سفر آداب اور دعائیں

بابر تنویر نے 'اردو یونیکوڈ کتب' میں ‏اپریل 18, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    تنہا سفر کی ممانعت کی وجہ

    (خرجَ رجلٌ من (خيبرَ) ، فاتبَعه رجلان، وآخرُ يتلوهما يقول: ارجعا ارجعا، حتَّى ردَّهما، ثم لحق الأول، فقال:
    إنَّ هذينِ شيطانانِ، وإنِّي لمْ أزلْ بهما حتى رددتهما، فإذا أتيت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فأَقرئه السلامَ، وأخبره أنَّا ههنا في جمع صدقاتنا، ولو كانت تصلحُ له لبَعَثْنَا بها إليه.
    قال: فلمَّا قدمَ الرجلُ المدينةَ أخبرَ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم -، فعند ذلك نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن الخَلْوةِ) . السلسہ الصحیحہ 3134(أخرجه الحاكم (2/102) ، وأحمد (1/278 و 299) من طرق عن عبيد الله ابن عمرو الرَّقِّي عن عبد الكريم عن عكرمة عن ابن عباس رضي الله عنهما )
    عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی (خیبر) سے نکلا، دو آدمی اس کے پیچھے پیچھےچل پڑے اور کس ان د ونوں کے پیچھے۔ (آخری آدمی) ان دو سے کہتا رہا : لوٹ آؤ، لوٹ آؤ، حتی کہ ان کو (پا لیا اور) واپس لوٹا دیا۔ پھر پہلے کو جا ملا اور اس کہا : یہ دو شیطان تھے، میں ان کو پھسلاتا رہا حتی کہ ان کو واپس کردیا۔ جب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچو تو ان کو میرا سلام دینا اور ان کو بتانا کہ میں ادھر زکوۃ جمع کر رہا ہوں اور اگر وہ ان کے لیے مناسب ہے تو ہم ان کی طرف بھیج دیں گے۔ جب وہ (پہلا آدمی) مدینہ پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ بیان کیا، اس وقت اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنہا سفے سے منع کر دیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    دو آدمیوں کا اکھٹے سفر کرنا۔

    حدثنا احمد بن يونس حدثنا ابو شهاب عن خالد الحذاء عن ابي قلابة عن مالك بن الحويرث قال:‏‏‏‏ انصرفت من عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال:‏‏‏‏"لنا انا وصاحب لي اذنا واقيما وليؤمكما اكبركما". بخاری 2848
    سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نب‏ئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے (اپنے وطن کے لیے) لوٹے تو ایک میں تھا اور دوسرا میرا ساتھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ۔" (ہر نماز کے وقت) اذان کہنا اور اقامت کہنا اور تم دونوں میں سے جو بڑا ہو وہ نماز پڑھاۓ۔"
    اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ضرورت کے وقت دو آدمی سفر بھی کر سکتے ہیں، مل کر سفر کرنے کے بہت فا‌‎ئدے ہیں، ہم سفر کی موجودگي میں دل لگا رہتا ہے، سفر کی مشکلات کم ہو جاتی ہیں اور ضروریات پوری کرنے میں بھی سہولت رہتی ہے کیوں کہ ہم سفروں کے ساتھ ذمہ داریاں بانٹ لی جاتی ہیں۔

    امیر مقرر کرنا
    حدثنا علي بن بحر بن بري حدثنا حاتم بن إسماعيل حدثنا محمد بن عجلان عن نافع عن ابي سلمة عن ابي سعيد الخدري ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:‏‏‏‏ " إذا خرج ثلاثة في سفر فليؤمروا احدهم ". سنن ابی داؤد 2608
    ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تین افراد کسی سفر میں ہوں تو ہوئے کہ اپنے میں سے کسی ایک کو امیر مقرر کر لیں“۔

    امیر کو چاہیے کہ اپنے ساتھیوں کی مناسب رہنمائ کرے۔ مامورین بھی معروف میں امیر کی اطاعت کریں۔ اس طرح سفر خوشگوار گزرے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    سواری سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات۔
    سواری کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے دعا کرنا۔
    سیدنا حمزہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    خبرنا عبيد الله بن موسى عن أسامة بن زيد عن محمد بن حمزة بن عمرو الأسلمي قال وقد صحب أبوه رسول الله صلى الله عليه وسلم قال سمعت أبي يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم على ذروة كل بعير شيطان فإذا ركبتموها فسموا الله ولا تقصروا عن حاجاتكم سنن دارمی 2667:2
    " ہر اونٹ کی کوہان پر ایک شیطان ہوتا ہے لہذا جب تم اس پر سوار ہوتو بسم اللہ پڑھو اور اپنے ضروری کاموں میں کوتاہی نہ کرو۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    550
    جزاک اللّہ خیرا
    دراصل اکثر لوگ ان چیزوں کا اہتمام نہیں کرتے اللّہ سب کو نیک توفیق عطاء فرمائے آمین
     
  5. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    سواری میں کوئ خرابی پیدا ہو جاۓ تو بسم اللہ کہنا

    ایک صحابی فرماتے ہیں کہ نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کو ٹھوکر لگي تو میں نے کہا شیطان برباد ہو۔ آپ نے فرمایا :
    حدثنا وهب بن بقية عن خالد يعني ابن عبد الله عن خالد يعني الحذاء عن ابي تميمة عن ابي المليح عن رجل قال:‏‏‏‏ " كنت رديف النبي صلى الله عليه وسلم فعثرت دابة فقلت:‏‏‏‏ تعس الشيطان ، فقال:‏‏‏‏ لا تقل تعس الشيطان فإنك إذا قلت ذلك تعاظم حتى يكون مثل البيت ويقول:‏‏‏‏ بقوتي ، ولكن قل:‏‏‏‏ بسم الله فإنك إذا قلت ذلك تصاغر حتى يكون مثل الذباب ۔ سنن ابی داؤد 4982
    شیطان برباد ہو نہ کہو، کیونکہ جب تم ایسا کہتے ہو تو شیطان گھر جتنا بڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے: میری طاقت کی وجہ سے ایسا ہوا ہے اس کی بجاۓ۔ بسم اللہ کہو۔ کیونکہ جب تم ایسا کہتے ہو تو شیطان چھوٹا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ مکھی کے برابر ہوجاتا ہے۔"

     
  6. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    سواری کو لعنت ملامت نہ کرنا۔

    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی سفر میں تھے ایک آدمی نے اونٹنی کو لعنت ملامت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اونٹنی کا مالک کہاں ہے؟ اس آدمی نے کہا میں ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: " كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسير في سفر فلعن رجل ناقة، فقال: " أين صاحب الناقة؟ " , فقال الرجل: أنا , قال: " أخرها , فقد أجبت فيها " مسند احمد 9522
    اس اونٹنی کو پیچھے لے جاؤ کہ اس کے بارے میں (تمہاری بات) قبول ہوگئ۔"

    عن عمران بن حصين رضي الله عنه قال: " بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض أسفاره " - وامرأة من الأنصار على ناقة - فضجرت فلعنتها , " فسمع ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: خذوا ما عليها ودعوها , فإنها ملعونة " مسلم 6604
    سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سفر میں ایک انصاری عورت اپنے اونٹ پر سوار تھی، اس عورت نے اونٹ کو ڈانٹا اور اس لعنت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا اس پر جو سامان ہے وہ اتار لو اور اسے چھوڑ دو اس لیے کہ وہ لعنت زدہ ہے۔"

    حدثنا أبو كامل الجحدري فضيل بن حسين حدثنا يزيد يعني ابن زريع حدثنا التيمي عن أبي عثمان عن أبي برزة الأسلمي قال بينما جارية على ناقة عليها بعض متاع القوم إذ بصرت بالنبي صلى الله عليه وسلم وتضايق بهم الجبل فقالت حل اللهم العنها قال فقال النبي صلى الله عليه وسلم لا تصاحبنا ناقة عليها لعنة "مسلم
    سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک باندی اپنے اونٹ پر سوار تھی جس پر بعض لوگوں کا سامان لدا ہوا تھا۔ اچانک اس عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھا کہ لوگوں پر پہاڑ تنگ ہوگيا تھا۔ اس نے اونٹنی کو چلانے کے لیے آواز نکالی اور کہا : اے اللہ! اس پر لعنت بھیج۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا " ایسی اونٹنی ہمارے ساتھ رہ ہے جس پر لعنت ہے۔"

    اونٹنی سے سامان اتارنے کور اس کا کجاوا نکالنے کا حکم اس لیے دیا تاکہ وہ عورت اس پر سواری نہ کرسکے۔ اس عورت کے حق میں بطور سزا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا تاکہ آئندہ کوئ شخص سواری کو لعن طعن نہ کرے۔ (شرح النووی علی مسلم بان النھی عن لعن الدواب و غیرھا)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    سواری پر آگے بیٹھنے کا حقدار کون؟

    حدثنا أبو عمار الحسين بن حريث حدثنا علي بن الحسين بن واقد حدثني أبي حدثني عبد الله بن بريدة قال سمعت أبي بريدة يقول [​IMG]بينما النبي صلى الله عليه وسلم يمشي إذ جاءه رجل ومعه حمار فقال يا رسول الله اركب وتأخر الرجل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأنت أحق بصدر دابتك إلا أن تجعله لي قال قد جعلته لك قال فركب (سنن الترمذی 2772)

    سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبئ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جارہے تھے کہ اچانک ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس کے ساتھ اس کا گدھا بھی تھا۔ اس نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو جایے اور وہ خود پیچھے ہٹ گيا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی سواری کے اگلے مقام کے زیادہ مستحق ہو مگر یہ کہ تم اپنا حق مجھے دے دو۔" وہ بولا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا حق دے دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہۓ۔

    سواری کے جانور کا خیال رکھنا۔

    حدثنا محمد بن المثنى حدثني محمد بن جعفر حدثنا شعبة عن حمزة الضبي قال سمعت أنس بن مالك قال كنا إذا نزلنا منزلا لا نسبح حتى تحل الرحال (ابی داؤد 2551)
    سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں " جب ہم کسی منزل پر اترتے تو اس وقت نماز نہ پڑھتے جب تک اونٹوں پر سے کجاوہ نہ اتار لیتے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    سر سبز زمین پر پڑاؤ کرنا
    سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    " إذا أخصبت الأرض فانزلوا عن ظهركم وأعطوا حقه من الكلأ وإذا أجدبت الأرض
    فامضوا عليها وعليكم بالدلجة، فإن الأرض تطوى بالليل ". (السلسلہ صحیحہ 682)
    " جب سر سبز و شاداب زمین آ جاۓ تو اپنی سواری سے نیچے اتر آیا کرو اور اسے چرنے دیا کرو اور جب قحط زدہ زمین آ جاۓ تو اس پر سوار ہو جایا کرو۔"

    خواتین کی موجودگي میں سواری آہستہ چلانا

    حدثنا مسدد حدثنا حماد عن ثابت البناني عن انس بن مالك وايوب عن ابي قلابة عن انس بن مالك قال:‏‏‏‏ كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر وكان معه غلام له اسود يقال له:‏‏‏‏ انجشة يحدو فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏"ويحك يا انجشة رويدك بالقوارير".
    سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے اور آپ کے ساتھ آپ کا حبشی غلام تھا۔ اس کو انجشہ کہا جاتا تھا و حدی پڑھ رہا تھا (جس کی وجہ سے سواری تیز چلنے لگی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "افسوس! اے انجشہ آبگینوں کے ساتھ آہستہ آہستہ چلو۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    دوران سفر تھکاوٹ کی بنا پر تیز چلنے سے مدد لینا۔

    سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے سال نکلے ، پاپیادہ صحابہ رضی اللہ عنہم آپ کے پاس جمع ہوۓ اور صف بنا کر کھڑے ہو گۓ اور کہنے لگے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کے درپے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا: سفر ہم پر دشوار ہوگيا ہے اور مسافت لمبی ہے(کیا کریں)؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :" استعينوا بالنسل، فإنه يقطع عنكم الأرض وتخفون له ".(السلسلہ صحیحہ 2574)
    "تیز چلنے کے ذریعے مدد طلب کرو۔ تیز چلنا تمہارا راستہ منقطع کرتا ہے اور تم سفر کے لیے ہلکے پھلکے ہو جاتے ہو۔"
    ہم نے ایسا ہی کیا ہم سفر کے لیے ہلکے پھلکے ہوگۓ اور جس چیز کا ہمیں احساس ہو رہا تھا وہ ختم ہو گئ۔
     
  10. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    دوران سفر کیے جانے والے کام
    تفریح

    دوران سفر کھیل و تفریح جائز ہے۔

    حدثنا ابو صالح الانطاكي محبوب بن موسى اخبرنا ابو إسحاق يعني الفزاري عن هشام بن عروة عن ابيه وعن ابي سلمة عن عائشة رضي الله عنها:‏‏‏‏ انها كانت مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر قالت:‏‏‏‏ فسابقته فسبقته على رجلي فلما حملت اللحم سابقته فسبقني فقال:‏‏‏‏ هذه بتلك السبقة.
    حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَنْطَاكِيُّ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:‏‏‏‏ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَسَابَقْتُهُ فَسَبَقْتُهُ عَلَى رِجْلَيَّ فَلَمَّا حَمَلْتُ اللَّحْمَ سَابَقْتُهُ فَسَبَقَنِي، فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذِهِ بِتِلْكَ السَّبْقَةِ.
    ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھیں، کہتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں جیت گئی، پھر جب میرا بدن بھاری ہو گیا تو میں نے آپ سے (دوبارہ) مقابلہ کیا تو آپ جیت گئے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس پہلی دوڑ کا بدلہ ہے"

    وعن ابن عباس: " قال لى عمر ونحن محرمون بالجحفة: تعالى أباقيك أينا أطول نفسا فى الماء " رواء الغلیل 1021
    سیدنا عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا جبکہ ہم مقام جفہ میں حالت احرام میں تھے " آؤ میں تم سے مقابلہ کروں، ہم میں سے کون ہے، جس کا پانی میں سانس لمبا ہے۔"
     
    Last edited: ‏ستمبر 11, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  11. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    تعلیم و تربیت

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوران سفر بھی سلسلہ تعلیم ترک نہ کرتے تھے۔ جہاں ضرورت ہوتی یا مناسب موقع میسر آتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو تعلیم دیتے۔

    حدثنا احمد بن عمرو بن السرح اخبرنا ابن وهب اخبرني معاوية عن العلاء بن الحارث عن القاسم مولى معاوية عن عقبة بن عامر قال:‏‏‏‏ كنت اقود برسول الله صلى الله عليه وسلم ناقته في السفر فقال لي:‏‏‏‏ " يا عقبة الا اعلمك خير سورتين قرئتا؟ " فعلمني:‏‏‏‏ قل اعوذ برب الفلق و قل اعوذ برب الناس قال:‏‏‏‏ فلم يرني سررت بهما جدا فلما نزل لصلاة الصبح صلى بهما صلاة الصبح للناس فلما فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم من الصلاة التفت إلي فقال:‏‏‏‏ " يا عقبة كيف رايت؟ ".
    حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ أَقُودُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ لِي:‏‏‏‏"يَا عُقْبَةُ، أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا؟"فَعَلَّمَنِي:‏‏‏‏ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ قَالَ:‏‏‏‏ فَلَمْ يَرَنِي سُرِرْتُ بِهِمَا جِدًّا، فَلَمَّا نَزَلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ صَلَّى بِهِمَا صَلَاةَ الصُّبْحِ لِلنَّاسِ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ الْتَفَتَ إِلَيَّ، فَقَالَ:‏‏‏‏"يَا عُقْبَةُ كَيْفَ رَأَيْتَ؟". ابی داؤد 1462
    عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل رہا تھا، آپ نے فرمایا: ”عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» سکھائیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان دونوں (کے سیکھنے) سے بہت زیادہ خوش ہوتے نہ پایا، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے لیے (سواری سے) اترے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور یہی دونوں سورتیں پڑھیں، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”عقبہ! تم نے انہیں کیا سمجھا ہے ۱؎“۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    سفر میں دوسروں کی حاجت روائ کرنا

    مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے۔ صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری سواری کی گردن پر ضرب لگائ۔ میں سمجھ گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضاۓ حاجت کے لیے جانا چاہتے ہیں چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکل پڑا یہاں تک کہ ہم لوگ چلتے چلتے لوگوں سے دور چلے گۓ۔ پھر آپ اپنی سواری سے اترے اور قضاۓ حاجت کے لیے چلے گۓ اور میری نظروں سے غائب ہوگۓ۔ اب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکتا تھا۔ تھوڑی دیر گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آۓ اور فرمایا مغیرہ! اب تم بھی اپنی ضرورت پوری کر لو۔ میں نے عرض کیا کہ مجے اس وقت حاجت نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کی جی ہاں! اور یہ کہہ کر میں وہ مشکیزہ لانے چلا گیا جو کجاوے کے پچھلے حصے میں لٹکا ہوا تھا۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دونون ہاتھ خوب اچھی طرح دھوۓ، راوی کہتے ہیں کہ مجھے شک ہے کہ آپ نے ان کو مٹی سے ملایا نہیں۔ پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازوؤں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا۔ اس کی آستینیں تنگ تھیں۔ ( اس لیے اوپر نہی ہو سکیں) چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لیے اور چہرہ اور ہاتھ دھوۓ، پیشانی پر مسح کیا، اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لیے سوار ہو گۓ۔ جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہو چکی تھی، اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ گۓ بڑھ کر ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے۔ میں انہیں بتانے کے لیے جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع کردیا اور ہم نے جو رکعت پا لی تو وہ پڑھ لی اور جو رہ گئ تھی اسے (سلام پھیرنے کے بعد) ادا کیا، (مسند احمد ج 30:18134)
     
    Last edited: ‏ستمبر 13, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    دوران سفر تھکے ہوۓ لوگوں کا سامان اٹھانا

    سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ جو کوئ آدمی تھک جاتا تو اپنے کپڑے، ڈھال اور تلوار وغیرہ مجھ پر ڈال دیتا، حتی کہ مجھ پر بہت ساری چیزیں جمع ہوجاتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : أنتَ سفينة ( مسند احمد 36:21925) " تم تو سفینہ (یعنی کشتی) ہو۔"
     
    Last edited: ‏ستمبر 17, 2017
  14. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    زائد از ضرورت پانی پلانا

    حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏"ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ:‏‏‏‏ رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالطَّرِيقِ يَمْنَعُ مِنْهُ ابْنَ السَّبِيلِ، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَاهُ إِنْ أَعْطَاهُ مَا يُرِيدُ وَفَى لَهُ وَإِلَّا لَمْ يَفِ لَهُ، وَرَجُلٌ يُبَايِعُ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ بِاللَّهِ لَقَدْ أُعْطِيَ بِهَا كَذَا وَكَذَا فَصَدَّقَهُ فَأَخَذَهَا وَلَمْ يُعْطَ بِهَا". (بخاری 7212)
    ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوحمزہ محمد بن سیرین نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے بہت سخت دکھ دینے والا عذاب ہو گا۔ ایک وہ شخص جس کے پاس راستے میں زیادہ پانی ہو اور وہ مسافر کو اس میں سے نہ پلائے دوسرا وہ شخص جو امام سے بیعت کرے اور بیعت کی غرض صرف دنیا کمانا ہو اگر وہ امام اسے کچھ دنیا دیدے تو بیعت پوری کرے ورنہ توڑ دے۔ تیسرا وہ شخص جو کسی دوسرے سے کچھ مال متاع عصر کے بعد بیچ رہا ہو اور قسم کھائے کہ اسے اس سامان کی اتنی اتنی قیمت مل رہی تھی اور پھر خریدنے والا اسے سچا سمجھ کر اس مال کو لے لے حالانکہ اسے اس کی اتنی قیمت نہیں مل رہی تھی۔“
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  15. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    دوران سفر تحفہ دینا

    حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،"أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَكَانَ عَلَى بَكْرٍ لِعُمَرَ صَعْبٍ، فَكَانَ يَتَقَدَّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ أَبُوهُ:‏‏‏‏ يَا عَبْدَ اللَّهِ، لَا يَتَقَدَّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ بِعْنِيهِ، فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ هُوَ لَكَ، فَاشْتَرَاهُ، ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ، فَاصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ".( بخاری 2610)
    ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا عمرو سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ وہ سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور عمر رضی اللہ عنہ کے ایک سرکش اونٹ پر سوار تھے۔ وہ اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی آگے بڑھ جایا کرتا تھا۔ اس لیے ان کے والد (عمر رضی اللہ عنہ) کو تنبیہ کرنی پڑتی تھی کہ اے عبداللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے کسی کو نہ ہونا چاہئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! کہ عمر! اسے مجھے بیچ دے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یہ تو آپ ہی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا۔ پھر فرمایا، عبداللہ یہ اب تیرا ہے۔ جس طرح تو چاہے استعمال کر۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  16. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    سفر میں ساتھیوں کو ڈرانے سے باز رہنا۔

    سیدنا عبد الرحمن ابن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئ صحابہ نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر پر جا رہے تھے ان میں سے ایک آدمی سوگيا۔ ایک آدمی چپکے سے اس کی طرف بڑھا اور اس کا تیر اٹھا لیا۔ جب وہ آدمی اپنی نیند سے بیدار ہوا تو وہ خوف زدہ ہو گیا لوگ (اس کی کیفیت پر) ہنسنے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ان کے ہنسنے کی وجہ پوچھی، لوگوں نے کہا ایسی تو کوئ بات نہیں ہے بس ہم نے اس کا تیر لے لیا تھا جس پر یہ خوف زدہ ہوگيا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا يَحِلّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوّعَ مُسْلِماً (مسند احمد 38:23064) " کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ دوسرے مسلمان کو خوفزدہ کرے۔"
     
  17. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    دوران سفر جانوروں اور پرندوں کو اذیت نہ دینا۔

    حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ ابْنِ سَعْدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ غَيْرُ أَبِي صَالِحٍ،عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ فَرَأَيْنَا حُمَرَةً مَعَهَا فَرْخَانِ فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا فَجَاءَتِ الْحُمَرَةُ فَجَعَلَتْ تَفْرِشُ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ فَجَعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا وَرَأَى قَرْيَةَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاهَا فَقَالَ مَنْ حَرَّقَ هَذِهِ قُلْنَا نَحْنُ قَالَ:‏‏‏‏"إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ".
    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ آپ اپنی ضرورت کے لیے گئے، ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے ساتھ دو بچے تھے، ہم نے ان بچوں کو پکڑ لیا، وہ چڑیا آ کر زمین پر پر بچھانے لگی، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے، اور (یہ دیکھ کر) فرمایا: ”اس چڑیا کا بچہ لے کر کس نے اسے بے قرار کیا ہے؟ اس کے بچے کو اسے واپس کرو“، اور آپ نے چیونٹیوں کی ایک بستی کو دیکھا جسے ہم نے جلا دیا تھا تو پوچھا: ”اس کو کس نے جلایا ہے؟“ ہم لوگوں نے کہا: ہم نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ سے عذاب دینا آگ کے مالک کے سوا کسی کو زیب نہیں دیتا“۔
     
  18. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    ساتھیوں کو غیر شرعی کاموں سے روکنا

    حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ أَنَّ أَبَا بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ حَسِبْتُ أَنَّهُ، قَالَ:‏‏‏‏ وَالنَّاسُ فِي مَبِيتِهِمْ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا"أَنْ لَا يَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ أَوْ قِلَادَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ". (بخاری 3005)
    ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ‘ انہیں عبداللہ بن ابی بکر نے ‘ انہیں عباد بن تمیم نے اور انہیں ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ عبداللہ (عبداللہ بن ابی بکر بن حزم راوی حدیث) نے کہا کہ میرا خیال ہے ابوبشیر نے کہا کہ لوگ اپنی خواب گاہوں میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک قاصد (زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ) یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ جس شخص کے اونٹ کی گردن میں تانت کا گنڈا ہو یا یوں فرمایا کہ گنڈا (ہار) ہو وہ اسے کاٹ ڈالے۔
     
  19. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    تین کام سفر میں بھی نہ چھوڑنا

    حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏"أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ فِي سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ:‏‏‏‏ رَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ". (سنن ابی داؤد 1432)
    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل (یار، صادق، محمد) صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت کی ہے، جن کو میں سفر اور حضر کہیں بھی نہیں چھوڑتا: چاشت کی دو رکعتیں، ہر ماہ تین دن کے روزے اور وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی
     
  20. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    سفر میں جلدی جلدی وضو نہ کرنا

    حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:‏‏‏‏ تَخَلَّفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنَّا فِي سَفْرَةٍ سَافَرْنَاهَا، فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ أَرْهَقْنَا الْعَصْرَ، فَجَعَلْنَا نَتَوَضَّأُ وَنَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ:‏‏‏‏"وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا". (بخاری 163)
    ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، ان سے ابوعوانہ نے، وہ ابوبشر سے، وہ یوسف بن ماہک سے، وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں ہم سے پیچھے رہ گئے۔ پھر (تھوڑی دیر بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو پا لیا اور عصر کا وقت آ پہنچا تھا۔ ہم وضو کرنے لگے اور (اچھی طرح پاؤں دھونے کی بجائے جلدی میں) ہم پاؤں پر مسح کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ويل للأعقاب من النار» ”ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے“ دو مرتبہ یا تین مرتبہ فرمایا۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں