وہ نیکیاں جو اب کرنا ممکن نہیں رہا

اجمل نے 'گپ شپ' میں ‏جنوری 5, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    270
    وہ نیکیاں جو اب کرنا ممکن نہیں رہا

    سائنسی ایجاد نے بہت سی آسانیاں پیدا کر دی ہیں وہیں مسلمانوں سےبہت ساری نیکیاں کرنے کے مواقعے بھی چھین لئے ہیں۔
    یہ گفتگو ایسی نیکیوں کی نشاندھی کرنے کیلئے شروع کر رہا ہوں جسے کرنا اس سائنسی دور میں ممکن نہیں رہا۔
    احباب سے درخواست ہے کہ اپنی اپنی یاد داشت کے مطابق ان نیکیوں کی نشاندھی کریں۔
    جیسے:
    شروع میں ہر مسجد کے ساتھ کنواں ہوا کرتا تھا۔ نوجوان کنویں سے پانی نکال کر وضو کرنے کیلئے قطار لگے لوٹے بھر دیا کرتے تھے جس سے لوگ وضو کیا کرتے تھے ۔ آج کے نوجوان اس نیکی سے محروم ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    270
    پرانے زمانے میں اہل ثروت مسافر خانہ بنوایا کرتے تھے ۔ اب انکی جگہ رہائشی ہوٹل نے لے لی ہے ۔ دونوں میں بہت فرق ہے۔ مسافر خانوں میں مسافروں کا قیام مفت ہوتا تھا بلکہ بعض میں طعام کا بھی مفت بندوبست ہوا کرتا تھا ۔ ہوٹلوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ آج کے اہل ثروت اس نیکی سے محروم ہیں۔
     
  3. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    270
    اکثر مسافر خانوں کے ساتھ کنواں کھودواکر پانی کا بندوبست بھی کیا جاتا تھا ‘ اب یہ نیکی کرنابھی جاتا رہا۔
     
  4. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    270
    4) اور درخت بھی لگائے جاتے تھے ‘ اب یہ بھ ممکن نہیں۔
     
  5. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,738
    میرا خیال ہے کہ نیکی کا راستہ کبھی بھی بند نہیں ہوتا۔ شکلیں ہر دور کے حساب سے بدلتی رہتی ہیں۔
    انسان نیکی کرنا چاہے تو میدان بہت وسیع ہے۔
     
    • متفق متفق x 5
  6. ٹرومین

    ٹرومین -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 11, 2010
    پیغامات:
    343
    مسافرخانوں کے ساتھ کنواں کھودوانے کی نیکی اب ضرورت مند کو "بورنگ" کروادینے کی صورت میں ممکن ہے،کیونکہ ایسے کئی خاندان ہیں جو استطاعت نہ ہونے کے باعث ان نعمتوں سے محروم ہیں۔
    یہ تو خیر ممکن ہے،پر یہ ہے کہ ہماری فضول کی مصروفیات نے ہمیں ان عظیم کاموں سے دور کردیا ہے۔
     
    • متفق متفق x 3
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    11,358
    نیکیاں تو موجود ہیں لیکن ان کی ہیئت میں تبدیلی ضرور آئی ہے یا ان پر عمل کسی حد تک کم ہو چکا ہے۔
    جیسے وضو کے لئے لوٹے بھرنا اصل میں نمازیوں کو سہولت پہنچانا ہے تو آج اس پر مساجد میں مخلتف قسم کی سہولتیں پہنچا کر عمل کیا جارہا ہے۔
    آج بھی اگر فی سبیل اللہ مسافر خانہ بنایا جائے یا مسافروں کو سہولت پہنچانے کا کوئی قدم اٹھایا جائے تو لوگ یقینا اس سے استفادہ ضرور کریں گے اس لئے اس پر عمل کرنا تو ممکن ہے لیکن عمل کسی حد تک کم ہو چکا ہے۔
    اسی طرح مسافروں کےلئے مختلف جگہوں پر اب بھی پانی کی سبیلیں نظر آتی ہے
    درخت لگانا تو آج بھی ممکن ہے، اور لگائے جاتے ہیں۔
    اس لئے یہ کہنا کہ نیکیوں پر عمل کرنا ممکن نہیں صحیح نہیں ہوگا، بلکہ ان نیکیوں کی ہیئت تبدیل ہو چکی ہے-
     
    • متفق متفق x 4
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,151
    بالکل درست ۔ 15 روپے سے لے کر 300 روپے تک اچھے اچھے پودے مل جاتے ہیں۔ ان کو گھر کے قریب لگا دیں اور دل لگا کر پالیں۔
     
    • متفق متفق x 1
  9. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,662
    محترم پاکستان کے اکثر پس ماندہ علاقوں میں پانی میسر نہیں ہے اور اب بھی کئ لوگ وہاں پانی کے لیے کنویں کھدوا کر دیتے ہین۔
     
    • متفق متفق x 2
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,151
    ہاں جیسے کہیں پانی کا کنواں چاہیے ہوتا ہے اور کسی کو ایل پی جی کا سلنڈر
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں