اللہ تعالٰی کا دلوں پر مہر لگانے کا بیان!

T.K.H نے 'تفسیر قرآن کریم' میں ‏نومبر 3, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. T.K.H

    T.K.H رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2014
    پیغامات:
    234
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    اللہ تعالٰی کا دلوں پر مہر لگانے کا بیان!

    جس طرح اللہ تعالٰی کسی کو زبردستی ہدایت نہیں دیتا بالکل اسی طرح گمراہ بھی نہیں کرتابلکہ سب سے پہلے غافلوں اور گناہگاروں کو بذریعہءپیغمبر انکے سوءِ اعمال پر متنبہ کرتا ہےایسا نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کوایک یا دو بار نصیحت کرنے اور اسکو قبول نہ کرنے کے نتیجے میں انکے دلوں پر اسی وقت مہر ثبت کر دیتا ہےبلکہ ایک خاص مدت تک ان کو اپنے آپ کی اصلاح کرنے کا پورا پورا موقع فراہم کرتا ہے اور اگر ایسے لوگ کسی شک و شبہ کا شکارہوتےہیں اور پیغمبر سے اسکی نبوت ورسالت کی کسی دلیل یا معجزے کا مطالبہ کرتے ہیں تو اللہ تعالٰی اپنی حکمتِ کاملہ کے تحت انکے اس مطابے کو بھی پورا کردیتا ہے تاکہ ان پر حجت پوری طرح سے قائم ہو جائےاور وہ مزید کسی شک میں مبتلاء نہ ہوں اگر پیغمبر کی طرف سے اسکی نبوت ورسالت کی دلیل کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد بھی وہ حق کو قبول کرنے اور اپنی سابقہ غلط روش کو بدلنے کی بجائے اسی پر جمےرہیں یا بے جا شک کریں تو اللہ تعالٰی ایسے شکی مزاج لوگوں کو گمراہ کر دیتا ہے یہ خود تو اللہ تعالٰی کے راستے سے ہٹے ہوتے ہی ہیں دوسروںکوبھی راہ ِ ہدایت کو قبول کرنے سے روکتے ہیں پھر جب انکی گمراہی اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ اللہ تعالٰی کی آیات کو نیچا دکھانےیا ان سے ناحق جھگڑنے لگیں تو گویا یہ بات پوری طرح کھل جاتی ہےکہ اب ان میں حق کو قبول کرنے کی کوئی صلاحیت باقی نہیں رہی اورانکا ضمیر بالکل مردہ ہو چکا ہے تب اللہ تعالٰی کا ان کے حق میں آخری فیصلہ ان کے دلوں پر مہر کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہےچناچہ ہم اس مضمون میں کفار ومنافقین کے دلوں پر اللہ تعالٰی کی مہر لگنے کے اسباب کا تذکرہ کرینگے۔

    مندرجہ ذیل آیات میں بھی اللہ تعالٰی نے اسی حقیقت کو بیان کیا ہے :-

    وَلَقَدْ جَاءَكُمْ يُوسُفُ مِن قَبْلُ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا زِلْتُمْ فِي شَكٍّ مِّمَّا جَاءَكُم بِهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَن يَبْعَثَ اللَّهُ مِن بَعْدِهِ رَسُولًا ۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابٌ ﴿٣٤﴾ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَانٍ أَتَاهُمْ ۖ كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللَّهِ وَعِندَ الَّذِينَ آمَنُوا ۚ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ ﴿٣٥﴾
    اور اس سے پہلے تمہارے پاس (حضرت) یوسف دلیلیں لے کر آئے، پھر بھی تم ان کی لائی ہوئی (دلیل) میں شک و شبہ ہی کرتے رہے یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہو گئی تو کہنے لگے ان کے بعد تو اللہ کسی رسول کو بھیجے گا ہی نہیں اسی طرح اللہ گمراه کرتا ہے ہر اس شخص کو جو حد سے بڑھ جانے والا شک و شبہ کرنے والا ہو جو بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، اللہ کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک یہ تو بہت بڑی ناراضگی کی چیز ہے، اللہ تعالیٰ اسی طرح ہر ایک مغرور سرکش کے دل پر مہر کردیتا ہے۔
    قرآن ، سورت غافر ، آیت نمبر 35-34

    یہ آیات خاص کفار کے دلوں پر مہرلگنےکے متعلق ہیں ان میں غور وفکر کرنے سے کچھ اہم نکات سامنے آتے ہیں جن میں وضاحت کے ساتھ یہ بات بتائی گئی ہے کہ کس طرح ایک انسان گمراہی کا شکار ہوتا ہے اور وہ کون سی وجوہات ہیں جو ایک انسان کے دل پر مہر لگنے کا سبب بنتی ہیں چناچہ ہم اختصار کے ساتھ ان اسباب کو قرآن مجید کی روشنی میں بیان کرینگے۔
    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  2. T.K.H

    T.K.H رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2014
    پیغامات:
    234
    کفار کے دلوں پر مہر لگنے کے اسبا ب

    · پہلا سبب:-

    پیغمبروں اور انکےروشن دلائل کابے جاشک کی بناء پر انکار کرنا

    · دوسرا سبب:-

    شکی مزاج لوگوں کاغیر معقول باتیں بنانا

    نتیجہ:-

    حد سے تجاوز کرنا اور شک میں مبتلاء رہنا

    · پہلے اور دوسرےسبب کے متعلق اللہ تعالٰی کا فیصلہ:-

    اللہ تعالٰی کا ایسے لوگوں کو گمراہ کرنا

    · تیسرا سبب:-

    بغیر سندکے اللہ تعالٰی کی آیات میں جھگڑنا

    نتیجہ:-

    ایسے لوگوں کا مغرور اور سرکش ثابت ہونا

    · اوپر بیان کردہ تمام اسباب کے متعلق اللہ تعالٰی کا آخری فیصلہ:-

    اللہ تعالٰی کا دلوں پر مہر لگانا

    پہلا سبب:- پیغمبروں اور انکےروشن دلائل کابے جا شک کی بناء پر انکار کرنا

    فَإِن كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ جَاءُوا بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَالْكِتَابِ الْمُنِيرِ ﴿١٨٤﴾
    اب اے محمدﷺ! اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو بہت سے رسول تم سے پہلے جھٹلائے جا چکے ہیں جو کھلی کھلی نشانیاں اور صحیفے اور روشنی بخشنے والی کتابیں لائے تھے۔
    قرآن ، سورت آلِ عمران ، آیت نمبر 184

    قُلْ إِنِّي عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّي وَكَذَّبْتُم بِهِۚ مَا عِندِي مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِۚ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِۖ يَقُصُّ الْحَقَّۖ وَهُوَ خَيْرُ الْفَاصِلِينَ ﴿٥٧﴾
    کہو، میں اپنے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن پر قائم ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے، اب میرے اختیار میں وہ چیز ہے نہیں جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو، فیصلہ کا سارا اختیار اللہ کو ہے، وہی امر حق بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔
    قرآن ، سورت الانعام، آیت نمبر 57

    تِلْكَ الْقُرَىٰ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَائِهَاۚ وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا مِن قَبْلُۚ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ الْكَافِرِينَ ﴿١٠١﴾
    یہ قومیں جن کے قصے ہم تمہیں سنا رہے ہیں (تمہارے سامنے مثال میں موجود ہیں) ان کے رسول ان کے پا س کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے، مگر جس چیز کو وہ ایک دفعہ جھٹلا چکے تھے پھر اُسے وہ ماننے والے نہ تھے دیکھو اس طرح ہم منکرین حق کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔
    قرآن ، سورت الاعراف، آیت نمبر 101

    أَلَمْ يَأْتِهِمْ نَبَأُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَقَوْمِ إِبْرَاهِيمَ وَأَصْحَابِ مَدْيَنَ وَالْمُؤْتَفِكَاتِۚ أَتَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِۖ فَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ﴿٧٠﴾
    کیا اِن لوگوں کو اپنے پیش روؤں کی تاریخ نہیں پہنچی؟ نوحؑ کی قوم، عاد، ثمود، ابراہیمؑ کی قوم، مدین کے لوگ اور وہ بستیاں جنہیں الٹ دیا گیا اُن کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے، پھر یہ اللہ کا کام نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا مگر وہ آپ ہی اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے۔
    قرآن ، سورت التوبۃ، آیت نمبر 70

    وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ مِن قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُواۙ وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ وَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُواۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِينَ ﴿١٣﴾
    لوگو، تم سے پہلے کی قوموں کو (جو اپنے اپنے زمانہ میں برسر عروج تھیں) ہم نے ہلاک کر دیا جب انہوں نے ظلم کی روش اختیار کی اور اُن کے رسُول اُن کے پاس کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر آئے اور انہوں نے ایمان لا کر ہی نہ دیا اس طرح ہم مجرموں کو ان کے جرائم کا بدلہ دیا کرتے ہیں۔
    قرآن ، سورت یونس، آیت نمبر 13

    وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍۙ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَٰذَا أَوْ بَدِّلْهُۚ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِن تِلْقَاءِ نَفْسِيۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّۖ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ﴿١٥﴾
    جب انہیں ہماری صاف صاف باتیں سُنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ “اِس کے بجائے کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں کچھ ترمیم کرو " اے محمدﷺ، ان سے کہو “میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبّدل کر لوں میں تو بس اُس وحی کا پیرو ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا ڈر ہے"۔
    قرآن ، سورت یونس، آیت نمبر 15

    ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِ رُسُلًا إِلَىٰ قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا بِهِ مِن قَبْلُۚ كَذَٰلِكَ نَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِ الْمُعْتَدِينَ ﴿٧٤﴾
    پھر نوحؑ کے بعد ہم نے مختلف پیغمبروں کو اُن کی قوموں کی طرف بھیجا اور وہ اُن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے، مگر جس چیز کو انہوں نے پہلے جھٹلا دیا تھا اسے پھر مان کر نہ دیا اس طرح ہم حد سے گزر جانے والوں کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیتے ہیں۔
    قرآن ، سورت یونس، آیت نمبر 74

    أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَأُ الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَۛ وَالَّذِينَ مِن بَعْدِهِمْۛ لَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا اللَّهُۚ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ وَقَالُوا إِنَّا كَفَرْنَا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ وَإِنَّا لَفِي شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُونَنَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ ﴿٩﴾
    کیا تمہیں اُن قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں؟ قوم نوحؑ، عاد، ثمود اور اُن کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے؟ اُن کے رسول جب اُن کے پاس صاف صاف باتیں اور کھلی کھلی نشانیاں لیے ہوئے آئے تو اُنہوں نے اپنے منہ میں ہاتھ دبا لیے اور کہا کہ "جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو اُس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں"۔
    قرآن ، سورت ابراہیم، آیت نمبر 09

    وَقَارُونَ وَفِرْعَوْنَ وَهَامَانَۖ وَلَقَدْ جَاءَهُم مُّوسَىٰ بِالْبَيِّنَاتِ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ وَمَا كَانُوا سَابِقِينَ ﴿٣٩﴾
    اور قارون و فرعون و ہامان کو ہم نے ہلاک کیا موسیٰؑ اُن کے پاس بیّنات لے کر آیا مگر انہوں نے زمین میں اپنی بڑائی کا زعم کیا حالانکہ وہ سبقت لے جانے والے نہ تھے۔
    قرآن ، سورت العنکبوت، آیت نمبر 39

    أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْۚ كَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثَارُوا الْأَرْضَ وَعَمَرُوهَا أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِۖ فَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ﴿٩﴾
    اور کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِنہیں اُن لوگوں کا انجام نظر آتا جو اِن سے پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ اِن سے زیادہ طاقت رکھتے تھے، اُنہوں نے زمین کو خوب ادھیڑا تھا اور اُسے اتنا آباد کیا تھا جتنا اِنہوں نے نہیں کیا ہے اُن کے پاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے پھر اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے۔
    قرآن ، سورت الروم، آیت نمبر 09

    ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانَت تَّأْتِيهِمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَكَفَرُوا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُۚ إِنَّهُ قَوِيٌّ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴿٢٢﴾
    یہ ان کا انجام اس لیے ہوا کہ ان کے پاس اُن کے رسول بینات لے کر آئے اور انہوں نے ماننے سے انکار کر دیا آخر کار اللہ نے ان کو پکڑ لیا، یقیناً وہ بڑی قوت والا اور سزا دینے میں بہت سخت ہے۔
    قرآن ، سورت غافر، آیت نمبر 22

    وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُم بِالْبَيِّنَاتِ مِن رَّبِّكُمْۖ وَإِن يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُۖ وَإِن يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُم بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ ﴿٢٨﴾
    اس موقع پر آل فرعون میں سے ایک مومن شخص، جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، بول اٹھا: "کیا تم ایک شخص کو صرف اِس بنا پر قتل کر دو گے کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے؟ حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس بینات لے آیا اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ خود اسی پر پلٹ پڑے گا لیکن اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک نتائج کا وہ تم کو خوف دلاتا ہے ان میں سے کچھ تو تم پر ضرور ہی آ جائیں گے اللہ کسی شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذاب ہو۔
    قرآن ، سورت غافر، آیت نمبر 28

    وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُۖ فَلَمَّا جَاءَهُم بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ ﴿٦﴾
    اور یاد کرو عیسیٰؑ ابن مریمؑ کی وہ بات جو اس نے کہی تھی کہ "اے بنی اسرائیل، میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں، تصدیق کرنے والا ہوں اُس توراۃ کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے، اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا مگر جب وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے کہا یہ تو صریح دھوکا ہے۔
    قرآن ، سورت الصف، آیت نمبر 06

    ذَٰلِكَ بِأَنَّهُ كَانَت تَّأْتِيهِمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالُوا أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا فَكَفَرُوا وَتَوَلَّواۚ وَّاسْتَغْنَى اللَّهُۚ وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَمِيدٌ ﴿٦﴾
    اِس انجام کے مستحق وہ اس لیے ہوئے کہ اُن کے پاس اُن کے رسول کھلی کھلی دلیلیں اور نشانیاں لے کر آتے رہے، مگر اُنہوں نے کہا "کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے؟" اس طرح انہوں نے ماننے سے انکار کر دیا اور منہ پھیر لیا، تب اللہ بھی ان سے بے پروا ہو گیا اور اللہ تو ہے ہی بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود۔
    قرآن ، سورت التغابن، آیت نمبر 06
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. T.K.H

    T.K.H رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2014
    پیغامات:
    234
    دوسرا سبب :- شکی مزاج لوگوں کاغیر معقول باتیں بنانا

    قَالُوا يَا صَالِحُ قَدْ كُنتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَٰذَاۖ أَتَنْهَانَا أَن نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِي شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ ﴿٦٢﴾
    انہوں نے کہا "اے صالحؑ، اس سے پہلے تو ہمارے درمیان ایسا شخص تھا جس سے بڑی توقعات وابستہ تھیں کیا تو ہمیں ان معبودوں کی پرستش سے روکنا چاہتا ہے جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟ تو جس طریقے کی طرف ہمیں بلا رہا ہے اس کے بارے میں ہم کو سخت شبہ ہے جس نے ہمیں خلجان میں ڈال رکھا ہے"۔
    قرآن ، سورت ھود ، آیت نمبر 62

    أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَأُ الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَۛ وَالَّذِينَ مِن بَعْدِهِمْۛ لَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا اللَّهُۚ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ وَقَالُوا إِنَّا كَفَرْنَا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ وَإِنَّا لَفِي شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُونَنَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ ﴿٩﴾
    کیا تمہیں اُن قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں؟ قوم نوحؑ، عاد، ثمود اور اُن کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے؟ اُن کے رسول جب اُن کے پاس صاف صاف باتیں اور کھلی کھلی نشانیاں لیے ہوئے آئے تو اُنہوں نے اپنے منہ میں ہاتھ دبا لیے اور کہا کہ "جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو اُس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں"۔
    قرآن ، سورت ابراہیم ، آیت نمبر 09

    قَالَتْ رُسُلُهُمْ أَفِي اللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِۖ يَدْعُوكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّىۚ قَالُوا إِنْ أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا تُرِيدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ ﴿١٠﴾
    اُن کے رسولوں نے کہا "کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے؟ وہ تمہیں بلا رہا ہے تاکہ تمہارے قصور معاف کرے اور تم کو ایک مدت مقرر تک مہلت دے" اُنہوں نے جواب دیا "تم کچھ نہیں ہو مگر ویسے ہی انسان جیسے ہم ہیں تم ہمیں اُن ہستیوں کی بندگی سے روکنا چاہتے ہو جن کی بندگی باپ دادا سے ہوتی چلی آ رہی ہے اچھا تو لاؤ کوئی صریح سند"۔
    قرآن ، سورت ابراہیم ، آیت نمبر 10

    أَأُنزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِن بَيْنِنَاۚ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِّن ذِكْرِيۖ بَل لَّمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ ﴿٨﴾
    کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر اللہ کا ذکر نازل کر دیا گیا؟" اصل بات یہ ہے کہ یہ میرے "ذکر"پر شک کر رہے ہیں، اور یہ ساری باتیں اس لیے کر رہے ہیں کہ انہوں نے میرے عذاب کا مزا چکھا نہیں ہے۔
    قرآن ، سورت ص ، آیت نمبر 08

    پہلے اور دوسرے سبب کا نتیجہ :-اللہ تعالٰی کا ایسے لوگوں کو گمراہ کرنا

    تیسرا سبب :-بغیر سندکے اللہ تعالٰی کی آیات میں جھگڑنا

    وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَۖ وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًاۚ وَإِن يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوا بِهَاۚ حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوكَ يُجَادِلُونَكَ يَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ ﴿٢٥﴾ وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُۖ وَإِن يُهْلِكُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ ﴿٢٦﴾
    ان میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں مگر حال یہ ہے کہ ہم نے اُن کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں جن کی وجہ سے وہ اس کو کچھ نہیں سمجھتے اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دی ہے (کہ سب کچھ سننے پر بھی کچھ نہیں سنتے) وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، اس پر ایمان لا کر نہ دیں گے حد یہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس آ کر تم سے جھگڑتے ہیں تو ان میں سے جن لوگوں نے انکار کا فیصلہ کر لیا ہے وہ (ساری باتیں سننے کے بعد) یہی کہتے ہیں کہ یہ ایک داستان پارینہ کے سوا کچھ نہیں وہ اس امر حق کو قبول کرنے سے لوگوں کو روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں (وہ سمجھتے ہیں کہ اس حرکت سے وہ تمہارا کچھ بگاڑ رہے ہیں) حالانکہ دراصل وہ خو د اپنی ہی تباہی کا سامان کر رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔
    قرآن ، سورت الانعام ، آیت نمبر 26-25

    قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَغَضَبٌۖ أَتُجَادِلُونَنِي فِي أَسْمَاءٍ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا نَزَّلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍۚ فَانتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُم مِّنَ الْمُنتَظِرِينَ ﴿٧١﴾
    اس نے کہا "تمہارے رب کی پھٹکار تم پر پڑ گئی اور اس کا غضب ٹوٹ پڑا کیا تم مجھ سے اُن ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، جن کے لیے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ہے اچھا تو تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں"۔
    قرآن ، سورت الاعراف ، آیت نمبر 71

    وَيُجَادِلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّۖ وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَمَا أُنذِرُوا هُزُوًا ﴿٥٦﴾
    مگر کافروں کا حال یہ ہے کہ وہ باطل کے ہتھیار لے کر حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور انہوں نے میری آیات کو اور اُن تنبیہات کو جو انہیں کی گئیں مذاق بنا لیا ہے۔
    قرآن ، سورت الکہف ، آیت نمبر 56

    وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّبِعُ كُلَّ شَيْطَانٍ مَّرِيدٍ ﴿٣﴾
    بعض لوگ ایسے ہیں جو عِلم کے بغیر اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں اور ہر شیطان سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔
    قرآن ، سورت الحج ، آیت نمبر 03

    وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَابٍ مُّنِيرٍ ﴿٨﴾
    بعض اور لوگ ایسے ہیں جو کسی علم اور ہدایت اور روشنی بخشنے والی کتاب کے بغیر، گردن اکڑائے ہوئے۔
    قرآن ، سورت الحج ، آیت نمبر 08

    وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَابٍ مُّنِيرٍ ﴿٢٠﴾
    اِس پر حال یہ ہے کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی عِلم ہو، یا ہدایت، یا کوئی روشنی دکھانے والی کتاب۔
    قرآن ، سورت لقمان ، آیت نمبر 20

    مَا يُجَادِلُ فِي آيَاتِ اللَّهِ إِلَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَا يَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ ﴿٤﴾
    اللہ کی آیات میں جھگڑے نہیں کرتے مگر صرف وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے اِس کے بعد دنیا کے ملکوں میں اُن کی چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے۔
    قرآن ، سورت غافر ، آیت نمبر 04

    وَجَادَلُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ فَأَخَذْتُهُمْۖ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ ﴿٥﴾
    اُن سب نے باطل کے ہتھیاروں سے حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کی مگر آخر کار میں نے ان کو پکڑ لیا، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی۔
    قرآن ، سورت غافر ، آیت نمبر 05

    إِنَّ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَانٍ أَتَاهُمْۙ إِن فِي صُدُورِهِمْ إِلَّا كِبْرٌ مَّا هُم بِبَالِغِيهِۚ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِۖ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ﴿٥٦﴾
    حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ کسی سند و حجت کے بغیر جو اُن کے پاس آئی ہو، اللہ کی آیات میں جھگڑے کر رہے ہیں اُن کے دلوں میں کبر بھرا ہوا ہے، مگر وہ اُس بڑائی کو پہنچنے والے نہیں ہیں جس کا وہ گھمنڈ رکھتے ہیں بس اللہ کی پناہ مانگ لو، وہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے۔
    قرآن ، سورت غافر ، آیت نمبر 56

    تمام اسباب کا فیصلہ کن نتیجہ: -اللہ تعالٰی کا دلوں پر مہر لگانا
    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  4. T.K.H

    T.K.H رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2014
    پیغامات:
    234
    منافقین کے دلوں پر مہر لگنے کے اسبا ب

    اب ہم منافقین کے طرزِ عمل کو قرآن مجید کی آیات کے حوالے سےبیان کرینگے جو انکے دلوں پر مہر لگنے کی وجہ ہے۔

    وَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ أَنْ آمِنُوا بِاللَّهِ وَجَاهِدُوا مَعَ رَسُولِهِ اسْتَأْذَنَكَ أُولُو الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَقَالُوا ذَرْنَا نَكُن مَّعَ الْقَاعِدِينَ ﴿٨٦﴾ رَضُوا بِأَن يَكُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ ﴿٨٧﴾
    جب کبھی کوئی سورۃ اس مضمون کی نازل ہوئی کہ اللہ کو مانو اور اس کے رسول کے ساتھ جہاد کرو تو تم نے دیکھا کہ جو لوگ ان میں سے صاحب مقدرت تھے وہی تم سے درخواست کرنے لگے کہ انہیں جہاد کی شرکت سے معاف رکھا جائے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں چھوڑ دیجیے کہ ہم بیٹھنے والوں کے ساتھ رہیں ان لوگوں نے گھر بیٹھنے والیوں میں شامل ہونا پسند کیا اور ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا گیا، اس لیے ان کی سمجھ میں اب کچھ نہیں آتا۔
    قرآن ، سورت التوبۃ ، آیت نمبر 87-86

    رَضُوا بِأَن يَكُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطَبَعَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٩٣﴾
    انہوں نے گھر بیٹھنے والیوں میں شامل ہونا پسند کیا اور اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا، اس لیے اب یہ کچھ نہیں جانتے (کہ اللہ کے ہاں ان کی روش کا کیا نتیجہ نکلنے والا ہے)۔
    قرآن ، سورت التوبۃ ، آیت نمبر 93

    تجزیہ :-منافقین کی منافقت اس وقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے جب حق کی خاطر جینے مرنے اور باطل کا مقابلہ کرنے کی بجائےوہ میدانِ جہاد سے جی چرانے کےلیے بے جا بہانے تراشتے ہیں جو ان کے دلوں پر مہر لگنے کا سبب بنتی ہے۔


    وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ حَتَّىٰ إِذَا خَرَجُوا مِنْ عِندِكَ قَالُوا لِلَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفًا ۚ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ ﴿١٦﴾
    اِن میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں اور پھر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو اُن لوگوں سے جنہیں علم کی نعمت بخشی گئی ہے پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی اِنہوں نے کیا کہا تھا؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے ٹھپہ لگا دیا ہے اور یہ اپنی خواہشات کے پیرو بنے ہوئے ہیں۔
    قرآن ، سورت محمدﷺ ، آیت نمبر 16

    تجزیہ :-علم کی مجلسوں کے بعداپنی خواہشات پر چلنے والوں(منافقین) کاازراہِ تمسخر اہلِ علم سے کسی مسئلے کے بارے میں پوچھنا اس بات کی نشان دہی کرتا ہےکہ انکی نظر میں رسولوں کی تعلیمات کی کوئی اہمیت نہیں اور وہ حق کو کسی بھی صورت قبول کرنے پر راضی نہیں ہیں جو ان کے دلوں پر اللہ تعالٰی کی مہر لگنے کا باعث بنتی ہے۔

    اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿٢﴾ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ ﴿٣﴾
    انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور اِس طرح یہ اللہ کے راستے سے خود رکتے اور دنیا کو روکتے ہیں کیسی بری حرکتیں ہیں جو یہ لوگ کر رہے ہیں یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں نے ایمان لا کر پھر کفر کیا اس لیے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، اب یہ کچھ نہیں سمجھتے۔
    قرآن ، سورت المنافقون، آیت نمبر 03-02

    تجزیہ :-منافقین کا اپنے ایمان کو ثابت کرنے کےلیے جھوٹی قسمیں کھانا،اللہ تعالٰی کے راستے سے رکنا اور دوسروں کو روکنے کی کوشش کرنا دلوں پر مہر لگنے کا باعث ہے۔

    یہ ہیں وہ آیات جن میں ان علامات کی واضح طور پر نشان دہی کر دی گئی ہےجن کی وجہ سے اللہ تعالٰی دلوں پر مہر لگا دیتا ہےایک بار پھر ہم یہاں ذہن نشین کراناضروری سمجھتے ہیں کہ سورۃ یوسف کی آیت نمبر 35-34میں اللہ تعالٰی نے کفار کے دلوں پر مہر لگنے کے اسباب بیان فرمائیں ہیں جبکہ دوسری آیات میں منافقین کے طرزِ عمل کو دکھایا گیا ہے لیکن ایک بات کفار ومنافقین میں مشترک ہوتی ہے کہ ان دونوں فریقوں کا مقصدِ حقیقی شریعت کی پابندی سے آزاد ہو کرخواہشِ نفس کی غلامی کرنا ہے فرق اگر ہے تو صرف اتنا کہ کفار حق کی مخالفت علانیہ طور پر کرتے ہیں جبکہ منافقین خفیہ طور پر اپنے کام کو سر انجام دیتے ہیں۔
    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  5. T.K.H

    T.K.H رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2014
    پیغامات:
    234
    بظاہر اختلافی اسباب میں اللہ تعالٰی کے مہر لگانےکی وضاحت

    قرآن مجید میں اِن آیات کے علاوہ چند آیات ایسی ہیں جن میں بظاہر وہ اسباب بیان نہیں ہوئے جن کا ہم نے ابھی ذکرکیا مگر ذرا سا تدبر کرنے سے یہ بات پوری طرح مبرہن ہوجاتی ہے کہ ان آیات میں بھی دلوں پر مہر لگنے کے پسِ منظر میں تقریباً وہی اسباب پوشیدہ ہیں جوپہلے بیان ہوچکے ہیں۔

    أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَىٰ عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَن يَهْدِيهِ مِن بَعْدِ اللَّهِ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ﴿٢٣﴾
    پھر کیا تم نے کبھی اُس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا اور اللہ نے علم کے باوجود اُسے گمراہی میں پھینک دیا اور اُس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دی اور اُس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا؟ اللہ کے بعد اب اور کون ہے جو اُسے ہدایت دے؟ کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں لیتے؟
    قرآن ، سورت الجاثیہ ، آیت نمبر 23

    تجزیہ :- یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایک شخص اپنے نفس کو معبود بناتا ہی اسی وقت ہے جب وہ شریعت کی حدودو قیود سے بالکل آزاد ہوکرزندگی گزارنے کا فیصلہ کرے اور یہ طرزِ عمل سوائےمتکبر اور سرکش لوگوں کے کسی اور کا نہیں ہو سکتاچونکہ ایسے انسانوں سے خیر کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی اس لیے ہدایت کی راہ بند کر کے ان کے دلوں پر مہر ثبت کر دی جاتی ہے۔


    مَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿١٠٦﴾ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ ﴿١٠٧﴾ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ ﴿١٠٨﴾
    جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور دل اس کا ایمان پر مطمئن ہو (تب تو خیر) مگر جس نے دل کی رضا مندی سے کفر کو قبول کر لیا اس پر اللہ کا غضب ہے اور ایسے سب لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے یہ اس لیے کہ اُنہوں نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا، اور اللہ کا قاعدہ ہے کہ وہ اُن لوگوں کو راہ نجات نہیں دکھاتا جو اُس کی نعمت کا کفران کریں یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں اور کانوں اور آنکھوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے یہ غفلت میں ڈوب چکے ہیں۔
    قرآن ، سورت النحل ، آیت نمبر 108-106

    تجزیہ :-ایمان کا سودا کرنے والے دراصل دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور ایسا وہی لوگ کرتےہیں جو خواہشِ نفس کے پیروکار ہوں کیونکہ ایسے لوگ حق کی بات کو آنکھ سے دیکھنے، کان سے سننے اور دل و دماغ سے سوچنے کی صلاحیت سے عمداً کام نہیں لینا چاہتے۔

    فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِم بِآيَاتِ اللَّهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَلْ طَبَعَ اللَّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا ﴿١٥٥﴾
    آخر کا ر اِن کی عہد شکنی کی وجہ سے، اور اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا، اور متعدد پیغمبروں کو نا حق قتل کیا، اور یہاں تک کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں حالانکہ در حقیقت اِن کی باطل پرستی کے سبب سے اللہ نے اِن کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ہے اور اسی وجہ سے یہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔
    قرآن ، سورت النساء ، آیت نمبر 155

    تجزیہ :-اِس آیت میں بھی عہد کا پاس نہ کرنااور اللہ تعالٰی کی آیات کو جھٹلانا اورانبیاءکے سمجھانے پر ان کو ناحق قتل کرنا اللہ تعالٰی کی آیات سے جھگڑنے کے ہی مترادف ہے۔

    أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ الْأَرْضَ مِن بَعْدِ أَهْلِهَا أَن لَّوْ نَشَاءُ أَصَبْنَاهُم بِذُنُوبِهِمْ ۚ وَنَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ ﴿١٠٠﴾
    اور کیا اُن لوگوں کو جو سابق اہل زمین کے بعد زمین کے وارث ہوتے ہیں، اِس امر واقعی نے کچھ سبق نہیں دیا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے قصوروں پر انہیں پکڑ سکتے ہیں؟ (مگر وہ سبق آموز حقائق سے تغافل برتتے ہیں) اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں، پھر وہ کچھ نہیں سنتے۔
    قرآن ، سورت الاعراف ، آیت نمبر 100

    تِلْكَ الْقُرَىٰ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَائِهَا ۚ وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا مِن قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ الْكَافِرِينَ ﴿١٠١﴾
    قومیں جن کے قصے ہم تمہیں سنا رہے ہیں (تمہارے سامنے مثال میں موجود ہیں) ان کے رسول ان کے پا س کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے، مگر جس چیز کو وہ ایک دفعہ جھٹلا چکے تھے پھر اُسے وہ ماننے والے نہ تھے دیکھو اس طرح ہم منکرین حق کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔
    قرآن ، سورت الاعراف ، آیت نمبر 101

    ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِ رُسُلًا إِلَىٰ قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا بِهِ مِن قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ نَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِ الْمُعْتَدِينَ ﴿٧٤﴾
    پھر نوحؑ کے بعد ہم نے مختلف پیغمبروں کو اُن کی قوموں کی طرف بھیجا اور وہ اُن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے، مگر جس چیز کو انہوں نے پہلے جھٹلا دیا تھا اسے پھر مان کر نہ دیا اس طرح ہم حد سے گزر جانے والوں کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیتے ہیں۔
    قرآن ، سورت یونس ، آیت نمبر 74

    وَلَئِن جِئْتَهُم بِآيَةٍ لَّيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ أَنتُمْ إِلَّا مُبْطِلُونَ ﴿٥٨﴾ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٥٩﴾
    تم خواہ کوئی نشانی لے آؤ، جن لوگوں نے ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ یہی کہیں گے کہ تم باطل پر ہو اِس طرح ٹھپہ لگا دیتا ہے اللہ اُن لوگوں کے دلوں پر جو بے علم ہیں۔
    قرآن ، سورت الروم ، آیت نمبر 59-58

    تجزیہ :-معذب قوموں کے بُرے انجام سےباخبر ہوکربھی کوئی سبق حاصل نہ کرنا اور اپنے گناہوں پر مصر رہناتکبر وسر کشی کی ہی علامت ہے۔

    ایسےہی طرزِ عمل کو اختیار کرنے والوں کے حق میں اللہ تعا لٰی نے فرمایا ہے:-

    إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿٦﴾ خَتَمَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلَىٰ أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿٧﴾
    جن لوگوں نے (اِن باتوں کو تسلیم کرنے سے) انکار کر دیا، اُن کے لیے یکساں ہے، خواہ تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو، بہرحال وہ ماننے والے نہیں ہیں اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے وہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔
    قرآن ، سورت البقرۃ ، آیت نمبر 07-06

    لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلَىٰ أَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿٧﴾ إِنَّا جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ أَغْلَالًا فَهِيَ إِلَى الْأَذْقَانِ فَهُم مُّقْمَحُونَ ﴿٨﴾ وَجَعَلْنَا مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ ﴿٩﴾ وَسَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿١٠﴾
    اِن میں سے اکثر لوگ فیصلہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں، اسی لیے وہ ایمان نہیں لاتے ہم نے اُن کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں جن سے وہ ٹھوڑیوں تک جکڑے گئے ہیں، اس لیے وہ سر اٹھائے کھڑے ہیں ہم نے ایک دیوار اُن کے آگے کھڑی کر دی ہے اور ایک دیوار اُن کے پیچھے ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے، انہیں اب کچھ نہیں سوجھتا ان کے لیے یکساں ہے، تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو، یہ نہ مانیں گے۔
    قرآن ، سورت یٰس ، آیت نمبر 10-07
    خاتمہ
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں