علمی متون کو کیسے حفظ کریں؟

ابوعکاشہ نے 'عربی علوم' میں ‏دسمبر 27, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,063
    علمی متون کو کیسے حفظ کریں؟
    ____________________
    تحریر: شیخ عبدالمحسن القاسم، امام وخطيب مسجد نبوی

    ترجمہ: عبدالغفار سلفی، بنارس

    تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، درود وسلام ہوں ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر اور آپ کے تمام آل وأصحاب پر.
    علم اس سے بالاتر شے ہے کہ اس کا احاطہ کیا جا سکے. عقلمند شخص اس چمن سے گلہائے رنگا رنگ چن لیتا ہے. ہوشیار انسان اچھی چیزیں سنتے ہی انہیں لکھ لیتا ہے اور جو بھی اچھی چیزیں لکھتا ہے انہیں حفظ کر لیتا ہے اور جو بہترین چیزیں وہ حفظ کرتا ہے انہیں موقع محل کے اعتبار سے بیان بھی کرتا ہے. ایک عالم صحیح معنوں میں عالم بن ہی نہیں سکتا جب تک وہ متون حفظ نہ کرے. شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: " من حفظ المتون حاز الفنون" (جس نے متون کو حفظ کر لیا اس نے تمام فنون پر گرفت حاصل کر لی). (امام ابو عبداللہ محمد بن علی) الرحبی (علم فرائض پر اپنے شہرہ آفاق متن الرحبیۃ میں) فرماتے ہیں :
    والثلثان وهما التمام*** فاحفظ فكل حافظ إمام
    (اور فرائض کے حصص میں سے ایک حصہ دو ثلث ہے اور یہی حصہ کامل ترین ہے. تم ان سب چیزوں کو حفظ کر لو، کیونکہ ہر حفظ کرنے والا شخص ہی امام بنتا ہے.)
    کسی بھی علمی میدان میں آدمی تب تک پختگی حاصل نہیں کر سکتا جب تک کہ اس علم کے اصولوں کو حفظ نہ کر لے. علماءِ امت نے علن وفن کے ہر شعبے میں بھرپور کام کیا ہے. لہذا آپ کسی بھی علم میں جو اہم، ضروری اور مفید چیزیں ہیں انہیں اخذ کیجیے اور ہر فن میں کسی مختصر کتاب کو حفظ کر لیجیے. شیخ الاسلام فرماتے ہیں: وليجتهد أن يعتصم في كل باب من أبواب العلم بأصل مأثور عن النبي صلى الله عليه وسلم" کوشش یہ کرے کہ علم کے ہر باب میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے منقول کسی اصل کو مضبوطی سے پکڑ لے".
    اس کے بعد مفصل کتابوں کا رخ کیجیے اور ان میں مہارت حاصل کیجیے. علم کو اہل علم سے حاصل کیجیے یعنی ایسے استاذ سے علم حاصل کیجیے جو علم و عمل کے اعتبار سے قابل اقتدا ہو. امام محمد بن سیرین فرماتے ہیں :
    " إن هذا العلم دين فانظروا عمن تأخذون دينكم"
    " (شرعی) علم بذات خود دین ہے، لہذا اچھی طرح سے دیکھ بھال لو کہ دین کس سے حاصل کر رہے ہو"
    بہترین علم وہ ہے کہ جس کے اصول کو ضبط کر لیا جائے اور فروعات کو یاد رکھا جائے.

    متون میں سے کس کو یاد کروں
    طلبِ علم کا آغاز اس سے کیجیے کہ کتاب اللہ کو مضبوطی اور تدبر وتفکر کے ساتھ حفظ کر لیجیے. اس کے بعد عقیدہ سے متعلق متون یاد کر لیجیے اس لیے کہ عقیدے کی صفائی سے نیت صحیح ہوتی ہے، خواہشات کو لگام لگتی ہے، عمل میں برکت ہوتی ہے اور انسان کا ذکر عرصے تک برقرار رہتا ہے. پھر اس کے بعد مختلف فنون کے متون حفظ کر لیجیے جیسے تجوید، مصطلح الحديث، حدیث، فقہ، اصول فقہ، فرائض، نحو اور آداب وأخلاق. یہاں ہم آپ کے لیے فنون کے اعتبار سے چند اہم متون کا علی الترتیب ذکر کر رہے ہیں :

    1- قرآن کریم:
    قرآن کے حفظ کے دوران صرف اسی پر اکتفا مت کیجیے بلکہ ساتھ میں دیگر فنون کے متون بھی حفظ کرتے رہیے.
    2-تجوید:
    تجوید میں جمزوری کی نظم " التحفۃ" حفظ کر لیجیے. اس میں 611 اشعار ہیں.
    3-عقیدہ:
    عقیدہ میں تسلسل کے ساتھ درج ذیل متون حفظ کیجیے.
    نواقض الإسلام ، القواعد الأربع ، ثلاثة الأصول ، كتاب التوحيد، یہ چاروں متون شیخ محمد بن عبدالوهاب کے ہیں. العقیدۃ الواسطیۃ جو شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ کی تالیف ہے، العقیدۃ الطحاویۃ
    4- مصطلح الحديث:
    اس فن میں "البیقونیۃ" حفظ کر لیجیے جس میں 34 اشعار ہیں، نیز ابن حجر کی "نخبۃ الفکر" حفظ کیجئے.
    5- حديث
    حدیث کے یہ متون یاد کر لیجیے. الأربعون النوویۃ، عمدۃ الاحکام، بلوغ المرام
    6- اصول فقه
    (امام جوینی کی) متن الورقات حفظ کر لیجیے.
    7- فقہ:
    فقہ میں یہ متون حفظ کیجیے:
    شیخ محمد بن عبد الوهاب کی شروط الصلاۃ، امام حجاوی کی زاد المستقنع جس میں فقہی احکام کے خلاصے بیان کیے گئے ہیں اور متعدد مسائل پر مشتمل ہے.
    8- فرائض:
    فرائض میں متن "الرحبیۃ" حفظ کر لیجیے. اس میں 176 اشعار ہیں.
    9- نحو:
    نحو میں آجرومیہ اور الفیہ ابن مالک یاد کر لیجیے.
    10- آداب واخلاق:

    ابواسحاق اندلسی کی نظم یاد کر لیجیے. یہ ایک بہترین اور مختلف احکام پر مشتمل نظم ہے، اس میں 115 اشعار ہیں. اس کا مطلع یہ ہے :
    تفت فؤادك الأيام فتا
    وتنحت جسمك الساعات نحتا
    (حوادث ایام اور گردش زمانہ تمہارے جسم وجاں کو کمزور کر رہے ہیں)

    مجھے بتدریج (step by step) وہ متون بتلائیں جو میں حفظ کر سکوں؟
    قرآن کریم ،نواقض الإسلام ،القواعد الأربع، الأصول الثلاثۃ ، التحفة في التجويد،البيقونية،الأربعون النووية ،كتاب التوحيد،الآجرومية،شروط الصلاة ،الواسطية، الطحاوية،الرحبية،نخبة الفكر،عمدة الأحكام ،بلوغ المرام، زاد المستقنع،ألفية ابن مالك،متن الورقات،منظومة الألبيري في الآداب.

    متون حفظ کرنے کا طریقہ
    اگر حدیث کے متون حفظ کرنے ہوں تو روزانہ تین احادیث سے زیادہ حفظ نہ کریں. اور اگر نثر حفظ کرنا ہو تو تین سطور سے زیادہ حفظ نہ کریں. اگر نظم حفظ کرنی ہو تو تین اشعار سے زیادہ یاد نہ کریں. اس طریقے سے وقت تو لگے گا لیکن حفظ بہت مضبوط ہوگا. حفظ میں طریقہ یہ اپنائیں کہ جو چیز آپ کو حفظ کرنی ہو اسے فجر بعد بیس مرتبہ دہرائیں اور عصر بعد بھی بیس بار دہرائیں. مثال کے طور پر اگر آپ کو الفیہ ابن مالک یاد کرنی ہو تو نئے اشعار یاد کرنے سے پہلے ان اشعار کو بیس مرتبہ پڑھیے جنہیں آپ نے کل یاد کیا تھا. پھر الفیہ کے شروع سے یاد کیے ہوئے تمام اشعار پڑھیے یہاں تک کہ آپ اس مقام پر پہنچ جائیں جہاں سے آپ کو نئے اشعار یاد کرنے ہے. یہی عمل روزانہ دہرائیے، اس طرح حفظ بالکل مضبوط ہو جائے گا. جو بھی متن حفظ کرنا ہو اس میں یہ طریقہ اپنائیں. ساتھ ہی ساتھ یہ پابندی کریں کہ مطالعہ جاری رکھیں، حفظ ومراجعہ کرتے رہیں، علماء کی مجلسوں میں شامل ہوں اور مشکل مسائل کے سلسلے میں ان سے رجوع کرتے رہیں.
    ابو اسحاق شیرازی ہر سبق کو سو مرتبہ دہرایا کرتے تھے. کیّا الھراسی ستر مرتبہ دہرایا کرتے تھے. ذیل کا واقعہ پڑھیے جس سے آپ کو پتہ چلے گا کہ تکرار واعادہ نہ کرنے سے یاد کی ہوئی چیز بہت جلد بھول جاتی ہے.

    ابن الجوزی علم کو حفظ کرنے پر ابھارتے ہوئے فرماتے ہیں :
    حسن بن ابی بکر نیشاپوری نے بیان کیا کہ ایک فقیہ نے سبق کو اپنے گھر پر کئی مرتبہ دہرایا، گھر میں موجود ایک بوڑھی عورت نے کہا: اللہ کی قسم یہ تو مجھے بھی یاد ہو گیا. فقیہ بولا سنائیے عورت نے سنا دیا. کچھ دنوں کے بعد فقیہ نے اس بوڑھی عورت سے کہا: ذرا مجھے وہ والا سبق سنائیے،عورت بولی وہ سبق اب مجھے یاد نہیں رہا. فقیہ بولا: میں بار بار اسی لیے دہراتا ہوں تاکہ جو تمہارے ساتھ ہوا وہ میرے ساتھ نہ ہو. "
    لہذا حفظ کو مضبوط کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ بار بار دہرایا جائے بلکہ حفظ نام ہی ہے بار بار دہرانے کا.

    متون کا مراجعہ کیسے کریں؟
    جب آپ مختلف فنون کے متون حفظ کر لیں تو ہر مہینے ان کا مراجعہ کریں تاکہ وہ اور مضبوط یاد ہو جائیں، مستحضر رہیں اور آپ وقت پڑنے پر فوراً استدلال کر سکیں.
     
    • مفید مفید x 5
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    537
    مفید
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,063
    نحو میں آجرومیہ آسان کتاب ہے ۔ اگر آپ اس کا متن یاد کرچکے ہیں ۔ عربی کچھ نا کچھ سمجھ لیتے ہیں تو شرح کے لئے شیخ د . سليمان العيوني حفظ اللہ سے استفادہ کریں ۔ بہت مفید شرح ہے ۔

    • شرح متن الآجرومية - الدرس الأول - د . سليمان العيوني

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    905
    جزاک اللہ خیرا
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  5. انا

    انا ناظمہ خاص انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,063
    ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ !اللہ کی معرفت ،اس کی محبت اور ذکر سے روح کو اس وقت سکون حاصل نہیں ہو سکتا ،جب تک اسماءصفات کو اچھی طرح جان لے اور اس کا علم حاصل نا کرلے (الکافیۃ الشافیۃ)،(یعنی یہ مطلقا قاعدہ ہے کہ اسماءصفات کا علم سلف صالحین کی تشریح کی روشنی میں جانے بغیر اللہ کی پہچان ممکن نہیں ۔)
    اسماءصفات اللہ عزوجل کا علم حاصل کرنے کے لئے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب عقیدہ واسطیہ عظیم کتاب ہے ۔
    اس کی بہت سی شروح لکھی گئی ہیں ۔ان میں بہترین شرح سابقہ مفتی سعودی عرب محمد بن ابراھیم آل شیخ رحمہ اللہ (سابق مفتی ابن باز رحمہ اللہ کے شیخ تھے)۔کی شرح ہے
    کتاب یہاں سے ڈاؤن لوڈ کریں
    https://islamhouse.com/ar/books/203415/
    شرح آڈیو فائل ارشیف پر موجود ہے ۔
    https://archive.org/details/Char7-3a9ida-wasitia-Mohamad-Al-HamadUp-By-MusleM
    امام و خطیب مسجدنبوی عبدالمحسن القاسم حفظ اللہ کی شرح مختصر،مفید ہے ۔
    http://alfiqh.net/شرح-الواسطية-عبد-المحسن-القاسم/
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں