سفر آداب اور دعائیں

بابر تنویر نے 'اردو یونیکوڈ کتب' میں ‏اپریل 18, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    سفر میں مانی گئ نذر کو پورا کرنا۔
    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت بحری سفر پر روانہ ہوئ، اس نے یہ منت مان لی کہ اگر اللہ تبارک و تعالی نے اسے خیریت سے واپس پہنچا دیا تو وہ ایک مہینے کے روزے رکھے گي، اللہ عزوجل نے اسے نجات دے دی لیکن وہ مرتے دم تک روزے نہ رکھ سکی، اس کی ایک رشتہ دار عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئ اور سارا واقعہ عرض کیا، نبئ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " تم روزے رکھ لو" (مسند احمد2784-3)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    مسافر کے لیے رخصتیں

    تیمم

    پانی نہ ملنے کی صورت میں طہارت کی نیت سے پاک مٹی کا قصد کرکے اسے چہرے اور ہاتھوں پر ملنا تیمم کہلاتا ہے۔
    اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ ۚمَا يُرِيدُ اللَّـهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿٦﴾ المائدہ
    اے لوگو جو ایمان لاۓ ہو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک (دھو لو) اور اگر جنبی ہو تو غسل کر لو ، اگر بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئ قضاۓ حاجت سے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو اور پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرلو، پس اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرلو، اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئ تنگی کرے لیکن وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور تاکہ وہ اپنی نعمت تم پر پوری کرے، تاکہ تم شکر ادا کرو۔"
    سیدنا ابو ذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " الصعيد الطيب وضوء المسلم ولو إلى عشر سنين۔ " پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے اگرچہ دس برس پانی نہ ملے۔"
    اگر پانی مسافر کی بہنچ سے بہت دور ہو یا مسافر کے پاس اتنا پانی ہو جو صرف اس کے پینے کے لیے کافی ہو یا یہ اندیشہ ہو کہ پانی کی تلاش میں وہ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ جاۓ گا یا نماز فوت ہو جاۓ گي یا شدید سردی ہو کہ ٹھنڈے پانی سے غسل کی صورت میں فوت ہونے کا خدشہ ہو یا ایسی بیماری ہو کہ پاسی سے تکلیف بڑھنے کا خطرہ ہو تو ان تمام صورتوں میں تیمم کیا جاسکتا ہے، عذر کی حالت میں تیمم وضو اور غسل دونوں کا قائم مقام ہے۔
     
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    تیمم کا طریقہ
    حدثنا آدم ، قال : حدثنا شعبة ، حدثنا الحكم ، عن ذر ، عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى ، عن ابيه ، قال : جاء رجل إلى عمر بن الخطاب ، فقال : إني اجنبت فلم اصب الماء ؟ فقال عمار بن ياسر لعمر بن الخطاب : اما تذكر انا كنا في سفر انا وانت ، فاما انت فلم تصل ، واما انا فتمعكت فصليت ، فذكرت للنبي صلى الله عليه وسلم ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " إنما كان يكفيك هكذا ، فضرب النبي صلى الله عليه وسلم بكفيه الارض ونفخ فيهما ، ثم مسح بهما وجهه وكفيه " . (صحیح بخاری 338)
    سعید بن عبد الرحم بن ابزی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب کے پاس آیا اور عرض کی کہ میں جنبی ہوگیا ہوں اور پانی نہیں ملا (تو اب کیا کروں) اس سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کو یاد نہیں جب میں اور اپ سفر میں تھے، آپ نے تو نماز نہیں پڑھی مگر میں زمین پر لوٹ پوٹ ہوگيا اور نماز پڑھ لی پھر میں نے نب‏ئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " تجھے بس اتنا ہی کافی تھا اور نبئ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر انہیں پھونکا اور دونوں (ہاتھوں) سے چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا۔"
    عذر برقرار رہنے کی صورت میں وضو کی طرح ایک تیمم سے کئ نمازیں پڑھ سکتے ہیں۔ جن چیزوں سے وضو ٹوٹتا ہے انہی چیزوں سے تیمم بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ تیمم کرکے نماز پڑھ لینے کے بعد اگر نماز کے وقت میں ہی پانی مل جاۓ تو اسے با وضو ہو کر نماز دہرانے یا نہ دہرانے میں اختیار ہے۔

    اخبرنا مسلم بن عمرو بن مسلم ، قال : حدثني ابن نافع ، عن الليث بن سعد ، عن بكر بن سوادة ، عن عطاء بن يسار ، عن ابي سعيد ، " ان رجلين تيمما وصليا ثم وجدا ماء في الوقت فتوضا احدهما وعاد لصلاته ما كان في الوقت ولم يعد الآخر ، فسالا النبي صلى الله عليه وسلم ، فقال للذي لم يعد : اصبت السنة واجزاتك صلاتك ، وقال للآخر : اما انت فلك مثل سهم جمع " (سنن نسائ 338)
    " سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو اشخاص نے تیمم کیا اور نماز پڑھ لی پھر وقت کے اندر انہوں نے پانی پا لیا تو ایک نے وضو کیا اور اپنی نماز لوٹائ جب کے دوسرے نے نہیں لوٹائ ۔ پھر دونوں نے نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے اس شخص سے فرمایا جس نے نماز نہیں لوٹائ تھی " تو نے سنت کو پالیا اور تیری(پہلی) نماز ہی تیرے لیے کافی ہے۔" اور دوسرے سے فرمایا " تیرے لیے دگنا ثواب ہے۔"
     
  4. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    موزوں پر مسح
    مسافر موزوں پر تین دن رات تک مسح کر سکتا ہے۔ بشرطیکہ موزے پہنے ہوں۔
    حدثنا ابو نعيم ، قال : حدثنا زكرياء ، عن عامر ، عن عروة بن المغيرة ، عن ابيه ، قال : كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فاهويت لانزع خفيه ، فقال : " دعهما ، فإني ادخلتهما طاهرتين ، فمسح عليهما " .(صحیح بخاری 206)
    سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا میں وضو کے وقت چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتار دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " انہیں رہنے دو میں نے انہیں طہارت کی حالت میں پہنا تھا۔" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مسح کیا

    وحدثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي ، اخبرنا عبد الرزاق ، اخبرنا الثوري ، عن عمرو بن قيس الملائي ، عن الحكم بن عتيبة ، عن القاسم بن مخيمرة ، عن شريح بن هانئ ، قال : اتيت عائشة ، اسالها عن المسح على الخفين ؟ فقالت : عليك بابن ابي طالب ، فسله ، فإنه كان يسافر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فسالناه ، فقال : جعل رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاثة ايام ولياليهن للمسافر ، ويوما وليلة للمقيم " (صحیح مسلم639)
    سیدنا شریح بن ہانی فرماتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے موزوں پر مسح کرنے (کی مدت) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ تم ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھو کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کرتے تھے۔ تو ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے مسح کی مدت تین دن رات اور مقیم کے لیے ایک دن رات مقرر فرمائ ہے۔"
     
  5. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جوتوں سمیت نماز پڑھنا
    جوتوں سمیت نماز پڑھی جا سکتی ہے بشرطیکہ وہ پاک صاف ہوں، اگر گندگي و غلاظت کا شبہ ہو تو ان کو اتار دینا چاہیے۔
    حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مَسْلَمَةَ سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، " أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ "
    ابو مسلمہ بن یزید ازدی بیار کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبئ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں۔
     
  6. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    سفر میں اگر قبلے کا تعین نہ ہو سکے تو کسی بھی رخ نماز پڑھ لینا۔

    حدثنا يحيى بن حكيم ، حدثنا ابو داود ، حدثنا اشعث بن سعيد ابو الربيع السمان ، عن عاصم بن عبيد الله ، عن عبد الله بن عامر بن ربيعة ، عن ابيه ، قال : " كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر ، فتغيمت السماء واشكلت علينا القبلة ، فصلينا واعلمنا ، فلما طلعت الشمس إذا نحن قد صلينا لغير القبلة ، فذكرنا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم ، فانزل الله : فاينما تولوا فثم وجه الله سورة البقرة آية 115 " (سنن ابن ماجہ 1020)
    سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ آسمان پر بادل چھا گۓ اور قبلے کی سمت معلوم نہ ہو سکی۔ ہم نے (اندازے سے ) نماز پڑھی اور (زمین پر) نشان لگا لیے۔ جب سورج طلوع ہوا تو معلوم ہوا کہ ہم نے قبلے کے سوا (کسی اور طرف) نماز پڑھی ہے۔ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرما دی " تم جدھر بھی رخ کرو ، ادھر ہی اللہ کا چہرہ ہے۔

    سفر میں صرف فرض نماز پڑھنا
    سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ کہتے ہیں کہ : كان لايسبح في السفر قبلها و لا بعدها- يعني الفريضه (السلسله الصحيحه 2816)
    " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں فرض نمازوں سے پہلے اور بعد میں سنتیں نہیں پڑھتے تھے۔"

    حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا يزيد يعني ابن زريع ، عن عمر بن محمد ، عن حفص بن عاصم ، قال : مرضت مرضا ، فجاء ابن عمر يعودني ، قال : وسالته عن السبحة في السفر ، فقال " صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم في السفر ، فما رايته يسبح ، ولو كنت مسبحا لاتممت " ، وقد قال الله تعالى : لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة سورة الاحزاب آية 21 . (صحیح مسلم 1580)
    حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما میری عیادت کرنے آۓ۔ میں نے ان سے سفر میں سنتیں پڑھنے کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے کہا : میں سفر کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رہا ہوں، میں نے نہیں دیکھا کہ آپ سنتیں پڑھتے ہوں۔ اور اگر مجھے سنتیں پڑھنی ہوتیں تو میں نماز ہی پوری پڑھتا۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔۔۔۔۔۔۔۔(الاحزاب 21) " بے شک تمہارے لیے اللہ کے رسول بہترین نمونہ ہے۔"
     
  7. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    قصر نماز
    سفر میں ظہر اور عشاء کی چار چار فرض رکعتوں کو دو دو پڑھنا قصر (کم کرنا) کہلاتا ہے۔ فجر اور مغرب میں قصر نہیں ہے۔ سفر میں سنتیں اور نوافل معاف ہیں۔ مگر فجر کی سنتیں سفر میں بھی پڑھنا لازم ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ إِنَّ الْكَافِرِينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِينًا﴿١٠١﴾ النساء " اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئ گناہ نہیں ہے کہ نماز میں کچھ کم کرلو، اگر تمہیں یہ ڈر ہو کہ کافر تمہیں فتنے میں ڈال دیں گے۔ بے شک کافر ہمیشہ سے تمہارے کھلے دشمن ہیں۔"

    وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وابو كريب ، وزهير بن حرب ، وإسحاق بن إبراهيم ، قال إسحاق : اخبرنا ، وقال الآخرون : حدثنا عبد الله بن إدريس ، عن ابن جريج ، عن ابن ابي عمار ، عن عبد الله بن بابيه ، عن يعلى بن امية ، قال : قلت لعمر بن الخطاب " فليس عليكم جناح ان تقصروا من الصلاة إن خفتم ان يفتنكم الذين كفروا سورة النساء آية 101 ، فقد امن الناس ، فقال : عجبت مما عجبت منه ، فسالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك ، فقال : صدقة ، تصدق الله بها عليكم ، فاقبلوا صدقته " .
    یعلی بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس ایت کے بارے میں پوچھا (وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ إِنَّ الْكَافِرِينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِينًا) (اور جب تم سفر کے لیے نکلو) تو تم پر کچھ گناہ نہیں ہے اگر نماز میں قصر کرو۔ اگر نہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے۔" کہ آج کے لوگ تو امن میں ہیں۔(پھر کیوں قصر کریں؟) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے بھی یہی تعجب ہو تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قال : صدقة ، تصدق الله بها عليكم ، فاقبلوا صدقته " " یہ صدقہ ہے اللہ نے تم پر یہ صدقہ کیا ہے۔ پس اس کا صدقہ قبول کرلو۔"

    واپسی تک قصر کرنا۔
    أن رسول الله صلى الله عليه و سلم سافر من المدينه لا يخاف الا الله عز و جل فصلى ركعتين حتى رجع (مسند احمد 3-1852) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے سفر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ عزو جل کے علاوہ کسی سے خوف نہیں تھا۔ لیکن پھر بھی آپ نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کرکے نماز پڑھی ( قصر فرمائ)۔"
     
  8. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    مقیم کی اقتداء میں پوری نماز پڑھنا
    قتادة عن موسى بن سلمة الهذلي عن ابن عباس رضي الله عنه . و يرويه عن قتادة جمع : الأول : أيوب عنه عن موسى قال : كنا مع ابن عباس بمكة ، فقلت : إنا إذا كنا معكم صلينا أربعا ، و إذا رجعنا إلى رحالنا
    صلينا ركعتين ؟
    تلك سنة أبي القاسم صلى الله عليه و سلم . يعني إتمام المسافر إذا اقتدى بالمقيم وإلا فالقصر (السلسلہ الصحیحہ 2676)
    موسی کہتے ہیں کہ ہم مکہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے تو میں نے کہا: جب ہم آپ کے ساتھ ہوں تو چار رکعتیں پڑھیں اور جب اپنے خیموں میں لوٹیں تو دو رکعتیں پڑھیں؟ تو انہوں نے کہا " یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ یعنی مقیم کی اقتداء میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا ورنہ قصر کرنا۔"

    نمازوں کو جمع کرنا
    وقال إبراهيم بن طهمان ، عن الحسين المعلم ، عن يحيى بن ابي كثير ، عن عكرمة ، عن ابن عباس رضي الله عنهما ، قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجمع بين صلاة الظهر والعصر إذا كان على ظهر سير ، ويجمع بين المغرب والعشاء .(صحیح البخاری 1107)
    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوران سفر نماز ظہر اور عصر کو اور نماز مغرب اور عشاء کو جمع کرتے تھے۔"

    جمع تقدیم : نماز ظہر کے ساتھ نماز عصر اور نماز مغرب کے ساتھ نماز عشاء کی نماز پڑھنا
    جمع تاخیر : عصر کے وقت نماز عصر کے ساتھ نماز ظہر اور عشاء کے وقت نماز عشاء کے ساتھ نماز مغرب پڑھنا۔

    حدثنا قتيبة بن سعيد ، اخبرنا الليث ، عن يزيد بن ابي حبيب ، عن ابي الطفيل عامر بن واثلة ، عن معاذ بن جبل ، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان في غزوة تبوك إذا ارتحل قبل ان تزيغ الشمس اخر الظهر حتى يجمعها إلى العصر فيصليهما جميعا ، وإذا ارتحل بعد زيغ الشمس صلى الظهر والعصر جميعا ثم سار ، وكان إذا ارتحل قبل المغرب اخر المغرب حتى يصليها مع العشاء ، وإذا ارتحل بعد المغرب عجل العشاء فصلاها مع المغرب " (سنن ابی داؤد 1220)
    سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے سے پہلے سفر شروع کرتے تو ظہر کو مؤخر کرکے عصر کے وقت میں نماز عصر کے ساتھ جمع فرما لیتے اور اگر سورج ڈھلنے کے بعد سفر شروع کرتے تو ظہر و عصر اسی وقت (یعنی ظہر کے وقت) میں ادا فرما تے پھر سفر شروع کرتے۔ اسی طرح اگر سورج غروب ہونے سے پہلے سفر شروع کرتے تو مغرب کو مؤخر کر کے عشاء کے وقت مین نماز عشاء کے ساتھ پڑھ لیتے۔ اور اگر سورج غروب ہونے کے بعد سفر شروع کرتے تو عشاء کو جلدی کرکے مغرب کے ساتھ پڑھ لیتے۔

    حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ قَالَ جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مَرَّةً وَاحِدَةً جَاءَهُ خَبَرٌ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا وَجِعَةٌ فَارْتَحَلَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى الْعَصْرَ وَتَرَكَ الْأَثْقَالَ ثُمَّ أَسْرَعَ السَّيْرَ فَسَارَ حَتَّى حَانَتْ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ فَكَلَّمَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ الصَّلَاةَ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ شَيْئًا ثُمَّ كَلَّمَهُ آخَرُ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ شَيْئًا ثُمَّ كَلَّمَهُ آخَرُ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَعْجَلَ بِهِ السَّيْرُ أَخَّرَ هَذِهِ الصَّلَاةَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ (مسند احمد 10:6375)
    نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے صرف ایک مرتبہ نمازوں کو اکھٹا کا تھا (اس کی صورت یہ ہوئ تھی کہ) انہیں صفیہ بنت ابی عبید کی بیماری کی خبر معلوم ہوئ وہ عصر کی نماز کے بعد روانہ ہوۓ اور سامان وہیں چھوڑ دیا اور اپنی رفتار تیز کردی دوران سفر نماز مغرب کا وقت آگیا ان کے کسی ساتھی نہ کہا کہ نماز کا وقت ہوگیا ہے لیکن انہوں نے کوئ جواب نہیں دیا پھر دوسرے نے کہا انہوں نے اسے بھی کوئ جواب نہیں دیا پھر تیسرے کے کہنے پر فرمایا " میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چلنے میں جلدی ہوتی تھی تو نماز کو مؤخر کرکے دو نمازیں اکھٹی پڑھ لیتے تھے۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    سفر میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھنا۔

    حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُهَاجِرٌ أَبُو الْحَسَنِ مَوْلَى لِبَنِي تَيْمِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ لِلظُّهْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْرِدْ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ، فَقَالَ لَهُ: أَبْرِدْ حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ " (صحیح البخاری 539)
    سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ مؤذن نے چاہا کہ ظہر کی اذان دے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھنڈا ہونے دو۔ جب ہم نے ٹیلے کا سایہ ڈھلا ہو دیکھ لیا۔( اب اذان کہی گئ) پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " بے شک گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ سے ہے۔ اس لیے جب گرمی سخت ہو جایا کرے تو ظہر کی نماز ٹھنڈے (وقت) پڑھا کرو۔"
     
  10. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    سفر میں بارش ہونے پر باجماعت نماز کی رخصت
    حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَمُطِرْنَا فَقَالَ لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فِي رَحْلِهِ (مسند احمد 22:14347)
    حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلے راستے میں بارش ہونے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص خیمے میں نماز پڑھنا چاہے تو وہ وہیں نماز پڑھ لے۔

    حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ قَالَ نَادَى ابْنُ عُمَرَ بِالصَّلَاةِ بِضَجْنَانَ ثُمَّ نَادَى أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ ثُمَّ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّىاللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ الْمُنَادِيَ فَيُنَادِي بِالصَّلَاةِ ثُمَّ يُنَادِي أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ وَفِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ فِي السَّفَرِ (مسند احمد 8:4478)
    نافع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وادی ضجنان میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نماز کا اعلان کیا پھر یہ منادی کردی کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان فرمائ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی دوارا سفر سردی کی راتوں میں یا بارش والی راتوں میں منادی کو حکم دیتے تو وہ نماز کا اعلان کردیتا پھر اعلان کرتا کہ اپن اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔

    نماز جمعہ کی رخصت
    سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لَيْسَ عَلَى مُسَافِرٍ جُمُعَةٌ (صحیح الجامع الصغیر 5405) "مسافر پر جمعہ فرض نہیں ہے"
     
  11. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    کشتی اور جہاز میں نماز
    مسافر کے کشتی اور جہاز میں نماز پڑھنا جائز ہے۔
    صلي جابر بن عبد الله وأبو سعيد في السفينة قائما وقال الحسن قائما ما لم تشق على أصحابك تدور معها وإلا فقاعدا ( بخاري باب الصلاة على الحصير) جابر اور ابو سعید رضی اللہ عنہما نے کشتی میں کھڑے ہو کر ناز پڑھی اور امام حسن رضی اللہ عنہ نے کہا " کشتی میں کھڑے ہو کر نماز پڑھو جب تک کہ اس سے تمہارے ساتھیوں کو تکلیف نہ ہو اور کشتی کے رخ کے ساتھ تم بھی گھومتے جاؤ ورنہ بیٹھ کر پڑھو۔"
     
  12. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    مسافر کے لیے روزہ چھوڑنے کی رخصت

    أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ۖ فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ ۚ وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ﴿١٨٤البقرہ﴾
    "گنے ہوۓ چند دن ہیں، پھر تم میں سے جو بیمار ہو یا کسی سفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرنا ہے۔"
    سفر میں روزہ رکھنے سے مسافر کو مشقت نہ ہو تو وہ روزہ رکھ سکتا ہے لیکن اگر روزے میں دوران سفر تکلیف ہو تو افطار بہتر ہے۔
    وحدثني ابو الطاهر ، وهارون بن سعيد الايلي ، قال هارون حدثنا ، قال ابو الطاهر : اخبرنا ابن وهب ، اخبرني عمرو بن الحارث ، عن ابي الاسود ، عن عروة بن الزبير ، عن ابي مراوح ، عنحمزة بن عمرو الاسلمي رضي الله عنه ، انه قال : يا رسول الله اجد بي قوة على الصيام في السفر ، فهل علي جناح ؟ ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " هي رخصة من الله ، فمن اخذ بها فحسن ، ومن احب ان يصوم ، فلا جناح عليه " (صحیح مسلم 2629)
    سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کی اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سفر میں روزہ رکھنے کی اپنے اندر قوت پاتا ہے۔ (اگر میں روزہ رکھوں) تو کیا کچھ گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " یہ اللہ تعالی کی طرف سے رخصت ہے تو جس نے اس کو لیا تو اچھی بات ہے اور جس نے چاہا کہ روزہ رکھ لے تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔"

    حدثنا عبد الله بن يوسف ، اخبرنا مالك ، عن هشام بن عروة ، عن ابيه ، عن عائشة رضي الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم ، ان حمزة بن عمرو الاسلمي ، قال للنبي صلى الله عليه وسلم : " الصوم في السفر ، وكان كثير الصيام ؟ فقال : إن شئت فصم ، وإن شئت فافطر " . (صحیح بخاری 1943)
    سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے :حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا میں سفر میں روزہ رکھوں؟ اور وہ کثرت سے روزہ رکھنے والے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اگر چاہو تو روزہ رکھ لو اور چاہو تو نہ رکھو۔"

    حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَا تَعِبْ عَلَى مَنْ صَامَ فِي السَّفَرِ وَلَا عَلَى مَنْ أَفْطَرَ قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ (مسند احمد 2957:3)
    سفر میں جو شخص روزہ نہ رکھے، کسی کو عیب نہ لگاؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا بھی ہے اور چھوڑا بھی ہے۔"

    حدثنا هداب بن خالد ، حدثنا همام بن يحيى ، حدثنا قتادة ، عن ابي نضرة ، عن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه قال : " غزونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لست عشرة مضت من رمضان ، فمنا من صام ، ومنا من افطر ، فلم يعب الصائم على المفطر ، ولا المفطر على الصائم " (صحیح مسلم 2615)
    سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت ہے " ہم سولہویں روزے سے رسول اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کے لیے نکلے۔۔ ہم میں سے بعض لوگوں نے روزہ رکھا اور بعض لوگوں نے چھوڑ دیا۔ نہ روزہ دار نے بے روزہ پر اعتراض کیا اور نہ بے روزہ نے روزہ دار اعتراض کیا۔"
     
  13. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    سفر میں مشکل ہو تو مسافر کے لیے روزہ رکھنا جائز نہیں۔
    حدثنا آدم ، حدثنا شعبة ، حدثنا محمد بن عبد الرحمن الانصاري ، قال : سمعت محمد بن عمرو بن الحسن بن علي ، عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهم ، قال : " كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر ، فراى زحاما ورجلا قد ظلل عليه ، فقال : ما هذا ؟ فقالوا : صائم ، فقال : ليس من البر الصوم في السفر " .(صحیح بخاری 1946)
    سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیڑ دیکھی کہ ایک شخص پر سایہ کیا گيا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے تو لوگوں نے کہا کہ ایک روزہ دار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں۔"

    سفر میں رکھا ہوا روزہ افطار کرنے کی گنجائش۔
    حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يُقَلِّبُ ظَهْرَهُ لِبَطْنٍ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا صَائِمٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُفْطِرَ فَقَالَ أَمَا يَكْفِيكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَصُومَ (مسند احمد 14508:22)
    سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے آدمی کے پاس سے گذرے جو الٹ پلٹ ہو رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا : اے اللہ کے نبی صی اللہ علیہ وسلم یہ روزہ دار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور روز افطار کرنے کا حکم دیا اور فرمایا " کیا تجھے یہ (نیک عمل) کافی نہیں ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اور اللہ تعالی کے راستے میں ہے کہ تو نے روزہ رکھنا بھی شروع کر دیا۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  14. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    نفلی روزے
    کوئ شخص مستقل طور پر بعض روزے رکھنے کا عادی ہو تو سفر میں رکھنے میں بھی کوئ حرج نہیں بشرطیکہ اس کی صحت اجازت دیتی ہو اور روزے سے دیگر فرائض متاثر نہ ہوتے ہوں۔
    اخبرنا القاسم بن زكريا ، قال : حدثنا عبيد الله ، قال : حدثنا يعقوب ، عن جعفر ، عن سعيد ، عن ابن عباس ، قال : " كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يفطر ايام البيض في حضر ، ولا سفر " .(سنن نسائ 2347)
    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر و حضر میں ایام بیض (چاند کی 13،14،15) کے روزے نہ چھوڑتے تھے۔

    بوجہ سفر عبادت کی کمی کو بعد میں پورا کرنا۔
    حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ مُقِيمًا اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ وَإِذَا سَافَرَ اعْتَكَفَ مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ عِشْرِينَ (مسند احمد 12017:19)
    سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ " جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقیم ہوتے تو رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے اور اگر ان دنوں سفر پر ہوتے تو اگلے سال بیس دنوں کا اعتکاف کرتے۔"

    مسافر کے لیے رات کو باتیں کرنے کی اجازت۔

    حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ قَالَ سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا سَمَرَ إِلَّا لِأَحَدِ رَجُلَيْنِ لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ (مسند احمد 4244:7)
    سیدنا عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "صرف نمازی اور مسافر لوگ رات کو (عشاء کی نماز کے بعد) گفتگو کر سکتے ہیں۔"
     
  15. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    سفر سے واپسی کے آداب
    سفر سے جلد واپسی
    حدثنا عبد الله بن مسلمة ، حدثنا مالك ، عن سمي ، عن ابي صالح ، عن ابي هريرة رضي الله عنه ، عن النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : " السفر قطعة من العذاب يمنع احدكم طعامه وشرابه ونومه ، فإذا قضى نهمته فليعجل إلى اهله " (صحیح بخاری 1804) سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے۔ آدمی کو اس کے کھانے پینے اور سونے سے روک دیتا ہے۔ اس لیے جب کوئ اپنی ضرورت پوری کر چکے تو فورا گھر واپس آ جاۓ۔"

    اگر کوئ ہم سفر جلد لوٹنا چاہے تو اسے اجازت دینا۔
    حدثنا سهل بن بكار ، حدثنا وهيب بن خالد ، عن عمرو بن يحيى ، عن العباس الساعدي يعني ابن سهل بن سعد ، عن ابي حميد الساعدي ، قال : غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم تبوك فلما اتى وادي القرى إذا امراة في حديقة لها ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لاصحابه : " اخرصوا ، فخرص رسول الله صلى الله عليه وسلم عشرة اوسق ، فقال للمراة : احصي ما يخرج منها ، فاتينا تبوك فاهدى ملك ايلة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بغلة بيضاء وكساه بردة وكتب له يعني ببحره ، قال : فلما اتينا وادي القرى ، قال للمراة : كم كان في حديقتك ؟ قالت : عشرة اوسق خرص رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إني متعجل إلى المدينة فمن اراد منكم ان يتعجل معي فليتعجل " .(سنن ابی داؤد 3079) سیدنا ابو حمید ساعدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " بے شک میں مدینہ جلدی پہنچنا چاہتا ہوں جو میرے ساتھ جلدی پہنچنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ و چل پڑے (باقی اپنی رفتار سے آ جائیں )۔"

    چاشت کے وقت واپسی اور دو نفل پڑھنا۔
    حدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا الضحاك يعني ابا عاصم . ح ، وحدثني محمود بن غيلان ، حدثنا عبد الرزاق ، قالا جميعا ، اخبرنا ابن جريج ، اخبرني ابن شهاب ، ان عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب اخبره ، عن ابيه عبد الله بن كعب، وعن عمه عبيد الله بن كعب ، عن كعب بن مالك ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ، " كان لا يقدم من سفر ، إلا نهارا في الضحى ، فإذا قدم ، بدا بالمسجد فصلى فيه ركعتين ، ثم جلس فيه " .(صحیح مسلم 1659)
    سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ دن چڑھے چاشت کے وقت ہی سفر سے واپس آتے (اور شہر میں داخل ہوتے) پھر پہلے مسجد میں جاتے اور دو رکعت پڑھتے پھر مسجد میں بیٹھتے۔"
     
  16. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    گھر والوں کو تیاری کا موقع دینا۔
    حدثنا آدم ، حدثنا شعبة ، حدثنا محارب بن دثار ، قال : سمعت جابر بن عبد الله رضي الله عنهما ، قال : كان النبي صلى الله عليه وسلم " يكره ان ياتي الرجل اهله طروقا " .(صحیح البخاری 5243) سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو نا پسند فرماتے تھے کہ انسان رات کے وقت اچانک اپنے گھر پہنچے۔"

    حدثنا محمد بن مقاتل ، اخبرنا عبد الله ، اخبرنا عاصم بن سليمان ، عن الشعبي ، انه سمع جابر بن عبد الله ، يقول : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إذا اطال احدكم الغيبة فلا يطرق اهله ليلا " (صحیح البخاری 5244)
    سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اگر تم میں سے کوئ شخص زیادہ دنوں تک اپنے گھر سے دور رہا ہو تو اچانک رات کو اپنے گھر نہ جاۓ۔"
    امام نووی فرماتے ہیں : رات کے وقت سفر سے اپنی بیوی کے پاس اچانک آنا مکروہ ہے۔ خاص کر جو اپنے سفر میں طویل مدت ٹھہرا ہو، البتہ جس کی مدت سفر مختصر ہو اور اس کی بیوی کو توقع ہے کہ اس کا شوہر رات مین لوٹ سکتا ہے تو (رات میں اپنے گھر والوں کے پاس آنے میں) کوئ حرج نہیں ہے۔" (شرح النووی علی مسلم)

    حدثنا احمد بن حنبل ، حدثنا هشيم ، اخبرنا سيار ، عن الشعبي ، عن جابر بن عبد الله ، قال : كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر ، فلما ذهبنا لندخل قال : " امهلوا حتى ندخل ليلا لكي تمتشط الشعثة ، وتستحد المغيبة " ، قال ابو داود : قال الزهري : الطروق بعد العشاء ، قال ابو داود : وبعد المغرب لا باس به .(سنن ابی داؤد 2778)
    سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب (ہم مدینہ کے آخری پڑاؤ پر تھے) ہم نے چاہا کہ گھروں کو جائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " ذرا ٹھرو، رات ہولے تو جاؤ تاکہ پراگندہ حال خاتون کنگھی چوپٹی کرلے اور جس کا شوہر غائب تھا وہ اپنے (زیر ناف) بالوں کی صفائ کرلے۔"

    حدثنا محمد بن الوليد ، حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن سيار ، عن الشعبي ، عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما ، ان النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : " إذا دخلت ليلا فلا تدخل على اهلك حتى تستحد المغيبة وتمتشط الشعثة " ۔۔۔۔۔! (صحیح بخاری 5246) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (غزوہ تبوک سے واپسی) کے وقت فرمایا " جب رات کے وقت تم (مدینہ) پہنچو تو اس وقت اپنی گھر والی کے پاس نہ جانا جب تک وہ عورت کہ جس کا شوہر غائب تھا وہ اپنے (زیر ناف) بالوں کی صفائ کرلے اور پراگندہ حال عورت کنگھی نہ کر لے۔"
     
  17. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    سواری کو تیز کر دینا
    حدثنا قتيبة ، حدثنا إسماعيل بن جعفر ، عن حميد ، عن انس رضي الله عنه ، ان النبي صلى الله عليه وسلم ، " كان إذا قدم من سفر ، فنظر إلى جدرات المدينة اوضع راحلته ، وإن كان على دابة حركها من حبها " .
    انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ`" نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی سفر سے واپس آتے اور مدینہ کی دیواروں کو دیکھتے تو اپنی سواری تیز فرما دیتے اور اگر کسی جانور کی پشت پر ہوتے تو مدینہ کی محبت میں اسے ایڑ لگاتے۔"

    سفر سے واپس آنے والوں کا استقبال
    حدثنا ابن السرح ، حدثنا سفيان ، عن الزهري ، عن السائب بن يزيد ، قال : لما قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة من غزوة تبوك تلقاه الناس فلقيته مع الصبيان على ثنية الوداع .(سنن ابی داؤد 2779)
    سیدنا بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ تبوک سے مدینہ تشریف لائے تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا، دوسرے بچوں کے ساتھ میں نے بھی ثنیۃ الودا‏ع کے مقام پر آپ کا استقبال کیا۔"

    احباب سے معانقہ کرنا۔
    " كان أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم إذا تلاقوا تصافحوا ، و إذا قدموا من سفر تعانقوا " (المعجم الاوسط 1۔97)
    سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے " جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ آپس میں ملاقات کرتے تو مصافحہ کرتے اور جب سفر سے واپس آتے تو معانقہ کرتے۔"

    بچوں سے ملاقات
    دَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِالصِّبْيَانِ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ قَالَ وَإِنَّهُ قَدِمَ مَرَّةً مِنْ سَفَرٍ قَالَ فَسُبِقَ بِي إِلَيْهِ قَالَ فَحَمَلَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ ثُمَّ جِيءَ بِأَحَدِ ابْنَيْ فَاطِمَةَ إِمَّا حَسَنٍ وَإِمَّا حُسَيْنٍ فَأَرْدَفَهُ خَلْفَهُ قَالَ فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ ثَلَاثَةً عَلَى دَابَّةٍ (مسند احمد 1743:3)
    سیدنا عبد بن جعفر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس آتے تو پہلے اپنے اہل بیت کے بچوں سے ملاقات فرماتے ایک مرتبہ نبی صی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس تشریف لائے سب پہلے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اٹھا لیا۔ پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے کسی صاحبزادے حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کو لایا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیچھے بٹھا لیا اس طرح ہم ایک سواری پر تین لوگ سوار ہو کر مدینہ میں داخل ہوۓ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  18. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    سفر سے واپسی پر ایسی جگہ بیٹھنا کہ سب سلام کر سکیں
    حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَسَبَّحَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَجَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ فَيَأْتِيهِ النَّاسُ فَيُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ (مسند احمد 15772:25)
    سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے مجسجد میں تشریف لے جاتے وہاں دو رکعتیں پڑھتے اور سلام پھیر کر اپنی جاۓ نماز پر ہی بیٹھ جاتے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اور آپ کو سلام کرتے۔
     
  19. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    سفر سے واپسی پر جانور ذبح کیا جاۓ۔
    حدثني محمد ، اخبرنا وكيع ، عن شعبة ، عن محارب بن دثار ، عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما قدم المدينة نحر جزورا او بقرة " (صحیح بخاری 3089)
    سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (غزوہ تبوک یا ذات الرقاع سے واپس) مدینہ تشریف لائے تو اونٹ یا گاۓ ذبح کی۔"
     
  20. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    سفر کی دعائیں
    یہ اللہ کا فضل ہے کہ آج کے دور میں اطمینان و سکون سے سفر کرنے کے لیے قسم قسم کی سواریاں میسر ہیں۔ سواری اور سفر کی مسنون دعاؤں میں اللہ کی تعریف اور گناہوں کے بخشش کا ذکر ہے لہذا مسافر کو چاہیے کہ وہ درج ذیل مسنون دعاؤں کا اہتمام کرے۔

    سفر سے پہلے
    دعاۓ استخارہ
    «اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك،‏‏‏‏ وأسألك من فضلك العظيم،‏‏‏‏ فإنك تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب،‏‏‏‏ اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري ( «أو قال») عاجل أمري وآجله فاقدره لي ويسره لي ثم بارك لي فيه، وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري أو قال في عاجل أمري وآجله فاصرفه عني واصرفني عنه،‏‏‏‏ واقدر لي الخير»(صحیح بخاری 1162)
    اے اللہ! بے شک تجھ سے تیرے علم کی بدولت خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کی بدولت تجھ سے طاقت مانگتا ہوں اور تیرے فضل عظیم کا طلب گار ہوں کہ بے شک تو ہی قدرت رکھتا ہے اور مجھے کوئ قدرت نہیں۔ علم تجھ ہی کو ہے اور میں کچھ نہیں جانتا اور تو تمام پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (جس کے لیے استخارہ کیا جا رہا ہے) میرے دین، معاش اور میرے کام کے انجام کے اعتبار سے میرے لیے بہتر ہے تو اسے میرے لیے مقدر کردے اور اس کو میرے لیے آسان کردے، پھر اس میں مجھے برکت عطا کر اور اگر تو اسے مجھ سے دور کردے اور مجھے بھی اس سے ہٹا دے، پھر میرے لیے خیر مقدر فرمادے۔ جہاں بھی وہ ہو اور اس پر میرے دل کو مطمئن کردے۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں