غیب کی خبریں لانے والے نامعلوم طوطے چڑیاں اور حد ادب

عائشہ نے 'اركان مجلس كے مضامين' میں ‏دسمبر 10, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,150
    غیب کی خبریں لانے والے نامعلوم طوطے چڑیاں اور حد ادب
    (تحریر دیکھنے سے پہلے آڈیو سن لیجیے)

    "ایک مشترکہ دوست تھے انگلینڈ میں ان کا فون آیا ۔انہوں نے بتایا کہ میں نے خواب دیکھا اور اس میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت ہوئی۔ آپ نے فرمایا کہ طارق جمیل کو پیغام دے دو کہ آپ کے دوست ہمارے پاس پہنچ چکے ہیں اور اللہ تعالی نے انہیں معاف کر دیا ہے۔ اور ان کا اکرام کیا ہے۔ "​
    یہ ایک نامعلوم صاحب کو عالم رویا میں ملنے والی تازہ خبر ہے جو غیب کی خبریں لانے والے طوطے چڑیاں پھیلا رہے ہیں اور کسی حد ادب کا لحاظ کیے بغیر پھیلاتے چلے جا رہے ہیں۔ چوں کہ خواب انگلینڈ سے درآمد ہوا ہے اس لیے کسی کو صاحب رویا کا نام جاننے کی ضرورت نہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے راویوں کے کذب و صدق کا خیال کیے بغیر فضائل اعمال کی روایات سنائی جاتی ہیں، نامعلوم افراد کے خواب سنا کر مغفرت کے سرٹیفکیٹ بٹ رہے ہیں۔ کچھ سال گزرے طاہرالقادری صاحب حدیث مسلسل بالمصافحہ کی بنیاد پر ایک سند جاری کیا کرتے تھے۔ اب طارق جمیل صاحب کا دوست ہونا بھی جنت کی پکی سیٹ کی نشانی بن رہا ہے۔ قادیانی جماعت میں بھی جنت کی پلاٹ کی خرید ایک منافع بخش کاروبار تھا۔ اب سمجھ آیا کہ انیس بیس کے فرق سے یہ مذہبی جماعتیں کیا کر رہی ہیں۔
    کوئی ہماری مذہبی جماعت کا ہے سو ابھی موت کی تصدیق بھی نہیں ہوئی کہ شہید قرار پائے گا۔ پھر عظیم ہستیوں کے نام لے کر نامعلوم افراد کے خواب سنائے جائیں گے۔ جس خبر کا ذریعہ معلوم نہ ہو اس کی کیا ساکھ ہے؟ اس منطقی اصول کا خیال کس کو آئے گا۔
    افسوس ایسی فضول گپیں سن کرایک مسلمان کے دل سے موت کی سختیوں، قبر، ضمہ قبر، حساب کتاب، اللہ کے احکام کی ہیبت، ہر چیز کا احساس جا رہا ہے۔
    خدارا صدمہ کتنا ہی بڑا ہو زبان سے وہی کہیں جس کی اللہ مالک الملک نے اجازت دی ہے۔ کسی انسان کی مغفرت ہوئی یا نہیں یہ صرف عرش کے مالک کو معلوم ہے۔ ہمیں حسن خاتمہ کی چندعلامات کا علم دیا گیا ہے وہ کسی میں نظر آجائیں تو اس کے متعلق امید رکھ سکتے ہیں کہ رحیم و مہربان رب اپنا کرم فرمائے گا۔اس امید سے اللہ سے التجائیں کر سکتے ہیں کہ یااللہ ہمارے فلاں پیارے کو معاف کردے۔ صرف اسی کی اجازت ہے۔ اس سے آگے حد ادب ہے۔ خدارا حد ادب کی ہیبت کو جانیے۔ مالک عرش عظیم کے سامنے ہماری جماعتیں، فرقے، خدمتیں، شہرتیں سب ہیچ ہیں۔ ہم میں سے کوئی اپنے عمل کی بنیاد پر جنت میں جانے کا مستحق نہیں سوائے اس کے جس پر اللہ اپنی رحمت کرے۔ اللہ کی رحمت کے امیدواروں سے زیادہ حدادب کی ہیبت کو کون جان سکتا ہے؟
     
    Last edited: ‏دسمبر 10, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • اعلی اعلی x 1
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,661
    انا للہ و انا الیہ راجعون۔
    بادئ النظر میں مولانا طارق جمیل صاحب یہ فرما رہے ہیں۔ کہ جنید جمشید کی مغفرت ہوچکی اور اب جب کہ اس کی مغفرت ہو چکی تو پھر اس کی معفرت کی دعا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
    شیطان کا وار بھی کتنا کاری ہوتا ہے۔ مرنے والوں کو زندہ انسانوں کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔ اور یہاں اسے ان دعاؤں سے محروم کیا جا رہا ہے۔ کہ جب معفرت ہو چکی تو پھر دعائیں کیسی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,150
    بالکل درست نقطے کی نشان دہی کی جزاک اللہ خیرا۔جب بڑی بڑی شخصیات دینی حدود کو بھول جاتی ہیں تو ان کی عقل یوں ہی بے کار ہو جاتی ہے۔
    ایک عاجز انسان یہ سوچ کر کانپ اٹھتا ہے کہ اس کا ذکر نبی کریم ﷺ کے پاس ہو، یا اللہ سبحانہ وتعالی اس کے نامہ اعمال طرف توجہ بھی کریں۔ اور یہاں کسی بات کی ہیبت ہی نہیں۔ یہ کتنی جرات کی باتیں ہیں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    11,358
    انا للہ و انا الیہ راجعون

    حٖیقی معنوں میں خوابوں کے سوداگر ہیں جو اپنا خواب بیچ کر لوگوں کے ایمان خرید لیتے ہیں
     
    • متفق متفق x 2
  5. حسين عبد الله

    حسين عبد الله نوآموز

    شمولیت:
    ‏جولائی 13, 2016
    پیغامات:
    24
    خواب کو علم غیب کس نے قرار دیا ہے ۔؟
    کتب تاریخ اسلام میں جو مرنے کے بعد دیکھے گئے خوابات کا ذکر ہے ۔۔۔اگر ان کو جمع کیا جائے تو کئی جلدوں پر مشتمل کتاب بن جائے۔
    اسلاف ان کو بیان بھی کرتے ہیں ۔ لیکن ان کا درجہ بس فضائل کا ہی ہوتا ہے ۔
    اور یہ بھی بات مناسب نہیں لگتی کہ بابر بھائی کہہ رہے ہیں کہ بادئ النظر میں وہ یہ فرما رہے ہیں کہ اس کی مغفرت ہو چکی۔جب وہ خود دعائے مغفرت بھی کر رہے ہیں مختلف جگہہ پر تو ایسے گمان کے کیا معنی ۔
    مولانا طارق جمیل اور جنید جمشیدمرحوم کے بارے میں اِس فورم پر بہت کچھ موجود ہے ۔ ان سے اختلاف اپنی جگہہ۔لیکن ہر بات اس تناظر میں نہیں دیکھنی چاہیے۔
    ایسے موقعوں پر یہ حدیث بھی تو بیان کی جاسکتی ہے ۔
    ابوالاسود سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں مدینہ آیا اور وہاں ایک بیماری پھیلی ہوئی تھی جس سے لوگ جلد مر جاتے تھے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کی تعریف بیان کی حضرت عمر نے فرمایا واجب ہوگئی پھر ایک دوسرا جنازہ گزرا اور لوگوں نے اس کی بھی تعریف بیان کی تو انہوں نے فرمایا واجب ہوگئی پھر تیسرا جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کی برائی بیان کی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا واجب ہوگئی میں نے پوچھا! اے امیرالمومنین کیا واجب ہوگئی تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اسی طرح کہا جس طرح نبی ﷺ نے فرمایا جس مسلمان کی نیکی کی چار آدمی گواہی دے دیں تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کر دیتا ہے میں نے پوچھا اور تین میں بھی انہوں نے کہا تین میں بھی میں نے پوچھا کیا دو میں بھی؟ انہوں نے کہا اور دو میں بھی پھر ہم نے ان سے ایک کے متعلق نہیں پوچھا۔ (صحیح بخاری)
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,150
    جو بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمائی وہ بالکل اسلامی آداب و عقائد کے مطابق ہے جب کہ جو کچھ طارق جمیل صاحب نے کہا ہے وہ اسلامی عقائد کے مطابق نہیں۔ دونوں میں کوئی مماثلت نہیں اس لیے یہ استدلال بالکل غلط ہے۔
    طارق جمیل صاحب خواب دیکھنے والے کا نام بتا دیں تو خود ہی معلوم ہو جائے گا کہ خواب کا درجہ کیا ہے۔ خود تو وہ ثقہ آدمی نہیں کیوں کہ جھوٹی گھڑی ہوئی احادیث سنا کر وعظ کرتے ہیں اور باوجود توجہ دلانے کے باز نہیں آتے۔ یہی کام تبلیغی جماعت کے بیشتر مبلغین کرتے ہیں۔
    کتب اسلام میں یہ بھی ذکر ہے کہ جو خواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کا جھوٹا دعوی کرے اس کا کیا حکم ہے۔اور کتب حدیث میں سنی سنائی آگے چلانے والے کا درجہ بھی معلوم ہے۔ اس لیے یہ خواب اور طاہرالقادری کے خواب ایک ہی حیثیت کے ہیں۔
    کافی سارے لوگ جل کر فوت ہونے والے مسلمانوں کے لیے شہادت کی بشارت والی احادیث سنا رہے ہیں ان پر کوئی نکیر نہیں کی گئی کیوں کہ وہ "ایک ہی حادثے" میں جانے والی "سب قیمتی جانوں" کے لیے "یکساں افسردہ" ہیں۔اس فورم پر نماز، روزے، زکوۃ، قرآن کی تلاوت پر کوئی موضوع ہو آپ جیسے ارکان نظر نہیں آتے، نظر آنے کو مخصوص موضوعات ہیں، کیا اس لیے کہ کوئی نماز پڑھتا ہے یا نہیں، روزہ رکھتا ہے یا نہیں، یہ باتیں ہمیں اہم نہیں لگتیں، اہم ہے تو ہماری پسندیدہ مذہبی جماعت ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے خوابوں اور بشارتوں کے لیے 47 جانوں میں سے ایک خاص جان ہی منتخب کی گئی۔ ہر چیز آنکھوں والوں کے لیے واضح ہے۔ اور آنکھوں والے اسی لیے مذہبی کاروباری سوچ سے دور بھاگتے ہیں۔ جہاں استخارے، خواب اور شہادتیں سب دوروپیہ کلو کے بھاؤ بک رہی ہیں۔
     
    Last edited: ‏دسمبر 10, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,150
    وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں کیوں کہ تبلیغی جماعت کے نصاب کا مطالعہ رکھنے والے بخشے بخشائے کے تصور سے خوب واقف ہیں۔ ان سب غلط تصورات کی جڑیں اس غلط عقیدے تک ہی جاتی ہیں جو اہل السنۃ والجماعۃ کے عقیدے سے مختلف ہے اور اس جماعت میں سکھایا جاتا ہے۔ عقیدہ ٹھیک کیے بغیر آنکھ سے پردہ نہیں ہٹے گا۔
     
    • متفق متفق x 1
  8. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,661
    محترم بہت ہی سیدھے پیراۓ میں میں نے اپنی بات کی وضاحت کی تھی۔ مولانا خود ہی تو فرما رہے ہیں کہ اس کی مغفرت ہو چکی۔ تو جب مغفرت ہوچکی تو پھر دعا کی کیا ضرورت۔
    اور مجھے کہنے دیجیے کہ یہ بھی مولانا کے گھڑے ہوۓ قصوں سے میں ایک قصہ معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کے اپنے فرقہ کے علماء بھی یہ فرما چکے ہیں کہ مولانا اکثر جھوٹے قصے بیان کرتے ہیں۔
    فون آیا بھی تو لندن میں کسی دوست کو۔ اگر مولانا طارق جمیل کو پیغام پہنچانا مقصود تھا تو براہ راست بھی یہ پیغام پہنچایا جا سکتا تھا۔
    بات مولانا کی آگئ تو ابھی کچھ ہی دن پہلے میں مولانا کے چاہنے والے کو ان کے بیان کردہ جھوٹے قصوں کے حوالے بھیجے تھے اور جوابا انہوں نے کہا تھا کہ وہ یہ بات مولانا تک پہنچا کر مجھے بتائیں گے۔ پھر ایک دن انہوں نے فرمایا کہ میں یہ تمام پیغام ان تک یا ان کے کسی جاننے والے تک پہنچا چکا ہوں لیکن تا حال ان کی جانب سے کوئ وضاحت نہیں آئ۔ اور میں جانتا ہوں کہ آۓ گی بھی نہیں،



    • [​IMG]
      ...
     
    • متفق متفق x 1
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,150
    علما نے اس جماعت کے کبر وغرور کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے وہ اس "بشارت" سے ہی واضح ہے۔ مزید عقیدے کی خرابی اور تاویل و تحریف کے متعلق یہ تحریر دیکھیے۔
    https://islamqa.info/ur/8674
     
    • متفق متفق x 1
  10. حسين عبد الله

    حسين عبد الله نوآموز

    شمولیت:
    ‏جولائی 13, 2016
    پیغامات:
    24
    میرے قابل احترام بہن ، بھائی۔
    ایک عنوان میں ایک ہی طرف گفتگو ہو سکتی ہے ۔
    اس عنوان میں خواب سے متعلق ہی بات عرض کی ہے ۔
    بات تو یہ ہے کہ کیا کسی کو خواب آنا ہی ممکن نہیں ؟۔اور کیا اسلاف میں کسی نے ایسا خواب علم غیب سمجھ کر نقل کیا ہے ؟
    آپ کو ظاہر ہے شخصیت سے اختلاف ہے ۔تبلیغی جماعت اور ان کے نظریات کے بارے میں فورم پر بہت کچھ موجود ہے ۔
    اس بارے میں میرا بحث کا ارادہ نہیں ہے ۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں