ناک کی بیماریاں اور علاج نبوی از ڈاکٹر خالد غزنوی

طالب علم نے 'صحت و طب' میں ‏اکتوبر، 29, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. حیا حسن

    حیا حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 6, 2017
    پیغامات:
    118
    یہی اصل بات ہے، کہ یقین کامل ہونا ضروری ہے، پھر شفا مل جاتی ہے.
     
  2. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    173
    سیدالاولین و الاخرین ﷺ نے جس چیز کے بارے میں بھی شفاء کا بتایا بے شک اللہ کے حکم سے اس سے شفاء ہی ہوگی جلد یا دیر ، آسان بات سمجھنے کیلئے مندرجہ ذیل حدیث مبارکہ ہے


    2204 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَأَبُو الطَّاهِرِ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَأَ بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

    حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بیماری کی دوا ہے جب بیمار کی دوا پہنچ جاتی ہے تو اللہ کے حکم سے وہ بیماری دور ہو جاتی ہے۔

    (صحیح مسلم ،کتاب سلام ، باب لكل داء دواء واستحباب التداوي ،رقم الحدیث:2204)

    مجھے گزشتہ برس ناک کی بیماری ہوگئی اور اس کے ساتھ ساتھ قے بھی ہوتی ،بہت تکلیف رہی ،فیملی ڈاکٹر نے ٹیسٹ کروائے کچھ "اینٹی بایٹک" دیں کچھ بھی فرق نہیں ،پھرالرجی ٹیسٹ کروایا ،اس میں بھی کوئی بات سامنے نہیں آئی

    اب مجھے سپیشلسٹ کے پاس بھیجا اور فیملی ڈاکٹر نے ساتھ میں بتایا کہ شپیشلسٹ عمر رسیدہ اور تھوڑا سنکی ہے تو زرا دھیان سے ، بحرحال اس پاس پنہچا اور اس نے مجھے دیکھا اور پھر کہا اب تم یہ بتاؤ کہ کس عمر میں سب سے پہلے تمہیں کھانسی ہوئی تھی پوری تفصیل بتاؤ

    میں نے بتایا کہ 15 سال کی عمر میں مجھے ٹھنڈ سے بخار و کھانسی ہوئی تھی ،اب سے لکھ دیا کہ تمہیں "دمہ " کی بیماری ہے اور تم یہ " پفر " استعمال کرو میری ہدایت کے مطابق اور یہ تو مرتے وقت تک اب تم نے انکو چھوڑنا نہیں ہے ساتھ ساتھ ڈرانے کیلئے یہ بھی بتایا کہ میرے کتنے ہی عزیز اسی بیماری میں مرگئے ہیں معلومات نہ ہونے کی وجہ سے، اب ایک دو باتوں پر 2 حدیثیں بھی سنا دیں جنکا جواب میں نے 15 دن بعد دوسری ملاقات میں دیا ،

    الْمُؤْمِنُ كَيِّسٌ فَطِنٌ حَذِرٌ

    اس کہنا تھا کہ" میری ظاہری صورت حال دیکھ کر " تمہاری نماز ، روزہ ،حج ،تلاوت کی وجہ سے تم مؤمن نہیں بلکہ مؤمن فتن سے بچتا ہے اور تیز طرار ہوتا ہے بیماریوں سے بچتا ہے

    دوسری حدیث سنائی

    اطلبوا العلم ولو في الصين

    اور ساتھ میں علم سیکھنے اور ساتھ میں انگلش زبان پر زیادہ زور دیا

    اگلی ملاقات میں اسکو میں نے دونو حدیثوں کے متعلق بتایا تو وہ " دمہ" کی بیماری سے " سائی نس" کی بیماری کا بتایا اور کہا تم فوری فیملی ڈاکٹر کو بتاؤ کہ وہ ناک کے سپیشلسٹ سے تمہاری ملاقات کا وقت لے اور ناک کا آپریشن ہوگا اور جب میں نے حدیث کی بات کی تو بولے میرا باپ جامعہ الازھر سے فارغ ہے ، میں نے کہا آپ اپنی بات کریں حدیثیں آپ نے سنائی ہیں نہ کہ آپ کے والد نے اور حدیث کے معاملہ میں انتہا درجہ کی احتیاط لازم ہے اب میں نے مندرجہ ذیل محدثین کے اقوال دکھائے

    هذا الحديث رواه القضاعي في "مسند الشهاب" (128) ، وأبو الشيخ الأصبهاني في "الأمثال" (258) من طريق سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرٍو النَّخَعِيِّ ، عَنْ أَبَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( الْمُؤْمِنُ كَيِّسٌ فَطِنٌ حَذِرٌ ) .

    وهذا إسناد موضوع لا يصح نسبته إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم :
    أما " أبان " ، فهو ابن أبي عياش ، كذّبه شعبة ، وتركه أحمد ، وابن معين ، والنسائي ، وغيرهم .
    وقال ابن حبان : " كان أبان من العباد ، يسهر الليل بالقيام ، ويطوى النهار بالصيام ، سمع عن أنس أحاديث ، وجالس الحسن ، فكان يسمع كلامه ، ويحفظ ، فإذا حدث ربما جعل كلام الحسن عن أنس مرفوعاً ، وهو لا يعلم .
    ولعله روى عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم أكثر من ألف وخمسمائة حديث ما لكبير شيء منها أصل يرجع إليه " انتهى من "ميزان الاعتدال" (1/11-12) .

    وأما " سليمان بن عمرو النخعي " : فهو أحد الوضاعين المشهورين .
    قال عنه أحمد بن حنبل: كان يضع الحديث .
    وقال يحيى بن معين : معروف بوضع الحديث .
    وقال أيضا : كان أكذب الناس .
    وقال البخاري : متروك ، رماه قتيبة وإسحاق بالكذب .
    وقال يزيد بن هارون : لا يحل لأحد أن يروي عنه " .
    انتهى من "ميزان الاعتدال" (2/ 216) .

    فالحديث المذكور : حديث باطل موضوع .

    قال المناوي رحمه الله :
    " قال العامري : " حسن غريب " ، وليس فيما زعمه بمصيب ؛ بل فيه أبو داود النخعي كذاب " انتهى من " فيض القدير" (6/ 257) .
    وذكره الألباني في " الضعيفة " (760) وقال : " موضوع " انتهى


    اطلبوا العلم ولو في الصين حديث مكذوب

    وقال الإمام المناوي في فيض القدير: قال ابن حبان: باطل لا أصل له والحسن ضعيف وأبو عاتكة منكر الحديث. وفي الميزان أبو عاتكة عن أنس مختلف في اسمه مجمع على ضعفه

    اور جب میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    لا تكذبوا علي فإنه من يكذب علي يلج النار - متفق عليه


    اس کے بعد ڈاکٹر نے دوبارہ بلایا ہی نہیں اور" دمہ " کے بارے میں کہا کہ یہ ابتدائی ہے

    اس کے بعد دوسرے ڈاکٹر کے پاس گیا جو ناک کے سپیشلسٹ تھا اس نے دیکھ کر بتایا تمہیں " سائی نس" کی بیماری نہیں ہے

    حکماء سے بھی دوائی لیکر دیکھ لیا ،ہومیو پیتھی سے بھی دوائی لی حاصل ضرب "صفر"

    اتنے میں رمضان المبارک قریب آگیا اور پریشانی مزید بڑھ گئی کہ تراویح کا اہتمام اور روزہ کا کیا ہوگا، جونہی ہلال کا اعلان ہوا بچوں کو اور اہلیہ کو ساتھ بٹھا کر خوب گڑگڑا کر دعا کی ،اور الحمدللہ 11 رمضان تک کوئی پریشانی نہيں ہوئی اس دوران اہلیہ نے کلونجی کا تیل پینے اور ناک میں ڈالنے کا کہا اور بولی جہاں دوسرے علاج کرکے دیکھیں ہیں یہ بھی کر دیکھیں ،اور اسکے اثرات میں نے اپنے سسر پر دیکھے تھے انکی شوگر کم ہوگئی اور کیسٹرول بھی کم ہوگیا اور میں انکے ساتھ گیا تھا انکا "چیک اپ" کروانے کیلئے گیا اور ڈاکٹر خود انکی رپوٹس دیکھ کر حیران ہوگیا تھا کہ یہ کیسے ہوگیا ؟ اور انکو بھی کلونجی کے تیل کا استعمال کرنے کا مشورہ اہلیہ نے ہی دیا تھا

    اب افطاری اور سحری میں استعمال کرنا شروع کیا الحمدللہ سب ٹھیک ہونا شروع ہوگیا اور یہ پریشانی 7 ماہ تک چلی ، ابھی بھی کلونج کا تیل استعمال کرتا ہوں کچھ کھانسی وغیرہ ہواور مندرجہ ذیل حدیث سمجھ میں آئی

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بیماری کی دوا ہے جب بیمار کی دوا پہنچ جاتی ہے تو اللہ کے حکم سے وہ بیماری دور ہو جاتی ہے
     
    Last edited: ‏فروری 8, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں