھی بہتر ہوں گی ۔ایک مثال دیتا ہوں میں نے ایک دل کے اچھے ڈاکٹر سے ذکر کیا کہ زیتون کا تیل پینا چاہیے (ڈاکٹر خالد غزنوی کی کتاب سے متاثر ہو کر) تو انہوں نے کہا کہ زیتون کا تیل کوئی پینے والی چیز تو نہیں البتہ کھانے میں ڈالا جا سکتا ہے۔

    اسی طرح ڈاکٹر خالد غزنوی نے دل کے لیے جو کتاب لکھی ہے اور معدے کے امراض کے لیے جو کتا ب لکھی ہے اس میں قریبا 70-80 فیصد بیماریوں کے لیے تلبینہ تجویز کیا ہے، اب میں نے دو افراد کومشورہ دیا کہ وہ جو کا دلیہ کھائیں لیکن چونکہ معدہ ساری زندگی گندم کا عادی ہوتا ہے تو اتنی جلدی 'جو' کو accept نہیں کرتا اور لوگوں کو گیس بننا شروع ہو جاتی ہے، اس سے تنگ آ کر تین ، چار دن سے زیادہ کوئی اس کو کھاتا نہیں۔ حالانکہ میرا ماننا ہے کہ تین چار ہفتوں میں معدہ اس کا عادی ہو جاتا ہے۔ لیکن اتنی دیر کھانے کے لیے آپ کو یہ یقین رکھنا پڑے گا کہ پیارے نبی نے بتایا ہے تو فائدہ تو ہو گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  10. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
    ایک اور بات بتاتا چلوں کہ ایک شخص کو ذاتی واقعہ میرے علم میں ہے کہ اس کو انجیر سے اس حد تک فائدہ ہوا کہ جب اس نے ایک مستند طبیب کے مشورے پر انجیر کھائی جبکہ دو-تین سرنجنز اس کو بڑی آنت کا آپریشن recommend کر چکے تھے لیکن اس کا وہ آپریشن نہ ہوا۔ ایک اور شخص کو انجیر بتانے سے کولیسٹرال میں خاطر خواہ افاقہ ہوا اور اس بات پر ڈاکٹر خالد غزنوی کی کتابوں نے مجھے آمادہ کیا کہ ان کو recommend کروں کہ وہ انجیر کھائیں۔

    باقی میں ا س بات سے متفق ہوں کہ ہر دوا ہر ایک کے لیے نہیں ہوتی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  11. حیا حسن

    حیا حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 6, 2017
    پیغامات:
    118
    یہی اصل بات ہے، کہ یقین کامل ہونا ضروری ہے، پھر شفا مل جاتی ہے.
     
  12. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    443
    سیدالاولین و الاخرین ﷺ نے جس چیز کے بارے میں بھی شفاء کا بتایا بے شک اللہ کے حکم سے اس سے شفاء ہی ہوگی جلد یا دیر ، آسان بات سمجھنے کیلئے مندرجہ ذیل حدیث مبارکہ ہے


    2204 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَأَبُو الطَّاهِرِ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَأَ بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

    حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بیماری کی دوا ہے جب بیمار کی دوا پہنچ جاتی ہے تو اللہ کے حکم سے وہ بیماری دور ہو جاتی ہے۔

    (صحیح مسلم ،کتاب سلام ، باب لكل داء دواء واستحباب التداوي ،رقم الحدیث:2204)

    مجھے گزشتہ برس ناک کی بیماری ہوگئی اور اس کے ساتھ ساتھ قے بھی ہوتی ،بہت تکلیف رہی ،فیملی ڈاکٹر نے ٹیسٹ کروائے کچھ "اینٹی بایٹک" دیں کچھ بھی فرق نہیں ،پھرالرجی ٹیسٹ کروایا ،اس میں بھی کوئی بات سامنے نہیں آئی

    اب مجھے سپیشلسٹ کے پاس بھیجا اور فیملی ڈاکٹر نے ساتھ میں بتایا کہ شپیشلسٹ عمر رسیدہ اور تھوڑا سنکی ہے تو زرا دھیان سے ، بحرحال اس پاس پنہچا اور اس نے مجھے دیکھا اور پھر کہا اب تم یہ بتاؤ کہ کس عمر میں سب سے پہلے تمہیں کھانسی ہوئی تھی پوری تفصیل بتاؤ

    میں نے بتایا کہ 15 سال کی عمر میں مجھے ٹھنڈ سے بخار و کھانسی ہوئی تھی ،اب سے لکھ دیا کہ تمہیں "دمہ " کی بیماری ہے اور تم یہ " پفر " استعمال کرو میری ہدایت کے مطابق اور یہ تو مرتے وقت تک اب تم نے انکو چھوڑنا نہیں ہے ساتھ ساتھ ڈرانے کیلئے یہ بھی بتایا کہ میرے کتنے ہی عزیز اسی بیماری میں مرگئے ہیں معلومات نہ ہونے کی وجہ سے، اب ایک دو باتوں پر 2 حدیثیں بھی سنا دیں جنکا جواب میں نے 15 دن بعد دوسری ملاقات میں دیا ،

    الْمُؤْمِنُ كَيِّسٌ فَطِنٌ حَذِرٌ

    اس کہنا تھا کہ" میری ظاہری صورت حال دیکھ کر " تمہاری نماز ، روزہ ،حج ،تلاوت کی وجہ سے تم مؤمن نہیں بلکہ مؤمن فتن سے بچتا ہے اور تیز طرار ہوتا ہے بیماریوں سے بچتا ہے

    دوسری حدیث سنائی

    اطلبوا العلم ولو في الصين

    اور ساتھ میں علم سیکھنے اور ساتھ میں انگلش زبان پر زیادہ زور دیا

    اگلی ملاقات میں اسکو میں نے دونو حدیثوں کے متعلق بتایا تو وہ " دمہ" کی بیماری سے " سائی نس" کی بیماری کا بتایا اور کہا تم فوری فیملی ڈاکٹر کو بتاؤ کہ وہ ناک کے سپیشلسٹ سے تمہاری ملاقات کا وقت لے اور ناک کا آپریشن ہوگا اور جب میں نے حدیث کی بات کی تو بولے میرا باپ جامعہ الازھر سے فارغ ہے ، میں نے کہا آپ اپنی بات کریں حدیثیں آپ نے سنائی ہیں نہ کہ آپ کے والد نے اور حدیث کے معاملہ میں انتہا درجہ کی احتیاط لازم ہے اب میں نے مندرجہ ذیل محدثین کے اقوال دکھائے

    هذا الحديث رواه القضاعي في "مسند الشهاب" (128) ، وأبو الشيخ الأصبهاني في "الأمثال" (258) من طريق سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرٍو النَّخَعِيِّ ، عَنْ أَبَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( الْمُؤْمِنُ كَيِّسٌ فَطِنٌ حَذِرٌ ) .

    وهذا إسناد موضوع لا يصح نسبته إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم :
    أما " أبان " ، فهو ابن أبي عياش ، كذّبه شعبة ، وتركه أحمد ، وابن معين ، والنسائي ، وغيرهم .
    وقال ابن حبان : " كان أبان من العباد ، يسهر الليل بالقيام ، ويطوى النهار بالصيام ، سمع عن أنس أحاديث ، وجالس الحسن ، فكان يسمع كلامه ، ويحفظ ، فإذا حدث ربما جعل كلام الحسن عن أنس مرفوعاً ، وهو لا يعلم .
    ولعله روى عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم أكثر من ألف وخمسمائة حديث ما لكبير شيء منها أصل يرجع إليه " انتهى من "ميزان الاعتدال" (1/11-12) .

    وأما " سليمان بن عمرو النخعي " : فهو أحد الوضاعين المشهورين .
    قال عنه أحمد بن حنبل: كان يضع الحديث .
    وقال يحيى بن معين : معروف بوضع الحديث .
    وقال أيضا : كان أكذب الناس .
    وقال البخاري : متروك ، رماه قتيبة وإسحاق بالكذب .
    وقال يزيد بن هارون : لا يحل لأحد أن يروي عنه " .
    انتهى من "ميزان الاعتدال" (2/ 216) .

    فالحديث المذكور : حديث باطل موضوع .

    قال المناوي رحمه الله :
    " قال العامري : " حسن غريب " ، وليس فيما زعمه بمصيب ؛ بل فيه أبو داود النخعي كذاب " انتهى من " فيض القدير" (6/ 257) .
    وذكره الألباني في " الضعيفة " (760) وقال : " موضوع " انتهى


    اطلبوا العلم ولو في الصين حديث مكذوب

    وقال الإمام المناوي في فيض القدير: قال ابن حبان: باطل لا أصل له والحسن ضعيف وأبو عاتكة منكر الحديث. وفي الميزان أبو عاتكة عن أنس مختلف في اسمه مجمع على ضعفه

    اور جب میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    لا تكذبوا علي فإنه من يكذب علي يلج النار - متفق عليه


    اس کے بعد ڈاکٹر نے دوبارہ بلایا ہی نہیں اور" دمہ " کے بارے میں کہا کہ یہ ابتدائی ہے

    اس کے بعد دوسرے ڈاکٹر کے پاس گیا جو ناک کے سپیشلسٹ تھا اس نے دیکھ کر بتایا تمہیں " سائی نس" کی بیماری نہیں ہے

    حکماء سے بھی دوائی لیکر دیکھ لیا ،ہومیو پیتھی سے بھی دوائی لی حاصل ضرب "صفر"

    اتنے میں رمضان المبارک قریب آگیا اور پریشانی مزید بڑھ گئی کہ تراویح کا اہتمام اور روزہ کا کیا ہوگا، جونہی ہلال کا اعلان ہوا بچوں کو اور اہلیہ کو ساتھ بٹھا کر خوب گڑگڑا کر دعا کی ،اور الحمدللہ 11 رمضان تک کوئی پریشانی نہيں ہوئی اس دوران اہلیہ نے کلونجی کا تیل پینے اور ناک میں ڈالنے کا کہا اور بولی جہاں دوسرے علاج کرکے دیکھیں ہیں یہ بھی کر دیکھیں ،اور اسکے اثرات میں نے اپنے سسر پر دیکھے تھے انکی شوگر کم ہوگئی اور کیسٹرول بھی کم ہوگیا اور میں انکے ساتھ گیا تھا انکا "چیک اپ" کروانے کیلئے گیا اور ڈاکٹر خود انکی رپوٹس دیکھ کر حیران ہوگیا تھا کہ یہ کیسے ہوگیا ؟ اور انکو بھی کلونجی کے تیل کا استعمال کرنے کا مشورہ اہلیہ نے ہی دیا تھا

    اب افطاری اور سحری میں استعمال کرنا شروع کیا الحمدللہ سب ٹھیک ہونا شروع ہوگیا اور یہ پریشانی 7 ماہ تک چلی ، ابھی بھی کلونج کا تیل استعمال کرتا ہوں کچھ کھانسی وغیرہ ہواور مندرجہ ذیل حدیث سمجھ میں آئی

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بیماری کی دوا ہے جب بیمار کی دوا پہنچ جاتی ہے تو اللہ کے حکم سے وہ بیماری دور ہو جاتی ہے
     
    Last edited: ‏فروری 8, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں