ماہ شعبان کی بدعات

بابر تنویر نے 'ماہِ شعبان المعظم' میں ‏اپریل 27, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,133
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    ماہ شعبان کی بدعات
    از قلم : شیخ محمد طیب سلفی حفظہ اللہ


    {ناشر شعبہ توعیۃ الجالیات الغاط www.islamidawah.com}

    دینی وملی بھائیو!
    ماہ شعبان اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ ہے، جو رجب کے بعد اور رمضان سے پہلے آتاہے، کتب حدیث پرنظر ڈالی جائے تو صحیح حدیثوں سے اس مہینے میں صرف روزوں کاحکم پایا جاتاہے،جیسا کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ( مارأيت النبى صلى الله عليه وسلم يصوم شهرين متتابعين إلا شعبان ورمضان)'' میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو مہینے پے درپے روزہ رکھتے ہوئے سوائے ماہ شعبان اور ماہ رمضان کے نہیں دیکھا ( ترمذی) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں ( ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إستكمل صيام شهر قط إلا رمضان ومارأيته فى شهر اكثر منه صياما فى شعبان)'' میں نے کبھی نہیں دیکھاکہ رسول اللہ ٍصلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کسی پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں، اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ نفلی روزے رکھتے ہوں'' ( بخاری ومسلم ) اس مفہوم کی اور بھی حدیثیں ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم ٍصلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے میں دوسرے مہینوں کی بہ نسبت زیادہ روزے رکھتے تھے گویا شعبان میں کثرت سے روزے رکھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، اس کے سوا کوئی اور فضیلت یا نئی عبادت نظر نہیں آتی،پھر بھی ہمارے بہت سے بھائی خصوصیت کے ساتھ صرف ایک دن یعنی پندرہویں تاریخ کا روزہ رکھتے ہیں اور بطور دلیل ایک ضعیف بلکہ سخت ضعیف روایت پیش کرتے ہیں جس کو امام ابن ما جہ نے اپنی سنن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ٍصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( إذا كانت ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلهاوصوموا نهارها ) '' جب شعبان کی پندرہویں رات آئے تو اس رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو'' اس حدیث کی بنا پر اکثر اسلامی ملکوں میں پندرہویں شعبان کے روزوں کا رواج ہے ، لیکن محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ حدیث سند کے لحاظ سے نہایت ضعیف قسم کی ہے اور اس کے ایک راوی ابوبکر بن عبداللہ کے متعلق آئمہ جرح وتعدیل نے یہاں تک کہا ہے کہ وہ حدیثیں وضع کیا کرتا تھا ، شیخ الحدیث مولانا عبید اللہ رحمانی مبارکپوری اپنی کتاب مرعاة شرح مشکوة میں رقمطراز ہیں (ليس فى صوم يوم ليلة النصف من شعبان حديث مرفوع او حسن أو ضعيف) '' کہ اس نصف شعبان کے روزہ سے متعلق کوئی صحیح تو کیا ضعیف حدیث بھی موجود نہیں '' بنا بریںیہ حدیث دلیل نہیں بن سکتی اس لئے پندرہویں تاریخ کا خصوصیت سے روزہ رکھنا صحیح نہیں ہے، اس لئے اگر روزے رکھنے ہوں تو ہر مہینہ کی تیرہویںچودہویں اور پندرہویں کو روزہ رکھیں۔

    شب براءت
    ہمارے بھائی پندرہویں شعبان کو شب برات کے نام سے موسوم کرتے ہیں حالانکہ پندرہویں شعبان کو شب برات کہنا سراسر غلط ہے، اس بارے میں جو فضائل بیان کئے جاتے ہیں وہ سب ماہ رمضان المبارک میں لیلة القدر کے ہیں ، اس رات کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ سال بھر میں جتنے آدمی مرتے اور پیدا ہوتے ہیں اس رات میں لکھے جاتے ہیں ،اس رات میں تمام عالم کی روزی لکھی جاتی ہے، عمریں بڑھائی جاتی ہیں، گناہ بخشے جاتے ہیںاسی لئے لوگ اس رات کو جشن منعقد کرتے ہیں رات بھر جاگتے ہیں، خاصقسم کی نماز پڑھتے ہیں اوراس نمازکی فضیلت میں ایک موضوع ومن گھڑت حدیث بھی بیان کرتے ہیں جس کو صاحب کشاف علامہ زمخشری نے بغیر کسی سند اور حوالہ کے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ٍصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' ' جو شخص پندرہویں شعبان کی رات میں سو رکعتیں پڑھتا ہے اللہ تعالی اس کی طرف سو فرشتے بھیجتا ہے 30 اسے جنت کی خوشخبری سناتے ہیں اور 30اسے عذاب دوزخ سے بچاتے ہیں اور 30 اسے دنیاوی بلائوں سے دور رکھتے ہیں اور 10 اسے شیطان کے مکرو فریب سے محفوظ رکھتے ہیں ''غور کرنے کی بات ہے کہ اگر اس رات کی اور اس رات میں پڑھی جانے والی نماز کی کوئی فضیلت واہمیت ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نبوت ورسالت کی 23 سالہ حیات مبا رکہ میں ضرور اس رات کا اہتمام کرتے اور یہ خاص نماز پڑھتے ، اور ضرور اپنے ساتھیوں کو حکم دیتے جو ثواب حاصل کرنے میں نبی ٍصلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اپنانے میں انتہائی حریص تھے، مگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو پھر جو چیز رسول اللہ ٍصلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین اور صحابہ کرام وتابعین سے ثابت نہ ہو وہ بدعت ہے ۔

    مردوں کی روحوں کی آمد کا عقیدہ
    ہمارے بھائیوںکا یہ عقیدہ ہے کہ پندرہویں شعبان کی رات مردوں کی روحیں اپنے گھروں پر آتی ہیں اس لئے گھروں کی دھلائی اور صفائی کرتے ہیں ، اگربتیاں سلگاتے اور موم بتیاں جلاتے ہیں ، مردوں کے من پسند کھانے پکاتے ہیں حالانکہ روحوں کے اس دنیا میں آنے کے بارے میں اللہ کا فرمان ہے ( ومن ورائهم برزخ إلى يوم يبعثون) '' کہ وہ مرنے کے بعد ایسے عالم برزخ میں ہیں جہاں پلٹ کر قیامت تک نہیں آسکتے، لہذا یہ عقیدہ رکھنا کہ مردوں کی روحیں اپنے گھروں میں آتی ہیں مذکورہ آیت سے متصادم ہے نیز فقہاء کا قول ہے کہ بزرگوں کی روحوں کو حاضر وناظر سمجھنے والا کافر ہے، مگر پھر بھی ہمارے بھائی بڑی جرات اور دلیری کے ساتھ قرآن مجید کی ان آیتوں کو جس میں روح کے اترنے کاذکر ہے بطور دلیل پیش کرتے ہیں کہ اس سے مراد مردوں کی روحیں ہیں حالانکہ ان آیتوں میں روح سے مراد حضرت جبریل علیہ السلام ہیں۔

    ز یارت قبور
    آج شب برات کا ایک بڑا حصہ بلکہ اسکیایک بڑی بدعت قبرستان کی زیارت ہے اس رات کے استقبال میں ہمارے بھائی قبرستان کی ٹوتی پھوٹی قبروں کو سیدھی کرتے ہیں ، چونا گچ کرتے ہیں پھر قبروں پر اگر بتیاں موم بتیاںسلگاتےاور قمقمے سجا کر پورے قبرستان کو منور کرتے ہیں ، حالانکہ جس ا نسان کی قبر اس کے عقیدئہ صحیحہ اور عمل صالح کی روشنی سے منور نہیں اسے اس بجھ جانے والی بناوٹی روشنی سے کیا فائدہ ہوگا؟ تو اس رات لوگ خاص طورپر قبرستان جاتے ہیں جب کہ نبی کریم ٍصلی اللہ علیہ وسلم کا اس رات قبرستان جانا کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں،ویسے نبی کریم ٍصلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول تھا کہ آپ قبروں کی زیارت کرتے تھے ا ور قبروں کی زیارت کا آپ نے حکم بھی دیا ہے، لیکن زیارت قبور کے لئے آپ نے کوئی خاص وقت مقرر نہیں کی ہے بلکہ عام حکم دیا ہے ، معلوم ہوا کہ زیارت قبور ہر وقت مسنون ہے نہ کہ صرف یہی ایک رات۔

    حلوہ خوری
    ہمارے بھائی نیک کام سمجھ کر شب برات میں انواع واقسام کے حلوہ بناتے اوراس پر فاتحہ دلواتے ہیں اور اپنے اس عمل کی ثبوت میں یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ جنگ احد میں حضور ۖ کے دندان مبارک شہید ہوئے تھے اس لئے آپ نے حلوہ نوش فرمایا تھا حالانکہ یہ سراسر غلط ہے کیوں کہ مورخین کے اتفاق کے مطابق شوال سن ٣ ہجری میں آنحضرت ۖکے دندان مبارک شہید ہوئے تھے ، پندرہ شعبان یا ماہ شعبان سے اس واقعہ کا کوئی تعلق نہیں، اگر بالفرض اس کو تسلیم بھی کرلیا جائے تو پہلے ہمارے بھائیاپنے دانت توڑ لیا کریں پھر بعد میں حلوہ کھائیں ، حاصل یہ کہ حلوہ خوری یہ عبادت نہیں بلکہ بدعت ہے ، ہمارے بھائیوں کو ایسے بدعی کاموں سے پرہیز کرنا واجب ہے۔

    آتشبازی
    اس رات میں ہمارے بھائی پٹاخے بازی کرتے ہیں ایک طرف توان کا یہ عقیدہ ہے کہ پندرہویں تاریخ کو اللہ تبارک وتعالی آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور یہ غروب آفتاب کے بعد پٹاخے چھوڑتے ہیں گویا زبان حال سے کہتے ہیں کہ یا اللہ دور ہوجا ! ہمیں کوئی ضرورت نہیں ، اس طرح سالانہ کڑوروں روپیہ آگ کی نذر کرتے ہیں اگر ایسے لوگوں سے کہا جائے دینی کاموں کے واسطے روپیوں کی ضرورت ہے تو صاف جواب دیتے ہیں کہ ہمارے پاس کہاں ہے ! اللہ جانے ! ان واہیات کاموں کے لئے روپیہ کہاں سے آجاتا ہے رب کائنات کا فرمان ہے (إن المبذرين كانواإخوان الشياطين) ''فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں'' اس لئے اللہ کے واسطے اس گھر پھونک تماشہ کو چھوڑ ئے اور اپنی حلال کمائی کو حرام کاموں میں ضائع نہ ہونے دیجئے، اللہ ہم تمام مسلمانوں کو بدعات سے بچائے اور سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق بخشے ۔ آمین یا رب العالمین۔
    ختم شدہ​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,867
    جزاك الله خيرا
     
  3. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    534
    جزاک اللہ خیرا
    آج کل تو لوگ شعبان مبارک بھی کہننے لگ گئے ہیں۔ یہ بھی ایک بدعت ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں