کیا انسان کا ساتھی شیطان (قرین) اس کے روپ میں آ کر شرارتیں کر سکتا ہے؟

عائشہ نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏جولائی 3, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    گزشتہ دنوں یہ بات سنی کہ ہر انسان کا ساتھی جن ـ جسے قرآن مجید میں قرین کہا گیا ہےـ اس کے مرنے کے بعد اس کی صورت میں چلنے پھرنے جیسی شرارتیں کر سکتا ہے۔ قرآن وحدیث کے لحاظ سے یہ بات ثابت نہیں اس لیے اس کا درجہ محض وہم ہے۔ علمائے کرام کے مطابق انسان کا قرین یعنی شیطان صرف بہکانے یا وسوسے کا اختیار رکھتا ہے۔ یعنی وہ آپ کے گھر میں واک اور ایکسرسائز نہیں کر سکتا صرف آپ کو گانے یا فلمیں دیکھنے جیسے مشورے دے سکتا ہے جس پر کان دھرنا نہ دھرنا آپ کا اختیار ہے۔ اس لیے بے فکر ہو جائیے۔ اور دین کے مستند علم کی نعمت پر اللہ کا شکر ادا کیجیے جس نے ہمیں ہر توہم سے آزاد کر رکھا ہے۔ مزید مطالعے کے لیے مستند ربط حاضر ہے۔https://islamqa.info/ar/149459


     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. شرجیل احمد

    شرجیل احمد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جون 19, 2017
    پیغامات:
    56
    "قرین" کو عامل حضرات "ہمزاد" کہتے ہیں اور اس کی تسخیر کے لیے مختلف چلّے موجود ہیں۔ بقول ایک عامل صاحب کے اپنی جوانی کے ایام میں انھوں نے اپنے ہمزاد کو تسخیر کیا تھا جو ان کی جسمانی صورت اختیار کر کے گھر اور باہر کے کام کر دیا کرتا تھا۔ موصوف نے مبالغہ آرائی کی آخری حدوں کو کراس کرتے ہوئے بتایا کہ ۱۹۸۳ میں جب وہ حج کے لیے گئے تو واپسی پر لوگوں نے انھیں بہت بڑا پیرومرشد قرار دیا کہ جو ایک ہی وقت میں دو مختلف جگہوں پر موجود تھے۔ تاہم کسرِنفسی کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے لوگوں کے سامنے ہمزاد کو اپنا جڑواں بھائی قرار دیا جسے ان کے والدین نے بچپن میں اپنے بے اولاد رشتے دار کو دے دیا تھا۔

    تاہم میری اپنی ذاتی تحقیق میں یہ بات اور اس سے ملتی جلتی دیگر باتیں مبالغہ آرائی اور محض شعبدہ بازی معلوم ہوتی ہیں۔ میرے بار بار اصرار کے باوجود عامل صاحب اپنے پرانے محلے یا کسی محلے دار کا پتہ بتانے سے کتراتے رہے۔

    بہرصورت قرآن و حدیث ہر لحاظ سے مقدم ہیں۔
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جب قرین کا ذکر ہوا تو مجھے خیال آ رہا تھا کہ اب ہمزاد تک بات پہنچے گی، اردو ادب میں رافضی اور صوفی کہانی کاروں نے اس کا اتنا ہوا بنا رکھا ہے کہ نو عمر لوگوں میں پریوں کے بعد سب سے زیادہ مقبول چیز ہم زاد ہے۔ لفظی ترجمہ کی حد تک لفظ ہم زاد ٹھیک ہے لیکن قرین کے معاملے میں حق صرف وہ ہے جو قرآن وسنت میں آیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. شرجیل احمد

    شرجیل احمد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جون 19, 2017
    پیغامات:
    56
    درست فرمایا۔
    درحقیقت قرآن پاک اور احادیث کی تفسیروتشریح کو اپنے مفادات کے لیے غلط رنگ دینے کا وطیرہ ہمیشہ ہی سے رہا ہے اور ایسا ہی "قرین" کے معنوں میں بھی کیا جاتا رہا ہے۔ عاملین حضرات اپنے شیطانی عملیات کو جائز ثابت کرنے کے لیے، اور بالخصوص تسخیرہمزاد کے عمل کی توجیح "قرین" سے کرتے ہیں کہ جس کا ذکر قرآن میں ہو وہ کیسے سفلی عمل ہو سکتا ہے۔ استغفراللہ ، کس طرح یہ لوگ قرآن سے اپنا مطلب اخذ کرتے ہیں۔ میں نے سوال کیا کہ ہمزاد کیا ہوتا ہے تو جواب دیا کہ وہ جنّ ہوتا ہے۔ میں نے سورہ جنّ کی آیہ ۶ بمع ترجمہ پڑھ دی:
    وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا
    "اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ لیتے تھے جس سے ان کا غرور اور بھی بڑھا۔"
    اس کی مستند تفسیر پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ جنوں سے مدد لینا گناہ کبیرہ ہے جس کی سختی سے ممانعت وارد ہوئی ہے اور تسخیرہمزاد کا مطلب جنّ قابو کرنا ہے اور قابو کیوں کیا جاتا ہے، ظاہر ہے اس سے مدد لینے کے لیے ہی قابو کیا جاتا ہے۔ عامل صاحب کو جب اپنی دکان داری خطرے میں لگی تو وقتی طور پر متفق ہو گئے۔
     
    • متفق متفق x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں