واٹس ایپ گروپ" اسلامیات" کے سوالات اور ان کے جوابات

مقبول احمد سلفی نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏جولائی 26, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    537
    جوابات از: مقبول احمدسلفی

    (1) غیرمسلم کو عربی پڑھا نامثلا قرآن یا نورانی قاعدہ کیساہے ؟
    جواب : غیرمسلم کو عربی زبان سکھانے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن قرآن سکھانے کی بابت علماء نے کہا ہے کہ جو اسلام کی طرف مائل ہو اور جس سے اسلام کی امید ہو اسے قرآن سکھایا جائے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
    وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْلَمُونَ (التوبة :6(
    ترجمہ: اگر مشرکوں میں سے کوئی تجھ سے پناہ طلب کرے توتواسے پناہ دے دے یہاں تک کہ وہ کلام اللہ سن لے پھر اسے اپنی جائے امن تک پہنچادے ۔ یہ اس لئے کہ یہ لوگ بے علم ہیں ۔
    اگر کسی غیرمسلم کو کلام اللہ سنانے یا سکھانے کا فائدہ ہے تو اسے اللہ کا کلام سنانا اور سکھانا چاہئے ۔

    (2) گجرات میں سیلاب ہونے کی وجہ سے ایک مولوی نےمسند احمد کے حوالے سے یہ دعا پڑھنے کی نصیحت کی ہے کیا یہ ہے صحیح ہے ؟ اللهمَّ إِنَّي أعوذُ بكَ مِنْ شرِّ الأعميَيْنِ : السيلُ والبعيرُ الصؤولُ .
    ترجمہ: اے اللہ ! دو اندھی چیزوں کی برائیوں سے یعنی سیلاب اور بدکے ہوئے اونٹ سے حفاظت فرما۔
    جواب :یہ دعا طبرانی اور مجمع الزوائد میں موجود ہے، ہیثمی نے کہا کہ اس میں عبدالرحمن بن عثمان حاطبی ضعیف ہے ۔ (مجمع الزوائد:10/147)
    شیخ البانی نے ضعیف الجامع میں ضعیف اور سلسلہ ضعیفہ میں منکر کہا ہے ۔ (دیکھیں : ضعيف الجامع:1200،السلسلة الضعيفة: 29/14)

    (2) کون سی نماز کے ساتھ قضا نماز اور نوافل نہیں پڑھ سکتے ؟
    جواب : سوال کچھ گنجلک ہے مگر میرے جواب سے سوال کو متعین کیا جاسکتا ہے ۔ فرض نماز کے ساتھ فرض تو ادا ہوگا ہی ،قضا اور نفل بھی ادا کرسکتے ہیں جیسے کہ عصرکی نماز ہورہی ہے تو جس نے عصرکی نماز نہیں ادا کی ہے وہ عصر کی نیت سے جماعت میں شامل ہوگا ، جس نے ظہر کی نماز نہیں ادا کی تھی وہ ظہر کی نیت سے عصر کی نماز میں شامل ہوگا یہ اس کی قضا نماز ہوگی۔اور اگر کوئی آدمی مسافر ہونے کی حیثیت سے ظہروعصر دونوں پڑھ لی ہووہ چاہے تو عصر کی جماعت میں شامل ہوجائے نفل کا ثواب ملے گا۔ اسی طرح نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز، قضا نمازاورنفل نماز پڑھ سکتے ہیں ۔ اس کی مثال یوں سمجھ لیں کہ تراویح کی نماز ہورہی ہے اور کسی نے عشاء کی نماز نہیں پڑھی ہے تو وہ اس میں شامل ہوکر عشاء کی فرض نماز پڑھ سکتا ہے ، مغرب کی قضا کی نیت سے بھی اس میں شامل ہوسکتے اورتراویح کی نفل میں نفل کی حیثیت کی سے شامل ہونا تو ہے ہی ۔

    (4)کیا واقعی زمزم کا پانی خراب نہیں ہوتا، جو زمزم میرے پاس دو تین سال پہلے کا ہے اس کا استعمال کرسکتے ہیں ؟ اور جو زمزم میں دوسرا پانی ملادیا ہے اسے بھی سالوں بعد استعمال کرسکتے ہیں؟
    جواب : عام کنواں کا پانی چند سالوں میں بدل جاتا ہے مگر زمزم کا کنواں ہزاروں سال پرانا ہے اس کے پانی کے ذائقہ میں ذرہ برابر تبدیلی پیدا نہیں ہوئی، اول وقت سے جوں کا توں ہے۔یہ زمزم کی بہت بڑی خصوصیت ہے یہی وجہ ہے کہ کنواں سے زمزم باہر نکال کر بھی سالوں ذخیرہ کرسکتے ہیں اس میں بیکٹریا سے حفاظت کا الہی سامان موجود ہے ۔ آپ سالوں پرانے زمزم کو استعمال کرسکتے ہیں اور اسے بھی استعمال کرسکتے ہیں جس میں دوسرا پانی ملادیا گیا ہو،جس میں زمزم ملایا جائے اس میں زمزم کی خصوصیت غالب ہوجاتی ہے۔ یہاں ایک مشورہ دوں گا کہ زمزم کو خالص ہی اسٹور کریں بھلے ہی پینے کے وقت کچھ ملالیں ۔

    (5) کیا زمزم کا پانی زیادہ ہو تو اس سے کھانا بنا سکتے ہیں ؟
    جواب : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، زمزم فضیلت والا پانی ہے اس میں شفا بھی ہے ۔ خالص پینے سے ، ملاکر پینے سے یا کھانے میں استعمال کرنے سے شفا اپنی جگہ باقی رہے گا۔

    (6) تصریح کے بغیر حج کرنا کیسا ہے اور جو لوگ ذی القعدہ کے مہینے میں مکہ میں داخل ہوجاتے ہیں اور حج کے ایام میں مکہ سے ہی احرام باندھ کر حج کرتے ہیں اس سلسلے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : شوال ، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کو اشھر حج (حج کے مہینے) کہا جاتا ہے ، ان تین مہینوں میں کوئی آدمی مکہ کا سفر کرے اس حال میں کہ اس کا ارادہ حج کا ہے تو اسے میقات سے ہی احرام باندھنا ہوگا ۔ جو بغیر احرام کے میقات سے گزرگیا اور مکہ سے احرام باندھ کر حج کیا اسے دم دینا ہوگا۔ رہا مسئلہ تصریح کا تو یہ قانونی چیز ہے جوکوئی بغیرتصریح کے حج کرتاہے وہ سعودی قانون کی مخالفت کرتا ہے البتہ بغیر تصریح کے کیا گیا حج درست ہے ، نبی ﷺ نے اور صحابہ کرام نے بغیر تصریح کے حج کیا۔ یہ آج کا قانون ہے اور اس میں لوگوں کی بھلائی ہے لہذا قانونی اعتبار سے حج کرنا چاہئے۔

    (7) میرے دادا جی ضعیف ہیں ، انہوں نے ضعیفی کی وجہ سے رمضان کا روزہ نہیں رکھا تو کیا ان کے ورثاء آپس میں تقسیم کرکے چھوٹے ہوئے روزے رکھ سکتے ہیں یا ہدیہ دینا پڑے گا؟
    جواب : جب کوئی ضعیفی کی وجہ سے رمضان کا روزہ نہ رکھ سکے تو رمضان میں ہی وہ ہرروزہ کے بدلے ایک مسکین کو کھانا دے دیا کرے ، یعنی مسکین کو کھانا دینے کا کام رمضان میں ہی ہوجانا چاہئے اب تاخیر ہوگئی ہے پھر بھی امسال انتیس یا تیس جتنے روزے ہوئے ہوں اتنے دن کے حساب سے مسکین کو کھانا دیدے ۔فدیہ نصف صاع یعنی ڈیڑھ کلو اناج چاول یا گیہوں دینا ہے ۔اس کے بدلے پیسہ دینا کفایت نہیں کرے گا ۔

    (8) کپورے کھانے کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : کپورے کھانے کی ممانعت نہیں ہے ، حلال جانور کے ساتھ اعضاء ((بوقت ذبح بہنے والاخون،شرمگاہ، کپورے(خصیتین)،غدود، اگلی شرمگاہ،مثانہ،پتہ))کھانے کی ممانعت والی کوئی روایت صحیح نہیں ہے ، حلال جانور کا ذبح کے وقت بہنے والا خون حلال نہیں باقی سب حلال ہے ۔

    (9) میت کی طرف سے قربانی کرسکتے ہیں کہ نہیں مثلا دادادادی، نانانانی وغیر ہ
    جواب: میت کی طرف سے مستقل قربانی کرنے کا ثبوت نہیں ہے اس لئے دادا دادی اور نانانانی کی طرف سے مستقل قربانی نہیں کرسکتے لیکن اپنی قربانی میں شریک کرسکتے ہیں جیساکہ نبی ﷺ نے اپنی قربانی میں اپنی امت کو شریک کیا تھا۔

    (10)میرا ایک غیراہل حدیث رشتہ دار اہل حدیث سے بہت متاثرہے ،سالوں سے پورے رمضان کا عمرہ کرنے جاتا ہے وہ حرم کے اعمال کے متعلق پوچھتا رہتاہے ،ایک سوال اسے کھٹکتا ہے اس نے ایک سعودی کو دیکھا جو ہمیشہ فجر کی اذان ہوتے ہی پانی پیتا ہے اس کا کہنا ہے کہ یہ سنت رسول ہے ، کیا یہ درست ہے ؟
    جواب : اللہ تعالی سے دعا ہے کہ آپ کے ساتھی کو سیدھی سچی راہ چلائے ، آمین
    نبی ﷺ کا ایسا کوئی فرمان یا عمل نہیں ہے جس سے ثابت ہوتا ہو کہ رمضان میں اذان کے بعد بھی کھانا اور پینا چاہئے ،ہاں نبی ﷺ کا یہ فرمان ہے :إذا سمعَ أحدُكُمُ النِّداءَ والإناءُ على يدِهِ ، فلا يَضعهُ حتَّى يقضيَ حاجتَهُ منهُ(صحيح أبي داود:2350)
    ترجمہ: جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اسکے ہاتھ میں ہو تو وہ اسے اس وقت تک نہ رکھے جب تک اس میں سے اپنی حاجت پوری نہ کر لے ۔
    اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ اتفاقیہ کبھی اگر سحری کھاتے ہوئے اذان ہوجائے تو برتن کا کھانا ضرورت بھر کھالینا چاہئے لیکن فجرکی اذان ہونے کے بعد سحری کھانا درست نہیں ہے اگر کسی نے جان بوجھ کر ایسا عمل کیا تو اس کا روزہ نہیں ہوگا ، اس روزہ کی قضا کرنی ہوگی ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,064
    جزاک اللہ خیرا شیخ۔
    بہت اچھا سلسلہ ہے میرے خیال میں اسے یہاں اسی عنوان کے تحت جاری رکھا جانا چاہیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  3. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    537
    ٹھیک ہے ۔ ان شاء اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    537
    سوشل میڈیا پہ کئے گئےپندرہ اہم سوالات اور ان کے جوابات
    جوابات از شیخ مقبول احمد سلفی

    سوال (1): ڈینگی وائیرس کے خاتمہ کے لیے سورۃ الانعام کی آیت نمبر 16 اور 17 پڑھ کر دم کرنے کے لیے کہا جارہا ہے۔ کیا ایسا کرنا درست ہے؟
    جواب : قرآن میں ہربیماری کی شفا ہے ، کسی بھی مرض میں قرآن پڑھ کر دم کرنا جائز ہے لیکن ڈینگی وائرس کے لئے سورہ الانعام کی آیت نمبر سولہ اور سترہ کو خاص کرنا خلاف شریعت ہے ۔ جو چیز خاص نہیں دین میں اسے خاص کرنے کو کسی کا حق نہیں ہے لہذا ڈینگی وائرس یا دیگرکسی بھی مصیبت میں بلا تخصیص سورہ انعام کی بھی آیات پڑھ سکتے ہیں ،کوئی حرج نہیں ہے لیکن اپنی طرف سےکوئی سورت یا آیت خاص کرنا درست نہیں ہے ۔

    سوال(2) : بچہ اگر کپڑوں پر قے کرلے تو کیا کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں یا ہم کو غسل کی ضرورت ہوتی ہے؟ کسی نے کہا کہ دودھ اگر ثابت ہو تو کپڑے بدلنا ہوگا اور اگر دودھ پھٹا ہوا ہو تو غسل کرنا پڑے گا۔
    جواب : قے نجس ہے ، یہ موقف ائمہ اربعہ اور شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ہے اور دلائل سے بھی قے کا نجس ہونا قوی معلوم ہوتا ہے ۔ نبی ﷺ کو قے آیا تو آپ نے روزہ توڑ دیا اور وضو کیا۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:
    أنَّ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ قاءَ فأفطَرَ فلَقيتُ ثوبانَ مَولى رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ في مسجِدِ دمشقَ فقلتُ إنَّ أبا الدَّرداءِ، حدَّثَني أنَّ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ قاءَ فأفطَرَ قالَ: صدقَ، وأَنا صَببتُ لَهُ وَضوءَهُ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ(صحيح أبي داود:2381)
    ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی اور روزہ توڑ ڈالا ۔ ( معدان کہتے ہیں کہ ) پھر سیدنا ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دمشق کی مسجد میں میری ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے کہا : سیدنا ابولدرداء رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی اور روزہ توڑ ڈالا تھا ۔ کہا کہ انہوں نے صحیح کہا ہے اور میں نے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی انڈیلا تھا ۔
    لہذا اگرکوئی کپڑے پر قے کردے تو اسے دھوکر پاک کرے کیونکہ قے نجس ہے البتہ دودھ پیتا بچہ برابر قے کردیتا ہے اس کی صفائی میں مشقت ہے ، بچے کا قے بدبو سے پاک ہو یا دودھ منہ سے گرائے تو کپڑا دھونے کی ضرورت نہیں اور اگر بدبو محسوس ہوتو اسے دھولے ۔

    سوال(3) : بچے گھر میں کارپیٹ پر کہیں کہیں پیشاب کر دیتے ہیں اور وہ حصہ سوکھ جاتا ہے۔ ہم دھو نہیں سکتے۔ کیا وہاں جائے نماز بچھا کر نماز ادا کی جاسکتی ہے؟
    جواب : اگر کھانے پینے کی عمر کے بچے ہیں تو ان کا پیشا ب زائل کیا جائے گا اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ کم ازکم ایک مرتبہ پانی بہایا جائے گا ، نچوڑنا ضروری نہیں ہے جیساکہ اعرابی نے مسجد میں پیشاب کردیا تو نبی ﷺ نے صرف پانی بہانے کا حکم دیا تھا۔ ایک مرتبہ پانی بہانے سے نجاست دور ہونےکا اندازہ نہیں ہوا توایک سے زائد مرتبہ پانی بہایا جائے گایہاں تک کہ صفائی کا گمان ہوجائے پھر اسفنج سے اسے صاف کرلیا جائے ۔اوروہ بچے جو شیرخواری کی عمرکے ہوں ان کے پیشاب پہ پانی کا چھینٹا مارنا ہی کافی ہوگا۔ معلوم یہ ہوا کہ کارپیٹ پہ بچہ پیشاب کردے اور سوکھ جائے تو کارپیٹ پہ پانی بہاکر اسفنج سے صاف کیا جائے گا پھر اس جگہ نماز پڑھی جائے گی ۔ بچہ کی تفصیل اوپر معلوم ہوگئی یعنی شیرخواربچہ کا الگ حکم اور دانہ پانی استعمال کرنے والے بچہ کا الگ حکم۔

    سوال (4): ایک شخص ڈاکٹر ذاکر نائک کو ملحد کہتا ہے ایسے شخص سے تعلق رکھنا یا ایسے شخص کے بارے میں ہمارا کیا موقف ہونا چاہئے؟
    جواب : جو شخص کسی مسلمان کو ملحد اور کافر کہے تو اس کا الحادوکفر اسی کی طرف لوٹ جائے گا یعنی وہ خود کافر ہوجائے گا ۔ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أيُّما امرئٍ قالَ لأخيهِ : يا كافِرُ . فقد باءَ بِها أحدُهما . إن كانَ كما قالَ . وإلَّا رجعَت عليهِ(صحيح مسلم:60)
    ترجمہ: تم میں سے کوئی بھی آدمی اپنے بھائی کو کافر کہے تو ان میں سے کوئی ایک اس کا مستحق بن جاتا ہے، اگر اس نے کہا، جیسا کہ وہ تھا اور اگر نہیں تو یہ اسی کی طرف پلٹے گا۔
    ڈاکٹر ذاکر نائک منہج سلف پہ قائم صحیح العقیدہ مسلمان ہیں انہیں جو کوئی کافر کہے گا اس کا کفر اس کی طرف ہی لوٹ جائے گا ،ایسا شخص تکفیری ہے اور حدیث کی رو سے خود کفر کا مستحق ہورہاہےایسوں سے تعلق استوار نہ کیا جائے بلکہ دوسروں کو بھی ایسے تکفیری لوگوں سے بچنے کی ترغیب دی جائے ۔

    سوال (5) :کیا کسی عالم کا کسی دوسرے عالم کو رد کرنا اسلام میں جائز ہے ؟
    جواب : ایک عالم دوسرے عالم کا عام طور سے رد نہیں کرتا ہے بلکہ کوئی علمی مسئلہ ہوتا ہے اس مسئلہ پہ دو عالم کے دلائل کی روشنی میں الگ الگ دو نظریات اور دو موقف ہوسکتے ہیں اس میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ فقہی مسائل یا اجتہادی قسم کے سوالات پہ علماء کے آراء مختلف ہوسکتے ہیں۔ اگر دو عالموں کا آپس میں کسی فقہی اور اجتہادی مسئلہ پہ دلائل کی روشنی میں اختلاف ہو تو دونوں عالم اسلام کی نظر میں اچھے ہیں ۔ ہاں جو عالم بغیر دلیل کے اپنے من سے بات کرتا ہے یا کتاب وسنت سے ثابت شدہ عقائد میں اختلاف کرتا ہے یا اپنے مذہب ومسلک کے مخالف علماء کی تکفیر یا کسرشان کرتا ہے تو ایسے آدمی / عالم کے مخالف شرع باتوں کی بھرپور مذمت اوررد کرنا چاہئے یہ ضرروی امر ہے ، مبادہ سادہ لوح اس کی کج فکری ، غلط نظریات اور باطل عقائد کا کہیں شکار نہ ہوجائے ۔

    سوال (6) : مفتی طارق مسعود صاحب کی ایک ویڈیو دیکھنے کا اتفاق کیا جس میں وہ بتا رہے تھے کہ عید الاضحی اور حج کے موقع پر منی میں اور تیسرا عقیقہ کے علاوہ جانور (بکرا) ذبح کرنا عبادت نہیں بلکہ بدعت ہے اگر یہ سچ ہے تو میرا سوال یہ ہے کہ اگر ہمارا ارادہ مساکین کو جانور ذبح کر کے کھانا کھلانے کا ہو تو ہمارے عمل پہ کیا حکم لگے گا؟
    جواب : میں نے بھی مفتی صاحب کا بیان سنا تھا جس میں مذکورہ بات وہ بتلارہے تھے ، ان کا یہ بیان بلادلیل ہے اس لئے رد کردیا جائے گا۔ آپ بلاشبہ بکرا ذبح کرکے فقراء ومساکین کو کھلا سکتے ہیں ، یہ عمل بدعت نہیں مسنون ہوگااور ہر وہ کام جو مسنون ہے عبادت بھی ہے ۔اسی طرح کوئی اللہ کے لئے نذر میں جانور ذبح کرنے کا ارادہ کرے تو ذبح کرسکتا ہے ،حدیث مصطفی ﷺ سے اس کی دلیل دیکھیں :
    سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:
    نذرَ رجلٌ على عَهدِ رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ أن ينحرَ إبلًا بِبُوانةَ فأتى النَّبيَّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ فقالَ إنِّي نذرتُ أن أنحرَ إبلًا ببُوانةَ فقالَ النَّبيُّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ هل كانَ فيها وثَنٌ من أوثانِ الجاهليَّةِ يعبدُ قالوا لا قالَ هل كانَ فيها عيدٌ من أعيادِهم قالوا لا قالَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ أوفِ بنذرِكَ فإنَّهُ لا وفاءَ لنذرٍ في معصيةِ اللَّهِ ولا فيما لا يملِكُ ابنُ آدمَ(صحيح أبي داود:3313)
    ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ مقام بوانہ پر ایک اونٹ ذبح کرے گا ۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : بیشک میں نے بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:کیا وہاں جاہلیت کا کوئی بت تھا جس کی عبادت ہوتی رہی ہو ؟ صحابہ نے کہا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا وہ جگہ ان کی میلہ گاہ تھی ؟ صحابہ نے کہا نہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اپنی نذر پوری کر لے ۔بے شک ایسی نذر کی کوئی وفا نہیں جس میں اللہ کی نافرمانی ہو اور نہ اس کی جو انسان کی ملکیت میں نہ ہو ۔

    سوال (7) : کیا قیامت کے دن مساجد بھی فنا ہوجائیں گی یا پھر وہ باقی رہیں گی ؟
    جواب : ایک روایت مجمع الزوائد وغیرہ میں ہے کہ ساری زمین فنا ہو جائے گی سوائے مساجد کے ، روایت اس طرح سے ہے :
    تَذْهَبُ الْأَرَضُونَ كُلُّها يومَ القيامةِ ، إلا المساجدَ ، فإنها يَنْضَمُّ بعضُها إلى بعضٍ(مجمع الزوائد: 9/2)
    ترجمہ: قیامت کے دن ساری زمین فنا ہوجائے گی سوائے مساجد کے کہ یہ ایک دوسرے میں ضم ہوجائیں گی ۔
    اس میں اصرم نامی ایک راوی متہم وکذاب ہے اوریہ روایت موضوع ہے جیساکہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے کہا (دیکھیں : ضعیف الجامع : 2420)
    ابن عدی نے باطل کہا ہے ۔(الکامل فی الضعفاء : 2/96)
    اس لئے اس روایت سے استدلال نہیں کیا جائے گا ،قیامت کے دن ساری چیزیں فنا ہوجائے گی حتی کہ مساجد بھی یہی قرآن وحدیث کے عمومی دلائل سے واضح ہوتا ہے ۔

    سوال (8) : کتنے کلو میٹر پہ نماز قصر کرنا ہے ؟
    جواب : اصلا احادیث میں کلو میٹر کے حساب سے قصر کا تعین نہیں ہے ،قصر کے لئے عرف میں جسے سفر کہا جائے گا اس میں نماز قصر کرنا ہے خواہ وہ جتنے کلو میٹر کا ہو البتہ سعودی علماء نے اندازہ کے طور پر تقریبا اسی (80) کلو میٹر لکھا ہے۔ اگر کوئی شخص اسی کلو میٹر کا سفر کرے یا اس سے بھی کم کلومیٹر کا سفر کرےمگر عرف عام میں اسےسفر کہا جاتا ہو تو قصر کریں گے ۔

    سوال (9) : کیا مظلوم مسلمانوں کے ساتھ کئے جا رہے ظلم و ستم کے خلاف جلوس و احتجاج اور مظاہرے کرنا یا اس میں شامل ہونا شرعا صحیح نہیں ہے؟ ایک شخص سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ شرعا صحیح نہیں ہے، کیا ظلم کے خلاف خاموشی جرم نہیں ہے؟ برائے مہربانی ہماری اصلاح کریں۔
    جواب : اسلام امن کا پیغامبر ہے جو کام امن کے خلاف ہے اسلام میں اس کی اجازت نہیں ہے ۔ آجکل جو مظاہرے ہورہے ہیں اس میں امن مخالف نعرے، اشتعال انگیزی، لوٹ مار، طعن وتشنیع، توڑپھوڑ ، اختلاط مردوزن، فتنہ وفساد، قتل وغارت گری ، رقص وسرود وغیرہ پایا جاتا ہے اس وجہ سے اس قسم کے مظاہرے واقعی شرعا جائز نہیں ہیں لیکن اگر پرامن مظاہرے ہوں تو اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔

    سوال (10): اگر اللہ تعالی ہی صرف عالم الغیب ہے تو رسول اللہ ﷺ نے کیسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دی ، یہ بھی تو غیب کی خبر ہے ؟
    جواب : نبی ﷺ نے مستقبل کی جوبھی خبر دی ہے وہ اللہ کی طرف سے دی ہے ، ایسا نہیں ہے کہ آپ ﷺ خود سے جان لیتے تھے کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے اور صرف مستقبل ہی بلکہ دین کی جو بھی بات آپ نے بتلائیں سب اللہ کی جانب سے ہیں آپ نے ذرہ برابر بھی اپنی جانب سے نہیں بتلایا ہے ۔ اس بات کی دلیل اللہ کا کلام ہے ۔ فرمان الہی ہے : وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ، إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ (النجم: 3-4)
    ترجمہ: آپ اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں بولتے ،جب آپ پر وحی نازل ہوتی تو بیان کرتے ہیں ۔
    یہ آیت بتلاتی ہے کہ نبی ﷺ نے جو عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دی ہے وہ اپنی جانب سے نہیں دی بلکہ اللہ کی طرف سے دی ہے اس لئے تن تنہا اللہ کا عالم الغیب ہونا اپنی جگہ برحق ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں جابجا بیان فرمایا ہے اور اللہ کے علاوہ کوئی نبی یا ولی غیب کی خبر نہیں رکھتا ہے۔

    سوال (11)کیا ضعیف اور من گھڑت روایات پر عمل کیا جا سکتا ہے؟اگر کیا جا سکتا ہے تو کس حد تک؟ کیا ضعیف اور من گھڑت روایات و قصے کی حقیقت لوگوں کے سامنے لانا اچھا ہے برا؟ براہ کرم وضاحت کردیں۔
    جواب : من گھڑت روایات اور من گھڑت قصے تو مردود ہیں ، عمل کرنے کی تو دور کی بات انہیں بیان بھی نہیں کیا جائے گا ۔ ہاں اگر یہ عوام میں مشہور ہوگئے ہوں تو لوگوں کی آگاہی کے لئے بیان کرسکتے ہیں اس شرط کے ساتھ ان کا موضوع ہونا بھی بیان کیا جائے ۔ رہا مسئلہ ضعیف احادیث کا تو فضائل اعمال میں ان پر عمل کیا جائے گا مگر مطلقا نہیں علماء کچھ شرائط بیان کرتے ہیں ۔ حافظ ابن حجررحمہ اللہ تین شرائط ذکر کرتےہیں:
    پہلی شرط یہ ہے کہ حدیث میں شدید نوعیت کا ضعف نہ پایا جاتا ہو۔
    دوسری شرط یہ ہے کہ ضعیف حدیث کی کوئی نہ کوئی اصل ہو یعنی اس کی اصل کسی صحیح حدیث سے ثابت ہو۔
    تیسری شرط یہ ہے کہ عمل کرتے ہوئے اس حدیث کے ضعیف ہونے کا اعتقاد رکھا جائے۔
    آج کل لوگوں میں ضعیف وموضوع احادیث و قصص بہت گردش میں ہیں جو سوشل میڈیا پہ ضعیف احادیث سے لوگوں کو باخبر کرنے کا کام کرتا ہے بہترین عمل ہے کیونکہ یہاں عوام کی کثرت ہے حدیث کو دیکھ کر فورا یقین کرلیتی ہے قطع نظر اس سے کہ یہ صحیح ہے یا ضعیف ؟ اس لئے وہ لوگ جو سوشل میڈیا پہ دفاع عن السنہ کا کام کررہے ہیں عوام کے لئے بہت مفید ومبارک عمل ہے ۔

    سوال (12) : کیا پانچ نمازیں سب سے پہلے انبیاء نے پڑھیں؟
    جواب : قرآن وحدیث کے بے شمار نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء پر بھی نمازیں فرض تھیں ، قرآن میں متعدد انبیاء کا نام لیکر نماز کا ذکر ہے مگر کہیں کسی حدیث سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انبیاء بھی ہماری طرح پانچ نمازیں پڑھتے تھے یا پھر انبیاء نے سب سے پہلے پانچ نمازیں پڑھیں ۔ہاں شرح معانی الآثار میں ایک روایت اس طرح مروی ہے ۔
    رقم الحديث: 624
    (حديث مقطوع) مَا حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ جَعْفَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ بَحْرَ بْنَ الْحَكَمِ الْكَيْسَانِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَةَ ، يَقُولُ : " إِنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، لَمَا تِيبَ عَلَيْهِ عِنْدَ الْفَجْرِ ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَصَارَتِ الصُّبْحَ ، وَفُدِيَ إِسْحَاقُ عِنْدَ الظُّهْرِ ، فَصَلَّى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلامُ أَرْبَعًا ، فَصَارَتِ الظُّهْرَ ، وَبُعِثَ عُزَيْرٌ فَقِيلَ لَهُ كَمْ لَبِثْتَ ؟ فَقَالَ : يَوْمًا ، فَرَأَى الشَّمْسَ ، فَقَالَ : أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ، فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَصَارَتِ الْعَصْرَ ، وَقَدْ قِيلَ غُفِرَ لِعُزَيْرٍ عَلَيْهِ السَّلامُ ، وَغُفِرَ لِدَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، عِنْدَ الْمَغْرِبِ ، فَقَامَ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، فَجُهِدَ فَجَلَسَ فِي الثَّالِثَةِ ، فَصَارَتِ الْمَغْرِبُ ثَلاثًا ، وَأَوَّلُ مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ الآخِرَةَ ، نَبِيُّنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلِذَلِكَ قَالُوا الصَّلاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلاةُ الْعَصْرِ " .(شرح معاني الآثار للطحاوی، كِتَابُ الصَّلاةِ، بَابُ الصَّلاةِ الْوُسْطَى أَيُّ الصَّلَوَاتِ ؟)
    ترجمہ: عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ جب فجر کے وقت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی تو دو رکعت نماز پڑھی پس صبح کی نمازہوئی، اسحاق علیہ السلام کا فدیہ ظہر کے وقت آیا تو ابراہیم علیہ السلام نے چار رکعت نماز پڑھی تو ظہر کی نماز ہوئی، عزیز علیہ السلام اٹھائے گئے اور پوچھا گیا کہ کتنی دیر ٹھہرے رہے ؟ انہوں نے جواب دیا ایک دن۔ پس انہوں نے سورج دیکھا تو کہا یا کچھ دن اور چار رکعت نماز ادا کی تو عصر کی نماز مقرر ہوگئی، اور کہا جاتا ہے کہ مغرب کے وقت عزیز علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام معاف کئے گئے تو انہوں نے چار رکعات نماز ادا کرنے کھڑے ہوئے تو تھک کر تیسری رکعت پر بیٹھ گئے تو مغرب کی نماز تین رکعت ہوگئی، اور عشاء کی نماز سب سے پہلے محمد ﷺ نے پڑھی اسی لئے انہوں نے کہا کہ صلاۃ وسطی سے مراد عصر کی نماز ہے۔
    یہ روایت مقطوع ہے یعنی اس کی سند نبی ﷺ یا کسی صحابی تک نہیں پہنچتی بلکہ اس سے نیچے تابعی یا تبع تابعی تک پہنچتی ہے اور اس کی سند میں قاسم بن جعفر مجہول الحال راوی ہے ۔ اس روایت سے کسی طرح استدلال نہیں کیا جائے گا ۔
    ترمذی کی ایک روایت میں ہے ذکر ہے کہ جبریل علیہ السلام نے نبی ﷺ کو دوبار کعبہ کے پاس پانچ وقتوں کی نمازیں پڑھائیں پہلی دفعہ اول وقت میں پھر آخر وقت میں اور کہا اے محمد! یہی آپ سے پہلے کے انبیاء کے اوقاتِ نمازتھے، آپ کی نمازوں کے اوقات بھی انہی دونوں وقتوں کے درمیان ہیں۔(صحیح الترمذی: 149)
    اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انبیاء بھی پانچ نمازیں ان اوقات میں ادا کرتے تھے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس طرح آپ کے لئے اول وآخر وقت ہے یعنی نماز کو اول وقت سے لیکر آخر وقت تک ادا کرسکتے ہیں اسی طرح انبیاء کو بھی اول وآخر وقت کی وسعت تھی ۔

    سوال (13): غسل کے دوران ناک اور منہ میں پانی ڈالنا بھول جائے تو غسل ہوگا کہ نہیں ؟
    جواب : اگرکوئی غسل طہارت کررہاہو اور غسل میں ناک اور منہ میں پانی ڈال کر صفائی کرنا بھول گیا تو غسل نہیں ہوگا اس لئے جس نے غسل کیا اور غسل کے دوران یاد آیا کہ کلی نہیں کی اور ناک میں پانی نہیں ڈالا تو ناک ومنہ میں پانی ڈال کر صفائی کرلے حتی کے غسل کے بعد بھی یاد آئے تو ان کی صفائی کرلے غسل صحیح ہوگا کیونکہ غسل میں ترتیب ضروری نہیں ہے ہاں اگر غسل کے ایک لمبے وقفے کے بعد یاد آیا تو غسل دہرالے بہتر ہے اور طہارت والا غسل نہیں بلکہ ریفریش ہونے کے لئے غسل کیا ہو اور اس غسل میں ناک ومنہ میں پانی ڈالنا بھول جائے توکوئی مسئلہ نہیں ۔

    سوال (14) : پیر کا لباس زعفرانی کیوں ہوتا ہے ؟
    جواب : اولا اسلام میں اس قسم کے پیر کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس لئے پیر کے نام پہ کاروبار کرنے والے جعلی لوگ ہیں ،ایسے لوگوں کا زعفرانی کپڑا پہننا ہندؤں کے باباؤں، سادھوؤں اور سنتوں کی مشابہت اختیارکرناہےاور ساتھ ساتھ نبی ﷺ نے زعفرانی رنگ کا کپڑا پہننے سے منع کیا ہے ۔ اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت دے۔

    سوال (15):کاروبار میں رکاوٹ ہوتو گھر بدلنے سے فائدہ ہونے کا عقیدہ رکھنا کیسا ہے ؟
    جواب : کاروبار میں سودوزیاں کا تعلق گھر سے نہیں ہے اور یہ بات جان لیں کہ گھر سے نحوست یا بدفالی لینا جائز نہیں ہے ، ایک روایت میں گھر، عورت اور گھوڑے میں نحوست کا ذکر ہے مگر اس کا اصل معنی یہ ہے کہ اگر نحوست ہوتی ہے تو ان تین چیزوں میں ہوتی یعنی گھر،عورت اور گھوڑا میں۔روایت وترجمہ دیکھیں ، نبی ﷺ کا فرمان ہے : إن كان الشُّؤْمُ في شيءٍ ففي الدارِ، والمرأةِ، والفَرَسِ.(صحيح البخاري:5094)
    ترجمہ: نحوست اگر کسی چیز میں ہوتی تو ان تین چیزوں میں بھی ہوتی، گھر، عورت، گھوڑا۔
    بلکہ نبی نے تو ہرقسم کی نحوست کی نفی کرتے ہوئے ان تین چیزوں میں برکت پائے جانے کی خبر دی ہے ۔ فرمان نبوی ہے :
    لا شؤمَ وقد يَكونُ اليُمنُ في ثلاثةٍ: في المرأَةِ، والفَرَسِ، والدَّارِ(صحيح ابن ماجه:1633)
    ترجمہ: نحوست کچھ نہیں اور برکت بعض اوقات تین چیزوں میں ہوتی ہے: عورت میں، گھوڑے میں اور مکان میں۔
    ان احادیث اور دیگرقرآنی آیات وفرمان رسول کو سامنے رکھتے ہوئے کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ یہ عقیدہ رکھے کہ گھر بدلنے سے کاروبار میں فائدہ ہوگا یا یہ کہےکہ فلاں گھر کی نحوست سے تجارت میں نقصان ہوگیا۔ہاں روزی کمانے کے لئےگھر چھوڑنا پڑے یا مکان کی تنگی یا مجبوری ہوتو گھر بدلنا پڑے اس میں حرج نہیں۔ یاد رکھیں ہندؤں کے یہاں گھروں میں نحوست مانی جاتی ہے بطور خاص جب کسی گھر میں کسی کی غیرطبعی موت ہوجائے ۔ اس لئے یہ ہندو کا عقیدہ توہوسکتا ہے مگرکسی مسلمان کا عقیدہ نہیں ہوسکتا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  5. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,064
    جزاک اللہ خیرا
     
  6. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    537
    آپ کے دس سوالات اور مقبول احمد سلفی کے جوابات

    سوال (1): ایک آدمی اپنی جاب کے سلسلے میں ایک شہر سے دوسرا شہر سفر کرتا ہے ہفتے میں دو دن وہ ایک شہر میں مقیم کی حیثیت سے رہتا ہے اور باقی کے دن دوسرے شہر میں,ایسے ہی سلسلہ چلتا رہتا ہے تو ایسی صورت میں اس آدمی کی نماز کا حکم کیا ہے, قصر کرے گا یا پوری نماز پڑھے گا؟
    جواب : دوران سفر نمازیں قصر پڑھنی ہیں خواہ یہ سفر مہینوں یا سال پہ محیط ہو مگرکسی شہر میں نازل ہونے اور قیام کرنےکے متعلق دو مسئلے ہیں ۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کہیں چار دن سے زیادہ قیام کرنے کا پہلے سے ارادہ بن گیا تو وہاں مکمل نماز پڑھنی ہے کیونکہ وہ مقیم کے حکم میں ہے لیکن اگر چار دن سے کم ٹھہرنے کا ارادہ ہے یا یہ نہیں معلوم کہ کتنادن ٹھہرنا ہے تو اس صورت میں نمازیں قصر کرکے پڑھے گا۔

    سوال (2) : میں نے ایک آدمی سے جھوٹ بولا ہے، اب اس غلطی پہ نادم ہوں، کیا میں توبہ کرلوں تو غلطی معاف ہوجائے گی یا اس آدمی کو بتانا ضروری ہے ، یہ معلوم رہے کہ میں اس کو بتانے میں شرم محسوس کرتا ہوں اور اس قدر شرم ہے کہ اس سے بیان نہیں کرسکتا۔
    جواب : انسان خطا کا پتلہ ہے ، غلطی کرسکتا ہے کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے اور اچھا انسان وہ ہے جو غلطی کرکے اس سے توبہ کرلے ۔ جھوٹ بولنا کبیرہ گناہ ہے ، اللہ تعالی سے اس بڑے گناہ کی سچے دل سے توبہ کریں ، اللہ بڑا مہربان ، بہت معاف کرنے والا ہے۔ اگر آپ کے جھوٹ بولنے سے اس آدمی کا کوئی نقصان نہیں ہوا یا آپ کے جھوٹ سے بدظنی کا بھی شکار نہیں ہوا تو خیر اسے بتلانے کی ضرورت نہیں ، جھوٹ پہ پشیمانی اور اللہ سے توبہ ہی کافی ہے لیکن اگر کچھ نقصان ہوا ہے تو اس کی تلافی ضروری ہے یا بدظنی کا شکار ہوگیا ہے تو اسے راضی کرنا ہے۔ اس کے کئے طریقے ہوسکتے ہیں ، اگر آپ کے لئے براہ راست نقصان کی تلافی یا ناراضگی دور کرنا مشکل ہے تو اس آدمی کا کوئی قریبی ساتھی منتخب کریں اور اس کے ذریعہ خوش اسلوبی سے اپنا معاملہ حل کرلیں ۔

    سوال (3): اگر بلی نے چوہا کھایا اور اس کے منہ میں خون وغیرہ لگا ہے ایسی حالت میں بلی نے برتن سے پانی یا دوھ پی لیا تو کیا وہ پانی یا دودھ پاک رہے گا یا ناپاک ہوجائے گا ؟
    جواب : نبی ﷺ نے بلی کا جوٹھا پاک قرار دیا ہے کیونکہ وہ زیادہ گھروں میں آنے جانے والی ہے ، یہ معلوم ہے کہ بلی نجاست کھاتی ہے پھر بھی آپ ﷺ نے مشقت کی وجہ سے اس کے جوٹھے کو پاک کہا ہے ۔ اگر بلی نے چوہا کھالیا ہو اور کچھ وقت گزرگیا ہوپھر کسی برتن سے دودھ یا پانی پی لیا تو وہ پانی یا دودھ پاک ہی رہے گا ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ نے کہا کہ اگر بلی چوہا یا اس جیسی چیز کھالے اور جدائی کا وقت لمبا ہوجائے تو تھوک سے اس کا منہ پاک ہوجاتا ہے ضرورت کی وجہ سے ، یہ سب سے قوی قول ہے جسے اختیار کیا ہے امام احمد اور امام ابوحنیفہ کے اصحاب کی ایک جماعت نے (کتاب الاختیارات العلمیۃ، باب ازالۃ النجاسۃ)

    سوال (4) ایک آدمی نے وضو کرکے جراب پہنا پھر کسی نمازکے وقت ان جرابوں پر مسح کیااور مسجد میں داخل ہوتے وقت جرابوں کو نکال دیا اور نماز ادا کی کیا اس کی نماز درست ہوگی، جراب نکالنے سے وضو باقی رہتا ہے؟
    جواب :صحیح قول کی روشنی میں اگر وضو کرکے جراب پر مسح کیا ہو اور مسجد میں داخل ہوتے وقت جراب اتار دیا ہو تو اس سے وضو باقی رہے گا ، اس لئے نماز درست ہے ،ہاں جراب اترنے کی وجہ سے اب دوبارہ اس پہ مسح نہیں کرسکتا ہے ۔پھر سےوضو کرکے جراب پہنے گا تو اس وقت مسح کرسکتا ہے ۔

    سوال (5): سیب کی پیداوار میں کس طرح زکوۃ نکالی جائے گی اور اس کا نصاب کیا ہے ؟
    جواب : سیب کی پیداوار میں زکوۃ نہیں ہے لیکن جو سیب کی تجارت کرتا ہوں تو مال تجارت میں نصاب تک پہچنے اور حولان حول پہ زکوۃ دے گا۔ مال میں نصاب ساڑھے باون تولہ (595 گرام) چاندی ہے ۔

    سوال (6): میرا بیٹا ایک سال کا ہے بوجوہ اسکا عقیقہ باقی ہے اسکی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں رہتی ہمیں خاندان والے کہتے ہیں کہ اس پر عقیقے کا بوجھ ہے اسلیے صحت کے مسائل ہیں بتائیے گا کیا ایسا کچھ شریعت میں موجود ہے یا یہ ایک مفروضہ ہے نیز ساتویں دن عقیقہ نہ کر سکیں تو بعد میں کرنا کیسا ہے؟
    جواب : صحت کے مسائل اس لئے نہیں ہیں کہ بچے کا عقیقہ نہیں ہوا ہے بلکہ یہ تقدیر کا حصہ ہے جو اللہ کی طرف سے پہلے سے ہی مرقوم ہے ۔ اس پر مومن کو ایمان لانا چاہئے ۔ جو کہتے ہیں کہ بچہ پر عقیقہ کا بوجھ ہے اس وجہ سے طبیعت ناساز رہتی ہے غلط خیال ہے ،اس خیال سے عقیدہ پر برا اثر پڑسکتا ہے اس لئے ایسی بات کو مردود وباطل سمجھیں ۔ جس بچے کا ساتویں دن کسی وجہ سے عقیقہ نہیں ہوسکا بعد میں بھی اس کا عقیقہ کر سکتے ہیں اکثر علماء کا یہی کہنا ہے ۔

    سوال (7): کچھ عرصہ پہلے ایک بہو نے اپنی ساس کا کچھ زیور چرائی تھی ، اس وقت ساس کا انتقال ہو گیااور اب بہو خود بڑھاپے کو پہنچ گئی ہے وہ اس گناہ کی تلافی کرنا چاہتی ہے تو اسکی کیا صورت ہے؟
    جواب : بہو کو چاہئے کہ سب سے پہلے مال مسروق میت (حقدار) کے ورثاء کو دیدے اور اس کے بعد اللہ تعالی سے سچی توبہ کرے وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔

    سوال (8): مجھے گھریلو کچھ مشکل پیش آتی ہے اس لئے میں نے ایک حافظ کو طے کردیا ہے تاکہ وہ روزانہ میرے گھر سورةالبقرہ کی تلاوت کرے، کیا میرا یہ عمل درست ہےیا پھر قرآن کی رکاڈنگ چلا سکتا ہوں ؟
    جواب : گھریلو مشکل سے بچنے کے لئے اولا انسان کو اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہئے ، جب اللہ ناراض ہوتا ہے تو اس کی زندگی اور گھر میں آفت بھیج دیتا ہے ، پھراللہ کی رضا کا کام کرنا چاہئے نیز گھر وں میں نوافل، اذکار، دعائیں اور تلاوت کا اہتمام کرنا چاہئے ، ساتھ ہی گھروں کو بری اور گندی چیزوں سے پاک بھی کرنا چاہئے ۔ کسی حافظ کو طے کرنے کی ضرورت نہیں ہے،نہ ہی روزانہ سورہ بقرہ ختم کرنا ضروری ہے خود سے جتنا میسر ہو قرآن پڑھیں یا گھر کے افراد میں سے جوبھی قرآن پڑھنا جانتے ہیں وہ سب مناسب اوقات میں کچھ نہ کچھ تلاوت کیا کریں ، قرآن کی رکاڈنگ ہوتو اس سے بھی فائدہ اٹھاسکتے ہیں ۔

    سوال (9) : میرا ایک دوست ہے اس کی منگنی اس کی کزن سے ہوئی ہے ، وہ دونوں اپنے والدین کی رضامندی سے آپس میں بات چیت کرتے ہیں ، کیا یہ گناہ کا کام تو نہیں ؟
    جواب : یقینا یہ گناہ کا کام ہے اور اللہ کی سخت ناراضگی کا باعث ہے ، اس کام کے لئے والدین کی رضامندی کوئی معنی نہیں رکھتی ، ان کی رضامندی تو بھلائی کے کاموں میں دیکھی جائے گی ۔ اس لئے لڑکا اور لڑکی دونوں کو فورا بات چیت سے ر ک جانا چاہئے یہاں تک کہ نکاح ہوجائے ۔ نیز انہوں نے آپس میں بات کرکے جو غلطی کی ہے اس سے توبہ کرنا چاہئے ۔

    سوال (10): غیر مسلم کی اولاد فوت ہوجائے تو اسے صبر کی تلقین کرنا کیسا ہے ؟
    جواب : غیر مسلم کو اس کا بچہ فوت ہو جانے پر صبر دلانے میں کوئی حرج نہیں ہے ، وہ بھی انسان ہے ، دکھ والی باتوں سے اسے بھی دکھ ہوتا ہے اور انسان ہونے کے ناطے اسے دلاسہ دینے کا حق بنتا ہے ۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ ہمارے اس اخلاق سے متاثر ہوسکتا ہے اور اسلام یا مسلمانوں کے تئیں اس کا دل نرم ہوسکتا ہے ۔ ہمارا دین یہی تو چاہتا ہے کہ اخلاق کی دعوت دیں ، نبی ﷺ اخلاق کی تکمیل کے لئے تو بھیجے گئے تھے ۔ اور اخلاق سے ہی دنیا میں اسلام پھیلا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  7. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    490
    جزاک اللّہ خیرا
     
  8. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    537
    سوشل میڈیا پہ کئے گئے حالیہ سوالات اور قرآن وحدیث سے ان کے جوابات

    جواب از شیخ مقبول احمدسلفی

    سوال(1): کیا ہندو مسجد کی صفائی کرسکتا ہے ؟
    جواب : صحیحین کی روایت سے معلو م ہوتا ہے کہ مومن نجس نہیں ہوتا ہے ، نجس تو اصل مشرک ہیں ۔ اللہ کا فرمان ہے :
    إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَٰذَا ۚ(التوبہ:28)
    ترجمہ:اے ایمان والو ! مشرک نرے ناپاک ہیں، تو اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں۔
    ہندو قوم مشرک ہے اور شرک کی غلاظت کی وجہ سے وہ نجس وناپاک ہے اس لئے مسجد کی مستقل صفائی کے کام پر کسی مسلمان کو ہی مامور کرنا چاہئے البتہ ضرورت کے تحت کفار مسجد میں داخل ہوسکتے ہیں اس بناپر کبھی کبھار ان سے صفائی کا کام لینا پڑجائے تو کوئی حرج نہیں۔

    سوال (2):عورت کا اپنے محرموں کے سامنے کھلے سر آنا کیسا ہے ؟
    جواب : عورت اپنے محرم کے سامنے جس طرح چہرہ کھول سکتی ہے اسی طرح اپنے بال بھی ظاہر کرسکتی ہے اس لئے اپنے محرموں کے سامنے کھلے سر آنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے : وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ(النور:31)
    ترجمہ: اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے ۔
    اس آیت کی روشنی میں عورت اپنے محارم کے سامنے اپنے ہاتھ ، پیر ، سر، بال اور گردن کھلا رکھ سکتی ہے ، اس لئے اپنے محارم کے سامنے کھلے سر یا کھلے بال آسکتی ہے۔

    سوال (3): ایک اکیلا نماز پڑھنے والا کسی رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا بھول گیا تو وہ کیا کرے ، نماز دہرائے یا سجدہ سہو کرے ؟
    جواب : سورہ فاتحہ نماز کا رکن ہے اگر کسی رکعت میں پڑھنا بھول جائے تو وہ رکعت شمار نہیں ہوگی لہذا اس رکعت کے بدلے منفرد ایک رکعت ادا کرے اور سجدہ سہو کرے ۔

    سوال (4): والدین یا خاندان کے کسی بڑے آدمی کی تصویر رکھنا جن کی موت ہوگئی ہو کیسا ہے ، اگر اس میں گناہ ہے تو کیا صرف رکھنے والے کو ملے گا یا میت کو بھی ؟
    جواب : اسلام میں تصویر منع ہے ، صرف ضرورت کے وقت علماء نے اسے رکھنے کا جواز فراہم کیا ہے اس لئے بلاضرورت والدین یا خاندان کے کسی بڑے میت کی تصویر رکھنا جائز نہیں ہے جو تصویر رکھے گا گناہ اس کے حصہ میں جائے گا ، اس گناہ میں میت شامل نہیں ہوگا الا یہ کہ میت نے اپنی تصویر رکھنے کا حکم دیا ہو۔

    سوال (5): قبلہ کی طرف پیر کرکے سونا کیسا ہے ؟
    جواب : سوتے وقت قبلہ کی طرف پیر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس میں کعبہ /قبلہ کی اہانت کا کوئی پہلو نہیں شامل ہے ۔ چلتے پھر تے ، اٹھتے بیٹھتے دن میں ہزاروں دفعہ قبلہ کی جانب پیر ہوتا ہے جب اس میں کوئی حرج نہیں تو سونے میں کیوں ؟ حتی کہ نماز میں قدم کا ظاہری اور اگلا حصہ کعبہ ہی کی طرف ہوتا ہے ۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے قبلہ کی جانب پیر پھیلانے کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا : اس میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی کا پیر سونے کی حالت میں قبلہ کی جانب ہو۔(فتاوى شيخ ابن عثيمين 2/ 976(

    سوال (6): آب زمزم کھڑے ہوکر اور قبلہ کی طرف منہ کرکے پینا کیسا ہے ؟
    جواب : نبی ﷺ نے زمزم کھڑے ہوکر پیا ہے اس لئے کھڑے ہوکر پی سکتے ہیں ، کوئی بیٹھ کر پئے تو اس میں بھی کوئی بات نہیں ۔ زمزم پینا ضرورت انسانی ہے کسی جانب بھی ہوکر پی سکتے ہیں اس میں قبلہ سمت ہونا کوئی شرعی حکم نہیں ہے ۔

    سوال (7): انٹرنیٹ وائی فائی کی ایجنسی لینا کیسا ہے ؟
    جواب : انٹرنیت میں مفید ومضردونوں پہلو شامل ہیں ا ور یہ اس کے استعمال پر منحصر ہے ۔ اگر کوئی اس کا استعمال منفی پہلو سے کرے تو غلط ہے مگر مثبت پہلو سے استعمال میں قطعاکوئی حرج نہیں ہے ۔ اس وقت انٹر نیٹ کا مثبت پہلو بھی بہت مستعمل ہے بلکہ اکثرحکومتی مشاغل، تجارت ، آفس اور بہت سارے دنیاوی معاملات انٹر نیٹ سے جڑے ہوئے ہیں حتی کہ مدارس ومساجد ، دینی مراکز، دعوتی شعبے اورفلاحی تنظیمات وغیرہ بھی مستفید ہورہی ہیں جوکہ اس کا مثبت پہلو ہے لہذا کسی کے لئے انٹرنیٹ وائی فائی ایجنسی لینے اورچلانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ ایک کوشش ضرور کرے کہ جو لوگ اس کا منفی استعمال کرتے ہیں ان کے برے کام میں کسی طرح کا معاون نہ بنے ۔

    سوال (8):سود کا پیسہ کسی پریشان حال مسلمان کو دے سکتے ہیں ؟
    جواب : سود اسلام میں سراسر حرام ہے البتہ وہ سود جو بنک سے ملتا ہے اس کے استعمال میں علماء کے درمیان مختلف اقوال پائے جاتے ہیں ، میری نظر میں اسے سماجی کام میں صرف کردینا زیادہ بہتر ہے ، یونہی پریشان حال مسلمان کو دینا صحیح نہیں ہے ، اس کی مدد ذاتی پیسے یاقرض حسنہ اور مستحق زکوۃ ہے تو مال زکوۃ اور صدقات سے کرسکتے ہیں ۔ ہاں کوئی مضطر ہو یعنی کسی کی جان کا خطرہ ہو تو اس وقت بنک کے سود کا استعمال کیا جاسکتا ہے ۔

    سوال (9) :کیا ماں باپ دونوں کا انتقال ہونے پر وراثت تقسیم کی جائے یا صرف باپ کے مرنے پر؟
    جواب : ماں کی میراث کا مسئلہ الگ ہے اور باپ کی میراث کا مسئلہ الگ ہے ۔ جب ماں کی وفات ہو تو ان کی میراث تقسیم کی جائے گی اور جب باپ کی وفات ہو تو ورثاء میں ان کی میراث تقسیم کی جائے گی ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب باپ کی وفات ہوجائے تو ان کا ترکہ اولاد ، بیوی اور دیگر وارثین میں تقسیم کیا جائے گا۔

    سوا ل (10): محرم میں کتنے روزہ رکھ سکتے ہیں ؟
    محرم میں دو قسم کے روزوں کا ذکر ملتا ہے ایک عمومی روزہ جس قدر چاہیں رکھ سکتے ہیں ، یہ رمضان کے بعد افضل روزے ہیں ۔ دوسرا خصوصی روزہ جسے عاشوراء کہتے ہیں جس کا ثواب پچھلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے ۔ عاشوراء کے روزہ سے متعلق افضل یہ ہے کہ نو اور دس محرم کا روزہ رکھا جائے۔ روزوں کی ان دو اقسام کے علاوہ ہرمہینہ رکھے جانے والے ایام بیض اور سوموار وجمعرات کے روزے بھی محرم میں رکھے جاسکتے ہیں ۔

    سوال (11) ہم اپنی تنخواہ میں سے ہر ماہ ڈھائی فیصد زکوۃ نکال دیتے ہیں کیا یہ صحیح ہے ؟
    جواب : مال میں زکوۃ فرض ہونے کی دوشرطیں ہیں ۔ پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نصاب تک پہنچ رہاہو اور دوسری شرط یہ ہے کہ اس پہ ایک سال کا وقفہ گزر گیا ہو۔ آپ کا اپنی تنخواہ میں سے ماہانہ ڈھائی فیصد زکوۃ نکالنا درست نہیں ہے کیونکہ وہ مال نصاب تک نہیں پہنچا ہے اور اس پہ سال بھی نہیں گزرا ہے لہذا آپ اپنی تنخواہ سے بچی رقم جو 595 گرام چاندی کی قیمت کے برابر ہوجائے اور اس پہ سال گزرجائے تب اس میں سے ڈھائی فیصد زکوۃ نکالیں ۔

    سوال (12): نئے سال کی مبارک باد دینا کیسا ہے ؟
    جواب : صحابہ کرام نئے سال کی دعائیں ایک دوسرے کو دیا کرتے تھے لہذا ہمیں صحابہ کی اقتداء میں ایک دوسرے کو " اللهم أدخله علينا بالأمن والإيمان، والسلامة والإسلام، وجوارمن الشيطان ورضوان من الرحمن۔(اے اللہ ! اس مہینے یا سال کو ہمارے اوپرامن، ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ اور شیطان کی پناہ اور رحمن کی رضامندی کے ساتھ داخل فرما) کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

    سوال (13): غیر مسلم کی شادی میں شرکت کرنا ہے ؟
    جواب : غیرمسلموں کی شادی میں عام طور سے گانے بجانے ، رقص وسرود، شراب وکباب اور عریانیت وفحاشیت دیکھنے کو ملتی ہے لہذا اس قسم کی شادی و تقریب میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے ۔ ہاں اگرشادی وتقریب ان عیوب سے پاک سے ہو تو انسانیت اور رواداری کے طور پر اس میں شرکت کرنا معیوب نہیں ہے ۔

    سوال (14): مسجد یا عیدگاہ میں اگربتی جلانا کیسا ہے ؟
    جواب : خوشبو کی چیز بدن پہ ، گھر میں اور مساجد میں استعمال کرنا جائز ہے ، نبی ﷺ نے جس طرح بدن پہ خوشبو استعمال کرنے کا حکم دیا اور بطور خاص یوم جمعہ کو، اسی طرح مسجد کو بھی کوخوشبودار کرنے کا حکم فرمایا ہے ۔
    عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ ﷺ بِبِنَاءِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ وَأَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَيَّبَ(صحيح الترمذي:594)
    ترجمہ: ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے محلوں میں مسجد بنانے، انہیں صاف رکھنے اور خوشبو سے بسانے کا حکم دیاہے۔
    اگربتی بھی خوشبو کی ایک قسم ہے اسے مسجد میں جلانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ مسلمانوں کو حرج اس لئے محسوس ہوتا ہے کہ اسے غیر مسلم کثرت سے اپنی دیوی دیوتاؤں کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ غیر مسلم پوجا میں پھول ، پلیٹ ، دھاگہ وغیرہ بھی کثرت سے استعمال کرتے ہیں بلکہ پانی کے بغیر ان کی پوجا نہیں ہوگی تو اس وجہ سے ہم پانی کا استعمال چھوڑ دیں گے ؟ نہیں ، جو چیز اصلا حلال ہے اسے غیرمسلم کثرت سے استعمال کرنے لگے تو وہ حرام نہیں ہوجائے گی ، حلال ہی رہے گی ۔

    سوال (15): ایک لڑکی نے اپنی ماں سے قرض لی تھی اب اس کی ماں وفات پاگئی ہیں تو وہ قرض کی رقم کیسے ادا کرے ؟
    جواب : بیٹی کو چاہئے کہ رقم اگر ہدیہ نہیں بلکہ قرض کے طور پر تھی تو جلد سے جلد لوٹا دے ، قرض میں تاخیر جائز نہیں اور چونکہ ماں بیٹی کا معاملہ ہے یہاں واپسی میں تاخیر ماں کے لئے ممکن کوئی تامل نہ ہولیکن معاملہ حقوق العباد کا ہے اور ماں وفات پاچکی ہے ، اب اس کی صورت یہ ہے کہ وہ رقم وارثین میں تقسیم کردی جائے اور بیٹی اللہ سے معافی طلب کرلے ۔

    سوال (16): نماز جنازہ میں ثنا پڑھنے کا حکم ؟
    جواب : صراحت کے ساتھ کسی حدیث میں نماز جنازہ میں ثنا پڑھنے کا ذکر نہیں ملتا ہے لیکن عام نمازوں پر قیاس کرتے ہوئے نماز جنازہ میں بھی ثنا پڑھ سکتے ہیں ۔

    سوال (17): لڑکی کا اجنبی مرد کو دل سے پسند کرنا جن سے واٹس ایپ کے ذریعہ دینی معلومات حاصل کرتی ہے ؟
    جواب : ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے محبت کرنا عین اسلام ہے مگر یہ محبت عشق وعاشقی اور شہوت وفحاشی سے پاک ہوتی ہے۔ایک مسلمان کی ایک دوسرے مسلمان سے محبت اللہ کی رضاکے لئے ہویہ ممدوح اور قیامت میں عرش الہی کا سایہ نصیب ہونے کا سبب ہے ۔ یہاں ایک سنگین مسئلہ سوشل میڈیا پہ اجنبی لڑکا اور لڑکا کا چیٹ کرنا، ناجائزتعلقات قائم کرنا اور فحاشی کا ارتکاب کرنا ہے ۔ یہ حرام اور اللہ کی طرف سے سخت تباہی کا باعث ہے۔ ہاں اجنبی لڑکیا ں اسلامی حدود وقیود میں رہ کر علماء کرام سے دین سیکھ سکتی ہیں اور ان سے اللہ کی رضا کے لئے محبت کرنا کوئی غلط بات نہیں ہے مگراس کا اظہار نہ کرے اور ہمیشہ یہ یاد رہے کہ خلوت میں شیطان ہوتا ہے ، نیٹ پہ کسی سے چیٹ کرتے ہوئے اللہ کا خوف ہمیشہ دل میں رکھے ،کیا پوچھنا ہے اور کیا نہیں؟ کیا کہنا ہے اور کیا نہیں ؟ شریعت کی روشنی میں دیکھے ؟ اور عام یا انجان لڑکوں سے کوئی بات ہی نہ کرے کیونکہ اس سے بات کرنا فضو ل ہےاور یہ بعد میں گناہ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

    سوال (18): کرسی پہ بیٹھ کر نماز ادا کرنے والا ٹیبل پہ سجدہ کرسکتا ہے یا زمین پر سجدہ ضروری ہے جیساکہ حدیث میں سات اعضاء زمین پہ رکھنے کا ذکر ہے ؟
    جواب : کرسی پہ نماز وہی ادا کرسکتا ہے جسے ٹھیک طریقہ سے زمین پر نماز ادا کرنے میں دشواری ہو اور ایسا مریض یا کمزور آدمی جو کرسی پہ بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہوئے زمین پر سجدہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا وہ کرسی پر ہی جس قدر ہو سجدہ کے لئے جھک جائے ۔ ٹیبل پہ بھی سجدہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر جھکنے سے گرنے کا ڈر ہو ورنہ ٹیبل کی ضرورت نہیں ۔

    سوال (19): روزانہ کنگھی کرنے کی ممانعت ہے کیا؟
    جواب : ہاں روزانہ کنگھی کرنے کی ممانعت ہے ۔ ایک صحابی بیان کرتے ہیں : نَهَى رسولُ اللَّهِ أن يمتَشِطَ أحدُنا كلَّ يومٍ(صحيح النسائي:238)
    ترجمہ:رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ہم میں سےکوئی روزانہ کنگھی کیا کرے۔
    اس لئے ایک دن ، دودن ناغہ کرکے بال میں کنگھی کرے ،ہاں اگر ضرروت پڑے تور وزانہ بھی کنگھی کرسکتے ہیں مثلا کوئی روزانہ غسل کرے تو بال سنوارنے کے لئے کنگھی کرسکتا ہے ۔ نبی ﷺ کا حکم ہے : من كانَ لَهُ شَعرٌ فليُكرمْهُ(صحيح أبي داود:4163)
    ترجمہ: جس نے بال رکھے ہوئے ہیں وہ اس کی تکریم کرے۔
    ممانعت کی اصل وجہ یہ ہے کہ بالوں پہ خواہ مخواہ وقت ضائع نہ کرے یا بلاضرورت اسی میں نہ لگا رہے ۔

    سوال (20): مجلس کے اختتام پہ سورہ صافات کی آخری آیات پڑھنا کیسا ہے جیساکہ بعض لوگوں کا عمل ہے ؟
    جواب : مجلس کے اختتام پر "سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك" کہنا چاہئے کیونکہ یہ حدیث سے ثابت ہے ۔ سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ يقول بأخَرَةٍ إذا أراد أن يقومَ من المجلسِ سبحانكَ اللهمَّ وبحمدِكَ، أشهدُ أن لا إلهَ إلا أنتَ، أستغفرُكَ وأتوبُ إليكَ ( صحيح أبي داود:4859)
    ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آخری ایام میں جب کسی مجلس سے اٹھتے تو یہ کلمات کہتے تھے«سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك»۔
    سوال میں مذکور سورہ صافات کی آخری آیات پڑھنے کا ذکر ضعیف حدیث میں ہے ۔
    من سرَّهُ أن يكتالَ من المكيالِ الأَوْفَي من الأجرِ يومَ القيامةِ ، فليَقُلْ آخرَ مجلسِه حينَ يُريدُ أن يقومَ : { سبحانَ ربِّكَ ربِّ العزَّةِ عمَّا يصفونَ ، وسلامٌ على المرسلينَ ، والحمدُ للهِ ربِّ العالمينَ }(السلسلة الضعيفة:6530)
    ترجمہ: جسے پسند آئے اور وہ قیامت کے دن اجروثواب سے لبریز پیمانے سے تولنا چاہے تو وہ مجلس سے اٹھتے وقت آخر میں کہے :
    { سبحانَ ربِّكَ ربِّ العزَّةِ عمَّا يصفونَ ، وسلامٌ على المرسلينَ ، والحمدُ للهِ ربِّ العالمينَ }
    مرسل ہونے کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے ، شیخ البانی نے اسے سلسلہ ضعیفہ میں شمار کیا ہے ۔ یہاں یہ بات بھی دھیان میں رہے کہ نماز کے بعد بھی یہ آیات کئی احادیث میں پڑھنے کا ذکر ملتا ہے مگر کوئی حدیث ضعف سے خالی نہیں ہے ۔
     
  9. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    537
    محرم الحرام 1439 میں کئے گئے بعض اہم سوالات اور مقبول احمد سلفی کے جوابات

    سوال (1): آپ ﷺ کی کتنی اولاد تھیں ، اور ان کا تذکرہ کن کن کتابوں میں موجود ہے ؟
    جواب : نبی ﷺ کی نرینہ اولاد میں قاسم ، عبداللہ اور ابراہیم ہیں اور بیٹی زینب، رقیہ ، ام کلثوم اور فاطمہ ہیں ۔ ان کا تذکرہ ان تمام کتابوں میں موجود ہے جو تاریخ اسلام یا سیرت نبوی ﷺ پر لکھی گئی ہیں ۔

    سوال(2):نبی نے جنات کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے تہدید نامہ لکھوایا جسے تہدیدی نامہ مبارک کہتے ہیں ؟
    جواب : ابودجانہ رضی اللہ عنہ کےنام سے جنات کے شر محفوظ رہنے کے لئے ایک رسالہ ملتا ہے جسے بیہقی وغیرہ نے روایت کی ہے ، اس میں اس قسم کے الفاظ ہیں ۔ بسمِ اللهِ الرَّحمنِ الرَّحيمِ . هذا كتابٌ من محمَّدٍ رسولِ ربِّ العالمينَ صلَّى اللهُ عليْهِ وسلَّمَ ، إلى من طَرقَ الدَّارَ منَ العمَّارِ والزُّوَّارِ والصَّالحينَ ، إلَّا طارقًا يطرقُ بخيرٍ يا رحمنُ . أمَّا بَعدُ : الی آخرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امام بیہقی نے اس روایت کو ذکر کرکے موضوع یعنی من گھڑت ہونے کا حکم لگایا ہے ۔ (دلائل النبوۃ : 7/119) اسی طرح ابن الجوزی نے کہا کہ بلاشک یہ موضوع ہے ۔(موضوعات ابن الجوزی: 3/427)
    حافظ سیوطی نے بھی اس روایت کو ذکر کیا ہے اور موضوع ہونے کا حکم لگایاہے ۔ (اللآلی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ: 2/348)
    لہذا اس تہدیدی نامہ مبارک کو نبی ﷺ کی طرف منسوب کرنا یا اس پرعمل کرنا یا اسے لوگوں میں پھیلانا جائز نہیں ہے ۔

    سوال (3): کیا نو اور دس محرم کو میاں بیوی ہمبستری نہیں کرسکتے ؟
    جواب : نو اور دس محرم کو بلاشبہ اپنی بیوی سے جماع کرسکتے ہیں ، اس کی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ہے جو منع کی بات کرے وہ قرآن وحدیث سے دلیل بیان کرےورنہ اللہ کا خوف کھائے ۔

    سوال (4): جس لڑکی کا نکاح ہوا مگر رخصتی نہیں ہوئی اس کا شوہرمرجائے تو اس کی عدت کیا ہے ؟
    جواب : بیوہ کی عدت چار مہینے دس دن ہیں خواہ اس کی رخصتی ہوئی ہو یا نہیں ہو۔ اللہ کا فرمان ہے :
    وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا(البقرة: 234)
    ترجمہ: اور تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن عدت میں رکھیں ۔

    سوال (5): حجامہ کن کن بیماریوں میں کیا جاتا ہے کیا شوگر کی بیماری میں کیا جاسکتا ہے ؟
    جواب :حجامہ میں بہت ساری بیماریوں کاعلاج ہے ، نبی ﷺ کے اس فرمان سے یہی معلوم ہوتا ہے :
    إن أمثَلَ ما تَداوَيتُم به الحِجامَةُ(صحيح البخاري:5696)
    ترجمہ: بہترین علاج جو تم کرتے ہو وہ پچھنا لگوانا ہے ۔
    آپ ﷺنے بہترین علاج کہہ کے کسی بیماری کو خاص نہیں کیا ہے اس سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ یہ عام طور سے تمام بیماریوں میں مفید ہے لہذا شوگر کے مرض میں بھی پچھنا لگایا جاسکتا ہے جیساکہ ماہرین حجامہ اس کے فوائد میں شوگر کا علاج بھی بتلاتے ہیں ۔

    سوال(6):میں نے سنا ہے کہ عاشوراء کا روزہ نو اور دس کو رکھنا چاہئے مگر جس نے صرف دس کا روزہ رکھا کیا اسے عاشوراء کا ثواب ملے گا ؟
    جواب : نبی ﷺ نے دس محرم الحرام کا روزہ رکھا اور نو کو رکھنے کا ارادہ کیا اس لئے بہتر نو اور دس دو دن کا روزہ رکھنا ہے مگر جو نو کا نہیں رکھ سکا صرف دس کا رکھا امید ہےکہ اللہ تعالی عاشوراء کا اجر دے گا۔

    سوال(7): کیا ایک بیوی رکھنے والا گنہگار ہے ؟
    جواب : ایک بیوی رکھنے والا قطعی گنہگار نہیں ہے بلکہ جو دویا دو سے زائد بیویوں کے درمیان عدل نہ کرسکے ان کے لئے ایک ہی بیوی بہتر ہے ۔اللہ کا فرمان ہے : فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً (النساء:3)
    ترجمہ: اگر تمھیں برابری نہ کر سکنے کا خوف ہوتو ایک ہی کافی ہے۔
    اصل میں سوشل میڈیا پہ شیخ عبداللہ بن عبدالرحمن جبرین رحمہ اللہ کا ایک فتوی گردش میں ہے جس میں کہاگیا ہے کہ ایک بیوی رکھنا گناہ ہے (مفتی عبداللہ سعودی عرب) ۔
    اس فتوی کی وجہ سے عوام میں غلط فہمی پھیل رہی ہے ۔ یہ فتوی بھی اس طرح سے نہیں ہے بلکہ پس منظر سے کاٹ کر بیان کیا گیا ہے ۔ اس فتوی میں سائل نے شیخ سےسوال کیا ہے کہ دولت شیشان میں مردوں کی بڑی تعداد جہاد میں ختم ہوگئی اور عورتوں کی کثرت ہوگئی ہے اوروہاں کے لوگوں میں تعدد ازواج یا بیوہ سے شادی معیوب مانی جاتی ہے، اس کا کیا حکم ہے؟۔اس پہ شیخ عبداللہ نے کہا کہ اللہ نے ایک سے زائد شادی کو مباح قرار دیا ہے اور صحابہ نے بھی اس سنت پہ عمل کرتے ہوئے چار تک شادی کی ہے ۔ اس بات پہ شیخ نے شریعت سے دلیل بھی پیش کی ، پھر آگے بیوہ اور مطلقہ کی کثرت ، اور بلاشادی زندگی پہ برے اثرات کا ذکر کرکے آخر میں لکھا ہے جس سے غلط فہمی پیدا ہوئی ہے وہ جملہ آپ کے سامنے ہے۔ "فمن كان قادرا على التعدد ولم يفعل ذلك مع مشاهدته وعلمه بكثرة الأرامل وتعرضهن لمن يهتك أعراضهن من الكفار قاتلهم الله، فنرى أنه آثم"(موقع ابن جبرین ڈاٹ کام ، فتوی رقم : 5080)
    ترجمہ: (ایسے حالات میں ) جسے زیادہ شادی کی طاقت ہے مگر زائد شادی نہیں کیا ، ساتھ ہی وہ ان حالات کا مشاہدہ بھی کرتا ہے اور بیوہ کی کثرت اس کے علم میں بھی ہے اور کفار کی طرف سے ان کی ھتک عزت سے بھی باخبر ہے ،اللہ کفار کو غارت کرے ، تو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ گنہگار ہے ۔
    پورے پس منظر سے بات واضح ہوجاتی ہے ۔

    سوال(8):فرض نمازوں کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں کو قیچی کی شکل میں بنانے کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : شاید سائل کا مقصود دعا کے لئے اس طرح ہاتھ اٹھانے سے متعلق ہو، اولا آدمی کو فرض نماز کے فوراً بعد دعا کے لئے ہاتھ نہیں اٹھانا چاہئے بلکہ نماز بعد کے جو اذکار ہیں انہیں پڑھ کر چاہے تو انفرادی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرسکتا ہے ۔ دعا کرنے میں دونوں ہاتھوں کو کشادہ کرکے چہرہ تک آسمان کی طرف اٹھانا چاہئے ۔

    سوال(9):اللہ عرش پہ ہے اور رات کے تہائی حصہ میں آسمان دنیا پہ نزول کرتا ہے اور یہ حقیقت ہےکہ دنیا میں کہیں نہ کہیں ہروقت رات رہتی ہوگی تو پھراللہ عرش پہ کیسے ہوا؟
    جواب : ایمان والوں کواللہ اور اس کے رسول کے کلام پر ایمان لانا چاہئے اور اس قسم کے شکوک وشبہات سے بچنا چاہئے ، اگر ایسے شبہات گھڑے جائیں تو بہت ساری باتوں پہ اس قسم کے شبہات پیدا ہوسکتے ہیں مثلا دنیا میں بےشمار موت ہوتی ہے ،ملک الموت ایک ہے جو سب کے پاس جاکر روح قبض کرتا ہے یہ کیسے ممکن ہے ؟ موت کے بعد پھر فرشتے روح لے کر جاتے ہیں تو فرشتے کہاں کہاں موجود ہوتے ہیں ؟ اس قسم کے سوالات اٹھانا ایمان والوں کا کام نہیں ہے ۔ ہمارا ایمان ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرح ہونا چاہئے جب کفار مکہ نے پوچھا کہ تمہارا ساتھی کہتا ہے کہ میں آسمان پر گیا تھا کیا یہ صحیح ہے؟ تو ابوبکررضی اللہ عنہ نے عقل سے سوال پہ غور نہیں کیا بلکہ کہا کہ اگر یہ بات محمد ﷺ کی ہے تو سچ ہے ۔ اسی طرح یہاں آسمان دنیا پہ اللہ کے نزول پہ ایمان لانا چاہئے ۔نزول کی کیفیت کیا ہے ہمیں نہیں معلوم ,جس طرح ملک الموت کا ایک وقت میں ہزاروں لوگوں کی روح قبض کرنے کی کیفیت ہمیں نہیں معلوم۔ اللہ تعالی کےنزول کی کوئی مثال نہیں ،اس کے نزول کو مخلوق کے مشابہ قرار دینا صفات باری پر ایمان لانے کے منافی ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے :لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ(الشورى :11)
    ترجمہ: اس جیسی کوئی چیز نہیں ، وہ سننے اور دیکھنے والاہے۔
    اوراللہ تعالی کا فرمان ہے :
    فَلا تَضْرِبُوا لِلَّهِ الأَمْثَالَ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ (النحل :74)
    ترجمہ: پس اللہ کے لئے مثالیں مت بناؤ ،اللہ تعالی خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔

    سوال(10): اپنے رشتہ داروں کو زکوۃدینے پہ پوچھتے ہیں کہ کیا یہ زکوۃ کی رقم ہے ،وہ محتاج بھی ہیں مگر جب زکوۃکی رقم معلوم ہوجائے تو نہیں لیتے ایسے میں کیا کرنا چاہئے ؟
    جواب : ویسے زکوۃ بغیر بتلائے بھی مستحق کو دے سکتے ہیں مگر دینے والے سے مال کی حقیقت کوئی دریافت کرے تواسے بتلانا چاہئے کہ یہ زکوۃ کی رقم ہے ، اسکے بعد یا وہ قبول کرے یا رد کرے ۔

    سوال (11):غیر صحابہ کے لئے رضی اللہ عنہ کا استعمال کیسا ہے ؟
    جواب : رضی اللہ عنہ کا استعمال علماء نے غیر صحابہ کے لئے بھی جائز کہا ہے مگر دو امر کا خیال ضروری ہے کہ یہ لفظ ایسے اولیاء، صالحین، ائمہ،متقین اور اللہ کے نیک بندوں کے لئے استعمال کرنا چاہئے جو دیانت ومرتبہ میں لوگوں میں معروف ہو اوردوسری بات یہ کہ اندھی تقلید میں کسی خاص مسلکی امام یا شخص کے لئے استعمال نہ کیا جائے جنہیں دوسرے لوگوں پر برتری دکھا کر لوگوں کو تقلید کی دعوت دی جائے ۔ اس دوسرے امر کی وجہ سے میری نظر میں رضی اللہ عنہ کا محتاط استعمال یہ ہے کہ اس صرف صحابہ کے لئے لکھا جائے تاکہ لوگوں میں مسلکی اختلاف کی وجہ سے جو فرقہ پرستی کا ماحول بناہے وہ کم ہو۔

    سوال(12): کیا رمضان کے چھوٹے ہوئے روزے سوموار اور جمعرات یا ایام بیض میں رکھے جاسکتے ہیں ؟
    جواب : رمضان کے چھوٹے ہوئے روزے سوموار ، جمعرات اور ایام بیض کو رکھ سکتے ہیں اور ان شاء اللہ اس سے دہرا اجر کی امید ہے ۔ ایک نفلی اور دوسرا قضا ۔

    سوال(13):"اللھم خر لی واخترلی " دعا کیسی ہے ؟
    جواب : یہ دعا ترمذی میں وارد ہے ،ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:أنَّ النَّبيَّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ كانَ إذا أرادَ أمرًا قالَ اللَّهُمَّ خَرْ لي واختَرْ لي(سنن الترمذي)
    ترجمہ: رسول اللہ ﷺ جب کسی کام کا ارادہ کرتے تویہ دعا فرماتے :اللَّهُمَّ خِرْ لِي وَاخْتَرْ لِي۔
    اس حدیث کو شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے ۔ (ضعيف الترمذي:3516)

    سوال(14):ہمارے یہاں آج کل یہ تجارت ہے کہ ایک آدمی دوسرے سے 1200 روپئے کنٹل چاول بیچتا ہے پھر اس سے وہ شخص چار ماہ بعد 1500 روپیے کنٹل کا سودا طے کرتا ہے کیا ایسا صحیح ہے ؟
    جواب : چار ماہ بعد کا سودا ابھی طے کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ مارکیٹ میں اشیاء کی قیمت گھٹتی او ر بڑھتی رہتی ہے ، کسی کو معلوم نہیں کہ چارماہ بعد اشیاء کی کیا قیمت ہوگی اس لئے ابھی سے طے کرکے خرید وفروخت کرنا یا خرید نے کے لئے بیع متعین کرلینا جائز نہیں ہے ۔

    سوال(15):ایک غیرمسلم عورت ہے جو معذور ہے ، اسکے والدین دن میں بھیک مانگنے چلے جاتے ہیں کیا کوئی مسلمان مرد اس معذور عورت کی خدمت کرسکتا ہے ؟
    جواب : اسلام کافروں سے بھی رواداری اور حسن سلوک کا حکم دیتا ہے ، اس لئے کسی مسلمان مرد کا غیر مسلم معذور خاتون کی خدمت کرنا اخلاق کریمہ ہے ، خدمت کے لئے شرعی پاس ولحاظ ضروری ہے۔

    سوال(16):میرے یہاں کرناٹک کے قریب محرم کے موقع سے دس روزہ میلہ لگتا ہے اس میں بچوں کے کھلونے اور جھولے وغیرہ ہوتے ہیں کیا ہم اپنے بچوں وہاں لے جاسکتے ہیں ؟
    جواب : اسلام میں تعزیہ منانا جائز نہیں ہے جو لوگ تعزیہ مناتے ہیں وہ سراسر اسلام کے خلاف کرتے ہیں ۔ اس کی مناسبت سے میلہ لگانا بھی تعزیہ کی طرح ناجائز ہے اور اس میلہ میں شرکت کرنا گناہ کے کام پر تعاون ہے اس لئے کسی موحد کو اس قسم کے میلہ میں شریک نہیں ہونا چاہئے ۔

    سوال(17): میت کی قبر میں قرآن پڑھنے والی یہ حدیث کیسی ہے ؟ "إذا ماتَ أحدُكم فلا تحبِسوهُ ، وأسرِعوا بهِ إلى قبرِهِ ، وليُقرَأْ عندَ رأسِه بفاتحةِ الكتابِ ، وعندَ رجلَيهِ بخاتمةِ البقرةِ في قبرِه"۔
    جواب : بیہقی میں یہ روایت ہے کہ : إذا ماتَ أحدُكم فلا تحبِسوهُ ، وأسرِعوا بهِ إلى قبرِهِ ، وليُقرَأْ عندَ رأسِه بفاتحةِ الكتابِ ، وعندَ رجلَيهِ بخاتمةِ البقرةِ في قبرِه(بيهقي)
    ترجمہ: جب تم میں سے کسی کی موت ہوجائے تو اسے مت روکو ،جلدی سےقبر لے جاؤ، اور اس کے سر کے پاس سورہ فاتحہ اور پیر کے پاس سورہ بقرہ کی آخری آیات قبر میں پڑھنی چاہئے ۔
    اس حدیث کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے بہت ہی ضعیف کہا ہے۔ (السلسلۃ الضعیفۃ : 4140)

    سوال(18):مذی پاک ہے یا ناپاک اور کپڑے میں لگ پہ اس کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : مذی ناپاک اور ناقض وضو ہے ، جس جگہ لگ جائے اسے دھونا ضروری ہے ۔

    سوال(19):غیرشرعی دعوت پہ جانے کا حکم مثلا گود بھرائی کی رسم ، لڑکی کی رخصتی کے لئے بارات کا فنکشن وغیرہ
    جواب: جو دعوت غیر شرعی ہو اس میں شریک ہونا غیر شرعی کام پر تعاون ہے اور اللہ نے گناہ کے کام پر تعاون کرنے سے منع کیا ہے لہذا اس میں شریک نہیں ہونا چاہئے۔

    سوال(20):تبلیغی ، بریلوی یا جماعت اسلامی کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : ایک قاعدہ سمجھ لیں کہ ایسا کلمہ گو امام جس کے یہاں اسلام سے خارج کرنے والی کوئی بات نہیں ہے۔وہ نہ تو بدعت مکفرہ یعنی ایسی بدعت جو اسلام سے نکال دے کا ارتکاب کرتا ہے مثلا حلال کو حرام اور حرام کو حلال قراردینا اور نہ ہی شرک اکبر میں ملوث ہے مثلا غیراللہ سے فریاد کرنا تو اس کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں خواہ وہ تبلیغی ہو، یا بریلوی ہو یا جماعت اسلامی ۔

    سوال(21):حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی کنیت کیا تھی؟
    جواب : حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوعبداللہ تھی ۔

    سوال(22):کیا نومولود کے بال کے برابر صدقہ کا پیسہ مسجد میں دے سکتے ہیں ؟
    جواب : نومولود کی طرف سے سرمنڈاکر اس کے بال کے برابر صدقہ کرنا مسنون ہے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
    عقَّ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ عنِ الحسَنِ بشاةٍ وقالَ يا فاطمةُ احلِقي رأسَهُ وتصدَّقي بزنةِ شعرِهِ فضَّةً قالَ فوزنتْهُ فَكانَ وزنُهُ درْهمًا أو بعضَ درْهمٍ(صحيح الترمذي:1519)
    ترجمہ: رسول اللہ ﷺنے حسن کی طرف سے ایک بکری عقیقہ کیا، اورفرمایا:' فاطمہ ! اس کا سرمونڈدواوراس کے بال کے برابرچاندی صدقہ کرو'، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس کے بال کو تولا تو اس کا وزن ایک درہم کے برابریا اس سے کچھ کم ہوا۔
    صدقہ کا پیسہ مسجد میں لگاسکتے ہیں اس وجہ سے نومولود کے بال کے برابر صدقہ مسجد میں لگانے میں حرج نہیں ہے ۔

    سوال(23):کیا شیئر مارکیٹ میں حصہ لے سکتے ہیں ؟
    جواب : شیئر مارکیٹ اگر سود، دھوکہ اور حرام چیزوں کی تجارت سے پاک ہو تو اس میں حصہ لے سکتے ہیں ۔

    سوال(24):وضو کرتے وقت کہنیو کو دھونا ہے تو نیچے سے اوپر کی طرف پانی لے جانا ہے یا اوپر سے نیچے کی طرف ؟
    جواب : اس میں کوئی حرج نہیں کہ پانی اوپر سے نیچے لے جایا جائے یا نیچے سے اوپر ،اصل یہ ہے کہ ہاتھ مکمل طور پر بھیگ جانا چاہئے ۔

    سوال(25)بعض جگہوں پر مثلا سعودی عرب میں گاڑی کا انشورنس کروانا ضروری ہے کیا ہم اس کام پہ گنہگار ہوں گے ؟
    جواب : اکثر علماء کی رائے ہے کہ تجارتی انشورنس کی تمام اقسام حرام ہیں کیونکہ اس میں دھوکہ کے ساتھ ساتھ سودی پہلو بھی شامل ہے لہذا گاڑی کا انشورنس کروانا بھی جائز نہیں ہے البتہ جبری انشورنس کرنے سے آدمی معذور ہے ، وہ گناہگار نہیں ہوگا۔

    سوال(26):کیا سونے کے بعد اٹھنے پہ حمام جانا ضروری ہے کیونکہ ہوسکتا ہے ہوا خارج ہوگئی ہو ؟
    جواب : ہوا خارج ہونے سے استنجا کی ضرورت نہیں ہے بلکہ نماز کے لئے صرف وضو کی ضرورت ہے کیونکہ ہوا خارج ہونا ناقض وضو ہے ،اس لئےنماز کے وقت وضوکرنا کافی ہے ، پاخانہ کی جگہ دھونے کی ضرورت نہیں ہے۔

    سوال (27)فرض نماز کے بعد مصلی انگلیوں میں انگلی ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں اس کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : اسے تشبیک کہتے ہیں ، یہ حالت نماز میں منع ہے مگر نمازکے بعد اگر کرے تو حرج نہیں ہے جیساکہ بخاری ومسلم کی ایک روایت میں نماز کے بعد نبی ﷺ سے تشبیک کرنے کی دلیل ملتی ہے ۔

    سوال (28) : ایک دو لاکھ روپئے مکان مالک کو دے کر بغیر کرایہ مکان میں رہنا کیسا ہے ؟
    جواب : اگر یہ ایک دو لاکھ بطور قرض دیا ہے تو مکان سے فائدہ اٹھانا ہوا جو کہ سود میں داخل ہے اور یہ ایک دو لاکھ مکان میں رہنے کے طور پر دیا ہے تو یہ کرایہ ہی کی شکل ہے اس صورت میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

    سوال (29): عاشوراء کے روزہ سے گناہ کبیرہ معاف ہوتے ہیں یا گناہ صغیرہ ؟
    جواب : عاشوراء کا روزہ صرف گناہ صغیرہ کا کفارہ ہے اور گناہ کبیرہ کے لئے سچی توبہ کرنا ضرروی ہے تبھی معاف ہوگا۔جن لوگوں نے کہا کہ ایک سال کے پورے گناہ خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ سب معاف ہوجاتے ہیں وہ غلط کہتے ہیں ۔

    سوال (30): ہمارے لوگ اینٹ کی خرید اس طرح کرتے ہیں کہ آج جو قیمت ہے اس کے حساب سے جتنی اینٹ چاہئے ادا کردیتے ہیں اور پھر پانچ سال یا دس سال جب چاہے اتنی اینٹ بھٹے والے سے لے لے ، کیا یہ صورت جائز ہے ؟
    جواب : مستقبل میں کیا ہونے والا ہے کوئی نہیں جانتا ، ایک لمحہ کی کسی کو خبر نہیں ہے اس لئے اس قسم کی تجارت سے ایمان والوں کو دور رہنا چاہئے ۔ اسلام میں بیع کا طریقہ یہ ہے کہ جو چیز لینی ہو اس کی قیمت طے کرکے وہ چیزاپنے قبضہ میں کرلی جائے مگر یہاں اینٹ کا تعین اور اس پہ قبضہ مفقود ہے نیز کب اینٹ لینی ہے وہ میعاد بھی متعین نہیں ہے۔مان لیں چند سال بعد فیکٹری مالک دوسری قسم کی اینٹ تیار کرنے لگے یا کاروبار میں گھاٹہ یا اس کی موت ہوجانے سے فیکٹری بند ہوجائے توپھر کیا ہوگا؟ اسلام اس قسم کے مشکوک وپرخطر تجارت سے پاک ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    537
    میت کے چھوٹے روزے اور حج کی قضا

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته


    کچھ سوالات ہیں جو میرے ذہن میں کھٹک رہے ہیں آپ کو جب فرصت ملے تو ان کے جوابات ضرور بهیجیں میں آپ کا ممنون و مشکور ہوں گا۔

    1 - ایک ایسا شخص جس نے بغیر کسی عذر کے رمضان المبارک کے پانچ روزے چھوڑ دیئے اور کچھ ہی دنوں بعد اس کا انتقال ہوگیا تو کیا اسکے چھوڑے ہوئے روزے ایصال ثواب کیلئے رکھے جائیں گے؟

    2 - ایک ایسا شخص جس کے پانچ فرض روزے بیماری کی وجہ سے یا سفر کی وجہ سے چھوٹ گئے اور پهر اس کا انتقال ہوگیا تو کیا اسکی طرف سے وہ 5 روزے ایصال ثواب کیلئے رکھے جائیں گے؟

    3 - ایک ایسا شخص جس کے اوپر حج فرض ہو چکا تھا مگر اس کے باوجود اس نے حج کی ادائیگی نہیں کی اور اس دنیا سے چلا گیا تو کیا اسکی طرف سے ایصال ثواب کیلئے حج کیا جائے گا

    اور اگر ہاں تو یہ سارے اعمال کون کرے گا اسکی اپنی اولاد یا پهر کوئی بھی کرسکتا ہے ؟۔

    سوالات بذریعہ واٹس ایپ بواسطہ شیخ عبدالغفار سلفی مہراج گنج


    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    جواب (1): جس نے سستی یا غفلت میں جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے پانچ روزہ چھوڑا اس حال میں کہ وہ روزہ کی فرضیت کا منکر نہیں ہے تو علماء کے صحیح قول کی روشنی میں اس کے ذمہ ان پانچ روزوں کی قضا لازم ہے ، ساتھ ہی بغیر عذر کے روزہ ترک کرنے سے گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا ہے اس وجہ سے سچی توبہ کرنا بھی ضروری ہے ۔ اس مسئلہ کو سامنے رکھتے ہوئے میت کے چھوٹے ہوئے پانچ روزے رکھے جائیں گے ۔ اور یہ روزہ میت کا ولی یعنی سرپرست وذمہ دار یا اس کی اولاد میں سے کوئی ایک یا سبھی اولاد مل کر رکھیں گے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    من مات وعليه صيامٌ, صام عنه وليُّه.( صحيح البخاري:1952، صحيح مسلم:1147)
    ترجمہ: جو شخص اس حالت میں فوت ہو کہ اس کے ذمہ روزے تھے تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھے گا۔
    کچھ علماء نے کہا ہے کہ عمدا روزہ چھوڑنے کی قضا نہیں مگر معاملہ میت کا ہے رکھنا بہتر معلوم ہوتا ہےتاکہ اللہ کے فضل سے اسے کچھ فائدہ ہوجائےاور کچھ لوگ میت کی طرف سے صرف نذر کے روزے رکھنا جائز قرار دیتے ہیں رمضان کے چھوٹے روزے نہیں ۔ ان کا کہنا ہےکہ رمضان کے چھوٹے ہرروزہ کے بدلے مسکین کو نصف صاع اناج صدقہ کرے مگر احادیث کے عموم سے رمضان کے روزوں کی قضا ہی بہتر ہے گوکہ صدقہ دینے سے بھی کفایت کرجائے گا۔

    جواب (2): ایسا میت جس نے بیماری یا سفر کی وجہ سے پانچ روزے چھوڑ دئے اور اسی بیماری میں وفات ہوگئی یعنی قضا کی مہلت نہیں ملی تو نہ میت کے ذمہ کچھ ہے اور نہ ہی اس کے وارثین کے ذمہ ۔ یہ اللہ کا فضل ہے اور اس کا فضل بہت وسیع ہے ۔ لیکن وہ میت جس سے رمضان کے کچھ روزے چھوٹ گئے اور انہیں قضا کی مہلت ملی مگر کسی عذر سے قضا نہ کرسکا تو پھر ان روزوں کی قضا وارثین کے ذمہ ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے :
    فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ(البقرۃ:184)
    ترجمہ : اورجوکوئی مریض ہو یا پھر مسافر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔
    اور نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    من مات وعليه صيامٌ, صام عنه وليُّه.( صحيح البخاري:1952، صحيح مسلم:1147)
    ترجمہ: جو شخص اس حالت میں فوت ہو کہ اس کے ذمہ روزے تھے تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھے گا۔
    مسند احمد کی روایت میں صاف لفظ رمضان کے روزوں کی قضا کا ذکر ہے ۔
    أتتهُ امرأةٌ فقالت : إنَّ أمي ماتت وعليها صومُ شهرِ رمضانَ أَفَأَقْضِيهِ عنها قال : أرأيتُكِ لو كان عليها دَيْنٌ كنتِ تقضيهِ قالت : نعم قال : فَدَيْنُ اللهِ عزَّ وجلَّ أَحَقُّ أن يُقْضَى( مسند أحمد)
    ترجمہ: ایک عورت نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی، میری امی فوت ہوگئی ہیں ، ان پررمضان کے ایک مہینے کے روزے ہیں ، کیا میں ان کی طرف سے قضاکروں ؟ آپﷺ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اس پر قرض ہوتا تو تم ادا کرتی؟ تو انہوں نے کہا ۔ہاں ۔ آپ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کا قرض ادائیگی کا زیادہ حق رکھتا ہے۔
    بعض محدثین نے رمضان کا لفظ نقل کرنے والوں کی خطا قرار دیا ہے مگر علامہ احمد شاکرنے مسند احمد کی تحقیق میں اس لفظ کو ثابت مانا ہے اور اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے ۔ دیکھیں :( المسند ،تحقیق احمد شاکر: 5/141)
    یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی وارد میں ہے مگر رمضان کا لفظ نہیں ہے اس سے ظاہر ا معلوم ہوتا ہے کہ دو الگ الگ واقعہ ہوگا ایک مرتبہ عورت نے سوال ہو اور دوسری مرتبہ مرد نے سوال کیا ہو۔ نیز اس روایت اور دیگر روایت کے عموم کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جائے گا کہ میت کے چھوٹے روزوں کی قضا ہے ۔

    جواب (3): مسلمان کو جب حج کرنے کی مالی استطاعت ہوجائے اسے فورا حج کرنا چاہئے کیونکہ غفلت وسستی سے تاخیر کرنے پر گنہگار ہوگااور اس حال میں وفات ہوجائے تو ایک فریضہ کی ادائیگی کا تارک مانا جائے گا مگر جس کے پاس عذر ہو تو اس کے ذمہ کوئی گناہ نہیں اور ایسا میت جس پر حج فرض تھا مگر سستی یا عذر کی وجہ سے حج نہیں کرسکا تو بعد میں اس کے ولی کو چاہئے کہ وہ خود میت کے پیسےسے حج کرے یا کسی دیانتدار مسلمان سے حج بدل کرائے ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
    أنَّ النَّبيَّ صلى الله عليه وسلم سمعَ رجلاً يقولُ: لبَّيْكَ عن شبرمة. قالَ: من شبرمةَ؟ قالَ: أخٌ لي أو قريبٌ لي. قالَ: حججتَ عن نفسِكَ؟ قالَ: لا. قالَ: حجَّ عن نفسِكَ ثمَّ حجَّ عن شبرمةَ.(صحيح أبي داود:1811)
    ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سنا کہ وہ کہہ رہا تھا لبيك عن شبرمة( میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:شبرمہ کون ہے ؟ تواس نے کہا کہ میرا بھائی ہے یا قریبی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:کیا تم نے اپنی طرف سے حج کر لیا ہے ؟ اس نے کہا ، نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اپنی طرف سے حج کرو ، پھر شبرمہ کی طرف سے کرنا ۔
    اسی طرح میت کی طرف سے بخاری شریف کی یہ روایت بھی دلیل ہے جو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
    أنَّ امرأةً من جُهينةَ، جاءت إلى النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ فقالت : إن أمي نذرت أن تحجَّ، فلم تحج حتى ماتت، أفأحجُّ عنها ؟ قال : نعم، حجي عنها، أرأيتِ لو كان على أمكِ دينٌ أكنتِ قاضيتِة ؟ . اقضوا اللهَ، فاللهُ أحقُّ بالوفاءِ .(صحيح البخاري:1852)
    ترجمہ: قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ میری والدہ نے حج کی منت مانی تھی لیکن وہ حج نہ کرسکیں اور ان کا انتقال ہو گیا تو کیا میں ان کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ان کی طرف سے تو حج کر۔ کیا تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا نہ کرتیں؟ اللہ تعالیٰ کا قرضہ تو اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اسے پورا کیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ کا قرض ادا کرنا بہت ضروری ہے۔
    یہاں یہ بات یاد رہے کہ اگر میت کے اوپر حج فرض تھا مگر اس نے ادا نہیں کیاتو اس کے وارثین میں سے کوئی جس نے پہلے اپنا حج کرلیا ہو وہ میت کے مال سے میت کی طرف سے حج ادا کرے گا خواہ میت نے حج کی وصیت کی ہو یا نہ کی ہو ۔ اگر وارثین میں سے کسی نے پہلے اپنا حج نہیں کیا ہو تو کسی دوسرے ایسے دیانتدار مسلمان سے حج بدل کرایا جائے گا جو پہلے اپنا حج کر چکا ہو۔

    واللہ اعلم
    کتبہ
    مقبول احمدسلفی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں