جو جہاد ہم کر سکتے ہیں

اجمل نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏فروری 1, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    469
    جو جہاد ہم کر سکتے ہیں

    انگریز مسلمانوں کا بد ترین دشمن ہیں۔ انہوں نے عرب و عجم سمیت ہر خطے اور ہر نسل کے مسلمانوں پر قریب دو سو سال حکومت کی اور وہ مسلمانوں کے نفسیات سے بہت اچهی طرح واقف ہیں ۔اسی لئے آج بھی امریکہ اور دیگرمغربی ممالک جب بھی مسلمانوں کے خلاف سازشوں اور ریشہ دوانیوں کی پلاننگ کرتےہیں تو اہل برطانیہ سے مشورہ ضرور کرتے ہیں۔ خاص کرامریکہ اور اسرائل تو برطانیہ کو شامل کئے بغیرکبھی کوئی قدم نہیں اُٹھاتے جس کی مثال ہم افغانستان‘ عراق‘ لیبیا وغیرہ میں دیکھ چکے ہیں۔

    جب انگریز پوری مسلم دنیا پرقابض ہوئے تو انہوں نے اسلام کو مٹانے کی ہر ممکن کوششیں کی ۔ اس کوششوں میں انہوں نے
    1. علمائے حق کا بے دریغ قتل کیاقتل عام کیا
    2. علماؤں پر زندگی تنگ کردی اور محلے کے ٹکڑے پر رکھ دیا
    3. علمائے سوء کو آگے بڑھایا
    4. مختلف برے القابوں سے نواز کرعلماؤں کا وقار عوام الناس کی نظروں میں گرایا
    5. مسلمانوں کو مختلف فرقوں میں تقسیم کیا
    6. قادیانی وغیرہ اسلام مخالف گروہ بنائے اور انہیں مسلمانوں کا فرقہ گرار دیا
    7. علمائے سوء کے ذریعے بدعات کو فروغ دلوایا
    8. جہاد کرنے والوں کو عبرتناک سزائیں دیں
    9. جہاد کے خلاف فتویٰ دلوایا اور جہاد کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوششیں کی​

    وغیرہ وغیرہ یہ ساری کارستانیاں انگریزوں نے اپنے دور اقتدار میں کئے ۔

    پهر مسلمانوں کو انگریزوں سے آزادی ملی لیکن انگریز جانے سے پہلے ایسا بندوبست کر گئے کہ مسلمانہمیشہ آپس میں دست و گریباں رہیں اور انکے غلام بنے رہیں ۔

    دشمن چیونکہ مسلمانوں کے جہاد سے ہمیشہ خائف رہتے ہیں اور ہر دور میں دشمنان اسلام کی یہی کوششیں رہی ہیں کہ کسی طرح مسلمانوں سے جہاد کو ختم کر دیا جائے ۔ انگریز اپنی دورِ حکومت میں قادیانیوں اور دیگر علمائے سوء کے ذریعے فتویٰ دلوا کر جہاد کو ختم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں لیکن علمائے حق اور مسلمانوں کی اکثریت ہمیشہ جہاد کا نعرہ بلند کرکے اُن کی کوششوں کو ناکام بناتے رہے۔

    اب جبکہ میڈیا کا دور شروع ہوا اور ساری میڈیا پر یہودیوں کا کنٹرول ہوگیا تو دشمنانِ اسلام کومسلمان ‘ اسلام اورجہاد کو بدنام کرنے اورختم کرنے کا ایک سنہرا موقع مل گیا۔

    انگریز اپنی دور حکومت میں جن حربوں کو بروئے کار لاکر مسلمان علماؤں کا وقار عام مسلمانوں کی نظروں میں گرانے میں پوری طرح کامیاب ہوئے تھے ، ٹھیک انہی حربوں کے ذریعے اس دور میں بڑی پلاننگ کے ساتھ کومسلمان ‘ اسلام اورجہاد کو بدنام کرنے کی سازش کی گئی۔

    جہاد کے نام پرسادہ لوح مسلمانوں کے ذریعے مسلمانوں ہی پر خودکش دھماکے کروائے گئے اور میڈیا کے زور پر مسلمان‘ اسلام اور جہاد کو بدنام کیا گیا۔

    طالبان، القاعدہ اور داعش وغیرہ کو بنایا گیا اور انکے ذریعے جہاد کے نام پر مسلمانوں کو ہی بربریت کانشانہ بنایا گیا ... اور ... مسلمان‘ اسلام اور جہاد کو بدنام کرنے کیلئے میڈیا پر خوب پروپیگنڈا کیا گیا۔

    اور اس طرح عام مسلمانوں کی نظروں میں مولویوں کی طرح اس دور میں جہاد کو بدنام کر دیا گیا ۔

    اب معاملہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا ایک طبقہ جہاں جہاد کو گالی کےطور پراستعمال کرتا ہے تو دوسرا جہاد کا نام لینے سے بھی ڈرتا ہے۔

    پھر نوبت یہاں تک آگئی کہ ’اللہُ اکبر‘۔۔۔ جسے مسلمان دل و زبان سے اداکر کے زیادہ تر عبادات کا آغاز کرتے ہیں اسی ’ اللہُ اکبر‘ کا نعرہ لگوا کر مسلمانوں کا ہی قتل عام کیا گیا اور مسلمانوں کا ہی گلا کاٹا جانے لگا اور کاٹاجا رہا ہے اوراس کا پرچار بھی میڈیا پر خوب کیا گیا اور کیا جا رہا ہے۔۔۔ تاکہ مسلمان‘ اسلام اور جہاد بدنام ہو۔

    تو جو مسلمان اب جہاد کا نام لینے سے بھی ڈرتے ہیں کیاوہ ’ اللہُ اکبر‘ کہنا اور ’ اللہُ اکبر‘ دل و زبان سے ادا کرکے عبادت کرنا بھی چھوڑ دیں گے؟

    ہم جانتے ہیں فی زمانہ نہ ہی جہاد (و قتال ) کے شرائط پورے ہورہے ہیں اور نہ ہی مسلمانوں کے پاس اس کے اسباب ہیں۔

    ان شاءاللہ جب بھی شرائط و اسباب پورے ہونگے مسلمان جہاد و قتال کیلئے نکل پڑیں گے
    لیکن اُس سے پہلے جو جہاد ہم کر سکتے ہیں کم از کم اس میں تو کوتاہی نہ کریں۔
     
    Last edited: ‏فروری 1, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    تمام انگریز؟ کیا انگریز مسلمان نہیں ہوتے؟
    باقی اہل مجلس سے سوال ہے کیا واقعی ایسا ہی ہے؟
    کیسے؟مجھے تو شروع سے یہی علم ہے کہ مسلمان خود یہی چاہتے ہیں اور اسی پر خوش ہیں۔
    انہیں سادہ لوح کہنا ، سادگی اور معصومیت کی توہین ہے۔ انتہاء درجے کے جاہل ، قاتل اور خارجی کہیں جو اسلام کے نام پر ناحق خون بہائے۔

    مولوی اور جہاد کو انگریزوں سے زیادہ خود مسلمانوں نے بدنام کیا ہے اپنے لاپرواہ بیانات اور خاموشی کی وجہ سے۔ جو اہل علم ہیں لوگ ابھی بھی ان کی عزت کرتے ہیں ۔ انگریزون کو اتنی محنت کرنے کی ضرورت نہیں ۔ ان کے پاس اور بہت کام ہیں کرنے کے لیے۔
    تو یہ مسلمانوں کی جہالت ہوئی۔ بے چارے انگریز کا کیا قصور ۔ ہمارے دینی اداروں کے استاد جب نیم ملا، تعلیمی اداروں کے استادغیر حاضر اور نا اہل ، ہسپتالوں میں نیم حکیم اور سیاست میں کرپٹ لیڈر ہوں گے تو ایسے ہی علم و اخلاق سے عاری مسلماں نظر آئیں گے۔
     
    • متفق متفق x 3
  3. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    469
    اکثریت ہی قوم کی پہچان ہوتی ہے۔ جیسے پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے‘ بھارت ہندؤوں کا ملک ہے۔۔۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ پاکستان میں ہندو‘ نصرانی‘ سکھ وغیرہ یا بھارت میں مسلمان‘نصرانی‘ سکھ وغیرہ نہیں رہتے۔ بے شک انگریز مسلمان بھی ہوتے ہیں لیکن اول تو جب انگریز برصغیر پر قابض ہوئے اُس وقت شاید ہی کوئی انگریز مسلمان تھا اور آج بھی انگریز مسلمانوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے
     
  4. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    469
    بے شک مسلمان پہلے ہی فرقے میں بٹ چکے تھے لیکن اس میں بھی یہودیوں کا ہاتھ تھا اور برصغیر میں ۔۔۔ دیوبندی‘ بریلوی‘ پرویزی ‘ قادیانی وغیرہ کس نے پیدا کئے ؟
    خود کش دھماکے کروانے والے بے شک انتہاء درجے کے جاہل ، قاتل اور خارجی ہیں لیکن جن سے یہ کام کروایا جاتا ہے ان کی اکثریت 15 سے 25 سال کے نوجوان ہوتے ہیں جنہیں جنت اور حور کا لالچ دیکر یا انجکشن دے کر یہ کام کرواجاتا ہے ۔۔ یہ نوجوان سادہ لوح ہی ہیں جو اغیار کی سازش کے بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔
    جب عراق میں خود کش حملے ہوتے تھے‘ اس وقت کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں کہ جب بھی کوئی اتحادی ملک کا اعلیٰ عہدہ دار آنے والا ہوتاتھا ‘ اُس سے ایک یا دو دن پہلے خود کش حملے کروائے جاتے تھے۔۔۔ صرف اس لئے کہ سیکوریٹی سخت ہوجائے اور ایک اعلیٰ عہدےدار کی سیکوریٹی کیلئے 50‘ 100’ 200 مسلمان مرتے ہیں تو کیا؟ ایک تیر سے کئے شکار؟
    انگریز دورِ اقتدار میں ہر درخت کے ساتھ لٹکا کر علماؤوں کو قتل کرنا‘ جلانااور کالا پانی کی سزائیں وغیرہ کے بارے میں آپ کو شاید علم نہیں۔
    اس سے مجھے انکا ر نہیں۔
    اقرا کے بنیاد پر وجود میں آنے والی امت جب جہالت کا راستہ اختیار کرے گی تو یہ سب تو ہونا ہے۔
     
  5. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    صحیح۔ میرا نظریہ قدرے مختلف ہے۔اس لیے سمجھنے مین کچھ دقت ہوئی۔ یہ بھی ٹھیک ہے۔ آپ قوموں کو اسی نظریہ کی عینک سے دیکھیں۔ میں اپنی عینک سے دیکھتی ہوں۔

    اس سکیل سے نانپیں گے تو پھر کیا ابو جہل ، کیا مودی کیا یہودی سبھی بے چارے اور سادہ لوح ہی ہیں ۔ شیطان نے بہکا دیا تھا نہیں تو وہ کہاں بہکنے والے تھے ۔

    پھر انگریز دور کی حد تک کیوں؟ بابا آدم کے زمانے تک جاتے ہیں ۔ یہ تو قابیل نے ہابیل کو نا حق قتل کیا تو فساد شروع ہو گیا تھا ۔ نہیں تو مسلمانوں نے تو بہت محبت اور اتفاق سے رہنا تھا ۔

    بہرحال میرا نظریہ تو اس معاملے میں بھی مختلف ہی ہے ۔ قران و سنت کے بعد ایک بالغ و با شعور مسلمان کے بہکنے کا جواز نہیں بنتا ۔ اگر کوئی بہکتا ہے تو اس میں ذمہ دار کوئی اور نہیں وہ مسلمان خود ہے۔ اور اگر مسلمان قوم گمراہی میں جا رہی ہے تو اسکا ذمہ دار نہ کوئی گورا نہ کالا بلکہ وہ قوم خود ہے۔
     
    • متفق متفق x 1
  6. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    469
    یعنی کوئی کسی کو قتل کر دے تو قاتل نہیں مقتول خود قصوروار ہے۔۔۔۔ چلیں اس پر بحث نہیں۔
     
  7. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    469
    یہ بات تو بالکل صحیح ہے کہ” قران و سنت کے بعد ایک بالغ و با شعور مسلمان کے بہکنے کا جواز نہیں بنتا“ ۔۔۔ اور اس بات پر میں خود حیران ہوں کہ ’ قران و سنت ‘ موجود ہونے کے باوجود مسلمانوں نےکیوں گمراہی کے راستے پر چل نکلے؟
    اور یہ بھی صحیح ہے کہ ذمہ دار تو مسلمان خود ہی ہیں اور اس کی سزائیں بھی کاٹ ر ہے ہیں اور کاٹتے رہیں گے لیکن شعوراب بھی نہیں ۔۔۔
    ایک سومنات ڈھا کر جب ہر گلی کوچے میں سومنات بنائیں گے تو جو کچھ بخت نصر نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا وہ مسلمانوں کے ساتھ کیوں نہیں ہوگا ۔۔۔ کیا مسلمانوں کے معاملے میں اللہ کی سنت تبدیل ہوجائے گی؟ مغلیہ دور میں اور آج بھی ہر گلی کوچے میں بے شمار سومنات اُگائے گئے اور اگائے جا رہے ہیں تو فصل تو کاٹنا ہی تھا اور کاٹنا ہی ہے ۔۔۔۔ جب تک شعور نا جاگے اور قران و سنت پر واپس نہ آئیں!

    https://plus.google.com/116877491838498180231/posts
    /5HZXtGvRPAV


    ۔۔۔ لیکن مسلمانوں کو دشمنوں سے آگاہ کرنا ہماری ذمہ داری نہیں ۔۔۔تو انگریز جیسے دشمن سے آگاہ کرکے ہم اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔
     
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    بے شک!
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں