مشترکہ خاندانی نظام : نقصانات وحل

مقبول احمد سلفی نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏دسمبر 12, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    مشترکہ خاندانی نظام : نقصانات وحل

    تحریر: مقبول احمد سلفی
    دفتر تعاونی برائے دعوت وارشاد ، طائف ، سعودی عرب


    ہمارے سماج میں جوائنٹ فیملی سسٹم (مشترکہ خاندانی نظام) کا رواج ہے ۔ اس سسٹم کےسبب مسلم سماج وسوسائٹی میں ہزاروں مسائل اٹھ کھڑے ہوگئے ہیں جن کا یہاں احاطہ کرنا بہت مشکل ہے۔ ان میں سے چند اہم مسائل اور ان کا تدارک پیش کیاجاتاہے۔

    (1) ساس و سسر کی خدمت کا مسئلہ
    (2) ساس وبہو کے تنازعات
    (3) دیور و بھابھی کا رنگین فسانہ
    (4) غیرمحرم سے بے پردگی
    (5)فیملی ممبرس اور رشتہ داروں کے درمیان ناچاقی
    (6) مالی نظام کی گربڑی
    (7)والدین کا اولاد کے درمیان عدم مساوات(نتیجہ میں اولاد کی نافرمانی ملتی ہے)
    (8) اولاد کی ترقی میں رکاوٹ
    (9) صالح معاشرہ کی تشکیل میں رخنہ
    (10) سماج پہ برے اثرات(طلاق،غیبت،بے پردگی،خیانت،تنازع،استہزاء،عدم تعاون وغیرہ) کا سبب رئیسی

    ان جیسے ہزاروں مسائل نے مسلمانوں کے عائلی نظام کو نہ صرف درہم برہم کررکھاہےبلکہ صالح معاشرے کی بساط ہی الٹ دی ہے ۔ میرے خیال سےجوائنٹ سسٹم کی وجہ برصغیرکا ہندوانہ ماحول ہے جس کے عائلی قانون میں مشترکہ خاندانی نظام پایا جاتا ہے۔

    اسلام میں اس سسٹم کی نظیر نہیں ملتی ، اس لئے اسلامی روسے خاندانی اشتراکی سسٹم نہ چلانے میں ہی عائلی مسائل کا حل ، خاندان کے ہرفرد کی بھلائی اور ان سب کی ترقی کا رازمضمر ہے ۔

    قرآن و حدیث کے بے شمار دلائل ہمارے جوائنٹ فیملی سسٹم کے خلاف ہیں ۔ چند دلائل ملاحظہ ہوں۔

    (1) پردے سے متعلق سارے نصوص اس پہ دلالت کرتے ہیں کہ ہمارا گھریلو نظام الگ الگ ہوتاکہ جہاں خواتین کی عفت وعصمت محفوظ رہے وہیں گھرمیں اخوت سے لیکر عدل وانصاف تک کی میزان قائم رہے۔

    (2) اللہ کا فرمان ہے : وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ ۖ (الاحزاب : 33)
    ترجمہ : اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو، اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو۔

    اس آیت میں عورت کو اپنے گھر یعنی شوہر کے گھر کو لازم پکڑنے کا حکم دیا گیاہے ۔

    (3) نبی ﷺ کا فرمان ہے : إياكم والدخولَ على النساءِ . فقال رجلٌ من الأنصارِ : يا رسولَ اللهِ ! أفرأيتَ الحموَ ؟ قال : الحموُ الموتُ(صحيح مسلم:2172)
    ترجمہ : اجنبی عورتوں کے پاس جانے سے بچو، ایک انصاری نے عرض کیا: یا رسول اللہ حمو(دیور) کے بارے میں آپ ﷺکا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا کہ حمو(دیور) تو موت ہے۔

    یہ حدیث بتلاتی ہے ایسا عائلی نظام صحیح نہیں ہے جس میں دیور و بھابھی کا اختلاط ہوکیونکہ دیور عائلی نظام کے لئے موت ہے۔

    (4) نبی ﷺ کی متعدد ازواج مطہرات تھی جنہیں ایک چولہے پہ جمع کیاجاسکتا تھاکیونکہ ان سب کا شوہر ایک ہی تھا پھر بھی سب کا رہن سہن ،اکل وشرب اور سازوسامان الگ الگ تھا۔

    (5) اگر اسلام میں جوائنٹ فیملی کا تصور ہوتا تو گھریلو اعتبار سے سب کے الگ الگ حقوق کا بیان موجود ہوتا جبکہ ہم دیکھتے ہیں اسلام میں ساس ،سسر،بہو،نند،دیور، بھابھی ، جیٹھ وغیرہ کے حقوق کاالگ سے ذکر نہیں ہے۔

    (6) اسلام میں شادی کے بعد سے عورت کی کفالت کا ذمہ دار اس کا شوہرہوتا ہے ۔ اس لئے شوہر کے ذمہ ہے بیوی کی رہائش، خوراک اور پوشاک کا بندوبست کرے۔

    جوائنٹ فیملی کے کچھ فوائد بھی ہیں جس کی وجہ سے کچھ لوگوں نے اس سسٹم کی پرزور وکالت کی ہے مگر اس کے نقصانات فوائد پہ غالب ہیں۔ کچھ لوگوں نے کہا مشترکہ خاندان کے جو نقصانات ہیں ان سے جوائنٹ فیملی سسٹم ہوتے بھی بچاجاسکتا ہے مگر میرا کہنا ہے کہ جوائنٹ فیملی کے ساتھ کماحقہ اس کے نقصانات سے تو بچنا دشوارکن ہے تاہم منفرد رہ کر سارے لوگوں کے حقوق کی بحالی کماحقہ ممکن ہے گر آد می پابند شرع ہو۔

    عرب ممالک میں نئی رہائش کے بغیر شادی کا تصور ہی نہیں پایاجاتا ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ نئے مکان کے بغیر شادی نہیں ہوتی مگر پرانے مکان میں ہی سہی جوائنٹ فیملی سسٹم نہ ہو۔ عرب ممالک کے انفرادی نظام سے جہاں ان کے یہاں بھائی بہنوں میں تاحیات الفت ومحبت قائم رہتی ہےوہیں والدین کی نگہداشت کا بھی اعلی نمونہ دیکھنے کو ملتاہےجبکہ ہمارے سماج میں اس کے برعکس ماحول ہے ۔

    آخر میں کہنا چاہتاہوں کہ میں واجبی طورپہ الگ الگ رہنے کی بات نہیں کررہاہوں ۔جہاں اسلامی اقداروروایات کو بروئے کار لاتے ہوئے مشترکہ نظام چل سکتا ہے تو مجھے ایسے نظام اور سسٹم پہ اعتراض نہیں ہے مگر جن خاندان میں ناچاقی کی انتہاہوگئی ہو اور بھائی بہنوں سے الگ رہنے والوں کوبڑا مجرم گردانا جاتاہو، حالات کے تئیں الگ ہونے والے کو پنچایتی لوگ زبردستی پھر سے ایک ساتھ رہنے کی قرارداد پاس کرتے ہوں، اس کی خلاف ورزی کرنے والے کا سوشل بائیکاٹ کیاجاتاہومیں اس سسٹم کے سخت خلاف ہوں۔

    اللہ تعالی ہمیں کسی کے حق میں ادنی سی پامالی کرنے سے بھی بچائے ۔ آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • اعلی اعلی x 3
  2. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    460
    محترم شیخ!
    اس حدیث میں تو ایک طرح سے جوائنٹ فیملی کا ثبوت ملتا ہے:

    حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ هَلَكَ أَبِي وَتَرَكَ سَبْعَ بَنَاتٍ أَوْ تِسْعَ بَنَاتٍ فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ثَيِّبًا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ‏"‏‏.‏ قُلْتُ بَلْ ثَيِّبًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ، وَتُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ هَلَكَ وَتَرَكَ بَنَاتٍ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتُصْلِحُهُنَّ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ ‏"‏‏.‏ أَوْ قَالَ خَيْرًا‏.‏
    ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے ، ان سے عمرو نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ میرے والد شہید ہو گئے اور انہوں نے سات لڑکیاں چھوڑیں یا ( راوی نے کہا کہ ) نو لڑکیاں ۔ چنانچہ میں نے ایک پہلے کی شادی شدہ عورت سے نکاح کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا ، جابر ! تم نے شادی کی ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں ۔ فرمایا ، کنواری سے یا بیاہی سے ۔ میں نے عرض کیا کہ بیاہی سے ۔ فرمایا تم نے کسی کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہ کی ۔ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی ۔ تم اس کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے اور وہ تمہارے ساتھ ہنسی کرتی ۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ عبداللہ ( میرے والد ) شہید ہو گئے اور انہوں نے کئی لڑکیاں چھوڑی ہیں ، اس لیے میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ ان کے پاس ان ہی جیسی لڑکی بیاہ لاؤں ، اس لیے میں نے ایک ایسی عورت سے شادی کی ہے جو ان کی دیکھ بھال کر سکے اور ان کی اصلاح کا خیال رکھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا ، اللہ تمہیں بر کت دے یا ( راوی کو شک تھا ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ” خیراً “ فرمایا یعنی اللہ تم کو خیر عطا کرے ۔
    صحیح بخاری: 5367

    عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ نَكَحْتَ يَا جَابِرُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَاذَا أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لاَ بَلْ ثَيِّبًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُكَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ كُنَّ لِي تِسْعَ أَخَوَاتٍ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَجْمَعَ إِلَيْهِنَّ جَارِيَةً خَرْقَاءَ مِثْلَهُنَّ، وَلَكِنِ امْرَأَةً تَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَصَبْتَ ‏"‏‏.‏
     
  3. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    بالکل اس سے جوائنٹ فیملی کا ثبوت ملتا ہے لیکن اس میں ایک خاص صورت حال کا ذکر ہے ۔ والد کا انتقال ہوجاتاہے، اکیلا بیٹا ہے اور بیٹیاں نو ہیں ، ان کی پرورش، کفالت اور شادی کی ذمہ کا مسئلہ تھا۔ ایسے حالات ہوں یا ایسے حالات نہ بھی ہوں ،اگر جوائنٹ فیملی چلانے میں کوئی دقت نہ ہو، آپس میں عدل وانصاف کے ساتھ میل محبت ہو تو کوئی حرج نہیں ۔ خلاصہ کلام میں ایسی ہی بات کا ذکر کیا ہوں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 2
  4. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    جزاک اللہ خیرا
     
  5. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    460
    شکرا محترم شیخ
    جزاکم اللہ خیرا.
    اللہ آپکے علم وعمل میں برکت عطا فرمائے آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا شیخ
     
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    جزاک اللہ خیرا وبارک فیک۔ مختصر مگر جامع تحریر ہے۔
     
  9. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا شیخ۔
    محترم میرے خیال میں ہمارے ہاں مسئلہ دینی سے زیادہ معاشی ہے۔ عرب ممالک میں عام طور پر شادی سے پہلے لڑکا اپنے لیے الگ گھر کا بندوبست کرتا ہے ۔ اگر اس کی مالی حیثیت مستحکم ہے تو وہ نیا گھر خرید لیتا ہے یا لڑکے کے والدین اپنی حیثیت کے مطابق اسے ایک الگ گھر بنا دیتے ہیں۔ اگر یہ دونوں صورتیں ممکن نہ ہوں تو پھر وہ کرایہ کا گھر یا فلیٹ لے لیتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں نوجوانوں کی اکثریت الگ گھر لینے کی استطاعت نہیں رکھتی اور نہ ہی کراۓ کا گھر لینے کی پوزیشن میں ہوتی ہے۔ ان حالات میں اس کے پاس شادی کے بعد اپنے والدین کے ساتھ جوائنٹ فیمل میں ہی رہنے کے علاوہ اور کوئ صورت نہیں باقی نہیں رہتی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • مفید مفید x 1
  10. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    وایاک

    اصل میں ہم نے ایسا ماحول بنالیا ہے ورنہ جب کماکراپنے بچوں کو ہمیں ہی کھلانا ہے تو پھر جوائنٹ کیوں ؟ والدین کی ذمہ داری پرورش تک ہے ، شادی کے بعد اب لڑکا خودکفیل ہے ۔اگر بیوی کو نیا مکان فراہم نہیں کرسکتے تو کوئی حرج نہیں ایک فلیٹ میں بھی الگ الگ رہ سکتے ہیں ۔ سعودی عرب میں لڑکوں کو فکر ہوتی ہے بیوی کو اچھی رہائش کے انتظام کی اگر ہمارے یہاں بھی یہی فکر پیدا ہو تو یقینا ماحول بدلے گا اور جوائنٹ فیملی کی وجہ سے بہت سارے گھروں میں جو تباہی ہے اس کا سد باب ہوگا۔ اسی طرح جو لوگ ایک ساتھ رہ رہے رہیں ان میں بھی اصول وضوابط ہونی چاہئے مثلا حجاب ، مالی معاملات، کام کاج ، عورتوں کی ذمہ داری اور تعلقات کے متعلق۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 1
    • مفید مفید x 1
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    جزاکم اللہ خیرا۔ ان مسائل کی وجہ سے سب زیادہ پامالی حدود اللہ کی ہو رہی ہے۔ بے حجابی سے لے کر اختلاط اور ظلم تک انتہائی تشویش ناک مسائل اٹھ رہے ہیں۔ میرے لیے یہ بہت اطمینان کا باعث ہے کہ ہمارے محترم علما اس موضوع پر آگہی دے رہے ہیں۔ اللہ کرے یہ شعور تیزی سے پھیلے۔
    حجاب پر بات کرتے ہی طالبات سے یہ جواب ملتا ہے کہ ہمارے گھر والے ہی حجاب کی اجازت نہیں دیتے کیوں کہ ایک گھر میں اتنا اہتمام کرنا مشکل ہے۔نتیجتا محرم نامحرم کی تمیز مٹ چکی ہے۔ کم ہی خواتین ہیں جن کو یاد ہے کہ کون سے افراد ان کے محرم ہیں اور کون نامحرم۔ میرا نہیں خیال کہ اس کا تعلق دولت یا غربت سے ہے۔ بہت غریب گھرانوں میں بھی عمل کرنے والے کر رہے ہیں۔ اگر افراد باشعور اور تربیت یافتہ ہوں گے تو ان شاءاللہ ایک گھر میں ہی اسلامی حدود کو قائم رکھیں گے۔ ضرورت ہے کہ خاندان کے تمام افراد تک شعور عام کیا جائے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    پردے کے لیے کنکریٹ کی دیوار ضروری نہیں، کپڑے کے پردے سے بھی عارضی آڑ قائم کی جا سکتی ہے جس کا سب گھروالوں کو علم ہو کہ دوسری جانب جانا ہے تو اجازت لے کر۔ یہ مسئلہ پیسے سے زیادہ تربیت اور شعور کا ہے۔
     
    • متفق متفق x 1
  13. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,466
    مشترکہ خاندانی نظام میں کوئی برائی نہیں مسئلہ منیجمنٹ کا ہے جو صیح نا ہو تو ہزار مسائل پیدا ہو جاتے ہیں اگر گھر کا سربراہ دینی سمجھ رکھتا ہو توگزارہ ہو سکتا ہے
     
    • متفق متفق x 3
  14. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    بعض اوقات گھر کے سربراہ دینی سمجھ رکھتے ہیں لیکن گھر کے باقی افراد جہالت کے پہاڑ ہوتے ہیں۔ہمارے معاشرے کا تعلیمی اور تربیتی نظام بہت کمزور ہے، اسی وجہ سے بہت بھیانک واقعات آئے دن سامنے آ رہے ہیں۔ مناسب یہ ہے کہ گھر کے ہر فرد کا مسجد سے تعلق جڑے۔اس کے علاوہ ہر عمر کے افراد کے لیئے تعلیمی اور تربیتی تحریک شروع کرنی چاہیے۔
     
    • متفق متفق x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں