حدیث خلافت تیس (30)سال ،تحقیقی جائزہ

کفایت اللہ نے 'مجلس علماء' میں ‏نومبر 21, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    حدیث خلافت تیس (30)سال ،تحقیقی جائزہ
    تحریر: کفایت اللہ سنابلی​


    امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی مذمت میں بعض حضرات وہ حدیث بھی پیش کرتے ہیں جس میں دورخلافت کی مدت تیس سال بتلائی گئی ہے،اس کے بعد دورملوکت کا تذکرہ ہے۔اسی حدیث کی بنیاد پر بعض حضرات کہتے ہیں کہ امیر معاویہ اسلامی تاریخ کے پہلے بادشاہ ہیں ۔
    ذیل میں اس حدیث کا تحقیقی جائزہ پیش خدمت ہے:

    متن حدیث

    امام ترمذي رحمه الله (المتوفى279)نے کہا:
    حدثنا أحمد بن منيع قال: حدثنا سريج بن النعمان قال: حدثنا حشرج بن نباتة، عن سعيد بن جمهان، قال: حدثني سفينة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الخلافة في أمتي ثلاثون سنة، ثم ملك بعد ذلك» ثم قال لي سفينة: أمسك خلافة أبي بكر، وخلافة عمر، وخلافة عثمان، ثم قال لي: أمسك خلافة علي قال: فوجدناها ثلاثين سنة، قال سعيد: فقلت له: إن بني أمية يزعمون أن الخلافة فيهم؟ قال: كذبوا بنو الزرقاء بل هم ملوك من شر الملوك،: وفي الباب عن عمر، وعلي قالا: لم يعهد النبي صلى الله عليه وسلم في الخلافة شيئا وهذا حديث حسن قد رواه غير واحد عن سعيد بن جمهان ولا نعرفه إلا من حديثه
    سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ ہم سے سفینہ رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں تیس سال تک خلافت رہے گی، پھر اس کے بعد ملوکیت آ جائے گی“، پھر مجھ سے سفینہ رضی الله عنہ نے کہا: ابوبکر رضی الله عنہ کی خلافت، عمر رضی الله عنہ کی خلافت، عثمان رضی الله عنہ کی خلافت اور علی رضی الله عنہ کی خلافت، شمار کرو ، راوی حشرج بن نباتہ کہتے ہیں کہ ہم نے اسے تیس سال پایا، سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے سفینہ رضی الله عنہ سے کہا: بنو امیہ یہ سمجھتے ہیں کہ خلافت ان میں ہے؟ کہا: بنو زرقاء جھوٹ اور غلط کہتے ہیں، بلکہ ان کا شمار تو بدترین بادشاہوں میں ہے۔
    امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- کئی لوگوں نے یہ حدیث سعید بن جمہان سے روایت کی ہے، ہم اسے صرف سعید بن جمہان ہی کی روایت سے جانتے ہیں[سنن الترمذي ت شاكر 4/ 503 رقم 2226]

    تخریج حدیث

    اخرجہ الترمذی فی سننہ 4/ 503 من طریق سريج بن النعمان۔ واخرجہ ابوداؤ الطیالسی فی مسندہ (2/ 430) ومن طریقہ اخرجہ ابونعیم الاصبھانی فی تثبيت الإمامة (ص: 358) وفی فضائل الخلفاء (ص: 168) وفی معرفة الصحابة (1/ 29) والبیہقی فی المدخل (ص: 116)۔واخرجہ احمد فی مسند ہ (36/ 256)من طریق ابی النضر ۔واخرجہ الطبرانی فی المعجم الكبير (7/ 83) وابونعیم الاصبھانی فی فضائل الخلفاء (ص: 169) کلاھما من طریق ابی نعیم ۔واخرجہ الطبری فی صريح السنة (ص: 24) والبیھقی فی دلائل النبوة (6/ 342) کلاھما من طریق عبيد الله بن موسى۔واخرجہ ابونعیم الاصبھانی فی فضائل الخلفاء (ص: 169) من طریق منيع بن حشرج۔کلھم (سریج بن النعمان وابوداؤد الطیالسی وابونعیم و عبیداللہ بن موسی ومنیع بن حشرج ) عن حشرج بن نباتة۔
    واخرجہ ایضا ابوداؤد فی سننہ (4/ 211) والطبرانی فی المعجم الكبير (7/ 84) و ابونعیم فی فضائل الخلفاء (ص: 170) والبیھقی فی دلائل النبوة (6/ 341) کلھم من طریق سوار بن عبد الله ۔واخرجہ ابن حبان فی صحيحہ (15/ 34) وابویعلی فی المفاريد (ص: 103) کلاھما من طریق إبراهيم بن الحجاج۔واخرجہ الحاکم فی المستدرك (3/ 156) من طریق عبدالصمد بن عبدالوارث ۔واخرجہ البیھقی فی دلائل النبوة (6/ 341) من طریق قیس بن حفص ۔کلھم (سواربن عبداللہ و ابراھیم بن الحجاج وعبدالصمد بن عبدالوارث وقیس بن حفص) عن عبدالوارث بن سعد۔
    واخرجہ ایضا نعیم بن حماد فی الفتن (1/ 104) و ابوداؤد فی سننہ (4/ 211) وعبداللہ فی السنة (2/ 591) والطبرانی فی المعجم الكبير (7/ 83) و ابونعیم الاصبھانی فی فضائل الخلفاء (ص: 169) وفی تاريخ أصبهان (1/ 295) والآجری فی الشريعة (4/ 1705) کلھم من طریق ھشیم ۔واخرجہ النسائی فی السنن الكبرى (7/ 313) و فی فضائل الصحابة ص: 17 وعبداللہ فی السنة (2/ 591) وابن ابی عاصم فی السنة (2/ 564) وفی الآحاد والمثاني (1/ 129) والطبرانی فی المعجم الكبير (1/ 89) والآجری فی الشريعة (4/ 1705) الرویانی فی مسندہ (1/ 439) کلھم من طریق یزید بن ھارون۔واخرجہ نعیم بن حماد فی الفتن (1/ 104 ، 2/ 687) من طریق محمدبن یزید الواسطی ۔واخرجہ عبداللہ فی السنة (2/ 591) من طریق الحجاج بن فروخ ۔کلھم (ھشیم و یزید بن ھارون ومحمدبن یزید الواسطی و الحجاج بن فروخ ) عن العوام بن حوشب۔
    واخرجہ ایضا علي بن الجعد فی مسند ہ (ص: 479) ومن طریقہ ابن حبان فی صحيحہ (15/ 392) وفی ثقاتہ (2/ 304) والآجری فی الشريعة (4/ 1703) واللالکائی فی شرح أصول اعتقاد أهل السنة (8/ 1469) ابن عبدالبرفی جامع بيان العلم وفضله (الزهيري): 2/ 1169 والبغوی فی شرح السنہ 14/ 74 وفی تفسرہ 6/ 59۔واخرجہ احمد فی مسندہ ( 36/ 248) من طریق عبدالصمد۔واخرجہ احمد فی مسند ہ (36/ 248) وفی فضائل الصحابة (2/ 601) و من طریقہ عبداللہ فی فضائل عثمان بن عفان (ص: 129) من طریق بھز بن اسد۔واخرجہ احمد وابنہ فی فضائل الصحابة (1/ 488) و ابن ابی عاصم فی الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم (1/ 116، 1/ 129) و فی السنة (2/ 562) و عبداللہ فی السنة (2/ 591) و فی فضائل عثمان بن عفان (ص: 130) کلھم من طریق هدبة بن خالد۔واخرجہ الرویانی فی مسندہ (1/ 439) و الطبرانی فی المعجم الكبير (1/ 55) واللالکائی فی شرح أصول اعتقاد أهل (8/ 1469) کلھم من طریق حجاج بن المهال۔واخرجہ ابونعیم فی معرفة الصحابة (1/ 29، 1/ 82) من طریق حوثرة بن أشرس۔واخرجہ إسحاق بن راهويه فی مسندہ (4/ 163) من طریق النضر بن شميل۔واخرجہ الحاکم فی المستدرك ( 3/ 75) والبزار فی مسندہ (9/ 280) من طریق مؤمل واخرجہ البزار فی مسندہ (9/ 280) من طریق طالوت ۔واخرجہ الطحاوی فی شرح مشكل الآثار (8/ 414) من طریق عبد الرحمن بن زياد ۔واخرجہ الطبرانی فی المعجم الكبير (1/ 55) من طریق أسد بن موسى۔واخرجہ الالکائی فی شرح أصول اعتقاد أهل السنة (8/ 1469) من طریق وداود بن شبيب۔کلھم (علی ابن الجعد وعبدالصمد و بھزبن اسد وهدبة بن خالدوحجاج بن المهال وحوثرة بن أشرس والنضر بن شميل ومؤمل وطالوت وعبد الرحمن بن زيادوأسد بن موسى وداود بن شبيب) عن حماد بن سلمة۔
    واخرجہ ایضا الرویانی فی مسندہ (1/ 438) وابوبکربن الخلال فی السنة (2/ 427) و اللالکائی فی شرح أصول اعتقاد أهل السنة (8/ 1469) من طریق ابی طلحہ یحیی بن طلحہ ۔
    واخرجہ ایضا ابونعیم فی فضائل الخلفاء (ص: 169) من طریق حجاج ۔
    جمیعھم (حشرج بن نباتة و عبدالوارث بن سعد و العوام بن حوشب و حماد بن سلمة و ابو طلحہ یحیی بن طلحہ و الحجاج ) عن سعيد بن جمهان عن سفینہ رضی اللہ عنہ۔


    اس تخریج سے صاف ظاہر ہے کہ سعیدبن جمہان سے اس حدیث کو کئی لوگوں نے روایت کیا ہے اسی طرح سعید بن جمہان کے شاگردوں سے بھی کئی لوگ روایت کرتے ہیں ۔مگرسفینہ سے اس حدیث کو روایت کرنے میں سعید بن جمہان منفرد ہے۔کسی بھی ثقہ راوی سے سعیدبن جمہان کی معتبرمتابعت ثابت نہیں ہے۔اسی طرح سفینہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کا کوئی صحیح یا معتبر شاہد بھی موجود نہیں ہے۔
     
    Last edited: ‏نومبر 24, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  2. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    درجہ حدیث

    اس حدیث کی صحت وضعف کی بابت اہل علم میں اختلاف ہے۔
    بعض اہل علم نے اسے صحیح کہا ہے جبکہ بعض اہل علم نے اسے غیرصحیح قراردیا ہے۔

    شارح سنن ترمذی علامہ القاضي أبو بكر بن العربي (المتوفى: 543 ) رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
    وهذا حديث لا يصح
    اوریہ حدیث(حدیث سفینہ) صحیح نہیں ہے۔[العواصم من القواصم ط الأوقاف السعودية ص: 201]

    علامہ ابن خلدون الإشبيلي رحمہ اللہ (المتوفى: 808)فرماتے ہیں:
    ولا ينظر في ذلك إلى حديث الخلافة بعدي ثلاثون سنة فإنه لم يصحّ، والحق أنّ معاوية في عداد الخلفاء
    اوراس سلسلے میں وہ حدیث نہیں دیکھی جائے گی جس میں آیا ہے کہ خلافت میرے بعدتیس سال رہے گی ،کیونکہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔اورحق بات یہ کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کا شمار بھی خلفاء میں سے ہوگا[تاريخ ابن خلدون 2/ 650]

    علامہ محب الدين الخطيب رحمه الله (المتوفی1389 )نے بھی العواصم کی تعلیق میں اسے ضعیف قراردیا ہے۔ [حاشیہ (4 )العواصم من القواصم ط الأوقاف السعودية ص: 201]

    ہماری نظر میں اجمالی طور پر یہ حدیث صحیح ہے یعنی خلافت کچھ عرصہ تک رہے گی اس کے بعد ملوکیت آجائے گی پھر اس کے بعد کیا ہوگا اس بارے میں یہ حدیث خاموش ہے ۔اتنی بات اجمال کے ساتھ صحیح ہے ۔
    لیکن اس حدیث کی دو باتیں صحیح نہیں ہیں:

    الف:
    اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرحلہ خلافت کی تعین جو تیس سال کی مدت سے کی گئی ہے یہ صحیح نہیں ۔
    ب:
    اس حدیث کے بعض طرق کے اخیر میں بنوامیہ کی مذمت وارد ہے یہ بھی صحیح نہیں ہے۔



    دوسری بات کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی ضعیف قراردیا ہے ۔دیکھئے: ۔سلسلة الأحاديث الصحيحة (1/ 821)۔
    علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس تضعیف کی وجہ یہ بتلائی ہے کہ حشرج اس کی روایت میں منفرد ہے اور وہ صدوق کے ساتھ متکلم فیہ ہے اس لئے اس کا تفرد دیگر رواۃ کے خلاف ہونے کے سبب قبو ل نہیں ہے ۔
    لیکن بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ اس اضافہ پر حشرج منفرد نہیں ہے بلکہ معنوی طور پر یہ اضافہ بیان کرنے میں ھشیم (السنة لعبد الله بن أحمد:2/ 591)،عبد الوارث بن سعيد (سنن أبي داود :4/ 211)،اور يحيى بن طلحة( شرح أصول اعتقاد أهل السنة :8/ 1469) نے بھی حشر ج کی متابعت کی ہے۔لیکن پھر بھی یہ اضافہ قبول نہیں ہے کیونکہ حشرج سے اوپر سعیدبن جمھان کا تفرد ہے اوراس کے بارے میں تفصیل آرہی ہے۔
    جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے کہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرحلہ خلافت کی تحدید آئی ہے تویہ بات بھی اس روایت میں ضعیف ہے ۔ اس کی درج ذیل دو وجوہات ہیں:
     
    Last edited: ‏نومبر 24, 2016
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  3. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    پہلی وجہ

    سعیدبن جمھان کی خاص سفینہ سے روایات پر محدثین نے خاص کلام کیا ہے ۔

    امام أبوداؤد رحمه الله (المتوفى275)نے کہا:
    هو ثقة إن شاء الله، وقوم يقعون فيه(وقوم يضعفونه )، إنما يخاف ممن فوقه وسمى رجلا.يعني سفينة
    وہ (سعیدبن جمھان) ان شاء اللہ ثقہ ہے اور بعض لوگ اسے ضعیف قراردیتے ہیں انہیں اس سے اوپر کے طریق میں یعنی سفینہ والے طریق میں خوف ہے[سؤالات أبي عبيد الآجري أبا داود، ت الأزهري: ص: 218، تهذيب الكمال للمزي: 10/ 377 ومابین القوسین عندہ]
    امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے سفینہ والے طریق میں سعیدبن جمھان کی تضعیف کی تردید نہیں کی ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ امام ابوداؤد رحمہ اللہ بھی ان محدثین سے متفق ہیں جو سفینہ کے طریق میں سعیدبن جمھان کو ضعیف مانتے ہیں ۔
    امام ابوداؤد رحمہ اللہ خود ایک ناقد امام ہیں اور وہ سعیدبن جمھان کی تضعیف کرنے والوں کی مراد یہ بتلارہے ہیں کہ وہ سفینہ کے طریق میں سعیدبن جمھان کی تضعیف کرتے ہیں اس سے معلوم ہوتا کہ امام ابوداؤد کی نظر میں جن ائمہ نے سعید بن جمھان کی تضعیف کی ہے انہوں نے سفینہ ہی کے طریق میں ان کی تضعیف کی ہے۔
    اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ سفینہ کے طریق سے سعیدبن جمھان کی روایات میں شدید نکارت پائی جاتی ہے جیساکہ اس کی چار مثالیں آگے آرہی ہیں۔

    امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365)نے کہا:
    وقد روي عنه عن سفينة أحاديث لا يرويها غيره وأرجو أنه لا بأس به فإن حديثه أقل من ذاك
    سفینہ کے طریق سے سعیدبن جمھان کی کئی ایسی احادیث مروی ہیں جنہیں سفینہ سے ان کے علاوہ کوئی اور روایت نہیں کرتا لیکن مجھے امید ہے کہ سعیدبن جمھان کے اندر کوئی حرج کی بات نہیں کیونکہ اس کی حدیث بہت کم ہے [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 4/ 458]

    تنبیہ بلیغ:
    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
    وقال ابن معين روى عن سفينة أحاديث لا يرويها غيره وأرجو أنه لا بأس به
    ابن معین نے کہا: سفینہ کے طریق سے سعیدبن جمھان کی کئی ایسی احادیث مروی ہیں جنہیں سفینہ سے ان کے علاوہ کوئی اور روایت نہیں کرتا لیکن مجھے امید ہے کہ سعیدبن جمھان کے اندر کوئی حرج کی بات نہیں[تهذيب التهذيب لابن حجر، ت الهند: 4/ 14]
    لیکن تہذیب الکمال میں یہ قول صرف امام ابن عدی ہی کے حوالے سے منقول ہے اورحافظ ابن حجررحمہ اللہ نے اسے تہذیب میں ابن معین کے حوالے سے درج کردیاہے اور ابن عدی کے حوالےسےایسا کوئی قول ذکر نہیں کیا ہے۔ اس سے پتہ چلتاہے کہ تہذیب التہذیب میں ابن حجر رحمہ اللہ سے وہم ہوا ہے انہوں نے ابن عدی کے قول کو ابن معین کے نام سے ذکر کردیاہے۔
    میرے ناقص علم کے مطابق اس وہم پر آج تک کسی نے تنبیہ نہیں کی ہے بلکہ بہت سارے اہل علم تہذیب ہی پر اعتماد کرتے ہوئے ابن معین کے حوالے سے یہ قول پیش کرتے رہتے ہیں ۔لیکن صحیح بات یہی ہے کہ یہ ابن معین کا قول نہیں بلکہ ابن عدی ہی کا قول ہے۔

    بہرحال محدثین نے خاص سفینہ سے سعیدبن جمھان کی روایت پر کلام کیا ہے۔
    اس وجہ تضعیف کے جواب میں کوئی یہ کہہ سکتاہے کہ امام احمد رحمہ اللہ نے سفینہ سے ہی سعید بن جمھان کی روایت کو صحیح قراردیا ہے ۔
    تواس کا جواب یہ کہ امام احمد نے صرف سعیدسے بعض ثقہ رواۃ کے روایت کرنے کی بناپر اسے ثقہ تسلیم کیا ہے اور اس بنیاد پر ان کی اس روایت کو صحیح کہاہے۔چناں چہ :
    امام عبد الله بن أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى:290)نے کہا:
    قلت لأبي سعيد بن جمهان هذا هو رجل مجهول قال لا روى عنه غير واحد حماد بن سلمة وحماد بن زيد والعوام بن حوشب وحشرج بن نباته
    میں نے اپنے والد سے کہا: سعیدبن جمھان یہ مجہول شخص ہے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں ۔اس سے کئی ایک نے مثلا حماد بن سلمہ ، حمادبن زید ، والعوام بن حوشب اورحشرج بن نباتہ نے روایت کیا ہے۔[العلل ومعرفة الرجال لأحمد، ت وصي: 2/ 314]
    اس سے پتہ چلتاہے کہ امام احمد رحمہ اللہ نے محض ان سے ثقات کے روایت کرنے کے سبب انہیں ثقہ کہہ دیا ہے۔
    لیکن دیگر محدثین نے سعید عن سفینہ کے طریق ہی پر کلام کیا ہے لہٰذا ان کی بات راجح ہے ۔اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ سفینہ سے سعید بن جمھان کی کئی روایات منکر ثابت ہوتی ہیں مثلا:

    پہلی مثال:
    امام أحمد بن يحيى، البلاذري (المتوفى 279)نے کہا:
    حدثنا خلف حدثنا عبد الوارث بن سعيد عن سعيد بن جمهان عن سفينة مولى أم سلمة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان جالسا فمر أبو سفيان على بعير ومعه معاوية وأخ له ، أحدهما يقود البعير والآخر يسوقه، فقال رسول الله صلى عليه وسلم: لعن الله الحامل والمحمول والقائد والسائق
    سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک اونٹ پر ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا گذرہوا ان کے ساتھ معاویہ رضی اللہ عنہ اوران کے ایک بھائی تھے۔ان میں سے ایک اونٹ کوچلارہاتھا اور دوسرا ہانک رہا تھا۔تواللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسم نے فرمایا: اللہ کی لعنت ہوسواری اور سوار پر نیز چلانے والے اور ہانکنے والے پر [أنساب الأشراف للبلاذري، ط، دار الفكر: 5/ 136 رجالہ ثقات ومتنہ منکر و اخرجہ البزار فی مسندہ (9/ 286) من طریق سعیدبن جمھان بہ نحوہ ، وقال الھیثمی فی مجمع الزوائد ومنبع الفوائد (1/ 113) : رواه البزار، ورجاله ثقات ]

    یہ روایت بھی سعید بن جمھان کی بیان کردہ ہے اور سعید تک اس کی سند صحیح ہے۔
    لیکن اس میں بنوامیہ میں سے تین صحابہ پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خصوصی لعنت کاذکر ہے۔یہ با ت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر احادیث کے سراسر خلاف ہے ۔اس لئے سعیدبن جمھان کی سفینہ رضی اللہ عنہ سے بیان کردہ یہ روایت منکر بلکہ باطل ہے۔
    دراصل اسی مضمون کی بات بعض کمی وبیشی کے ساتھ باطل ومردود سندوں سے آئی ہے (دیکھئے ہماری کتاب: امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ)۔اور سعید بن جمھان تک بھی یہ بات انہیں غیر معترذرائع سے پہونچی ہوگی لیکن سعید بن جمھان کے حافظہ نے کوتاہی کی اور انہوں نے اس مضمون کی روایت کو سفینہ رضی اللہ عنہ کے طریق سے بیان کردیا ۔

    دوسری مثال:
    امام بزار رحمه الله (المتوفى292)نے کہا:
    حدثنا رزق الله بن موسى ، قال : حدثنا مؤمل ، قال : حدثنا حماد بن سلمة ، عن سعيد بن جمهان ، عن سفينة ، رضي الله عنه ، أن رجلا قال : يا رسول الله ، رأيت كأن ميزانا دلي من السماء فوزنت بأبي بكر فرجحت بأبي بكر ، ثم وزن أبو بكر بعمر فرجح أبو بكر بعمر ، ثم وزن عمر بعثمان فرجح عمر بعثمان ، ثم رفع الميزان ، فاستهلها رسول الله صلى الله عليه وسلم خلافة نبوة ثم يؤتي الله الملك من يشاء.
    سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے (خواب)دیکھا کہ گویا آسمان سے ایک ترازو اتری ہے تو آپ کا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بھاری ہو گئے۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ بھاری ہو گئے۔ اور عمر رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو عمر رضی اللہ عنہ بھاری ہو گئی، پھر ترازو اٹھا لی گئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خواب کی تاویل یہ کی کہ یہ خلافت نبوت کی طرف اشارہ ہے اس کے بعد اللہ جس کو چاہے گا ملوکیت دے دے گا۔[مسند البزار: 9/ 281]

    یہ روایت بھی سعید بن جمھان کی بیان کردہ ہے اور سعید تک اس کی سند صحیح ہے۔
    لیکن اس میں اول تو نبی صلی اللہ علیہ سے یہ نقل کیا گیا ہے کہ آپ نے اپنے بعد ابوبکر وعمر وعثمان رضی اللہ عنہ کے خلیفہ ہونے کی پیشین گوئی کی ہے،جبکہ صحیح بات یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحت کے ساتھ کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا ہے۔
    دوسرے یہ کہ اس روایت میں خلافت علی منہاج النبوۃ صرف ابوبکر ، عمر اورعثمان رضی اللہ عنہم کی خلافت کو کہا گیا ہے اوراس کے بعد ملوکیت کا دور بتلایا گیا ہے۔جبکہ امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ علی رضی اللہ عنہ بھی خلفاء راشدین میں شامل ہیں اوران کی خلافت بھی خلافت علی منہاج النبوۃ ہے۔
    دراصل یہ روایت بھی دیگر مردود ذرائع سے آئی ہے اور سعیدبن جمھان نے انہیں مردود ذرائع سے سن کر اسے سفینہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کردیا ۔

    تیسری مثال:
    امام نعيم بن حمادالمروزي (المتوفى228)نے کہا:
    ’’حدثنا ابن المبارك، أخبرنا حشرج بن نباتة، عن سعيد بن جمهان، عن سفينة مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لما بنى رسول الله صلى الله عليه وسلم مسجد المدينة جاء أبو بكر بحجر فوضعه، ثم جاء عمر بحجر فوضعه، ثم جاء عثمان بحجر فوضعه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «هؤلاء يلون الخلافة بعدي»‘‘
    ’’سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدنبوی کی تعمیر کی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے ایک پتھررکھا ،پھرعمرفاروق رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے ایک پتھررکھا ، پھر عثمان رضی اللہ عنہ آئے اورانہوں نے ایک پتھر رکھا،تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : یہ لوگ میرے بعد خلیفہ بنیں گے ‘‘[الفتن لنعيم بن حماد 1/ 107 رقم258]

    یہ روایت بھی سعید بن جمھان کی بیان کردہ ہے اور سعید تک اس کی سند صحیح ہے۔
    لیکن اس میں بیان کیا گیا ہےکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد ابوبکر وعمر اور عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کیا ہے۔اور یہ بات دیگر صحیح احادیث کے خلاف ہے۔
    کیونکہ صحیح احادیث یہ بتلاتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بھی خلیفہ نامزد نہیں کیا ہے۔
    امام بخاری رحمہ اللہ اس روایت پر نقد کرتے ہوئے اور اسے صحیح احادیث کے خلاف بتلاتے ہوئے فرماتے ہیں:
    لأن عمر بن الخطاب وعليا قالا لم يستخلف النبي صلى الله عليه وسلم
    کیونکہ عمربن الخطاب اور علی رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا ۔[الضعفاء للبخاري، ت ابن أبي العينين: ص: 54]
    امام بخاری کی ذکر کردہ حدیث عمر رضی اللہ عنہ کے لئے دیکھئے :[صحيح البخاري 9/ 81 رقم 7218]اورحدیث علی رضی اللہ عنہ کے لئے دیکھئے: [صحيح البخاري 6/ 12 رقم 4447]

    امام بیہقی رحمہ اللہ نے علی رضی اللہ عنہ کی یہ روایت پیش کرکے کہا:
    وفى هذا وفيما قبله دلالة على أن النبى -صلى الله عليه وسلم- لم يستخلف أحدا بالنص عليه
    اس حدیث اور ماقبل کی حدیث میں دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بھی صراحت کے ساتھ خلیفہ نامزد نہیں کیا[السنن الكبرى للبيهقي، ط الهند: 8/ 149]

    امام نووی رحمہ اللہ نے ایک حدیث کی تشریح میں لکھا:
    فيه دلالة لأهل السنة أن خلافة أبي بكر ليست بنص من النبي صلى الله عليه وسلم على خلافته صريحا بل أجمعت الصحابة على عقد الخلافة له وتقديمه لفضيلته ولوكان هناك نص عليه أو على غيره لم تقع المنازعة من الأنصار وغيرهم أولا ولذكر حافظ النص ما معه ولرجعوا إليه لكن تنازعوا أولا ولم يكن هناك نص ثم اتفقوا على أبي بكر واستقر الأمر
    اس میں اہل سنت کی اس بات کی دلیل ہے کہ ابوبکررضی اللہ عنہ کی خلافت اس لئے نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی خلافت پر صریح نص موجود ہے بلکہ صحابہ کا انہیں خلیفہ بنانے پر اور فضیلت کی بنیاد پر انہیں فوقیت دینے پر اجماع ہوا ہے۔ اگر اس بات پر کوئی نص ہوتی تو انصار وغیرہم کی طرف سے شروع شروع میں کوئی اختلاف ہوتا ہی نہیں بلکہ نص یاد کرنے والا اس نص کا تذکرہ کردیتا اور سب اس کی طرف رجوع ہوجاتے ۔لیکن شروع شروع میں اختلاف ہوا کیونکہ اس معاملہ پر کوئی نص نہ تھی ، پھر سب نے ابوبکر رضی اللہ عنہ پر اتفاق کرلیا اوراسی پر فیصلہ ہوگیا[شرح النووي على مسلم 15/ 154]

    اس سے واضح ہوگیا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بھی صراحت کے ساتھ خلیفہ نامزد نہیں کیا اس لئے اس روایت میں خلیفہ نامزد کرنے کی جو بات ہے وہ غلط ہے۔

    دراصل یہ بات بھی دیگر مردود ذرایع سے منقول ہے بلکہ ایک کذاب نے بھی اس بات کو سفینہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی بیان کررکھا ہے انہیں ذرائع سے سن کو سعیدبن جمھان نے بھی اس بات کو سفینہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کردیا۔

    چوتھی مثال:
    امام أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى241)نے کہا:
    ’’حدثنا أبو النضر، حدثنا حشرج، حدثني سعيد بن جمهان عن سفينة مولى رسول الله، صلى الله عليه وسلم قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: " ألا إنه لم يكن نبي قبلي إلا حذر الدجال أمته، وهو أعور عينه اليسرى، بعينه اليمنى ظفرة غليظة، مكتوب بين عينيه كافر، يخرج معه واديان: أحدهما جنة، والآخر نار، فناره جنة وجنته نار، معه ملكان من الملائكة يشبهان نبيين من الأنبياء، لو شئت سميتهما بأسمائهما وأسماء آبائهما، واحد منهما عن يمينه والآخر عن شماله، وذلك فتنة، فيقول الدجال: ألست بربكم؟ ألست أحيي وأميت؟ فيقول له أحد الملكين: كذبت. ما يسمعه أحد من الناس إلا صاحبه، فيقول له: صدقت. فيسمعه الناس فيظنون إنما يصدق الدجال، وذلك فتنة، ثم يسير حتى يأتي المدينة فلا يؤذن له فيها، فيقول: هذه قرية ذلك الرجل، ثم يسير حتى يأتي الشام فيهلكه الله عند عقبة أفيق‘‘
    ’’سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور کہا: سنو ! مجھ سے قبل جو بھی نبی آئے سب نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ، اس کی بائیں آنکھ کانی ہوگی ، اوراس کی دائیں آنکھ پر موٹی پھلی ہوگی ، اس کی پیشانی پر کافرلکھا ہوگا۔اس کے ساتھ جنت اور جہنم کی دو وادیاں ہوں گی ، جنت کی وادی حقیقت میں جہنم ہوگی اور جہنم کی وادی حقیقت میں جنت ہوگی ، اس کے پاس دو فرشتے بھی ہوں گے جو دو نبیوں کے مشابہ ہوں گے ، اگرمیں چاہوں تو ان دونوں کے نام مع ولدیت بتلادوں ، ان میں سے ایک اس کے دائیں جانب ہوگا اور دوسرا اس کے بائیں جانب ہوگا اوریہ ایک آزمائش ہوگی۔پھردجال کہے گا : کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ کیا میں زندگی اور موت نہیں دیتا؟ تو دونوں فرشتوں میں سے ایک اس سے کہیں گے : تو جھوٹ بولتا ہے ، اس بات کو اس کے دوسرے ساتھی کے علاوہ لوگوں میں کوئی اور نہیں سن سکے گا۔تواس سے اس کا ساتھی (دوسرا فرشتہ ) کہے گا : تم نے سچ کہا۔تو لوگ اسے سنیں گے اور یہ سمجھیں گے کہ اس نے دجال کی بات کو سچ کہا اوریہ ایک آزمائش ہوگی۔ پھروہ چلے گا یہاں تک مدینہ آئے گا لیکن مدینہ کے اندر داخل ہونے کی اجازت اسے نہیں ملے گی ۔تو وہ کہے گا یہ اسی آدمی کا شہرہے۔پھروہ وہاں سے چل کر شام پہنچے گا تواللہ اسے عقبہ افیق کے پاس ہلاک کردے گا۔[مسند أحمد ط الرسالة 36/ 258]

    یہ روایت بھی سعید بن جمھان کی بیان کردہ ہے اور سعید تک اس کی سند صحیح ہے۔
    لیکن اس میں اس میں ایسی عجیب وغریب باتوں کا ذکر ہے جو اس مضمون کی دیگر صحیح احادیث میں نہیں ملتی مثلا اس میں دجال کے ساتھ دو نبی جیسے فرشتوں کا ذکر ہے اوران کے عجیب وغریب کردار ذکر ہے۔اسی طرح عقبة أفيق کے پاس دجال کے ہلاک ہونے کی بات دیگر صحیح احادیث کے خلاف ہے۔
    دراصل یہ باتیں بھی سعید بن جمھان تک غیرمعتبرذرائع سے پہنچی ہیں اور اس نے ان باتوں کو اس حدیث میں بھی شامل کردیا۔

    فائدہ:
    مسند احمد کے محققین سعید بن جمھان کی اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں:
    ضعيف بهذه السياقة، تفرد به حشرج بن نباتة، عن سعيد بن جمهان، وقد أشار بعض أهل العلم إلى أنه يقع لهما في أحاديثهما غرائب ومناكير، وقد وقع لهما شيء من هذا في هذا الحديث كما سنبينه
    ’’اس سیاق کے ساتھ یہ حدیث ضعیف ہے، اسے سعیدبن جمھان سے بیان کرنے میں حشرج بن نباتہ منفرد ہے اوربعض اہل علم نے اشارہ کیا ہے کہ ان دونوں کی احادیث میں غریب اورمنکر باتیں ہوتی ہیں اور ان کی اس حدیث میں بھی ان دونوں کی طرف سے کچھ اسی طرح کی باتیں بیان ہوئی ہیں جیساکہ ہم آگے وضاحت کریں گے‘‘[حاشیہ نمبر (1) مسند أحمد ط الرسالة 36/ 258]

    عرض ہے کہ سعیدبن جمھا ن یہاں بھی سفینہ سے روایت کررہاہے اس لئے یہ ساری مصیبتیں صرف اسی کی طرف سے حشرج بن نباتہ کا اس میں کوئی حصہ نہیں ۔

    ان مثالوں سے یہ بات متحقق ہوجاتی ہے کہ خاص سفینہ سے سعیدبن جمھان کی منفرد روایات میں منکر باتیں ہوتی ہیں اس لئے اس طریق سے مروی اس کی روایات کی جن باتوں میں وہ منفرد ہوگا وہ باتیں ضعیف شمار ہوں گی اور زیربحث حدیث بھی اسی طریق سے ہے اور اس میں وہ عہدنبوت کے بعد دور خلافت کی مدت بتلانے میں منفرد ہےاسی طرح سفینہ رضی اللہ عنہ سے بنوامیہ کی مذمت نقل کرنے میں بھی منفرد ہے۔ اس لئے اس کی یہ باتیں منکر وضعیف و مردود ہیں۔
     
    Last edited: ‏نومبر 24, 2016
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  4. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    دوسری وجہ

    اگریہ فرض کرلیا جائے کہ سعید بن جمھان کی سفینہ سے روایات بھی ضعیف نہیں ہیں تو بھی اس کی خاص اس روایت کی مذکورہ دونوں باتوں کو ضعیف مانا جائے گا کیونکہ وہ ان باتوں کی روایت میں منفرد ہے اوروہ علی الاطلاق ثقہ نہیں بلکہ اس پر جرح بھی ہوئی ہے اس کی توثیق درج ذیل محدثین نے کی ہے:

    امام أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى241)نے کہا:
    ثقة
    یہ ثقہ ہیں[علل أحمد رواية المروذي وغيره: ص: 107]

    امام احمد رحمہ اللہ نے یہ توثیق راوی کی مرویات کا استقراء کرکے نہیں کی ہے بلکہ صرف ان سے بعض ثقہ رواۃ کی روایت کی بناپر کی ہے کمامضی۔
    امام يعقوب بن سفيان الفسوي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
    ثقة
    یہ ثقہ ہیں[المعرفة والتاريخ 2/ 128]

    امام ابن حبان(المتوفى354) اور امام إبن خلْفُون رحمہمااللہ نے انہیں ثقات میں ذکر کیا ہے۔[الثقات لابن حبان ط العثمانية: 4/ 278,إكمال تهذيب الكمال لمغلطاي 5/ 271]

    اس توثیق کے ساتھ دیگر محدثین نے ان پر جرح کی ہے یا ہلکی توثیق کی ہے ۔

    امام يحيى بن سعيد القطان رحمه الله (المتوفى 198)سے منقول ہے:
    لم يرضه
    آپ اس سے راضی نہیں ہوئے [علل أحمد رواية المروذي وغيره: ص: 108 واسنادہ صحیح]

    امام ابن معين رحمه الله (المتوفى233)نے کہا:
    ثقة
    یہ ثقہ ہیں[تاريخ ابن معين، رواية الدوري: 4/ 114]

    لیکن ابن البادی کی روایت میں کہا:
    ليس به بأس
    ان میں کوئی حرج نہیں ہے[سؤالات البادي عن ابن معين: ص: 47]

    ابن معین رحمہ اللہ کے یہاں لیس بہ باس توثیق کے معنی میں ہے لیکن دونوں میں فرق بہرحال ہے۔

    امام بخاري رحمه الله (المتوفى256)نے کہا:
    في حديثه عجائب
    اس کی حدیث میں عجوبے ہیں [تاريخ البخاري الصغير بحوانہ ,إكمال تهذيب الكمال لمغلطاي 5/ 271 وانظر:تهذيب التهذيب 4/ 13]

    امام أبوداؤد رحمه الله (المتوفى275) نے کہا:
    سألت أبا داود، عن سعيد بن جمهان؟ فقال: هو ثقة إن شاء الله، وقوم يقعون فيه، إنما يخاف ممن فوقه وسمى رجلا.يعني سفينة
    وہ (سعیدبن جمھان) ان شاء اللہ ثقہ ہے اور بعض لوگ اسے ضعیف قراردیتے ہیں انہیں اس سے اوپر کے طریق میں یعنی سفینہ والے طریق میں خوف ہے[سؤالات أبي عبيد الآجري أبا داود، ت الأزهري: ص: 218]

    امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
    شيخ يكتب حديثه، ولا يحتج به
    یہ شیخ ہے،اس کی حدیث لکھی جائے گی لیکن اس سے احتجاج نہیں کیا جائے گا[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، ت المعلمي: 4/ 10]

    نوٹ : لایحتج بہ کی جرح میں امام ابوحاتم منفرد نہیں ہیں بلکہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا ہے کماسیاتی ۔

    امام زكريا بن يحيى الساجى رحمه الله (المتوفى307)نے کہا:
    لا يتابع على حديثه
    اس کی حدیث پر متابعت نہیں کی جاتی[تهذيب التهذيب لابن حجر، ط الهند: 4/ 14]

    امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365)نے کہا:
    أرجو أنه لا بأس به
    مجھے امید ہے کہ سعیدبن جمھان کے اندر کوئی حرج کی بات نہیں [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 4/ 458]

    امام ابن حزم رحمه الله (المتوفى456) نے کہا:
    فسعيد بن جمهان غير مشهور بالعدالة بل مذكور انه لا يقوم حديثه
    سعیدبن جمھان عدالت میں غیرمشہورہے بلکہ اس کے بارے میں یہ مذکورہے کہ وہ اپنی حدیث ٹھیک طرح سے نہیں بیان کرپاتا[المحلى لابن حزم: 9/ 185]

    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
    صالح الحديث، لا يحتج به
    یہ صالح الحدیث ہے ، اس سے احتجاج نہیں کیا جائے گا[ديوان الضعفاء ص: 156]

    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
    صدوق له أفراد
    یہ صدوق ہے اس کے پاس کچھ منفرد روایات ہیں [تقريب التهذيب لابن حجر: رقم2279]

    ان اقوال جرح کے پیش نظر یہ راوی راجح قول میں علی الاطلاق ثقہ کے درجہ پر نہیں ہے بلکہ یہ صدوق وحسن الحدیث کے درجے پر ہے جیساکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تمام اقوال کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہاہے اورامام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی کہا:
    صدوق وسط
    یہ اوسط درجے کا صدوق کا راوی ہے۔[الكاشف للذهبي ت عوامة: 1/ 433]

    اورجو راوی اس درجہ کا ہو اس کی ہر منفرد روایت قبول نہیں ہوتی ہے بلکہ ایسے راوی کی جس روایت کے بارے میں قرائن رد پر دلالت کریں اس کی وہ روایت رد کردی جائے گی ۔

    صدوق متکلم فیہ راوی کا تفرد

    اس طرح کا راوی اگر کسی حدیث کو بیان کرنے میں منفرد ہو اور قبولیت کے اضافی قرائن موجود نہ ہوں بلکہ اس کے برعکس رد کے قرائن موجود ہیں ، تو ایسی صورت ایسے راوی کی بیان کردہ منفرد روایت مردود ہوتی ہے ، اس بارے میں چندائمہ فن کے اقوال ملاحظہ ہوں:

    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
    وإن تفرد الثقة المتقن يعد صحيحا غريبا. وإن تفرد الصدوق ومن دونه يعد منكراً. وإن إكثار الراوي من الأحاديث التي لا يوافق عليها لفظا أو إسنادا يصيره متروك الحديث
    اگر ثقہ و مضبوط حافظہ والا راوی کسی روایت میں منفرد ہو تو اس کی روایت صحیح غریب ہوگی ، اور اگر صدوق یا اس سے کمتر راوی کسی روایت میں منفرد ہو تو اس کی روایت منکر شمار ہوگی اور جب کوئی راوی بکثرت ایسی روایات بیان کرنے لگے جس کی لفطی یا معنوی متابعت نہ ملے تو ایسا راوی متروک قرار پائے گا [ميزان الاعتدال للذهبي: 3/ 141]

    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
    واحتج من قبل الزيادة من الثقة مطلقا بأن الراوي إذا كان ثقة وانفرد بالحديث من أصله كان مقبولا، فكذلك انفراده بالزيادة وهو احتجاج مردود، لأنه ليس كل حديث تفرد به أي ثقة كان يكون مقبولا
    جولوگ ثقہ کی زیادتی مطلق قبول کرتے ہیں وہ ایک دلیل یہ بھی دیتے ہیں کہ ''جب ثقہ کوئی منفرد روایت بیان کرتے تو وہ مقبول ہوتی ہے تو اسی طرح جب ثقہ کسی زیادتی کو بیان کرنے میں منفر د ہو تو وہ بھی مقبول ہونی چاہئے''۔ (حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ ) لیکن یہ دلیل مردود ہے کیونکہ ہر ایسی حدیث مقبول نہیں ہوتی جسے بیان کرنے میں ثقہ منفرد ہو[النكت على ابن الصلاح لابن حجر: 2/ 690]۔

    امام ابن رجب رحمه الله (المتوفى795) اکثر متقدمین محدثین کے موقف کی ترجمانی کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    وأما أكثر الحفاظ المتقدمين فإنهم يقولون في الحديث - إذا تفرد به واحد - وإن لم يرو الثقات خلافه -: ((إنه لا يتابع عليه، ويجعلون ذلك علة فيه، اللهم إلا أن يكون ممن كثر حفظه واشتهرت عدالته وحديثه كالزهري ونحوه، وربما يستنكرون بعض تفردات الثقات الكبار أيضاً، ولهم في كل حديث نقد خاص، وليس عندهم لذلك ضابط يضبطه
    متقدمین حفاظ حدیث و ائمہ کی اکثریت کا موقف یہ ہے کہ جب کوئی راوی ایک حدیث کو بیان کرنے میں منفردہوتاہے گرچہ وہ روایت ثقہ کی روایت کے خلاف نہ ہو تو ایسی حدیث کے بارے میں متقدمین حفاظ ''لایتابع علیہ '' (اس کی تائیدنہیں ملتی) کہتے ہیں، اوراس چیزکو متعلقہ حدیث میں علت شمار کرتے ہیں ، الایہ کہ اس طرح کا تفرد ایسے رواۃ سے ہو جن بہت بڑے حافظ ہوں ، جن کی عدالت و احادیث بہت زیادہ مشہور ہوں مثلا امام زہری وغیرہ ۔ اور بسااوقات متقدمین حفاظ حدیث وائمہ بڑے بڑے ثقہ راوۃ کے تفردات کو بھی منکر قرار دیتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کے پاس کوئی خاص قاعدہ نہیں ہے جس کی وہ پابندی کرتے ہوں بلکہ ہر حدیث سے متعلق ان خاص نقد ہوتا ہے[شرح علل الترمذي لابن رجب ص: 216]۔

    علامہ البانی رحمہ اللہ نے ایک مجلس میں فرمایا:
    ومن هنا لا يجوز هدم أو إهدام حديث الصدوق مطلقا، لكن لا بد من الدقة في الاعتماد أو الثقة بحديث هذا النوع من الصدوق أو عدم الاعتماد عليه. فقال أبو عبد الله: دقة النظر؟فقال الشيخ: هو في متن الحديث أو رواة آخرين أو يدخل في الحديث الشاذ، والحديث المنكر، كل هذا يدخل في هذا المجال.فقال أبو الحسن: إلى القرائن؟ فأجاب الشيخ: نعم.
    اس بنیادپر صدوق کی حدیث کو علی الاطلاق رد کرنا درست نہیں لیکن اس طرح کے صدوق کی حدیث پر اعتماد اورعدم اعتماد کے وقت دقت نظر سے کام لینا بھی ضروری ہے۔ ابوعبداللہ (علامہ البانی کے شاگرد) نے پوچھا: دقت نظر سے آپ کی کیامرادہے ؟ علامہ البانی رحمہ اللہ نے جواب دیا : متن حدیث کو دیکھاجائے یا دیگر رواۃ کو دیکھاجائے ، یا اسے شاذ و منکر حدیث کی قبیل سے سمجھا جائے یہ تمام باتیں دقت نظر میں شامل ہیں۔ابوالحسن (علامہ البانی رحمہ اللہ کے شاگرد) نے پوچھا : یعنی اس معاملہ میں قرائن کو دیکھاجائے گا ؟ علامہ البانی رحمہ اللہ نے جواب دیا: جی ہاں[سؤالات ابن أبي العينين للشيخ الألباني ص: 88]۔

    واضح رہے کہ اصول بیانی اور اصول کی تطبیق میں ایک ہی عالم سے اختلاف ہوسکتا ہے ، یعنی یہ ممکن ہے کہ ایک عالم ایک اصول کو صحیح مانتے ہوئے بھی اس کی تطبیق میں اجتہادی غلطی کا شکار ہوجائے ، یعنی اصول کو ایسی جگہ منطبق کردے جہاں یہ اصول منطبق نہیں ہوتا ، یاجہاں یہ اصول منطبق ہوتا ہے وہاں اس کی تطبیق نہ کرسکے۔
    اہل فن کے اقوال بالخصوص امام ابن رجب رحمہ اللہ کی تصریح سے معلوم ہوا کہ صدوق راوی کی منفرد روایت نہ تو علی الاطلاق قبول کی جائے گی اورنہ ہی علی الاطلاق رد کی جائے گی بلکہ قرائن کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا کہ کہاں اس کی روایت مقبول ہوگی اورکہاں مردود ۔

    مزید تفصیل کے لئے دیکھیں۔
    افراد الثقات بین القبول والرد ۔ متعب بن خلف السلمی۔
    التفرد في رواية الحديث ومنهج المحدثين في قبوله أو رده ۔ عبدالجواد حمام۔

    الغرض یہ راوی صدوق کے درجہ پر ہے اور متکلم فیہ ہے ایسے راوی کے بعض تفردات قرائن کی روشنی میں مردود ہوتے ہیں یہی حال اس راوی کا اس روایت میں ہے کیونکہ اس میں اس راوی کی طرف سے بیان کردہ مذکورہ باتوں کے خلاف قرائن موجود ہیں تفصیل ملاحظہ ہو:
     
    Last edited: ‏نومبر 21, 2016
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  5. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    پہلا قرینہ

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت اورپھر اس کے بعد ملوکیت سے متعلق کئی صحیح روایات وارد ہوئی ہیں لیکن زیربحث روایت کے علاوہ کسی بھی صحیح روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرحلہ خلافت کی تحدید وارد نہیں ہے ۔ تفصیل ملاحظہ ہو:

    حدیث عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ
    امام مسلم رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
    حدثنا شيبان بن فروخ، حدثنا سليمان بن المغيرة، حدثنا حميد بن هلال، عن خالد بن عمير العدوي، قال: خطبنا عتبة بن غزوان، فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال: أما بعد، «فإن الدنيا قد آذنت بصرم وولت حذاء، ولم يبق منها إلا صبابة كصبابة الإناء، يتصابها صاحبها، وإنكم منتقلون منها إلى دار لا زوال لها، فانتقلوا بخير ما بحضرتكم، فإنه قد ذكر لنا أن الحجر يلقى من شفة جهنم، فيهوي فيها سبعين عاما، لا يدرك لها قعرا، ووالله لتملأن، أفعجبتم؟ ولقد ذكر لنا أن ما بين مصراعين من مصاريع الجنة مسيرة أربعين سنة، وليأتين عليها يوم وهو كظيظ من الزحام، ولقد رأيتني سابع سبعة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، ما لنا طعام إلا ورق الشجر، حتى قرحت أشداقنا، فالتقطت بردة فشققتها بيني وبين سعد بن مالك، فاتزرت بنصفها واتزر سعد بنصفها، فما أصبح اليوم منا أحد إلا أصبح أميرا على مصر من الأمصار، وإني أعوذ بالله أن أكون في نفسي عظيما، وعند الله صغيرا، وإنها لم تكن نبوة قط إلا تناسخت، حتى يكون آخر عاقبتها ملكا، فستخبرون وتجربون الأمراء بعدنا»
    سیدنا خالد بن عمیر عدوی کہتے ہیں کہ (امیر بصرہ) عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد کہا کہ بعد حمد و صلوٰۃ کے معلوم ہو کہ دنیا نے ختم ہونے کی خبر دی؟ اور دنیا میں سے کچھ باقی نہ رہا مگر جیسے برتن میں کچھ بچا ہوا پانی رہ جاتا ہے جس کو اس کا صاحب پیتا ہے۔ اور تم دنیا سے ایسے گھر کو جانے والے ہو جس کو زوال نہیں، پس اپنی زندگی میں نیک عمل کر کے جاؤ، اس لئے کہ ہم سے بیان کیا گیا کہ پتھر جہنم کے اوپر کے کنارے سے ڈالا جائے گا اور ستر برس تک اس میں اترتا جائے گا اور اس کی تہہ کو نہ پہنچے گا۔ اللہ کی قسم! جہنم بھری جائے گی۔ کیا تم تعجب کرتے ہو؟ اور ہم سے بیان کیا گیا کہ جنت کے دروازے کی ایک طرف سے لے کر دوسری طرف کنارے تک چالیس برس کی راہ ہے اور ایک دن ایسا آئے گا کہ دروازہ لوگوں کے ہجوم سے بھرا ہوا ہو گا اور میں اپنے آپ کو دیکھ رہا ہوں کہ میں سات شخصوں میں سے ساتواں شخص تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہمارا کھانا درخت کے پتوں کے سوا کچھ نہ تھا یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہو گئیں (بوجہ پتوں کی حرارت اور سختی کے)۔ میں نے ایک چادر پائی اور اس کو پھاڑ کر دو ٹکڑے کئے، ایک ٹکڑے کا میں نے تہبند بنایا اور دوسرے ٹکڑے کا سعد بن مالک نے۔ اب آج کے روز کوئی ہم میں سے ایسا نہیں ہے کہ کسی شہر کا حاکم نہ ہو اور میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو بڑا سمجھوں، لیکن اللہ کے نزدیک چھوٹا ہوں اور بیشک کسی پیغمبر کی نبوت (دنیا میں) ہمیشہ نہیں رہی بلکہ نبوت کا اثر (تھوڑی مدت میں) جاتا رہا؟ یہاں تک کہ اس کا آخری انجام یہ ہوا کہ وہ ملوکیت ہو گئی۔ پس عنقریب تم ہمارے بعد آنے والے امراء کو دیکھو گے اور تجربہ کرو گے ان امیروں کا جو ہمارے بعد آئیں گے (کہ ان میں دین کی باتیں جو نبوت کا اثر ہے، نہ رہیں گی اور وہ بالکل دنیادار ہو جائیں گے)۔[صحيح مسلم 6/ 2278]

    اس حدیث میں بھی نبوت کے بعدخلافت کی طرف اشارہ ہے اس کے بعد ملوکیت کی پیشین گوئی ہے۔لیکن صحیح مسلم کی اس حدیث میں دورنبوت کے بعد دورخلافت کی مدت نہیں بتلائی گئی ہے۔

    حدیث عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ:
    امام طبراني رحمه الله (المتوفى360)نے کہا:
    حدثنا أحمد بن النضر العسكري، ثنا سعيد بن حفص النفيلي، ثنا موسى بن أعين، عن ابن شهاب (والصواب ابی شھاب)، عن فطر بن خليفة، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أول هذا الأمر نبوة ورحمة، ثم يكون خلافة ورحمة، ثم يكون ملكا ورحمة، ثم يكون إمارة ورحمة، ثم يتكادمون عليه تكادم الحمر فعليكم بالجهاد، وإن أفضل جهادكم الرباط، وإن أفضل رباطكم عسقلان»
    ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس معاملہ کا پہلا دور نبوت اور رحمت کا ہوگا ۔ پھر خلافت اور رحمت کا دور ہوگا ۔پھرملوکیت اور رحمت کا دور ہوگا ۔پھر امارت اور رحمت کا دور ہوگا ۔پھر لوگ اس معاملہ میں ایک دوسرے پر گدہوں کی طرح ٹوٹ پڑیں گے ۔اورتمہارا بہترین جہاد دشمن کے مقابلہ کے لئے تیار رہنا ہےاورایسی بہترین تیاری کی جگہ عسقلان ہے۔[المعجم الكبير للطبراني 11/ 88 واسنادہ صحیح وانظر : الصحیحہ برقم 3270]

    حدیث حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ:
    امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
    حدثنا زيد بن الحباب ، حدثنا العلاء بن المنهال الغنوي ، حدثنا مهند القيسي ، وكان ثقة ، حدثني قيس بن مسلم ، عن طارق بن شهاب ، عن حذيفة رضي الله عنه ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إنكم في نبوة ورحمة ، وستكون خلافة ورحمة ، ويكون كذا وكذا ، ويكون ملكا عضوضا ، يشربون الخمر ، ويلبسون الحرير ، ومع ذلك ينصرون إلى قيام الساعة
    حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نبوت او ر رحمت کے دور میں ہو، اس کے بعد خلافت اور رحمت کا دور ہوگا، اس کے بعد ایسا دور اورایسا دور ہوگا ۔اس کے بعد کاٹنے والی ملوکیت کا دور ہوگا ، اس وقت لوگ شراب پئیں گے ، ریشم پہنیں گے ، اس کے باوجود بھی قیامت تک مدد کئے جاتے رہیں گے[مسند ابن ابی شیبہ بحوالہ المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية 4/ 372 واسنادہ صحیح وصححہ البوصیری فی إتحاف الخيرة المهرة : 8/ 93 واخرجہ من طریق ابن ابی شیبہ الطبرانی فی المعجم الأوسط 6/ 345 و اخرجہ ابن الأعرابي في المعجم 2/ 803 ، والمستغفري في دلائل النبوة 1/ 370 من طریق زید بہ]

    حديث عبد الرحمن بن سهل رضی اللہ عنہ
    أبو سعيد إبراهيم بن طهمان الهروي (المتوفى 168)نے کہا:
    عن عباد بن إسحاق، عن عبد الملك بن عبد الله بن أسيد، عن أبي ليلى الحارثي، عن سهل بن أبي حثمة، عن عبد الرحمن بن سهل، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما كانت نبوة قط إلا تبعتها خلافة , ولا كانت خلافة قط إلا تبعها ملك , ولا كانت صدقة إلا صارت مكسا»
    عبدالرحمن بن سھل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بھی نبوت آئی، اس کے بعد خلافت کا دور آیا، اور جب بھی خلافت آئی اس کے بعد ملوکیت کا دور آیا اورجب بھی صدقہ آیا بعد میں وہ محصول بن گیا۔[مشيخة ابن طهمان ص: 94۔واسنادہ ضعیف ومن طريق ابن طھمان اخرجہ ابن قانع في معجم الصحابة 2/ 71، وابن عساكر في تاريخ دمشق 34/ 421 ]

    یہ روایت ضعیف ہے ۔ لیکن خلافت وملوکیت والے جملے کے صحیح شواہد موجود ہیں جو ماقبل میں گذرچکے ہیں ۔

    حدیث معاذ و ابو عبیدہ بن الجرح رضی اللہ عنہما
    امام ابن أبي عاصم (المتوفى 287)نے کہا:
    ثنا الفضيل بن حسين ثنا عبد الواحد بن زياد ثنا ليث بن أبي سليم عن عبد الرحمن بن سايط عن أبي ثعلبة عن معاذ بن جبل وأبي عبيدة قالا: سمعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:"إن هذا الأمر بدأ رحمة ونبوة ثم خلافة ورحمة"
    معاذبن جبل اورابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا: یہ معاملہ نبوت اور رحمت سے شروع ہوا ہے پھر اس کے بعد خلافت اور رحمت کا دور ہوگا۔[السنة لابن أبي عاصم 2/ 534 واسنادہ ضعیف ]

    اس کی سند بھی ضعیف ہے ۔لیکن اس کے صحیح شواہد ہیں کما مضی علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔ [ظلال الجنة للألباني رقم1130]

    حدیث عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ
    امام أبو نعيم رحمه الله (المتوفى430)نے کہا:
    حدثنا محمد بن علي بن حبيش، ثنا أبو بكر بن أبي داود السجستاني، ثنا أسيد بن عاصم، ثنا إسماعيل بن عمرو، ثنا سفيان الثوري، عن عمرو بن عبد الله، عن سعيد بن المسيب، قال: خطب عمر الناس فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في مثل مقامي هذا: «هذا الأمر بدأ نبوة ورحمة، وسيعود سلطانا ورحمة، ثم يكون ملكا ورحمة»
    عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مقام پر کہتے ہوئے سنا : یہ معاملہ نبوت اوررحمت سے شروع ہوا ہے اس کے بعد سلطنت (خلافت)اوررحمت کادورہوگا پھر اس کے بعدملوکیت اوررحمت کا دور ہوگا۔[تاريخ أصبهان = أخبار أصبهان 1/ 251]

    اس کی سند ضعیف ہے لیکن اس کے بھی صحیح شواہد موجود ہیں کمامضی ۔

    حدیث ماجدالصدفی رضی اللہ عنہ
    امام طبراني رحمه الله (المتوفى360)نے کہا:
    حدثنا أبو عامر النحوي، ثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، ثنا حسين بن علي الكندي، مولى جرير، عن الأوزاعي، عن قيس بن جابر الصدفي، عن أبيه، عن جده: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «سيكون من بعدي خلفاء، ومن بعد الخلفاء أمراء، ومن بعد الأمراء ملوك، ومن بعد الملوك جبابرة، ثم يخرج رجل من أهل بيتي يملأ الأرض عدلا كما ملئت جورا، ثم يؤمر القحطاني، فوالذي بعثني بالحق ما هو دونه»
    ماجد الصدفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد خلفاء ہوں گے ،اورخلفاء کے بعد امراء ہوں گے ، اور امراء کے بعد بادشاہ ہوں گے ، اور بادشاہوں کے بعد جابر حکمراں ہوں گے ، پھر میرے اہل بیت سے ایک شخص نکلے گا جو زمین کو انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم سے بھردی گئی تھی ، پھرقحطانی کو حکم ہوگا وہ نکلے گا اور قسم اس ذات کی جس نے مجھے مبعوث کیا وہ پہلے سے کم تر نہ ہوگا۔[المعجم الكبير للطبراني 22/ 374 واسنادہ ضعیف]

    یہ روایت بھی ضعیف ہے لیکن عہدنبوت کے بعد دورخلافت کے تذکرہ کے صحیح شواہد موجود ہیں کما مضی ۔

    حدیث کعب الاحبار رحمہ اللہ مرسلا
    امام نعيم بن حمادالمروزي (المتوفى228)نے کہا:
    حدثنا ضمرة، عن ابن شوذب، عن يحيى بن أبي عمرو السيباني، قال: سمعت كعبا، يقول: «أول هذه الأمة نبوة ورحمة، ثم خلافة ورحمة، ثم سلطان ورحمة، ثم ملك جبرية، فإذا كان ذلك فبطن الأرض يومئذ خير من ظهرها»
    کعب الاحبار رحمہ اللہ مرسلا روایت کرتے ہیں کہ اس امت میں نبوت اور رحمت کادور ہوگا ۔پھر خلافت اور رحمت کادور ہوگا ۔پھربادشاہت اور رحمت کا دور ہوگا ۔پھربادشاہت اور جبر کا دور ہوگا ۔اورجب یہ دورآجائے تو اس وقت زمیں کے اندر کی جگہ اس کے باہر کی جگہ سے بہترہوگی ۔[الفتن لنعيم بن حماد 1/ 99 ومن طریقہ اخرجہ ابونعیم فی الحلیۃ 6/ 25 رجالہ ثقات وھو مرسل لکنہ صحیح بالشواھد]

    اس کے رجال ثقہ ہیں مگریہ مرسل ہے۔لیکن شواہد کی روشنی میں یہ صحیح ہے۔

    غورکریں اتنی ساری احادیث میں دورنبوت کے بعد دورخلافت کا تذکرہ ہے لیکن کسی میں بھی دورخلافت کی تحدیدوارد نہیں ہے ۔یہ بات صرف سعیدبن جمھان ہی نقل کرتاہے اور وہ متکلم فیہ ہے اس لئے اس کا بیان ناقابل اعتبارہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  6. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    دوسراقرینہ

    زیربحث حدیث سے پتہ چلتاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد صرف چار یا پانچ خلیفہ بتلایاہے ۔جبکہ صحیحین کی روایت کے مطابق اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد صراحتا بارہ خلفاء کا تذکرہ کیا ہے۔

    امام مسلم رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
    حدثنا هداب بن خالد الأزدي، حدثنا حماد بن سلمة، عن سماك بن حرب، قال: سمعت جابر بن سمرة، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا يزال الإسلام عزيزا إلى اثني عشر خليفة»، ثم قال كلمة لم أفهمها، فقلت لأبي: ما قال؟ فقال: «كلهم من قريش»
    جابربن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام بارہ خلفاء تک غالب وبلند رہے گا۔پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات کہی جو میں سمجھ نہیں سکا ، میں نے اپنے والدسے پوچھا : آپ نے کیا فرمایا: تو انہوں نے کہا: سب کے سب(بارہ خلفاء) قریش سے ہوں گے[صحيح مسلم 3/ 1453 رقم 1821 واللفظ لہ ، صحيح البخاري 9/ 81 رقم 7222]

    جو اہل علم تیس سال خلاف والی حدیث سفینہ کو صحیح مانتے ہیں وہ یوں تطبیق دیتے ہیں کہ تیس سال والی خلافت سے خلافت علی منہاج النبوۃ مراد ہے اور بارہ خلفاء والی حدیث میں مطلق خلافت کا ذکر ہے۔لیکن چونکہ تیس سال خلافت والی حدیث کئی بناپر ضعیف ہے اس لئے یہاں تطبیق دینا درست نہیں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  7. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    تیسراقرینہ

    زیربحث حدیث سے پتہ چلتاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد صرف چار یا پانچ خلیفہ بتلایاہے ۔جبکہ صحیح بخاری کی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کثیر تعداد میں خلفاء کا تذکرہ کیا ہے۔

    امام بخاري رحمه الله (المتوفى256)نے کہا:
    حدثني محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن فرات القزاز، قال: سمعت أبا حازم، قال: قاعدت أبا هريرة خمس سنين، فسمعته يحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «كانت بنو إسرائيل تسوسهم الأنبياء، كلما هلك نبي خلفه نبي، وإنه لا نبي بعدي، وسيكون خلفاء فيكثرون» قالوا: فما تأمرنا؟ قال: «فوا ببيعة الأول فالأول، أعطوهم حقهم، فإن الله سائلهم عما استرعاهم»
    ابوحازم نے بیان کیا کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں پانچ سال تک بیٹھا ہوں۔ میں نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کرتے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بنی اسرائیل کے انبیاء ان کی سیاسی رہنمائی بھی کیا کرتے تھے، جب بھی ان کا کوئی نبی ہلاک ہو جاتا تو دوسرے ان کی جگہ آ موجود ہوتے، لیکن یاد رکھو میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ہاں میرے خلیفہ ہوں گے اور بکثرت خلیفہ ہوں گے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ان کے متعلق آپ کا ہمیں کیا حکم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے پہلے جس سے بیعت کر لو، بس اسی کی وفاداری پر قائم رہو اور ان کا جو حق ہے اس کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے قیامت کے دن ان کی رعایا کے بارے میں سوال کرے گا۔“[صحيح البخاري 4/ 169 رقم 3455]

    اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد بہت سارے خلفاء کا تذکرہ کیا ہے اور ظاہرہے کہ صرف چار یا پانچ خلفاء کی تعداد پر کثرت کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  8. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    چوتھا قرینہ

    امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں کوئی ایک بات بھی ایسی نوٹ نہیں کی گئی جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ ان کے دور میں ملوکیت شروع ہوگئ ہے۔
    بلکہ شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد جو فتنہ شروع ہوا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بننے تک اس فتنہ کی آگ نہ بجھی ۔ لیکن امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بننے کے بعد پوری امت ان کی خلافت پر متفق ہوگئی اور اس کے بعد ان کی وفات تک عالم اسلام میں کسی فتنہ نے سر نہیں اٹھایا۔
    ایسے بابرکت دور کے خلاف صرف تنہا سعیدبن جمھان متکلم فیہ کی ایسی روایت قابل قبول نہیں ہوسکتی جس میں اس پورے دور کو خلافت سے کاٹ کر ملوکیت سے تعبیر کیا جارہاہے۔
    اس لئے انصاف کی بات یہی ہے کہ سعیدبن جمھان متکلم فیہ کی یہ منفرد روایت مردود ہے اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور بھی خلافت کا دورہے۔

    علامہ ابن خلدون الإشبيلي رحمہ اللہ (المتوفى: 808)فرماتے ہیں:
    وقد كان ينبغي أن تلحق دولة معاوية وأخباره بدول الخلفاء وأخبارهم فهو تاليهم في الفضل والعدالة والصحبة، ولا ينظر في ذلك إلى حديث الخلافة بعدي ثلاثون سنة فإنه لم يصحّ، والحق أنّ معاوية في عداد الخلفاء
    مناسب بات یہ تھی کہ معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے دور کو سابقہ خلفاء اور ان کے دور کے ساتھ ملایا جائے کیونکہ فضل ، عدالت اور صحبت میں یہ اپنے سابقہ خلفاء سے ملحق ہیں ۔اوراس سلسلے میں وہ حدیث نہیں دیکھی جائے گی جس میں آیا ہے کہ خلافت میرے بعدتیس سال رہے گی ،کیونکہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔اورحق بات یہ ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کا شمار بھی خلفاء میں سے ہوگا[تاريخ ابن خلدون 2/ 650]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  9. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    متابعات وشواہد

    بعض روایات میں زیربحث حدیث کے لئے متابعات وشواہد بھی ملتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی ایک روایت بھی معتبر نہیں ہے۔ متابعات تو موضوع اور من گھڑت ہیں شاید اسی لئے اس حدیث پر بحث کرنے والوں میں سے کسی نے اس حدیث کے ساتھ ان متابعات کا تذکرہ تک نہیں کیا ہے۔
    اور شواہد سخت ضعیف ومنکر ومردود ہیں اس لئے وہ بھی ناقابل اعتبار ہیں تفصیل ملاحظہ ہو:
     
  10. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    متابعات کا جائزہ

    بعض روایات میں سعیدبن جمہان کی متابعت منقول ہے ۔ لیکن یہ روایات حددرجہ ضعیف بلکہ بعض باطل وموضوع اور من گھڑت ہیں۔اوربہت ممکن ہے یہی باتیں گھوم پھر کر سعیدبن جمھان تک پہنچی ہوں اور سعیدبن جمھا ن نے بعد میں حافظہ کی کوتاہی سے اسے براہ راست سفینہ کے طریق سے بیان کردیا ہو۔

    سعید بن عمروسے منقول متابعت :
    حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى بن أخي حرملة ، حدثنا عمي حرملة، حدثنا ابن وهب أخبرني بن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب عن سعيد بن عمرو عن سفينة قال بنى رسول الله صلى الله عليه وسلم المسجد ووضع حجرا ثم قال ليضع أبو بكر حجرا إلى جنب حجري ثم قال ليضع عمر حجرا إلى جنب حجر أبي بكر ثم قال ليضع عثمان حجرا إلى جنب حجر عمر ثم قال هؤلاء الخلفاء بعدي وبإسناده؛، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول الخلافة ثلاثون عاما ثم يكون الملك
    سعیدبن عمرو سفینہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد بنائی اور ایک پتھررکھا پھرکہا: میرے پتھرکے پاس ابوبکررضی اللہ عنہ بھی پتھر رکھیں،پھرکہا:عمررضی اللہ عنہ ابوبکررضی اللہ عنہ کے پتھرکے پاس پتھررکھیں،پھرکہا: عثمان رضی اللہ عنہ عمررضی اللہ عنہ کے پتھرکے پاس پتھررکھیں پھرکہا یہ میرے بعد خلیفہ ہوں گے ۔اوراسی سند کے ساتھ مروی ہے کہ سفینہ رضی اللہ عنہ نے کہا:خلافت تیس سال ہوگی ، اس کے بعد بادشاہت ہوگی [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 9/ 129]

    ملاحظہ فرمائیں اس سند میں سعیدبن عمرو کے واسطہ سفینہ سے دوباتیں منقول ہے۔
    ایک یہ کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد ابوبکر وعمر اورعثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کیا ۔یہ وہی بات ہے جسے سعیدبن جمھان نے بھی سفینہ سے روایت کیا ہےا ور امام بخاری رحمہ اللہ نے اس پر نقد کیا ہے اور اس کے باطل ومن گھڑت ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔
    اس روایت میں دوسری بات تیس سال خلافت اور اس کے بعد ملوکیت کی پیشین گوئی ہے۔اسی بات کو زیربحث روایت میں سعیدبن جمھان نے سفینہ سے روایت کیا ہے۔
    یہ روایت اپنی دونوں باتوں کے ساتھ باطل ومن گھڑت ہے کیونکہ اس کی سند میں (يحيى بن محمد التجيبي) کذاب اور وضاع موجود ہے۔یہ شخص سندیں بنابناکر احادیث گھڑتا تھا چناں چہ :

    امام دارقطني رحمه الله (المتوفى385)نے کہا:
    كان يضع الحديث على حرملة
    یہ حرملہ کے طریق سے احادیث گھڑتا تھا[غرائب مالك للدارقطنی بحوالہ لسان الميزان لابن حجر، ت أبي غدة: 8/ 474]
    اوراوپر کی روایت حرملہ ہی کے طریق سے ہے۔
    یہ وہی شخص ہے جس نے مذکورہ سند کے ابتدائی طریق سے یہ حدیث گھڑی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم معراج کے وقت کوفہ سے گذرے اور وہاں کی مسجد میں نماز ادا کی ۔[لسان الميزان لابن حجر، ت أبي غدة: 8/ 474]

    ابوریحانہ سے منقول متابعت:
    اخبرنا أبو غالب بن البناء أنا أبو الحسين بن الآبنوسي أنا عبيد الله بن عثمان الدقاق أنا إسماعيل بن علي الخطبي نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبو علي سويد الطحان نا علي بن عاصم أنا أبو ريحانة عن سفينة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال الخلافة من بعدي ثلاثون سنة قال رجل كان حاضرا في المجلس قد دخلت من هذه الثلاثين ستة شهور في خلافة معاوية فقال من ها هنا أتيت تلك الشهور كانت البيعة للحسن بن علي بايعه أربعون ألفا أو اثنان واربعون ألفا
    ابوریحانہ سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خلافت میرے بعد تیس سال رہے گی ، مجلس میں موجود ایک شخص نے کہا: ان تیس سال میں سے چھ ماہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت میں داخل ہوگئے ۔توانہوں نے کہا: ان چھ مہینوں کا معاملہ یہ ہے کہ ان میں حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی تھی ، ان سے چالیس ہزار یا بیالیس ہزار لوگوں نے بیعت کی تھی[تاريخ دمشق لابن عساكر: 13/ 261]

    اس کی سند میں علی بن عاصم بن صھیب ہے ۔
    یہ سخت ضعیف راوی ہیں ۔

    بلکہ کئی محدثین نے ان پر کذاب ہونے کی جرح کی ہے۔

    امام يزيد بن هارون رحمه الله (المتوفى206)نے کہا:
    ما زلنا نعرفه بالكذب
    ہم اسے جھوٹ کے ساتھ ہی جانتے رہے [سؤالات البرذعي لأبي زرعة، ت الأزهري: ص: 133 واسنادہ صحیح واخرجہ ایضا العقیلی فی الضعفاء :4/ 266 والخطیب فی تاریخ بغداد:11/ 456 من طریق عثمان بہ]

    خالد بن مهران الحذاء رحمه الله (المتوفى141)نے کہا:
    كذاب فاحذروه
    یہ بہت بڑاجھوٹاشخص ہے اس سے بچ کررہو۔[الضعفاء للعقيلي، ت د مازن: 4/ 266 واسنادہ صحیح]

    امام بخاري رحمه الله (المتوفى256)نے کہا:
    وقال وهب بن بقية: سمعت يزيد بن زريع، قال: حدثنا علي، عن خالد ببضعة عشر حديثا، فسألنا خالدا عن حديث، فأنكره، ثم آخر فأنكره، ثم ثالث فأنكره، فأخبرناه، فقال: كذاب فاحذروه
    بخاری ومسلم کے راوی یزیدبن زریع کہتے کہ علی بن عاصم نے ہم سے درجنوں احادیث خالد الحذاء سے بیان کی ، پھر ہم نے خالدالحذاء سے ان میں سے ایک حدیث کے بارے میں پوچھا توانہوں نے اس سے انکار کیا ، پھر ہم نے ایک دوسری حدیث کے بارے میں پوچھا، اس سے بھی خالد الحذاء نے انکار کیا ، پھر ہم نے ایک تیسری حدیث کے بارے میں پوچھا اس سے بھی خالد الحذاء نے انکار کیا ۔اس کے بعد ہم نے خالد الحذاء کو یہ بات بتلادی تو خالد الحذاء نے کہا: یہ بہت بڑاجھوٹاشخص ہے اس سے بچ کررہو۔[التاريخ الكبير للبخاري: 6/ 290 واسنادہ صحیح واخرجہ ایضا العقیلی فی الضعفاء 4/ 267 من طریق محمد بن المنهال الضريربہ، واسنادہ صحیح]

    یہ واقعہ اس بات کی زبردست دلیل ہے کہ علی بن عاصم نے جھوٹی احادیث بیان کی ہیں اسی سبب کئی ایک محدثین نے انہیں کذاب کہا ہے۔
    بعض محدثین نے ان کا دفاع کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ ان کی کتاب میں دوسرے لوگ ان کے نام سے جھوٹی احادیث لکھ دیتے تھے جسے یہ بیان کردیتے ۔

    اگراسے تسلیم کرلین تو بھی اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ان کی طرف سے جھوٹی احادیث بیان ہوئی ہیں لہٰذا ان کی احادیث کی شمار میں نہیں ہیں ۔

    علامہ معلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    علي بن عاصم لا يُعتدُّ بحديثه
    علی بن عاصم کی حدیث کسی شمار میں نہیں ہے۔[آثار الشيخ العلامة عبد الرحمن بن يحيي المعلمي اليماني 16/ 44]

    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748) نے کہا:
    أجمعوا على ضعفه يعني علي بن عاصم
    محدثین کا ان کے ضعیف ہونے پر اجماع ہے [المستدرك للحاكم مع تعليق الذهبي: 4/ 376]

    خلاصہ یہ کہ یہ دونوں متابعات موضوع اورمن گھڑت ہیں اس لئے ان کا کوئی شمار نہیں ۔اسی وجہ سے اس حدیث پر بحث کرنے والوں میں سے کسی نے بھی ان متابعات کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں