اسلامی انقلاب مگر کیسے

ابوھریرہ فاروقی نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏دسمبر 27, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوھریرہ فاروقی

    ابوھریرہ فاروقی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 7, 2016
    پیغامات:
    8
    Home Urdu Articles Religion Articles
    اسلامی انقلاب مگر کیسے؟
    (ابوھریرہ فاروقی, احمدپور شرقیہ)

    دین اسلام کا انقلاب کیسے ممکن ھے؟
    بسم اللہ الرحمن الرحیم..
    الحمدللہ رب العالمین.والصلوۃ والسلام علی خاتم الانبیاء والمرسلین.اما بعد...
    ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ وکفی باللہ شھیدا...
    وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم..صنفان من الناس اذا صلُحا صلُح الناس واذا فسدا فسد الناس..جامع العلوم وفضلہ لابن عبدالبر وسندہ حسن.....
    دلیل صبح روشن ھے ستاروں کی تک تابی...........
    اُفق سے آفتاب ابھرا گیا دَورِ گراں خوابی..................
    السلام نے فلسفہ حیات کا مکمل نقشہ پیش کردیا-اسی مذھب میں امن وسلامتی رحمت وھدایت برکت ونصرت اور الفت ومحبت کا سامان موجود ھے.جو لوگ اسلام کو وحشیانہ کہتے ھیں وہ ختم اللہ علی قلوبھم کا مصداق بنے ہوئے ھیں.
    انہیں عربوں کی زندگی کا انقلاب نظر نھیں آتا کہ اسلام نے انتقامی کاروائی خاندانی عداوت کینہ پروری ظلم وستم اور دختر کشی جیسی دستورِ مذموم کو مٹایا ہر طرف اڑنگ بڑنگ کی کیفیت تھی اسلام نے اڑی بھیڑی میں کام آنا جیسا کردار ادا کیا..کسی نے کہا تھا....
    آئینِ نَو سے ڈرنا طرزِ کوہ پہ اَڑنا.........
    منزل یہی کٹھن ھے قوموں کی زندگی میں....
    قارئینِ کرام........
    اسلام اگر جلوہ گر نہ ھوتا تو شاید آج بھی انسانیت اور شائستگی سے روشناس نہ ھوتی. اسی اسلام نے مساوات امدادِ باھمی اور علمی جدوجہد کا درس دیا.جس سے قوموں کے افکار ونظریات بدلے احساسات وتخیلات میں انقلاب آیا.اور آج نوعِ انسانی کے ساتھ ھمدردی کی جو تحریکیں جاری ھیں وہ اسی تعلیماتِ اسلامیہ کی مرھونِ منت ھیں.اسلام ایک ایسا قانونِ لازوال ھے جو رونما ھوکر حکومتی نظاموں میں انقلاب لایا اور دنیا کے اقتصادی نظاموں کو تبدیل کردیا.انقلابی قواعد بیان کرتے ہوئے اِعْدِلوا کا فرمان جاری کیا تو کبھی وتعاونوا علی البر والتقوی کا انعام دیا اور کبھی یرفع اللہ الذین آمنوا منکم والذین اوتوا العلم درجٰت کی خوشخبری سنائی....
    اسی اسلام نے ایسے انقلابی اقدامات کئے کہ دنیا کی تہذیب وتمدن ثقافت وکلچر میں تبدیلی آگئی..
    داعی اسلام اگر پَتّوں اور چھال کی بنی مسجد کے ممبر پر وحی الٰہی کا ترجمان تھا تو انسانی سعادت وہدایت کا واعظ بھی تھا.
    اسی کے صحن میں یمن کا خراج تقسیم ھوتا اور فوجوں کو میدانِ جنگ میں بھیجنے کیلئے سپہ سالارِ لشکر بھی تھا.وہ ایک ہی وقت میں نظام معاشرت کرتا تھا اور نکاح وطلاق کے قوانین بھی نافذ کرتا.اگر بدر کے کنارے دشمنوں کے حملے روکتا تو دوسری طرف مکہ کی گھاٹیوں سے ایک فاتح حکمران کی حیثیت سے رونما بھی ھوا.
    کبھی حالاتِ حاضرہ کے پیش آمدہ مسائل کو دیکھتے ہوئے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو مُحْدَث کا مقام دیا کبھی العلماء ورثۃ الانبیاء کا تحفہ دیا تو کبھی مبشراتِ صادقہ کو نبوت کا چالیسواں حصہ بتایا اور کبھی حکومت وسلطنت نظام وقوام سیاست وقیادت فوج وحرب فتح وعمرانِ ممالک وریاست.مجالسِ شوری جہانبانی وحکمرانی کے تمام مناصب یکجا مُجْتَمِع کرنے کیلئے علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین کے قواعد بتلائے.کہ ایک ہی وقت میں صاحبِ امامت وخلافت بھی ھو صاحبِ اجتہاد وقضا اور صاحبِ سیاست ونظمِ احکام وبلاد بھی ھو ورنہ لاتنازعوا فتفشلوا وتذھب ریحکم کی تنبیہ بھی فرما دی....
    ہاں معاشرتی انقلاب ایک ہمہ جہت تبدیلی ھے جو ہر دور میں وقوع پزیر ھوئی. دورِ قدیم میں مصری تہذیب نے دنیا پر راج کیا اڑھائی ہزار برس قبل یونان نے اپنی تہذیب دنیا کو منوائی انہیں افکار کی بنیاد پر رومیوں نے دنیا کی تہذیب پر حکمرانی کی قرونِ اولی میں مسلمانوں کے اھل علم ودانشوروں نے رومی ویونانی علوم کو عربی میں منتقل کرکے علم وتحقیق کے ذریعے قابل قدر برتری حاصل کی اور دنیا میں بارہ سو سال تک اپنی تہذیب کا سکہ جمایا جس میں تعلیماتِ اسلامیہ کا اثر تھا.معاشرے میں انقلاب آتا ھے تو غالب قوم ہر طرح سے مغلوب پر غلبہ پالیتی ھے.جس کے نتیجے میں ان اقوام کے رسوم و رواج ادب لباس رہن سہن کے انداز تہذیبی اقدار صلح وجنگ کے قوانین شہری زندگی کے آداب غرض دنیا کا ہر شعبہ بری طرح متاثر ھوتا ھے.آج ھمارا معاشرہ سائنس وٹیکنالوجی اور اھل مغرب کے علوم سے متاثر ھے. جن علوم کی بدولت الیکٹرانک میڈیا الیکٹرونکس اور ذرائع ابلاغ جیسی ایجادات سے دنیا سمٹ کر گلوبل ویلج کی شکل اختیار کر گئی.اور انسانی زندگی میں تبدیلی پیدا کردی سماجی علوم کی بدولت جمھوریت اور فلاحی ریاست جیسے تصورات سامنے آئے.سیاسی عوامل معاشرے کی تبدیلی میں ایک فیصلہ کن حیثیت رکھتے ھیں. جب مسلمان کی سیاست پر قابض تھے رستمِ فارس حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے اپنے چند سانسوں کی بھیک مانگتا نظر آیا معاشی عوامل کی بدولت جب مسلمان تجارت کی غرض سے دوسرے ممالک کا سفر کرتے تو اپنے افکار ونظریات اور تہذیب وثقافت کے بھی ترجمان تھے.آج اسی طریقے سے امریکہ ساری دنیا پر چھایا ھوا ھےکسی شاعر نے اسلامی انقلاب کو یوں خراجِ تحسین پیش کیا...
    انسان کو شائستہ وخدار بنایا.........
    تہذیب وتمدن تیرے شرمندہ احسان....
    آج اگر اسلامی انقلاب اور عالمگیر پیشوائی وقیادت چاھتے ھو تو آؤ قرآن کی طرف نبی علیہ السلام کے فرمان کی طرف...
    اسلامی تہذیب وتمدن معیشت ومعاشرت سیاست وقیادت جہانبازی اور حکمرانی کیلئے توحید باری تعالی کی صدائیں گونجیں گی اللہ کی وحدانیت کا ڈنکا بجے گا شریعتِ محمدیہ کا نفاذ ھوگا اسلام اپنی اصل شکل میں نمودار ھوگا تب قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا تملکوا العرب والعجم کی پیشین گوئی واضح ھوگی.
    امام مالک رحمہ اللہ نے اسلامی کا نقطہ نظر بیان کیا.
    لا یصلح آخر ھذہ الامۃ الا بما صلح بہا اولہا..
    اور اس کیلئے قرآنی شہادتیں بھی نوٹ کیجئے...
    ادخلوا فی السلام کافۃ اسلامی انقلاب کا راز ھے.
    شرع لکم من الدین اگر منشور ھے تو کتب اللہ لاغلبن انا ورسلی کا وعدہ ھے.
    قاتلوھم یعذبھم اللہ بایدیکم کا نفاذ ھوگا وقاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ کی یلغار ھوگی.
    اعدوا لھم ما استطعتم بہ من قوۃ کا عملی شہکار ھوگا. تو عرشِ معلی سے جآء الحق وزھق الباطل ان الباطل کا زھوقا کا اعلان ھوگا.
    اسلامی انقلاب کیلئے استغفروا ربکم ثم توبوا الیہ کو اپناؤ گے یرسل السمآء علیکم مدرارا کے بدلے پاؤ گے.
    کبھی ربِ قدوس اسلامی انقلاب کے اصول وضع کرتے ہوئے فلاتھنوا ولا تحزنوا وانتم الاعلون کے فرمان جاری کئے تو کبھی ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم کے قانون سمجھاٰئے.
    اور آخر میں محبوب کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی انقلاب کا فلسفہ یوں بیان فرمایا.
    ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بھما کتاب اللہ وسنۃ رسولہ..........
    بقول شاعر........
    مکہ سے دینِ حق کا پرستار آگیا.........
    بکھرے ھوؤں کا منتظمِ کار آگیا........
    بھٹکے ھوؤں کا قافلہ سالار آگیا.........
    تھا جس کا انتظار وہ شہکار آگیا.........
    وما علی الا البلغ المبین......
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں