شوہروں کے فضائل میں مشہور اسلامی صوفی قصے

عائشہ نے 'ضعیف اور موضوع احادیث' میں ‏فروری 7, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,094
    سوشل میڈیا پر خواتین کو اچھی بیویاں بنانے کے لیے مشہور اسلامی صوفی قصوں کو اس موضوع میں پیش کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ قرآن وحدیث میں نیک بیوی کی مستند صفات موجود ہیں۔ ان سے ہٹ کر بے سروپا قصوں کو اسلامی تعلیمات بتانا درست نہیں۔ یہی اس موضوع کا مقصد ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,094
    پہلا قصہ:
    شوہر کا بیوی پر اتنا حق ہے کہ اگر شوہر کے جسم پر پھوڑا نکل آئے اور بیوی اس کی پیپ چاٹ کر صاف کرے تو بھی حق ادا نہ ہو۔
    تبصرہ:
    یہ ایک منکر روایت ہے کہ
    جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم بابنة له فقال : يا رسول الله ، هذه ابنتي قد أبت أن تزوج . فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم : أطيعي أباك . فقالت : والذي بعثك بالحق لا أتزوج حتى تخبرني ما حق الزوج على زوجته ؟ قال : حق الزوج على زوجته أن لو كانت له قرحة فلحستها ما أدت حقه
    ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس اپنی بیٹی لے کر آیا اور کہا: یہ میری بیٹی ہے جو نکاح سے انکار کر رہی ہے۔ نبی ﷺ نے اس سے کہا۔ اپنے باپ کی بات مانو۔ لڑکی نے کہا: اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا۔ میں تب تک شادی نہیں کروں گی جب تک آپ مجھے نہ بتائیں کہ شوہر کا بیوی پر کیا حق ہے۔ آپ نے فرمایا: اس کا بیوی پر یہ حق ہے کہ اگر اس کے زخم ہو اور یہ چاٹ کر صاف کرے تو اس کا حق ادا نہ ہو گا۔
    امام ذھبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے۔
    1-اس قسم کے الفاظ والی تمام روایات میں سے کوئی بھی صحیح نہیں جیسا کہ یہاں ذکر ہو چکا ہے۔
    2- طبی لحاظ سے بھی یہ بات درست نہیں ۔ کیوں کہ اس طرح بیماری پھیلنے کا خطرہ ہے۔ جب اسلامی لحاظ سے یہ کوئی مستند بات ہی نہیں تو اس پر بحث کرنا بے کار ہے۔ اسلام کبھی اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کا حکم نہیں دیتا۔
    3- یہ ذوق سے گری ہوئی بات ہے۔
    اس لیے ایسی واہیات اور نامعقول باتوں کو حدیث کہہ کر پھیلانا بالکل غلط طرزعمل ہے۔ ایسی ذوق سے گری ہوئی باتوں سے لوگوں کا دل اسلامی معلومات سے خراب تو کیا جا سکتا ہے ترغیب و ترہیب نہیں ہو سکتی۔
     
    Last edited: ‏فروری 8, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • مفید مفید x 1
  3. مزمل حسین

    مزمل حسین نوآموز

    شمولیت:
    ‏جنوری 14, 2018
    پیغامات:
    22
    اسی طرح کی ایک روایت جس پر ماہنامہ اشاعة الحدیث الحضرو میں اسنادہ حسن کا حکم لگایا گیا ہے۔
    دیکھئے:
    [​IMG]
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,094
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  5. مزمل حسین

    مزمل حسین نوآموز

    شمولیت:
    ‏جنوری 14, 2018
    پیغامات:
    22
    اس روایت سے متعلق ماہنامہ اشاعة الحدیث شمارہ نمبر 126 ص 64 پر ایک اعلان شائع کیا گیا ہے جس میں اس روایت اور ایک دوسری روایت پر صحیح کا حکم لگایا گیا ہے۔ اور ان روایات کی تفصیل کسی اگلے شمارے میں پیش کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,094
    اس روایت پر نقد سند اور نقد متن دونوں موجود ہے جس کی وجہ سے عام افراد کے لیے مختصر خلاصہ لکھا گیا تھا۔ علم حدیث کے باقاعدہ طالب علم اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ نکتہ نمبر ایک میں کچھ حوالے موجود ہیں۔ مزید تفصیل https://islamqa.info/ar/151353

    " فهذا الحديث فيما ذكر فيه من وصف حق الزوج على الزوجة بهذه الألفاظ المنفرة المستنكرة ، ليس في شيء من المعهود في سنة أعف خلق الله صلى الله عليه وسلم ، والذي أوتي الحكمة وفصل الخطاب وجوامع الكلم ، وقد فصل الله في كتابه ونبيه ذو الخلق العظيم صلى الله عليه وسلم في سنته الحقوق بين الزوجين بأجمع العبارات وأحسن الكلمات ، كلها من باب قول ربنا عز وجل : ( ولهن مثل الذي عليهن بالمعروف ) البقرة/228 .

    وأما علة الحديث فما هي مجرد النفرة من صيغة تلك العبارات۔۔۔۔۔۔الخ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں