کتے کی تخلیق

سیما آفتاب نے 'ضعیف اور موضوع احادیث' میں ‏جون 21, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    454
    کتے کی تخلیق:

    مذاہب کی قدیم کتابوں کے مطابق ابلیس یعنی شیطان جن تھا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی عبادت کے باعث اسے فرشتوں میں شامل کر لیا بعدازاں اس کی ریاضت کا سلسلہ جاری رہا‘ اس کائنات کا کوئی ایسا چپہ‘ کوئی ایساٹکڑا نہیں تھا جس پر ابلیس نے سجدہ نہ کیا ہو‘ یہ ان سجدوں‘ ان ریاضتوں اور ان عبادتوں کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو فرشتوں کا سردار بنا دیا۔ لیکن پھر شیطان غرور کا شکار ہوگیا اور اس نے مٹی کے پتلے یعنی آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا اور یہاں سے خیر اور شر کی طاقتوں کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا۔قدیم صحائف میں لکھا ہے کہ جب شیطان کو حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو اس نے حضرت آدم ؑ پر حقارت سے تھوک دیا تھا‘ شیطان کا تھوک حضرت آدم ؑ کے پیٹ پر گرا تھا بعدازاں اللہ تعالیٰ نے حضر ت جبرائیل ؑ کو تھوک والی مٹی نکالنے کا حکم دیا‘ حضرت جبرائیل ؑ نے یہ مٹی نکالی تو حضرت آدم ؑ کے پیٹ پر ایک چھوٹا ساسوراخ بن گیا ‘ یہ سوراخ ناف کی شکل میں آج بھی ہمارے پیٹ پر موجود ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ناف کی مٹی سے بعدازاں کتا بنایا تھا‘کتے میں تین خصلتیں ہوتی ہیں‘ یہ انسان سے محبت کرتا ہے‘ کیوں؟ کیونکہ یہ انسان کی مٹی سے بنا تھا‘ یہ رات کو جاگتا ہے‘ کیوں؟ کیونکہ اسے حضرت جبرائیل ؑ کے ہاتھ لگے تھے اور یہ انسان پر بھونکتا ہے‘ کیوں؟ کیونکہ اس میں شیطان کا تھوک شامل ہے۔آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کتا دنیا کی واحد مخلوق ہے جو شیطان کو دیکھ سکتی ہے‘ شائد یہی وجہ ہے رات کے اندھیرے میں جب شیطانوں کے قافلے آسمانوں سے اترتے ہیں توکتے اوپر دیکھ کر ایک خوفناک آواز نکالتے ہیں۔
    زیرو پواینٹ سے اقتباس......

    کیا یہ بات قرآن و حدیث سے ثابت ہے؟ میری عقل تسلیم نہیں کرتی کیونکہ قدیم صحائف تو تحریف شدہ ہیں تو پھر ان کی بات پہ آنکھ بند کرکے کیسے اعتبار کیا جا سکتا ہے۔

    برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,180
    دیر سے جواب کی معذرت قبول کیجیے۔ اگر آپ یہ زمرہ سوال وجواب میں پوسٹ کرتیں تو جواب جلدی ملتا۔
    اس طرح کی خرافات رافضہ کے ہاں کثرت سے ملتی ہیں۔ بعض لوگ اسے انجیل برناباس کے حوالے سے نقل کرتے ہیں۔ احادیث کے اسلامی ذخیرے میں ایسی کوئی روایت ثابت نہیں۔ ایک روایت جو کسی رافضی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کی ہے وہ یوں ہے:
    حدثنا أحمد بن محمد بن محمد بن عيسى عن علي بن أبي طالب عليه السلام: ان النبي صلى الله عليه وآله سئل مما خلق الله تعالى الكلب، قال: خلقه من بزاق إبليس، قيل: وكيف ذاك يا رسول الله؟ قال: لما أهبط الله تعالى آدم وحواء إلى الأرض أهبطهما كالفرخين المرتعشين، فعدا إبليس الملعون إلى السباع وكانوا قبل آدم في الأرض فقال لهم: ان طيرين قد وقعا من السماء لم ير الراؤن أعظم منهما، تعالوا فكلوهما فتعادت السباع معه وجعل إبليس يحثهم ويصيح ويعدهم بقرب المسافة فوقع من فيه من عجلة كلامه بزاق فخلق الله تعالى من ذلك البزاق كلبين أحدهما ذكر والآخر أنثى.
    یہ بالکل من گھڑت ہے۔ یہاں ایک شیعہ ذاکر کوسنا جا سکتا ہے جو اس جھوٹ کو پھیلا رہا ہے۔
    آپ نے لکھا ہے زیروپوائنٹ سے اقتباس کیا آپ بتا سکتی ہیں یہ کتاب ہے یا کالم؟ اور مصنف کون ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,218
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,180
    وایاکم، تاریخ اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں