تفسیر سورة الفاتحة ( تفسیر سعدی )

عبد الرحمن یحیی نے 'تفسیر قرآن کریم' میں ‏جنوری 20, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,318
    بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ﴿١﴾الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿٢﴾الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ﴿٣﴾مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ﴿٤﴾إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ﴿٥﴾اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ﴿٦﴾صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ﴿٧

    شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے (1)سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے واﻻ ہے (2)بڑا مہربان نہایت رحم کرنے واﻻ (3)بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے (4)ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں (5)ہمیں سیدھی (اور سچی) راه دکھا (6)ان لوگوں کی راه جن پر تو نے انعام کیا ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا (یعنی وه لوگ جنہوں نے حق کو پہچانا، مگر اس پر عمل پیرا نہیں ہوئے) اور نہ گمراہوں کی (یعنی وه لوگ جو جہالت کے سبب راه حق سے برگشتہ ہوگئے) (7)

    یعنی میں اللہ تعالیٰ کے ہر نام سے ابتدا کرتا ہوں کیونکہ لفظ ” اسم“ مفرد اور مضاف ہے جو تمام اسمائے حسنی کو شامل ہے ۔ (اللہ ) وہ ذات ہے جو بندگی کے قابل اور معبود ہے، وہ اکیلا ہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ الوہیت کی صفات سے متصف ہے اور وہ صفات کمال ہیں ۔
    (
    الرحمٰن الرحیم) دو نام ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بے پایاں اور عظیم رحمت کا مالک ہے۔ اس کی رحمت ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور ہر زندہ چیز کے لئے عام ہے اور اللہ تعالیٰ نے اصحاب تقویٰ اور اپنے انبیاء و رسل کے پیروکاروں کے لئے اس رحمت کو لازم کردیا ہے ۔ پس یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے رحمت مطلقہ ہے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کے اس کی رحمت میں سے کچھ حصہ ہے ۔
    معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور احکام صفات پر ایمان لانا ایمانیات کے ان قواعد میں شمار ہوتا ہے جن پر تمام سلف اور ائمہ امت متفق ہیں ، مثلاً وہ ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رحمٰن ہے ، رحیم ہے اور رحمت کا مالک ہے جس سے وہ متصف ہے اور اس کا تعلق ان لوگوں سے ہے جن پر رحم کیا جاتا ہے ۔ پس تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں اور یہی اصول تمام اسمائے حسنیٰ میں جاری ہے جیسے (
    العلیم) کے بارے میں کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ علیم اور صاحب علم ہے اور اس علم کے ذریعے سے ہر چیز کو جانتا ہے ۔ وہ (قدیر) یعنی صاحب قدرت ہے ، ہر چیز پر قادر ہے ۔

    (
    الحمد للہ) یہ اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اور اس کے ان افعال کی ثنا ہے جو فضل و عدل کے درمیان دائر ہیں۔ پس ہر پہلو سے کامل حمد کا مالک وہی ہے۔ (رب العلمین) ” جہانوں کا پروردگار ہے۔“ (رب) وہ ہستی ہے جو تمام جہانوں کی مربی ہے۔ (العالمین) سے مراد اللہ تعالیٰ کے سوا تمام مخلوق ہے۔ اس نے ان کو پیدا کیا، ان کے لئے ان کی زندگی کا سروسامان مہیا کیا اور پھر انہیں اپنی ان عظیم نعمتوں سے نوازا کہ اگر وہ نہ ہوتیں تو ان کے لئے زندہ رہنا ممکن نہ ہوتا۔ پس مخلوق کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کردہ ہے۔
    مخلوق کے لئے اللہ تعالیٰ کی تربیت (پرورش کرنے) کی دو قسمیں ہیں۔ (١) تربیت عامہ (٢) تربیت خاصہ تربیت عامہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو پیدا کیا، ان کو رزق بہم پہنچایا اور ان مفادات و مصالح کی طرف ان کی راہ نمائی کی جن میں ان کی دنیاوی زندگی کی بقا ہے۔ تربیت خاصہ وہ تربیت ہے جو اس کے اولیا کے لئے مخصوص ہے پس وہ ایمان کے ذریعے سے ان کی تربیت کرتا ہے، انہیں ایمان کی توفیق سے نوازتا اور ان کی تکمیل کرتا ہے وہ ان سے ان تمام امور کو دور کرتا ہے جو راہ حق پر چلنے سے انہیں باز رکھتیں ہیں اور ان تمام رکاوٹوں کو ہٹاتا ہے جو ان کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان حائل ہوتی ہیں۔
    تربیت خاصہ کی حقیقت یہ ہے کہ اس سے ہر بھلائی کی توفیق ملتی اور ہر برائی سے حفاظت نصیب ہوتی ہے۔ شاید یہی معنی انبیائے کرام ( علیہ السلام) کی دعاؤں کا سرنہاں ہے کہ ان میں اکثر ” رب“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کیونکہ انبیائے کرام کی فریادیں تمام کی تمام اللہ تعالیٰ کی ربوبیت خاصہ کے تحت آتی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کا ارشاد (
    رب العلمین) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمام مخلوق کو تخلیق کیا ارشاد (رب العلمین) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمام مخلوق کو تخلیق کیا ہے۔ وہ اکیلا ہی ان کی تدبیر کرتا ہے اور اسے کمال بے نیازی حاصل ہے اور تمام عالم ہر پہلو اور ہر اعتبار سے اس کا محتاج ہے۔
    (مالك یوم الدین) ” وہ جزا کے دن کا مالک ہے“ (المالک) وہ ہستی ہے جو مَلک کی صفت سے متصف ہو۔ جس کے آثار یہ ہیں کہ وہ ہستی حکم دیتی ہے اور روکتی ہے، نیکی پر ثواب عطا کرتی ہے اور گناہوں پر سزا دیتی ہے، وہ اپنی مملوکات میں ہر قسم کا تصرف کرتی ہے اور اس کی ملکیت کی اقسام میں سے ایک جزا کا دن بھی ہے اور وہ قیامت کا دن ہے۔ جس دن لوگوں کو ان کے اچھے یا برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اس لئے اس روز اللہ تعالیٰ کی ملکیت کاملہ اور اس کا عدل اور حکمت مخلوق پر بالکل ظاہر ہوجائے گی اور یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ مخلوق کے اختیارات میں کچھ نہیں ہے، حتی کہ اس دن بادشاہ اور رعایا، غلام اور آزاد سب برابر ہوں گے۔ اس روز تمام مخلوق اس کی عظمت و عزت کے سامنے سرنگوں اور سرافگندہ ہوگی۔ تمام لوگ اس کی جزا و سزا کے فیصلے کے منتظر ہوں گے، اس کے ثواب کے امیدوار اور اس کی سزا سے خائف ہوں گے۔ اسی بنا پر اس نے خاص طور پر اس دن کی ملکیت کا ذکر کیا ہے ورنہ قیامت کے دن اور دیگر دنوں کا وہی مالک ہے۔

    (
    ایاک نعبد وایاک نستعین) ” ہم تیری ہی عبادت کرتے اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں“ یعنی تجھ اکیلے ہی کو ہم عبادت اور استغانت کے لئے مخصوص کرتے ہیں کیونکہ (نحوی قاعدے کے مطابق) معمول کا اپنے عامل سے پہلے آنا حصر کے معنی پیدا کرتا ہے اور حصر سے مراد صرف مذکور کے لئے حکم کا اثبات اور اس کے سوا کسی اور کے لئے اس حکم کی نفی کرنا ہے۔ گویا بندہ کہتا ہے :
    ” ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے اور صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور تیرے سوا کسی سے مدد کے طلب گار نہیں ہوتے۔ “
    عبادت کو استغانت پر مقدم کرنا عام کو خاص پر مقدم کرنے کی نوع میں سے ہے نیز اللہ تعالیٰ کے حق کو بندے کے حق کو بندے کے حق پر مقدم کرنے کا اہتمام ہے۔” عبادت“ ایک ایسا اسم ہے جو ان تمام ظاہری اور باطنی اعمال و اقوال کا جامع ہے جن کو اللہ پسند کرتا ہے اور جن سے وہ راضی ہوتا ہے۔

    (استعانۃ) کا مطلب، جلب منفعت اور دفع ضرر کے حصول میں پورے وثوق کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور بھروسہ کرنا ہے۔
    اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کے قیام، منافع کے حصول اور نقصان کے ازالے میں صرف اسی سے مدد کا طلبگار ہونا ابدی سعادت کا وسیلہ اور تمام برائیوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔ پس نجات کا راستہ یہی ہے کہ عبادت بھی صرف ایک اللہ کی جائے اور مدد بھی صرف اسی سے مانگی جائے۔
    اور عبادت اس وقت تک عبادت نہیں جب تک کہ اسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حاصل نہ کیا گیا ہو اور اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا نہ ہو۔ ان دو امور کے وجود سے عبادت متحقق ہوتی ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے ” استعانت“ کو ” عبادت“ کے بعد ذکر کیا ہے حالانکہ استعانت عبادت میں داخل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبدہ اپنی تمام عبادات میں اللہ تعالیٰ کی مدد کا محتاج ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد نہ فرمائے تو بندہ اللہ تعالیٰ کے او امر پر عمل اور اس کی منہیات سے اجتناب نہیں کرسکتا۔

    پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اھدنا الصراً المستقیم) یعنی سیدھے راستے کی طرف ہماری راہ نمائی فرما اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق سے ہمیں نواز۔
    (
    صراط مستقیم) سے مراد وہ واضح راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔ یہ معرفت حق اور اس پر عمل پیرا ہونے کا نام ہے۔ پس اس راستے کی طرف راہنمائی فرما اور اس راستے میں ہمیں اپنی راہ نمائی سے نوازا۔
    صرف مستقیم کی طرف راہنمائی کا مطلب، دین اسلام کو اختیار کرنا اور اسلام کے سوا دیگر تمام ادیان کا ترک کردینا ہے اور صراط مستقیم میں راہنمائی سے نوازنے کے معنی یہ ہیں کہ تمام دینی معاملات میں علم و عمل کے اعتبار سے ہماری صحیح اور مکمل راہنمائی فرما، لہٰذا یہ دعا سب سے زیادہ جامع اور بندہ مومن کے لئے سب سے زیادہ فائدہ مند ہے۔ بنابریں انسان پر واجب ہے کہ وہ اپنی نماز کی ہر رکعت میں اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کیونکہ وہ اس کا ضرورت مند ہے۔
    یہ صراط مستقیم نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کا راستہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں سے سرفراز فرمایا یہ ”
    المغضوب علیھم“ لوگوں کا راستہ نہیں جن پر غضب نازل ہوا، جنہوں نے حق کو پہچان کر بھی اسے ترک کردیا مثلاً یہود وغیرہ۔ اور نہ یہ (الضآلین) یعنی گمراہ لوگوں کا راستہ ہے جنہوں نے نصاریٰ کی مانند حق کو ترک کر کے جہالت اور گمراہی کو اختیار کیا۔ پس یہ سورت اپنے ایجاز و اختصار کے باوجود ایسے مضامین پر مشتمل ہے جو قرآن مجید کسی اور سورت میں نہیں پائے جاتے۔ سورۃ فاتحہ توحید کی اقسام ثلاثہ کو متضمن ہے۔
    ١۔ توحید ربوبیت : اللہ تعالیٰ کے ارشاد (رب العلمین) سے ماخوذ ہے۔
    ٢۔
    توحید الوہیت : یعنی صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق سمجھنا۔ لفظ ” اللہ“ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد (ایاک نعبدوایاک نستعین) سے ماخوذ ہے۔
    ٣۔ توحید اسماء و صفات : توحید اسماء و صفات سے مراد ہے کہ بغیر کسی تعطیل، تمثیل اور تشبیہ کے اللہ تعالیٰ کے لئے ان صفات کمال کا اثبات کرنا جن کو خود اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت کیا ہے اور اس پر لفظ (
    الحمد) دلالت کرتا ہے۔ جیسا کہ گزشتہ صفحات میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔
    اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد (
    اھدنا الصراط المستقیم) اثبات نبوت کو متضمن ہے کیونکہ سیدھے راستے کی طرف راہنمائی نبوت و رسالت کے بغیر ناممکن ہے۔
    اللہ تعالیٰ کے ارشاد (مالك یوم الدین) سے اعمال کی جزا و سزا ثابت ہوتی ہے نیز یہ جزا اور سزا عدل و انصاف سے ہوگی کیونکہ ” دین“ کے عنی ہیں عدل کے ساتھ بدلہ دینا۔
    اور سورۃ فاتحہ تقدیر کے اثبات کو بھی متضمن ہے نیز اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ بندہ ہی درحقیقت فاعل ہے۔ قدر یہ اور جبر یہ کے نظریات کے برعکس، بلکہ (اھدنا الصراط المستقیم) تمام اہل بدعت و ضلالت کی تردید کو متضمن ہے، کیونکہ صراط مستقیم سے مراد حق کی معرفت اور اس پر عمل پیرا ہونا ہے اور بدعتی اور گمراہ شخص ہمیشہ حق کا مخالف ہوتا ہے۔
    (
    ایاک نعبد و ایاک نستعین) اس بات کو متضمن ہے کہ دین کو اللہ کے لئے خالص رکھا جائے، چاہے اس کا تعلق عبادات سے ہو یا استغانت سے۔ فالحمد للہ رب العالمین

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خيرا شیخ
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں