تصوف اور نماز

بابر تنویر نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏نومبر 8, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,133
    تصوف اور نماز

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    ہر مسلمان نماز کی اہمیت سے واقف ہے۔ دین کے بنیادی ارکان کا دوسرا رکن۔ قران کریم فرقان حمید کے شروع میں ہی اس کی اہمیت واضح کر دی گئ۔

    ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛفِيهِ ۛهُدًى لِّلْمُتَّقِينَ﴿٢﴾الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴿٣﴾وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ﴿٤﴾أُولَـٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ ۖوَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴿٥
    اس کتاب (کے اللہ کی کتاب ہونے) میں کوئی شک نہیں پرہیزگاروں کو راه دکھانے والی ہے (2) جو لوگ غیب پر ایمان ﻻتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے (مال) میں سے خرچ کرتے ہیں (3) اور جو لوگ ایمان ﻻتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا، اور وه آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں (4) یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں (5) البقرہ

    یعنی یہ قرآن اس کتاب کا پڑھنا جن لوگوں کو لیے ہدایت ہے ان کی خصوصیات کیا ہیں۔

    غیب پر ایمان لانے والے
    نماز قائم کرنے والے
    اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے خرچ کرنے والے
    اللہ تعالی کی طرف سے اتاری گئ تمام کتابوں پر ایمان لانے والے۔
    آخرت پر یقین رکھنے والے۔

    اور پھر اللہ تعالی نے فرما دیا کہ یہی لوگ فلاح پائيں گے۔ یعنی آخرت میں کامیابی پائيں گے۔ اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو ان کامیاب لوگوں میں شامل فرمائے۔ آمین!

    اللہ تعالی نے مسلمانوں کو نماز ادا کرنے کی تاکید کئی مقامات پر کی ہے۔ چند آیات پیش خدمت ہیں۔

    وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ﴿٤٣
    اور نمازوں کو قائم کرو اور زکوٰة دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو (43) البقرہ

    وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ۚوَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّـهِ ۗإِنَّ اللَّـهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴿١١٠
    تم نمازیں قائم رکھو اور زکوٰة دیتے رہا کرو اور جو کچھ بھلائی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے، سب کچھ اللہ کے پاس پالو گے، بےشک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے (110) البقرہ


    لَّـٰكِنِ الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَالْمُؤْمِنُونَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ ۚوَالْمُقِيمِينَ الصَّلَاةَ ۚوَالْمُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالْمُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أُولَـٰئِكَ سَنُؤْتِيهِمْ أَجْرًا عَظِيمًا﴿١٦٢
    لیکن ان میں سے جو کامل اور مضبوط علم والے ہیں اور ایمان والے ہیں جو اس پر ایمان ﻻتے ہیں جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا اور نمازوں کو قائم رکھنے والے ہیں اور زکوٰة کے ادا کرنے والے ہیں اور اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہیں یہ ہیں جنہیں ہم بہت بڑے اجر عطا فرمائیں گے (162) النساء

    إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ﴿٥٥
    (مسلمانو)! تمہارا دوست خود اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور ایمان والے ہیں جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں اور وه رکوع (خشوع وخضوع) کرنے والے ہیں (55) المائدہ


    وَأَنْ أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَاتَّقُوهُ ۚوَهُوَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴿٧٢
    اور یہ کہ نماز کی پابندی کرو اور اس سے ڈرو اور وہی ہے جس کے پاس تم سب جمع کئے جاؤ گے (72) الانعام


    وَالَّذِينَ يُمَسِّكُونَ بِالْكِتَابِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُصْلِحِينَ﴿١٧٠
    اور جو لوگ کتاب کے پابند ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں، ہم ایسے لوگوں کا جو اپنی اصلاح کریں ﺛواب ضائع نہ کریں گے (170) الاعراف

    نماز پڑھنے والوں کو اللہ تعالی اپنی رحمت کی نوید بھی سناتا ہے۔

    وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴿٥٦
    نماز کی پابندی کرو، زکوٰة ادا کرو اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی فرمانبرداری میں لگے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے (56) النور

    اللہ تعالی ہمیں برائی اور بے حیائی کے کاموں سے روکتا ہے

    إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ۚيَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ﴿٩٠
    اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ﻇلم وزیادتی سے روکتا ہے، وه خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو (90) النحل

    اور نماز کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ یہ برائی اور بے حیائی کے کاموں سے روکتی ہے۔

    اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ ۖإِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ ۗوَلَذِكْرُ اللَّـهِ أَكْبَرُ ۗوَاللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ﴿٤٥
    جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے اور نماز قائم کریں، یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے، بیشک اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے، تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے (45) العنکبوت

    نماز ایک ایسی عبادت ہے کہ جس کا حکم اللہ تعالی نے براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کومعراج کی رات دیا۔ ابتدا میں 50 نمازوں کا حکم ہوا اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی التجا کی بدولت اللہ تعالی نے 50 کی جگہ 5 نمازیں فرض فرما دیں لیکن ثواب وہی 50 نمازوں کا رہنے دیا۔

    نماز ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارک کے مطابق آدمی اور شرک کے درمیان نماز کا فرق ہے۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    " تحقیق قیامت کے دن لوگوں کے اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی کا حساب ہوگا۔ " (ابو داؤد 866 ، حاکم 362-363)عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اللہ تعالی کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ نے فرمایا" وقت پر نماز پڑھنا-" میں نے کہا کہ پھر کونسا؟ آپ نے فرمایا:" ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنا-" میں نے کہا پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا:" اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ( بخاری 527 مسلم 85)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نماز کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرو۔ نماز کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرو- نماز کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرو (ابن ماجہ 4697 ابن حبان 1220)

    http://www.urdumajlis.net/threads/مسجد-میں-باجماعت-نماز-کی-اہمیت.21281/

    دوستو یہ تصوف کی دنیا بھی بڑی عجیب ہے ان کے اکثر عقائد اور اعمال شریعت سے متصادم ہوتے ہیں۔ ان صوفیوں ، بابوں، پیروں کو آپ نماز کے لیے مسجد میں جاتے ہوئے اور نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھیں گے۔ اور ان کو ماننے والوں کو اگر اس بارے میں بتایا جائے تو وہ فوراً کہہ دیں گے کہ آپ کیا جانو ان کی نماز کی کیفیت۔ وہ ظاہری نہیں بلکہ باطنی نماز پڑھتے ہیں۔ ایک کشمیری بھائی نے ایک بار اپنے علاقے کے ایک پیر کا قصہ سنایا کہ پیر صاحب اکثر مراقبے میں چلے جایا کرتے تھے اور مریدوں نے مشہور یہ کر رکھا تھا کہ یہ مراقبے کے دوران مدینے میں جاکر نماز ادا کرتے ہیں۔ ایک ذرا ہوشیار آدمی، جو کہ سعودی عرب میں رہ چکا تھا، نے پوچھ لیا کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔ مرید خاص نے جواب دیا کہ "یہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر ظہر کی نماز ادا کر رہے ہیں" ۔ اس بندے نے گھڑی دیکھی اور مرید خاص سے کہنے لگا کہ "ابھی تو مدینے میں ظہر کی نماز کا وقت ہی نہیں ہوا تو یہ کیسے وہاں حاضر ہو کر نماز پڑھ رہے ہیں" واللہ اعلم کہ یہ قصہ صحیح ہے یا نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان صوفیاء کی عبادت بھی عجیب و غریب ہوتی ہے۔ کبھی ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر ریاضت کی جار ہی ہے تو کبھی ازواج سے دور رہ کے مجاہدہ کیا جا رہا ہے۔ اور گستاخی اتنی کہ اللہ تعالی جنت پیش کرتا ہے توایک مشہور صوفی بایزید بسطامی اسے ٹھکرا دیتا ہے۔

    نماز تو کسی بھی حال میں معاف نہیں ہے ۔ جب ایک صحابی نے جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کی خواہش ظاہر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زیادہ سے زیادہ نوافل ادا کر کے میری مدد کرو۔

    ایک طرف تو یہ حال ہے کہ نوافل کی اتنی اہمیت کہ ان کی ادائیگی نبی کریم صلی اللہ علیہ کے ساتھ کی نوید ہے اور دوسری طرف صوفیوں کا یہ حال کہ فرائض کی ادائیگی سے بھی غفلت ۔

    تصوف کی ایک کتاب انیس الارواح (ملفوظات خواجہ عثمان ہارونی مرتبہ خواجہ غریب نواز اجمیری) کے صفحہ نمبر 22 پر شمس العارفین کے بارے میں کچھ ایسے لکھا ہوا ہے۔

    " پھر فرمایا کہ شمس العارفین نماز ادا نہ کرتے تھے۔ جب لوگوں نے آپ سے اس کا سبب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ نماز بغیر سورہ فاتحہ کے پڑھتا ہوں، لوگوں نے کہا کہ یہ کیسی نماز ہے۔ پھر لوگوں نے التجاء کی تو آپ نے فرمایا سورہ فاتحہ پڑھتا ہوں لیکن ایاک نعبد و ایاک نستعین نہیں پڑھتا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ ضرور پڑھیں۔
    اس کے بعد دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ جب نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور سورہ فاتحہ شروع کی تو جب ایاک نعبد و ایاک نستعین پر پہنچے تو آپ کے وجود مبارک کے ہر رونگٹے سے خون جاری ہوگيا۔

    پھر حاضرین کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ میرے لیے نماز درست نہیں۔ گو لوگ تو کہتے ہیں کہ میں نماز ادا کرتا ہوں"

    ویسے تو یہ عبارت بجائے خود تضادات سے بھرپور ہے۔

    پہلے فرماتے ہیں کہ شمس العارفین نماز نہیں ادا کرتے تھے۔

    پھر فرمایا کہ نماز ادا کرتا ہوں لیکن سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا
    پھر فرمایا کہ سورہ فاتحہ تو پڑھتا ہوں لیکن ایاک نعبد و ایاک نستعین نہیں پڑھتا۔
    ان کا یہ فرمانا کہ میں نماز ادا نہیں کرتا بجائے خود کفریہ کلمہ ہے۔ کہ نماز تو اللہ تعالی کی طرف سے فرض کی گئی ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ آدمی اور کفر میں نماز کا فرق ہے۔
    دوسری بات یہ کہ سورہ فاتحہ تو نماز کا ایک لازمی جزو ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی نماز ہی نہیں ہے کہ جس نے نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی۔ انہوں نے سورہ فاتحہ کے بغیر جو نماز پڑھی وہ نماز باطل ہوگئی
    تیسری بات یہ کہ سورہ فاتحہ کی ایک آيت جان بوجھ کے چھوڑ دینا بھی میرے خیال میں ایک گستاخی ہوگی
    چوتھی بات یہ کہ ایاک نعبد و ایاک نستعین کا مطلب تو یہ ہے کہ اے اللہ میں صرف تیری ہی عبادت کرتا ہوں اور مدد بھی تجھ ہی سے مانگتا ہوں۔ اس کے نہ پڑھنے کا لامحالہ یہ مطلب ہوا کہ یہ نہ تو ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے اور نہ ہی ایک اللہ سے مدد مانگتے تھے۔
    پانچویں بات یہ کہ ایاک نعبد و ایاک نستعین پڑھنے سے رونگٹوں سے خون جاری ہونا بھی شائد اسی بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے ان کی بدعقیدگی کے سبب ان سے اس آیت کی تلاوت کی توفیق ہی چھین لین ہوگی۔ واللہ اعلم!
    اور آخری بات یہ کہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ تمام قصہ ہی من گھڑت ہو۔ شمس العارفین کے مریدوں نے ان کے نماز نہ پڑھنے کو درست ثابت کرنے کے لیے یہ کہانی بنا لی ہو۔

    آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سچا پکا نمازی بنائے اور اگر ہم سے کوئی کوتاہی سرزد ہو جائے تو اسے معاف فرمائے آمین! یا رب العالمین۔

    نوٹ : ذاتی کاوش ہے۔ اور اگر کوئی بات غلط لکھی ہو تو اہل علم سے تصحیح کی درخواست ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
    • اعلی اعلی x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • مفید مفید x 1
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    زبردست جواب دیا ہے اس لئے کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پاوں نہیں ہوتے ۔
    ماشاء اللہ بہت اچھی کاوش ہے جزاک اللہ خیرا
    اللہ ہم سب کو قرآن وسنت پر چلنے کی توفیق عطا کرے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    353
    تصوف اصل میں بدعت کی آپا جان اور شرک کی بیٹی ہیں

     
    • متفق متفق x 1
  4. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,133
    upload_2018-4-21_0-28-5.png
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,251
    بہت عمدہ تحریر، اللہ یبارک فیک!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  6. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    534
    بہت عمدہ تحریر
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں