فحاشی کی پرزور مذمت میں مصروف گفتار کے غازی

عائشہ نے 'اركان مجلس كے مضامين' میں ‏فروری 16, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    آپ سوشل میڈیا پر موجود ہوں اور عامیانہ زبان سے واسطہ نہ پڑے ممکن نہیں۔ لیکن افسوس تب ہوتا ہے جب فحاشی کی مذمت کرنے والے مومن حضرات کی زبان بگڑتی ہے۔
    پہلے یہ تاک تاک کر آزاد خیال خواتین کے بیانات (اس میں ان کی وڈیو سے بھی کوئی پرہیز نہیں) ڈھونڈتے ہیں، پھر ان کی مذمت کے لیے وہ وہ فحش الفاظ، اور عریاں جملے (سمیت ماں بہن کی گالیوں کے) ڈھونڈ کر لاتے ہیں کہ فحاشی کا باپ بھی شرما جائے۔ روشن خیالوں کے دیدوں کا پانی تو اعلانیہ مر چکا ہے، ان خضر صورت شرفا کی زبان کو کیا ہوا ہے یہ کوئی معمہ نہیں۔ کیا اسلام کا پہلا رکن یہ ہے کہ فحاشی کو ہر کونے کھدرے میں ڈھونڈا جائے پھر اس کی مذمت میں دن رات ایک کر دیے جائیں؟
    سب سے خطرناک معاملہ یہ ہے کہ دوسروں کے اخلاقی زوال پر انگلیاں اٹھاتے ہمیں یہ غور کرنے کا موقع نہیں مل رہا کہ دائیں بازو کے شعلہ بیان مقرر، جوش خطابت میں کیا بول گئے ہیں؟ کہیں یہ اس بات کی علامت تو نہیں کہ بے حیائی کے جراثیم خود آپ کے دماغ تک کام دکھا چکے ہیں۔ جب انسان فحاشی کی مذمت میں بھی ماں بہن کو یاد کرتا ہوا پایا جائے، چاہے اپنی یا کسی کی، تو سمجھ لینا چاہیے کہ صورت مومناں کرتوت کافراں۔
    ایک بچے کا دماغ بھی جان سکتا ہے کہ ان "مومنوں" کو ہر "مخصوص شہرت" کی خاتون کے نئے بیان اور تازہ واردات کا پتہ کہاں سے ملتا ہے؟ کسی بے باک مغنیہ نے اپنے بے ہودہ گانے کے بول مسجد کے نمازیوں تک پہنچانے کی جرات کی یا نہیں، یہ مذہبی متشرع حلیوں والے بزرگ خود اس کی تشہیر میں مصروف ہیں۔
    اس سارے معاملے میں ایک اور پہیلی بھی ہے کہ آزاد خیال اور بے باک مرد حضرات کا دنیا میں نہ تو کوئی قحط ہے نہ ان کی سرگرمیاں خفیہ ہیں، لیکن اسلام کے ضرورت سے زیادہ درد میں مبتلا حضرات کو جب بھی فحاشی کی مذمت میں کوئی ہری ہری سوجھتی ہے، نجانے کیوں آزاد خیال خواتین ہی نظر آتی ہیں۔ پردہ تو اسلام کا ہے،بظاہر مسئلہ تو غیرت کا ہے لیکن سائنس دان کہتے ہیں: opposite attracts اور ماہرین نفسیات بھی اس سے متفق ہیں۔ قارئین خود سمجھ دار ہیں۔
     
    Last edited: ‏فروری 16, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    بہت کڑی خبر لی ہے۔ لیکن ٹھیک ہے کبھی کبھار ہمت جواب دے جاتی ہے ، کب تک دہرے رویہ برداشت کریں۔ مجھے علم نہیں کہ اب کیا بات ہوئی جس بناء پر یہ مضمون لکھ ڈالا۔ لیکن یہ رویہ عام نظر آتا ہے۔

    اہم نکتہ ہے۔ پرانے وقتوں میں خواتین کے لیے مشہور تھا کن سوئیاں لینا۔ یہ کام جب مذہبی بزرگ کرنے لگیں تو افسوس ہوتا ہے۔ آپ کھوج کھوج کر برائیاں نکالنے لگے تو برائی کی تشہیر زیادہ ہو گی اور علمی شعور کم جاگے گا۔ شاید اسی لیے تجسس سے منع کیا گیا ہے۔

    دوسری اہم بات نیک کام کی شروعات بدی سے کریں گے تو وہ گھاٹے کا سودا ہے۔ آپ برے کام کی مذمت میں برے الفاظ استعمال کر کے بھلائی کی توقع نہیں کر سکتے۔
     
    • متفق متفق x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    ہونا کیا ہے ماں بہن کی گالیوں کے ساتھ تبلیغ اسلام ہوتے دیکھی، پھر اس میں ایک مغنیہ کے گانوں کے بول بھی شامل تھے، گویا مبلغ حضرات کو بھی مائیں بہنیں بری لگتی ہیں اور مغنیہ کے گانے کے بول دل ودماغ پر چھائے ہوئے ہیں۔
    ٹھیک کہا درجن بھر چینلز پر فحاشی کا لیول مانیٹر کرتے ہیں پھر باقی کا وقت اس کی مذمت میں صرف کرتے ہیں۔ اس دوران ان کی اپنی بیوی، بیٹی، ماں ان کی توجہ کی منتظر ہے یہ کسے یاد آتا ہے۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں