یوم جمعہ اور قرآن کی تلاوت کے مقامات

مقبول احمد سلفی نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏دسمبر 12, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    جمعہ کا دن تمام دنوں کا سرداراور ہفتے کی عید ہے ۔ اس کی فضیلت میں یہ حدیث وارد ہے.

    خيرُ يومٍ طلعت عليه الشَّمسُ ، يومُ الجمعةِ . فيه خُلِق آدمُ . وفيه أُدخل الجنَّةَ . وفيه أُخرج منها . ولا تقومُ السَّاعةُ إلَّا في يومِ الجمعةِ(صحيح مسلم:854)
    ترجمہ : راوی حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بہترین دن جب سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے۔ اس دن اللہ نے آدم کو پیدا کیا۔ اسی دن جنت میں ان کو داخل کیا اور اسی دن ان کو جنت سے نکالا گیا۔

    جہاں متعدد آیات و صحیح احادیث سے جمعہ کی بڑی فضیلت اور اہمیت ثابت ہوتی ہے وہیں صحیح احادیث سے قران کی تلاوت کا جمعہ کے دن سے بڑا تعلق نظر آتا ہے ۔

    جمعہ کے دن قرآن کی تلاوت کے مقامات:

    (1) جمعہ کی رات مغرب میں تلاوت:نبی ﷺ سے ثابت ہے کہ جمعہ کی رات مغرب کی نماز میں سورہ کافرون اور سورہ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے ۔

    كان النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ يقرأُ في صلاةِ المغربِ ليلةَ الجمعةِ : قُلْ يَا أُيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَ قَلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ(مشکوۃ )
    ترجمہ : حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کی رات مغرب کی نماز میں قل یاایھاالکافرون اور قل ھواللہ احد پڑھتے تھے۔

    ٭ اس روایت کو شیخ البانی نے مشکوۃ کی تخریج میں صحیح الاسناد قرار دیا ہے ۔(تخريج مشكاة المصابيح: 812)
    ٭ حافظ ابن حجرؒ نے حسن قرار دیا ہے ۔ (تخريج مشكاة المصابيح : 1/388)

    (2) جمعہ کے دن فجر میں تلاوت: نبی ﷺ جمعہ کے دن فجر کی فرض نماز میں سورہ سجدہ اور سورہ دھر کی تلاوت کرتے تھے ۔

    أنَّ النبيَّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ كان يقرأُ في الصبحِ ، يومَ الجمعةِ ، بالم تَنْزِيلُ ، في الركعةِ الأولى . وفي الثانيةِ : هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا .(صحيح مسلم:880)
    ترجمہ: نبی ﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز کی پہلی رکعت میں "الم تنزیل" اور دوسری رکعت میں "هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا قرات" کرتے تھے ۔

    (3) جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت : جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھنے کی بڑی فضیلت وارد ہے ۔ بعض روایات میں جمعہ کے دن کا ذکر ہے اور بعض میں جمعہ کی رات کا۔

    من قرأ سورةَ الكهفِ يومَ الجمعةِ أضاء له النُّورُ ما بينَه و بين البيتِ العتيقِ(صحيح الجامع: 6471)
    ترجمہ :نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھی اس کے اور بیت اللہ کے درمیان نور کی روشنی ہو جاتی ہے۔

    من قرأ سورةَ الكهفِ في يومِ الجمعةِ ، أضاء له من النورِ ما بين الجمُعتَينِ(صحيح الجامع:6470)
    ترجمہ :رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جمعہ کے دن سور ة الکہف پڑھے۔اس کیلئے دونوں جمعو ں(یعنی اگلے جمعے تک)کے درمیان ایک نور روشن کردیا جائے گا۔

    عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: «مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، أَضَاءَ لَهُ مِنَ النُّورِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ الْعَتِيقِ» [صحيح الترغيب للالبانی : 736]۔
    ترجمہ : ابوسعید خدری رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جس نے جمعہ کی رات سورۃ الکھف پڑھی اس کے اور بیت اللہ کے درمیان نور کی روشنی ہو جاتی ہے۔

    رات و دن کی دونوں روایات کے ملاکر یہ کہاجائے گا کہ سورہ کہت پڑھنے کا وقت جمعرات کے سورج غروب ہونے سے لیکر جمعہ کے سورج غروب ہونے تک ہے ۔

    (4) جمعہ کے خطبہ میں سورہ ق کی تلاوت : نبی ﷺ ہر جمعہ خطبہ میں سورہ ق کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔

    دلیل : عن أم هشام بنت حارثة بن النعمان: وما أخذت (ق والقرآن المجيد) إلا عن لسان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرؤها كل يوم جمعة على المنبر إذا خطب الناس.(صحیح مسلم : 873)
    ترجمہ :سیدہ اُم ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے سورۂ ق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے (سن کر) ہی تو یاد کی تھی، آپ اسے ہر جمعہ کے دن منبر پر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے تلاوت فرمایا کرتے تھے۔

    (5) خطبہ میں قرآن کی تذکیر: نبی ﷺ خطبہ جمعہ میں قرآن کی تلاوت کرتے اور وعظ ونصیحت فرماتے تھے چنانچہ مسلم شریف کی روایت ہے :

    عن جابر بن سمرۃ قال كانت للنبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ خُطبتانِ يجلسُ بيينهما . يقرأ القرآنَ ويُذكِّرُ الناسَ .(صحيح مسلم:862)
    ترجمہ : حضرت جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن دو خطبے دیا کرتے تھے ان دونوں خطبوں کے درمیان تھوڑی دیر بیٹھتے تھے اور آپ ﷺ خطبہ میں قرآن مجید پڑھتے تھے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے۔

    (6) جمعہ کی نماز میں تلاوت : جمعہ کی نماز میں آپ ﷺ کبھی سورہ اعلی اور سورہ غاشیہ تلاوت کرتے اور کبھی سورہ جمعہ جمعہ و سورہ منافقون تلاوت کرتے تھے ۔

    سورہ اعلی اور غاشیہ کی دلیل : كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ يقرأُ ، في العيدينِ وفي الجمعةِ ، بسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ، وهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ .(صحيح مسلم:878)
    ترجمہ: رسول اللہ ﷺ عیدین اور جمعہ کی نماز میں"سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى" اور "هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ" تلاوت کرتے تھے ۔

    سورہ جمعہ اور منافقون کی دلیل : وأنَّ النبيَّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ كان يقرأُ ، في صلاةِ الجمعةِ ، سورةُ الجمعةِ والمنافقينَ .(صحيح مسلم:879)
    ترجمہ : اور نبی ﷺ جمعہ کی نماز میں سورہ جمعہ اور سورہ منافقون کی تلاوت کرتے تھے ۔

    جمعہ کے دن قرآن کی تلاوت سے متعلق چند ضعیف و موضوع احادیث

    (1)عن جابر بن سمرة ـ رضي الله عنه ـ أن النبي صلى الله عليه وسلم :" كان يقرأ في صلاة المغرب ليلة الجمعة ( قل يا أيها الكافرون ) و ( قل هوالله أحد ) ، ويقرأ في العشاء الآخرة ليلة الجمعة ( الجمعة ) و ( المنافقين ) .قال الشيخ الباني" ضعيف جداً . (سلسلةالاحاديث الضعيفة برقم: 559 ) .
    ترجمہ : حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کی رات مغرب کی نماز میں قل یاایھاالکافرون اور قل ھواللہ احد پڑھتے ۔ اور جمعہ کی رات عشاء کی نماز میں سورہ جمعہ اور سورہ منافقون پڑھتے تھے ۔

    *اس روایت کو شیخ البانی نے بہت ضعیف قرار دیا ہے دیکھیں : (سلسلةالاحاديث الضعيفة : 559)
    *شعیب ارناؤط نے بھی اسے ابن حبان کی تعلیق میں ضعیف قرار دیا ہے ۔

    (2) عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قرأ حم الدخان في ليلة الجمعة غُفر له(ضعيف الترمذي:2889)
    ترجمہ : حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس نے جمعہ کی رات حم الدخان کی تلاوت کی اسے بخش دیا جاتا ہے ۔

    ٭ اس حدیث کو شیخ البانی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

    (3) عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قرأ ليلة الجمعة حم الدخان، ويس، أصبح مغفوراً له(أخرجہ البيهقي في شعب الایمان)
    ترجمہ: حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس نے جمعہ کی رات حم الدخان اور یس کی تلاوت کی تو وہ معاف کردیا جائے گا۔

    ٭ بیہقی نے کہا اس میں ہشام نام کے ضعیف راوی ہیں ۔ (شعب الإيمان:2/969 )

    (4) مَنْ قَرَأَ سُورَةَ يس في لَيلةٍ أصْبَحَ مَغفُورًا له . ومَنْ قَرأَ الدُّخَانَ لَيلةَ الجمعةِ أصبحَ مَغفُورًا لَهُ(ضعيف الترغيب:978)
    ترجمہ: جس نے رات میں سورہ یس پڑھی وہ بخش دیا جاتا ہے اور جس نے جمعہ کی رات الدخان کی تلاوت کی وہ بھی بخش دیا جاتا ہے۔

    ٭ اس حدیث کو شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے ۔

    (5) مَن قرأَ سورةَ ( يس ) في ليلةِ الجُمعةِ ؛ غُفرَ لهُ .(السلسلة الضعيفة: 5111)
    ترجمہ : جس نے جمعہ کی رات سورہ یس کی تلاوت کی وہ بخش دیا گیا۔

    ٭ اس کو شیخ البانی نے بہت ضعیف کہا ہے ۔

    (6) مَنْ قرأَ السُّورةَ التي يُذكرُ فيها آلُ عِمْرانَ يومَ الجمعةِ ؛ صلَّى عليه اللهُ وملائِكتُهُ حتى تَغيبَ الشمسُ(ضعيف الترغيب:451)
    ترجمہ : جس نے جمعہ کے دن آل عمران کی تلاوت کی تو سورج ڈوبنے تک اس پر اللہ اور فرشتوں کی رحمت نازل ہوتی ہے۔

    ٭ اس روایت کو شیخ البانی نے موضوع قرار دیا ہے ۔
    * ابن حجر نے اسے موضوع قرار دیا ہے ۔

    (7) اقرؤوا سورة هود يوم الجمعة۔(ابن مردويه)
    ترجمہ : تم لوگ جمعہ کے دن سورہ ھود پڑھو۔

    ٭ اس روایت کو ابن حجر نے مرسل کہا ہے ۔

    (8) من قرأ سورة البقرة وآل عمران في ليلة الجمعة كان له من الأجر كما بين البيداء أي الأرض السابعة وعروباً أي السماء السابعة " .(رواه التيمي في الترغيب)
    ترجمہ: جس نے جمعہ کی رات سورہ بقرہ اور آل عمران پڑھی تو اس کے لئے ساتوں زمین اور ساتوں آسمان کی وسعت کے برابر ثواب ملے گا۔

    ٭ اسے مناوی نے بہت ضعیف کہاہے ۔(فيض القدير:6 / 199) .

    (9)من قرأ سورة يس والصافات ليلة الجمعة أعطاه الله سؤله"،(ابوداؤد)

    ترجمہ: جس نے جمعہ کی رات سورہ یس اور صافات کی تلاوت کی تو اللہ تعالی اس کی حاجت پوری کرتا ہے ۔
    ٭ یہ روایت منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ۔

    ایک تنبیہ :

    ایک بات یہ عرض کرنى ہے کہ صحیح احادیث کی روشنی میں جمعہ کے دن جو سورتیں پڑھنے کا میں نے ذکر کیا ہے اگر اس کا التزام کیا جائے تو بہت بہتر ہے اور احیائے سنت ہے کیونکہ بہت جگہ سے یہ سنتیں مٹتی جارہی ہیں ۔ اور اگر کوئی کبھی کبھار نماز میں دیگرسورتوں کی قرات کرلے یا کسی کو وہ سورتیں یاد نہ ہوں تو جو میسر ہو تلاوت کرسکتا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے :

    فَاقْرَؤُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ. {المزمل:20}.
    ترجمہ : جو میسر ہو قرآن سے اس کی تلاوت کرو۔
     
    • اعلی اعلی x 3
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا شیخ
     
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    جزاک اللہ خیراوبارک فیک۔
     
  5. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    وانتم فجزاکم اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. Abdulla Haleem

    Abdulla Haleem رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 19, 2014
    پیغامات:
    119
    جمعہ کے بارے میں لڑی ہیں تو۔ یہ بتائیے گا کہ جمعہ کی نماز کےلئے عورتوں کا مسجد کی جماعت میں شامل۔ہونا کیسا ہے؟!! اور کن کن علاقوں اور مذاھب میں ایسا چلن ہے؟

    اور اوپر بیان کردہ أم ھشام والی حدیث سے کیا یہ بات ثابت ہے کہ صحابیات جمعہ کی نماز مسجد میں ادا کرتی تھیں۔
    شکریہ
    والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
     
  7. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    اس فورم پہ "جمعہ کے دن عورت کیسے فائدہ اٹھا سکتی ہے ؟" کے عنوان سے ایک مضمون ہے اسے ایک نظر دیکھ لیں ۔ جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں