تدبر قرآن ... کیوں اور کیسے؟*

ابوعکاشہ نے 'قرآنی الفاظ ، اصطلاحات ، تراکیب و تراجم' میں ‏جون 8, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,154
    تدبر قرآن ... کیوں اور کیسے؟*

    تحریر : إبراهيم بن عبد الرحمن التركي
    ترجمہ : شاہد سنابلی

    قرآن پوری انسانیت کا ہادی و رہبر اور زندگی کا نور و دستور ہے، انسانی ضروریات کی ساری تفصیلات کو اللہ تعالٰی نے قرآن کے اندر وضاحت کے ساتھ یا اشارے و کنائے میں بیان کر دیا ہے خواہ کسی کو اس کا علم ہو یا نہ ہو.
    اسی لئے صحابہ کرام اور تابعین قرآن کو پڑھنے یاد کرنے اس کی آیات کو سمجھنے، غور و فکر کرنے اور ان پر عمل کرنے کا خاص اہتمام کرتے تھے، یہی حال اور یہی معمول دیگر تمام سلف صالحین کا تھا. بعد کے زمانے میں جس قدر امت کے اندر کمزوری آتی گئی قرآن کے ساتھ اس خاص تعلق و اہتمام سے لوگ دور ہوتے چلے گئے اور اکثر مسلمان قرآن کو بلا سمجھے صرف تلاوت کرنے اور تجوید کے ساتھ یاد کرنے کی طرف توجہ دینے لگے جس کے نتیجے میں لوگوں نے قرآن پر عمل کرنا ترک کر دیا یا عملی زندگی میں کمی اور کوتاہی در آئی حالانكہ اللہ تعالى نے قرآن کو نازل فرمایا اور ہمیں اس میں غور و فکر کا حکم دیا اور خود اس کی حفاظت کی ذمے داری لی لیکن ہم قرآن کو صرف حفظ کرنے میں مصروف ہو گئے اور اس ميں غور و تدبر کرنا چهوڑ دیا. (حول التربية والتعليم د/عبد الكريم بكار ص 226)
    واضح رہے یہاں یہ پیغام دینا مقصود نہيں ہے کہ قرآن کو حفظ کرنے اسے تجوید کے ساتھ پڑھنے اور تلاوت کرنے کو ترک کر دیا جائے، بلاشبہ یہ بہت بڑے اجر و ثواب کا کام ہے، بلکہ یہاں یہ پیغام دینا مقصود ہے کہ ایک طرف حفظ و تجوید کی رعایت کرتے ہوئے غور و فکر کے ساتھ تلاوت کی جائے اور دوسری طرف اسے عملی زندگی میں نافذ کیا جائے جیسا کہ سلف صالحین کا طریقہ کار تھا.
    اسی لئے ذیل کے سطور میں قرآن و سنت کے نصوص اور سلف صالحین کی سیرت کی روشنی میں کچھ چیزیں ذکر کی جا رہی ہیں جن سے قرآن میں غور و تدبر کی اہمیت کا اندازہ ہوگا.

    *تدبر کا مفہوم:*
    1- معانی و مطالب تک رسائی کے لئے طویل غور و خوض اور فہم و ادراک کے لئے مکمل ترکیز.
    2- تمام نواحی پر مشتمل ایسی تفکیر جو الفاظ کے عمیق و دور رس معانی تک پہونچائے. (قواعد التدبر الأمثل للميداني ص 10)

    *قرآنی آیات کی روشنی میں غور و تدبر کا مقام*

    1- ارشاد باری تعالٰی ہے :
    كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (ص - الآية 29)
    یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور و فکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں۔
    وجہ استدلال: اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے قرآن مجید کے اتارنے کا اصل مقصد یہ بتایا کہ اس میں غور و تدبر کیا جائے اور اس سے عبرت و نصیحت حاصل کی جائے نہ کہ صرف زبانی تلاوت. اگرچہ تلاوت کا بھی بڑا اجر و ثواب ہے.
    حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اللہ کی قسم! قرآن میں غور و فکر اسے نہیں کہتے کہ اس کے حروف کو تو یاد کیا جائے مگر اس کے حدود کو پامال کیا جائے، یہاں تک کہ بعض لوگ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ میں نے پورا قرآن ختم کر لیا جبکہ ان کے اخلاق و کردار میں قرآن کا کوئی اثر دکھائی نہيں دیتا. (تفسیر ابن کثیر 7/64)

    2- ارشاد باری تعالٰی ہے :
    اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ .... (سورة النساء 82 )
    کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟
    ابن کثیر رحمہ فرماتے ہیں : اس آیت ميں اللہ تعالى نے اپنے بندوں کو قرآن میں غور و فکر کرنے اور اسے سمجھنے کا حکم دیا ہے اور اس کے الفاظ و معانی کو نہ سمجھنے اور اس سے اعراض کرنے سے منع فرمایا ہے، آیت کریمہ کے اس حکم سے صاف واضح ہے کہ قرآن میں غور و تدبر واجب ہے. (تفسیر ابن کثیر 3/364)
    3- آیت کریمہ ہے : الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ (البقرة - الآية 121)
    جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے ، وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے ۔ وہ اس پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں ۔ اور جو اس کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کریں ، وہی اصل میں نقصان اٹھانے والے ہیں۔
    ابن کثیر رحمہ اللہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ وه فرماتے ہیں : قسم اس ذات کی جس کے ہاتهہ میں میری جان ہے قرآن کی کما حقہ تلاوت یہ ہے کہ بنده قرآن کی حلال کردہ چیزوں کو حلال اور حرام کرده چیزوں کو حرام سمجھے اور اس کو ویسے ہی پڑھے جیسے اللہ تعالى نے اسے اتارا ہے. (تفسیر ابن کثیر 1/403)
    امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہاں تلاوت کرنے کا مطلب اس پر عمل کرنا ہے(فتح القدير 1/135)
    اور بغیر سمجھے قرآن پر عمل کرنا ممکن نہیں.

    3- ارشاد ربانى ہے : وَ مِنۡهُمۡ اُمِّیُّوۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ الۡکِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنۡ هُمۡ اِلَّا یَظُنُّوۡنَ ( سورة البقرة 78)
    ان میں سے بعض ان پڑھ ایسے بھی ہیں جو کتاب کے صرف ظاہری الفاظ کو ہی جانتے ہیں صرف گمان اور اٹکل ہی پر ہیں ۔
    امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ایک قول کے مطابق یہاں "امانی" کا مطلب تلاوت ہے یعنی انہیں کتاب کی صرف زبانی تلاوت معلوم ہے وه کتاب کو سمجھنا اور اس ميں غور و فکر کر کے پڑھنا نہيں جانتے. (فتح القدير 1 / 156)
    ابن قيم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہاں اللہ تعالى نے اپنی کتاب کو بدلنے والوں کی اور ایسے ان پڑھ لوگوں کی مذمت کی ہے جو صرف لفظی تلاوت کے سوا اور کچھ نہیں جانتے. (بدائع التفسير 1/300)
    5- آیت کریمہ ہے : وَ قَالَ الرَّسُوۡلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوۡمِی اتَّخَذُوۡا هذَا الۡقُرۡاٰنَ مَهجُوۡرًا (سورة الفرقان 30)

    اور رسول کہیں گے کہ اے میرے پروردگار! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا ۔
    ابن کثیر رحمہ فرماتے ہیں : قرآن میں غور و تدبر نہ کرنا اور اس کو سمجھ کر نہ پڑھنا بھی گویا قرآن کو ترک کرنا اور اسے بالائے طاق رکھنا ہے. (تفسیر ابن کثیر 6/108)
    ابن قيم رحمہ اللہ نے قرآن کو چھوڑے رکھنے کی کئی اقسام بیان کی ہیں چنانچہ فرماتے ہیں : چوتھی قسم یہ ہے کہ بنده قرآن میں غور و فکر کرنا اور اسے سمجھ کر پڑھنا چهوڑ دے اور قرآن کے ذریعے اللہ تعالى کا کیا مطالبہ ہے اسے جاننے کی کوشش نہ کرے. (بدائع التفسير 2/292)

    *تدبر قرآن کی اہمیت و فضیلت احادیث مبارکہ کی روشنی میں*
    1- عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : .... وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ )
    جو لوگ اللہ کے گھر میں بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور اسے سمجھ کر پڑھنے پڑھانے اور مذاکرہ کرنے کا اہتمام کرتے ہیں تو ایسے لوگوں پر اللہ کی طرف سے سکون و اطمینان کا نزول ہوتا ہے، رحمت الہی انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے انهیں اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے پاس موجود فرشتوں کے درمیان ان کا ذکر خیر فرماتے ہیں.
    (صحیح مسلم حدیث نمبر 2699)
    یہاں اس حدیث میں قابل غور بات یہ ہے کہ مذکورہ فضیلتیں یعنی سکون و اطمینان کا نزول، رحمت الہی کا ڈھانپنا اور فرشتوں کے درمیان ذکر خیر یہ سب اس تلاوت کے بدلے میں ہے جس تلاوت میں سمجھنا اور غور و فکر کرنا شامل ہو. مگر آج کل ہماری صورتحال یہ ہے کہ ہم حدیث کے صرف ایک ٹکڑے پر عمل کرتے ہیں یعنی تلاوت، جبکہ سمجھ کر پڑهنے پڑھانے اور غور و تدبر کرنے کو بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے حفظ قرآن میں زیادہ وقت لگے گا اور تلاوت کی مقدار میں کمی آئے گی لہذا اس کی کوئی ضرورت نہيں.
    2- حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة . فافتتح البقرة . فقلت : يركع عند المائة . ثم مضى . فقلت : يصلي بها في ركعة . فمضى . فقلت : يركع بها . ثم افتتح النساء فقرأها . ثم افتتح آل عمران فقرأها . يقرأ مترسلا . إذا مر بآية فيها تسبيح سبح . وإذا مر بسؤال سأل . وإذا مر بتعوذ تعوذ .
    حذیفہ رضی اللہ عنہ کی ایک لمبی روایت ہے جس میں وه آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور قرأت کا آنکهوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات نماز ادا كى تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹَھَہر ٹَھَہر کَر پڑھ رہے تھے، جب تسبیح کی آیت سے گزرتے تو سبحان الله کہتے، دعاء کی آیت پڑھتے تو دعاء مانگتے اور جب پناہ مانگنے والی آیت ہوتی تو پناہ مانگتے.
    (صحیح مسلم حدیث نمبر 772)
    پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس واقعے سے تدبر قرآن کا ایک عملی نمونہ ملتا ہے.
    3- ابو ذر رضى اللہ عنہ کی روایت :
    قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِآيَةٍ حَتَّى أَصْبَحَ يُرَدِّدُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَالْآيَةُ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118.
    ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز میں کھڑے ہوئے، اور ایک آیت کو صبح تک دہراتے رہے، اور وہ آیت یہ تھی: «إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم» اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو ان کو بخش دے، تو تو عزیز ( غالب ) ، اور حکیم ( حکمت والا ) ہے ( سورة المائدة: 118 ) ۔
    (سنن ابن ماجہ حديث نمبر 1350)
    یہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو غور و تدبر کے ساتھ پڑھنے کو کثرت تلاوت پر ترجیح دیتے تھے یہاں تک کہ بسا اوقات ایک آیت پڑھتے ہوئے پوری رات گزار دیتے تھے.
    4- ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے :ہم لوگ دس آیتیں سیکھتے تھے پھر آگے اس وقت تک نہیں بڑھتے تھے جب تک ان دس آیات کے معانی سمجھ نہ لیتے اور ان پر عمل کرنا نہ سیکھ لیتے . ( رواه الطبري في تفسيره 1/80)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں