ہمارے پڑوسی

بابر تنویر نے 'ادبی مجلس' میں ‏دسمبر 29, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    عجیب پڑوسی تھے ہمارے۔ یہ تو ان کا روزانہ کا معمول تھا۔ جہاں مغرب کا وقت ہوا یا مغرب سے کوئ 15 بیس منٹ پہلے۔ انہوں نے دھما چوکڑی مچانا شروع کردی۔ اور ہمارا سکون برباد کر دیا۔

    یہ اب سے کوئ چھ سال پہلے کی بات ہے۔ صاحبزادے کے ایکسیڈنٹ کے بعد ہمیں مجبورا اپنی رہائش کو تبدیل کرنا پڑا کیونکہ صاحبزادے کے لیے سیڑھیاں چڑھنا ممکن نہیں رہا تھا۔ اور ہمارا فلیٹ دوسری منزل پر تھا اور اس میں لفٹ نہیں تھی۔ ہمیں کسی ایسی بلڈنگ کی تلاش تھی جس میں لفٹ وغیرہ ہو۔ بہرحال کسی دوست کے ذریعے ہمیں یہ فلیٹ مل گيا جو کہ ایک پانچ منزلہ عمارت کے چوتھے فلور پر تھا۔ بلڈنگ کافی حد تک پرانی تھی لیکن فلیٹ بڑا تھا اور ہماری ضروریات کے مطابق تھا۔ اور کرایہ بھی مناسب تھا۔

    یہاں شفٹ ہونے کے بعد ایک بات جو کہ ہمارے لیے کافی تکلیف کا باعث تھی وہ یہ کہ شام ہوتے ہیں ہمارے اوپری فلیٹ سے بچوں کے دوڑنے اور چارپائ وغیرہ ادھرسے ادھر گھسٹینے کی آوازیں آنا شروع ہو جاتیں اور یہ آوازیں کوئ آدھ گھنٹے تک جاری رہتیں اور اس کے بعد سکون ہوجاتا۔ اس فلیٹ یعنی ہمارے اوپر والے فلیٹ میں ایک لبنانی فیملی رہتی تھی جن کے تین چار بچے تھے۔ ہم سمجھے کہ یہ بچوں کی ہی کارستانی ہوگي۔ ہم نے ان کے والد وغیرہ سے شکایت اس لیے نہیں لگائ کہ بچے ہیں سمجھانے کے باوجود یہ کام کریں گے تو کیا فائدہ ان کی شکایت کرنے کا۔ بہر یہ ہر روز کا قصہ تھا۔

    کوئ چھ مہینے کے بعد ہم نے ویسے ہی چوکیدار سے بات کی کہ اوپر والوں کے بچے روز شام کے وقت اودھم مچاتے ہیں۔ اس نے جو جواب دیا وہ ہمارے لیے قطعا غیر متوقع تھا۔

    کہنے لگا " صاحب آپ کو معلوم ہے کہ سکولوں میں گرمیوں کی چھٹیاں ہیں اور وہ لوگ تو لبنان گۓ ہوۓ ہیں" آج کل تو وہ فلیٹ خالی ہے۔

    وہ تو یہ کہہ کر خاموش ہوگيا لیکن ہمیں حیرت کے سمندر میں غرق کر گیا۔ یہ کیا مسئلہ ہے ؟ جب وہاں کوئ نہیں رہتا تو وہ آوازیں کہاں سے آتی ہیں؟ پھر ہم نے بلڈنگ کے دوسرے مکینوں سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ اس بلڈنگ میں کوئ اور مخلوق بھی رہتی ہے. اور یہ بھی کہ ان میں اکثر نے انہیں دیکھا بھی ہے۔ لیکن وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ یہ سن کر مجھے اپنے اس مشاہدے کے جواب بھی مل گيا جو کہ اس بلڈنگ میں آکر مجھے اکثر ہوتا رہا تھا۔

    ڈائننگ ٹیبل پر کھانا کھاتے ہوۓ اکثر ایسا محسوس ہوتا کہ کوئ ایک کمرے سے دوسرے کمرے یا پھر کمرے سے کچن وغیرہ کی طرف بھاگتے ہوۓ گیا ہے۔اس سے پہلے میں اسے ایک واہمہ ہی سمجھتا رہا تھا لیکن پھر معلوم ہوا کہ اس مشاہدے میں حقیقت تھی۔

    خیر ہم اس بلڈنگ میں کوئ دو سال رہے. اور روزانہ مغرب کے وقت وہی بچوں کے بھاگنے اور چارپائیوں کے گھسیٹنے کا سلسلہ جاری رہا۔ پھر ایک دن معلوم ہوا کہ ایک بینک نے وہ بلڈنگ خرید لی ہے اور ہمیں وہ فلیٹ خالی کرنا پڑے گا۔ بینک والوں نے اس بلڈنگ کو ڈھا کر وہاں اپنے اسٹاف کے لیے دو منزلہ کار پارکنگ بنا دی ہے۔ اکثر جب بھی وہاں سے گزر ہوتا ہے تو ذہن کے پردے پر وہ تمام واقعات ایک تصویر کی طرح چلنا شروع ہو جاتے ہیں۔
     
    Last edited: ‏دسمبر 29, 2016
    • دلچسپ دلچسپ x 6
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • تخلیقی تخلیقی x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,432
    زبردست ۔ اچھے پڑوسی تھے ۔ ضرور نجدی رہے ہوں گے ۔ نجدی نقصان نہیں پہنچاتے : )
    اس طرح کے پڑوسیوں سے ہمارا واسطہ بھی پڑ چکا ہے ۔۔
    ناممکن ۔ انہیں بس محسوس ہوا ہو گا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. Abdulla Haleem

    Abdulla Haleem رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 19, 2014
    پیغامات:
    119
    جناب بابر تنویر۔ السلام علیکم۔ اس وقت یہاں رات کا ایک بجا ہے۔اور پڑھ کر تو رونگٹے کھڑے ہوگئے۔

    یہ کیا ماجرا ہے جناب۔ کچھ معلومات کا اضافہ کی جئے گا۔ شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  4. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    ماجرا تو شائد میری تحریر سے مکمل طور پر واضح ہو چکا ہے۔ جنات بھی اللہ تعالی کی مخلوق ہیں اور کوئ بعید نہیں کہ اس بلڈنگ میں جنات رہتے ہوں۔
     
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    ایسی تحریر کے شروع میں کمزور دل لوگوں کے لیے کوئی تنبیہ ہونی چاہیے۔ اللہ خیر کرے اب تو پتہ سرسراتا ہے تو پڑوسیوں کا گمان ہوتا ہے۔
     
    • متفق متفق x 2
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  6. شرجیل احمد

    شرجیل احمد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جون 19, 2017
    پیغامات:
    56
    اپنی زندگی کی ۳۵ بہاریں گزار چکنے کے باوجود تاحال اس طرح کے مشاہدہ سے محروم ہوں باوجود اس کے کہ یہ موضوع بچپن سے ہی میری دلچسپی میں شامل رہا ہے۔ تھوڑا بڑا ہوا تو قرآن پاک کی سورہ جِنّ کا ترجمہ اور تفسیر پڑھ کر تجسس میں مزید اضافہ ہوا۔ آج تک سوچتا ہوں کہ قرآن پاک کی معرفت ضروری ہے تو اس غیرمرئی مخلوق کی معرفت بھی ھونی چاھیے۔ خیر قبرستانوں، ویرانوں، کھنڈرات ، چاند کی آخری تاریخوں کی راتوں میں بہت جگہوں پر خاک چھانی لیکن ماسوائے کتے بلیوں کے کسی ایسی ویسی چیز سے تاحال واسطہ نہیں پڑا۔ بلکہ بعض لوگوں نے اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے بھونڈی حرکتوں تک کا مظاہرہ کیا۔ ایک گھر میں آفس کولیگ کے کہنے پر جب قیام کیا کہ بقول پورے علاقے کے وہاں سایہ ہے اور تین دن کچھ بھی نہ ہوا تو کولیگ صاحب نے اپنے بچوں کے ساتھ مل کر گھر کے دروازے پر سنگ باری شروع کر دی کہ گویا جنات پتھر مار رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک مسجد کے بارے مشہور تھا تو جب وہاں اعتکاف بیٹھا تو وہاں کے مولوی صاحب نے میری چیزیں غائب کر کے جنات پر الزام دھر دیا جو بعدازاں ان کے گھر ہی سے برآمد ہوئیں۔ اکثر میں سوچتا ہوں کہ اس طرح کی پُراسرار باتوں میں لوگ مبالغہ آرائی کچھ زیادہ ہی کر دیتے ہیں۔ جب سننے والا آگے سناتا ہے تو وہ مزید مرچ مسالحے لگا کر آگے بات پہنچاتا ہے کہ اگلا انسان واقعی ڈر جائے۔ اور وہ اگلا انسان مزید اضافے لگا کر بات کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتا ہے کہ الامان الحفیظ ۔

    کچھ سال پہلے چند مشہور عاملوں کی زیرنگرانی وظائف اور چلّے تک کاٹ کر دیکھ لیے لیکن بے سود ۔ عامل صاحبان میرے عمل کی تاثیر نہ ہونے کا قصوروار مجھے ہی ٹھہراتے تھے کہ تم توجہ سے عمل نہیں کرتے حالانکہ جب ایسا عمل کیا جا رہا ہو اور دیواروں پر کالی چادریں ڈال کر لوبان و اگربتی کی مہک پھیلا کر لائٹ بند کر کے پُراسرار ماحول بنا کر صرف ایک دیے کی روشنی میں جلالی عمل کیا جائے تو کیسے ہو سکتا ہے کہ توجہ ادھر ادھر ہو سکے۔

    ایک بار میری ملاقات ایک شادی کی تقریب میں ماہرنفسیات ڈاکٹر ریاض بھٹی سے ہوئی۔ ان کا مؤقف بڑا دلچسپ تھا کہ جنات وغیرہ انسانوں پر حملہ نہیں کرتے ۔ سب نفسیاتی بیماریاں ہوتی ہیں۔ سائنس آج ستاروں پرکمندیں ڈال رہی ہے ، زمین کی ہزاروں فٹ گہری تہوں تک پہنچ گئی ہے تو کیسے ممکن ہے کہ جنات کو پانے میں تاحال ناکام ہے۔

    واللہ اعلم بالصواب
     
  7. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    درست فرمایا بھائی ۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے خواتین و حضرات نفسیاتی امراض كے شکار ہوتے ہیں اور الزام بیچارے جنوں وغیرہ پر لگا دیا جاتا ہے ۔ م
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,432
    ایسا نہیں. مطلقاً جنات، ان کے افعال کا انکار ممکن نہیں. نا ہی شریعت محمدیہ میں ایسی کوئی بات موجود ہے. واللہ اعلم .ایسی دعائیں موجود ہیں جن میں ان کے شر سے پناہ مانگنے کی تاکید کی گئی ہے، آپ کا کیوں واسطہ نہیں پڑا، شاید آپ کوئی ولی وغیرہ ہیں : ).
    اس میں کوئی شک نہیں کہ جناب، یہ نظر نا آنے والی مخلوق صرف انہی لوگوں کے قریب ہوتی ہے. جو ضعیف ایمان والے یا ایسی مخلوق سے ڈرتے ہیں. یا دین سے دور رہتے ہیں.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,432
    اس طرح کا واقعہ ہمارے ساتھ بھی پیش آچکا ہے. شیئر کردیتے ہیں.
    تقریباً بیس سال پرانی بات ہے. سالانہ امتحان قریب تھے.کسی وجہ سے میں اپنے گھر شفٹ ہو گیا. بڑا گھر تھا. مگر غیر آباد تھا. اس کے ایک طرف آموں کا کئی ایکڑ پر پھیلا باغ تھا. آم کے درخت کی ٹہنیاں چھت پر سایہ فگن رہتی تھیں. رہائش کے لئے درمیانی کمرے کا انتخاب کیا. پہلی رات ہی گیارہ بارہ بجے کے قریب چھت پر گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں . اورہھر جیسے ریس شروع ہو گئی. کم عمری میں خوف فطری تھا. اور پھر سخت سردی میں پسینے سے شرابور ہوگیا.. ایک خیال آیا واپس چلا جاؤں. مگر واپسی ممکن نہیں تھی. پھر ابو کا دیا ہوا ایک سانیو کا ٹیپ ریکارڈر تھا. اسے تلاش کیا. شیخ سعود شریم کی آواز میں ستائیسویں پارے کی کیسٹ چلا کر آواز تیز کردی. کچھ دیر بعد آوازیں آنا بند ہو گئیں. اور یہ تلاوت فجر کی نماز تک جاری رہی. البتہ نیند نہیں آئی. دوسری رات بھی یہی کچھ ہوا. اب کھڑکی اور دروازہ تیز ہوا سے ہلنے لگتے. باہر نکل کر دیکھا ہوا نہیں تھی..تلاوت شروع ہوئی تو سکون ہو گیا. پھر یہ روز کا معمول تھا. ہمیں بھی عادت ہو گئی. آخری پیپر کی رات ٹارچ لیکر چھت پر گیا. پندرہ منٹ تک وہاں رہا. پرسکون جگہ تھی. پھر دن میں وہاں جا کر بیٹھنے لگا. اس طرح چھت کے مکین ہمارے پڑوسی بننے پر راضی ہو گے. اس کے بعد پانچ سال تک گھر میں رہا. آوازیں تو آتی تھیں. مگر کچھ دیر کے لیے. اس کے بعد سکون ہو جاتا تھا. والد محترم رحمہ اللہ نے بعد میں وہاں ان کی موجودگی کا ذکر کیا تھا. بہر حال یہ واقعہ آج بھی یاد آتا ہے. اور اپنی جرات پر حیرت ہوتی ہے. اللہ عزوجل اپنی مخلوق کے شر سے محفوظ رکھے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  10. شرجیل احمد

    شرجیل احمد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جون 19, 2017
    پیغامات:
    56
    آمین ، بہت شکریہ اپنا تجربہ شئیر فرمایا۔

    جی درست فرمایا، قرآن پاک کے ہر ہر حرف پر ایمان مسلمان ہونے کی شرطِ اوّل ہے اور اللہ تعالیٰ نے پورا سورہ جِنّ نازل فرمایا ہے۔ پھر متعدد مقامات پر انسانوں کے ساتھ جنّات کا ذکر فرمایا ہے۔ احادیث مبارک میں بھی جنّات کا ذکر تواتر سے ملتا ہے۔

    نہیں جناب ، میں تو بڑا گناہ گار انسان ہوں۔ جہاں جاب کرتا ہوں وہاں بھی تھوڑی کام چوری لگا لیتا ہوں۔
    :sneaky:

    میرے اپنے مشاہدے میں آیا ہے کہ ضروری نہیں کہ ضعیف ایمان والوں یا دین سے دور لوگوں کا ان سے واسطہ ہو۔ دراصل کمزور ایمان والے چونکہ جھوٹ دھرلے سے بولتے ہیں تو زیادہ تر ایسے واقعات یہی لوگ مرچ مسالحے لگا کر رپورٹ کرتے ہیں۔ کچھ سال پہلے ہماری کمپنی نے باہر کے ملک سے کچھ انگریز لوگوں کو مشینوں وغیرہ کے جائزے کے لیے بلایا تھا۔ کمپنی کی ملکیت میں ایک کوٹھی تھی جو عرصہ دراز سے بند تھی اور اس کے بارے میں طرح طرح کی باتیں مشہور تھیں۔ وہاں کا چوکیدار بھی ان باتوں کی ترکی بہ ترکی تصدیق کیا کرتا تھا۔ اس انگریز وفد کو ٹھہرانے کا وہاں پروگرام بنا۔ کمپنی کی طرف سے کچھ لوگ صفائی اور انگریز وفد کے پُرتعیش قیام کے لوازمات وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے وہاں گئے۔ کام کی زیادتی کی وجہ سے تین لوگ جو خاکروب تھے رات وہیں رہ گئے۔ اگلی صبح تینوں انتہائی خوفزدہ اور حالت غیر میں ملے۔ تاہم کمپنی کا اعلیٰ سٹاف چونکہ ان باتوں پر یقین نہیں رکھتا اور صفائی ستھرائی کا کام بھی مکمل ہو چکا تھا تو انگریز وفد کو وہاں ٹھہرا دیا گیا۔ یہ لوگ غالباً ہفتہ بھر وہاں رہے اور شراب و کباب اور رقص و سرور کے تمام گناہ کرتے رہے لیکن ان کا سامنا کسی ایسی ویسی چیز سے نہیں ہوا۔ اس سے اگلے سال دوبارہ آمد پر وفد کا اصرار تھا کہ انھیں پہلے والی جگہ پر ہی قیام کرایا جائے۔

    چونکہ اس موضوع میں میری دلچسپی ہے تو میں نے دنیا کے مختلف حصوں کے لوگوں سے بھی اس حوالے سے سوال جواب اور خط و کتابت رکھی ہے۔ ہمارے پڑوس بھارت میں ہندو ، جنّات کو بھٹکی روحیں یعنی آتمائیں قرار دیتے ہیں اور بقول میرے ایک ہندو دوست کے، اس کے دادا آتماؤں کے معاملات میں مہارت رکھتے تھے۔ چند سال پہلے اس کی کلاس فیلو لڑکی پر کسی آتما کا سایہ ہو گیا تو اس کے دادا نے آتما سے گفتگو کی تو اس نے اپنی پیدائش سے لے کر مرنے تک کا سارا حال سنا دیا۔ اپنا ایڈریس بھی بتایا کہ کس شہر اور محلے سے تعلق تھا۔ میرے دوست نے اپنے طور پر تصدیق کی اور بتائے گئے محلے میں پہنچ کر لوگوں سے دریافت کیا۔ جو حالات اس نے اپنی پیدائش سے مرنے تک کے بتائے تھے، وہ حرف بحرف سچ ثابت ہوئے۔

    بالکل بابر تنویر صاحب کے بیان کردہ تجربے سے مشابہ میرے سکول میں استاد صاحب نے بھی اپنے بچپن کی آپ بیتی سنائی تھی تاہم انھیں تنگ آ کر وہ جگہ چھوڑنی پڑی تھی۔ قابل بھروسہ اور سنجیدہ انسان تھے۔ مبالغہ آرائی کی ان سے توقع نہیں کی جا سکتی۔ ان کے بقول وہ گزرے انسان تھے جو انھیں گھر کے کام کاج کرتے دکھائی بھی دیتے تھے اور ان کی خواتین چکی پیستے ہوئے پاکستان بننے سے پہلے کی باتیں کرتی سنائی بھی دیتی تھیں۔ غالباً پاکستان بننے کے دوران ہونے والے فسادات میں ان کا پورا خاندان جاں بحق ہو گیا تھا۔

    کچھ اسی طرح کا واقعہ ہمارے محلے میں بھی مشہور ہے۔ گھر سے کچھ فاصلے پر شیخ صاحب رہتے ہیں جن کا پورا گھرانہ انتہائی نمازی پرہیز گار ہے۔ ان کے گھر کام کاج کے لیے بیس پچیس سال سے ایک اماں بی آیا کرتی تھیں۔ جب وہ زیادہ بوڑھی ہو گئیں تو اماں بی کے اپنے گھر والوں غالباً ان کی بہو نے انھیں گھر سے نکال دیا۔ شیخ صاحب نے ترس کھا کر انھیں اپنے گھر میں جگہ دے دی۔ کچھ سال پہلے اماں بی مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔ تاہم شیخ صاحب اور ان کے گھر والوں کے بقول روشن دن میں بھی متعدد بار انھیں اماں بی صفائی جھاڑ پونچھ کرتی نظر آتی ہیں۔ جہاں ان کا کمرہ تھا وہاں بچوں کو آج بھی ان کے کھانسنے کی آوازیں آتی ہیں۔ جس باتھ روم کو وہ استعمال کرتی تھیں رات میں وہاں نہانے کی آوازیں پیدا ہوتی ہیں۔

    اس حوالے سے بھی آپ گروپ ممبران اور بالخصوص علماء کی رائے درکار ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ ارواح مرنے کے بعد اسی دنیا میں بھٹکتی رہ جائیں۔ ہمارے اسلامی نقطہ نظر سے حضرت عزرائیل علیہ السّلام روح کو قبض فرماتے ہیں اور کہیں بھی یہ بات نہیں ملتی کہ وہ روح کو قبض کر کے بھٹکنے کے لیے اسی دنیا میں چھوڑ دیتے ہیں۔ اس حوالے سے میں نے احادیث کا مطالعہ اپنے طور پر کیا ہے لیکن مجھے کوئی نکتہ نہیں ملا۔
     
    Last edited: ‏جولائی 1, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  11. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,432
    وہ "ولی؛" ہی نہیں جو گناہ نا کرے. ولی کی صفات اللہ نے قرآن میں بیان فرمائی ہیں. ہر مومن بندہ اللہ کا ولی ہو سکتا ہے : )
    تفصیل کا وقت نہنں. مگر قرآن و حدیث و مستند تاریخ کے مطالعہ سے اس کا جواب مل سکتا ہے کہ حقیقت میں کون لوگ ہیں جو کہ اس خوف کا شکار ہوتے ہیں. یا تو وہ کمزور ایمان والے ہوتے ہیں. یا پھر وہ جو اللہ کی معبودیت مک)میں کسی معبود، کسی نبی، کسی ولی یا اللہ کے بندے کو شریک کر لیتے ہیں. کیونکہ اللہ کی ربوبیت، الوہیت و اسماء و صفات پر دل کے ساتھ ایمان کائنات اور اس میں موجود خلق کی کسی بھی صنف سے مستغنی کردیتا ہے. کیونکہ اللہ کی کوئی مثال نہیں..
    اس بات کو یوں سمجھا جا سکتا ہے آدم علیہ السلام کی تخلیق سے قبل زمین پر جن و شیاطین آباد تھے. جب یہ زمین پر فتنہ و فساد برپا کرتے تو ابلیس کی قیادت میں ملائکہ کا لشکر ان کی سرکوبی کے لیے زمین پر آیا کرتا تھا. اس وقت جنات میدانوں میں رہتے تھے. جب آدم علیہ السلام زمین پر اتارے گئے تو یہ مخلوق ڈر کے مارے پہاڑوں، جنگلوں، غاروں میں پناہ لینے لگی.اس وقت یہ نظر بھی آتے تھے لیکن انسان کے سامنے نہیں آتے تھے . کئی صدیوں بعد جب اولاد آدم شرک اکبر میں مبتلا ہوئی تو اللہ کی مدد، حفاطت سے محروم ہو گئی. غیر اللہ کو راضی کرنے کے لئے چڑھاوے، چلے کاٹنے کے لئے انہی غاروں اور جنگلوں، قبرستان کا قصد کیا.جنات و شیاطین خوفزدہ دیکھ کر انہیں تنگ کرنے لگے. اور یہ سلسلہ جاری ہے. واللہ اعلم
    بھائی. یہ محض خیال ہے. اماں بی گھر کے ایک فرد کی طرح تھی.سب کو انسیت ہو گئی. چونکہ ان کے پاس پچیس تیس سال گزارے. تو ان کی کمی محسوس ہوتی ہے. کسی زندہ انسان کے بارے میں مسلسل سوچنے، اس پر توجہ کرنے سے انسان اسے پر وقت اپنے پاس محسوس کرتا ہے. چاہے وہ ہزاروں کلومیٹر دور کسی شہر یا گاؤں میں رہتا ہو. شیخ صاحب دیندار، پرہیزگار ہیں. مگر یہاں عقیدہ میں کچھ کمی لگتی ہے.
    نہیں. ایسا ممکن نہیں. مرنے کے بعد انسانوں کی روحیں اپنے رب کے پاس رہتی ہیں. وہ اس وقت ہی واپس آئیں گی. جب یوم محشر لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا. اور وہ اپنے دنیا کے جسموں میں لٹائی جائیں گی. روحوں کا واپس آنا ہندوؤں سمیت دوسری قوموں کا عقیدہ ہے.عیسائیوں کے ہاں تو جادو سیکھنا اور سکھانا ایک فن ہے. جب کہ اسلام میں کفر ہے.
    ان شاء اللہ، فرصت ملی تو مزید تفصیل لکھنے کی کوشش کریں گے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
    السلام علیکم بھائی، ایسا ممکن نہیں کہ مرنے والوں کی روحیں دوبارہ اس دنیا میں آ سکیں، دلیل کے طور پر سورہ یسین کے شہید کا واقعہ پڑھ لیں۔
    ہاں ایسا عین ممکن ہے کہ، ان فوت شدہ اماں بی کا 'قرین' یعنی 'جن' ایسی حرکتیں کرتا ہو شرارت یا گمراہ کرنے کے لیے۔ قرین کے بارے میں تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ یہ وہ جن ہے جو بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کے ساتھ جڑ جاتا ہے اور تمام عمرحضرت انسان کو گمراہ کرتا رہتا ہے، لیکن نوٹ کرنے کی یہ بات ہے کہ یہ جس مرد یا عورت کےساتھ جڑا ہوتا ہے ان کی ایک ایک عادت سے واقف ہوتا ہے۔
    بعض اولیاشیطان جو کہ "اللہ کے ولی" کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں وہ آپ کےکسی مردہ رشتہ دار سے ملوانے کا دعویٰ کریں یا ملوائیں تو اس میں یہی قرین کی کارستانی نظر آتی ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  13. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    قرین شریف کی ایسی شتر بے مہار آزادی کی کوئی دلیل شریف؟ o_O یعنی کہ عرب میں بڑے بڑے ابوجہل تھے جن کے قرین کو ان کا مشن جاری رکھنا چاہیے تھا میرے خیال سے۔۔۔
     
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  14. شرجیل احمد

    شرجیل احمد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جون 19, 2017
    پیغامات:
    56
    بہت شکریہ ابوعکاشہ بھائی، بہت عمدہ اور تفصیل سے آپ نے بیان فرمایا۔
    میرا ذاتی خیال بھی یہی ہے۔ جیسا کہ میں نے بتایا کہ اس کھوج میں عاملوں کی صحبت بھی اختیار کی تھی تو چلّہ کشی کا بنیادی اصول اپنے خوف پر قابو پا کر نڈروبے باک ہو کر اپنے مقصد کا حصول بتایا گیا تھا۔ میرے ساتھ جن حضرات نے چلہ کشی کی انھوں نے بتایا کہ آخری ہفتے انھیں دوران چلہ طرح طرح سے ڈرایا جانا شروع ہو گیا تھا اور چلّے میں کامیابی اسی کی ہوئی جو آخر تک ثابت قدم رہا۔ ایک صاحب نے بتایا کہ روزِآخر انھیں لگا کہ وہ ایک وسیع و عریض میدان میں ہیں اور شاہ جنّات ان کے سامنے ہے جس نے حکم جاری کیا کہ لکڑیاں حاضر کی جائیں۔ لمحوں میں حکم کی تعمیل ہوئی اور ہزاروں جنات اپنے کندھوں پر لکڑیاں اٹھائے نمودار ہوئے جنھوں نے ایک جگہ لکڑیاں اکٹھی کر کے پہاڑ بنا دیا۔ پھر حکم ملا کہ ان لکڑیوں کو آگ لگا دی جائے اور حکم کی تعمیل ہوئی۔ صاحب چلّہ نے بتایا کہ لکڑیوں کے جلنے کی گرمی انھیں صاف محسوس ہوئی اور گرم ہوا سے ان کا چہرہ جھلس رہا تھا۔ پھر شاہ جنات، صاحب چلّہ کی طرف متوجہ ہوا اور حکم دیا کہ اس کانگڑی پہلوان کو آگ میں پھینک دو۔ اس وقت تک صاحب چلّہ ماحول کے ڈراؤنے پن کی وجہ سے اپنا دم خم کھو چکے تھے۔ باوجود اس کے کہ ایک حفاظتی حصار انھوں نے کھینچ رکھا تھا کہ جس میں انھیں ضرر نہیں پہنچایا جا سکتا تھا، موصوف نے جب سینکڑوں جنّوں کو اپنی طرف لپکتے دیکھا تو دفعتاً بھاگنے ہی میں عافیت سمجھی۔ لیکن کہاں بھاگتے، سیدھے کمرے کی دیوار سے ٹکرا کر اپنا سر پھڑوا بیٹھے کہ میدان اور وہ ڈراؤنا ماحول ان کے حصار سے نکلتے ہی غائب ہو چکا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ انھیں بخار نے آ گھیرا ہے اور کتنے ہی مہینے اسی خوف کی وجہ سے ان کی نیند بھی اچاٹ ہو کر رہ گئی۔ نتیجہ یہی نکلا کہ انسان کا خوف ہی بڑا جنّ ہے جو اسے ذہنی اور جسمانی دونوں لحاظ سے بیمار اور مفلوج تک کر سکتا ہے۔

    اماں بی اور شیخ صاحب اور دیگر اس طرح کے معاملات میں جناب "طالب علم" صاحب کے "قرین" یعنی "ہم زاد" کا کردار ممکن ہو سکتا ہے لیکن کہیں پڑھا تھا کہ ہم زاد مرنے کے بعد برزخ میں انسان کے ساتھ ہی رہتا ہے اور دنیا میں کیے گئے بُرے اعمال کی بھیانک شکل اختیار کر کے روزمحشر تک مرنے والے انسان کو ایذاء رسانی کرتا رہے گا۔ اس حوالے سے اگر آپ نے کہیں پڑھا یا دیکھا ہو تو حوالہ شئیر فرما دیں۔

    لیکن قرین قیاس یہی ہے کہ انسیت اس طرح کے واقعات میں بہت بڑا عنصر ہوتی ہے۔ اپنی ایک ملاقات میں شیخ صاحب اور اماں بی والی بات کو مشہور نفسیات دان ڈاکٹر ریاض بھٹی سے ذکر کیا تھا تو انھوں نے بھی اسے حدّ سے زیادہ جذباتی لگاؤ قرار دیا تھا۔ بقول ان کے انسانی دماغ کی بھی کمپیوٹر پروگرامنگ کی طرح ہر لمحہ مثبت و منفی پروگرامنگ ہوتی رہتی ہے۔ اماں بی نے پورا گھر سنبھال رکھا تھا کہ ان کے جانے کے بعد ان کی کمی اشد سے محسوس ہوئی۔ دماغ نے اسی کمی کے تناظر میں ان کی خیالی شبیہہ بنا ڈالی جو بڑوں سے بڑوں اور بچوں تک میں منتقل ہو گئی۔

    بالکل ایسے ہی کمپنی کی کوٹھی جس میں انگریز وفد کا قیام تھا، کافی عرصے سے خالی پڑی ہوئی تھی تو کسی نے بے پر اڑا دی جو پھیلتے پھیلتے ہمسایوں سے پورے علاقے میں پھیل گئی۔ میں نے ذاتی طور پر وہاں قیام کیا اور لوگوں کی رائے بھی جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ ہر کوئی اپنا الگ ہی راگ الاپ رہا تھا۔ کسی کو رات میں وہاں چڑیلیں نظر آتی تھیں تو کسی کو غیبی تھپڑ پڑے۔ چوکیدار کے بقول لائٹیں خودبخود جلتی بجھتی تھیں جو لازماً بجلی کی خرابی تھی اور بعد میں یہ صحیح ثابت بھی ہوا۔ اتفاق سے قریب ہی کوئی نئے ہمسائے آباد ہوئے تھے جو کہ ان خوفناک کہانیوں سے لاعلم تھے۔ ان سے پوچھا تو انھوں نے ہر چیز سے انکار کر دیا حالانکہ ان کی چھت سے آتے جاتے ہر وقت کوٹھی میں نظر پڑتی تھی۔ بقول ان کے، رات گئے کئی بار کھیلتے ہوئے بچوں کی گیند بھی کوٹھی میں گر جاتی تھی تو بچے اسی وقت کوٹھی میں اتر کر گیند لے آیا کرتے تھے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ وہ خوف سے ناآشنا تھے۔ کچھ عرصے بعد میں نے ان خاکروبوں سے بھی کریدنے کی کوشش کی جو اگلی صبح حالت غیر میں ملے تھے تو انھوں نے بتایا کہ چوکیدار نے رات میں انھیں کچھ ڈراؤنے واقعات سنائے تھے۔ بعد میں کام کے دوران وہ تینوں خود بھی ایسی باتوں پر ہنسی مذاق کرتے رہے جس کے بعد لاشعوری طور پر انھیں خوف نے گھیرنا شروع کر دیا تھا جس کا خمیازہ انھیں اگلے دن بھگتنا پڑا۔ تاہم تینوں خاکروبوں کے بیان میں تضاد تھا کہ انھوں نے کیا دیکھا۔

    بقول ڈاکٹر ریاض بھٹی، خوف مجسم شکل اختیار کر سکتا ہے اور یہ بیماری ہر کسی کو ہو سکتی ہے؛ عارضی بھی ہو سکتی ہے اور دائمی بھی، عارضی اتنی بھی ہو سکتی ہے کہ محض چند لمحوں کے لیے اپنا جلوہ دکھائے۔ بہت ممکن ہے کہ تینوں خاکروبوں کے خوف نے الگ الگ شکلیں اختیار کیں لیکن اثرانگیزی میں ڈر خوف برابر ثابت ہوا۔

    واللہ اعلم
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  15. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,855
    السلام علیکم

    بابر بھائی آپ اس پر تحقیق کر چکے ہیں تو کچھ نہ کچھ وجہ ضرور ہو سکتی ہے، اس پر کان کا بجنا جیسے جو سوچنا کان میں وہی سنائی دینا بھی ہو سکتا ہے، اس سے ہٹ کے کچھ میری طرف سے بھی!

    فلیٹ کی چھت پر بھلے کوئی رہتا ہو یا نہ رہتا ہو، اسی فلور پر ساتھ والے فلیٹ اور اسی فلور پر اوپر کچھ کچھ منزلیں، جہاں بھی کوئی چلے گا کھڑاک ہو گا یا کچھ بھی دہمک ہو گی آپ اپنے فلیٹ کے جس بھی کمرے میں ہونگے آپکو یہ آوازیں اپنے سر کی چھت سے ہی سنائی دیں گی، فلیٹ بلڈنگ چاہے نئی ہو یا ناقص اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

    ابوظہبئی میں نئی بلڈنگ میں رہائش تھی، بچے چھوٹے تھے، دھوم دھڑاک لگا رہتا تھا، نیچے کے فلیٹ والوں نے تو کبھی کچھ نہیں کہا تھا مگر اس سے نیچے کے فلیٹ میں ایک پاکستانی فیملی رہتی تھی وہ اکثر شکایت کیا کرتے تھے جس پر بچوں کو روکتے رہتے تھے مگر مکمل کنٹرول نہیں ہو سکتا تھا جس پر خود ہی شرمندگی بھی ہوتی تھی۔

    پھر 15 سال پہلے جب یہاں آئے تو جہاں کرایہ پر گھر لیا اس کے دونوں طرف جو گھر تھے وہ ساتھ جڑے ہوئے تھے، ہر روز دونوں طرف سے ہمسائے رات کو اپنے گھروں سے آوازیں دیتے تھے کہ مہربانی کر کے بچوں کا شور کم کریں ہم نے صبح جاب پر جاتا ہے، جس پر بچوں کو ایک کمرے میں رکھنا جہاں آواز نہ گھونجے، ایسے ہی دو گھروں تک رہا اس کے بعد پھر اپنا ڈیٹیچڈ گھر لیا جس کے دونوں طرف بہت جگہ خالی اور پیچھے بہت بڑا گارڈن، تب سے ہمسائے بھی سکون میں۔

    پاکستان میں ماموں جان کو جو حصہ ملا ہوا تھا وہ فرنٹ پر تھا، اور ماموں جان نائٹ شفٹ میں کام کرتے تھے اور دن کو سویا کرتے تھے، باہر سٹریٹ میں اگر کوئی باتیں کر رہا ہوتا تھا تو ماموں جان اسے وہ جگہ چھوڑنے کو کہا کرتے تھے، جس پر ہم سوچتے کہ ماموں جان کو شائد آواز پسند نہیں، پھر ماموں جان نے دوسری جگہ گھر بنوایا اور وہ ہمیں بیچ دیا، اور اتفاق سے فرنٹ کا وہی کمرہ میں نے لیا، تب جانا کہ ماموں جان درست تھے، کیونکہ باہر جو جو بھی گزرتا، باتیں کرتا یا کوئی بھی ٹرانسپورٹ گزرتی تو اس کمرے میں آواز ایسے آتی جیسے بھونچال آ گیا ہے۔

    پاکستان میں اکثر سنا کرتے تھے کہ جو لوگ ریلوے پھاٹک یا ریلوے لین کے ساتھ گھر بنا کر رہتے ہیں انہیں ریل گاڑی کی آواز سے کچھ نہیں ہوتا، جس پر جب اکیلے لندن میں آئے تو اتفاق سے ہیتھرو ائرپورٹ کے قریب ہنسلو ایریا میں گھر ملا جہاز کی لینڈنگ گھر کے اوپر سے ہی ہوتی تھی، کچھ عرصہ تک تو بہت اوازاری ہوتی رہی پھر بعد میں عادت سی پڑ گئی کہ سوئے رہتے تھے، جہاز کے گزرنے سے آنکھ بھی نہیں کھلتی تھے۔

    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  16. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,432
    ڈر اور خوف یا دوسری جسمانی یا نفسیاتی بیماریاں. جہالت، دین سے دوری کے علاوہ فراغت سے بھی چمٹ جاتی ہیں. اگر انسان اپنے آپ کو کسی کام میں مصروف رکھے تو خیالات سے نکل سکتا ہے.
    جادوگر جب تک شرک اکبر کا ارتکاب نہیں کرتا. جن و شیطان اس کے تابع نہیں ہو سکتے. شرک کرنے کے بعد جادوگر ہر وہ کام کرے گا جو کہ جن کہیے گا. جزا کے طور پر جن بھی اس کو کچھ چیزوں کی خبر دے گا. اکثر جادوگر کی موت بھی جنوں کے ہاتھوں ہوتی ہے. اگر کبھی توبہ کر لیں تو مار دیے جاتے ہیں.
    ویسے احادیث میں ہے کہ اکیلا سفر کرنے اور اکیلا گھر میں رہنے سے منع کیا گیا ہے. کم از کم تین افراد ہونے چاہیں. اس کی وجہ شاید یہی ہے کہ اکیلا انسان جتنا بھی طاقتور ہو، انسان ضعیف اور کمزور ہو سکتا ہے
    ہمزاد کے حوالے سے آپ نے پوچھا تھا. اس حوالے کوئی وضاحت تلاش کرنے پر شریعت میں نہیں ملی کہ انسان کے مرنے کے بعد اس کا ہمزاد کہاں جاتا ہے؟ مرجاتا ہے؟ کوئی نیکی و بھلائی کے کام کرتا ہے؟ یہ سب قیاس آرائیاں ہیں. کوئی دلیل موجود نہیں. اس لئے اس حوالے سے مزید کھوج کا فائدہ نہیں.
    http://www.ahlalhdeeth.com/vb/showthread.php?t=19169
     
  17. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جی کنعان بھائ آپ نے درست فرمایا۔ لیکن ہم نے جو کچھ بیان کیا وہ تمام مشاہدات کے بعد کیا۔
    پہلی بات یہ کہ وہ بلڈنگ صرف پانچ فلور کی تھی۔ پانچویں فلور پر دو فلیٹ تھے۔ تیسری بات یہ کہ اوپر کے دونوں فلیٹ خالی تھے۔ اور ہمارے پڑوس میں ایک ٹیچر رہتے تھے۔ اور وہ بھی چھٹیوں پر مصر گۓ ہوۓ تھے۔
    نتیجہ آپ خود ہی اخذ کر سکتے ہیں۔
     
    • متفق متفق x 1
  18. Asif

    Asif -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 4, 2007
    پیغامات:
    161
    یہ سن کے میں جدہ کی گرمی ھی بھول گیا۔ :cry:
    ویسے اللہ خیر کرے اس جگہ میں ھوتا تو وہ چوکیدار میرے کو آخری دفعا دیکھتا وھا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  19. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
  20. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    مجھے انتظار تھا کہ دلیل مل جائے تو اپنے قرین سے ایک معاہدہ کر لیا جائے، لیکن دلیل نہیں ملی، نتیجہ جو کرنا ہے اسی زندگی میں کرنا ہے خود ہی کرنا ہے۔
     
    • متفق متفق x 2

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں