اثم، جناح، حوب، ذنب، خطا، منکر، وزر اور سیئۃ کا فرق

عائشہ نے 'قرآنی الفاظ ، اصطلاحات ، تراکیب و تراجم' میں ‏جنوری 13, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,049
    قرآن کے اردو تراجم پڑھتے ہوئے ہم ان الفاظ کا مطلب گناہ، برا کام وغیرہ پڑھ کر آگے گزر جاتے ہیں۔اسی وجہ سے ہمیں یاد نہیں رہتا کون سا کام برا ہے، کون سا بہت ہی برا۔ اس ہفتے کچھ دماغ لڑاتے ہیں۔ کوشش کریں کہ ان الفاظ کا ایک دوسرے سے فرق ڈھونڈ کر لائیں۔
    اثم، جناح، حوب، ذنب، خطا، منکر، وزر ،سیئۃ
    ہو سکے تو جس تفسیر کو دیکھا ہے اس کا حوالہ دیں۔
     
    • مفید مفید x 3
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,063
    خطاء ایسا گناہ جس کے کرنے کا انسان کا ارادہ نہ ہو مگر اتفاقا ہو جائے یا سہوا ۔ مثلا کسی شکاری نے تیر توشکار کو مارا اور وہ لگ کسی انسان کوگیا جس سے وہ مر گیا ۔ ایسی خطا ءاگر قابل حد یا تعزیر ہوتو سزا میں تخفیف ہو جاتی ہے ۔ اسے خطاء("خ "پر زیر کے ساتھ) ،یا خطا(" خ "پر زبر) کے ساتھ کہتے ہیں ۔
    اور اگر دوسری نوع کی ہوں تو اللہ تعالی استغفار اورنیک اعمال کے بدلے میں معاف فرمادیتے ہیں ۔ اس خطاء("خ " پر زبر کے ساتھ )کہتے ہیں ۔جمع خطایا ،خطئی جمع خطیئات بھی اس معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔
    ارشاد باری ہے۔
    وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ إِلَّا أَن يَصَّدَّقُوا
    "اور جو بھول چوک کر بھی مومن کو مارڈالے تو ایک مسلم غلام بھی آزاد کرے ۔ اور مقتول کے ورثا کو خون بہا بھی دے ۔ الا یہ کہ وہ معاف کردے"(النساء/92)
    دوسرے مقام پر فرمایا
    وَقُولُوا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ
    اور حطتہ بخشش کی پکار کہنا ،ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے(البقرتہ/58)
    (مفرادات القرآن)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • مفید مفید x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,049
    جزاک اللہ خیرا۔
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,049
    جُناح:
    مولانا عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: جُناح کے معنی دراصل گناہ نہیں بلکہ گناہ کی طرف جھکاؤ یا میلان ہے۔جَنَحَ بمعنی جھکنا، مائل ہونا۔ (منجد) قرآن میں اکثر آتا ہے: لاجناح علیکم، یا لیس علیکم جناح بمعنی کوئی حرج نہیں، کوئی قابل گرفت یا قابل مواخذہ بات نہیں۔ وغیرہ جیسے فرمایا:
    لَّا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ جن عورتوں کو تم نے چھوا نہیں انہیں طلاق دینے میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ (سورۃ البقرۃ 2: 236)
    اور جَنَاح (ج مفتوحہ بمعنی بازو، پہلو، پر) کا لفظ خیر کی طرف جھکاؤ کے لیے آتا ہے۔ جیسے فرمایا:
    وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ اور عجزونیاز سے اپنا پہلو ان دونوں (والدین) کے آگے جھکا دے۔ (سورۃ الاسراء 17: آیت 24)
    دوسرے مقام پر فرمایا:
    وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اور جو مومن تمہاری اتباع کرتے ہیں ان کے لیے اپنا پہلو جھکا دو۔ (تواضع سے پیش آؤ)۔ (سورۃ الشوری 26: آیت 215)
    (مترادفات القرآن ص 745)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,049
    اثم: ہر وہ عمل جو کارخیر یا ثواب سے پیچھے رکھے یا روکے۔ (جمع آثام ہے، ضد بر) ۔ نیز اثم کا لغوی معنی تقصیر ہے۔ ارشاد نبوی ہے البر مااطمانت الیہ النفس و الاثم ما حاک فی صدرک یعنی نیکی وہ ہے کہ اس سے دل مطمئن ہو اور اثم وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے۔ گویا اثم ایسی کیفیت کا نام ہے کہ انسان کا دل نیکی کے کاموں سے تو پیچھے رہے اور موقع ملنے پر اس گناہ سے نہ چوکے۔ یعنی اثم کا تعلق عمل سے زیادہ دل سے ہے اور ایسے شخص کو اثیم کہتے ہیں جس کی ضد سلیم ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے:
    وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور زیادتی کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو۔ (5:2)
    دوسرے مقام پر فرمایا:
    وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ ۚ وَمَن يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ اور شہادت (گواہی) کو مت چھپاؤ اور جو کوئی اسے چھپائے تو اس کا دل گنہگار ہے۔(2:283)
    (مترادفات القرآن ص 743-744 از مولانا عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ)
    ڈاکٹر محمد داود معجم الفروق الدلالیۃ فی القرآن میں لکھتے ہیں
    الإثم فى اللغة: البُطْءُ والتأخُّر عن الخير، مأخوذ من قولهم: ناقة آثمة، أى متأخِّرة فى سيرها. لأنَّ ذا الإثمِ بطىءٌ عن الخير متأخِّر عنه۔۔۔۔
    ونخلُص مما سبق إلى أن "الإثم" فى الاستعمال القرآنى يتميز بملامح دلالية خاصة، هى أنه:
    1) فعل قبيح يستوجب الذمَّ واللوم.
    2) تنفر منه النفوس ولا تطمئن إليه القلوب.
    3) لفظ عام يشمل صغائر المعاصى وكبائرها، وغلب استعماله فى الكبائر.
    4) فيه تعمُّد.

    لغت میں اثم کا مطلب ہے سستی کرنا، پیچھے رہ جانا، جیسے کہا جاتا ہے ناقۃ آثمہ سست اونٹنی، جس کی چال سست ہو۔ کیوں کہ اثم والا نیکی سے پیچھے رہ جاتا ہے اور اس میں سستی اور دیر کرتا ہے۔
    ۔۔۔۔ قرآن میں لفظ اثم کچھ خاص انداز میں استعمال ہوا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے:
    ا) ایسا برا کام جس پر مذمت اور ملامت کی جائے۔
    2) جس سے نفس نفرت محسوس کریں اور دل مطمئن نہ ہوں۔
    3) یہ عام لفظ ہے جس میں چھوٹے اور بڑے گناہ دونوں شامل ہیں لیکن بڑے گناہوں کے لیے زیادہ استعمال ہوا ہے۔
    4) جان بوجھ کر کیا جائے۔
     
    Last edited: ‏جنوری 16, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • مفید مفید x 1
  6. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,064
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,095
    جزاکم اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,049
    وایاکم۔
     
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,049
    ذنب: ہر اس فعل کو کہتے ہیں جس کا انجام برا ہو۔ اس کا اطلاق عام ہے چھوٹی چھوٹی لغزش سے لے کر بڑے بڑے گناہ پر بھی ہو سکتا ہے۔ (ج ذنوب)
    إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا ﴿١﴾لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّـهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا ﴿٢
    بےشک (اے نبی) ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی ہے (1)تاکہ جو کچھ تیرے گناه آگے ہوئے اور جو پیچھے سب کو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے، اور تجھ پر اپنا احسان پورا کر دے اور تجھے سیدھی راه چلائے (2) (سورۃ الفتح 48: آیت 1)
    اور ظاہر ہے کہ یہ گناہ رسول اللہﷺ کی اجتہادی لغزشیں ہی ہو سکتی ہیں ورنہ آپ سے ارادۃ کسی چھوٹے سے چھوٹے گناہ کے صدور کا ایک مسلمان تصور تک نہیں کر سکتا۔ جیسے کہ اللہ تعالی نے ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:
    عَفَا اللَّـهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمْ اللہ تجھے معاف فرما دے، تو نے انہیں کیوں اجازت دے دی؟ (سورۃ التوبۃ 9: آیت 43)
    اور بڑے سے بڑاگناہ قتلِ ناحق ہوتا ہے اس پر بھی لفظ ذنب کا اطلاق ہوا ہے۔ قرآن میں ہے (حضرت موسی علیہ السلام اللہ تعالی سے عرض کرتے ہیں):
    وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ اور ان کا مجھ پر میرے ایک قصور کا (دعویٰ) (قتل) بھی ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں وه مجھے مار نہ ڈالیں
    (سورۃ الشعراء 26: آیت 14)
    (از مترادفات القرآن: مولانا عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ)
    ڈاکٹر محمد داؤد فرماتے ہیں:
    الذنب:
    وردت كلمة "ذنب" مفردة ومجموعة فى العديد من آيات القرآن الكريم، ومن ذلك قول الله عز وجل: {وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ} آل عمران/135.يتضح فى هذا الشاهد أن الذنب يشمل ما تقدَّم من الفاحشة وظلم النفس، فالفاحشة: الفعلة متزايدة القبح، وظلم النفس من الصغائر، أو من الكبائر التى يقتصر ضررها على النفس ولا تتعدَّى إلى الغير.
    • فالذنب: أعم ألفاظ هذا الباب؛ لأنه يشمل الصغائر والكبائر، كما يشمل كل ما لا تحمد عُقْبَاه؛ ولذلك قال موسى عليه السلام: {وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنْبٌ فَأَخَافُ أَنْ يَقْتُلُونِ} الشعراء/14. فجعل لهم عليه ذنبًا، أى جناية تُسْتَوْخَم عُقْبَاها عندهم ، والذنب ـ فى الأعم الأغلب ـ يكون بين الإنسان والله عز وجل.

    ذنب میں کبائر و صغائر اور وہ سب برے کام آ جاتے ہیں جن کا نتیجہ برا ہو۔ اور ذنب عام طور پر اللہ اور بندے کے درمیان ہوتا ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 2
  10. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,831
    بارک اللہ فیکم ،سب سے اچھی چیز جو محسوس ہوئی وہ ہر استدال کے تحت آیت کادرج ہونا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں