اللہ مالک الملک کے چار وعدے

عبد الرحمن یحیی نے 'قرآن - شریعت کا ستونِ اوّل' میں ‏جولائی 21, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,311
    اللہ مالک الملک کے چار وعدے
    1 ۔
    فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ ﴿البقرة: ١٥٢﴾
    پس تم میرا ذکر کرو، میں بھی تمہیں یاد کروں گا
    تفسیر سعدی :
    اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کا حکم دیا ہے اور اس پر بہترین اجر کا وعدہ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کا ذکر کرتا ہے ہے جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے۔
    جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے فرمایا : جو مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں، جو کسی مجلس میں مجھے یاد کرتا ہے میں اسے اس سے بہتر مجلس میں یاد کرتا ہوں۔ ١؂“

    ( صحيح البخاري: كِتَابُ التَّوْحِيدِ وَالرَدُّ عَلَی الجَهمِيَةِ وَغَيرٌهُم (بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ} [آل عمران: 28]) ح رقم7405)
    سب سے بہتر ذکر وہ ہے جس میں دل اور زبان کی موافقفت ہو اور اسی ذکر سے اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور بہت زیادہ ثواب حاصل ہوتا ہے ۔
    2 ۔

    ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ﴿غافر: ٦٠﴾
    مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا
    تفسیر سعدی :
    یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور اس کی عظیم نعمت ہے کہ اس نے انہیں اس چیز کی طرف دعوت دی جس میں ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے اور انہیں حکم دیا کہ وہ اس سے دعا کریں۔۔۔ یعنی دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ۔۔۔ اور ان سے وعدہ فرمایا کہ وہ ان کی دعا قبول فرمائے گا ۔
    3 ۔

    لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ﴿ابراهيم: ٧﴾
    اگر تم شکر گزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیاده دوں گا
    تفسیر سعدی :
    اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا اور وعدہ کیا (لئن شکر تم لازیدنکم) ” اگر تم شکر کرو گے، تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا“ یعنی اپنی نعمتوں میں اضافہ کروں گا ۔
    علامہ عبدالرحمن بن ناصر السعدی رحمہ اللہ شکر ہی کے متعلق آیک آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں :

    وَاشْكُرُوْا لِيْ۔ اور میرا شکر کرو۔“
    یعنی میں نے جو یہ نعمتیں تمہیں عطا کیں اور مختلف قسم کی تکالیف اور مصائب کو تم سے دور کیا اس پر میرا شکر کرو۔
    شکر، دل سے ہوتا ہے، اس کی نعمتوں کا اقرار و اعتراف کر کے

    زبان سے ہوتا ہےاس کا ذکر اور حمد و ثنا کر کے
    اعضاء سے ہوتا ہے اس کے حکموں کی اطاعت و فرمان برداری اور اس کی منہیات سے اجتناب کر کے
    پس شکر، موجود نعمت کے باقی رہنے اور مفقود نعمت (مزید نئی نعمتوں) کے حصول کے جذبے کا مظہر ہوتا ہے۔
    4 ۔

    وَمَا كَانَ اللَّـهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ﴿الأنفال: ٣٣﴾
    اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گا اس حالت میں کہ وه استغفار بھی کرتے ہوں
    تفسیر سعدی :
    (وما کان اللہ معذبھم وھم یستغفرون) ” اور اللہ ان کو عذاب نہیں دے گا جب کہ وہ معافی مانگنے والے ہوں گے۔“
    یہی وہ مانع تھا جو عذاب کو واقع ہونے سے روک رہا تھا حالانکہ اس کے اسباب منعقد ہوچکے تھے۔

    تفسیر تیسیر القرآن مولانا عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ :
    سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے دو امان کی چیزیں اتاری ہیں ۔ پھر یہ آیت پڑھی ۔ پھر فرمایا کہ جب میں (دنیا سے) چلا گیا تو تمہارے لیے امن کی چیز استغفار کو قیامت تک کے لیے چھوڑ جاؤں گا ١؂ ۔ (جامع الترمذي: أَبْوَابُ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ(بَابٌ وَمِنْ سُورَةِ الأَنْفَالِ) 3082)
    (حدیث حاشیہ: ۱؎ : تمہارے موجود رہتے ہوئے اللہ انہیں عذاب سے دوچار نہ کرے گا۔(الا ٔنفال : ۳۳) ۲؎ : دوسرے جب وہ توبہ و استغفار کرتے رہیں گے توبھی ان پراللہ عذاب نازل نہ کرے گا۔(الا ٔنفال : ۳۳) نوٹ:(سندمیں اسماعیل بن ابراہیم بن مہاجر ضعیف راوی ہیں))
    یعنی فوری طور پر تم پر پتھروں کا عذاب نازل نہ کرنے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ تم میں ابھی اللہ کا رسول موجود ہے۔ اس کی موجودگی میں تم پر عذاب نہیں آ سکتا۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ کا رسول اور مومنوں کی جماعت ہر وقت اللہ سے استغفار کرتے رہتے ہیں اور میرا قانون یہ ہے کہ جب تک کسی قوم میں استغفار کرنے والے لوگ موجود رہیں میں اس پر عذاب نازل نہیں کیا کرتا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,109
    جزاک اللہ خيرا
     
  3. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    920
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں