غموں کو دور کرنےسے متعلق ایک جھوٹی دعا

مقبول احمد سلفی نے 'ضعیف اور موضوع احادیث' میں ‏دسمبر 29, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    633
    لوگوں میں غم دور کرنے کے متعلق ایک دعا بہت گردش کررہی ہے ۔ وہ دعا اس طرح سے ہے ۔

    "يا فارج الهم، ويا كاشف الغم، فرِّج همي, ويسِّر أمري, وارحم ضعفي، وقلَّة حيلتي, وارزقني من حيث لا أحتسب يا ربِّ العالمين"
    ترجمہ: اے اللہ ! مشکلات کو دور کرنے والے اور بادل کو ہٹانے والے ، میرے غم کو دور کردے ، اور میرے معاملہ کو آسان کردے ، میری کمزوری اور میرے وسائل کی کمی پر رحمت فرما ، اور مجھے ایسی جگہ سے عطا فرما جہاں سے میں گمان بھی نہ کروں، اے سارے جہاں کے پالنہار۔
    اس میں یہ بھی ہے کہ جو اس دعا کو پڑھے اور دوسروں کو پہنچائے اللہ اس کے غموں کو دور کردیتا ہے ۔

    اصل میں یہ حدیث ہی نہیں ہے، جھوٹی بات گھڑ کر نبی ﷺ کی طرف منسوب کردی گئی ہے۔ جو بات نبی ﷺ کی نہ ہو اسے آپ کی طرف منسوب کرنا موجب جہنم ہے ۔

    مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرمارہے تھے :
    إنَّ كذبًا عليَّ ليس ككذِبٍ على أَحَدٍ ، من كذبَ عليَّ متعمدًا فليتبوَّأْ مقعدَهُ من النارِ (صحيح البخاري:1291)
    ترجمہ: میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔

    آج کل سوشل میڈیا پر اس طرح کی جھوٹی باتیں کافی نشر کی جاتی ہیں ، آپ کا یہ عذر پیش کرنا مقبول نہ ہوگا کہ مجھے اس کا علم نہیں تھا اس لئے شیئر کردیا۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ کوئی بات ہمارے پاس آئے تو پہلے اس کی تحقیق کریں یعنی علماء سے اس بابت معلوم کریں ، صحیح ہے تبھی شیئر کریں ورنہ غلط باتیں یا وہ باتیں جن کی آپ نے تحقیق نہ کی ہوں انہیں کہیں شیئر نہ کریں اور اللہ کا خوف کھائیں ۔

    نبی ﷺ کا فرمان ہے : كفى بالمرءِ كذبًا أن يُحَدِّثَ بكلِّ ما سمِع(مقدمہ صحیح مسلم)
    ترجمہ: کسی انسان کے جھوٹا ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات یعنی بغیر تحقیق کے آگے بیان کر دے۔

    یہ حدیث ہمیں بتلاتی ہے کہ بغیر تحقیق کے کوئی بات دوسروں کو شیئر نہیں کریں۔

    مجھے تعجب اس بات پر ہے کہ غموں کو دور کرنے سے متعلق بہت ساری صحیح حدیث موجود ہیں تو پھر آدمی جھوٹی حدیث کا سہارا کیوں لیتا ہے اور کیوں اس قدر اسے شیئر کرتا ہے ؟ مجھ سے سیکڑوں بار اس سے متعلق پوچھا گیا، میں مختصرا کہہ دیا کرتا یہ صحیح نہیں ہے ، آج کچھ تفصیل ذکر کردیاہوں تاکہ باربار لکھنا نہ پڑے اور دوسروں کو اس کے متعلق باخبر کیا جاسکے ۔

    غم کو دور کرنے کی چند صحیح دعائیں :

    (1) اللَّهمَّ إنِّي عَبدُك ، وابنُ عبدِك ، وابنُ أمتِك ، ناصِيَتي بيدِكَ ، ماضٍ فيَّ حكمُكَ ، عدْلٌ فيَّ قضاؤكَ ، أسألُكَ بكلِّ اسمٍ هوَ لكَ سمَّيتَ بهِ نفسَك ، أو أنزلْتَه في كتابِكَ ، أو علَّمتَه أحدًا من خلقِك ، أو استأثرتَ بهِ في علمِ الغيبِ عندَك ، أن تجعلَ القُرآنَ ربيعَ قلبي ، ونورَ صَدري ، وجَلاءَ حَزَني ، وذَهابَ هَمِّي ( صحيح الترغيب:1822)
    ترجمہ: اے میرے اللہ ! میں تیرا بندہ ، تیرے بندے کا بیٹا ، تیری بندی کا بیٹا ، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ،تیرا حکم مجھ پر جاری و ساری ہے ، میرے متعلق تیرا فیصلہ عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ میں تجھ سے تیرے سب اسماءِ حسنیٰ (کے وسیلے) سے سوال کرتا ہوں جو تو نے اپنی ذات کے لئے رکھے ، یا کسی کتاب میں نازل کئے ، یا کسی مخلوق کو سکھائے یا اپنے پاس ہی رکھنے پسند کئے ، تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور سینے کا نور بنا دے اور اسے میرے غم و اندوہ کا مداوا بنا دے۔۔

    جو یہ کلمات کہے کبھی اسے کوئی غم اور کوئی مایوسی لاحق نہیں ہوگی ۔

    (2) اللهمَّ إني أعوذُ بك منَ الهمِّ والحزَنِ ، والعَجزِ والكسلِ ، والبُخلِ والجُبنِ ، وضلَعِ الدَّينِ ، وغلبَةِ الرجالِ( صحيح البخاري:2893)
    ترجمہ: اے اللہ، میں غم او ر حزن سے، عاجزی اور کسل مندی سے، بخیلی اور بزدلی سے، قرض کی کثرت اور قرض داروں کے دباؤ سے تیری پناہ میں آنا چاہتا ہوں۔

    (3) لا إلهَ إلا اللهُ العظيمُ الحليمُ، لا إلهَ إلا اللهُ ربُّ العرشِ العظيمِ، لا إلهَ إلا اللهُ ربُّ السماواتِ وربُّ الأرضِ، وربُّ العرشِ الكريمِ(صحيح البخاري:6346)
    ترجمہ: نہیں ہے کوئی معبود برحق مگر اللہ وہ اکیلا ہے نہیں کوئی شریک اس کا ،اسی کی بادشاہت ہے اوراسی کے لیے ہر تعریف، اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔

    نبی ﷺ اسے غم کے وقت پڑھاکرتے تھے ۔

    (4) اللَّهمَّ رحمتَك أَرجو فلا تَكِلني إلى نَفسِي طرفةَ عينٍ ، وأصلِح لي شَأني كلَّه لا إلَه إلَّا أنتَ(صحيح أبي داود:5090)
    ترجمہ: اے اللہ میں تیری ہی رحمت کی امید کرتا ہوں، مجھے لحظہ بھر بھی میرے نفس کے سپرد نہ کر، میری مکمل حالت درست فرمادے، تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
    • مفید مفید x 1
  2. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,868
    جزاك الله خيرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    633
    وایاک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,268
    جزاک اللہ خیرا شیخ، میرے خیال میں دعا کے الفاظ میں کچھ غلط نہیں البتہ اسے مسنون دعا کہنا غلط ہوگا، اور مسنون دعا کے مقابلے میں اس کو نہیں تولا جا سکتا کیونکہ مسنون دعا کرنے سے سنت پر عمل کرنے اور دعا کا اجر ملنے کا دوہرا ثواب ملتا ہے لیکن کیا ایسی دعا کو غیر مسنون سمجھ کر کرنا کچھ غلط ہوگا؟
     
    • متفق متفق x 1
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,121
    جزاک اللہ خیرا وبارک فیک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    633
    وایاک

    یہ دعا ثابت نہیں ہے لیکن اس کا مفہوم درست ہے ، اس وجہ سے نبی ﷺ کی طرف نسبت کا اعتقاد نہ رکھ کر یہ دعا کی جاسکتی ہے لیکن اس پہ دوام برتنا درست نہیں ہوگا ، اسی طرح اس دعا سے کسی خاص اجر کی امید بھی درست نہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  7. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    633
    آمین
    وایاک
     
  8. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,169
    جزاک اللہ خیرا شیخ
     
  9. انا

    انا ناظمہ خاص انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    جزاک اللہ خیرا
     
  10. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    633
    وانتم فجزاکم اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں