روزہ کے اثرات قوم اور سماج پر

یاسر اسعد نے 'ماہِ رمضان المبارک' میں ‏جون 6, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. یاسر اسعد

    یاسر اسعد Inactive Member

    شمولیت:
    ‏مارچ 2, 2011
    پیغامات:
    3
    روزہ کے اثرات قوم اور سماج پر

    روزہ اسلامی عبادات میں سے ایک اہم اور عظیم الشان عبادت ہے جس میں طلوع فجر سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور جنسی عمل سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ اس عبادت کے ذریعہ انسان اپنے خالق ومالک کا قرب حاصل کرتا ہے اور ساتھ ہی بہت ساری غلط عادات واعمال سے نجات بھی پاتا ہے۔
    تقوی ۔یعنی اللہ کا خوف۔ روزہ کی روح ہے اور روزہ کا اصل مقصد ہے۔ اگر انسان دن بھر بھوک پیاس برداشت کرتارہے لیکن اس کے حالات میں کوئی تبدیلی نہ آئے، اس کے اخلاق وکردا رپر روزے کا کوئی اثر نہ ہو تو یہ صرف پیٹ کا روزہ ہوا جس کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی ایسے روزے سے شریعت کو کوئی مطلب ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی روزہ بھی رکھتا ہے اور غیبت اور چغلی بھی کرتا رہتا ہے، یا روزہ رکھنے کے باجود جھوٹ بھی بولتا ہے، لغو اور بیہودہ باتیں بولتا ہے، لڑائی جھگڑا کرتا ہے، خرید وفروخت میں بے ایمانی کرتا ہے، ڈنڈی مارتا ہے، جھوٹی قسمیں کھاتا ہے، اجنبی عورتوں کو گھورتا ہے، ان سے دست درازی کرتا ہے وغیرہ وغیرہ، تو ایسا روزہ دار روزے کے تقاضے کو پس پشت ڈالتا ہے۔ اس نے روزے کی روح کو مجروح کیا اور روزے کے مقصد ہی کو فوت کردیا۔ ایسا روزہ اور ایسی عبادت حقیقت میں عبادت نہیں بلکہ عبادت کے ساتھ ایک طرح کا مذاق ہے۔
    اسلام میں روزے کی فرضیت کے ساتھ ساتھ اس کے مقاصد کو برتنے کی خاص طور سے بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ چنانچہ نبی اکرم جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    ’’جب کوئی شخص روزے سے ہو تو بیہودہ بات نہ بولے، شوروہنگامہ نہ کرے، اور اگر کوئی اس سے گالی گلوچ کرے یا لڑائی جھگڑا کرے تو اس سے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔‘‘ (بخاری ومسلم)
    ایک دوسری حدیث میں آپ نے فرمایا:
    ’’جو شخص جھوٹ بولنا نہ چھوڑے اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو ایسے شخص کا اپنا کھانا پینا چھوڑنے کی اللہ کو کوئی حاجت نہیں۔‘‘ (بخاری)
    اسی طرح نبی اکرم ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ:
    ’’کتنے روزہ دار ایسے ہوتے ہیں جن کو سوائے بھوک پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور کتنے تہجد گزار ایسے ہوتے ہیں جن کو سوائے شب بیداری کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘ (ابن ماجہ)
    ان تمام احادیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ روزہ میں نفس کو کنٹرول کرنا ضروری ہے اور ہر طرح کی برائی اوربے حیائی کے کاموں سے پرہیز لازمی ہے۔ روزہ انسان کو یہی سکھانا چاہتا ہے اور اسی کی تربیت دینا چاہتا ہے۔ قرآن میں روزہ کے تمام مقاصد کا خلاصہ ایک لفظ میں بیان کردیا گیا ہے اور وہ ہے ’’تقویٰ‘‘، یعنی پرہیز، اجتناب، احتیاط۔
    اس تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ روزہ سماج میں اور وطن میں خیر سگالی اور امن وشانتی قائم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ جب انسان روزہ رکھتا اور بھوک پیاس برداشت کرتا ہے تو اسے سماج کے غریبوں اور محتاجوں کے درد کا احساس ہوتا ہے جو اکثر اوقات بھوک سے دوچار رہتے ہیں۔لہٰذا یہ روزہ داران کی بھوک مٹانے کے بارے میں سوچتاہے اور ان کی مدد کرتا ہے۔ اسی طرح روزہ دار جب جھوٹ، بے ایمانی، بدگوئی، غیبت، چغلی، لڑائی جھگڑا وغیرہ سے پرہیز کرتا ہے تو معاشرہ میں اس کا اثر ہوتا ہے، سچائی کو فروغ ملتا ہے، لڑائی جھگڑے کم ہوتے ہیں اور امن وشانتی کا ماحول قائم ہوتا ہے اور ترقی کے دروازے کھلتے ہیں۔
    ایسے سماج میں عورتیں محفوظ ہوتی ہیں، ان سے چھیڑ چھاڑ کے واقعات کم ہوتے ہیں۔ تجارت اور کاروبار میں بے ایمانی نہیں ہوتی، ڈنڈی مارنے اور ناپ تول میں کمی کرنے سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ لوٹ مار، چوری ڈکیتی تو بہت دور کی بات ہے۔
    اس اعتبار سے دیکھا جائے تو روزہ محض ایک انفرادی عبادت نہیں جس کے اثرات روزہ دار تک محدود رہیں اور قوم اور سماج کو یا ملک کو اس سے کوئی فائدہ نہ ہو۔ بلکہ روزہ کا فائدہ خود روزہ دار کو بھی ہوتا ہے اور ملک وملت کو بھی ہوتا ہے۔
    لیکن ان سب چیزوں کا دارومدار اس بات پر ہے کہ روزہ رکھنے والے کہاں تک روزے کے مقصد کو ملحوظ رکھتے ہیں اور کہاں تک اس کے تقاضوں کی رعایت کرتے ہیں۔ اگر وہ صرف پیٹ کا روزہ رکھتے ہیں اور اخلاق وکردار کی اصلاح پر توجہ نہیں دیتے اور برائیوں سے پرہیز نہیں کرتے تونہ تو انہیں ان کے خالق ومالک کا تقرب حاصل ہوگا، نہ ہی اپنے نفس کی تر بیت ہوگی اورر نہ ہی قوم اور سماج کو اس سے کوئی فائدہ حاصل ہوگا۔
    لہٰذا تمام روزہ داروں سے یہی گزارش ہے کہ ایک ماہ کی اس ریاضت کے حقیقی مقصد کو سمجھنے اور برتنے کی کوشش کریں۔ اس عبادت وریاضت کے اثرات کو اپنے اندر بھی ٹٹولیں اور سماج پر اس سے مرتب ہونے والے آثار اور نتائج کو بھی نظر انداز نہ کریں۔

    اسعد اعظمی
    استاذ جامعہ سلفیہ بنارس
    چیف ایڈیٹر عربک میگزین صوت الامہ
    ۲؍جون ۲۰۱۷ء= ۶؍رمضان المبارک ۱۴۳۸ھ
     
    Last edited by a moderator: ‏مئی 18, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں