برمودا ٹرائی اینگل (Bermuda Triangle) کی حقیقت

مقبول احمد سلفی نے 'حالاتِ حاضرہ' میں ‏دسمبر 21, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    برمودا ٹرائی اینگل (Bermuda Triangle) کی حقیقت

    تحریر : مقبول احمد سلفی

    برمودا ٹرائی اینگل جسے (Devil's Triangle) شیطانی/آسیبی مثلث بھی کہا جاتا ہے ، پانی کی سطح پربناہوا ہے اور جو بحر اوقیانوس میں امریکہ کے ساحل سے کچھ فاصلے پر واقع علاقے کا نام ہے ۔

    اس علاقے کا ایک کونہ برمودا میں، دوسرا پروٹوریکو میں اور تیسرا فلوریڈا کے قریب ایک مقام پہ واقع ہے۔ برمودا ٹرائی اینگل انہی تین کونوں کے درمیانی علاقے کو کہا جاتا ہے۔یہ تین سو جزیروں پہ مشتمل ہے جن میں اکثر جزائر غیر آباد ہیں ، صرف بیس جزیروں پہ آبادیاں ہیں ، اس کا جو علاقہ پراسرار اور خطرناک مانا جاتا ہے اس کو برمودا مثلث یا برمودا تکون کہتے ہیں ۔ اس تکون کا کل رقبہ 1140000 ہے ۔

    یہ مثلث لوگوں میں پراسراریت کے لئے شہرت کا باعث بنا ہوا ہے ۔ اس کی شہرت اس وقت سے شروع ہوئی جب 1945 میں فلوریڈا سے اچانک 5 ہوائی جہاز کہیں لاپتہ ہوگئے ۔ مانا جاتا ہے کہ یہاں گم ہونے والے جہاز کے ساتھ مرنے والے کا بھی کوئی نام ونشان نہیں ملتا ۔

    یہ تکونہ اس قدر مشہور ہواکہ کہیں بھی کوئی جہاز گم ہوجاتا اس کا سرا اس تکونے سے جوڑ دیا جاتا ۔لوگ کہتے ہیں کہ اس مثلث میں اب تک سیکڑوں جہاز پراسرار طور پر غائب ہوچگے ہیں ۔

    یہ تکونہ معمہ نہیں مگر بے شمار کتابوں اور ناولوں کے ذریعہ معمہ بنا دیا گیاہے۔اور اس پہ اس قدر فلم ڈاکومنٹری پیش کی گئی کہ لوگوں نے یہاں مافوق الفطرت عناصر مان لیا جس کے سبب ہونے والے تمام پراسرار واقعات اسی کی طرف منسوب کردئے جاتے ہیں ۔

    ٹرائی اینگل سے متعلق قصے، کہانیاں، واقعات، جادوئی کرشمہ اور شیطانی حرکات بیان کئے جاتے ہیں ۔ اس کو اسلام سے بھی جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ میں قصے کہانیوں سے ہٹ کر ان باتوں کا خلاصہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں جسے اسلام سے جوڑا جارہا ہے ۔

    ٹرائی اینگل اور اسلام

    (1) ایک نظریہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ یہ سجین کی طرف جانے والا راستہ ہے ، اس میں جو اڑن طشتریاں دکھائی دیتی ہیں وہ دراصل فرشتے ہیں جو روحوں کو سجین کی طرف لے جاتے ہیں ۔

    اس میں سب سے فاش غلطی تو یہی ہے کہ سجین کو کوئی جگہ سمجھا جارہاہے جبکہ یہ ایک رجسٹر کا نام ہے جس میں برے لوگوں کا اندراج ہوتا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے ۔

    كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٍ ، وَمَا أَدْرَاكَ مَا سِجِّينٌ ، كِتَابٌ مَرْقُومٌ (المطففين: 7-9)
    ترجمہ : ہرگز نہیں ! یقنا فجار کا لکھنا سجین میں ہے اور آپکو کس نے معلوم کروایا کہ سجین کیا ہے وہ تو ایک لکھی گئی کتاب ہے ۔

    دوسری بات یہ ہے کہ فرشتے کو آدمی اصلی صورت میں نہیں دیکھ سکتا اور دوسری صورت میں پہچان نہیں سکتا۔

    مذکورہ نظرئے سے پتہ چلتا ہے کہ جس طرح کافروں نے اس ٹرائی اینگل سے بہت سارے قصے کہانیاں جوڑدئے ویسے ہی کم علم مسلمانوں نے بھی کچھ غلط باتیں اس کی طرف منسوب کردی ۔

    (2) دوسرا نظریہ مردہ آدمی کا دوبارہ دنیا میں زندہ واپس آنا ہے ۔ اس خیال کو Dr. Raymond A Moodi نے اپنی کتاب ’’موت کے بعد زندگی‘‘ میں اجاگر کیا ہے ۔ ڈاکٹر موڈی نے اس کتاب میں کچھ ایسے لوگوں کے بارے میں معلومات دی ہیں، جنھیںClinically Dead قرار دیا گیا، لیکن کسی وجہ سے وہ دوبارہ زندہ ہو گئے۔ موڈی کی بیناد اس خیال پر مبنی ہیں کہ ایک آدمی کچھ دیر کے لیے واقعۃً مر کر دوبارہ اس دنیا میں واپس آسکتا ہے۔

    موڈی کی بات سراسر غلط اور اسلامی عقیدے کے خلاف ہے کیونکہ انسان جب مرجاتا ہے تو دوبارہ وہ زندہ نہیں ہوسکتا ۔ اسلامی عقیدے کے مطابق روح نکلنے کے دنیا میں قیامت تک نہیں لوٹ سکتی ۔

    اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ [المؤمنون : 100]
    ترجمہ : اس مرنے والے کے درمیان اور دنیا والوں کے درمیان آڑ اور پردہ ہے۔

    (3) تیسرا نظریہ دجال کا ہے ۔ کہاجاتا ہے کہ برمودا تکونہ دجال کا مسکن ہے ۔ یہاں کے اڑن طشتری دجال کے شیطان ہیں جنہیں بھیج کر دجال دنیا کی خبریں معلوم کرتا ہے ۔اس نظرئے کی بنیاد اس پہ قائم ہے کہ برمودا تکونہ پانی کا حصہ ہے اور دجال کا تخت بھی پانی پر ہے ۔

    یہ نظریہ سب سے پہلے مصری مسلمان محقق محمد عیسیٰ داؤد نے پیش کیا۔

    یہ نظریہ کئی وجوہ سے ناقابل اعتماد ہے ۔

    اولا: قرآن و حدیث کی روشنی میں برمودا تکونہ دجال کا مسکن ہے ایسا کوئی واضح اور صریح ثبوت نہیں ہے بلکہ صحیح حدیث کی روشنی میں اس قدر وضاحت ہے کہ دجال کا خروج مشرق سے اورشہراصبہان سے یہودی نامی قبیلے سے ہوگاجوکہ ایرانی ممالک ہیں۔

    ثانیا: کسی حدیث میں دجال کا تخت پانی پر ہے مذکور نہیں ہے ،البتہ ابلیس کا تخت پانی پر ہے یہ بات حدیث میں آئی ہے ۔ دجال اور ابلیس میں بہت فرق ہے ۔ سب سے بڑا فرق دجال انسان میں سے ہے اور ابلیس جن میں سے ۔

    ثالثا: اڑن طشتری کو شیطان قرار دینا محض اختراع ہے ۔ نہ جانے فضا کی کس چیز کو اڑن طشتری کا نام دیا جاتا ہے ؟

    اور وہ شیطان ہے اس بات کا کیا ثبوت ہے ؟

    اور پھر یہ بات کہنا مبنی بر غلط ہے کہ یہ دجال کے کارندے ہیں جو اسے پوری دنیا سے مربوط کئے ہوئے ہیں کیونکہ قرآن و حدیث میں اس کی بھی وضاحت نہیں ہے کہ دجال کو اس کے خروج سے پہلے سے ہی دنیا کی خبریں مل رہی ہیں ۔

    رابعا: دجال ایک آدمی کا نام ہے ، وہ ابھی اکیلا ہے اور اکیلے ہی نکلے ، اس کا کوئی کارندہ نہیں ۔ خروج کے بعد اپنا کفر پھیلائے گا ، لوگ اس کی اطاعت قبول کریں گے پھر اس کے کارندے ہوں گے۔

    آخر میں برمودا تکونے کے متعلق یہ کہنا چاہتاہوں کہ مجھے یہ کوئی یہودو نصاری کی سازش لگتا ہے۔ اس کا مقصدلوگوں کے اذہان و قلوب پہ ہیبت طاری کرنا ہے ، وقت پڑنے پہ دنیا والوں کے لئے اس کا استعمال کرے گا، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وہاں اسلحہ کا ذخیرہ جمع کیا گیا ہے اور اس جگہ کو شيطانی تکونہ قرار دیا گیا ہے تاکہ لوگ اس جگہ سے دور رہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ تقریبا چارسو سال سے ان جزیروں میں بوش و باد نہیں اختیار کی گئی ۔

    اگر یہ سازش اور مصنوعی معمہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ٭تو اتنے بڑے بڑے سائنسداں پڑے ہوئے ہیں آخر کیا وجہ ہے کہ اس کی اصل حقیقت سامنے نہیں آرہی ہے؟

    ٭ کیا وجہ ہےکہ ملیشیا کا جہاز گم ہونے پہ اس کا تعلق برمودا تکونے سے جوڑ دیا گیا؟

    ٭اور اگر یہ خطرے کی جگہ ہوتی تو انشورنس والوں کے لئےبھی خظرناک ہوتامگر وہ بغیر کسی جھجھک کے جہاز رانی کرنے والوں سے انشورنس پریمیم لیتے ہیں جو دیگر سمندری علاقوں میں جہاز رانی کرنے والوں سے لیا جاتا ہے۔

    ٭تکونہ کا ایک سرا فلوریڈا سے متصل ہے ۔ اس فلوریڈا کے دو معنی ہیں۔

    ایک " اس خدا کا شہر جس کا انتظار کیا جارہا ہے "۔

    دوسرا"وہ خدا جس کا انتظار کیا جارہا ہے" ۔

    اس معنی سے تکونہ اور فلوریڈا کا کچھ تعلق معلوم ہوتا ہے ، لگتا یہود و نصاری مستقبل میں اپنے کسی مفاد کے لئے اس نئے "خدائی تصور" کا استعمال کرنے والے ہیں، اس لئے ابھی سے ہی برمودا تکونہ کے نام سے دنیا والوں پہ ہیبت طاری کئے ہوئے ہیں ۔

    مگر مسلمانوں کو اس قسم کے ڈرامائی اور افسانوی قصےکہانیوں سے گھبرانا نہیں چاہئے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
    • معلوماتی معلوماتی x 3
    • مفید مفید x 2
    • تخلیقی تخلیقی x 1
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا شیخ،
    بہت عمدہ معلومات
    اللہ آپ کے علم میں مزید اضافہ فرمائے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    جزاکم اللہ خیرا۔ اسلامی لحاظ سے اس تکونی علاقے کے متعلق پھیلائے گئے توہمات کا بہت عمدہ اور شافی جواب دیا گیا ہے۔
    درحقیقت برمودا تکون کے افسانے کو نام نہاد سائنسی فکشن کی وجہ سے رواج ملا، سنسنی خیزی، توہمات اور سائنس کے غیرعلمی ملغوبے کو پسند کرنے والے مسلمان بھی اس کا شکار ہو گئے۔
    اس بہت عمدہ مضمون کے اس نکتے سے مجھے ذرا اختلاف ہے۔ یہودونصاری میں جغرافیے، تاریخ ، سائنس کے ماہرین سے لے کر سمندری پہرے داروں(کوسٹ گارڈز) تک کوئی بھی مستند ذریعہ برمودا تکون کے متعلق پھیلی کہانیوں کی تصدیق نہیں کرتا۔جغرافیائی ماہر اس کو سرے سے کوئی علاقہ ہی نہیں مانتے۔ نہ ہی یہان ہونے والے حادثات کو کسی سپرنیچرل طاقت کے ذمہ لگاتے ہیں۔ ماہرین کی جانب سے اس کے متعلق توہمات کی مسلسل نفی ایک حقیقت ہے اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کوئی بھی ذمہ دار ادارہ قلوب پر اس علاقے کی ہیبت جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔
    میں علامات قیامت پڑھا رہی تھی تو اپنے سٹوڈنٹس کے توہمات سے تنگ آ کر ان کو اس کام پر لگایا کہ کسی اچھے انسائیکلوپیڈیا یا اٹلس سے برمودا تکون کا وجود اور ان واقعات کی سچائی ثابت کر کے دکھائیں۔ سب کو ایک ہفتہ لائبریری میں سر کھپا کر آرام آ گیا۔
    کہنے کا مقصد یہ کہ یہ عوامی توہمات میں سے ہے اسی لیے اس کے مزعومہ نقشوں میں بیان کی گئی مبہم حدود اور اس سے منسوب پراسرار واقعات میں بے حد اختلاف ہے۔ یعنی یہ صرف عوامی افسانہ (متھ)ہے۔اسی قسم کا ایک افسانہ کچھ لوگوں نے سعودی عرب میں موجود وادی جن کے متعلق بنا رکھا ہے، جس کے متعلق اردو مجلس پر بات ہوئی تھی جب کہ اردن کے ایک صحابی درخت کا قصہ بھی مجلس پر زیر بحث آ چکا ہے۔
    بہرحال اس نفیس مضمون کے لیے دلی شکریہ قبول فرمائیے۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ اردو مجلس پر اہل علم اپنا قیمتی قلمی تعاون پیش کر رہے ہیں۔ جزاکم اللہ خیرا وبارک فیکم۔
     
    Last edited: ‏دسمبر 23, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • متفق متفق x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  5. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    جی اس کے علاوہ جب ہوائی جہاز ، بحری جہاز وغیرہ گم ہو جاتے تھے تو فوری طور پر ان کے غائب ہو جانے اور کوئی اور سبب نہ ہونے کے باعث یہ وقعات پراسرار سمجھے جاتے تھے ۔ لیکن میں ایک کالم پڑھ رہی تھی اور اس میں بتایا گیا تھا کہ آہستہ آہستہ ان تمام جہاز کی حقیقت سامنے آگئی تھی کہ وہ کیوں کریش ہوئے وغیرہ وغیرہ ۔

    http://adventure.howstuffworks.com/bermuda-triangle.htm
     
    • متفق متفق x 1
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    جزاک اللہ خیرا، اس نکتے کے پیچھے بہت سے مسلمان بھی لگے ہیں۔ ہمارے یہاں مسلمان مصنفین کی طرف سے مکمل کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ گویا جی کر اٹھنے پر ایمان بالغیب کافی نہیں۔ سائنس سے اس کو ثابت کیے جانے کی اتنی پیچیدہ کوششیں کی جاتی ہیں کہ سائنس دان زچ ہو کربول پڑتے ہیں کہ جناب سائنس کی ٹانگ مت کھینچیے۔ مجھے ہمیشہ یہی لگتا تھا کہ غلطی ہمارے "اسلامی بھائی" کر رہے ہیں۔ ہمارا عقیدہ ہم سے موت کے بعد دوسری زندگی پر ایمان بالغیب کا تقاضا کرتا ہے۔ قرآن بھی منطقی دلائل دے کر ایمان بالغیب کی طرف بلاتا ہے۔وہ سائنسی دلائل مانگتا ہی نہیں، تو آخر ہم اتنا زور کس بات پر خرچ کر رہے ہیں۔قرآن یہ نہیں کہتا کہ جاؤ جو موت کے منہ سے ہو کر واپس آئے ہیں ان سے پوچھو کہ وہ برزخ کے اس طرف کیا دیکھ کر واپس آئے؟ سائنس بھی ڈاکٹر ریمنڈ موڈی کی باتوں کو سائنسی تحقیق نہیں مانتی، لیکن پھر بھی ہمارے "اسلامی دانش ور" اس نکتے کو ثابت کرنے کے لیے ہلکان ہو رہے ہیں۔ اب یہ حال ہو چکا ہے کہ آپ ذرا اسلامی قسم مجلس میں ہوں تو لوگ اپنے تجربات سنا رہے ہوں گے کہ جب ان کو انستھیزیا دیا گیا تو انہوں نے "اس عالم" کی سیر کی اور کیا دیکھا۔ یوں جیسے انستھیزیا کسی اور کو تو کبھی دیا نہیں گیا۔ صوفیا نے برگ حشیش کے نشے میں جو کشف دیکھے وہی اب ایک ماڈرن عنوان سے پیش کیے جا رہے ہیں ۔ اس مضمون کو دیکھ کر معلوم ہوا کہ درست راستہ یہی ہے۔ سائنس اور مذہب دونوں کا سطحی علم لے کر لوگ کہیں کے نہیں رہے۔ سائنس اور مذہب دونوں کا گہرا علم رکھنے والے ان خرافات سے متفق نہیں۔ ایک مسلمان کے لیےبہتر ہے کہ قرآن وحدیث کی تفصیلات پر ایمان لایا جائے، قرآن میں موجود منطقی دلائل پیش کر دیے جائیں اور سائنس کو خوامخواہ زحمت نہ دی جائے۔
     
    Last edited: ‏دسمبر 24, 2016
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    بہت عمدہ وضاحت ہے۔ ایک مرتبہ ایک دینی جریدے میں مضمون دیکھا جس میں انٹرنیٹ کو دجال ثابت کیا گیا تھا۔ظاہر ہے کہ ایسی "دینی صحافت" نے بھی جہالت کے فروغ کی خدمت کی ہے۔ پتہ نہیں لوگ دینی اصطلاحات اور الفاظ کو اتنا مبہم کیوں سمجھتے ہیں کہ ہر چیز پر اس کا انطباق کر دیتے ہیں ۔ یا پھر یہ باطنیت کے اثرات ہیں کہ ہر لفظ کا کوئی باطنی مطلب ہے جو پوری دنیا سے ہٹ کر ان کو سمجھ آجاتا ہے۔
     
    Last edited: ‏دسمبر 24, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
    جی متفق! ایک مسلک کی طرف سے کچھ کتابیں منظرعام پر آئیں جن میں اس بات پر کافی زور دیا گیا تھا کہ دجال برمودا ٹرائی اینگل میں چھپا ہوا ہے اور وہاں سے اپنا دجالی نظام چلا رہا ہے، وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔

    اسی طرح ہارپ ٹیکنالوجی کی بحث بھی ہے کہ امریکہ موسموں کو تبدیل کر سکتا ہے یا زلزلہ لا سکتا ہے، اس پر بھی رائے دیجئے گا۔
     
    • مفید مفید x 1
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    اردو میں جو کتابیں میں نے دیکھی ہیں وہ نئی بات نہیں۔ ان سے پہلے چارلز برلٹز اسی قسم کا کام ڈریگن ٹرائینگل کے عنوان سے لکھ چکا ہے۔ اس نے جاپان اور فلپائن کے قریب اس مثلث کے ہونے کا دعوی کیا تھا۔ وہ اور جگہ ہے۔ اس طرح کا سنسنی خیزی اور توہمات و خرافات سے بھرا لٹریچر کوئی علمی بنیاد نہیں رکھتا۔ آپ اسی سے دیکھ لیں کہ لوگ اس مثلث کی حدود پر متفق نہیں ہیں۔ کوئی بحرالکاہل میں بتاتا ہے کوئی بحر اوقیانوس میں۔ افسوس ہوتا ہے کہ احادیث کی "عصری تطبیق" کے چکر میں لوگ علم حدیث اور سائنس دونوں کا گلا گھونٹ دیتے ہیں اور توہم پرست عوام جہاں تعویذ اور استخارہ خریدتے ہیں وہاں یہ تطبیق بھی بک رہی ہے۔
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    اس آرٹیکل کے سارے صفحات نہیں دیکھ سکی۔ البتہ میرے سٹوڈنٹس جو کچھ انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا اور اٹلس سے نکال کر لائے تھے اس نے ان کے جوش کو جھاگ کی مانند بٹھا دیا تھا۔
     
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
  12. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    برمودا کے حوالے سے ماہرین کی ایک رپورٹ کچھ عرصہ قبل دیکھی تھی جس میں تحقیق سے یہ ثابت کیا گیا تھا کہ جتنے واقعات مشہور ہیں، سب من گھڑت ہیں. حقیقت سے کوئی تعلق نہیں.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں