خواتین کی اصلاح میں لکھی گئی مرد حضرات کی شگفتہ تحریریں {اسلامی مضامین پر ہنسنا منع ہے}

عائشہ نے 'طنز و مزاح' میں ‏فروری 19, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,121
    حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں:
    " بعض لوگ عورتوں کو جغرافیہ پڑھاتے ہیں میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس سے کیا نفع۔ اگر ضرورت بتلائی جائے کہ ان میں روشن دماغی پیدا ہو گی تو میں جواب میں عرض کرتا ہوں کہ جی ہاں بجا ہے اور یہی مصلحت ہے کہ اگر بھاگنے کا ارادہ کریں تو کوئی دقت بھی نہ ہو کیوں کہ جغرافیہ سے ان کو معلوم ہو چکا ہے کہ ادھر غازی آباد جنکشن ہے ادھر لکھنؤ ہے۔ یہاں سے دہلی اتنی دور ہے اور اس کا راستہ یہ ہے اور دہلی میں اتنے سرائے اور اتنے ہوٹل ہیں جس طرف کو چاہو چلے جاؤ اور جہاں چاہو ٹھہر جاؤ۔ بتلاؤ عورتوں کو جغرافیہ پڑھنے سے بھاگنے میں آسانی ہو گی یا نہیں۔:giggle: اس کے سوا کوئی اور نفع ہو تو میں سننا چاہتا ہوں۔ بیان کے بعد ایک صاحب آئے اور کہا کہ میں اپنی مستورات کو جغرافیہ پڑھاتا تھا مگر آج معلوم ہوا کہ حماقت ہے۔ اب لڑکیوں کو جغرافیہ نہیں پڑھاؤں گا۔"
    اقتباس از اصلاح خواتین
    اگر کسی خاتون نے جغرافیہ پڑھا ہے اور ابھی تک بھاگنے کا شرف حاصل نہیں ہوا تو ساری پڑھائی چولہے میں جھونک دی۔
     
    • ظریفانہ ظریفانہ x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,121
    مولانا اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں" میری سمجھ میں نہیں آتا کہ عورتوں کو اپنی تصنیف پر نام لکھنے سے کیا مقصود ہوتا ہے۔ اگر ایک مضمون دوسری عورتوں کے کان تک پہونچانا ہے تو اس کے لیے نام کی کیا ضرورت ہے مضمون تو بغیر نام کے بھی پہونچ سکتا ہے پھر نام کیوں لکھا جاتا ہے؟"
    اقتباس از اصلاح خواتین
    یاد رہے کہ حکیم الامت نے جس کتاب میں یہ سطور لکھی ہیں اس پران کا نام بطور مصنف درج ہے!
    :giggle:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,121
    "دس دن عورتوں کو مسجد میں لا کر بٹھائیں گے تو فتنہ ہو گا! میں اہل حدیث علما کا بہت احترام کرتا ہوں۔۔۔ آپ خود اپنی مساجد کی تحقیق کریں، دس دس دن کے لیے جب خواتین مسجد میں آ کر بیٹھتی ہیں۔ کتنے واقعات ہیں فتنے کے، ۔۔۔ کے ، معتکفین اور معتکفات کے ۔۔۔۔ چل رہے ہوتے ہیں"۔ مفتی طارق مسعود
    منبر پر بیٹھ کر اس شگفتہ بیانی کا حوالہ
    پہلے ایک خیالی فتنہ گھڑا گیا، اگر حقیقی ہوتا تو مسجد کانام، واقعے کی تاریخ اور اس کے خلاف درج کروائی گئی ایف آئی آر کا ذکر کر کے کہا جاتا دیکھیے یہ ہوا، لیکن ایک خیالی فتنہ تخلیق کیا گیا پھر فقہ کے زور سے بتایا گیا کہ چونکہ فتنہ بہت بڑا ہے مردوں کو مسجد آنے دیجیے، عورت کو روک دیجیے۔ ارے بھئی ان مردوں کو کیوں نہ روکیں جنہیں خطبے کے منبر پر بیٹھ کر بھی ایسی حیا سوز گفتگو اور ایسے بدبودار الفاظ سوجھتے ہیں جنہیں یہاں لکھنا بھی حیا کے منافی ہے۔ یوں لگتا ہے ناآسودہ حسرتوں نے کوئی راہ پا لی ہے کہ پوری دنیا میں صرف معتکفین اور معتکفات کے لیے ہی ایسے الفاط سوجھ رہے ہیں۔اصل فتنہ حضور کے دماغ میں ہے۔ جسے فتنہ منافقت کہتے ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کو حج پکنک اور عیدالاضحی کی قربانی جانوروں پر ظلم لگتا ہے، اللہ کی مسجدوں میں اللہ کی عبادتیں جاری رہیں گی، کسی بدزبان مبلغ کی بدزبانی سے اہل عبادت کو فرق نہیں پڑتا۔
     
    Last edited: ‏جون 6, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں