جرم دنیا میں لب کشائی ہے

جاسم منیر نے 'حُسنِ کلام' میں ‏فروری 25, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,631

    جرم دنیا میں لب کشائی ہے
    میں نے آواز حق اٹھائی ہے

    کاٹ دو ہر زباں بغاوت کی
    کس نے تحریک یہ چلائی ہے

    سلطنت کیا ہے ، بادشاہت کیا
    حکمرانی کی بس لڑائی ہے

    آئنہ بھی سوال کرنے لگا
    کیسی صورت تجھے دکھائی ہے

    لوگ مادہ پرست ہیں کیونکر
    کیوں بصارت پہ دھند چھائی ہے

    غیرتیں بیچ دیں لوگوں نے
    بے حیائی ہی بے حیائی ہے

    جس میں ایمان کی حرارت تھی
    اس نے ہی شمع حق جلائی ہے
    اعجاز فیروز اعجاز کی کتاب "سوچنا پڑے گا" سے ایک طویل غزل کے چند منتخب اشعار
    جاری ہے۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,064
    خوش آمدید ۔
    ۔ بہت اعلٰی
     
  3. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,631
    سب کے دکھ میں شریک ہو جاؤ
    سب سے بڑھ کر یہی بھلائی ہے

    پھر ضرورت ہے بھائی چارے کی
    آگ دشمن سے پھر لگائی ہے

    مومنوں پر جہاد ہے لازم
    سن لو پھر بازگشت آئی ہے

    خوبیاں خامیاں سبھی میں ہیں
    بات حالات نے بتائی ہے

    کیا خبر تھی وہ بھول جائے گا
    جس سے مدت کی آشنائی ہے


    کس قدر وہ عظیم ہے جس نے
    روٹی اک بھوکے کو کھلائی ہے

    بس وہی شخص امیر ہے یہاں
    دولت درد جس نے پائی ہے​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  4. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,631
    کتنا مشکل ہوا ہے اب جینا
    حادثے ہیں ، کہیں لڑائی ہے

    عالموں کو شہید کر ڈالا
    یہ خبر کیوں مجھے سنائی ہے

    معتبر ہے شہید کا رتبہ
    جس نے ملت پہ جاں لٹائی ہے

    ہاں وہ تخریب کار ہے جس نے
    دشمنی کی فضا بنائی ہے

    پاک سیرت ہو، پاک نیت ہو
    درحقیقت وہ پارسائی ہے

    نیک نیت ، حیا، وفاداری
    اچھے لوگوں کی یہ کمائی ہے

    ہو جسے آرزو ، خدا نے بھی
    راہ سیدھی اسے دکھائی ہے​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,631

    عقل سب کو ملی ہے خود سوچیں
    کیا اچھائی ہے، کیا برائی ہے

    محترم ہیں یہاں فریبی لوگ
    خود نمائی ہی خود نمائی ہے

    بیجنا، کاٹنا ہے ، یہ دنیا
    آخرت کے لیے بنائی ہے

    دیکھ ہر بات پر وہ ہے قادر
    اس کے آگے پہاڑ رائی ہے

    تب زیادہ ابھر گئی دیکھو
    جب بھی تحریک حق دبائی ہے

    خاتمہ مومنوں کا وہ چاہیں
    کافروں کی یہ کاروائی ہے

    جاں ہتھیلی پہ لے کے جو بھی چلا
    کامیابی اسی نے پائی ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  6. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    501
    بہ
    بہت خوب

    جزاک اللہ خیرا
    آپ نے بہت اچھا انتخاب کیا ہے اللہ جزائے خیر دے
    تمام اشعار بہت ہی عمدہ ہیں
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں