Placenta پلاسینٹا کو اردو میں کیا کہتے ہیں؟ اور ولادت کے بعد پلاسینٹا کو کیاکیا جائے؟

Abdulla Haleem نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏فروری 11, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. Abdulla Haleem

    Abdulla Haleem رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 19, 2014
    پیغامات:
    119
    ولادت، ڈیلیوری، سی سیکشن، کے بعد پلیسینٹا کو کیا کیا جائے؟
    اس بارے میں اسلامی تعلیمات سے آگاہ کردیں تو نوازش ہوگی۔
    اور اگر کوئی ڈاکٹر یا کوئی فرد اس بارے میں سائنٹفیک معلومات دے دیں تو وہ بھی بہت اچھی بات ہوگی۔

    شکریۃ فجزاکم اللہ خیر الجزاء۔
     
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    اردو ترجمہ معلوم نہیں۔ عربی میں مشیمہ کہتے ہیں۔
    رابطہ عالم اسلامی کے مجمع فقہی نے اس پر تفصیلی فتوی دے رکھا ہے جس کے مطابق
    1-یہ انسانی جسم کا حصہ ہے۔ اس لیے اسی طرح اسلامی طریقے دفن کیا جانا چاہیے جیسے کسی مریض کی کٹی ہوئی ٹانگ، ہاتھ وغیرہ۔
    2-اس کو بیچنا حرام ہے جیسا کہ تمام انسانی اعضا کی تجارت حرام ہے۔
    3-اگر یہ ایسے لوگوں کو عطیہ کیا جائے جو مسلمان ہوں اور اسے شرعی حدود کے مطابق طبی تجربوں میں استعمال کریں تو حرج نہیں۔ اسی طرح دوسری طبی ضرورتوں کے لیے عطیہ کیا جا سکتا ہے۔
    4-تاہم بعض کفار کے ممالک میں اس کو لے کر کاسمیٹک کمپنیوں کو بیچ دیا جاتا ہے۔ جو اسے اپنی مصنوعات میں استعمال کرتی ہیں۔ یہ عمل حرام ہے۔
    5- پلاسینٹا سے بنی ہوئی دواؤں کے استعمال کے بارے میں لجنۃ الافتاء کا کہنا ہے کہ یہ استعمال اصل میں حرام ہے کیوں کہ یہ انسانی جسم کا حصہ ہے جس کی حرمت ہے۔ اگر کوئی متبادل موجود نہ ہو اور ضرورت سخت ہو تو ایسی دوا صرف ضرورت کی حد تک ہی استعمال کرنا جائز ہے شرط یہ ہے کہ یہ دوائیں حسن میں اضافے کی غرض سے نہ ہوں بلکہ طبی ضرورت کے لیے ہوں۔
    http://aliftaa.jo/Question.aspx?QuestionId=2796#.WJ76MOe0nag
    http://ar.themwl.org
    https://islamqa.info/ar/3794
    اصل فتوی رابطہ کی ویب سائٹ سے ملا تو حاضر کردوں گی۔یاد رہے کہ کچھ علما کے انفرادی فتووں میں اسے ناخن یا بال کی مانند کہا گیا تھا۔ مجمع فقہی کا فتوی زیادہ تفصیلی ہے۔
    ایک آخری بات: اس کو کھانا یا پکا کر کھانا بھی حرام ہے۔ یہ انسانی عضو ہے۔ جس کی حرمت کی وجہ سے اسے کھایا نہیں جا سکتا۔
    کچھ پاگل لوگ میڈیا کے پیچھے لگ کر اس بات کو سوشل میڈیا پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں کہ اسے کھایا جائے۔ یہ کافروں کی شتر بے مہار تہذیب ہے جس کے نزدیک انسان کی کوئی قدرو قیمت نہیں۔اس جنگلی تہذیب میں طبی فائدوں کے نام پر اس کو پکا کر کھانے کا رواج ہو رہا ہے۔ اس رواج کا حوالہ
    https://www.theguardian.com/lifeand...fants-postpartum-depression-placentophagy-fda
     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 11, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں