طلاب حدیث رسول مقبول ﷺ توجہ فرمائیں !

عبد الرحمن یحیی نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏مئی 19, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,314
    طلاب حدیث رسول مقبول ﷺ توجہ فرمائیں !

    1 ۔ یہ ایک ایسی حدیث مبارکہ ہے جس کی سند میں چار صحابہ کرام رضی اللہ عنھم موجود ہیں :

    صحيح البخاري: كِتَابُ الأَحْكَامِ (بَابُ رِزْقِ الحُكَّامِ وَالعَامِلِينَ عَلَيْهَا)
    صحیح بخاری: کتاب: حکومت اور قضا کے بیان میں (باب : حکام اور حکومت کے عاملوں کا تنخواہ لینا)
    7163 . حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، ابْنُ أُخْتِ نَمِرٍ، أَنَّ حُوَيْطِبَ بْنَ عَبْدِ العُزَّى، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ السَّعْدِيِّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ فِي خِلاَفَتِهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّكَ تَلِيَ مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ أَعْمَالًا، فَإِذَا أُعْطِيتَ العُمَالَةَ كَرِهْتَهَا، فَقُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا تُرِيدُ إِلَى ذَلِكَ، قُلْتُ: إِنَّ لِي أَفْرَاسًا وَأَعْبُدًا وَأَنَا بِخَيْرٍ، وَأُرِيدُ أَنْ تَكُونَ عُمَالَتِي صَدَقَةً عَلَى المُسْلِمِينَ، قَالَ عُمَرُ: لاَ تَفْعَلْ، فَإِنِّي كُنْتُ أَرَدْتُ الَّذِي أَرَدْتَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي العَطَاءَ، فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا، فَقُلْتُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذْهُ، فَتَمَوَّلْهُ، وَتَصَدَّقْ بِهِ، فَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا المَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلاَ سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَإِلَّا فَلاَ تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ»
    حکم : صحیح

    7163 . ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبردی، انہیں زہری نے، انہیں نمر کے بھانجے
    سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے خبر دی ،
    انہیں سیدنا حویطب بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہ نے خبر دی ،
    انہیں سیدنا عبداللہ بن السعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
    وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے زمانہ خلافت میں آئے تو ان سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا ، کیا مجھ سے یہ جو کہا گیا ہے وہ صحیح ہے کہ تمہیں لوگوں کے کام سپرد کئے جاتے ہیں اور جب اس کی تنخواہ دی جاتی ہے تو تم اسے لینا پسند نہیں کرتے ؟ میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے ۔
    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہارا اس سے مقصد کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میرے پاس گھوڑے اور غلام ہیں اور میں خوشحال ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ میری تنخواہ مسلمانوں پر صدقہ ہوجائے۔
    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو کیوں کہ میں نے بھی اس کا ارادہ کیا تھا جس کا تم نے ارادہ کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطا کرتے تھے تو میں عرض کردیتا تھا کہ اسے مجھ سے زیادہ اس کے ضرورت مند کو عطا فرما دیجئے ۔ آخر آپ ﷺ نے ایک مرتبہ مجھے مال عطا کیا اور میں نے وہی بات دہرائی کہ اسے ایسے شخص کو دے دیجئے جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے لو اور اس کے مالک بننے کے بعد اس کا صدقہ کرو ۔
    یہ مال جب تمہیں اس طرح ملے کہ تم اس کے نہ خواہشمند ہو اور نہ اسے مانگا تو اسے لے لیا کرو اور اگر اس طرح نہ ملے تو اس کے پیچھے نہ پڑا کرو ۔
    امام نووی رحمہ اللہ شرح صحیح مسلم میں اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں :

    وهذا الحديث فيه أربعة صحابيون يروي بعضهم عن بعض وهم : عمر ، وابن السعدي وحويطب ، والسائب رضي الله عنهم ، وقد جاءت جملة من الأحاديث فيها أربعة صحابيون يروي بعضهم عن بعض ، وأربعة تابعيون بعضهم عن بعض .
    '' اس حدیث کی سند میں چار صحابی ایک دوسرے سے روایت کر رہے ہیں اور وہ ہیں :
    سیدنا عمر ، سیدنا ابن سعدی ، سیدنا حویطب اور سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنھم ،
    اور اس طرح کئی حدیثیں ہیں جن میں چار صحابی اور چار تابعی ایک دوسرے سے روایت کرتے ہیں ۔''

    صحيح مسلم » كتاب الزكاة » باب إباحة الأخذ لمن أعطي من غير مسألة ولا إشراف

    2 ۔ یہ ایک ایسی روایت ہے جس کی سند میں چار صحابیات رضی اللہ عنھن موجود ہیں :

    صحيح مسلم: كِتَابُ الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ (بَابُ اقْتِرَابِ الْفِتَنِ وَفَتْحِ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ)
    صحیح مسلم: کتاب: فتنے اور علامات ِقیامت (باب: فتنے قریب آگئے ،یاجوج ماجوج کی دیوار کھل گئی)
    7235 . حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ مِنْ نَوْمِهِ وَهُوَ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدْ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ وَعَقَدَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ عَشَرَةً قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ قَالَ نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ
    حکم : صحیح

    7235 . عمرو ناقد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عروہ سے ، انھوں نے
    سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ،
    انھوں نے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے
    اور انھوں نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نیند سے بیدار ہوئے
    جبکہ آپ ﷺ فرما رہے تھے : " اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ، عرب اس شر کی وجہ سے ہلاک ہوگئے جو قریب آپہنچا ہے ۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں سے اس قدر جگہ کھل گئی ہے ۔ "
    اور سفیان نے اپنے ہاتھ سے دس کا اشارہ بنایا ۔
    (سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے) کہا : میں نے عرض کی : ہم میں نیک لوگ موجود ہوں گے،پھر بھی ہم ہلاک ہوجائیں گے؟
    فرمایا: " ہاں جب شر اور گندگی زیادہ ہوجائے گی ۔"
    7235 : کی سند میں تین صحابیات ہیں لیکن امام مسلم رحمہ اللہ نے اس سے اگلی حدیث کی سند میں چار صحابیات رضی اللہ عنھن کا ذکر کیا ہے :

    صحيح مسلم: كِتَابُ الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ (بَابُ اقْتِرَابِ الْفِتَنِ وَفَتْحِ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ)
    صحیح مسلم: کتاب: فتنے اور علامات ِقیامت (باب: فتنے قریب آگئے ،یاجوج ماجوج کی دیوار کھل گئی)
    7236 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَسَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادُوا فِي الْإِسْنَادِ عَنْ سُفْيَانَ فَقَالُوا عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ حَبِيبَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ
    حکم : صحیح

    7236 . ابو بکر بن ابی شیبہ ، سعید بن عمرو اشعشی ، زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی، انھوں نے کہا : ہمیں سفیان نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انھوں نے سفیان سے بیان کردہ روایت کی سند میں مزید کہا : سیدہ زینب بنت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سیدہ حبیبہ رضی اللہ عنھا سے ، انھوں نے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ۔

    3 ۔ اس حدیث مبارکہ کی سند میں چار تابعی رحمھم اللہ موجود ہیں :

    صحيح مسلم: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ)
    صحیح مسلم: کتاب: روزے کے احکام و مسائل (باب: اس آدمی کے لیے روزے کے دوران میں بیوی کا بو سہ لینا حرام نہیں جس کی شہوت کو تحریک نہ ملتی ہو)
    2581 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَخْبَرَتْهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ»
    حکم : صحیح

    2581 . ابو بکر ابن ابی شیبہ،،حسن بن موسیٰ ، شیبان، یحییٰ ابن ابی کثیر، ابی سلمہ ، عمر بن عبدالعزیز، عروہ بن زبیر،
    ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خبر دیتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں میرا بوسہ لے لیا کرتے تھے ۔
    امام نووی رحمہ اللہ شرح صحیح مسلم میں اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں :

    هذا الإسناد فيه أربعة تابعيون بعضهم عن بعض ، وهم يحيى وأبو سلمة وعمر وعروة رضي الله عنهم .
    اس سند میں چار تابعی ایک دوسرے سے روایت کر رہے ہیں اور وہ ہیں :
    یحییٰ ابن ابی کثیر ، ابو سلمہ ، عمر بن عبدالعزیز اور عروہ بن زبیر رحمھم اللہ

    صحيح مسلم » كتاب الصيام » باب بيان أن القبلة في الصوم ليست محرمة على من لم تحرك شهوته
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,867
    جزاك الله خيرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں