منہ پر تعریف کی ممانعت اور بعض صورتوں میں اس کے جواز کا بیان

عبد الرحمن یحیی نے 'مطالعہ' میں ‏جنوری 17, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,318
    منہ پر اس شخص کی تعریف کرنے کی ممانعت ، جس کی بابت غرور وغیرہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو اور جس سے یہ خطرہ نہ ہو ، اس کے حق میں تعریف کا جواز
    1 ۔ صحيح البخاري: كِتَابُ الأَدَبِ (بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّمَادُحِ)
    صحیح بخاری: کتاب: اخلاق کے بیان میں (باب: کسی کی تعریف میں مبالغہ کرنا منع ہے)
    6061 . حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْنَى عَلَيْهِ رَجُلٌ خَيْرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَيْحَكَ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ - يَقُولُهُ مِرَارًا - إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا لاَ مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ: أَحْسِبُ كَذَا وَكَذَا، إِنْ كَانَ يُرَى أَنَّهُ كَذَلِكَ، وَحَسِيبُهُ اللَّهُ، وَلاَ يُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا قَالَ وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ: «وَيْلَكَ»
    حکم : صحیح 6061 . ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے خالد نے ، ان سے عبدالرحمن بن ابی بکرہ نے ، ان سے ان کے والد نے نبی کریم کی مجلس میں ایک شخص کا ذکر آیا تو ایک دوسرے شخص نے ان کی مبالغہ سے تعریف کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افسوس تم نے اپنے ساتھی کی گردن تو ڑ دی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ کئی بار فرمایا ، اگر تمہارے لئے کسی کی تعریف کرنی ضروری ہو تو یہ کہنا چاہیئے کہ میں اس کے متعلق ایسا خیال کرتا ہوں ، باقی علم اللہ کو ہے وہ ایسا ہے ۔ اگر اس کو یہ معلوم ہو کہ وہ ایسا ہی ہے اور یوں نہ کہے کہ وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہی ہے ۔ اورکوئی اللہ کے سامنے پاک صاف ہونے کا دعوٰی نہ کرے ۔
    (امام نووی رحمہ اللہ نے ریاض الصالحین میں باب باندھا ہے : '' منہ پر اس شخص کی تعریف کرنے کی ممانعت ، جس کی بابت غرور وغیرہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو اور جس سے یہ خطرہ نہ ہو ، اس کے حق میں تعریف کا جواز'' امام رحمہ اللہ ممانعت میں یہی حدیث لیکر آئے ہیں اور حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ نے اس کے فوائد تحریر کیے ہیں جو یہ ہیں )
    فوائد : اس میں ایک تو منہ پر تعریف کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ دوسرے کسی کی تعریف ہی کرنی ہو تو اس طرح کہے کہ میرے گمان کے مطابق وہ ایسا ہے ، اسی طرح اپنی بابت بھی کوئی پاکیزگی کا دعوٰی نہ کرے ، اس لیے کہ ہر شخص کے ایمان و تقویٰ کی اصل حقیقت سے صرف اللہ تعالٰی ہی آگاہ ہے ۔

    2 ۔ سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْأَدَبِ (بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ التَّمَادُحِ)
    سنن ابو داؤد: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان (باب: ایک دوسرے کی مدح سرائی کی کراہت کا بیان)
    4804 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ، فَأَثْنَى عَلَى عُثْمَانَ فِي وَجْهِهِ، فَأَخَذَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ تُرَابًا، فَحَثَا فِي وَجْهِهِ، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >إِذَا لَقِيتُمُ الْمَدَّاحِينَ, فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ<.
    حکم : صحیح 4804 . جناب ہمام ( ہمام بن حارث رضی اللہ عنہ ) کہتے ہے کہ ایک شخص آیا اور اس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے منہ پر ان کی تعریف شروع کر دی ۔ تو سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے مٹی اٹھائی اور اس کے منہ پر دے ماری اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ” جب تمہارا سامنا ایسے لوگوں سے ہو جو مدح سرائی اور خوشامد کرنے والے ہوں تو ان کے مونہوں میں مٹی ڈالو ۔ “ ۔
    فائدہ (فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعدی حفظہ اللہ ) :
    یہ مذمت اور یہ معاملہ ایسے لوگوں کے لیے معلوم ہوتا ہے جن کا وتیرہ ہوتا ہے کہ وہ بڑے لوگوں کی خوشامد اور مدح سارئی کر کے مال کھاتے اور اپنے کام نکالتے ہیں ، لیکن اگر کسی کی حوصلہ افزائی اور ترغیب و تشویق کے لیے اس کے اعمال خیر کی مناسب حد تک مدح کر دی جائے تو ان شاء اللہ مباح ہے ، بہر حال سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ فرمان رسول اللہ ﷺ کے ظاہری معنی ہی لیتے تھے ۔ جو بلاشبہ حق اور سچ ہے ۔

    امام نووی فرماتے ہیں ۔ پس یہ ممانعت کی احادیث ہیں اور اس کے جواز میں بھی بہت سی صحیح احادیث وارد ہوئی ہیں ۔
    علماء نے کہا ہے ، ان احادیث میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اگر ممدوح شخص (جس کی تعریف کی جارہی ہو ) ایمان و یقین مین کامل ہو اور اسے ریاضت نفس اور کامل معرفت بھی حاصل ہو ، جس کی وجہ سے اس کے فتنے یا فریب نفس میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو اور نہ اس پر اس کا نفس ہی خوش ہو ، تو یہ حرام ہے نہ مکروہ ۔ اور اگر اس کی بابت ان مذکورہ چیزوں میں سے کسی کا اندیشہ ہو تو پھر اس کے منہ پر اس کی تعریف کرنا سخت ناپسندیدہ ہے ۔ اسی تفصیل پر اس بارے میں وارد احادیث کو محمول کیا جائے گا اور جو احادیث ، جواز کے بارے میں ہیں ، ان میں سے ایک وہ ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا '' مجھے امید ہے کہ تو بھی ان ہی میں سے ہوگا '' یعنی ان لوگوں میں سے جن کو جنت میں داخلے کے وقت جنت کے تمام دروازوں سے پکارا جائے گا ۔ (دیکھیے بخاری ، کتاب فضائل الصحابہ ، ابواب فضائل ابی بکر رضی اللہ عنہ )
    اور دوسری حدیث ہے ، جس میں آپ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا '' تو ان میں سے نہیں ہے '' یعنی ان لوگوں میں نہیں جو اپنی شلواروں کو تکبر کے طور پر (ٹخنوں سے نیچے) لٹکاتے ہیں (دیکھیے صحیح بخاری مناقب ابی بکر رضی اللہ عنہ )
    نیز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے آپ ﷺ نے فرمایا : شیطان جس راستے پر تجھ کو چلتا ہوا دیکھ لیتا ہے تو وہ اس راستے کو چھوڑ کر کوئی اور راستہ اختیار کر لیتا ہے (صحیح بخاری ، مناقب عمر رضی اللہ عنہ )
    اور جواز میں کثرت سے حدیثیں ہیں ، جن میں سے کچھ حدیثیں میں نے اپنی کتاب '' الاذکار '' میں ذکر کی ہیں ۔ ( ابو ذکریا یحیی بن شرف النووی رحمہ اللہ )

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا شیخ
     
  3. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,872
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں