خاتون اور گھریلو زندگي

بابر تنویر نے 'پیغام ٹی وی' میں ‏جولائی 15, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
     
    • مفید مفید x 2
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,432
    مفید ہے. اسکالر کا نام اور موضوع بھی لکھنا چاہے. شاید کنول قیصر صاحبہ ہیں. واللہ اعلم .
    اچھی بات یہ ہے کہ خاتون خانہ کی اصلاح کی کوشش کی جارہی ہے. سوال بھی ان کا تھا. گویا کہ اصلاح یا ہدایت کی ضرورت ہر حالت میں باقی رہتی ہے چاہے، آپ جتنے مذہبی اور ثابت قدم ہو جائیں.
    لہسن پیاز سے پرہیز کا مشورہ درست اور دلچسپ ہے.
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جن لوگوں سے دینی نظریات میں اتنا فرق ہو کہ حلال و حرام کی پرواہ نہ کی جاتی ہو وہاں شادی کرنی ہی نہیں چاہیے۔ اگر کوئی لڑکی شادی کے بعد مذہب کی طرف راغب ہوئی ہے تو پھر اس کی واقعی ہمت ہے کہ وہ اپنا ماحول بدلنے کی کوشش کرے۔
     
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,432
    ڈاکٹر کنول قیصر صاحبہ کو چاہیے تھا کہ لڑکی کے والدین کو مشورہ دیتیں کہ وہ اپنی بیٹی سے خلع پر بات کریں. کیونکہ یہ محض کوشش ہے کہ شاید وہ لڑکا سیدھی راہ پر آجائے. ورنہ یہ اتنا آسان نہیں. مگر انہوں نے شوہر کی شریک حیات بننے کے مزید مشورے دیے. تاکہ گھر خراب نا ہو. اگر وہ اس کے علاوہ کوئی اور مشورہ دیتی تو والدین ناراض ہو سکتے تھے. اور شاید دیگر سامعین بھی برا محسوس کرتے. گویا کہ طلاق ، خلع وغیرہ ناگزیر صورت میں جائز ہیں. ورنہ نہیں.
     
  5. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جی جی بالکل انہیں ایسا کرنا چاہیے تھا۔ بلکہ شادی سے پہلے ہی اسے بتا دینا چاہیے تھا کہ دیکھو اگر تمہیں اس گھر میں ذرا بھی تکلیف پہنچی تو اپنا خلع کا حق فورا ہی استعمال کرلینا۔ اپنے آپ کو یا اپنے شوہر کو بدلنے کی کوشش بالکل نہ کرنا۔ اور شکر ہے کہ ام محمد کے والدین نے انہیں یہ بات نہیں بتائ تھی۔ ورنہ تو وہ بہت جلد ہی اپنے اس حق کا استعمال کرلیتیں۔ اور پھر؟؟؟؟؟؟
    الحمدللہ کہ میری شریک حیات نے اپنی محبت اور مخلصانہ کوششوں سے مجھے یکسر بدل دیا۔ اور یہ بہت حد تک ایسے ہی ممکن ہوا جیسے کہ ڈاکٹر کنول قیصر صاحبہ بیان کیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جی سسٹر بالکل ایسے ہی ہے۔ لیکن اگر شادی ہو ہی جاۓ تو دونوں میں سے کوئ بھی فریق اپنے شریک حیات کو بدلنے کی حتی الامکان کوشش ضرور کرے۔ ہاں اگر اسے بارہا کوشش کرنے کے باوجود ایسا محسوس ہو کہ تبدیلی نہیں آ سکتی تو پھر اسے دوسرے آپشنز کا حق استعمال کرلینا چاہیے۔
     
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,432
    صحيح ہے : )
    یعنی حق کو "ناحق" استعمال نہیں کیا.. حق دوسرا آپشن ہے
     
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    شادی "ہو جانا" ایک معاشرتی بیماری ہے۔ عاقل و بالغ انسان کام "کرتے" ہیں اور اپنے اعمال کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
    لوگ اپنی اولاد کوانجنئرنگ کے لیے میڈیکل کالج نہیں بھیجتے لیکن بے دینوں اور فاسقوں میں رشتے کر کے انہیں دین دار بنانے کی رسہ کشی پر لگانا چاہتے ہیں۔ اپنی دین دار بیٹیوں اور بیٹوں پر رحم کرنا چاہیے اور دین کی بنیاد پر شادی کرنی چاہیے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی حکم ہے۔اگر کسی کی ایسی شادی ہوئی جب انہیں دین کا شعور نہ تھا ان کے پاس عذر ہے لیکن جان بوجھ کر اپنے بچوں کو مصیبت میں جھونکنے والوں کا کوئی عذر نہیں۔ والدین یا رشتہ کروانے والے اسے گھر بسانا نہ سمجھیں۔
     
    • متفق متفق x 1
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,432
    اچھی بات ہے : ) دو دہائیاں قبل یہ رکھ رکھاؤ موجود تھا. قریبی رشتہ داروں میں ایسی مثالیں ملتی ہیں. مگر اب ایسا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے. اس کا اندازہ ایک سال میں کچھ ذمہ داری نبھاتے ہوا. اب نوجوان نسل اپنا حق مانگتی ہے. اہل علم کو بھی جوڑ توڑ کی بجائے بہتر مستقبل دیکھنا چاہیے. کنول قیصر صاحبہ ہو سکتا ہے کچھ مزید مفید بحث کر سکیں. علم و شعور کے آ جانے کے بعد اب یہ روایتی رسم و رواج کی شادیاں کا چلن ختم ہو رہا ہے
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں