خلافت تو اللہ کا عطیہ ہوتا ہے

اجمل نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏اپریل 30, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    469
    .

    خلافت تو اللہ کا عطیہ ہوتا ہے:


    جب اللہ کو مطلوب ایمان‘ اعتقاد اور کردار کے حامل کوئی امت وجود میں آتی ہے تو اللہ اپنی رحمت سے انہیں خلافت عطا کرتا ہے۔
    قرآن اور تاریخ سے یہی ثابت ہے کہ انبیاء علیہم السلاۃ و السلام کی ساری کی ساری جدو جہد بندوں میں اللہ کو مطلوب ایمان‘ اعتقاد اور کردار کےپیدا کرنا ہوتا تھا۔

    پھر جب اللہ کو مطلوب ایمان‘ اعتقاد اور کردار کے حامل بندوں سے ایک امت بن جاتی تو اللہ اپنی رحمت سے انہیں خلافت عطا کرتا۔ یہاں ایک بات اور نوٹ کرلیں کہ یہ اوصافِ حمیدہ صرف ایک خلیفہ کے اندر ہی نہیں بلکہ امت کی اکثریت میں ہونی چاہئے کیونکہ حکومت صرف ایک فرد سے نہیں چلتی۔

    اللہ کو مطلوب ایمان‘ اعتقاد اور کردار میں کمی آتے ہی خلافت چھین لی جاتی۔

    قومِ نوحؑ ( جو کشتی میں سوار ہوئے تھے)‘ قوم عاد‘ قوم ثمود میں انبیاء علیہم السلاۃ و السلام کی محنت کے نتیجے میں جب اللہ کو مطلوب ایمان‘ اعتقاد اور کردار کے حامل بندوں سے نیک اور صالح امتیں وجود میں آئیں تو اللہ نے ان میں سے ہر امت کو خلافت عطا کیا اور ایمان‘ اعتقاد اور کردار میں بگاڑ پیدا ہوتے ہی خلافت چھین لی گئی۔

    ان تمام امتوں کی خلافتوں ذکر قرآن میں موجود ہے:

    ...وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ ....... سورة الأعراف-69
    ’’ اور (اے قوم عاد) یاد کرو جب اس نے تمہیں قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا۔‘‘

    وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِن بَعْدِ عَادٍ...... سورة الأعراف-74
    ’’ اور (اے قوم ثمود) یاد کرو جبکہ اس نے تمہیں عاد کے بعد خلیفہ بنایا ‘‘۔

    أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ﴿٦﴾سورة الفجر
    ’’ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے (قومِ) عاد کے ساتھ کیسا (برتاؤ ) کیا؟‘‘

    حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تمامتر محنت کے باوجودبنی اسرائیل ایمان‘ اعتقاد اور کردار کی اس کسوٹی پر پوری نہیں اتر سکی جس کے بنا پر خلافت عطا ہوتی ہے‘ لہذا اللہ تعالٰی نےانہیں اس ملک (مصر) کے مشرق و مغرب کا وارث تو بنایا لیکن خلافت سے محروم رکھا‘ جیسا کہ قرآن میں ہے:

    وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۖ ۔۔۔۔﴿١٣٧﴾سورة الأعراف
    ’’ اور ہم نے اس قوم (بنی اسرائیل) کو جو کمزور اور استحصال زدہ تھی اس سرزمین کے مشرق و مغرب (مصر اور شام) کا وارث بنا دیا جس میں ہم نے برکت رکھی تھی۔۔۔‘‘

    كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ ﴿٥٩﴾ سورة الشعراء
    ’’ (ہم نے) اسی طرح (کیا) اور ہم نے بنی اسرائیل کو ان (سب چیزوں) کا وارث بنا دیا‘‘

    وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ ﴿٥﴾سورة القصص
    ’’ اور ہم چاہتے تھے کہ ہم ایسے لوگوں پر احسان کریں جو زمین میں کمزور کر دیئے گئے تھے اور انہیں رہبر و پیشوا بنا دیں اور انہیں (ملکی تخت کا) وارث بنا دیں‘‘

    بنی اسرائیل کو اللہ تعالٰی نے حضرت داؤد علیہ السلاۃ و السلام کے وقت میں خلافت سے نوازا اور یہ خلافت حضرت سلیمان علیہ السلاۃ و السلام کے وقت تک قائم رہی۔جیسا کہ قرآن میں ہے:

    يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ ۔۔۔﴿٢٦سورة ص
    ’’ اے داؤد(ع)! ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ مقرر کیا ہے ۔۔۔‘‘

    وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ ۖ ۔۔۔۔سورة النمل-16
    ’’ اور داؤدؑ کا وارث سلیمانؑ ہوا۔۔۔‘‘

    لیکن حضرت سلیمان کے بعد یہودیوں میں اسی طرح فساد برپا ہوا جس طرح امتِ مسلمہ میں حضرت عثمان غنی اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کے ادوار میں فساد شروع ہوا تھا اور بالکل ایک جیسے وجوہات کے بنا پر یہودیوں سے اور مسلمانوں سے خلافت رخصت ہوئی۔

    نصرانیوں میں نظام خلافت کی کوئی تاریخ نہیں ملتی۔

    حضرت سلیمان علیہ السلاۃ و السلام کے بعد جب ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و اٰلیہ و سلم نے اپنی انتھک محنت سے اللہ کو مطلوب ایمان‘ اعتقاد اور کردار کے حامل افراد سے اس امتِ مسلمہ کو وجود میں لایا تو اللہ نے اپنے وعدے کے مطابق اس امت مسلمہ کو خلافت عطا کیا‘ (اللہ کے وعدے کا ذکر میرے اصل مضمون میں ہے)۔

    پھر جب قتلِ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے امت میں فساد پیدا ہوا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں فرقہ پرستی کا شرک وجود میں آیا‘ تو اللہ کو مطلوب ایمان‘ اعتقاد اور کردار میں کمی ہونا شروع ہوئی اورامت سے خلافت رخصت ہوگئی۔ یہی اللہ کی سنت ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔

    وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّـهِ تَبْدِيلًا
    ’’ اور آپ اللہ کی سنت میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پائیں گے‘‘

    رسولِ کریم ﷺ نے بھی اپنے بعد صرف تیس سال تک امت میں خلافت قائم رہنے کی پیشن گوئی کی تھی:

    ’’ نبوت والی خلافت تیس سال رہے گی پھر جسے اللہ چاہے گا (اپنی) حکومت دے گا۔ سعید رحمة اللہ علیہ نے کہا: سفینہ رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: شمار کرو، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دو سال اور عمر رضی اللہ عنہ کے دس سال اور عثمان رضی اللہ عنہ کے بارہ سال اور علی رضی اللہ عنہ کے اتنے (یعنی چھ سال)"

    نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق ٹھیک تیس سال تک خلافت رہی اور ابھی تک دوبارہ بحال نہیں ہوئی۔ بے شمار لوگوں نے کوششیں کی‘ بے شمار لوگوں نےجہاد کئے اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا لیکن آج تک خلافت نہ آنی تھی نہ آئی۔۔۔

    وجہ کیا ہے‘ وجہ بس ایک ہی ہے کہ تیس سال کے بعد آج تک امت ’’ اللہ کو مطلوب ایمان‘ اعتقاد اور کردار ‘‘ کی حامل نہیں بنی۔
    امت میں جو لوگ نظامِ خلافت کیلئے کوشاں ہیں‘ انہیں صرف اللہ کو مطلوب ایمان‘ اعتقاد اور کردار کی حامل امت کی تشکیلِ نو کی کوششیں کرنی چاہئے جس کے بغیر صرف نعروں سے‘ یا جہاد سے یا خروج سے نظامِ خلافت نہیں آئے گی۔

    ان شاء اللہ امتِ مسلمہ میں قیامت سے پہلے ایک بار پھر خلافت قائم ہوگی ‘ جب امام مہدی کا ظہور ہوگا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس امت میں نزول فرمائیں گے‘ شرک و بدعات کا خاتمہ کریں گے‘ سارے فرقے ختم ہونگے‘توحید کے تقاضے پورے ہونگے‘ اللہ کو مطلوب ایمان‘ اعتقاد اور کردار کے حامل افراد سے امتِ مسلمہ کی تشکیل نو ہو گی تب نبوت والی خلافت دوبارہ قائم ہوگی۔

    ہم اپنے اندر اللہ کو مطلوب ایمان‘ اعتقاد اور کردار پیدا کریں تاکہ اگر ہمارے وقت میں امام مہدی کا ظہور اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوتو ہم ان کا ساتھ دینے والے ہوں ۔ورنہ ہم ان اوصاف کو اپنے آئندہ آنے والی نسلوں میں منتقل کرتے رہیں کہ جب امام مہدی کا ظہور اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو تو ہماری ذریت ان کے مدد گار ہو۔
    (واللہ تعالیٰ اعلم)
    تحریر : محمد اجمل خان​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • غیر متفق غیر متفق x 1
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. طارق اقبال

    طارق اقبال محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 3, 2009
    پیغامات:
    316
    ہم لوگوں بحیثیت امّت محمدی اپنے کردار اور ایمان و اعتقاد کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے - تب ہی ہم دنیا میں ایک منظم نظام خلافت قائم کرسکتے ہیں - لیکن ہمیں یہ بات ملحوظ خاطر رکھنے ضروری ہے کہ ایک چیز ہوتی ہے الله کی مشیت اور ایک ہوتی انسان کی کوشش- الله کی مشیت کے تحت تو خلافت کے وہی لوگ حق دار ٹہریں گے یا ٹھہرے تھے جو اپنے ایمان اور اعتقاد میں پکے مومن تھے- لیکن الله کے نزدیک پکا مومن بھی وہی ہوتا ہے جو پہلے طاغوت کا انکار کرتا ہے اور پھر حق کا اثبات کرتا ہے - کلمہ طیبہ لا الہٰ الااللہ - ہمیں اسی بات کی تعلیم دیتا ہے کہ پہلے ہر قسم کے طاغوت کی نفی کی جائے اور پھر ایک الہٰ کا اثبات کیا جائے - تمام باطل نظام جو حکمرانی کے زمن میں دنیا میں وجود میں آے ان کا انکار کردیا جائے - چاہے جمہوریت، آمریت ہو، کمویونزم، کیپٹلزم ہو یا کوئی اور باطل نظام - سب طاغوت کی ایک قسم ہیں اور ایک مومن کو قابل قبول نہیں -٠ ان نظاموں کو تسلیم کرنا ہی شرک اکبر ہے -قرآن میں الله کا فرمان ہے کہ :

    أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدً سوره النساء
    (اے نبی) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ جو (کتاب) تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں ان سب پر ایمان رکھتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ طاغوت (سرکش) کے پاس لے جا کر فیصلہ کرائیں- حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس سے اعتقاد نہ رکھیں اور شیطان (تو یہ) چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر رستے سے دور ڈال دے-

    بدقسمتی سے ہمارے سادہ لوح اہل سلف صرف قبر پرستی، غیر الله سے مانگنے یا اس کی نظرو نیاز کو ہی شرک سمجھتے ہیں- حقیقت یہ ہے کہ یہ اعمال شرک کی اقسام میں سے چند ایک اقسام ہیں - جب کہ باطل نظاموں کو اسلامی نظام پر فوقیت دینا یا اس کو تسلیم کرنا بھی شرک اکبر بلکہ کفر اکبر ہے- نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم صرف قبر پرستی یا اصنام پرستی کو ختم کرنے کے لئے معبوث نہیں ہوے تھے - بلکہ الله کے حکم سے تمام باطل نظاموں کی تنقیص اور ان کو ختم کرنے کے لئے معبوث ہوے تھے-

    اور الله نے آپ صل الله علیہ و آ له وسلم کی امّت کی فلاح کے لئے نظام خلافت کو ہی چنا- اس میں کوئی شک نہیں کہ قرون اولیٰ کو چھوڑ کر بعد کے ادوار میں باوجود نظام خلافت مسلمانوں میں ایک نظام کے طور پر موجود ہونے کے - لوگوں میں عیش پرستی اور دنیا پرستی کی بنا پر یہ نظام کمزور سے کمزور ہوتا چلا گیا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اس تاریخی حقیقت کو سامنے رکھ کر خلافت کے نظام کا ہی ماطلقا انکار کردیں اور جمہوریت کے کفر بواح ہونے کے باوجود اس کو نہ صرف بادل نا خواستہ تسلیم کرلیں بلکہ اس کو "خلافت: ایک سعی ناکام" کے نام پر زبردستی اس کو مشرف با اسلام کرنے کی کوشش کرنا شروع کردیں - جیسے ہمارے ہاں کی اکثر دینی جماعتیں بھی سیکولر جماعتوں کے دلفریب دام اور نعروں میں آکر آجکل یہی گل کھلاتی پھر رہی ہیں اور لوگوں کو یہی دھوکہ دیتی پھر رہی ہیں- کہ ہماری ہاں جمہوریت أَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ کے تحت عین اسلامی اصولوں پر استوار ہے- جب کے یہ عقل کے اندھے یہ نہیں جانتے کہ جمہوریت کا مطلب ہی یہی ہے کہ ہر معامله چاہے دینی ہو یا غیر دینی فیصلہ "جمہور" کا ہی مانا جائے گا- جب کہ أَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ کا مطلب تو یہ ہے کہ کسی معاملے کا فیصلہ مشوره سے کیا جائے - لیکن مشوره لینے والا اس بات کا پابند نہیں کہ وہ ہر صورت مشورہ دینے والے کی بات پر عمل کرے گا- وہ جب چاہے مشورے کو رد کرسکتا ہے -اس کی کئی مثالیں خود نبی کریم صل الله علیہ و آله وسلم اور صحابہ کرام رضوان الله اجمعین کے دور میں موجود رہیں- کہ جمہور کے مشورے کو رد کرکے فرد واحد کا فیصلہ مانا گیا- جب کہ مروجہ جمہوریت میں حرف آخر فیصلہ جمہور یعنی اکثریت کا ہوتا ہے- چاہے معامله کسی اسلامی قانون کے نفاذ کا ہی کیوں نہ ہو- پارلیمنٹ جب چاہے اس کو کالعدم قرا دے سکتی ہے - اور یہی کفر ہے -قران میں الله کا واضح فرمان ہے -

    وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ سوره المائدہ ٤٤
    اور جو بھی الله کے نازل کردہ احکامات کے مطابق حکم نہ دیں تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں-

    لیکن ہمارے نام نہاد مسلمان ان واضح آیات ربّانی کے باوجود یہود و نصاریٰ کی ترویج و تبلیغ سے متاثر جمہوریت کے غلاظت کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بناے ہوے ہیں- اور اس غلاظت سے نکلنا تو دور کی بات اس کوباطل قرار دینا بھی اپنے لئے جرم سمجھتے ہیں- اور پھر تان ٹوٹتی ہے تو اس بات پر کہ "خلافت: ایک سعی ناکام" ہے-

    کیا ہمیں الله کا یہ فرمان یاد نہیں کہ :
    الله اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو خود اپنی حالت بدلنے کے لئے کوشاں نہ ہوں-

    الله سب کو عمل کی توفیق عطا فرماے (آمین)-
    http://forum.mohaddis.com/threads/خلافت-ایک-سعی-ٔ-ناکام.27715/page-2#post-221147
     
  4. ضیاءرحمن

    ضیاءرحمن محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2008
    پیغامات:
    1,056
    افسوس ،کس خوبصورتی سے اہل سلف کو چندمسائل میں محدود کرکے دھوکہ دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔اہل سلف میں صحابہ کرام ، تابعین ،تبع تابعین بھی آتے ہیں ۔مگر تحریکیوں کے سلف بیسویں صدی سے شروع ہوتے ہیں ، دلائل میں کہیں بھی فرمان نبوی ﷺ ، کسی صحابی رسول کا اثر موجود نہیں ۔ قبرپرستی ، غیر اللہ سے مانگنا بھی شرک اکبر میں آتا ہے ۔ مگر یہ کام کون کرے گا ، کوئی بھی کرے ہماری بلا سے ۔ بریلوی ،قادیانیو،رافضیو تم سب آجا ؤ ۔ ہم سب ملکر اقامت دین کا کام کرتے ہیں ۔
     
    • ناپسندیدہ ناپسندیدہ x 1
  5. طارق اقبال

    طارق اقبال محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 3, 2009
    پیغامات:
    316
    استغفراللہ۔ اتنی احمقانہ ، بیوقوفانہ سوچ نظریے کو سلام ۔ حیرت ہے کہ ایسی گمراہ کن سوچ رکھنے والے بھی اہل حدیث‌کہلاتے ہیں‌ اور پھر بھی اپنے آپ کو صراط مستقیم کا راہی بتلاتے ہیں‌۔ اللہ ہم اہدنا الصرا ط المستقیم۔ آمین
     
    • ناپسندیدہ ناپسندیدہ x 1
  6. طارق اقبال

    طارق اقبال محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 3, 2009
    پیغامات:
    316
    اسلامی خلافت وریاست (نظامِ اقتدار) کی بنیاد رسول اللہﷺ کی سیاسی نیابت ہے، یعنی یہ ماننا کہ انفرادی اور اجتماعی تمام معاملات میں فیصلے اس بنیاد پر ہونگے کہ شارع کی رضا کیا ہے ، حکمران خود بھی اس پر عمل کرے گا اور عوام کو بھی عمل کرائے گا ۔ اس نیابت میں درجات کی مثال درحقیقت درجاتِ ایمان کی سی ہے ، یعنی جیسے مسلمانوں کے ایمان کے درجات ہوتے ہیں، کچھ وہ ہیں جنہیں ہم ابو بکر و عمر اورصحابہ کہتے ہیں؛ کچھ اس سے کم ایمان رکھتے ہیں، کچھ ہم جیسے کمزور ایمان والے ہیں، ان میں بھی کچھ کم درجے کے فاسق ہیں اور کچھ انتہا ئی درجے کے فاسق، لیکن اس کمی بیشئ درجات کے باوجود سب کے سب مسلمان ہی ہیں۔ گو کہ مطلوبِ اصلی تو صحابہ جیسا ایمان ہی ہے لیکن اس درجہ ایمانی سے کم ایمان والے لوگوں کو ہم مسلمان کہنے کے بجائے کچھ اور نہیں کہتے۔ بعینہٖ یہی معاملہ خلافت کا بھی ہے کہ اس میں ایک درجہ وہ ہے جسے ہم 'خلافت ِراشدہ' کہتے ہیں جو خلافتِ اسلامی کے اظہار کا بلند ترین درجہ تھا جبکہ اس کے بعد گو کہ خلافت تو موجود رہی مگر اس کے اظہار کا وہ معیاری درجہ مفقو دہوگیا۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ چونکہ خلافت راشدہ کے بعد خلافت کا آئیڈیل نظام باقی نہ رہا اور مطلوبِ اصلی وہی نظام ہے لہٰذا ہم بعد والے دور کو خلافت کے بجائے کسی اور نام (مثلاً مسلمانوں کی تاریخ) سے پکاریں گے تو یہ کہنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہے کہ چونکہ آئیڈیل اور مطلو ب ایمان تو صحابہ کا ہی تھا اور اس کے بعد مطلوب ایمان کا درجہ قائم نہ رہا لہذا ہم بعد والے لوگوں کو مسلمان کے علاوہ کچھ اور (مثلاً مسلمانوں جیسے) کہیں گے۔
    محمد نعیم یونس
     
  7. ضیاءرحمن

    ضیاءرحمن محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2008
    پیغامات:
    1,056
    اس طرح کے گفتار خلافت قائم کرنے والوں کے ہو سکتے ہیں. آپ نے اپنی جہالت کا عندیہ دے رہے ہیں. ہمیں تو دور ہی رکھیے. کیا ایسا نہیں کہ خلافت و ملوکیت لکھ کر شیعہ کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی؟؟
    اگر آپ کے پاس قرآن وحدیث، سلف سے کوئی ثبوت ہے کہ قبر پرستی اور شرک سے منع کرنے سے بڑا کام خلافت کا قیام ہے. تو پیش کریں..
     
  8. ضیاءرحمن

    ضیاءرحمن محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2008
    پیغامات:
    1,056
    اس اقتباس کا موضوع سے کوئی تعلق نہیں. کاپی پیسٹ نا کریں. پہلے اس کا تو تعین ہو جائے کہ خلافت کو دعوت توحید پر کیسے فوقیت حاصل ہے. اور قرآن و حدیث کی رو سے کیا حکم ہے؟ اپنے اقبال کی روشنی ڈالیں.
     
  9. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    469
    طارق اقبال صاحب! اپنا طرز تکلم بدلیں۔
    ’’ عقل کے اندھے‘ نا تاریخ کا علم اور انتہائی ناقص فہم دین ۔ بات کرنا بھی وقت کا ضیا ع ہے‘‘ ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
    یہ کیا کسی علمی بحث کا انداز ہے۔
    Please keep in mind; you are not dealing with laborers as per your profession.
    اور جمہوریت کے بارے میں ہمارے خیالات جانے بغیر آپ جو ہمیں عقل سِکھا رہے ہیں تو یہ عقل اپنے پاس ہی رکھئے۔
    اور یہ جان لیں کہ ’’ جمہوریت کو ہم بھی شرک اکبر سمجھتے ہیں۔‘‘
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں