بیس سورتیں

حیا حسن نے 'قرآن - شریعت کا ستونِ اوّل' میں ‏اپریل 15, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. حیا حسن

    حیا حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 6, 2017
    پیغامات:
    118
    کہتے ہیں کہ ایک طالب علم کی زندگی کا بہترین دور اس کا اسکول میں گزرا ہوا دور ہوتا ہے. ارے ارے آپ ناراض نہ ہوں، ویسے تو سب ہی دور اچھے ہوتے ہیں، لیکن بطور خاص اسکول کے زمانے کو سب اس لیے یاد کرتے ہیں کہ وہ معصوم زمانہ ہوتا ہے. نہ کوئی غم ہوتا ہے نہ پریشانی . آپ ہوتے ہیں اپ کے اچھے اچھے دوست ہوتے ہیں اور قآبل احترام اساتذہ ہوتے ہیں.زندگی جیسے مزے میں ہوتی ہے.

    ہم بھی کرتے کرتے اسکول سے کالج اور کالج سے پھر یونیورسٹی پہنچے. وہ سب پرانی دوستیں جن کے ساتھ اپ کا ایک وقت گزرا تھا ادھر ادھر چلی گئیں. کسی نے کہیں داخلہ لیا تو کسی نے کہیں.

    مجہے یاد ہے کہ ایک دفعہ کسی نے مجھ سے سوال کیا کہ سنا ہے آپ کی یونیورسٹی میں قرآن حفظ کروایا جاتا ہے؟ حفظ کئیے بغیر آپ کو متعلقہ شعبے کی سند ہی نہیں ملتی؟ لہجے میں کافی اظہار افسوس شامل تھا.

    لہجے پر مجہے تعجب تو ہوا مگر کہا یہی کہ جی آپ نے ٹھیک سنا ہے.

    تو کیا پورا تیسواں پارا حفظ کرنا پڑتا ہے؟ ایک اور سوال حیرت اور پریشانی صاف جھلک رہی تھی.

    جی نہیں تیسویں پارے کی آخری بیس سورتیں یاد کرنی ہوتی ہیں.

    بیس سورتوں کا سن کر انھیں ذرا تسلی ہوئی.

    اسلامک یونیورسٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ کسی بھی شعبہ کے طلبہ و طالبات کو سند دینے سے پہلے حفظ ٹیسٹ لیتی ہے، جس میں قرآن کی آخری بیس سورتیں بمع ترجمہ یاد کرنی ہوتی ہیں.

    کیے جانے والے ان سوالات نے دکھ کی کیفیت طاری کر دی. ایک مسلمان کی تو خواہش ہونی چاہیے کہ اس کے سینے میں قرآن جیسی الله کی نعمت محفوظ ہو. وہ نعمت جو حضرت جبریل علیہ سلام الله کی طرف سے لے کر آئے اور آپ صل الله علیہ وسلم پر نازل کیا گیا

    اس میں قطعا ایسی کوئی بات نہیں جس پر تعجب یا حیرت کا اظہار کیا جائے. قرآن کی آخری سورتیں تو ویسے بھی ہر مسلمان کو یاد ہوتی ہیں، آخر کو ہم ہر روز پانچ نمازوں میں بھی تو وہ سورتیں پڑھتے ہی ہیں..

    دوسری یونیورسٹیز کے طلبہ و طالبات کے لیے شاید یہ کوئی انہونی بات ہو، لیکن ہمارے لیے نہیں. ہمیں تو فخر ہے کہ ہمیں قرآن کا آخری حصّہ حفظ کروایا جاتا ہے.

    ہم نے کتنی ہی دفعہ اپنے سینئرز کو اس کی تیاریوں میں مصروف دیکھا. طالبات سورتیں اور ان کے ترجمے یاد کرنے کی تیاریوں میں مشغول ہوتیں. کوئی تنہا ہی یاد کرتی نظر آتیں ، تو کوئی اپنی ساتھی کو پکار کر کہتی کہ مجھ سے بھی سن لو. کچھ گروپس کی صورت میں ایک دوسرے کو سنا رہی ہوتیں. ایک پیارا سا سماں بندھا نظر آتا. حتکہ کلاسز کے درمیان جو وقت ملتا اس میں بھی قرآن کو سینوں میں اتارنے کی کوشش کی جاتی، بس میں سفر کے دوران کوئی اپنی ساتھی کو کہتی نظر آتی کہ آپ مجھ سے سورتیں سن لیں گی؟

    ایک وقت تھا کہ بہترین ذھن رکھنے والے بچوں کو قرآن حفظ کروایا جاتا تھا. معاشرے میں ان کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا. انکے آگے خلیفہ وقت بھی بول نہیں پاتا تھا. یہ تھی ان لوگوں کے نزدیک حفاظ اور علماء کی عزت.آج ماں باپ اپنے اس بچے کو قرآن حفظ کرواتے ہیں جو ان کو سب سے کند ذھن معلوم ہوتا ہے.

    قرآن کو اپنا محور و مرکز بنائیے. حفاظ کو نفرت کی نگاہ سے نہ دیکھیں. عزت کی نگاہ سے دیکھیں. آخر ان کے دلوں میں رب کا کلام ہوتا ہے جو معمولی بات نہیں. قرآن کی آخری بیس سورتیں صرف اسلامک یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات پر یاد کرنا واجب نہیں ، بحیثیت مسلمان ہم سب پر حفظ کرنا لازم ہیں.

    سوچیۓ گا!!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    483
    شکریہ بہن آپ نے یہ بہت ہی اہم سوال رکھا ہے
    اللہ ہم سب کو اس کی توفیق عطاء فرمائے کہ ہم مکمل کو قرآن مجید کو صرف یاد ہی نہ کریں بلکہ یاد کرنے کے ساتھ اسکو ہمیشہ اپنے دل ودماغ میں محفوظ رکھیں۔
     
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,058
    بلاشبہ اچھا اقدام ہے ۔ مزید بہتری کی ضرورت ہے ۔ تعجب کی بات نہیں ۔سعودیہ کی مشہورجامعات میں بلاتفریق حافظ و قاری قرآن طلبہ کو ایڈمشن کے وقت ترجیح دی جاتی ہے ۔داخلے کے بعد بھی ہر شعبہ میں ان کی زیادہ حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. حیا حسن

    حیا حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 6, 2017
    پیغامات:
    118
    جی ہاں مگر یہ ہمارے پاکستان اور اس کے اندر کے لوگوں کے خیالات کی عکاسی کرنے کی کوشش کی ہے.
    ہمارے ہاں دنیاوی تعلیم اور دینی تعلیم کا آپس میں کوئی کنکشن نہیں رکھا جاتا..
    اس لیے لوگوں کے تاثرات بعض اوقات عجیب ہوتے ہیں.
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,058
    تعجب کی بات نہیں ۔ اس لئے لکھا تھا کہ پاکستان میں بنیادی تعلیم و تربیت کا مقصد دنیا ، یا دنیاداری ہوتا ہے ۔بعض لوگوں کے ہاں دینی اسباق میں یہاں تک پڑھایا جاتا ہے کہ نماز ترکی یا فارسی زبان کے الفاظ کرنے سے بھی ہوجاتی ہے تو پھر تعلق کیونکر قائم رہے گا۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں