دور حاضر میں اسلامی دعوت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ؟

ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏دسمبر 26, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق

    ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2015
    پیغامات:
    212
    دور حاضر میں اسلامی دعوت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ؟

    اگر یہ سوال لوگوں سے کیا جائے کہ موجودہ دور میں اسلامی دعوت کی راہ سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے تو ظاہر ہے کہ لوگوں کا جواب بھی جدا جدا ہوگا۔ کوئی کہے گا کہ غیر مسلم حکومتیں اسلامی دعوت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں تو کوئی غیر مسلم تنظیموں خصوصا تنصیری تنظیموں کو مورد الزام ٹہرائے گا۔ کسی کا جواب ہوگا کہ مسلمانوں کے آپسی اختلافات اور ان کی تفرقہ بازیاں دعوت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ غرضیکہ مختلف لوگوں کے مختلف جواب ہوں گے ۔ اور یہ تمام جوابات بھی اپنی جگہ پر صحیح ہیں ۔ کیونکہ ہر آدمی کا اپنا نقطہ نظر ہوتا ہے جس کے اعتبار سے وہ سوچتا اور جواب دیتا ہے۔ لیکن میرے خیال میں دور حاضر میں اسلامی دعوت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہم مسلمان ۔علماء, حکمراں اور خود عوام ۔ ہیں ۔

    یہ میری اپنی رائے ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بہت سارے لوگ اس سے متفق نہ ہوں ۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے ۔ کیونکہ ہم آج کے دور میں اسلام سے کوسوں دور ہیں ۔ اور اسلام کو اپنی زندگی میں نافذ نہیں کرہے ہیں۔ سیاسی , اقتصادی , حکومتی اور اجتماعی کسی بھی سطح پر اسلام کی مکمل تنفیذ بالکل نہیں ہے ۔ اس طرح سے ہم عملی طور پر غیر مسلوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اسلام کوئی قابل عمل دین نہیں ہے ۔ اس کا نفاذ ممکن نہیں ہے ۔ لہذا تم اس دین کو قبول نہیں کرنا ۔ اور یہی ہمارا طرز عمل بہت سارے غیر مسلموں کے اسلام قبول کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اور کتنے اسی وجہ سے مذہب اسلام میں داخل ہونے کے بعد مرتد ہو چکے ہیں۔ جبکہ ہمارے اسلاف کا طرز عمل اس کے بالکل بر عکس تھا۔وہ اسلام کے صحیح نمونہ تھے بلکہ وہ چلتے پھرتے ہوئے اسلام کے مجسمہ تھے۔ اور یہ ایک ناقابل تردید تاریخی حقیقت ہے کہ لاکھوں لوگ اسلام میں صرف ہمارے اسلاف کے اخلاق سے متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہوئے۔ایک شاعر نے نبی کریم کے بارے میں کیا خوب کہا ہے:

    ظالم سے لیا ظلم کا بدلہ نہ کسی وقت مارا بھی تو اخلاق کی تلوار سے مارا

    اور آج کے دور میں ہم مسلمانوں کی کیا حالت ہے۔یہ کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں ہے جو وضاحت یا شرح کی محتاج ہے ۔ یہ تو بالکل واضح بلکہ اظہر من اشمس ہے اور ہر کوئی اس کا مشاہدہ اس زمانہ میں کر رہا ہے۔بس تھوڑا غور و فکر کرنے , سوچنے اور جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ اور اس کی ابتداء خود ہم اپنی ذات سے کریں۔ہم سوال کریں کہ ہم خود روز مرہ کی زندگی میں اسلام پر کتنا عمل کرتے ہیں؟ کہاں تک اس کے احکامات کو بجا لاتے ہیں؟ ہماری عبادت , عقیدہ, اخلاق , کھانا پینا , رہن سہن , کمائی اور معاملات وغیر کیسے ہیں؟ اس کے بعد یہی سوال اپنے گھر , سماج , ملک ( اگر ہمارا ملک مسلمان ملک ہے) کے بارے میں کریں۔بین الاقوامی طور پر دیگر مسلمان ممالک کے بارے میں کریں۔ حقیقت خود کھل کر ہمارے سامنے آجائے گی۔ مرد , عورت , جوان , بوڑھا , عالم , حاکم ,امیر غرضیکہ معاشرہ کا ہر فرد یہی سوال کرے ۔اور جب یہ علم ہوجائے گا تو اس وقت ہم سب کو یہ احساس ہوجائے گا کہ ہم کیوں اسلامی دعوت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔اسی وجہ سے ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا کی تھی : ربنا لا تجعلنا فتنۃ للذین کفروا ( ممتحنہ/ 5) کہ اے ہمارے رب ہم کو کافروں کے لیے فتنہ نہ بنانا ۔ اور فتنہ کی بہت ساری صورتیں اور شکلیں ہیں جن میں سے ایک اسلام پر ہم مسلمانوں کا عمل نہ کرنا ہے۔
    اب آخر میں اسی سے جڑا ہوا ایک سوال یہ ہے کہ آخر کس طرح مسلمانوں کو اسلام سے جوڑا جائے ۔ اور کس طرح سے ان کو اسلام پر عمل کرنے کے لیے آمادہ کیا جائے؟ بلا شبہ دنیا کے ان تمام ممالک میں جہاں مسلمان ایک اچھی خاصی تعداد میں موجود ہیں مدارس و مساجد قائم ہیں۔ علماء و خطباء بھی ہیں۔ اسلامی درس و تدریس کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ مساجد میں خطبہ کے علاوہ الگ سے دروس بھی دئیے جاتے ہیں۔ دعاۃ بھی اپنا کام کرتے ہیں۔ پھر آخر مسلمان دین پر عمل کرنے میں کوتاہ کیوں ہیں؟ ان میں دن بدن دین سے دوری کیوں بڑھتی جا رہی ہے؟

    بلا شبہ اس کا کوئی ایک سبب نہیں ہے ۔ بلکہ اس کے بہت سارے وجوہات و اسباب ہیں ۔ مثلا غیر اسلامی معاشرہ میں بہت سارے مسلمانوں کا آباد ہونا۔غیر اسلامی ممالک کا لا دینی ماحول۔ علماء کا گرتا ہوا کردار۔مسلمان ممالک کا اسلامی شریعت کو نافذ نہ کرنا۔ بہت سارے گھروں میں اسلامی تربیت کا فقدان۔ اسلامی تعلیم سے عدم دلچسپی اور محرومی ۔ غیر اسلامی خصوصا تنصیری مدارس و جامعات وغیرہ جن کا باریک بینی سے جائزہ لیکر ایک زبر دست اسٹریٹیجی بنانے کی ضرورت ہے ۔ تبھی ہم مسلمانوں کو دین سے جوڑ سکتے ہیں اور ان کو عمل پر آمادہ کر سکتے ہیں۔

    فی الحال میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ غیر اسلامی ممالک میں آباد مسلمانوں کے لیے دعوت و تبلیغ , خطبہ, درس و تدریس کے علاوہ ایک زبر دست تحریک چلانے کی ضرورت ہے جیسا کہ ماضی قریب میں بہت ساری تحریکیں اٹھی ہیں۔ مثال کے طور پر انڈیا میں ایک بار پھر تحریک شہیدین کی ضرورت ہے جو انڈیا کی پہلی اسلامی تحریک تھی اور جس نے بہت زیادہ مسلمانوں میں اسلامی روح پھونک دی تھی۔اور جس نے لاکھوں و کڑوڑوں مسلمانوں کو دین سے قریب کردیا تھا۔اسی طرح ان ممالک کے علماء کو عوام کو سمجھانے اور اتما م حجت کے بعد ان تمام رسوم و رواج کا بائیکاٹ کرنا ہوگا جو شرعا ناجائز ہیں۔ مثلا ان شادیوں میں قطعا شریک نہ ہونا جن میں ناچ گانا وغیرہ ہوتا ہے۔ نکاح بالکل نہ پڑھانا۔اسی طرح اس میت کی نماز جنازہ نہ پڑھانا جو بے نمازی ہو۔جو اپنی بیٹیوں, بہنوں اور لڑکیوں کو حق نہ دیتے ہوں ان کی دعوت نہ قبول کرنا۔وغیرہ۔ اس طرح کی بہت ساری صورتیں ہیں جن پر علماء متفق ہوکے فیصلہ کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے کردار کے علماء کی ضرورت ہے گفتار کے علماء کی نہیں۔

    اب رہے وہ مسلمان جو اسلامی ممالک میں رہتے ہیں۔ تو اس کام کی سب سے بڑی ذمہ داری علماء , دعاۃ, مدارس , مساجد کے علاوہ اسلامی حکومت کی ہے ۔ لیکن افسوس , دکھ و تکلیف کی بات ہے کہ اکثر اسلامی حکومتیں خود اسلام کو نافذ نہیں کرنا چاہتی ہیں۔ معلوم نہیں اس میں کیا مصلحت پوشیدہ ہے جبکہ اسلامی حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری اسلامی احکام و تعلیمات, حدود و تعزیرات کا نفاذ ہے جیسا کہ سورہ حج کی آیت نمبر 41 اور دیگر آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔اور یہ سب سے بڑی وجہ ہے کہ مسلمان اسلامی احکام پر عمل پیرا نہیں ہیں۔کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ حکومتیں عمل کرنے سے منع تو نہیں کرتی ہیں۔ پھر تو یہ مسلمانوں کی غلطی ہے۔ حکومت کا کیا لینا دینا ہے۔لیکن یہ کہنا غلط ہے ۔ اگر حکومت کی یہ ذمہ داری نہ ہوتی توپھر اللہ تعالى اس کی ذمہ داری حکومت پر کیوں ڈالتا؟ اور پھر ہمارے نبی ایک اسلامی حکومت کی بنیاد کیوں ڈالتے؟ اور یہ ایک نا قابل تردید حقیقت ہے کہ مکمل طور سے اسلام کی تنفیذ خصوصا حدود و تعزیرات کی اسلامی حکومت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ لہذا کسی بھی صورت میں ایک مسلمان حکومت اس ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتی ہے۔

    اسی طرح ہم سب انسانی فطرت سے واقف ہیں۔انسانی فطرت ہے کہ وہ بہت ساری چیزوں میں کوتاہی برتتی ہے۔بہت سارے امور کو بروئے کار نہیں لاتی ہے مگر جب اس کو سزا کا خوف ہو ۔حکومت کا ڈر ہو۔ سماج و معاشرہ میں اس کا چلن ہو۔اور یہ کام حکومت ہی کرسکتی ہے ۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ ہزاروں علماء , دعاۃ, مبلغین,مدارس و مساجد, درس و تدریس اور خطبوں کے باوجود بد دینی بڑھتی جا رہی ہے۔بے حیائی عام ہوتی جا رہی ہے۔معاشرہ تباہ و برباد ہورہا ہے۔معلوم ہوا کہیں نہ کہیں خلل ضرور ہے۔ کہیں نہ کہیں کچھ جھول اور کمی ضرور ہے ۔ اور وہ خلل اسلامی حکومتوں کا دین کا عدم نفاذ ہے ۔جو ایک اسلامی حکومت ہی دور کر سکتی ہے۔

    علاوہ ازیں علما, دعاۃ اور مساجد و مدارس کو بھی سماج و معاشرہ میں اپنا حقیقی کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان ممالک میں بھی تحریک چلانی ہوگی۔ جیسا کہ شیخ محمد بن عبد الوہاب نے تحریک چلائی۔اور اگر حکومت تعاون نہیں کرتی ہے تو ان ممالک میں بھی علماء متفق ہوکے ایک پلان تیار کرسکتے ہیں جس میں ناچ گانے والی شادی دعوت کا بائیکاٹ کرنا اور بے نمازی کا نماز جنازہ وغیرہ نہ پڑھانا شامل ہے۔

    اور اگر علماء و حکومت مل کے کام کریں تو یہ سونے پر سہاگہ ہے ۔اس سے ڈبل فائدہ ہوگا اور زبردست و جلدی نتیجہ برآمد ہوگا۔ شیخ محمد بن عبدالوہاب اور ان کی دعوت کو اسی وقت زبردست کامیابی ملی جب درعیہ کے امیر امام محمد بن سعود نے ان کا مکمل ساتھ دیا ۔اور نتائج بھی زبردست اور جلدی نکلے ۔ جب کہ دیگر تحریکوں کو اتنی کامیابی نصیب نہیں ہوئی کیونکہ کسی بھی سیاسی قوت نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے نبی نے ہجرت کی اور مدینہ پہنچ کے ایک اسلامی حکومت کی بنیاد ڈالی ۔

    خیر یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر بہت سارے علماء و دعاۃ مفکرین اور دانشمندوں کو جمع ہوکے پہلے اسباب و وجوہات کا تجزیہ کرنا ہوگا ۔ بعد ازاں اسی کے حساب سے حل تلاش کرنا ہوگا اور پلان تیار کرنا ہوگا تبھی یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے ورنہ نہیں۔

    وما علینا الا البلاغ و آخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین
     
    Last edited: ‏دسمبر 31, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا شیخ۔
    بالکل درست فرمایا۔ سب سے پہلے تو ہمیں انفرادی طور پر اپنے آپ کو مکمل طور پر دین اسلام کے سانچے میں ڈھالنا ہوگا اس کے بعد ہی معاشرے میں اسلامی اقدار پنپ سکیں گی۔
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جزاک اللہ خیرا وبارک فیک۔
    بالکل درست تجزیہ ہے۔
     
  4. ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق

    ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2015
    پیغامات:
    212
    تبصرہ کے لیے آپ سب کا بے حد شکریہ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا شیخ
     
  6. ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق

    ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2015
    پیغامات:
    212
    اللہ تعالى آپ کو بھی جزائے خیر عطا کرے ۔ آمین
     
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,440
    جزاک اللہ خیرا
    اتفاق کرنے یا نا کرنے میں آزادی ہوتی ہے.لیکن جو لوگ اسلام سے زیادہ کوس دور نہیں.ان کا بھی اللہ رب العالمین کے ساتھ تعلق کمزور ہے . خیانت، دھوکہ دہی اور فریب میں سب سے آگے ہیں. اخلاص نام کی کوئی چیز نہیں. اگر لوگ اسلام سے دور تھے تو کس نے پہنچانا تھا. جن کی ذمہ داری تھی وہ غفلت میں گہری نیند سو رہے ہیں. اللہ ہدایت دے
     
  8. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
    دور حاضر میں اسلامی دعوت کی راہ میں ایک چھوٹی سی رکاوٹ میرے خیال میں یہ بھی ہے کہ مغرب والے جو عقل و دانش کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے ہیں وہ اپنے جھوٹ کو بھی سچ 'ثابت' کر لیتے ہیں اور ہمارا سچ بھی ان کے نزدیک ایک گئی گذری سی چیز ہے۔
    اہل مغرب جو بھی دعویٰ کرتے ہیں عمرانیات، سائنس، اقتصادیات میں وہ ہم میں سے اکثر مسلمانوں کے لیے ناقابل تردید ہوتا ہے کیونکہ ہم میں سے اکثر ان کے علمی دعووں کو چیلنج کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ الا ما شاء اللہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    ناقابل تردید تو نہیں ہوتا لیکن ہم لوگ علمی سطح پر آ کر تردید کرنے کی بجائے میدان سے فرار ہو جاتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  10. ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق

    ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2015
    پیغامات:
    212
    در اصل جب کوئی قوم مغلوب ہوتی ہے اور اس پر زوال آتا ہے تو اس کی فکر بھی ماری جاتی ہے ۔ اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم ان سے فکری طور پر مغلوب ہیں اور ان کی ہر چیز کی تصدیق کرتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اسلامی دنیا میں تقریبا ہر جگہ ان کی ہی کتابیں نصاب تعلیم میں داخل ہیں۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں