واٹس ایپ گروپ" اسلامیات" کے سوالات اور ان کے جوابات

مقبول احمد سلفی نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏جولائی 26, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    جوابات از: مقبول احمدسلفی

    (1) غیرمسلم کو عربی پڑھا نامثلا قرآن یا نورانی قاعدہ کیساہے ؟
    جواب : غیرمسلم کو عربی زبان سکھانے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن قرآن سکھانے کی بابت علماء نے کہا ہے کہ جو اسلام کی طرف مائل ہو اور جس سے اسلام کی امید ہو اسے قرآن سکھایا جائے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
    وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْلَمُونَ (التوبة :6(
    ترجمہ: اگر مشرکوں میں سے کوئی تجھ سے پناہ طلب کرے توتواسے پناہ دے دے یہاں تک کہ وہ کلام اللہ سن لے پھر اسے اپنی جائے امن تک پہنچادے ۔ یہ اس لئے کہ یہ لوگ بے علم ہیں ۔
    اگر کسی غیرمسلم کو کلام اللہ سنانے یا سکھانے کا فائدہ ہے تو اسے اللہ کا کلام سنانا اور سکھانا چاہئے ۔

    (2) گجرات میں سیلاب ہونے کی وجہ سے ایک مولوی نےمسند احمد کے حوالے سے یہ دعا پڑھنے کی نصیحت کی ہے کیا یہ ہے صحیح ہے ؟ اللهمَّ إِنَّي أعوذُ بكَ مِنْ شرِّ الأعميَيْنِ : السيلُ والبعيرُ الصؤولُ .
    ترجمہ: اے اللہ ! دو اندھی چیزوں کی برائیوں سے یعنی سیلاب اور بدکے ہوئے اونٹ سے حفاظت فرما۔
    جواب :یہ دعا طبرانی اور مجمع الزوائد میں موجود ہے، ہیثمی نے کہا کہ اس میں عبدالرحمن بن عثمان حاطبی ضعیف ہے ۔ (مجمع الزوائد:10/147)
    شیخ البانی نے ضعیف الجامع میں ضعیف اور سلسلہ ضعیفہ میں منکر کہا ہے ۔ (دیکھیں : ضعيف الجامع:1200،السلسلة الضعيفة: 29/14)

    (2) کون سی نماز کے ساتھ قضا نماز اور نوافل نہیں پڑھ سکتے ؟
    جواب : سوال کچھ گنجلک ہے مگر میرے جواب سے سوال کو متعین کیا جاسکتا ہے ۔ فرض نماز کے ساتھ فرض تو ادا ہوگا ہی ،قضا اور نفل بھی ادا کرسکتے ہیں جیسے کہ عصرکی نماز ہورہی ہے تو جس نے عصرکی نماز نہیں ادا کی ہے وہ عصر کی نیت سے جماعت میں شامل ہوگا ، جس نے ظہر کی نماز نہیں ادا کی تھی وہ ظہر کی نیت سے عصر کی نماز میں شامل ہوگا یہ اس کی قضا نماز ہوگی۔اور اگر کوئی آدمی مسافر ہونے کی حیثیت سے ظہروعصر دونوں پڑھ لی ہووہ چاہے تو عصر کی جماعت میں شامل ہوجائے نفل کا ثواب ملے گا۔ اسی طرح نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز، قضا نمازاورنفل نماز پڑھ سکتے ہیں ۔ اس کی مثال یوں سمجھ لیں کہ تراویح کی نماز ہورہی ہے اور کسی نے عشاء کی نماز نہیں پڑھی ہے تو وہ اس میں شامل ہوکر عشاء کی فرض نماز پڑھ سکتا ہے ، مغرب کی قضا کی نیت سے بھی اس میں شامل ہوسکتے اورتراویح کی نفل میں نفل کی حیثیت کی سے شامل ہونا تو ہے ہی ۔

    (4)کیا واقعی زمزم کا پانی خراب نہیں ہوتا، جو زمزم میرے پاس دو تین سال پہلے کا ہے اس کا استعمال کرسکتے ہیں ؟ اور جو زمزم میں دوسرا پانی ملادیا ہے اسے بھی سالوں بعد استعمال کرسکتے ہیں؟
    جواب : عام کنواں کا پانی چند سالوں میں بدل جاتا ہے مگر زمزم کا کنواں ہزاروں سال پرانا ہے اس کے پانی کے ذائقہ میں ذرہ برابر تبدیلی پیدا نہیں ہوئی، اول وقت سے جوں کا توں ہے۔یہ زمزم کی بہت بڑی خصوصیت ہے یہی وجہ ہے کہ کنواں سے زمزم باہر نکال کر بھی سالوں ذخیرہ کرسکتے ہیں اس میں بیکٹریا سے حفاظت کا الہی سامان موجود ہے ۔ آپ سالوں پرانے زمزم کو استعمال کرسکتے ہیں اور اسے بھی استعمال کرسکتے ہیں جس میں دوسرا پانی ملادیا گیا ہو،جس میں زمزم ملایا جائے اس میں زمزم کی خصوصیت غالب ہوجاتی ہے۔ یہاں ایک مشورہ دوں گا کہ زمزم کو خالص ہی اسٹور کریں بھلے ہی پینے کے وقت کچھ ملالیں ۔

    (5) کیا زمزم کا پانی زیادہ ہو تو اس سے کھانا بنا سکتے ہیں ؟
    جواب : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، زمزم فضیلت والا پانی ہے اس میں شفا بھی ہے ۔ خالص پینے سے ، ملاکر پینے سے یا کھانے میں استعمال کرنے سے شفا اپنی جگہ باقی رہے گا۔

    (6) تصریح کے بغیر حج کرنا کیسا ہے اور جو لوگ ذی القعدہ کے مہینے میں مکہ میں داخل ہوجاتے ہیں اور حج کے ایام میں مکہ سے ہی احرام باندھ کر حج کرتے ہیں اس سلسلے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : شوال ، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کو اشھر حج (حج کے مہینے) کہا جاتا ہے ، ان تین مہینوں میں کوئی آدمی مکہ کا سفر کرے اس حال میں کہ اس کا ارادہ حج کا ہے تو اسے میقات سے ہی احرام باندھنا ہوگا ۔ جو بغیر احرام کے میقات سے گزرگیا اور مکہ سے احرام باندھ کر حج کیا اسے دم دینا ہوگا۔ رہا مسئلہ تصریح کا تو یہ قانونی چیز ہے جوکوئی بغیرتصریح کے حج کرتاہے وہ سعودی قانون کی مخالفت کرتا ہے البتہ بغیر تصریح کے کیا گیا حج درست ہے ، نبی ﷺ نے اور صحابہ کرام نے بغیر تصریح کے حج کیا۔ یہ آج کا قانون ہے اور اس میں لوگوں کی بھلائی ہے لہذا قانونی اعتبار سے حج کرنا چاہئے۔

    (7) میرے دادا جی ضعیف ہیں ، انہوں نے ضعیفی کی وجہ سے رمضان کا روزہ نہیں رکھا تو کیا ان کے ورثاء آپس میں تقسیم کرکے چھوٹے ہوئے روزے رکھ سکتے ہیں یا ہدیہ دینا پڑے گا؟
    جواب : جب کوئی ضعیفی کی وجہ سے رمضان کا روزہ نہ رکھ سکے تو رمضان میں ہی وہ ہرروزہ کے بدلے ایک مسکین کو کھانا دے دیا کرے ، یعنی مسکین کو کھانا دینے کا کام رمضان میں ہی ہوجانا چاہئے اب تاخیر ہوگئی ہے پھر بھی امسال انتیس یا تیس جتنے روزے ہوئے ہوں اتنے دن کے حساب سے مسکین کو کھانا دیدے ۔فدیہ نصف صاع یعنی ڈیڑھ کلو اناج چاول یا گیہوں دینا ہے ۔اس کے بدلے پیسہ دینا کفایت نہیں کرے گا ۔

    (8) کپورے کھانے کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : کپورے کھانے کی ممانعت نہیں ہے ، حلال جانور کے ساتھ اعضاء ((بوقت ذبح بہنے والاخون،شرمگاہ، کپورے(خصیتین)،غدود، اگلی شرمگاہ،مثانہ،پتہ))کھانے کی ممانعت والی کوئی روایت صحیح نہیں ہے ، حلال جانور کا ذبح کے وقت بہنے والا خون حلال نہیں باقی سب حلال ہے ۔

    (9) میت کی طرف سے قربانی کرسکتے ہیں کہ نہیں مثلا دادادادی، نانانانی وغیر ہ
    جواب: میت کی طرف سے مستقل قربانی کرنے کا ثبوت نہیں ہے اس لئے دادا دادی اور نانانانی کی طرف سے مستقل قربانی نہیں کرسکتے لیکن اپنی قربانی میں شریک کرسکتے ہیں جیساکہ نبی ﷺ نے اپنی قربانی میں اپنی امت کو شریک کیا تھا۔

    (10)میرا ایک غیراہل حدیث رشتہ دار اہل حدیث سے بہت متاثرہے ،سالوں سے پورے رمضان کا عمرہ کرنے جاتا ہے وہ حرم کے اعمال کے متعلق پوچھتا رہتاہے ،ایک سوال اسے کھٹکتا ہے اس نے ایک سعودی کو دیکھا جو ہمیشہ فجر کی اذان ہوتے ہی پانی پیتا ہے اس کا کہنا ہے کہ یہ سنت رسول ہے ، کیا یہ درست ہے ؟
    جواب : اللہ تعالی سے دعا ہے کہ آپ کے ساتھی کو سیدھی سچی راہ چلائے ، آمین
    نبی ﷺ کا ایسا کوئی فرمان یا عمل نہیں ہے جس سے ثابت ہوتا ہو کہ رمضان میں اذان کے بعد بھی کھانا اور پینا چاہئے ،ہاں نبی ﷺ کا یہ فرمان ہے :إذا سمعَ أحدُكُمُ النِّداءَ والإناءُ على يدِهِ ، فلا يَضعهُ حتَّى يقضيَ حاجتَهُ منهُ(صحيح أبي داود:2350)
    ترجمہ: جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اسکے ہاتھ میں ہو تو وہ اسے اس وقت تک نہ رکھے جب تک اس میں سے اپنی حاجت پوری نہ کر لے ۔
    اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ اتفاقیہ کبھی اگر سحری کھاتے ہوئے اذان ہوجائے تو برتن کا کھانا ضرورت بھر کھالینا چاہئے لیکن فجرکی اذان ہونے کے بعد سحری کھانا درست نہیں ہے اگر کسی نے جان بوجھ کر ایسا عمل کیا تو اس کا روزہ نہیں ہوگا ، اس روزہ کی قضا کرنی ہوگی ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا شیخ۔
    بہت اچھا سلسلہ ہے میرے خیال میں اسے یہاں اسی عنوان کے تحت جاری رکھا جانا چاہیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 1
  3. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    ٹھیک ہے ۔ ان شاء اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    سوشل میڈیا پہ کئے گئےپندرہ اہم سوالات اور ان کے جوابات
    جوابات از شیخ مقبول احمد سلفی

    سوال (1): ڈینگی وائیرس کے خاتمہ کے لیے سورۃ الانعام کی آیت نمبر 16 اور 17 پڑھ کر دم کرنے کے لیے کہا جارہا ہے۔ کیا ایسا کرنا درست ہے؟
    جواب : قرآن میں ہربیماری کی شفا ہے ، کسی بھی مرض میں قرآن پڑھ کر دم کرنا جائز ہے لیکن ڈینگی وائرس کے لئے سورہ الانعام کی آیت نمبر سولہ اور سترہ کو خاص کرنا خلاف شریعت ہے ۔ جو چیز خاص نہیں دین میں اسے خاص کرنے کو کسی کا حق نہیں ہے لہذا ڈینگی وائرس یا دیگرکسی بھی مصیبت میں بلا تخصیص سورہ انعام کی بھی آیات پڑھ سکتے ہیں ،کوئی حرج نہیں ہے لیکن اپنی طرف سےکوئی سورت یا آیت خاص کرنا درست نہیں ہے ۔

    سوال(2) : بچہ اگر کپڑوں پر قے کرلے تو کیا کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں یا ہم کو غسل کی ضرورت ہوتی ہے؟ کسی نے کہا کہ دودھ اگر ثابت ہو تو کپڑے بدلنا ہوگا اور اگر دودھ پھٹا ہوا ہو تو غسل کرنا پڑے گا۔
    جواب : قے نجس ہے ، یہ موقف ائمہ اربعہ اور شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ہے اور دلائل سے بھی قے کا نجس ہونا قوی معلوم ہوتا ہے ۔ نبی ﷺ کو قے آیا تو آپ نے روزہ توڑ دیا اور وضو کیا۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:
    أنَّ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ قاءَ فأفطَرَ فلَقيتُ ثوبانَ مَولى رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ في مسجِدِ دمشقَ فقلتُ إنَّ أبا الدَّرداءِ، حدَّثَني أنَّ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ قاءَ فأفطَرَ قالَ: صدقَ، وأَنا صَببتُ لَهُ وَضوءَهُ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ(صحيح أبي داود:2381)
    ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی اور روزہ توڑ ڈالا ۔ ( معدان کہتے ہیں کہ ) پھر سیدنا ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دمشق کی مسجد میں میری ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے کہا : سیدنا ابولدرداء رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی اور روزہ توڑ ڈالا تھا ۔ کہا کہ انہوں نے صحیح کہا ہے اور میں نے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی انڈیلا تھا ۔
    لہذا اگرکوئی کپڑے پر قے کردے تو اسے دھوکر پاک کرے کیونکہ قے نجس ہے البتہ دودھ پیتا بچہ برابر قے کردیتا ہے اس کی صفائی میں مشقت ہے ، بچے کا قے بدبو سے پاک ہو یا دودھ منہ سے گرائے تو کپڑا دھونے کی ضرورت نہیں اور اگر بدبو محسوس ہوتو اسے دھولے ۔

    سوال(3) : بچے گھر میں کارپیٹ پر کہیں کہیں پیشاب کر دیتے ہیں اور وہ حصہ سوکھ جاتا ہے۔ ہم دھو نہیں سکتے۔ کیا وہاں جائے نماز بچھا کر نماز ادا کی جاسکتی ہے؟
    جواب : اگر کھانے پینے کی عمر کے بچے ہیں تو ان کا پیشا ب زائل کیا جائے گا اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ کم ازکم ایک مرتبہ پانی بہایا جائے گا ، نچوڑنا ضروری نہیں ہے جیساکہ اعرابی نے مسجد میں پیشاب کردیا تو نبی ﷺ نے صرف پانی بہانے کا حکم دیا تھا۔ ایک مرتبہ پانی بہانے سے نجاست دور ہونےکا اندازہ نہیں ہوا توایک سے زائد مرتبہ پانی بہایا جائے گایہاں تک کہ صفائی کا گمان ہوجائے پھر اسفنج سے اسے صاف کرلیا جائے ۔اوروہ بچے جو شیرخواری کی عمرکے ہوں ان کے پیشاب پہ پانی کا چھینٹا مارنا ہی کافی ہوگا۔ معلوم یہ ہوا کہ کارپیٹ پہ بچہ پیشاب کردے اور سوکھ جائے تو کارپیٹ پہ پانی بہاکر اسفنج سے صاف کیا جائے گا پھر اس جگہ نماز پڑھی جائے گی ۔ بچہ کی تفصیل اوپر معلوم ہوگئی یعنی شیرخواربچہ کا الگ حکم اور دانہ پانی استعمال کرنے والے بچہ کا الگ حکم۔

    سوال (4): ایک شخص ڈاکٹر ذاکر نائک کو ملحد کہتا ہے ایسے شخص سے تعلق رکھنا یا ایسے شخص کے بارے میں ہمارا کیا موقف ہونا چاہئے؟
    جواب : جو شخص کسی مسلمان کو ملحد اور کافر کہے تو اس کا الحادوکفر اسی کی طرف لوٹ جائے گا یعنی وہ خود کافر ہوجائے گا ۔ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أيُّما امرئٍ قالَ لأخيهِ : يا كافِرُ . فقد باءَ بِها أحدُهما . إن كانَ كما قالَ . وإلَّا رجعَت عليهِ(صحيح مسلم:60)
    ترجمہ: تم میں سے کوئی بھی آدمی اپنے بھائی کو کافر کہے تو ان میں سے کوئی ایک اس کا مستحق بن جاتا ہے، اگر اس نے کہا، جیسا کہ وہ تھا اور اگر نہیں تو یہ اسی کی طرف پلٹے گا۔
    ڈاکٹر ذاکر نائک منہج سلف پہ قائم صحیح العقیدہ مسلمان ہیں انہیں جو کوئی کافر کہے گا اس کا کفر اس کی طرف ہی لوٹ جائے گا ،ایسا شخص تکفیری ہے اور حدیث کی رو سے خود کفر کا مستحق ہورہاہےایسوں سے تعلق استوار نہ کیا جائے بلکہ دوسروں کو بھی ایسے تکفیری لوگوں سے بچنے کی ترغیب دی جائے ۔

    سوال (5) :کیا کسی عالم کا کسی دوسرے عالم کو رد کرنا اسلام میں جائز ہے ؟
    جواب : ایک عالم دوسرے عالم کا عام طور سے رد نہیں کرتا ہے بلکہ کوئی علمی مسئلہ ہوتا ہے اس مسئلہ پہ دو عالم کے دلائل کی روشنی میں الگ الگ دو نظریات اور دو موقف ہوسکتے ہیں اس میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ فقہی مسائل یا اجتہادی قسم کے سوالات پہ علماء کے آراء مختلف ہوسکتے ہیں۔ اگر دو عالموں کا آپس میں کسی فقہی اور اجتہادی مسئلہ پہ دلائل کی روشنی میں اختلاف ہو تو دونوں عالم اسلام کی نظر میں اچھے ہیں ۔ ہاں جو عالم بغیر دلیل کے اپنے من سے بات کرتا ہے یا کتاب وسنت سے ثابت شدہ عقائد میں اختلاف کرتا ہے یا اپنے مذہب ومسلک کے مخالف علماء کی تکفیر یا کسرشان کرتا ہے تو ایسے آدمی / عالم کے مخالف شرع باتوں کی بھرپور مذمت اوررد کرنا چاہئے یہ ضرروی امر ہے ، مبادہ سادہ لوح اس کی کج فکری ، غلط نظریات اور باطل عقائد کا کہیں شکار نہ ہوجائے ۔

    سوال (6) : مفتی طارق مسعود صاحب کی ایک ویڈیو دیکھنے کا اتفاق کیا جس میں وہ بتا رہے تھے کہ عید الاضحی اور حج کے موقع پر منی میں اور تیسرا عقیقہ کے علاوہ جانور (بکرا) ذبح کرنا عبادت نہیں بلکہ بدعت ہے اگر یہ سچ ہے تو میرا سوال یہ ہے کہ اگر ہمارا ارادہ مساکین کو جانور ذبح کر کے کھانا کھلانے کا ہو تو ہمارے عمل پہ کیا حکم لگے گا؟
    جواب : میں نے بھی مفتی صاحب کا بیان سنا تھا جس میں مذکورہ بات وہ بتلارہے تھے ، ان کا یہ بیان بلادلیل ہے اس لئے رد کردیا جائے گا۔ آپ بلاشبہ بکرا ذبح کرکے فقراء ومساکین کو کھلا سکتے ہیں ، یہ عمل بدعت نہیں مسنون ہوگااور ہر وہ کام جو مسنون ہے عبادت بھی ہے ۔اسی طرح کوئی اللہ کے لئے نذر میں جانور ذبح کرنے کا ارادہ کرے تو ذبح کرسکتا ہے ،حدیث مصطفی ﷺ سے اس کی دلیل دیکھیں :
    سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:
    نذرَ رجلٌ على عَهدِ رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ أن ينحرَ إبلًا بِبُوانةَ فأتى النَّبيَّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ فقالَ إنِّي نذرتُ أن أنحرَ إبلًا ببُوانةَ فقالَ النَّبيُّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ هل كانَ فيها وثَنٌ من أوثانِ الجاهليَّةِ يعبدُ قالوا لا قالَ هل كانَ فيها عيدٌ من أعيادِهم قالوا لا قالَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ أوفِ بنذرِكَ فإنَّهُ لا وفاءَ لنذرٍ في معصيةِ اللَّهِ ولا فيما لا يملِكُ ابنُ آدمَ(صحيح أبي داود:3313)
    ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ مقام بوانہ پر ایک اونٹ ذبح کرے گا ۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : بیشک میں نے بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:کیا وہاں جاہلیت کا کوئی بت تھا جس کی عبادت ہوتی رہی ہو ؟ صحابہ نے کہا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا وہ جگہ ان کی میلہ گاہ تھی ؟ صحابہ نے کہا نہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اپنی نذر پوری کر لے ۔بے شک ایسی نذر کی کوئی وفا نہیں جس میں اللہ کی نافرمانی ہو اور نہ اس کی جو انسان کی ملکیت میں نہ ہو ۔

    سوال (7) : کیا قیامت کے دن مساجد بھی فنا ہوجائیں گی یا پھر وہ باقی رہیں گی ؟
    جواب : ایک روایت مجمع الزوائد وغیرہ میں ہے کہ ساری زمین فنا ہو جائے گی سوائے مساجد کے ، روایت اس طرح سے ہے :
    تَذْهَبُ الْأَرَضُونَ كُلُّها يومَ القيامةِ ، إلا المساجدَ ، فإنها يَنْضَمُّ بعضُها إلى بعضٍ(مجمع الزوائد: 9/2)
    ترجمہ: قیامت کے دن ساری زمین فنا ہوجائے گی سوائے مساجد کے کہ یہ ایک دوسرے میں ضم ہوجائیں گی ۔
    اس میں اصرم نامی ایک راوی متہم وکذاب ہے اوریہ روایت موضوع ہے جیساکہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے کہا (دیکھیں : ضعیف الجامع : 2420)
    ابن عدی نے باطل کہا ہے ۔(الکامل فی الضعفاء : 2/96)
    اس لئے اس روایت سے استدلال نہیں کیا جائے گا ،قیامت کے دن ساری چیزیں فنا ہوجائے گی حتی کہ مساجد بھی یہی قرآن وحدیث کے عمومی دلائل سے واضح ہوتا ہے ۔

    سوال (8) : کتنے کلو میٹر پہ نماز قصر کرنا ہے ؟
    جواب : اصلا احادیث میں کلو میٹر کے حساب سے قصر کا تعین نہیں ہے ،قصر کے لئے عرف میں جسے سفر کہا جائے گا اس میں نماز قصر کرنا ہے خواہ وہ جتنے کلو میٹر کا ہو البتہ سعودی علماء نے اندازہ کے طور پر تقریبا اسی (80) کلو میٹر لکھا ہے۔ اگر کوئی شخص اسی کلو میٹر کا سفر کرے یا اس سے بھی کم کلومیٹر کا سفر کرےمگر عرف عام میں اسےسفر کہا جاتا ہو تو قصر کریں گے ۔

    سوال (9) : کیا مظلوم مسلمانوں کے ساتھ کئے جا رہے ظلم و ستم کے خلاف جلوس و احتجاج اور مظاہرے کرنا یا اس میں شامل ہونا شرعا صحیح نہیں ہے؟ ایک شخص سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ شرعا صحیح نہیں ہے، کیا ظلم کے خلاف خاموشی جرم نہیں ہے؟ برائے مہربانی ہماری اصلاح کریں۔
    جواب : اسلام امن کا پیغامبر ہے جو کام امن کے خلاف ہے اسلام میں اس کی اجازت نہیں ہے ۔ آجکل جو مظاہرے ہورہے ہیں اس میں امن مخالف نعرے، اشتعال انگیزی، لوٹ مار، طعن وتشنیع، توڑپھوڑ ، اختلاط مردوزن، فتنہ وفساد، قتل وغارت گری ، رقص وسرود وغیرہ پایا جاتا ہے اس وجہ سے اس قسم کے مظاہرے واقعی شرعا جائز نہیں ہیں لیکن اگر پرامن مظاہرے ہوں تو اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔

    سوال (10): اگر اللہ تعالی ہی صرف عالم الغیب ہے تو رسول اللہ ﷺ نے کیسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دی ، یہ بھی تو غیب کی خبر ہے ؟
    جواب : نبی ﷺ نے مستقبل کی جوبھی خبر دی ہے وہ اللہ کی طرف سے دی ہے ، ایسا نہیں ہے کہ آپ ﷺ خود سے جان لیتے تھے کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے اور صرف مستقبل ہی بلکہ دین کی جو بھی بات آپ نے بتلائیں سب اللہ کی جانب سے ہیں آپ نے ذرہ برابر بھی اپنی جانب سے نہیں بتلایا ہے ۔ اس بات کی دلیل اللہ کا کلام ہے ۔ فرمان الہی ہے : وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ، إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ (النجم: 3-4)
    ترجمہ: آپ اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں بولتے ،جب آپ پر وحی نازل ہوتی تو بیان کرتے ہیں ۔
    یہ آیت بتلاتی ہے کہ نبی ﷺ نے جو عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دی ہے وہ اپنی جانب سے نہیں دی بلکہ اللہ کی طرف سے دی ہے اس لئے تن تنہا اللہ کا عالم الغیب ہونا اپنی جگہ برحق ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں جابجا بیان فرمایا ہے اور اللہ کے علاوہ کوئی نبی یا ولی غیب کی خبر نہیں رکھتا ہے۔

    سوال (11)کیا ضعیف اور من گھڑت روایات پر عمل کیا جا سکتا ہے؟اگر کیا جا سکتا ہے تو کس حد تک؟ کیا ضعیف اور من گھڑت روایات و قصے کی حقیقت لوگوں کے سامنے لانا اچھا ہے برا؟ براہ کرم وضاحت کردیں۔
    جواب : من گھڑت روایات اور من گھڑت قصے تو مردود ہیں ، عمل کرنے کی تو دور کی بات انہیں بیان بھی نہیں کیا جائے گا ۔ ہاں اگر یہ عوام میں مشہور ہوگئے ہوں تو لوگوں کی آگاہی کے لئے بیان کرسکتے ہیں اس شرط کے ساتھ ان کا موضوع ہونا بھی بیان کیا جائے ۔ رہا مسئلہ ضعیف احادیث کا تو فضائل اعمال میں ان پر عمل کیا جائے گا مگر مطلقا نہیں علماء کچھ شرائط بیان کرتے ہیں ۔ حافظ ابن حجررحمہ اللہ تین شرائط ذکر کرتےہیں:
    پہلی شرط یہ ہے کہ حدیث میں شدید نوعیت کا ضعف نہ پایا جاتا ہو۔
    دوسری شرط یہ ہے کہ ضعیف حدیث کی کوئی نہ کوئی اصل ہو یعنی اس کی اصل کسی صحیح حدیث سے ثابت ہو۔
    تیسری شرط یہ ہے کہ عمل کرتے ہوئے اس حدیث کے ضعیف ہونے کا اعتقاد رکھا جائے۔
    آج کل لوگوں میں ضعیف وموضوع احادیث و قصص بہت گردش میں ہیں جو سوشل میڈیا پہ ضعیف احادیث سے لوگوں کو باخبر کرنے کا کام کرتا ہے بہترین عمل ہے کیونکہ یہاں عوام کی کثرت ہے حدیث کو دیکھ کر فورا یقین کرلیتی ہے قطع نظر اس سے کہ یہ صحیح ہے یا ضعیف ؟ اس لئے وہ لوگ جو سوشل میڈیا پہ دفاع عن السنہ کا کام کررہے ہیں عوام کے لئے بہت مفید ومبارک عمل ہے ۔

    سوال (12) : کیا پانچ نمازیں سب سے پہلے انبیاء نے پڑھیں؟
    جواب : قرآن وحدیث کے بے شمار نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء پر بھی نمازیں فرض تھیں ، قرآن میں متعدد انبیاء کا نام لیکر نماز کا ذکر ہے مگر کہیں کسی حدیث سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انبیاء بھی ہماری طرح پانچ نمازیں پڑھتے تھے یا پھر انبیاء نے سب سے پہلے پانچ نمازیں پڑھیں ۔ہاں شرح معانی الآثار میں ایک روایت اس طرح مروی ہے ۔
    رقم الحديث: 624
    (حديث مقطوع) مَا حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ جَعْفَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ بَحْرَ بْنَ الْحَكَمِ الْكَيْسَانِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَةَ ، يَقُولُ : " إِنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، لَمَا تِيبَ عَلَيْهِ عِنْدَ الْفَجْرِ ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَصَارَتِ الصُّبْحَ ، وَفُدِيَ إِسْحَاقُ عِنْدَ الظُّهْرِ ، فَصَلَّى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلامُ أَرْبَعًا ، فَصَارَتِ الظُّهْرَ ، وَبُعِثَ عُزَيْرٌ فَقِيلَ لَهُ كَمْ لَبِثْتَ ؟ فَقَالَ : يَوْمًا ، فَرَأَى الشَّمْسَ ، فَقَالَ : أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ، فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَصَارَتِ الْعَصْرَ ، وَقَدْ قِيلَ غُفِرَ لِعُزَيْرٍ عَلَيْهِ السَّلامُ ، وَغُفِرَ لِدَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، عِنْدَ الْمَغْرِبِ ، فَقَامَ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، فَجُهِدَ فَجَلَسَ فِي الثَّالِثَةِ ، فَصَارَتِ الْمَغْرِبُ ثَلاثًا ، وَأَوَّلُ مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ الآخِرَةَ ، نَبِيُّنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلِذَلِكَ قَالُوا الصَّلاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلاةُ الْعَصْرِ " .(شرح معاني الآثار للطحاوی، كِتَابُ الصَّلاةِ، بَابُ الصَّلاةِ الْوُسْطَى أَيُّ الصَّلَوَاتِ ؟)
    ترجمہ: عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ جب فجر کے وقت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی تو دو رکعت نماز پڑھی پس صبح کی نمازہوئی، اسحاق علیہ السلام کا فدیہ ظہر کے وقت آیا تو ابراہیم علیہ السلام نے چار رکعت نماز پڑھی تو ظہر کی نماز ہوئی، عزیز علیہ السلام اٹھائے گئے اور پوچھا گیا کہ کتنی دیر ٹھہرے رہے ؟ انہوں نے جواب دیا ایک دن۔ پس انہوں نے سورج دیکھا تو کہا یا کچھ دن اور چار رکعت نماز ادا کی تو عصر کی نماز مقرر ہوگئی، اور کہا جاتا ہے کہ مغرب کے وقت عزیز علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام معاف کئے گئے تو انہوں نے چار رکعات نماز ادا کرنے کھڑے ہوئے تو تھک کر تیسری رکعت پر بیٹھ گئے تو مغرب کی نماز تین رکعت ہوگئی، اور عشاء کی نماز سب سے پہلے محمد ﷺ نے پڑھی اسی لئے انہوں نے کہا کہ صلاۃ وسطی سے مراد عصر کی نماز ہے۔
    یہ روایت مقطوع ہے یعنی اس کی سند نبی ﷺ یا کسی صحابی تک نہیں پہنچتی بلکہ اس سے نیچے تابعی یا تبع تابعی تک پہنچتی ہے اور اس کی سند میں قاسم بن جعفر مجہول الحال راوی ہے ۔ اس روایت سے کسی طرح استدلال نہیں کیا جائے گا ۔
    ترمذی کی ایک روایت میں ہے ذکر ہے کہ جبریل علیہ السلام نے نبی ﷺ کو دوبار کعبہ کے پاس پانچ وقتوں کی نمازیں پڑھائیں پہلی دفعہ اول وقت میں پھر آخر وقت میں اور کہا اے محمد! یہی آپ سے پہلے کے انبیاء کے اوقاتِ نمازتھے، آپ کی نمازوں کے اوقات بھی انہی دونوں وقتوں کے درمیان ہیں۔(صحیح الترمذی: 149)
    اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انبیاء بھی پانچ نمازیں ان اوقات میں ادا کرتے تھے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس طرح آپ کے لئے اول وآخر وقت ہے یعنی نماز کو اول وقت سے لیکر آخر وقت تک ادا کرسکتے ہیں اسی طرح انبیاء کو بھی اول وآخر وقت کی وسعت تھی ۔

    سوال (13): غسل کے دوران ناک اور منہ میں پانی ڈالنا بھول جائے تو غسل ہوگا کہ نہیں ؟
    جواب : اگرکوئی غسل طہارت کررہاہو اور غسل میں ناک اور منہ میں پانی ڈال کر صفائی کرنا بھول گیا تو غسل نہیں ہوگا اس لئے جس نے غسل کیا اور غسل کے دوران یاد آیا کہ کلی نہیں کی اور ناک میں پانی نہیں ڈالا تو ناک ومنہ میں پانی ڈال کر صفائی کرلے حتی کے غسل کے بعد بھی یاد آئے تو ان کی صفائی کرلے غسل صحیح ہوگا کیونکہ غسل میں ترتیب ضروری نہیں ہے ہاں اگر غسل کے ایک لمبے وقفے کے بعد یاد آیا تو غسل دہرالے بہتر ہے اور طہارت والا غسل نہیں بلکہ ریفریش ہونے کے لئے غسل کیا ہو اور اس غسل میں ناک ومنہ میں پانی ڈالنا بھول جائے توکوئی مسئلہ نہیں ۔

    سوال (14) : پیر کا لباس زعفرانی کیوں ہوتا ہے ؟
    جواب : اولا اسلام میں اس قسم کے پیر کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس لئے پیر کے نام پہ کاروبار کرنے والے جعلی لوگ ہیں ،ایسے لوگوں کا زعفرانی کپڑا پہننا ہندؤں کے باباؤں، سادھوؤں اور سنتوں کی مشابہت اختیارکرناہےاور ساتھ ساتھ نبی ﷺ نے زعفرانی رنگ کا کپڑا پہننے سے منع کیا ہے ۔ اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت دے۔

    سوال (15):کاروبار میں رکاوٹ ہوتو گھر بدلنے سے فائدہ ہونے کا عقیدہ رکھنا کیسا ہے ؟
    جواب : کاروبار میں سودوزیاں کا تعلق گھر سے نہیں ہے اور یہ بات جان لیں کہ گھر سے نحوست یا بدفالی لینا جائز نہیں ہے ، ایک روایت میں گھر، عورت اور گھوڑے میں نحوست کا ذکر ہے مگر اس کا اصل معنی یہ ہے کہ اگر نحوست ہوتی ہے تو ان تین چیزوں میں ہوتی یعنی گھر،عورت اور گھوڑا میں۔روایت وترجمہ دیکھیں ، نبی ﷺ کا فرمان ہے : إن كان الشُّؤْمُ في شيءٍ ففي الدارِ، والمرأةِ، والفَرَسِ.(صحيح البخاري:5094)
    ترجمہ: نحوست اگر کسی چیز میں ہوتی تو ان تین چیزوں میں بھی ہوتی، گھر، عورت، گھوڑا۔
    بلکہ نبی نے تو ہرقسم کی نحوست کی نفی کرتے ہوئے ان تین چیزوں میں برکت پائے جانے کی خبر دی ہے ۔ فرمان نبوی ہے :
    لا شؤمَ وقد يَكونُ اليُمنُ في ثلاثةٍ: في المرأَةِ، والفَرَسِ، والدَّارِ(صحيح ابن ماجه:1633)
    ترجمہ: نحوست کچھ نہیں اور برکت بعض اوقات تین چیزوں میں ہوتی ہے: عورت میں، گھوڑے میں اور مکان میں۔
    ان احادیث اور دیگرقرآنی آیات وفرمان رسول کو سامنے رکھتے ہوئے کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ یہ عقیدہ رکھے کہ گھر بدلنے سے کاروبار میں فائدہ ہوگا یا یہ کہےکہ فلاں گھر کی نحوست سے تجارت میں نقصان ہوگیا۔ہاں روزی کمانے کے لئےگھر چھوڑنا پڑے یا مکان کی تنگی یا مجبوری ہوتو گھر بدلنا پڑے اس میں حرج نہیں۔ یاد رکھیں ہندؤں کے یہاں گھروں میں نحوست مانی جاتی ہے بطور خاص جب کسی گھر میں کسی کی غیرطبعی موت ہوجائے ۔ اس لئے یہ ہندو کا عقیدہ توہوسکتا ہے مگرکسی مسلمان کا عقیدہ نہیں ہوسکتا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  5. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا
     
  6. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    آپ کے دس سوالات اور مقبول احمد سلفی کے جوابات

    سوال (1): ایک آدمی اپنی جاب کے سلسلے میں ایک شہر سے دوسرا شہر سفر کرتا ہے ہفتے میں دو دن وہ ایک شہر میں مقیم کی حیثیت سے رہتا ہے اور باقی کے دن دوسرے شہر میں,ایسے ہی سلسلہ چلتا رہتا ہے تو ایسی صورت میں اس آدمی کی نماز کا حکم کیا ہے, قصر کرے گا یا پوری نماز پڑھے گا؟
    جواب : دوران سفر نمازیں قصر پڑھنی ہیں خواہ یہ سفر مہینوں یا سال پہ محیط ہو مگرکسی شہر میں نازل ہونے اور قیام کرنےکے متعلق دو مسئلے ہیں ۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کہیں چار دن سے زیادہ قیام کرنے کا پہلے سے ارادہ بن گیا تو وہاں مکمل نماز پڑھنی ہے کیونکہ وہ مقیم کے حکم میں ہے لیکن اگر چار دن سے کم ٹھہرنے کا ارادہ ہے یا یہ نہیں معلوم کہ کتنادن ٹھہرنا ہے تو اس صورت میں نمازیں قصر کرکے پڑھے گا۔

    سوال (2) : میں نے ایک آدمی سے جھوٹ بولا ہے، اب اس غلطی پہ نادم ہوں، کیا میں توبہ کرلوں تو غلطی معاف ہوجائے گی یا اس آدمی کو بتانا ضروری ہے ، یہ معلوم رہے کہ میں اس کو بتانے میں شرم محسوس کرتا ہوں اور اس قدر شرم ہے کہ اس سے بیان نہیں کرسکتا۔
    جواب : انسان خطا کا پتلہ ہے ، غلطی کرسکتا ہے کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے اور اچھا انسان وہ ہے جو غلطی کرکے اس سے توبہ کرلے ۔ جھوٹ بولنا کبیرہ گناہ ہے ، اللہ تعالی سے اس بڑے گناہ کی سچے دل سے توبہ کریں ، اللہ بڑا مہربان ، بہت معاف کرنے والا ہے۔ اگر آپ کے جھوٹ بولنے سے اس آدمی کا کوئی نقصان نہیں ہوا یا آپ کے جھوٹ سے بدظنی کا بھی شکار نہیں ہوا تو خیر اسے بتلانے کی ضرورت نہیں ، جھوٹ پہ پشیمانی اور اللہ سے توبہ ہی کافی ہے لیکن اگر کچھ نقصان ہوا ہے تو اس کی تلافی ضروری ہے یا بدظنی کا شکار ہوگیا ہے تو اسے راضی کرنا ہے۔ اس کے کئے طریقے ہوسکتے ہیں ، اگر آپ کے لئے براہ راست نقصان کی تلافی یا ناراضگی دور کرنا مشکل ہے تو اس آدمی کا کوئی قریبی ساتھی منتخب کریں اور اس کے ذریعہ خوش اسلوبی سے اپنا معاملہ حل کرلیں ۔

    سوال (3): اگر بلی نے چوہا کھایا اور اس کے منہ میں خون وغیرہ لگا ہے ایسی حالت میں بلی نے برتن سے پانی یا دوھ پی لیا تو کیا وہ پانی یا دودھ پاک رہے گا یا ناپاک ہوجائے گا ؟
    جواب : نبی ﷺ نے بلی کا جوٹھا پاک قرار دیا ہے کیونکہ وہ زیادہ گھروں میں آنے جانے والی ہے ، یہ معلوم ہے کہ بلی نجاست کھاتی ہے پھر بھی آپ ﷺ نے مشقت کی وجہ سے اس کے جوٹھے کو پاک کہا ہے ۔ اگر بلی نے چوہا کھالیا ہو اور کچھ وقت گزرگیا ہوپھر کسی برتن سے دودھ یا پانی پی لیا تو وہ پانی یا دودھ پاک ہی رہے گا ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ نے کہا کہ اگر بلی چوہا یا اس جیسی چیز کھالے اور جدائی کا وقت لمبا ہوجائے تو تھوک سے اس کا منہ پاک ہوجاتا ہے ضرورت کی وجہ سے ، یہ سب سے قوی قول ہے جسے اختیار کیا ہے امام احمد اور امام ابوحنیفہ کے اصحاب کی ایک جماعت نے (کتاب الاختیارات العلمیۃ، باب ازالۃ النجاسۃ)

    سوال (4) ایک آدمی نے وضو کرکے جراب پہنا پھر کسی نمازکے وقت ان جرابوں پر مسح کیااور مسجد میں داخل ہوتے وقت جرابوں کو نکال دیا اور نماز ادا کی کیا اس کی نماز درست ہوگی، جراب نکالنے سے وضو باقی رہتا ہے؟
    جواب :صحیح قول کی روشنی میں اگر وضو کرکے جراب پر مسح کیا ہو اور مسجد میں داخل ہوتے وقت جراب اتار دیا ہو تو اس سے وضو باقی رہے گا ، اس لئے نماز درست ہے ،ہاں جراب اترنے کی وجہ سے اب دوبارہ اس پہ مسح نہیں کرسکتا ہے ۔پھر سےوضو کرکے جراب پہنے گا تو اس وقت مسح کرسکتا ہے ۔

    سوال (5): سیب کی پیداوار میں کس طرح زکوۃ نکالی جائے گی اور اس کا نصاب کیا ہے ؟
    جواب : سیب کی پیداوار میں زکوۃ نہیں ہے لیکن جو سیب کی تجارت کرتا ہوں تو مال تجارت میں نصاب تک پہچنے اور حولان حول پہ زکوۃ دے گا۔ مال میں نصاب ساڑھے باون تولہ (595 گرام) چاندی ہے ۔

    سوال (6): میرا بیٹا ایک سال کا ہے بوجوہ اسکا عقیقہ باقی ہے اسکی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں رہتی ہمیں خاندان والے کہتے ہیں کہ اس پر عقیقے کا بوجھ ہے اسلیے صحت کے مسائل ہیں بتائیے گا کیا ایسا کچھ شریعت میں موجود ہے یا یہ ایک مفروضہ ہے نیز ساتویں دن عقیقہ نہ کر سکیں تو بعد میں کرنا کیسا ہے؟
    جواب : صحت کے مسائل اس لئے نہیں ہیں کہ بچے کا عقیقہ نہیں ہوا ہے بلکہ یہ تقدیر کا حصہ ہے جو اللہ کی طرف سے پہلے سے ہی مرقوم ہے ۔ اس پر مومن کو ایمان لانا چاہئے ۔ جو کہتے ہیں کہ بچہ پر عقیقہ کا بوجھ ہے اس وجہ سے طبیعت ناساز رہتی ہے غلط خیال ہے ،اس خیال سے عقیدہ پر برا اثر پڑسکتا ہے اس لئے ایسی بات کو مردود وباطل سمجھیں ۔ جس بچے کا ساتویں دن کسی وجہ سے عقیقہ نہیں ہوسکا بعد میں بھی اس کا عقیقہ کر سکتے ہیں اکثر علماء کا یہی کہنا ہے ۔

    سوال (7): کچھ عرصہ پہلے ایک بہو نے اپنی ساس کا کچھ زیور چرائی تھی ، اس وقت ساس کا انتقال ہو گیااور اب بہو خود بڑھاپے کو پہنچ گئی ہے وہ اس گناہ کی تلافی کرنا چاہتی ہے تو اسکی کیا صورت ہے؟
    جواب : بہو کو چاہئے کہ سب سے پہلے مال مسروق میت (حقدار) کے ورثاء کو دیدے اور اس کے بعد اللہ تعالی سے سچی توبہ کرے وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔

    سوال (8): مجھے گھریلو کچھ مشکل پیش آتی ہے اس لئے میں نے ایک حافظ کو طے کردیا ہے تاکہ وہ روزانہ میرے گھر سورةالبقرہ کی تلاوت کرے، کیا میرا یہ عمل درست ہےیا پھر قرآن کی رکاڈنگ چلا سکتا ہوں ؟
    جواب : گھریلو مشکل سے بچنے کے لئے اولا انسان کو اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہئے ، جب اللہ ناراض ہوتا ہے تو اس کی زندگی اور گھر میں آفت بھیج دیتا ہے ، پھراللہ کی رضا کا کام کرنا چاہئے نیز گھر وں میں نوافل، اذکار، دعائیں اور تلاوت کا اہتمام کرنا چاہئے ، ساتھ ہی گھروں کو بری اور گندی چیزوں سے پاک بھی کرنا چاہئے ۔ کسی حافظ کو طے کرنے کی ضرورت نہیں ہے،نہ ہی روزانہ سورہ بقرہ ختم کرنا ضروری ہے خود سے جتنا میسر ہو قرآن پڑھیں یا گھر کے افراد میں سے جوبھی قرآن پڑھنا جانتے ہیں وہ سب مناسب اوقات میں کچھ نہ کچھ تلاوت کیا کریں ، قرآن کی رکاڈنگ ہوتو اس سے بھی فائدہ اٹھاسکتے ہیں ۔

    سوال (9) : میرا ایک دوست ہے اس کی منگنی اس کی کزن سے ہوئی ہے ، وہ دونوں اپنے والدین کی رضامندی سے آپس میں بات چیت کرتے ہیں ، کیا یہ گناہ کا کام تو نہیں ؟
    جواب : یقینا یہ گناہ کا کام ہے اور اللہ کی سخت ناراضگی کا باعث ہے ، اس کام کے لئے والدین کی رضامندی کوئی معنی نہیں رکھتی ، ان کی رضامندی تو بھلائی کے کاموں میں دیکھی جائے گی ۔ اس لئے لڑکا اور لڑکی دونوں کو فورا بات چیت سے ر ک جانا چاہئے یہاں تک کہ نکاح ہوجائے ۔ نیز انہوں نے آپس میں بات کرکے جو غلطی کی ہے اس سے توبہ کرنا چاہئے ۔

    سوال (10): غیر مسلم کی اولاد فوت ہوجائے تو اسے صبر کی تلقین کرنا کیسا ہے ؟
    جواب : غیر مسلم کو اس کا بچہ فوت ہو جانے پر صبر دلانے میں کوئی حرج نہیں ہے ، وہ بھی انسان ہے ، دکھ والی باتوں سے اسے بھی دکھ ہوتا ہے اور انسان ہونے کے ناطے اسے دلاسہ دینے کا حق بنتا ہے ۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ ہمارے اس اخلاق سے متاثر ہوسکتا ہے اور اسلام یا مسلمانوں کے تئیں اس کا دل نرم ہوسکتا ہے ۔ ہمارا دین یہی تو چاہتا ہے کہ اخلاق کی دعوت دیں ، نبی ﷺ اخلاق کی تکمیل کے لئے تو بھیجے گئے تھے ۔ اور اخلاق سے ہی دنیا میں اسلام پھیلا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  7. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    548
    جزاک اللّہ خیرا
     
  8. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    سوشل میڈیا پہ کئے گئے حالیہ سوالات اور قرآن وحدیث سے ان کے جوابات

    جواب از شیخ مقبول احمدسلفی

    سوال(1): کیا ہندو مسجد کی صفائی کرسکتا ہے ؟
    جواب : صحیحین کی روایت سے معلو م ہوتا ہے کہ مومن نجس نہیں ہوتا ہے ، نجس تو اصل مشرک ہیں ۔ اللہ کا فرمان ہے :
    إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَٰذَا ۚ(التوبہ:28)
    ترجمہ:اے ایمان والو ! مشرک نرے ناپاک ہیں، تو اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں۔
    ہندو قوم مشرک ہے اور شرک کی غلاظت کی وجہ سے وہ نجس وناپاک ہے اس لئے مسجد کی مستقل صفائی کے کام پر کسی مسلمان کو ہی مامور کرنا چاہئے البتہ ضرورت کے تحت کفار مسجد میں داخل ہوسکتے ہیں اس بناپر کبھی کبھار ان سے صفائی کا کام لینا پڑجائے تو کوئی حرج نہیں۔

    سوال (2):عورت کا اپنے محرموں کے سامنے کھلے سر آنا کیسا ہے ؟
    جواب : عورت اپنے محرم کے سامنے جس طرح چہرہ کھول سکتی ہے اسی طرح اپنے بال بھی ظاہر کرسکتی ہے اس لئے اپنے محرموں کے سامنے کھلے سر آنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے : وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ(النور:31)
    ترجمہ: اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے ۔
    اس آیت کی روشنی میں عورت اپنے محارم کے سامنے اپنے ہاتھ ، پیر ، سر، بال اور گردن کھلا رکھ سکتی ہے ، اس لئے اپنے محارم کے سامنے کھلے سر یا کھلے بال آسکتی ہے۔

    سوال (3): ایک اکیلا نماز پڑھنے والا کسی رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا بھول گیا تو وہ کیا کرے ، نماز دہرائے یا سجدہ سہو کرے ؟
    جواب : سورہ فاتحہ نماز کا رکن ہے اگر کسی رکعت میں پڑھنا بھول جائے تو وہ رکعت شمار نہیں ہوگی لہذا اس رکعت کے بدلے منفرد ایک رکعت ادا کرے اور سجدہ سہو کرے ۔

    سوال (4): والدین یا خاندان کے کسی بڑے آدمی کی تصویر رکھنا جن کی موت ہوگئی ہو کیسا ہے ، اگر اس میں گناہ ہے تو کیا صرف رکھنے والے کو ملے گا یا میت کو بھی ؟
    جواب : اسلام میں تصویر منع ہے ، صرف ضرورت کے وقت علماء نے اسے رکھنے کا جواز فراہم کیا ہے اس لئے بلاضرورت والدین یا خاندان کے کسی بڑے میت کی تصویر رکھنا جائز نہیں ہے جو تصویر رکھے گا گناہ اس کے حصہ میں جائے گا ، اس گناہ میں میت شامل نہیں ہوگا الا یہ کہ میت نے اپنی تصویر رکھنے کا حکم دیا ہو۔

    سوال (5): قبلہ کی طرف پیر کرکے سونا کیسا ہے ؟
    جواب : سوتے وقت قبلہ کی طرف پیر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس میں کعبہ /قبلہ کی اہانت کا کوئی پہلو نہیں شامل ہے ۔ چلتے پھر تے ، اٹھتے بیٹھتے دن میں ہزاروں دفعہ قبلہ کی جانب پیر ہوتا ہے جب اس میں کوئی حرج نہیں تو سونے میں کیوں ؟ حتی کہ نماز میں قدم کا ظاہری اور اگلا حصہ کعبہ ہی کی طرف ہوتا ہے ۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے قبلہ کی جانب پیر پھیلانے کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا : اس میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی کا پیر سونے کی حالت میں قبلہ کی جانب ہو۔(فتاوى شيخ ابن عثيمين 2/ 976(

    سوال (6): آب زمزم کھڑے ہوکر اور قبلہ کی طرف منہ کرکے پینا کیسا ہے ؟
    جواب : نبی ﷺ نے زمزم کھڑے ہوکر پیا ہے اس لئے کھڑے ہوکر پی سکتے ہیں ، کوئی بیٹھ کر پئے تو اس میں بھی کوئی بات نہیں ۔ زمزم پینا ضرورت انسانی ہے کسی جانب بھی ہوکر پی سکتے ہیں اس میں قبلہ سمت ہونا کوئی شرعی حکم نہیں ہے ۔

    سوال (7): انٹرنیٹ وائی فائی کی ایجنسی لینا کیسا ہے ؟
    جواب : انٹرنیت میں مفید ومضردونوں پہلو شامل ہیں ا ور یہ اس کے استعمال پر منحصر ہے ۔ اگر کوئی اس کا استعمال منفی پہلو سے کرے تو غلط ہے مگر مثبت پہلو سے استعمال میں قطعاکوئی حرج نہیں ہے ۔ اس وقت انٹر نیٹ کا مثبت پہلو بھی بہت مستعمل ہے بلکہ اکثرحکومتی مشاغل، تجارت ، آفس اور بہت سارے دنیاوی معاملات انٹر نیٹ سے جڑے ہوئے ہیں حتی کہ مدارس ومساجد ، دینی مراکز، دعوتی شعبے اورفلاحی تنظیمات وغیرہ بھی مستفید ہورہی ہیں جوکہ اس کا مثبت پہلو ہے لہذا کسی کے لئے انٹرنیٹ وائی فائی ایجنسی لینے اورچلانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ ایک کوشش ضرور کرے کہ جو لوگ اس کا منفی استعمال کرتے ہیں ان کے برے کام میں کسی طرح کا معاون نہ بنے ۔

    سوال (8):سود کا پیسہ کسی پریشان حال مسلمان کو دے سکتے ہیں ؟
    جواب : سود اسلام میں سراسر حرام ہے البتہ وہ سود جو بنک سے ملتا ہے اس کے استعمال میں علماء کے درمیان مختلف اقوال پائے جاتے ہیں ، میری نظر میں اسے سماجی کام میں صرف کردینا زیادہ بہتر ہے ، یونہی پریشان حال مسلمان کو دینا صحیح نہیں ہے ، اس کی مدد ذاتی پیسے یاقرض حسنہ اور مستحق زکوۃ ہے تو مال زکوۃ اور صدقات سے کرسکتے ہیں ۔ ہاں کوئی مضطر ہو یعنی کسی کی جان کا خطرہ ہو تو اس وقت بنک کے سود کا استعمال کیا جاسکتا ہے ۔

    سوال (9) :کیا ماں باپ دونوں کا انتقال ہونے پر وراثت تقسیم کی جائے یا صرف باپ کے مرنے پر؟
    جواب : ماں کی میراث کا مسئلہ الگ ہے اور باپ کی میراث کا مسئلہ الگ ہے ۔ جب ماں کی وفات ہو تو ان کی میراث تقسیم کی جائے گی اور جب باپ کی وفات ہو تو ورثاء میں ان کی میراث تقسیم کی جائے گی ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب باپ کی وفات ہوجائے تو ان کا ترکہ اولاد ، بیوی اور دیگر وارثین میں تقسیم کیا جائے گا۔

    سوا ل (10): محرم میں کتنے روزہ رکھ سکتے ہیں ؟
    محرم میں دو قسم کے روزوں کا ذکر ملتا ہے ایک عمومی روزہ جس قدر چاہیں رکھ سکتے ہیں ، یہ رمضان کے بعد افضل روزے ہیں ۔ دوسرا خصوصی روزہ جسے عاشوراء کہتے ہیں جس کا ثواب پچھلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے ۔ عاشوراء کے روزہ سے متعلق افضل یہ ہے کہ نو اور دس محرم کا روزہ رکھا جائے۔ روزوں کی ان دو اقسام کے علاوہ ہرمہینہ رکھے جانے والے ایام بیض اور سوموار وجمعرات کے روزے بھی محرم میں رکھے جاسکتے ہیں ۔

    سوال (11) ہم اپنی تنخواہ میں سے ہر ماہ ڈھائی فیصد زکوۃ نکال دیتے ہیں کیا یہ صحیح ہے ؟
    جواب : مال میں زکوۃ فرض ہونے کی دوشرطیں ہیں ۔ پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نصاب تک پہنچ رہاہو اور دوسری شرط یہ ہے کہ اس پہ ایک سال کا وقفہ گزر گیا ہو۔ آپ کا اپنی تنخواہ میں سے ماہانہ ڈھائی فیصد زکوۃ نکالنا درست نہیں ہے کیونکہ وہ مال نصاب تک نہیں پہنچا ہے اور اس پہ سال بھی نہیں گزرا ہے لہذا آپ اپنی تنخواہ سے بچی رقم جو 595 گرام چاندی کی قیمت کے برابر ہوجائے اور اس پہ سال گزرجائے تب اس میں سے ڈھائی فیصد زکوۃ نکالیں ۔

    سوال (12): نئے سال کی مبارک باد دینا کیسا ہے ؟
    جواب : صحابہ کرام نئے سال کی دعائیں ایک دوسرے کو دیا کرتے تھے لہذا ہمیں صحابہ کی اقتداء میں ایک دوسرے کو " اللهم أدخله علينا بالأمن والإيمان، والسلامة والإسلام، وجوارمن الشيطان ورضوان من الرحمن۔(اے اللہ ! اس مہینے یا سال کو ہمارے اوپرامن، ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ اور شیطان کی پناہ اور رحمن کی رضامندی کے ساتھ داخل فرما) کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

    سوال (13): غیر مسلم کی شادی میں شرکت کرنا ہے ؟
    جواب : غیرمسلموں کی شادی میں عام طور سے گانے بجانے ، رقص وسرود، شراب وکباب اور عریانیت وفحاشیت دیکھنے کو ملتی ہے لہذا اس قسم کی شادی و تقریب میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے ۔ ہاں اگرشادی وتقریب ان عیوب سے پاک سے ہو تو انسانیت اور رواداری کے طور پر اس میں شرکت کرنا معیوب نہیں ہے ۔

    سوال (14): مسجد یا عیدگاہ میں اگربتی جلانا کیسا ہے ؟
    جواب : خوشبو کی چیز بدن پہ ، گھر میں اور مساجد میں استعمال کرنا جائز ہے ، نبی ﷺ نے جس طرح بدن پہ خوشبو استعمال کرنے کا حکم دیا اور بطور خاص یوم جمعہ کو، اسی طرح مسجد کو بھی کوخوشبودار کرنے کا حکم فرمایا ہے ۔
    عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ ﷺ بِبِنَاءِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ وَأَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَيَّبَ(صحيح الترمذي:594)
    ترجمہ: ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے محلوں میں مسجد بنانے، انہیں صاف رکھنے اور خوشبو سے بسانے کا حکم دیاہے۔
    اگربتی بھی خوشبو کی ایک قسم ہے اسے مسجد میں جلانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ مسلمانوں کو حرج اس لئے محسوس ہوتا ہے کہ اسے غیر مسلم کثرت سے اپنی دیوی دیوتاؤں کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ غیر مسلم پوجا میں پھول ، پلیٹ ، دھاگہ وغیرہ بھی کثرت سے استعمال کرتے ہیں بلکہ پانی کے بغیر ان کی پوجا نہیں ہوگی تو اس وجہ سے ہم پانی کا استعمال چھوڑ دیں گے ؟ نہیں ، جو چیز اصلا حلال ہے اسے غیرمسلم کثرت سے استعمال کرنے لگے تو وہ حرام نہیں ہوجائے گی ، حلال ہی رہے گی ۔

    سوال (15): ایک لڑکی نے اپنی ماں سے قرض لی تھی اب اس کی ماں وفات پاگئی ہیں تو وہ قرض کی رقم کیسے ادا کرے ؟
    جواب : بیٹی کو چاہئے کہ رقم اگر ہدیہ نہیں بلکہ قرض کے طور پر تھی تو جلد سے جلد لوٹا دے ، قرض میں تاخیر جائز نہیں اور چونکہ ماں بیٹی کا معاملہ ہے یہاں واپسی میں تاخیر ماں کے لئے ممکن کوئی تامل نہ ہولیکن معاملہ حقوق العباد کا ہے اور ماں وفات پاچکی ہے ، اب اس کی صورت یہ ہے کہ وہ رقم وارثین میں تقسیم کردی جائے اور بیٹی اللہ سے معافی طلب کرلے ۔

    سوال (16): نماز جنازہ میں ثنا پڑھنے کا حکم ؟
    جواب : صراحت کے ساتھ کسی حدیث میں نماز جنازہ میں ثنا پڑھنے کا ذکر نہیں ملتا ہے لیکن عام نمازوں پر قیاس کرتے ہوئے نماز جنازہ میں بھی ثنا پڑھ سکتے ہیں ۔

    سوال (17): لڑکی کا اجنبی مرد کو دل سے پسند کرنا جن سے واٹس ایپ کے ذریعہ دینی معلومات حاصل کرتی ہے ؟
    جواب : ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے محبت کرنا عین اسلام ہے مگر یہ محبت عشق وعاشقی اور شہوت وفحاشی سے پاک ہوتی ہے۔ایک مسلمان کی ایک دوسرے مسلمان سے محبت اللہ کی رضاکے لئے ہویہ ممدوح اور قیامت میں عرش الہی کا سایہ نصیب ہونے کا سبب ہے ۔ یہاں ایک سنگین مسئلہ سوشل میڈیا پہ اجنبی لڑکا اور لڑکا کا چیٹ کرنا، ناجائزتعلقات قائم کرنا اور فحاشی کا ارتکاب کرنا ہے ۔ یہ حرام اور اللہ کی طرف سے سخت تباہی کا باعث ہے۔ ہاں اجنبی لڑکیا ں اسلامی حدود وقیود میں رہ کر علماء کرام سے دین سیکھ سکتی ہیں اور ان سے اللہ کی رضا کے لئے محبت کرنا کوئی غلط بات نہیں ہے مگراس کا اظہار نہ کرے اور ہمیشہ یہ یاد رہے کہ خلوت میں شیطان ہوتا ہے ، نیٹ پہ کسی سے چیٹ کرتے ہوئے اللہ کا خوف ہمیشہ دل میں رکھے ،کیا پوچھنا ہے اور کیا نہیں؟ کیا کہنا ہے اور کیا نہیں ؟ شریعت کی روشنی میں دیکھے ؟ اور عام یا انجان لڑکوں سے کوئی بات ہی نہ کرے کیونکہ اس سے بات کرنا فضو ل ہےاور یہ بعد میں گناہ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

    سوال (18): کرسی پہ بیٹھ کر نماز ادا کرنے والا ٹیبل پہ سجدہ کرسکتا ہے یا زمین پر سجدہ ضروری ہے جیساکہ حدیث میں سات اعضاء زمین پہ رکھنے کا ذکر ہے ؟
    جواب : کرسی پہ نماز وہی ادا کرسکتا ہے جسے ٹھیک طریقہ سے زمین پر نماز ادا کرنے میں دشواری ہو اور ایسا مریض یا کمزور آدمی جو کرسی پہ بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہوئے زمین پر سجدہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا وہ کرسی پر ہی جس قدر ہو سجدہ کے لئے جھک جائے ۔ ٹیبل پہ بھی سجدہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر جھکنے سے گرنے کا ڈر ہو ورنہ ٹیبل کی ضرورت نہیں ۔

    سوال (19): روزانہ کنگھی کرنے کی ممانعت ہے کیا؟
    جواب : ہاں روزانہ کنگھی کرنے کی ممانعت ہے ۔ ایک صحابی بیان کرتے ہیں : نَهَى رسولُ اللَّهِ أن يمتَشِطَ أحدُنا كلَّ يومٍ(صحيح النسائي:238)
    ترجمہ:رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ہم میں سےکوئی روزانہ کنگھی کیا کرے۔
    اس لئے ایک دن ، دودن ناغہ کرکے بال میں کنگھی کرے ،ہاں اگر ضرروت پڑے تور وزانہ بھی کنگھی کرسکتے ہیں مثلا کوئی روزانہ غسل کرے تو بال سنوارنے کے لئے کنگھی کرسکتا ہے ۔ نبی ﷺ کا حکم ہے : من كانَ لَهُ شَعرٌ فليُكرمْهُ(صحيح أبي داود:4163)
    ترجمہ: جس نے بال رکھے ہوئے ہیں وہ اس کی تکریم کرے۔
    ممانعت کی اصل وجہ یہ ہے کہ بالوں پہ خواہ مخواہ وقت ضائع نہ کرے یا بلاضرورت اسی میں نہ لگا رہے ۔

    سوال (20): مجلس کے اختتام پہ سورہ صافات کی آخری آیات پڑھنا کیسا ہے جیساکہ بعض لوگوں کا عمل ہے ؟
    جواب : مجلس کے اختتام پر "سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك" کہنا چاہئے کیونکہ یہ حدیث سے ثابت ہے ۔ سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ يقول بأخَرَةٍ إذا أراد أن يقومَ من المجلسِ سبحانكَ اللهمَّ وبحمدِكَ، أشهدُ أن لا إلهَ إلا أنتَ، أستغفرُكَ وأتوبُ إليكَ ( صحيح أبي داود:4859)
    ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آخری ایام میں جب کسی مجلس سے اٹھتے تو یہ کلمات کہتے تھے«سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك»۔
    سوال میں مذکور سورہ صافات کی آخری آیات پڑھنے کا ذکر ضعیف حدیث میں ہے ۔
    من سرَّهُ أن يكتالَ من المكيالِ الأَوْفَي من الأجرِ يومَ القيامةِ ، فليَقُلْ آخرَ مجلسِه حينَ يُريدُ أن يقومَ : { سبحانَ ربِّكَ ربِّ العزَّةِ عمَّا يصفونَ ، وسلامٌ على المرسلينَ ، والحمدُ للهِ ربِّ العالمينَ }(السلسلة الضعيفة:6530)
    ترجمہ: جسے پسند آئے اور وہ قیامت کے دن اجروثواب سے لبریز پیمانے سے تولنا چاہے تو وہ مجلس سے اٹھتے وقت آخر میں کہے :
    { سبحانَ ربِّكَ ربِّ العزَّةِ عمَّا يصفونَ ، وسلامٌ على المرسلينَ ، والحمدُ للهِ ربِّ العالمينَ }
    مرسل ہونے کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے ، شیخ البانی نے اسے سلسلہ ضعیفہ میں شمار کیا ہے ۔ یہاں یہ بات بھی دھیان میں رہے کہ نماز کے بعد بھی یہ آیات کئی احادیث میں پڑھنے کا ذکر ملتا ہے مگر کوئی حدیث ضعف سے خالی نہیں ہے ۔
     
  9. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    محرم الحرام 1439 میں کئے گئے بعض اہم سوالات اور مقبول احمد سلفی کے جوابات

    سوال (1): آپ ﷺ کی کتنی اولاد تھیں ، اور ان کا تذکرہ کن کن کتابوں میں موجود ہے ؟
    جواب : نبی ﷺ کی نرینہ اولاد میں قاسم ، عبداللہ اور ابراہیم ہیں اور بیٹی زینب، رقیہ ، ام کلثوم اور فاطمہ ہیں ۔ ان کا تذکرہ ان تمام کتابوں میں موجود ہے جو تاریخ اسلام یا سیرت نبوی ﷺ پر لکھی گئی ہیں ۔

    سوال(2):نبی نے جنات کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے تہدید نامہ لکھوایا جسے تہدیدی نامہ مبارک کہتے ہیں ؟
    جواب : ابودجانہ رضی اللہ عنہ کےنام سے جنات کے شر محفوظ رہنے کے لئے ایک رسالہ ملتا ہے جسے بیہقی وغیرہ نے روایت کی ہے ، اس میں اس قسم کے الفاظ ہیں ۔ بسمِ اللهِ الرَّحمنِ الرَّحيمِ . هذا كتابٌ من محمَّدٍ رسولِ ربِّ العالمينَ صلَّى اللهُ عليْهِ وسلَّمَ ، إلى من طَرقَ الدَّارَ منَ العمَّارِ والزُّوَّارِ والصَّالحينَ ، إلَّا طارقًا يطرقُ بخيرٍ يا رحمنُ . أمَّا بَعدُ : الی آخرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امام بیہقی نے اس روایت کو ذکر کرکے موضوع یعنی من گھڑت ہونے کا حکم لگایا ہے ۔ (دلائل النبوۃ : 7/119) اسی طرح ابن الجوزی نے کہا کہ بلاشک یہ موضوع ہے ۔(موضوعات ابن الجوزی: 3/427)
    حافظ سیوطی نے بھی اس روایت کو ذکر کیا ہے اور موضوع ہونے کا حکم لگایاہے ۔ (اللآلی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ: 2/348)
    لہذا اس تہدیدی نامہ مبارک کو نبی ﷺ کی طرف منسوب کرنا یا اس پرعمل کرنا یا اسے لوگوں میں پھیلانا جائز نہیں ہے ۔

    سوال (3): کیا نو اور دس محرم کو میاں بیوی ہمبستری نہیں کرسکتے ؟
    جواب : نو اور دس محرم کو بلاشبہ اپنی بیوی سے جماع کرسکتے ہیں ، اس کی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ہے جو منع کی بات کرے وہ قرآن وحدیث سے دلیل بیان کرےورنہ اللہ کا خوف کھائے ۔

    سوال (4): جس لڑکی کا نکاح ہوا مگر رخصتی نہیں ہوئی اس کا شوہرمرجائے تو اس کی عدت کیا ہے ؟
    جواب : بیوہ کی عدت چار مہینے دس دن ہیں خواہ اس کی رخصتی ہوئی ہو یا نہیں ہو۔ اللہ کا فرمان ہے :
    وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا(البقرة: 234)
    ترجمہ: اور تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن عدت میں رکھیں ۔

    سوال (5): حجامہ کن کن بیماریوں میں کیا جاتا ہے کیا شوگر کی بیماری میں کیا جاسکتا ہے ؟
    جواب :حجامہ میں بہت ساری بیماریوں کاعلاج ہے ، نبی ﷺ کے اس فرمان سے یہی معلوم ہوتا ہے :
    إن أمثَلَ ما تَداوَيتُم به الحِجامَةُ(صحيح البخاري:5696)
    ترجمہ: بہترین علاج جو تم کرتے ہو وہ پچھنا لگوانا ہے ۔
    آپ ﷺنے بہترین علاج کہہ کے کسی بیماری کو خاص نہیں کیا ہے اس سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ یہ عام طور سے تمام بیماریوں میں مفید ہے لہذا شوگر کے مرض میں بھی پچھنا لگایا جاسکتا ہے جیساکہ ماہرین حجامہ اس کے فوائد میں شوگر کا علاج بھی بتلاتے ہیں ۔

    سوال(6):میں نے سنا ہے کہ عاشوراء کا روزہ نو اور دس کو رکھنا چاہئے مگر جس نے صرف دس کا روزہ رکھا کیا اسے عاشوراء کا ثواب ملے گا ؟
    جواب : نبی ﷺ نے دس محرم الحرام کا روزہ رکھا اور نو کو رکھنے کا ارادہ کیا اس لئے بہتر نو اور دس دو دن کا روزہ رکھنا ہے مگر جو نو کا نہیں رکھ سکا صرف دس کا رکھا امید ہےکہ اللہ تعالی عاشوراء کا اجر دے گا۔

    سوال(7): کیا ایک بیوی رکھنے والا گنہگار ہے ؟
    جواب : ایک بیوی رکھنے والا قطعی گنہگار نہیں ہے بلکہ جو دویا دو سے زائد بیویوں کے درمیان عدل نہ کرسکے ان کے لئے ایک ہی بیوی بہتر ہے ۔اللہ کا فرمان ہے : فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً (النساء:3)
    ترجمہ: اگر تمھیں برابری نہ کر سکنے کا خوف ہوتو ایک ہی کافی ہے۔
    اصل میں سوشل میڈیا پہ شیخ عبداللہ بن عبدالرحمن جبرین رحمہ اللہ کا ایک فتوی گردش میں ہے جس میں کہاگیا ہے کہ ایک بیوی رکھنا گناہ ہے (مفتی عبداللہ سعودی عرب) ۔
    اس فتوی کی وجہ سے عوام میں غلط فہمی پھیل رہی ہے ۔ یہ فتوی بھی اس طرح سے نہیں ہے بلکہ پس منظر سے کاٹ کر بیان کیا گیا ہے ۔ اس فتوی میں سائل نے شیخ سےسوال کیا ہے کہ دولت شیشان میں مردوں کی بڑی تعداد جہاد میں ختم ہوگئی اور عورتوں کی کثرت ہوگئی ہے اوروہاں کے لوگوں میں تعدد ازواج یا بیوہ سے شادی معیوب مانی جاتی ہے، اس کا کیا حکم ہے؟۔اس پہ شیخ عبداللہ نے کہا کہ اللہ نے ایک سے زائد شادی کو مباح قرار دیا ہے اور صحابہ نے بھی اس سنت پہ عمل کرتے ہوئے چار تک شادی کی ہے ۔ اس بات پہ شیخ نے شریعت سے دلیل بھی پیش کی ، پھر آگے بیوہ اور مطلقہ کی کثرت ، اور بلاشادی زندگی پہ برے اثرات کا ذکر کرکے آخر میں لکھا ہے جس سے غلط فہمی پیدا ہوئی ہے وہ جملہ آپ کے سامنے ہے۔ "فمن كان قادرا على التعدد ولم يفعل ذلك مع مشاهدته وعلمه بكثرة الأرامل وتعرضهن لمن يهتك أعراضهن من الكفار قاتلهم الله، فنرى أنه آثم"(موقع ابن جبرین ڈاٹ کام ، فتوی رقم : 5080)
    ترجمہ: (ایسے حالات میں ) جسے زیادہ شادی کی طاقت ہے مگر زائد شادی نہیں کیا ، ساتھ ہی وہ ان حالات کا مشاہدہ بھی کرتا ہے اور بیوہ کی کثرت اس کے علم میں بھی ہے اور کفار کی طرف سے ان کی ھتک عزت سے بھی باخبر ہے ،اللہ کفار کو غارت کرے ، تو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ گنہگار ہے ۔
    پورے پس منظر سے بات واضح ہوجاتی ہے ۔

    سوال(8):فرض نمازوں کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں کو قیچی کی شکل میں بنانے کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : شاید سائل کا مقصود دعا کے لئے اس طرح ہاتھ اٹھانے سے متعلق ہو، اولا آدمی کو فرض نماز کے فوراً بعد دعا کے لئے ہاتھ نہیں اٹھانا چاہئے بلکہ نماز بعد کے جو اذکار ہیں انہیں پڑھ کر چاہے تو انفرادی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرسکتا ہے ۔ دعا کرنے میں دونوں ہاتھوں کو کشادہ کرکے چہرہ تک آسمان کی طرف اٹھانا چاہئے ۔

    سوال(9):اللہ عرش پہ ہے اور رات کے تہائی حصہ میں آسمان دنیا پہ نزول کرتا ہے اور یہ حقیقت ہےکہ دنیا میں کہیں نہ کہیں ہروقت رات رہتی ہوگی تو پھراللہ عرش پہ کیسے ہوا؟
    جواب : ایمان والوں کواللہ اور اس کے رسول کے کلام پر ایمان لانا چاہئے اور اس قسم کے شکوک وشبہات سے بچنا چاہئے ، اگر ایسے شبہات گھڑے جائیں تو بہت ساری باتوں پہ اس قسم کے شبہات پیدا ہوسکتے ہیں مثلا دنیا میں بےشمار موت ہوتی ہے ،ملک الموت ایک ہے جو سب کے پاس جاکر روح قبض کرتا ہے یہ کیسے ممکن ہے ؟ موت کے بعد پھر فرشتے روح لے کر جاتے ہیں تو فرشتے کہاں کہاں موجود ہوتے ہیں ؟ اس قسم کے سوالات اٹھانا ایمان والوں کا کام نہیں ہے ۔ ہمارا ایمان ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرح ہونا چاہئے جب کفار مکہ نے پوچھا کہ تمہارا ساتھی کہتا ہے کہ میں آسمان پر گیا تھا کیا یہ صحیح ہے؟ تو ابوبکررضی اللہ عنہ نے عقل سے سوال پہ غور نہیں کیا بلکہ کہا کہ اگر یہ بات محمد ﷺ کی ہے تو سچ ہے ۔ اسی طرح یہاں آسمان دنیا پہ اللہ کے نزول پہ ایمان لانا چاہئے ۔نزول کی کیفیت کیا ہے ہمیں نہیں معلوم ,جس طرح ملک الموت کا ایک وقت میں ہزاروں لوگوں کی روح قبض کرنے کی کیفیت ہمیں نہیں معلوم۔ اللہ تعالی کےنزول کی کوئی مثال نہیں ،اس کے نزول کو مخلوق کے مشابہ قرار دینا صفات باری پر ایمان لانے کے منافی ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے :لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ(الشورى :11)
    ترجمہ: اس جیسی کوئی چیز نہیں ، وہ سننے اور دیکھنے والاہے۔
    اوراللہ تعالی کا فرمان ہے :
    فَلا تَضْرِبُوا لِلَّهِ الأَمْثَالَ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ (النحل :74)
    ترجمہ: پس اللہ کے لئے مثالیں مت بناؤ ،اللہ تعالی خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔

    سوال(10): اپنے رشتہ داروں کو زکوۃدینے پہ پوچھتے ہیں کہ کیا یہ زکوۃ کی رقم ہے ،وہ محتاج بھی ہیں مگر جب زکوۃکی رقم معلوم ہوجائے تو نہیں لیتے ایسے میں کیا کرنا چاہئے ؟
    جواب : ویسے زکوۃ بغیر بتلائے بھی مستحق کو دے سکتے ہیں مگر دینے والے سے مال کی حقیقت کوئی دریافت کرے تواسے بتلانا چاہئے کہ یہ زکوۃ کی رقم ہے ، اسکے بعد یا وہ قبول کرے یا رد کرے ۔

    سوال (11):غیر صحابہ کے لئے رضی اللہ عنہ کا استعمال کیسا ہے ؟
    جواب : رضی اللہ عنہ کا استعمال علماء نے غیر صحابہ کے لئے بھی جائز کہا ہے مگر دو امر کا خیال ضروری ہے کہ یہ لفظ ایسے اولیاء، صالحین، ائمہ،متقین اور اللہ کے نیک بندوں کے لئے استعمال کرنا چاہئے جو دیانت ومرتبہ میں لوگوں میں معروف ہو اوردوسری بات یہ کہ اندھی تقلید میں کسی خاص مسلکی امام یا شخص کے لئے استعمال نہ کیا جائے جنہیں دوسرے لوگوں پر برتری دکھا کر لوگوں کو تقلید کی دعوت دی جائے ۔ اس دوسرے امر کی وجہ سے میری نظر میں رضی اللہ عنہ کا محتاط استعمال یہ ہے کہ اس صرف صحابہ کے لئے لکھا جائے تاکہ لوگوں میں مسلکی اختلاف کی وجہ سے جو فرقہ پرستی کا ماحول بناہے وہ کم ہو۔

    سوال(12): کیا رمضان کے چھوٹے ہوئے روزے سوموار اور جمعرات یا ایام بیض میں رکھے جاسکتے ہیں ؟
    جواب : رمضان کے چھوٹے ہوئے روزے سوموار ، جمعرات اور ایام بیض کو رکھ سکتے ہیں اور ان شاء اللہ اس سے دہرا اجر کی امید ہے ۔ ایک نفلی اور دوسرا قضا ۔

    سوال(13):"اللھم خر لی واخترلی " دعا کیسی ہے ؟
    جواب : یہ دعا ترمذی میں وارد ہے ،ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:أنَّ النَّبيَّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ كانَ إذا أرادَ أمرًا قالَ اللَّهُمَّ خَرْ لي واختَرْ لي(سنن الترمذي)
    ترجمہ: رسول اللہ ﷺ جب کسی کام کا ارادہ کرتے تویہ دعا فرماتے :اللَّهُمَّ خِرْ لِي وَاخْتَرْ لِي۔
    اس حدیث کو شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے ۔ (ضعيف الترمذي:3516)

    سوال(14):ہمارے یہاں آج کل یہ تجارت ہے کہ ایک آدمی دوسرے سے 1200 روپئے کنٹل چاول بیچتا ہے پھر اس سے وہ شخص چار ماہ بعد 1500 روپیے کنٹل کا سودا طے کرتا ہے کیا ایسا صحیح ہے ؟
    جواب : چار ماہ بعد کا سودا ابھی طے کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ مارکیٹ میں اشیاء کی قیمت گھٹتی او ر بڑھتی رہتی ہے ، کسی کو معلوم نہیں کہ چارماہ بعد اشیاء کی کیا قیمت ہوگی اس لئے ابھی سے طے کرکے خرید وفروخت کرنا یا خرید نے کے لئے بیع متعین کرلینا جائز نہیں ہے ۔

    سوال(15):ایک غیرمسلم عورت ہے جو معذور ہے ، اسکے والدین دن میں بھیک مانگنے چلے جاتے ہیں کیا کوئی مسلمان مرد اس معذور عورت کی خدمت کرسکتا ہے ؟
    جواب : اسلام کافروں سے بھی رواداری اور حسن سلوک کا حکم دیتا ہے ، اس لئے کسی مسلمان مرد کا غیر مسلم معذور خاتون کی خدمت کرنا اخلاق کریمہ ہے ، خدمت کے لئے شرعی پاس ولحاظ ضروری ہے۔

    سوال(16):میرے یہاں کرناٹک کے قریب محرم کے موقع سے دس روزہ میلہ لگتا ہے اس میں بچوں کے کھلونے اور جھولے وغیرہ ہوتے ہیں کیا ہم اپنے بچوں وہاں لے جاسکتے ہیں ؟
    جواب : اسلام میں تعزیہ منانا جائز نہیں ہے جو لوگ تعزیہ مناتے ہیں وہ سراسر اسلام کے خلاف کرتے ہیں ۔ اس کی مناسبت سے میلہ لگانا بھی تعزیہ کی طرح ناجائز ہے اور اس میلہ میں شرکت کرنا گناہ کے کام پر تعاون ہے اس لئے کسی موحد کو اس قسم کے میلہ میں شریک نہیں ہونا چاہئے ۔

    سوال(17): میت کی قبر میں قرآن پڑھنے والی یہ حدیث کیسی ہے ؟ "إذا ماتَ أحدُكم فلا تحبِسوهُ ، وأسرِعوا بهِ إلى قبرِهِ ، وليُقرَأْ عندَ رأسِه بفاتحةِ الكتابِ ، وعندَ رجلَيهِ بخاتمةِ البقرةِ في قبرِه"۔
    جواب : بیہقی میں یہ روایت ہے کہ : إذا ماتَ أحدُكم فلا تحبِسوهُ ، وأسرِعوا بهِ إلى قبرِهِ ، وليُقرَأْ عندَ رأسِه بفاتحةِ الكتابِ ، وعندَ رجلَيهِ بخاتمةِ البقرةِ في قبرِه(بيهقي)
    ترجمہ: جب تم میں سے کسی کی موت ہوجائے تو اسے مت روکو ،جلدی سےقبر لے جاؤ، اور اس کے سر کے پاس سورہ فاتحہ اور پیر کے پاس سورہ بقرہ کی آخری آیات قبر میں پڑھنی چاہئے ۔
    اس حدیث کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے بہت ہی ضعیف کہا ہے۔ (السلسلۃ الضعیفۃ : 4140)

    سوال(18):مذی پاک ہے یا ناپاک اور کپڑے میں لگ پہ اس کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : مذی ناپاک اور ناقض وضو ہے ، جس جگہ لگ جائے اسے دھونا ضروری ہے ۔

    سوال(19):غیرشرعی دعوت پہ جانے کا حکم مثلا گود بھرائی کی رسم ، لڑکی کی رخصتی کے لئے بارات کا فنکشن وغیرہ
    جواب: جو دعوت غیر شرعی ہو اس میں شریک ہونا غیر شرعی کام پر تعاون ہے اور اللہ نے گناہ کے کام پر تعاون کرنے سے منع کیا ہے لہذا اس میں شریک نہیں ہونا چاہئے۔

    سوال(20):تبلیغی ، بریلوی یا جماعت اسلامی کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : ایک قاعدہ سمجھ لیں کہ ایسا کلمہ گو امام جس کے یہاں اسلام سے خارج کرنے والی کوئی بات نہیں ہے۔وہ نہ تو بدعت مکفرہ یعنی ایسی بدعت جو اسلام سے نکال دے کا ارتکاب کرتا ہے مثلا حلال کو حرام اور حرام کو حلال قراردینا اور نہ ہی شرک اکبر میں ملوث ہے مثلا غیراللہ سے فریاد کرنا تو اس کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں خواہ وہ تبلیغی ہو، یا بریلوی ہو یا جماعت اسلامی ۔

    سوال(21):حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی کنیت کیا تھی؟
    جواب : حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوعبداللہ تھی ۔

    سوال(22):کیا نومولود کے بال کے برابر صدقہ کا پیسہ مسجد میں دے سکتے ہیں ؟
    جواب : نومولود کی طرف سے سرمنڈاکر اس کے بال کے برابر صدقہ کرنا مسنون ہے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
    عقَّ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ عنِ الحسَنِ بشاةٍ وقالَ يا فاطمةُ احلِقي رأسَهُ وتصدَّقي بزنةِ شعرِهِ فضَّةً قالَ فوزنتْهُ فَكانَ وزنُهُ درْهمًا أو بعضَ درْهمٍ(صحيح الترمذي:1519)
    ترجمہ: رسول اللہ ﷺنے حسن کی طرف سے ایک بکری عقیقہ کیا، اورفرمایا:' فاطمہ ! اس کا سرمونڈدواوراس کے بال کے برابرچاندی صدقہ کرو'، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس کے بال کو تولا تو اس کا وزن ایک درہم کے برابریا اس سے کچھ کم ہوا۔
    صدقہ کا پیسہ مسجد میں لگاسکتے ہیں اس وجہ سے نومولود کے بال کے برابر صدقہ مسجد میں لگانے میں حرج نہیں ہے ۔

    سوال(23):کیا شیئر مارکیٹ میں حصہ لے سکتے ہیں ؟
    جواب : شیئر مارکیٹ اگر سود، دھوکہ اور حرام چیزوں کی تجارت سے پاک ہو تو اس میں حصہ لے سکتے ہیں ۔

    سوال(24):وضو کرتے وقت کہنیو کو دھونا ہے تو نیچے سے اوپر کی طرف پانی لے جانا ہے یا اوپر سے نیچے کی طرف ؟
    جواب : اس میں کوئی حرج نہیں کہ پانی اوپر سے نیچے لے جایا جائے یا نیچے سے اوپر ،اصل یہ ہے کہ ہاتھ مکمل طور پر بھیگ جانا چاہئے ۔

    سوال(25)بعض جگہوں پر مثلا سعودی عرب میں گاڑی کا انشورنس کروانا ضروری ہے کیا ہم اس کام پہ گنہگار ہوں گے ؟
    جواب : اکثر علماء کی رائے ہے کہ تجارتی انشورنس کی تمام اقسام حرام ہیں کیونکہ اس میں دھوکہ کے ساتھ ساتھ سودی پہلو بھی شامل ہے لہذا گاڑی کا انشورنس کروانا بھی جائز نہیں ہے البتہ جبری انشورنس کرنے سے آدمی معذور ہے ، وہ گناہگار نہیں ہوگا۔

    سوال(26):کیا سونے کے بعد اٹھنے پہ حمام جانا ضروری ہے کیونکہ ہوسکتا ہے ہوا خارج ہوگئی ہو ؟
    جواب : ہوا خارج ہونے سے استنجا کی ضرورت نہیں ہے بلکہ نماز کے لئے صرف وضو کی ضرورت ہے کیونکہ ہوا خارج ہونا ناقض وضو ہے ،اس لئےنماز کے وقت وضوکرنا کافی ہے ، پاخانہ کی جگہ دھونے کی ضرورت نہیں ہے۔

    سوال (27)فرض نماز کے بعد مصلی انگلیوں میں انگلی ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں اس کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : اسے تشبیک کہتے ہیں ، یہ حالت نماز میں منع ہے مگر نمازکے بعد اگر کرے تو حرج نہیں ہے جیساکہ بخاری ومسلم کی ایک روایت میں نماز کے بعد نبی ﷺ سے تشبیک کرنے کی دلیل ملتی ہے ۔

    سوال (28) : ایک دو لاکھ روپئے مکان مالک کو دے کر بغیر کرایہ مکان میں رہنا کیسا ہے ؟
    جواب : اگر یہ ایک دو لاکھ بطور قرض دیا ہے تو مکان سے فائدہ اٹھانا ہوا جو کہ سود میں داخل ہے اور یہ ایک دو لاکھ مکان میں رہنے کے طور پر دیا ہے تو یہ کرایہ ہی کی شکل ہے اس صورت میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

    سوال (29): عاشوراء کے روزہ سے گناہ کبیرہ معاف ہوتے ہیں یا گناہ صغیرہ ؟
    جواب : عاشوراء کا روزہ صرف گناہ صغیرہ کا کفارہ ہے اور گناہ کبیرہ کے لئے سچی توبہ کرنا ضرروی ہے تبھی معاف ہوگا۔جن لوگوں نے کہا کہ ایک سال کے پورے گناہ خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ سب معاف ہوجاتے ہیں وہ غلط کہتے ہیں ۔

    سوال (30): ہمارے لوگ اینٹ کی خرید اس طرح کرتے ہیں کہ آج جو قیمت ہے اس کے حساب سے جتنی اینٹ چاہئے ادا کردیتے ہیں اور پھر پانچ سال یا دس سال جب چاہے اتنی اینٹ بھٹے والے سے لے لے ، کیا یہ صورت جائز ہے ؟
    جواب : مستقبل میں کیا ہونے والا ہے کوئی نہیں جانتا ، ایک لمحہ کی کسی کو خبر نہیں ہے اس لئے اس قسم کی تجارت سے ایمان والوں کو دور رہنا چاہئے ۔ اسلام میں بیع کا طریقہ یہ ہے کہ جو چیز لینی ہو اس کی قیمت طے کرکے وہ چیزاپنے قبضہ میں کرلی جائے مگر یہاں اینٹ کا تعین اور اس پہ قبضہ مفقود ہے نیز کب اینٹ لینی ہے وہ میعاد بھی متعین نہیں ہے۔مان لیں چند سال بعد فیکٹری مالک دوسری قسم کی اینٹ تیار کرنے لگے یا کاروبار میں گھاٹہ یا اس کی موت ہوجانے سے فیکٹری بند ہوجائے توپھر کیا ہوگا؟ اسلام اس قسم کے مشکوک وپرخطر تجارت سے پاک ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    میت کے چھوٹے روزے اور حج کی قضا

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته


    کچھ سوالات ہیں جو میرے ذہن میں کھٹک رہے ہیں آپ کو جب فرصت ملے تو ان کے جوابات ضرور بهیجیں میں آپ کا ممنون و مشکور ہوں گا۔

    1 - ایک ایسا شخص جس نے بغیر کسی عذر کے رمضان المبارک کے پانچ روزے چھوڑ دیئے اور کچھ ہی دنوں بعد اس کا انتقال ہوگیا تو کیا اسکے چھوڑے ہوئے روزے ایصال ثواب کیلئے رکھے جائیں گے؟

    2 - ایک ایسا شخص جس کے پانچ فرض روزے بیماری کی وجہ سے یا سفر کی وجہ سے چھوٹ گئے اور پهر اس کا انتقال ہوگیا تو کیا اسکی طرف سے وہ 5 روزے ایصال ثواب کیلئے رکھے جائیں گے؟

    3 - ایک ایسا شخص جس کے اوپر حج فرض ہو چکا تھا مگر اس کے باوجود اس نے حج کی ادائیگی نہیں کی اور اس دنیا سے چلا گیا تو کیا اسکی طرف سے ایصال ثواب کیلئے حج کیا جائے گا

    اور اگر ہاں تو یہ سارے اعمال کون کرے گا اسکی اپنی اولاد یا پهر کوئی بھی کرسکتا ہے ؟۔

    سوالات بذریعہ واٹس ایپ بواسطہ شیخ عبدالغفار سلفی مہراج گنج


    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    جواب (1): جس نے سستی یا غفلت میں جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے پانچ روزہ چھوڑا اس حال میں کہ وہ روزہ کی فرضیت کا منکر نہیں ہے تو علماء کے صحیح قول کی روشنی میں اس کے ذمہ ان پانچ روزوں کی قضا لازم ہے ، ساتھ ہی بغیر عذر کے روزہ ترک کرنے سے گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا ہے اس وجہ سے سچی توبہ کرنا بھی ضروری ہے ۔ اس مسئلہ کو سامنے رکھتے ہوئے میت کے چھوٹے ہوئے پانچ روزے رکھے جائیں گے ۔ اور یہ روزہ میت کا ولی یعنی سرپرست وذمہ دار یا اس کی اولاد میں سے کوئی ایک یا سبھی اولاد مل کر رکھیں گے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    من مات وعليه صيامٌ, صام عنه وليُّه.( صحيح البخاري:1952، صحيح مسلم:1147)
    ترجمہ: جو شخص اس حالت میں فوت ہو کہ اس کے ذمہ روزے تھے تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھے گا۔
    کچھ علماء نے کہا ہے کہ عمدا روزہ چھوڑنے کی قضا نہیں مگر معاملہ میت کا ہے رکھنا بہتر معلوم ہوتا ہےتاکہ اللہ کے فضل سے اسے کچھ فائدہ ہوجائےاور کچھ لوگ میت کی طرف سے صرف نذر کے روزے رکھنا جائز قرار دیتے ہیں رمضان کے چھوٹے روزے نہیں ۔ ان کا کہنا ہےکہ رمضان کے چھوٹے ہرروزہ کے بدلے مسکین کو نصف صاع اناج صدقہ کرے مگر احادیث کے عموم سے رمضان کے روزوں کی قضا ہی بہتر ہے گوکہ صدقہ دینے سے بھی کفایت کرجائے گا۔

    جواب (2): ایسا میت جس نے بیماری یا سفر کی وجہ سے پانچ روزے چھوڑ دئے اور اسی بیماری میں وفات ہوگئی یعنی قضا کی مہلت نہیں ملی تو نہ میت کے ذمہ کچھ ہے اور نہ ہی اس کے وارثین کے ذمہ ۔ یہ اللہ کا فضل ہے اور اس کا فضل بہت وسیع ہے ۔ لیکن وہ میت جس سے رمضان کے کچھ روزے چھوٹ گئے اور انہیں قضا کی مہلت ملی مگر کسی عذر سے قضا نہ کرسکا تو پھر ان روزوں کی قضا وارثین کے ذمہ ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے :
    فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ(البقرۃ:184)
    ترجمہ : اورجوکوئی مریض ہو یا پھر مسافر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔
    اور نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    من مات وعليه صيامٌ, صام عنه وليُّه.( صحيح البخاري:1952، صحيح مسلم:1147)
    ترجمہ: جو شخص اس حالت میں فوت ہو کہ اس کے ذمہ روزے تھے تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھے گا۔
    مسند احمد کی روایت میں صاف لفظ رمضان کے روزوں کی قضا کا ذکر ہے ۔
    أتتهُ امرأةٌ فقالت : إنَّ أمي ماتت وعليها صومُ شهرِ رمضانَ أَفَأَقْضِيهِ عنها قال : أرأيتُكِ لو كان عليها دَيْنٌ كنتِ تقضيهِ قالت : نعم قال : فَدَيْنُ اللهِ عزَّ وجلَّ أَحَقُّ أن يُقْضَى( مسند أحمد)
    ترجمہ: ایک عورت نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی، میری امی فوت ہوگئی ہیں ، ان پررمضان کے ایک مہینے کے روزے ہیں ، کیا میں ان کی طرف سے قضاکروں ؟ آپﷺ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اس پر قرض ہوتا تو تم ادا کرتی؟ تو انہوں نے کہا ۔ہاں ۔ آپ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کا قرض ادائیگی کا زیادہ حق رکھتا ہے۔
    بعض محدثین نے رمضان کا لفظ نقل کرنے والوں کی خطا قرار دیا ہے مگر علامہ احمد شاکرنے مسند احمد کی تحقیق میں اس لفظ کو ثابت مانا ہے اور اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے ۔ دیکھیں :( المسند ،تحقیق احمد شاکر: 5/141)
    یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی وارد میں ہے مگر رمضان کا لفظ نہیں ہے اس سے ظاہر ا معلوم ہوتا ہے کہ دو الگ الگ واقعہ ہوگا ایک مرتبہ عورت نے سوال ہو اور دوسری مرتبہ مرد نے سوال کیا ہو۔ نیز اس روایت اور دیگر روایت کے عموم کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جائے گا کہ میت کے چھوٹے روزوں کی قضا ہے ۔

    جواب (3): مسلمان کو جب حج کرنے کی مالی استطاعت ہوجائے اسے فورا حج کرنا چاہئے کیونکہ غفلت وسستی سے تاخیر کرنے پر گنہگار ہوگااور اس حال میں وفات ہوجائے تو ایک فریضہ کی ادائیگی کا تارک مانا جائے گا مگر جس کے پاس عذر ہو تو اس کے ذمہ کوئی گناہ نہیں اور ایسا میت جس پر حج فرض تھا مگر سستی یا عذر کی وجہ سے حج نہیں کرسکا تو بعد میں اس کے ولی کو چاہئے کہ وہ خود میت کے پیسےسے حج کرے یا کسی دیانتدار مسلمان سے حج بدل کرائے ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
    أنَّ النَّبيَّ صلى الله عليه وسلم سمعَ رجلاً يقولُ: لبَّيْكَ عن شبرمة. قالَ: من شبرمةَ؟ قالَ: أخٌ لي أو قريبٌ لي. قالَ: حججتَ عن نفسِكَ؟ قالَ: لا. قالَ: حجَّ عن نفسِكَ ثمَّ حجَّ عن شبرمةَ.(صحيح أبي داود:1811)
    ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سنا کہ وہ کہہ رہا تھا لبيك عن شبرمة( میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:شبرمہ کون ہے ؟ تواس نے کہا کہ میرا بھائی ہے یا قریبی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:کیا تم نے اپنی طرف سے حج کر لیا ہے ؟ اس نے کہا ، نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اپنی طرف سے حج کرو ، پھر شبرمہ کی طرف سے کرنا ۔
    اسی طرح میت کی طرف سے بخاری شریف کی یہ روایت بھی دلیل ہے جو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
    أنَّ امرأةً من جُهينةَ، جاءت إلى النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ فقالت : إن أمي نذرت أن تحجَّ، فلم تحج حتى ماتت، أفأحجُّ عنها ؟ قال : نعم، حجي عنها، أرأيتِ لو كان على أمكِ دينٌ أكنتِ قاضيتِة ؟ . اقضوا اللهَ، فاللهُ أحقُّ بالوفاءِ .(صحيح البخاري:1852)
    ترجمہ: قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ میری والدہ نے حج کی منت مانی تھی لیکن وہ حج نہ کرسکیں اور ان کا انتقال ہو گیا تو کیا میں ان کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ان کی طرف سے تو حج کر۔ کیا تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا نہ کرتیں؟ اللہ تعالیٰ کا قرضہ تو اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اسے پورا کیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ کا قرض ادا کرنا بہت ضروری ہے۔
    یہاں یہ بات یاد رہے کہ اگر میت کے اوپر حج فرض تھا مگر اس نے ادا نہیں کیاتو اس کے وارثین میں سے کوئی جس نے پہلے اپنا حج کرلیا ہو وہ میت کے مال سے میت کی طرف سے حج ادا کرے گا خواہ میت نے حج کی وصیت کی ہو یا نہ کی ہو ۔ اگر وارثین میں سے کسی نے پہلے اپنا حج نہیں کیا ہو تو کسی دوسرے ایسے دیانتدار مسلمان سے حج بدل کرایا جائے گا جو پہلے اپنا حج کر چکا ہو۔

    واللہ اعلم
    کتبہ
    مقبول احمدسلفی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  11. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    واٹس ایپ پہ کئے گئے دینی سوالوں کے جواب

    جواب از شیخ مقبول احمد سلفی

    سوال(1) :مستدرک حاکم کی حدیث نمبر 1990 کی صحت کیسی ہے جس میں ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو شخص لاحول ولاقوۃ الا باللہ پڑھے گا تو یہ ننانوے مرض کی دوا ہے جس میں سب سے چھوٹی بیماری رنج وغم ہے ۔
    جواب: یہ حدیث ضعیف ہے ، شیخ البانی نے اسے ضعیف الجامع میں ذکر کیا ہے ۔
    لا حولَ ولا قوةَ إلَّا باللهِ ، دواءٌ مِنْ تسْعَةٍ وتسعينَ داءً ، أيسرُها الهمُّ(ضعیف الجامع : 6286)
    ترجمہ:" لاحول ولاقوۃ الا باللہ " ننانوے مرض کی دوا ہے جس میں سب سے چھوٹی بیماری رنج وغم ہے ۔
    اور بھی بہت سے محدثین کی نظر میں یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس میں ایک ضعیف راوی ہے جس کا نام بشر بن رافع ہے۔

    سوال (2) :زانی مردکا اس لڑکی سے نکاح کرنا جو زنا سے حاملہ ہے کیسا ہے ؟ اور اگر نکاح کرلیا ہے تو اس نکاح کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : زانی مرد یا زانیہ عورت سے شادی ناجائز وحرام ہے اور حمل میں شادی کرنے کی ممانعت ہے کیونکہ طلاق ، خلع اور وفات میں حمل کی عدت بیان کی گئی ہے تاکہ استبرائے رحم ہوجائے لہذا کوئی حمل کی حالت میں نکاح نہیں کرسکتا ہے اور زنا والی حاملہ سے تو ویسے بھی شادی جائز نہیں ہے الا یہ کہ زانیہ سچی توبہ کرلے ۔اللہ کا فرمان ہے : الزَّانِي لَا يَنكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ (النور:3)
    ترجمہ:بدکار مرد سوائے زانیہ یا مشرکہ عورت کے کسی (پاک باز عورت) سے نکاح نہیں کر سکتا اور بدکار عورت کو بھی بدکار یا مشرک مرد کے سوا اور کوئی نکاح میں نہیں لاتا اور یہ (بدکار عورت سے نکاح کرنا) مومنوں پر حرام ہے۔
    اگر کوئی مرد حاملہ عورت سے شادی کرلے تو یہ شادی باطل ہے۔

    سوال (3): قبرستان میں اگے یا لگے گھاس پھوس اور درخت سے فائدہ اٹھانے کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : قبرستان کے گھاس پھوس کاٹ کر لے جانے میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ درخت کا معاملہ الگ ہے ، گوکہ اس سے بھی فائدہ اٹھا نا جائز ہے اگر آپ خود پیدا ہوئے ہوں مگر اس کے کاٹنے میں بعض جگہ فتنہ کھڑا ہوسکتا ہے اس لئے گاؤں یا شہر کی کمیٹی کے باہمی مشورہ سے درخت کاٹنے کا فیصلہ کیا جائے مثلا قبرستان کی ضرورت یا فقراء ومساکین کی امداد کے لئے ۔ اگر فتنہ کا اندیشہ نہیں تو پھر اسے کاٹنے میں یا اس کا پھل کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

    سوال (4): میرا شوہر انتقال کرگیا ہے تو میں عدت انگریزی تاریخ کے حساب سے گزاروں گی یا عربی تاریخ کے حساب سے ؟
    جواب : اسلامی عبادات کا تعلق عربی تاریخ سے ہے اس لئے شوہر کی وفات کی عدت میں آپ عربی تاریخ کا حساب رکھیں گی ۔

    سوال (5): اگر صاحب جائیداد عورت کا انتقال ہوجائے اور اس کے شوہر ، بیٹے اور بیٹیاں ہوں تو کس طرح وراثت تقسیم ہوگی ؟
    جواب : اس صورت میں شوہر کو بیوی کے چھوڑے ہوئے کل مال میں سے چوتھا حصہ ملے گا اور لڑکے ولڑکیوں کے درمیاں "للذکرمثل حظ الانثیین" کے تحت باقی بچے مال کو تین حصہ کرکے دو حصہ لڑکوں میں ایک حصہ لڑکیوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔

    سوال (6): کیا یہ حدیث صحیح ہے ؟ جزی اللہ عنا محمد ما ھو اھلہ پڑھنے والے کے لئے ستر فرشتے ایک ہزار دن تک نیکیاں لکھتے ہیں ۔بحوالہ مجمع الزوائد : 17305)
    جواب : اس حدیث کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے بہت ہی ضعیف کہا ہے۔
    مَن قالَ : جزَى اللَّهُ عنَّا محمَّدًا قالَ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ بما هوَ أهلُهُ ، أتعَبَ سبعينَ كاتبًا ألفَ صَباحٍ(السلسلۃ الضعیفۃ:1077)
    ترجمہ: جو کہے " جزی اللہ عنا محمد ما ھو اھلہ" اس کے لئے ستر فرشتے ایک ہزار دن تک نیکیاں لکھتے ہیں ۔

    سوال (7): لڑکے کی شادی میں باپ کافی پیسہ خرچ کرتا ہے جیسے اس کے گھر کی سجاوٹ پہ تاکہ لڑکا ناراض نہ ہوجائے اور یہی خرچ لڑکی کے والد لڑکی کی شادی میں سامان دینے پر کرے جسے سماج میں جہیز کہاجاتا ہے تو برا کیوں ؟ جبکہ قرآن میں اولاد کے درمیان انصاف کرنے کا حکم ہے ۔
    جواب : لڑکے کے باپ کا اس کی شادی پہ فضول خرچ کرنا مثلاگھروگاڑی کی سجاوٹ یا پھول مالا پہ ناجائز ہے اور اسی طرح لڑکی کے باپ کا اپنی بیٹی پہ بے جا خرچ کرنا اور سماج و سسرال کے ڈر سے جہیز کی بار گراں رسم ادا کرنا شرعا غلط ہے ۔ان دونوں کاموں کا اولاد کے درمیان عدل وانصاف سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ لڑکا اور لڑکی کے والدین کوشادی میں جائز امور پہ پیسہ صرف کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔

    سوال (8): کیاوالد کی میراث میں اس لڑکے کا مال بھی شامل کرکے تقسیم کیا جائے گا جس نے کماکر باپ کو دیا ہو یا وہ مال الگ کرکے ؟
    جواب : جب بیٹے باپ کے ساتھ شامل ہوں تو سارے بیٹوں کا دیا ہوا پیسہ باپ کی میراث میں شامل ہوکر تقسیم ہوگا کیونکہ یہ مشترکہ مال ہوگا جس طرح باپ کی زندگی میں بیٹے کا کمایا ہوا مال مشترکہ خرچ کیا جاتا تھا۔

    سوال(9): عمرہ کے لئے غسل کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟
    جواب : عمرہ کے لئے غسل کا کوئی خاص طریقہ نہیں ہے بلکہ اسی طرح غسل کریں گے جس طرح جمعہ کے لئے غسل کرتے ہیں ۔ غسل میں ایک بات خاص دھیان دیں کہ طہارت حاصل کرنے کی نیت سے غسل کرنے میں پورا بدن بھیگنا ضروری ہے حتی کہ بال کی جڑوں میں پانی پہنچ جائے اور ناک ومنہ میں بھی پانی داخل کیا جائے ۔

    سوال(10): قبر میں آٹھ لوگوں سے سوال نہیں کیا جائے گا؟اس بات کی کیا حقیقت ہے ؟
    جواب : شامی کے حوالے سے یہ بات لوگوں میں ذکرکی جاتی ہے کہ شہید،مرابط،مرضِ طاعون سے انتقال ہونے والا،طاعون کے زمانہ میں طاعون کے علاوہ کسی مرض سے فوت ہونے والا،صِدّ یق،بچے،جمعے کے دن یا رات میں مرنے والا،ہر رات سورہ تبارک پڑھنے والاقبر کے سوال سے محفوظ رہے گا۔
    پہلے یہ جان لیں کہ ایک ہے فتنہ قبر اور ایک ہے عذاب قبر،دونوں میں فرق ہے ۔ حافظ ابن حجرؒ وغیرہ نے فتنہ قبر سے مراد منکر نکیر کا سوال کرنا لیاہے اسی وجہ سے ان فرشتوں کو فتان کہتے ہیں اور متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ کئی قسم کے افراد قبر کے فتنے سے محفوظ رہیں گے ،اسکا مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ منکرنکیر کے سوال کے فتنے سے بچ جائیں گے ۔ صحیح احادیث کی روشنی میں وہ لوگ شہید، مرابط(اسلامی سرحد کی نگرانی کرنے والا)، جمعہ کے دن یا رات میں وفات پانےوالا ہے۔

    سوال (11) کیا جو اذان دے گا وہی اقامت کہہ سکتا ہے ؟
    جواب : بیہقی اور ابوداؤد وغیرہ میں ایک حدیث ہے کہ جو اذان دے وہی اقامت کہے مگر وہ حدیث ضعیف ہے اس لئے اس سے استدلال نہیں کیا جائے گالہذا مؤذن کے علاوہ بھی اقامت کہہ سکتا ہے ۔

    سوال(12): جب انسان موت کے قریب ہو اس کے پاس سورہ یسین پڑھنا کیسا عمل ہے ؟
    جواب : اس سلسلے میں کئی روایات ملتی ہیں۔
    پہلی روایت:اقرؤوا على موتاكم يس. (أخرجه أبو داود في كتاب الجنائز، باب القراءة عند الموت برقم 3121، وابن ماجه في كتاب ما جاء في الجنائز، باب ما جاء فيما يقال عند المريض إذا حضر برقم 1448)
    ترجمہ: تم اپنے میت کے پاس سورہ یسین پڑھو۔
    دوسری روایت:اقرؤوها عند موتاكم(أخرجه أحمد وابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان)
    ترجمہ: تم اسے اپنے میت کے پاس پڑھو۔
    تیسری روایت: عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَءُوا يس عَلَى مَوْتَاكُمْ ( روى أحمد: 19789 وأبو داود :3121)
    ترجمہ: معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:تم لوگ سورہ یسین اپنے مردوں کے پاس پڑھو۔
    مذکورہ بالا تینوں روایات ضعیف ہیں۔ بعض محدثین نے پہلی روایت کو صحیح قرار دیا ہے حالانکہ یہ بھی ضعیف ہے۔
    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میت کے پاس یعنی جن کی موت کا وقت قریب ہو ان کے پاس سورہ یسین پڑھنا کیسا ہے ۔
    اس سلسلہ میں علماء کے دو اقوال ملتے ہیں ۔(1) سورہ یسین پڑھنا جائز ہے ۔(2) پڑھنا جائز نہیں ہے ۔
    اب علماء کے اقوال دیکھیں:
    (1) شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ نے محتضرکے پاس سورہ یسین پڑھنے کو مستحب قرار دیاہے ۔(الاختيارات ص 91)
    (2)امام مالک نے مکروہ قرار دیا ہے ۔ (الفواكه الدواني1/284)
    (3) شیخ البانی ؒ نے احکام الجنائز میں لکھا ہے : محتضر کے پاس سورہ یسین پڑھنا، اسے قبلہ رخ کرنا ، اس سلسلہ میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے ۔
    (4)شیخ ابن بازؒ نے لکھا کہ مریض کے پاس قرآن پڑھنا مستحسن ہے مگر سورہ یسین کی تخصیص صحیح نہیں ہے ۔اس لئے کہ اس سلسلہ میں احادیث ضعیف ہیں۔
    (5)شیخ ابن عثیمین ؒ نے لکھا ہے کہ بعض لوگوں نے اس عمل کوحديث ( اقرأوا على موتاكم يس )کی وجہ سے صحیح قرار دیا ہے مگر یہ حدیث ضعیف ہے ۔
    مذکورہ بالااقوال کی روشنی میں بھی پتہ چلتا ہے کہ مرنے والے کے پاس سورہ یسین پڑھنا صحیح نہیں ہے اور احادیث سے اس کی کوئی صحیح دلیل نہیں ہے۔

    سوال (13) : ایک عورت کا سوال ہے کہ اس کے گھر میں شوہر کے علاوہ دیور اور جیٹھ بھی رہتے ہیں کیا وہ عورت خوشبو استعمال کرسکتی ہے ؟
    جواب: گاؤں دیہات میں اکٹھے دیور وجیٹھ کے ساتھ عورت کا مل جل کر رہنا سہنا اور کام کاج کرناانتہائی خطرناک ہے ، اس کے بڑے مفاسد ہیں۔کوئی پردہ نہیں ، ستر کے اعضا ء کا ان پر ظاہر ہونے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اکثر کام کاج میں بے حجابی رہتی ہےکیونکہ اکثران لوگوں کا گھر میں بلاجھجھک آنا جانا رہتا ہے اور انہیں کھانا کھلانا ، پانی پلانااور دوسرے کاموں پر عورت کومدد کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ دیور اور جیٹھ عورت کے لئے نامحرم ہے ان سے پردہ کرنا ہے ،بدن کا پورا حصہ ان سے چھپانا ہے اور ان کے سامنے زینت کا اظہار نہیں کرنا ہے ،خوشبو لگاکر ان کے پاس آنا یا ان کے پا س سے گزرنا بھی منع ہے لہذا ان باتوں کا خیال کرکے رہے ۔

    سوال(14): کیا یہ بات صحیح ہے کہ جہاں آدھی دھوپ اور آدھا چھاؤں ہو وہاں نماز نہیں ہوتی ہے ؟
    جواب : دھوپ اور سایہ میں نماز نہیں بلکہ بیٹھنے کی ممانعت ایک حدیث میں آئی ہے ،یہ ممانعت حرام کے قبیل سے نہیں ہے بلکہ کراہت کے قبیل سے ہے اس کی وجہ سے یہ ہے کہ خودنبی ﷺ سے دھوپ اور سایہ میں بیٹھنا ثابت ہے ۔ اس کی تفصیل جاننے کے لئے میرے بلاگ پر جائیں۔

    سوال (15): آج ایک بہن کا کورٹ کے ذریعہ خلع ہوا مگر خلع کے کاغذات ایک ہفتہ بعد ملیں گے تو خلع کی عدت کب سے شروع ہوگی ؟
    جواب : خلع کی عدت اس وقت سے شمار ہوگی جس دن خلع ہوئی ہے ، پیپر ایک ہفتہ بعد ملے یا اس سے بھی زیادہ بعد اس کا اعتبار عدت کی شروعات میں نہیں ہوگا۔

    سوال (16): مسجد میں تلاوت قرآن کے دوران کبھی کبھی فرش پہ قرآن مجید رکھنے کی ضرورت پڑجاتی ہے کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے ؟
    جواب : پاک فرش پر قرآن رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، پاس میں ریحل ،اونچی جگہ یا آدمی بیٹھا ہوتو اسے تھمادیں ورنہ ضرورت کے تحت پاک فرش پہ کہیں بھی قرآن رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

    سوال (17) : کیا قرآن کو چومنا جائز ہے ؟
    جواب : یہ عمل رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرا م سے ثابت نہیں ہے اگر کوئی ثواب کی نیت سے ایسا کرتا ہے تو یہ بدعت ہے اور اگر بلاثواب کرتا ہے توبھی ایسا نہ کرے کیونکہ اس عمل کا ثبوت نہیں ہے ۔ہمارے لئے ہردینی کام کے واسطے کتاب وسنت سے دلیل چاہئے ۔

    سوال (18): کیا کسی محدث سے کہیں یہ کہنا ثابت ہے کہ ضعیف حدیث بیان کرنے میں اور اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ آدمی کو حدیث کا ضعف معلوم ہو؟
    جواب : محدثین نے حدیث پر تحقیق کرکے اس کی صحت وضعف کا حکم لگادیا ہے لہذا ہمیں بھی حدیث کو اس کے حکم کے ساتھ بیان کرنا چاہئے گرچہ حدیث صحیح ہو(سوائے بخاری ومسلم کےکیونکہ ان کی ساری احادیث صحیح ہیں)لیکن اگر حدیث ضعیف ہے تو لامحالہ اس کا ضعف بیان کیا جائے گا تاکہ لوگوں کو اس کے ضعف کا علم ہوسکے اور اس پر عمل نہ کرے۔

    سوال(19) : موبی کیش اکاؤنٹ میں 1000 سے زائد رقم رکھنے پر فری منٹ ملتے ہیں اس بابت رہنمائی فرمائیں ۔
    جواب : میری معلومات کی حد تک موبائل کمپنی کا موبی کیش پروگرام انشورنس کے کاموں میں بھی ملوث ہے اس لئے اس میں اکاؤنٹ کھلوانا سود کے کاموں پر تعاون ہے ،نیز اس میں اکاؤنٹ بناکر ایک متعین رقم رکھنا اس کے بدلے فائدہ اٹھا نا قرض سے فائدہ اٹھانے کے متبادل ہے اس لحاظ سے بھی میری نظر میں یہ کام جائز نہیں ہے ۔

    سوال(20): بٹکوائن کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
    جواب : بٹکوائن انٹرنیٹ کی دنیا میں کرنسی کی حیثیت رکھتا ہے ، اس کرنسی کا وجود باہری دنیا میں نہیں صرف نٹ کی دنیا میں ہے اس لئے یہ ڈیجیٹل کرنسی میں شمار کیا جاتا ہے ۔ یہ بھی بات صحیح ہے کہ دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں اسے کرنسی کے طور پر تسلیم کرتی ہیں اور اپنے ساتھ تجارت کرنے کی اجازت دیتی ہیں ،بعض ممالک میں اسے بحیثیت کرنسی تسلیم بھی کرلیا گیا ہے ۔ یہ بٹکوائن انٹرنیٹ پہ مختلف پراسیس اور اعمال انجام دینے پہ حاصل ہوتے ہیں جو محنت والے ہیں ۔ بظاہر اس کے استعمال میں مجھے کوئی قباحت نظر نہیں آتی ہے ۔اس کے کچھ نقصانات یا قابل نقص پہلو بتلاکر بعض اہل علم نے اس کے استعمال سے منع کیا ہے مگر وہ قابل توجہ امر معلوم نہیں ہوتا ۔ میری نظر میں اس کے استعمال میں اس وقت تک کوئی حرج نہیں ہےجب تک اسے غیر قانونی یا مکمل طور پرمضر نہ تسلیم کیا جائے۔

    سوال(21) : کیا سات دن، یا چودہ دن یا اکیس دن کے بعد عقیقہ کرنے سے عقیقہ ہی ہوگا یا صدقہ ہوگاجیساکہ عید سے پہلے قربانی کرنے سے صدقہ ہوجاتا ہے؟
    جواب : ساتویں دن عقیقہ کرنا مسنون ہے اور علماء کی اکثریت اس بات کا قائل ہے کہ جو ساتویں دن عقیقہ نہ کرسکے وہ بعد میں جب سہولت ہوعقیقہ کرلے یہ بات زیادہ مناسب ہے کیونکہ ہربچہ اپنے عقیقہ کے عوض کروی ہوتا ہے ،تو جو عقیقہ ساتویں دن کے بعد دیا جائے عقیقہ ہی ہوگا ،صدقہ تو عام ہے ۔ اگر ساتویں دن کے بعد عقیقہ عام صدقہ شمار ہوتو پھر علماء بعد میں عقیقہ کرنے کا جواز نہیں بیان کرتے بلکہ یہ کہتے بچہ کی طرف سے صدقہ کرو اور صدقہ میں عقیقہ کی طرح جانور ذبح کرنا ضروری نہیں ہوتا ہے ۔ نماز عید سے پہلے قربانی کرنے کو ساتویں دن بعد عقیقہ کرنے پر منطبق نہیں کیا جائے گا۔قربانی اور عقیقہ دونوں الگ الگ ہے اور ان دونوں کے الگ الگ احکام ہیں ۔

    سوال(22) : بعض ممالک مثلا جرمنی وغیرہ میں احمدی فرقہ میں شامل ہوجانے سے وہاں کی شہریت مل جاتی ہے ایسی شہریت حاصل کرنے کا شرعی حکم کیا ہے ؟
    جواب :مادی چیز کے بدلے اپنے ایمان کا سودا کرنا ہے ، جرمنی والے اپنی شہریت اس لئے ہی دیتے ہیں کہ آدمی اپنا ایمان احمدی کے ہاتھوں بیچ ڈالے اور پھر ایسا بھی نہیں ہوگا کہ یہ احمدی مشن شہریت دے کر آدمی کویونہی چھوڑ دے ،اس کے پیچھے ضرور کوئی بہت بڑا منصوبہ ہوگا۔ کسی مسلمان کے لئے ہرگز جائز نہیں کہ وہ جرمنی کی شہریت کے لئے احمدی ہونے کا اقرار کرے چہ جائیکہ اس کا دل اسلام پہ مطمئن ہو ۔

    سوال(23): کیا ہم تین بجے نماز تہجد پڑھ سکتے ہیں جبکہ فجر کی اذان ساڑھے چار بجے ہو؟
    جواب : تہجد کا وقت عشاء کے بعد سے لیکر فجر کی اذان تک ہےکیونکہ نبی ﷺ سے شروع رات ، درمیانی رات اور آخری رات تینوں اوقات میں تہجد پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے، اس دوران کسی بھی وقت تہجد کی نماز ادا کی جاسکتی ہے تاہم رات کے آخری پہر میں ادا کرنا بہتر ہے ۔ سوال میں مذکور وقت تہجد کے لئے بہتر ہے۔

    سوال(24): ٹھیکہ پہ کام کرنے والا آدمی جگہ کی کھدائی یا مکان کی تعمیر کا ٹھیکہ لیتا ہے وقت کی تعیین نہیں ہوتی ہے ، اس ٹھیکہ میں اکثر فائدہ اور کبھی کبھی نقصان ہوجاتا ہے اس قسم کے روزگار کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : یہ ایک قسم کی تجارت ہے اور عام طور سے اس میں ٹھیکیدار کو فائدہ ہی ہوتا ہے ۔ٹھیکہ لینے والا یہ طے کرتا ہے کہ اتنے پیسے میں یا اتنی مزدوری میں یہ کام کرکے دے دوں گا، اس میں کوئی حرج نہیں ۔یہاں تودونوں طرف کے لوگوں کو فائدہ ہے ،ایک طرف جلدی کام ہوجاتا ہے تو دوسری طرف جلدی کام کرنے کا فائدہ زیادہ حاصل ہوتا ہے ۔ تجارت میں نقصان کا پہلو تو موجود ہے ،ایک شخص حلال کاروبار میں پیسہ لگاتاہے اور سارا ڈوب جاتا ہے یہ ممکن ہے اس نقصان کی وجہ سے کوئی کاروبار ناجائز نہیں کہلائے گا۔

    سوال (25): ہاروت وماروت فرشتے تھے یا شیطان دلیل سےبتائیں؟
    جواب : شیطان کبھی برائی سے نہیں روکتا جبکہ ہاروت وماروت کے قصے میں قرآن میں مذکور ہے کہ وہ لوگوں کو جادو سیکھنے سے روکتے تھے اور کہتے تھے ہم آزمائش ہیں ۔ یہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ ہاروت وماروت اللہ کی طرف سے بھیجے گئےآزمائش کے طور پرفرشتے تھے شیطان نہیں تھے۔

    سوال(26): دس سال کی ایک لے پالک بچی ہے اسکول پڑھنے جاتی ہے ، اسکول فارم پہ لازما باپ کا نام چاہئے جبکہ اس کے باپ کا پتہ نہیں، کیا اسے گود لینے والا اپنا نام دے سکتا ہے؟
    جواب : اسکول والے کو بتلایا جائے کہ یہ لے پالک ہے اس کے حقیقی باپ کا علم نہیں ہے ، اسے گود لینے والے سرپرست کی حیثیت سے فارم پہ نام لکھیں ، مجبوری میں بھی والد کے خانہ میں نام لکھنے سے آگے میراث کا مسئلہ ہوگا کیونکہ لے پالک کے لئے میراث میں حصہ نہیں ہے ۔ لہذا لے پالک کو لے پالک ہی رہنے دیں ، اللہ تعالی نے کسی بچہ کو دوسرے باپ کی طرف منسوب کرنے سے منع کیا ہے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر اس کا باپ نہیں معلوم تو وہ تمارے دینی بھائی ہیں ۔ اللہ کا فرمان ہے : ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ ۚ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ ۚ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُم بِهِ وَلَٰكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا (الاحزاب:5)
    ترجمہ: لے پالکوں کو ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے پھر اگر تمہیں ان کے (حقیقی) باپوں کا علم ہی نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں ، تم سے بھول چوک میں جو کچھ ہو جائے اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں البتہ گناہ وہ ہے جسکا تم ارادہ دل سے کرو اللہ تعالٰی بڑا ہی بخشنے والا مہربان ہے ۔

    سوال (27): نبی ﷺ کا دودھ پلانے والی کتنی خاتون تھیں ان کا نام بتائیں۔
    جواب : آمنہ کے بعد نبی ﷺ کو ابولہب کی لونڈی ثویبہ نے دودھ پلایا ہے ،بخاری (5101)میں مذکور ہے "أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ " (مجھ کواور ابو سلمہ کے باپ کو دونوںکو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے )۔ اور ایک دوسری خوش نصیب خاتون حلیمہ بنت ابی ذُوَیب ہیں جو تعارف کی محتاج نہیں۔

    سوال(28): شریعت کی روشنی میں نائی کی دوکان کھولنا کیسا ہے جبکہ داڑھی بھی مونڈنے والے آتے ہیں ؟
    جواب : نائی کی دوکان کھولنا اپنی جگہ درست ہے اور اس دوکان میں لوگ داڑھی منڈوانے بھی آتے ہیں اس سے بچنا بہت مشکل ہے ، اگر کوئی نائی کے کام میں شریعت مخالف کام سے بچ سکے مثلا داڑھی منڈنا، سفید بالوں میں کالا خضاب لگانا، بال کاٹنے میں غیروں کی مشابہت اختیار کرنا وغیرہ تو اچھا ہے اور ان کاموں سے نہ بچ سکے تو کوئی اور کاروبار کرے ۔

    سوال(29): 12/ربیع الاول سے پہلے نبی ﷺ کو پانچ کروڑ درود کا تحفہ بھجنا چاہتے ہیں اس کے لئے کچھ لڑکے واٹس ایپ پہ درود لکھ کر ایک دوسرے کو شیئر کررہے ہیں ایسا کرنے کا حکم بتائیں ۔
    جواب : نبی ﷺ پر متعین کرکے پانچ کروڑ درود بھیجنا اور اس کے لئے وقت متعین کرنا دونوں کام بدعت کے ہیں ، اس کام پر بدعتیوں کی مدد نہ جائے ،ایسے میسج آگے بھیجنے کی بجائےفورا ڈیلیٹ کردئےجائیں ۔

    سوال(30): تسبیح کے دانہ پہ ذکر کرنا شرعا درست ہے کہ نہیں ؟
    جواب : گوکہ بعض علماء نے اس کا استعمال جائز کہا ہے تاہم ان علماء نے بھی اسے چھوڑدینا اولی اور انگلیوں پہ ذکر کرنا افضل قرار دیا ہے ۔ میں صاف لفظوں میں اسے رسول اللہ ﷺ کی سنت کی مخالفت سمجھتا ہوں ،آپ ﷺ سے ثابت ہے کہ وہ انگلیوں پر ہی ذکر کیا کرتے تھے تو ہمیں آپ ﷺ کی اقتداء میں انگلیوں پر ذکر کرنا چاہئے ۔ آج کل تسبیح کے دانوں پہ ذکر کرنے والوں سے ریاکاری زیادہ ظاہر ہوتی ہے اس وجہ سے بچنا اور بھی اولی ہے ۔ ذکر عبادت ہے اس عبادت کا سرعام اظہار شرک میں وقوع کا ذریعہ ہے ۔ اگر کوئی اکیلے میں یا مسجد میں اس دانے کا استعمال کرتا ہے تو اس میں عیب نہیں ہے مگر اسے مجمع میں ،بازا ر میں ، ہوٹل میں ، دوکانوں اور عوامی جگہوں میں استعمال کرتا ہے تو یہ ریا کاری کا سبب ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  12. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا شیخ
     
  13. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
  14. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,357
    جزاکم اللہ خیرا
    عورت مکمل پردے میں تو جیٹھ یا دیور کے سامنے آسکتی ہے. بشرطیکہ گھر کے اور افراد بھی موجود ہوں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  15. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    جی بالکل
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  16. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    کتاب وسنت پر مبنی سوالوں کے جواب۔ مجموعہ (1)
    جواب از شیخ مقبول احمد سلفی

    سوال (1):پہلے تشہد میں درود پڑھنے کا حکم کیا ہے ؟
    جواب : پہلے تشہد میں درود پڑھنے سے متعلق علماء میں اختلاف ہے ، دلائل کی روشنی میں پہلے تشہد میں بھی درود پڑھنا مشروع ومستحب معلوم ہوتا ہے لہذا ہمیں اس کا اہتمام کرنا چاہئے لیکن اگر کسی نے پہلے تشہد میں درود نہیں پڑھا خواہ عمدا ہو یا سہوا اس کی نماز درست ہے۔

    سوال (2):بعض لوگ نیا گھر بنواتے ہیں تو کیل پر قرآنی آیات دم کرکے بنیاد ڈالتے ہیں ، ایسا کرنا کیسا ہے ؟
    جواب : کیل پر دم کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور اس عمل کی کتاب وسنت سے کوئی دلیل نہ ہونے کی وجہ سے کوئی حیثیت نہیں ہے ، لوگ دیکھا دیکھی ایسا کرتے ہیں یا جھاڑ پھونک کا پیشہ اختیار کرنے والے ایسا عمل کرتے اور کرواتے ہیں تاکہ کچھ نہ کچھ نذرانہ وصول ہوجائے ۔

    سوال(3): ایک آدمی نے اپنی والدہ سے قسم کھائی کہ اب تجھے ایک پیسہ نہیں دوں گا ، والدہ بیمار ہوگئی تو اس آدمی نے قرض لیکر اور اپنی جانب سے ملاکر علاج میں پیسہ دیا۔ اب والدہ کا انتقال ہوگیا ہے ، اس نے کفارہ نہیں ادا کیا ہے اب وہ کیا کرے ؟
    جواب : اللہ کی نافرمانی میں قسم کھانا ناجائز وحرام ہے ،کسی مسلمان کو اس قسم کی قسم نہیں کھانی چاہئے ، جس نے ایسی قسم کھائی اسے چاہئے کہ اللہ تعالی سے توبہ کہ دوبارہ وہ ایسی قسم نہیں کھائے گا نیز ایسی قسم پوری نہ کرے اور اس کا کفارہ ادا کرے لہذا اس آدمی کو چاہئے کہ اللہ سے توبہ کرے اور قسم کا کفارہ ادا کرے ۔ دس مسکین کو کھانا کھلائے یاانہیں کپڑا پہنائے یا ایک گردن آزاد کرے ۔ ان تینوں میں سے کسی کی طاقت نہیں توتین دن کا روزہ رکھے ۔

    سوال (4): نماز جناز ہ میں دونوں طرف سلام ہے یا ایک طرف ؟
    جواب : نماز جنازہ میں ایک سلام کا ذکر ملتا ہے اس وجہ سے اصل نماز جنازہ میں ایک سلام ہی ہے تاہم عام نمازوں میں دو سلام کی دلیل سے نماز جنازہ میں بھی دو سلام پھیرا جاسکتا ہے لہذا ایک سلام اور دو سلام دونوں عمل مسنو ن ہیں۔

    سوال(5): کیا شادی کے ایک ماہ بعد ولیمہ کرسکتے ہیں ؟
    جواب : مسنون تو یہی ہے کہ شادی کے فورا بعد ولیمہ کیا جائے مگر بروقت سہولت نہ ہونے یا کسی عارض کے درپیش ہوجانے سے تاخیر ہوجائے تو مہینہ بعد بھی ولیمہ کرسکتے ہیں ، اہل علم ولیمہ میں تاخیر کی جانب گئے ہیں ان کا استدلال بخاری شریف کی روایت سے ہے جس میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ ﷺ نے زردی کا اثر دیکھا تو پوچھا یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نواۃ سونے کے بدلے ایک عورت سے شادی کی ہے تو آپ نے دعا دی اور ولیمہ کرنے کا حکم دیا ۔(صحیح البخاری:5155) اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ شادی کے کئی دن بعد بھی ولیمہ کرسکتے ہیں جیساکہ صحابی رسول نے کیا۔

    سوال(6) : ایک بھائی نے واٹس ایپ گروپ بنایا ہے نکاح کے نام سے اس میں لڑکیاں ایڈ ہوتی ہیں اور نکاح کے لئے بایو ڈاٹا شیئر کیا جاتا ہے پھر رشتہ تلاش کیا جاتا ہے کیا یہ صحیح ہے ؟
    جواب : یہ کام بہت ہی دیانتداری والا ہےاور کرنے والے کے لئے پرخطر بھی ہے ۔یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک اکیلا لڑکا کیسے بہت ساری لڑکیوں کے لئے رشتہ تلاش کرتا ہے ،کیا اس کی کوئی دوسری تنظیم ہےیا نوجوان لڑکوں سے اس کے بڑے روابط ہیں ؟ یا پھر فحاشی کا کوئی ذریعہ تو نہیں؟ نیت کو اللہ تعالی جانتا ہے مگر سوال تو پیدا ہوتا ہے ۔ ساتھ ہی میں یہ مانتا ہوں کہ آج سوشل میڈیا کے ذریعہ نکاح پر تعاون لے سکتے ہیں ، اس کے ذریعہ غریب ومسکین بچیوں کی شادی کا بھی معاملہ حل ہوسکتا ہے گوکہ اس میں خطرات بھی ہیں۔ اگر گروپ بنانے والا واقعی نکاح کے سلسلے میں مخلصانہ تعاون کررہاہے بطور خاص غریب ونادار لڑکیوں کے نکاح پر تعاون تو اس اقدام کی میں حوصلہ افزائی کرتا ہوں ۔مگر یہاں کئی راز دانہ اور نازک مسائل ہیں جن کی وجہ سے کچھ اصول وقواعد ضروری ہیں ۔ پہلا ضروری کام تو یہ ہے کہ نکاح کے سلسلے میں لڑکیوں کو گروپ میں شامل نہیں کیا جائے بلکہ ان کے اولیاء کو شامل کیا جائے اور ان سے ہی بایوڈاٹا طلب کیا جائے پھر ان کی پرائیویسی کو جہاں ضرورت ہووہیں استعمال کی جائے کیونکہ نٹ کا زمانہ ہے اس سے خاندان اور لڑکیوں کی عزت اچھالی جاسکتی ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس کام کو تنظیمی شکل میں انجام دیا جائے اس کے کئی ذمہ دار ہوں جن کی شناخت اولیا ء کو کرائی جائے ۔ تیسری بات یہ ہے کہ اس کی باقاعدہ کہیں آفس ہو جہاں سے آدمی رابطہ کرسکے ، نٹ پہ کام کرنے والالوگوں کو دھوکہ دے کے اچانک غائب ہوسکتا ہے پھر کہیں اسے تلاش کرنا بہت مشکل ہے ۔ یہ تین کام کرسکے تو نکاح کے طور پر گروپ بنانا میری نظر میں صحیح ہوگا ورنہ صحیح نہیں ہوگا۔

    سوال(7): مسلمان کا غیر مسلم کی فوج میں بھرتی ہونا کیسا ہے ؟
    جواب : فوجی نظام ایک سیاسی شعبہ ہے جو ملک کی حفاظت کے لئے بنایا جاتا ہے اور ملک میں مسلم وغیرمسلم دونوں ہوتے ہیں تو سیاسی اعتبار سے اس میں کوئی حرج نہیں کہ کوئی مسلمان غیرمسلم کی فوج میں بھرتی ہو یا کافر مسلمان کی فوج میں بھرتی ہوالبتہ جو کفر واسلام کی لڑائی ہو اس میں اپنی فوج کے ساتھ کافر کو نہیں رکھ سکتے ۔

    سوال(8): عورتوں کا گاڑی چلانا کیسا ہے ؟
    جواب : احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد رسول میں عورتیں اونٹ چلاتی تھیں اس پہ قیاس کرکے کچھ اہل علم نے عورتوں کو گاڑی چلانا جائز قرار دیا ہے ۔ اونٹ چلانا اور گاڑی چلانا دونوں میں بہت فرق ہے ، زمانے کا فرق اپنی جگہ ۔ بہت سے لوگ گاؤں دیہات میں گائے ، بیل اور بھینس پر سوار ہوکر چراتے ہیں انہیں ڈرائیور نہیں کہا جاتا اور نہ ہی کہا جاسکتا ہے ۔ گاڑی تیز رفتار سواری ہے ،اس کے لئے آنکھیں تیز ہونا، قیادت کا ملکہ ہونا، راہ میں آنے والی پریشانی کو جھیلنے کی طاقت ہونا چاہئے ۔ شرعی پردے والی خاتون جس کے چہرے پر پردہ ہو اسے گاڑی چلانے میں بڑی مشکل کا سامنا ہے ۔جس اسلام نے عورتوں کو راستے کے کنارے سے چلنے کا حکم دیا ہے وہ بھیڑ میں شرعی پردہ کے ساتھ تیز گاڑی کیسے چلاسکتی ہے۔ ہاں ایسا ہوسکتا ہے کہ گاڑی چلانے کی وجہ سے عورتوں کا پردہ ختم ہوجائے ۔ فتنے کا سامنا اپنی جگہ ۔ خلاصہ یہ ہے کہ عورتوں کا گاڑی چلانا مشکلات اور فتنے کاباعث ہے اس وجہ سے جن علماء نے اسے جائز نہیں قرار دیا ہے ان کا موقف زیادہ قوی ہے۔

    سوال (9): میرے والدین پاکستان سے عمرہ پہ آرہے ہیں آپ بتائیں کہ وہ نماز قصر پڑھیں گے یا مکمل پڑھیں گے ؟
    جواب : اگر وہ چار دن یا اس سے زیادہ مکہ میں قیام کرنے کا ارادہ کرلیں تو مکمل نماز ادا کریں گے لیکن اگر چار دن سے کم رکنا ہے تو پھر قصر نماز پڑھیں گے ۔ ساتھ ہی یہ بات جان لیں کہ اگر رکنے کے متعلق کچھ بھی طے نہیں ہے کہ کب تک رکنا ہے تو قصر پڑھیں گے ۔

    سوال(10): کیا غیر مسلم لڑکی سے مسلمان لڑکا شادی کرے تو بھی ولی کی ضرورت ہے ؟
    جواب : سوال یہ ہونا چاہئے کہ کوئی مسلمان لڑکا غیرمسلم لڑکی سے شادی کرسکتا ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہرگز ہرگز نہیں کرسکتا ہے ۔ جب کافرہ لڑکی سے شادی ہی نہیں تو اس کے ولی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

    سوال (11): کتے کے بھوکنے کی کیا وجہ ہے اور کیا اس کی بھونک پہ اعوذ باللہ پڑھنا چاہئے؟
    جواب : کتابھونکنے والا جانور ہے بھونکنا ہے اس کی کوئی خاص وجہ نہیں بتلائی جاسکتی ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کتا اذان کے وقت بھوکتا ہے ، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جب ملک الموت کو دیکھتا ہے تب بھونکتا ہے ۔ ہوسکتا ہے کوئی کتا اذان کے وقت بھونکنے لگ جائے مگر اس کے بھونکنے کا اذان سے کوئی تعلق نہیں ۔ شیطان کتے کی شکل بناسکتا ہے اگر وہ شیطان ہوتا تو اللہ کا نام سن کر بھاگ کھڑا ہوتا۔ اس بات کی بھی کوئی حقیقت نہیں ہے کہ کتے نے ملک الموت کو دیکھا ہےاب کسی کی موت ہونے والی ہے اس لئے وہ بھونک رہا ہے۔ بے دلیل بات ہے البتہ اس کے بھونکنے پر اللہ کی پناہ مانگنا چاہئے ، نبی ﷺ کا فرمان ہے : إذا سمعتم نِباحَ الكلابِ ونِهِيقَ الحمارِ بالليلِ فتعوذوا باللهِ فإنهنَّ يُرَيْنّ ما لا تَرَوْن.(صحيح أبي داود:5103)
    ترجمہ: جب تم رات میں کتوں کا بھونکنا اور گدھوں کا رینکنا سنو تو اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ وہ ایسی چیزیں دیکھتے ہیں جنہیں تم نہیں دیکھتے ۔

    سوال (12): کیا کان کے مسح کے لئے الگ سے پانی لینے کی دلیل ملتی ہے ؟
    جواب : نبی ﷺ کا فرمان ہے : الأُذُنانِ من الرَّأسِ(صحيح الترمذي:37)
    ترجمہ: (وضو کے باب میں) دونوں کان سر میں داخل ہیں۔
    اس حدیث سے پتہ چلتا ہے جس پانی سے سر کا مسح کیا گیا ہے اسی سے کان کا بھی مسح کرسکتے ہیں کیونکہ کان سر میں داخل ہے اور نبی ﷺ سے کان کے مسح کے لئے الگ سے پانی لینا کسی صحیح مرفوع حدیث سے ثابت نہیں ہے البتہ صحابی رسول ابن عمررضی اللہ عنہما سے ایسا کرنا ثابت ہے اس وجہ سے کوئی کان کے لئے الگ سے پانی لے لے تو حرج نہیں ورنہ ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ۔

    سوال (13): میں اٹھارہ سال سے سودی بنک میں ملازمت کرتا ہوں مجھے معلوم ہوا کہ یہ حرام ہے اس لئے چھوڑنا چاہتا ہوں تو کیا مجھے جو حساب یا واجیاب ملیں گے اس سے کوئی کاروبار کرسکتا ہوں ؟ یہ واضح رہے کہ میرے پاس اس کے علاوہ کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے ۔
    جواب : آپ کے حقوق وواجبات سود کے پیسے سے ملیں گے اس لئے اس سے کوئی کاروبار کرنا جائز نہیں ہے ،اسے فلاحی کام میں صرف کردیں ۔ روزی کمانے کے لئے کاروبارکرنا ہی ضروری نہیں ہے کہیں جائز نوکری بھی کی جاسکتی ہے۔اللہ کی زمین بہت وسیع ہے ، وہ سب کو روزی دینے والا ہے ،آپ محنت ومزدوری کرکے حلال رزق حاصل کریں ۔

    سوال (14): میں نے ایک جگہ پڑھا کہ جو نماز کو سمجھ کر نہیں پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی ، اس میں استدلال نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤوالی آیت سے ہے ، یہ کہاں تک درست ہے ؟
    جواب : جس نے بھی یہ بات کہی ہے اس نے قرآن کی مذکورہ آیت سے غلط استدلال کیا ہے اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نشہ کی حالت میں نماز میں نہ آئے کیونکہ نماز کے لئے عقل وشعور، سمجھ بوجھ اور خشوع وخضوع چاہئے جبکہ شراب عقل کو زائل کردیتی ہے ۔ اس لئے یہ بات غلط ہے کہ جو نماز سمجھ کر نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی ، ہاں ہمیں نماز سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے اس سے نماز میں حضورقلب اور خشوع وخضوع حاصل ہوگا۔

    سوال (15): اگر بالغ ونابالغ ایک ساتھ دو جنازے ہوں تو کیا الگ الگ جنازہ کی نماز پڑھنا افضل ہے ؟
    جواب : ایک ساتھ متعدد جنازے کے سوال پر شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ سب جنازے کو جمع کیا جائے اور ان پر ایک بار نماز ادا کی جائے کیونکہ نبی ﷺ نے جنازہ کے متعلق جلدی کرنے کا حکم دیا ہے ۔ شیخ البانی رحمہ اللہ احکام الجنائز میں کہتے ہیں کہ جب عورت ومرد کے کئی جنازے جمع ہوجائیں تو ان سب پر ایک مرتبہ نماز جنازہ پڑھی جائے ، دلیل میں ابن عمر کا اثر پیش کرتے ہیں جس میں ایک ساتھ نو میت کا جنازہ پڑھنے کا ذکرہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ اکیلے اکیلے بھی جنازہ پڑھنا جائز ہے اور یہی اصل ہے ، نبی ﷺنے شہداء احد پر ایسا ہی کیا ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ میت کے حق میں بہتر یہ ہے کہ ایک ساتھ سب کا جنازہ پڑھا دیا جائے لیکن اگر سب کا الگ الگ جنازہ پڑھا یا جائے تو یہ بھی جائز ہے۔

    سوال (16): ایک مرتبہ میں ایک سے زائد جنازہ کی نماز پڑھنے سے جنازہ کے عدد کے حساب سے ثواب ملے گا یا ایک ہی جنازے کا؟
    جواب : جب ایک مرتبہ میں ایک سے زائد میت کی نماز جنازہ ہوجاتی ہے تو مصلی کو جنازہ کے عدد کے حساب سے ثواب ملے گا یعنی ہرجنازہ کی نماز کے بدلے ایک قیراط ثواب ۔ اللہ کا فضل زیادہ وسیع ہے۔

    سوال(17): میرے شوہر نارتھ امریکہ میں رہتے ہیں ، انہیں فجر کی نماز کے وقت بس پکڑنا ہوتا ہے ، فجر سے پہلے تو فجر کی نماز پڑھ سکتے ہیں مگر نماز کے وقت یا ڈیوٹی پہ جاکے نہیں پڑھ سکتے اس لئے وہ فجر کی نماز وقت سے پہلے ادا کرلیتے ہیں کیا ان کا یہ عمل درست ہے ؟
    جواب : کوئی بھی نماز وقت سے پہلے پڑھنا جائز نہیں ہے اس لئے وقت سے پہلے پڑھی گئی فجر کی نماز ادا نہیں ہوگی ۔ فجر کی نماز کا اول وآخر وقت ہے اس دوران ادا کرنے کی کوشش کرے ۔ اگر کبھی کبھار وقت پہ ادا نہ کرے تو اس کی قضا کرسکتے ہیں مگر ایسا کام جس میں فجر کی نماز ہمیشہ چھوڑنا پڑےیا تو وہ کام چھوڑ دینا چاہئے یا پھر اس کام میں ایسی گنجائش پیدا کرے تاکہ ہمیشہ نماز فوت نہ ہو۔

    سوال (18): صف میں کرسی پر نماز پڑھتے وقت کرسی کیسے رکھیں ؟
    جواب : صف کے درمیان کرسی رکھنا نمازیوں کے لئے دشواری کا باعث ہے اس لئے معذور لوگوں کے لئے کرسی صف کے دائیں یا بائیں جانب رکھی جائے اور کرسی کا حجم چھوٹا رہے تو بہتر ہے۔ جہاں تک کرسی رکھنے کا طریقہ ہے تو کرسی کا پیچھے والا پیر نمازیوں کے قدم کے برابر ہو تاکہ جب اس پہ نمازی بیٹھے تو جس مقدار میں تشہد میں بیٹھنے کا طریقہ ہو اسی مقدار میں کرسی پہ بیٹھنے سے حاصل ہوجائے ۔ اس طریقہ سے کرسی رکھنے پر اس پر نماز ادا کرنے والا معذور نمازی قیام کھڑے ہوکرکرے گا تو اس کا قدم دوسرے نمازیوں سے آگے ہوگا اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھنے والوں کے قائم مقام ہے اور اکثر کرسی پر نماز پڑھنے والے قیام ، رکوع اور سجود کرسی پر ہی کرتے ہیں ۔

    سوال (19): جو لوگ کہتے ہیں کہ مزار پہ جانے سے بیماری دور ہوجاتی ہے اور ایسا دیکھا بھی گیا ہے اس سلسلے میں آپ کیا کہیں گے؟
    جواب : مزار پہ جانے والے ایسا ہی کہتے ہیں کہ وہاں جانے سے آدمی ٹھیک ہوجاتا ہے ، اگر وہاں جانے سے کسی کو فائدہ نہ ہوتو کوئی وہاں کیوں جائےگا؟ مومن کا اس بات پر ایمان ہونا چاہئے کہ بیماری دینے والا اور شفا دینے والا اللہ ہے تو آدمی مزار پہ جاکر دعا کرے یا گھر میں بیٹھے دعا کرے یا مسجد میں جاکر دعا کرے ہرحال میں اللہ ہی شفا دیتا ہے ۔ اگر جائز طریقہ سے اللہ سے دعا مانگتے ہیں یعنی غیراللہ کا وسیلہ نہیں لگاتے اور نہ ہی غیراللہ سے مدد طلب کرتے ہیں تو اللہ تعالی راضی ہوکر دعا قبول کرتا ہے اور اگر ناجائز طریقہ سے مزار پہ جاکر یا درباریوں کے ذریعہ کوئی دعا کرے تو کبھی کبھی اللہ تعالی اس کی دعا قبول کرلیتا ہے مگر اس عمل سے اللہ ناراض ہوجاتا ہے اور اس کی توحید میں خلل واقع ہوتا ہے ۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ جو ہندو مندر میں پتھروں اور مورتیوں سے مانگتے ہیں ان کا بھی کہنا ہے کہ اس سے فائدہ ہوتا ہے ۔ اس کے متعلق آپ کا کیا جواب ہے وہی جواب مزار والوں کے لئے بھی منتخب کرلیں ۔

    سوال (20): کیا میں اپنے بھانجہ کی طرف سے عقیقہ کے دن بال منڈاکر اس کے برابر چاندی صدقہ کروں تو کفایت کرے گا؟
    جواب : اگر بچہ کے سرپرست صدقہ نہیں کرسکتے تو اس کے رشتہ داروں میں سے کوئی صدقہ کرنا چاہے تو کرسکتا ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  17. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    چند اہم دینی سوالوں کے جواب۔ مجموعہ (2)

    مقبول احمد سلفی

    سوال (1): کیا وضو کرکے ستر کھل جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا یا ننگے پن میں غسل کرتے وقت وضو کیا تو وضو صحیح ہے ؟
    جواب : وضو کی حالت میں ستر کھل جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے اور ننگا نہاتے ہوئے کیا گیا وضو بھی باقی رہے گابشرطیکہ شرمگاہ کو ہاتھ نہ لگا ہو۔

    سوال (2): کیاعورت کاجل لگاسکتی ہے ؟
    جواب : کاجل کا شمار زینت کی چیزوں میں ہوتا ہے اور عورت کے لئے بواسطہ شوہرزینت کی چیزیں اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ میں نے سنا ہے کہ کاجل کی بھی کئی قسمیں ہیں اور بعض قسموں میں آنکھوں اور صحت کے لئے نقصان ہے اس لئے جس میں نقصان ہو اس سے پرہیز کیا جائے ۔

    سوال (3): کیا یہ بات صحیح ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مہر طے کرنے لگے تو ایک عورت نے کہا کہ جب اللہ نے طے نہیں کیا تو آپ کون ہوتے ہیں طے کرنے والے ؟
    جواب : یہ بات مختلف تفاسیر میں مذکور ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مہر میں کمی کا اعلان کیا تو ایک عورت نے کہا کہ ایسی بات نہیں ہے بلکہ اللہ نے کہا ہے کہ تم چاہو توعورت کو سونے کا خزانہ دیدو ۔ یہ بات سورہ نساء کی آیت نمبر 20 کی تفسیر میں دیکھی جاسکتی ہے۔

    سوال (4) : مراقبہ کیا ہوتا ہے ، اس کی کچھ حقیقت بتائیں ؟
    جواب : اصل میں مراقبہ یہ ہےکہ انسان یہ احساسن کرے کہ اللہ اسے ہمیشہ اور ہرحال میں دیکھ رہاہے ، اس کا ظاہر ہو یا باطن ہرچیز سے باخبر ہے۔ یہ مومن کا ایمان ہے لیکن صوفیوں نے اس کے متعدد مخصوص طریقے ایجاد رکھے ہیں جو انسانوں(بیوی بال بچوں اور دنیاوالوں) سے بے تعلقی حتی کہ کھانے پینے سے بیزاری بلکہ یہ کہہ لیں دنیا سے الگ ہوکر ایک کٹیا میں مقید ہوکر کان میں روئی رکھ لینے اور اللہ اللہ کا دھیان کرنے کا نام مراقبہ رکھ لیا گیا ہے ۔ یا تصور کیا جاتا ہے کہ نور کے دریا میں ہیں یہ تصور آدھے گھنٹے تک قائم رکھا جاتا ہے اس سے روحانی طاقت حاصل ہوتی ہے ۔ چونکہ تبلیغی جماعت میں بھی تصوف ہے اس لئے وہاں بھی مراقبہ کا خاص طریقہ رائج ہے ۔چشتی سلسلہ کے مراقبہ میں مذکور ہے کہ ہرہفتہ قبر کے پاس آدھا گھنٹہ سر ڈھانپ کر بیٹھا جائے ، اس میں ایک ذکر بھی پڑھنا ہے ۔"اللہ حاضری اللہ ناظری" مراقبہ کے یہ سب مخصوص طریقے تصوف وبےدینی کی تعلیم ہے ۔

    سوال (5) : میرے والدین بیمار ہیں اور میرے شوہر ان سے ناراض ہیں ان کے پاس عیادت کے لئے کیسے جاؤں جبکہ وہ منع کرتے ہیں ؟
    جواب : والدین کی خدمت بھی ضروری ہے اور شوہر کی اطاعت بھی ضروری ہے ۔ آپ کو مشورہ دوں گا کہ شوہر کو ناراض کرکے والدین کی عیادت کرنے نہ جائیں ، بسااوقات بیوی کی معمولی سی غلطی سے طلاق کی نوبت آجاتی ہےاوربسابسایا گھر لمحوں میں اجڑ جاتا ہے ۔ عورت میں اللہ نے بے پناہ خوبیاں رکھی ہیں وہ جسے چاہے خوش کرسکتی ہے، شوہر تو آپ کی زندگی ہے ،ان کی اچھی اور بری عادتوں اور پسند وناپسند سے بخوبی واقف ہوں گی؟ ۔ بھلے شوہر آپ کے ساتھ میکہ نہ جائے مگر انہیں کسی پسندیدہ کام پر راضی کرکے آپ جاسکتی ہیں ۔ اللہ آپ کے لئے آسانی فرمائے ۔

    سوال (6): کیا مسلمان دیوالی کے موقع پر پٹاخے کی خریدوفروخت کرسکتا ہے ؟
    جواب : دیوالی ہندؤں کا مذہبی تہوار ہے اس موقع پہ کسی مسلمان کو ایسا کوئی کام کرنے کی اجازت نہیں ہے جس سے اس کے تہوار پہ مدد ملے ۔ پٹاخہ کی تجارت تو کبھی بھی جائز نہیں ہے کیونکہ یہ انسانوں کے لئے مضر ہے اور بطور خاص دیوالی یا ہندؤں کے کسی مذہبی دن پہ اس کی خرید وفروخت کرنا ان کے مذہبی کام پہ تعاون ہے اور اللہ تعالی نے ہمیں برائی کے کاموں پر کسی کی مدد کرنے سے منع کیا ہے۔

    سوال (7): نماز کے لئے سترہ رکھنے کا کیا حکم ہے جبکہ ہمیں یقین ہو کہ آگے سے کوئی گزرنے والا نہیں ہے؟
    جواب : نماز کے لئے سترہ رکھنا مشروع ومستحب ہے ، عموما ہمیں نماز میں سترہ کا اہتمام کرنا چاہئے، دیواریا ستون کو ہی سترہ بنالیں لیکن اگر کوئی نماز کے لئے سترہ نہ بھی رکھا تو اس کی نماز درست ہے ۔

    سوال (8): کیا تیل لگا ہو تو وضو ہوجائے گایعنی اعضائے وضو پر تیل لگا ہو اس حالت میں وضو کریں تو وضو ہوجائے گا؟
    جواب : عضو پر تیل لگارہنے سے اس پہ پانی انڈیلا جائے تو جلد تک پانی پہنچ جاتا ہے اس وجہ سے وضو صحیح ہے ۔

    سوال (9) : ایک خاتون نے اپنی والدہ کی صحت یابی کے لئے دس روزہ رکھنے کی منت مانی تھی اور اس نے ایک ہی روزہ رکھا کہ والدہ فوت ہوگئیں تو باقی کے روزے پورے کرنے ہیں ؟
    جواب : سوال سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ خاتون نے والدہ کی صحتیابی کی منت مان کے روزہ رکھنا شروع کردیا جبکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ والدہ صحت یاب ہوجاتیں تو منت کے روزے رکھتی۔ بہر کیف! اگر صورت حال ایسی رہی ہو تو اس کے اوپر کوئی روزہ نہیں کیونکہ منت پوری نہیں ہوئی۔

    سوال (10) : کیا نیل گائے کا دودھ پی سکتے ہیں ؟
    جواب : نیل گائے جسے عربی میں حماروحشی یعنی جنگلی گدھا کہتے ہیں حلال ہے اور حلال جانور کا گوشت اور دودھ بھی حلال ہے۔

    سوال (11): کیا ہندو عورت مسلمان کے گھر کام کاج اور کھانے بنانے کا کام کرسکتی ہے شریعت کی روشنی میں رہنمائی کریں ۔
    جواب : ہمیں کسی مسلمان عورت کو اپنے گھر کام کرنے کے لئے رکھنا چاہئے اس سے اپنی مسلمان بہن کی معاشی مدد ہوجائے گی اور اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں کہ کوئی ہندو عورت مسلمان کے گھر کام کاج کرے لیکن اسلامی حدود میں رہ کر ۔ گھر کےمردوں سے تنہائی یا اختلاط نہ ہو اور کام میں صفائی کا اہتمام کرے بذات خود وہ بھی اپنے بدن کو صاف رکھے اور عریاں لباس نہ پہنے بلکہ جسم کو اچھی طرح سے ڈھانپے ،مردوں پر کھانا پروسنے کا کام نہ کرےاور کام کرکے اس گھر سے چلی جایا کرے ۔ کام کرنے والی عورت معمر ہو بطور خاص اس وقت جب گھر میں نوجوان یا غیر شادی شدہ افراد ہوں۔

    سوال (12): ایک بہن کا سوال ہے کہ اس نے نیا گھر بنایا ہے اس میں داخل ہونے سے پہلے صدقہ وغیرہ کیا اور گھر میں سورہ بقرہ کی تلاوت بھی کرائی ،اب کچھ اور کرنا ہے اس کی طرف رہنمائی کریں ؟
    جواب :نیا گھر تیار ہونے کے بعد بسم اللہ کہہ کر سلام کرتے ہوئےگھر میں داخل ہوجائیں ۔یہ کافی ہے کیونکہ نبیﷺ سے نئے گھر میں داخل ہونے کا کوئی مخصوص طریقہ نہیں ہے ۔ اللہ کی توفیق سے کسی کو نئے گھر کی نعمت ملی اس نے خوشی میں لوگوں کو کھانا کھلا دیا یا غریبوں میں صدقہ کردیا اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔سورہ بقرہ پڑھوانے کے لئے کسی دوسرے کو لانے کی ضرورت نہیں تھی، نہ ہی اس موقع سے سورہ بقرہ پڑھنے کی ضرورت تھی ، گھر میں اذکار و تلاوت خود ہی کرنا چاہئے،اس سے گھر میں برکت نازل ہوگی۔

    سوال (13): قریب میں ایک چھوٹی مسجد ہے جس میں جمعہ کی نماز میں 32 آدمی کے قریب رہتے ہیں تو اس میں جمعہ کی نماز پڑھنا درست ہے جبکہ ایک کلو میٹر آگے بڑی مسجد بھی موجود ہے ؟
    جواب : جہاں آپ کے لئے سہولت ہو وہاں جمعہ کی نماز پڑھ لیں ، چھوٹی مسجد میں بھی جہاں نمازیوں کی تعداد 32 ہے نماز جمعہ ہوجائے گی ۔

    سوال (14): قیامت میں عرش الہی کے سائے میں جو سات لوگ ہوں گے ان میں صرف مرد کا ذکر ہے عورت کیوں نہیں ؟
    جواب : قرآن وحدیث میں عام طور سے خطاب مردوں کو ہے مگر اس میں عورت ومرد دونوں شامل ہوتے ہیں سوائے اس حکم کے جو مردوں کے ساتھ خاص ہو ۔ ظل الہی والی حدیث بھی مردوں کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ مردوعورت دونوں کو عام ہے ۔ سات قسم کے لوگوں میں سے پانچ قسم میں عورت ومرد شامل ہیں ۔وہ نوجوان لڑکے اور لڑکیا ں جن کی جوانی عبادت میں گزری ہو، اللہ کی رضا کے لئےایک دوسرے سے محبت کرنے والے مرد اور ایک دوسرے سے محبت کرنے والی عورتیں، وہ مرد یا عورت جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرکے رو پڑے، وہ مرد جسے منصب وجمال والی عورت برائی کی دعوت دے یا وہ عورت جسے منصب وجمال والامرد برائی کی دعوت دے تو کہے انی اخاف اللہ (میں اللہ سے ڈرتا ہوں)، وہ مرد یا عورت جو چپکے سے صدقہ کرے اس طرح کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا بائیں کو پتہ نہ چلے ۔
    مگر امامت مردوں کی خصوصیت اور جماعت سے مسجدمیں نماز پڑھنا بھی ان کے لئے،عورت کے لئے سرداری نہیں اور گھر میں نماز پڑھنا اس کے لئےمسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔

    سوال (15): عبدالدیان نام رکھنا کیسا ہے ؟
    جواب : الدیان ، اللہ کا نام ہے اسمائے حسنی میں سے ہے ۔ اس کا معنی بدلہ دینے والا ، حساب لینے والا ، فیصلہ کرنے والاوغیرہ ہے۔ یہ لفظ صحیح حدیث میں وارد ہے ، مجمع الزوائد اور الترغیب والترہیب میں قیامت سے متعلق ایک روایت ہے جسے شیخ البانی نے حسن لغیرہ ،منذری نے حسن ، ہیتمی مکی نے صحیح اور ہیثمی نے اس کے رجال کو ثقہ کہا ہے ۔ اس میں جو لفظ ہے وہ " أنا الدَّيَّان، أنا المَلِك" ہے یعنی میں ہی حساب لینے والا ہوں ، میں ہی بادشاہ ہوں ۔ اس لفظ کو اسمائے حسنی کے طور پر بہت سے اہل علم نے ذکر بھی کیا ہے جیسے خطابی، ابن مندہ ، حلیمی ، بیہقی، قرطبی اور ابن القیم وغیرہ ۔ اس وجہ سے عبدالدیان نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

    سوال (16): سونے کا دانت لگانا کیسا ہے اور اگرجائز ہے تو وفات کے بعد اسے اتار لینا ہے یا چھوڑ دینا ہے ؟
    جواب : زینت کے طور پر مردوں کے لئے سونا کا استعمال حرام ہے لیکن بطور ضرورت سونے کا دانت لگاسکتے ہیں جیساکہ عرفجہ صحابی نے رسول اللہ ﷺ کے حکم پہ سونے کی ناک لگوائی تھی اور اس سونے سے وفات کے بعد اتار کر فائدہ اٹھاسکتے ہیں ۔

    سوال (17) : دو آدمی جماعت سے نماز پڑھ رہے ہیں اور ابھی امام آخری تشہد میں بیٹھا ہوا ہے تیسرا آدمی اس جماعت میں کیسے شامل ہوگا؟
    جواب : بخاری ومسلم میں ہے کہ نبی ﷺ فرماتے ہیں جسے نماز کی ایک رکعت ملی اسے نماز مل گئی تو نماز(جماعت )کا ثواب پانے کے لئے کم از کم ایک رکعت امام کے ساتھ ملنا ضروری ہے ۔ اور امام آخری تشہد میں ہے اس میں شامل ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اس لئے تیسرا آدمی انتظار کرے اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد دوسرے آدمی کےساتھ جماعت سے نماز پڑھے ۔

    سوال (18): نکاح شغار کا کیا حکم ہے یعنی بکر ، عمر کی بہن سے شادی کرے اور عمر ، بکر کی بہن سے ؟
    جواب : نکاح شغار ممنوع ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے بیٹے یا بھائی کی شادی کسی آدمی کی بیٹی یا بہن سے کرواتا ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ بھی اپنے بیٹے یا بھائی کی شادی اس کی بیٹی یا بہن سے کرے ۔ یہ دونوں شادی ایک دوسرے پہ منحصر ہوتی ہے ، ایک باقی تو دوسری باقی اور ایک ٹوٹی تو دوسری بھی ٹوٹ جاتی ہے۔ اس قسم کے نکاح کو شغار کہا جاتا ہے جوکہ اسلام میں جائز نہیں ہے خواہ نکاح میں مہر ہو یا نہ ہو ۔

    سوال (19): کیا خواتین سونے چاندی کے علاوہ کسی اور میٹل کا بنا ہوا زیور پہن سکتی ہے ؟
    جواب :عورت سونے چاندی کے علاوہ دوسرے کسی بھی میٹل کے زیور استعمال کرسکتی ہے ، اصلا زینت کی تمام چیزیں عورتوں کے لئےاستعمال کرنا جائز ہے سوائے اس کے جس میں کوئی قباحت ہو ۔

    سوال (20):مسلم مکان مالک کا اپنے مکان میں دیوالی منانے کی اجازت دینا کیسا ہے ؟
    جواب : اصلا مکان اس وجہ سے دیا گیا ہے کہ کرایہ دار اس مکان میں رہائش پذیر ہوگا، اور ظاہرا کرایہ دار ہندو ہو تو وہ اپنے مذہبی امور کو انجام دے گا خواہ دیوالی ہو یا اور کوئی پوجا ۔ گھر میں بھی غیراللہ کی عبادت کرتا ہوگا، اس کی تصویر رکھا ہوگا۔ اگر مکان مالک نے کرایہ دار سے شروع میں ان کاموں کی ممانعت کی تھی تو اصولا صاحب مکان کو ان کے ان کاموں سے روکنے کا حق ہے ۔ اسلام ایسا مذہب ہے جو دوسروں کو اپنے اخلاق وکردار سے متاثر کرتا ہے ۔مسلمان مکان مالک کو چاہئے کہ اپنے ہندو کرایہ دار سے نرمی کا رویہ برتے اوراس کو اپنے اخلاقی رویہ کے ساتھ اسلام سے روشناس کرائے ۔ یعنی ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہندو پر اسلام پیش کرکے اپنی طرف سے حجت قائم کردے تاکہ وہ اللہ کے یہاں اس ذمہ داری سے بری ہوجائے ،ساتھ ہی قیامت میں وہ ہندو اللہ کے حضور اسلام نہ جاننے کا بہانہ نہ بناسکے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  18. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    واٹس ایپ گروپ اسلامیات کے چند اہم سوالات اور کتاب وسنت پر مبنی جوابات

    جواب : از شیخ مقبول احمد سلفی

    آج سے تین سال پہلے واٹس ایپ پہ "اسلامیات" نام سے میں نے ایک گروپ تشکیل دیا گیا تھا کیا خبر تھی یہ اپنی مثال آپ ہوجائے گااور اس گروپ کے برگ وبار پوری دنیا میں پھیل جائیں گے؟ ۔ میری جتنی تحریر، مسائل، تجزیہ اور مضامین سوشل میڈیا پہ گردش میں ہیں اوربرصغیرہندوپاک کے اخباروں، جرائدومجلات کی آئے روز زینت بنتے رہتے ہیں وہ واٹس ایپ گروپ اسلامیات کی مرہون منت ہے ۔ اس گروپ کے اکثر ممبران تین سالوں سے جڑے ہوئے ہیں کوئی اس سے کبھی نہیں نکلتا ،یہی وجہ ہے کہ اس کے دور رس نتائج سامنے آئے ۔ اس گروپ کے تمام ممبران کا صمیم قلب سے مشکور وممنون ہوں اورسوشل میڈیا پہ کسی بھی حیثیت سے مجھ سے جڑے تمام بھائیوں کا اللہ کے شکریہ کے بعددل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ یوں تو ہمیشہ اس گروپ کے تمام سوالات وجوابات ،دینی احکام ومسائل اور مضامین ومقالات سوشل میڈیا پہ نشر کئے جاتے ہیں آج چند دنوں کے چند اہم سوالات میرے پاس جمع ہوگئے تھے تو ان کا جواب قارئین تک افادہ کے لئے پہنچایا جارہاہے اس دعاکے ساتھ کہ اللہ تعالی ہمیں کتاب وسنت کی تعلیمات عام کرنےکی توفیق دے ، یقین جانئے کتاب وسنت کی صحیح تعلیم سے ہی لوگ تقلید شخصی، بزرگ پرستی اور بندوں کی عبادت سے نکل کر اللہ کی عبادت کی طرف آئیں گے ۔

    سوال (1): غیر مسلم کی دعا میں آمین کہنا کیسا ہے ؟
    جواب : یہاں ایک سوال کا مزید جواب جان لینا ضروری ہے کہ کیا اللہ کافر کی دعا قبول کرتا ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالی اپنے تمام بندوں کی دعا قبول کرتا ہے خواہ مسلم ہو یا کافر ہے جیساکہ اس آیت میں ذکر ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے : وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنْسَانُ كَفُورًا (الاسراء:67)
    ترجمہ:اور سمندروں میں مصیبت پہنچتے ہی جنہیں تم پکارتے تھے سب گم ہو جاتے ہیں صرف وہی اللہ باقی رہ جاتا ہے پھر جب وہ تمہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے ۔
    اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب مشرکین کو سمندر میں پریشانی لاحق ہوتی تو بتوں کو بھول جاتے اور اللہ سے دعا کرتے تو اللہ ان کی دعا قبول لیتا اور جب سمندر سے بچ نکل کر خشکی میں جاتے تو پھر سے اللہ کو بھول جاتے ۔ جب اللہ تعالی کافر کی دعا قبول کرتا ہے تو اس کی دعا پر آمین کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر یاد رہے کہ کفر اور شرک والی دعا میں آمین نہیں کہنا ہے بلکہ جو مناسب اور جائز دعائیں ہیں انہیں پرآمین کہہ سکتے ہیں ۔

    سوال(2): لاعلمی میں بڑے جانور میں عقیقہ کردیا کیا گیااب دوبارہ عقیقہ کرنا پڑے گا؟
    جواب : نہیں ، کیونکہ بعض اہل علم نے بڑے جانور میں بھی عقیقہ کرنے کو جائز کہا ہے البتہ بہتر وافضل یہی ہے کہ عقیقہ کے جانور میں مسنون طریقہ اختیار کیا جائے وہ یہ ہے کہ لڑکا کی طرف سے دو اور لڑکی کی طرف سے ایک چھوٹا جانور ذبح کیا جائے ۔

    سوال (3): صلاۃ التبسیح کا طریقہ بتلائیں ۔
    جواب : یہاں سوال یہ ہونا چاہئے کہ صلاۃ التسبیح کا حکم کیا ہے ؟ اگر حکما یہ نماز درست ثابت ہوتی ہے تب اس نماز کا طریقہ جاننے کی ضرورت ہے ۔ لہذا میں یہاں طریقہ نہیں اس کی نماز کی شرعی حیثیت بتلا رہاہوں۔
    نماز تسبیح کے متعلق علماء کا اختلاف ہے ، بعض نے جائز کہا ہے اور بعض نے ناجائز کہا ہے ۔ اس اختلاف کی وجہ تسبیح سے متعلق وارد روایات میں صحت وضعف کا اختلاف ہے ۔ جو تسبیح والی روایت کو صحیح قرار دیتے ہیں وہ جائز کہتے اور جو ضعیف قرار دیتے وہ ناجائز کہتے ہیں ۔ شیخ محمد صالح العثیمین رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
    وقد اختلف الناس في صلاة التسبيح في صحة حديثها والعمل به:فمنهم من صحَّحه، ومنهم من حسَّنه، ومنهم من ضعَّفه ومنهم من جعله في الموضوعات، وقد ذكر "ابن الجوزي" أحاديث صلاة التسبيح وطرقها وضعَّفها كلها، وبين ضعفها وذكره في كتابه الموضوعات.(مجموع فتاوى ورسائل الشيخ محمد صالح العثيمين - المجلد الرابع عشر - باب صلاة التطوع)
    ترجمہ: اور لوگوں نے نماز تسبیح والی حدیث کی صحت اور اس پر عمل کرنے کے متعلق اختلاف کیا ہے ۔ ان میں سے بعض نے اسے صحیح کہاہے ، بعض نے حسن قرار دیا ہے، بعض نے ضعیف کہا ہے اور بعض نے اس حدیث کو موضوعات میں شمار کیا ہے ۔ ابن الجوزی نے تسبیح والی نماز کی احادیث اور ان کے طرق کو جمع کیا ہے اور تمام کی تمام کو ضعیف قرار دیا ہے اور انہیں اپنی کتاب "الموضوعات" میں ذکر کیا ہے ۔راحج یہی معلوم ہوتا ہے کہ نماز تسبیح والی احادیث ضعیف ہونے کی وجہ سے اس پر عمل نہیں کرنا چاہئے ۔

    سوال (4): میں نے اپنی بیٹی کا عقیقہ غیردانتا جانور میں کیا اور اب میری بیٹی نو سال کی ہوگئی ہے کیا اس کی طرف سے دوبارہ عقیقہ کرنا ہوگا؟
    جواب : عقیقہ کے جانور کے لئے دانتا ہونے کی شرط نہیں ہے اگر تندست ،صحیح سالم جانور غیر دانتا بھی ہو تو اس کو عقیقہ کے طور پر ذبح کرسکتے ہیں لہذا آپ کو دوبارہ عقیقہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

    سوال(5): نومولود کے کان میں اذان دینے کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
    جواب : نومولود کے کان میں پیدائش کے وقت اذان دینا مشروع ہے ۔ ترمذی میں ہے۔
    عن عبيد الله بن أبي رافع عن أبيه قال رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أذن في أذن الحسن بن علي حين ولدته فاطمة بالصلاة(سنن الترمذي: 1514)
    ترجمہ:ابو رافع رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نےحضرت حسن جنم دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کان میں نماز کی طرح اذان دی ۔
    اس حدیث کو ترمذی نے حسن صحیح کہا ہے اور پھر آگے لکھتے ہیں "العمل علیہ" یعنی اس حدیث پر مسلمانوں کا عمل ہے ۔ ایک طرح سے امام ترمذی اپنے اس قول کے ذریعہ یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ اس پہ اہل علم کا اجماع ہے یا تمام مسلمانوں کا اس پر عمل واتفاق ہے ۔ اس قول کے تناظر میں شیخ زیبر علی زئی رحمہ اللہ نے بھی لکھاہے کہ اذان پر مسلمانوں کا اجماع معلوم ہوتا ہے۔شارح الترمذی علامہ مبارک پوری رحمہ اللہ نے کہا کہ امام ترمذی کاقول" العمل علیہ" کا مطلب ہے کہ پیدائش کے بعد نومولود کے کان میں اذان دینے کے سلسلے میں ابورافع کی حدیث پر مسلمانوں کا عمل ہے ۔مزید آگے لکھتے ہیں کہ اگر آپ کہیں گے کہ کیسے اس پر مسلمانوں کا عمل ہے جبکہ یہ ضعیف ہے اس کی سند میں عاصم بن عبیداللہ ہے جیساکہ آپ نے جانا تو میں کہوں گا کہ ہاں وہ ضعیف ہے لیکن اسے حسین بن علی رضی اللہ عنہماکی حدیث سے تقویت ملتی ہے جسے ابویعلی موصلی اور ابن السنی نے روایت کیا ہے ۔ خلاصہ یہ کہ مبارک پوری صاحب کا بھی رجحان نولود کے کان میں اذان دینے کی طرف ہے ۔ معلوم ہوا کہ بچے کی پیدائش پر اس کے دائیں کان میں اذان دینا چاہئے لیکن اگر کوئی نہیں دیتا ہے تو کوئی حرج بھی نہیں ہے یہی بات شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے بھی کہی ہے کہ نولود کے کان میں اذان دینا تمام اہل علم کے نزدیک مشروع ہے اگر کوئی اس پر عمل کرتا ہے جیساکہ اس سے متعلق احادیث وارد ہیں اور ایک دوسرے کو تقویت پہچاتی ہیں تو اچھی بات ہے اور اگر کوئی چھوڑ دیتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

    سوال (6): دیوالی کے موقع پر غیر مسلم کی طرف سے دی جانے والی مٹھائی کھا سکتے ہیں کہ نہیں ؟
    جواب : یہ بات اپنی جگہ مبنی بر حقیقت ہے کہ کفاراپنے تہوار پہ اکثر غیراللہ کی عبادت بجالاتے ہیں ، ہم مسلمانوں کو ان کے کسی ایسے تہوار پر تعاون نہیں پیش کرنا چاہئے جس میں غیراللہ کی عبادت کی جاتی ہے ۔ ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بطور پڑوسی ،میل جول اور انسانی رواداری کے اگر کوئی غیرمسلم ایساہدیہ پیش کرے جوغیراللہ پہ نہ چڑھایاگیا ہواور نہ ہی وہ ہدیہ شرعا حرام ہو تو اس کے قبول کرنے میں میری نظر سے کوئی قباحت نہیں ہے ۔ یہ احسان وسلوک کے درجہ میں ہوگا اور اس کا حکم عام ہدیہ کی طرح ہوگا جس کی قبولیت کا ثبوت ملتا ہے البتہ جومٹھائیاں مسلمانوں کی تضحیک ورسوائی ، ان کو نیچا دکھانے ، یا کسی طرح اپنی برتری ثابت کرنے کے لئے تقسیم کرے تو اسے قبول نہیں کیاجائے ، اس میں سراسراسلام اور مسلمانوں کی توہین ہے۔ اس پہ مفصل مضمون پڑھنے کے لئے میرے بلاگ" مقبول احمد ڈاٹ بلاگ اسپاٹ ڈاٹ کام" پر تشریف لائیں۔

    سوال(7): کیا ملتزم یعنی کعبہ کا دروازہ پکڑ کر دعا کرنا ثابت ہے ؟
    جواب : ملتزم کعبہ کے دروازہ کو نہیں کہتے ہیں بلکہ ملتزم کہتے ہیں کعبہ کے دروازہ اور حجر اسود کی درمیانی جگہ کو ۔ اس جگہ پہ نبی ﷺ سے دعا کرنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے البتہ بعض صحابہ کرام سے ثابت ہے ۔ اگر کوئی ملتزم میں دعا کرنا چاہے تو کرسکتا مگر یاد رہے اس جگہ کی کوئی مخصوص دعا نہیں ہے ۔

    سوال (8): غار حراء میں نماز پڑھنے کا ثبوت ہے ؟
    جواب : غار حراء کی طرف جانا کوئی سنت نہیں ہے اور نہ ہی اس پر چڑھنا کوئی ثواب کا کام ہے ۔ یہ صحیح ہے کہ نبی ﷺ نبوت سے پہلے یہاں آتے اور عبادت کیا کرتے تھے مگر یہ نبوت سے پہلے کی بات ہے ۔اب اگر کوئی وہاں عبادت یا اجر وثواب کی نیت سے آتاہے تو یہ دین میں نئی ایجاد ہے جسے بدعت وگمراہی کہی جائے گی ۔ ہاں کوئی یونہی دیکھنے کی غرض سے آئے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔

    سوال(9): کیا رکوع ملنے سے رکعت ہوجاتی ہے ؟
    جواب : یہ مسئلہ اہل علم کے درمیان جواز وعدم جوازسے متعلق کافی اختلافی ہے ، دونوں طرف دلائل ہیں ۔یہ جگہ تفصیل کی نہیں ہے مختصرا یہ کہوں گا کہ مدرک رکوع یعنی رکوع میں شامل ہونے والا اپنی رکعت لوٹا لے یہ قوی مسلک ہے ، امیرالمومنین فی الحدیث امام بخاری جیسے جلیل القدر محدث کا یہی موقف ہے۔

    سوال (10) : پانچ چیزیں کھانے سے حافظہ تیز ہوتا ہے.مٹھاس کھانے سے،جانور کی گردن کے قریب کا گوشت کھانے سے،مسورکی دال کھانے سے،ٹھنڈی روٹی کھانے سے،آیت الکرسی پڑھنے سے۔ کیا یہ حدیث صحیح ہے؟
    جواب : اس قسم کی کوئی صحیح روایت مجھے نہیں ملی دیلمی نے مسند الفردوس میں یہ روایت نقل کی ہے ۔
    خمس يذهبن بالنسيان ويزدن في الحفظ ويذهبن البلغم السواك والصيام وقراءة القرآن والعسل واللبان .( الفردوس:2 / 197)
    ترجمہ: پانچ چیزیں نسیان کو ختم کرتی ہیں ، حافظہ میں تیزی لاتی ہیں اور بلغم کو دور کرتی ہیں ، وہ ہیں مسواک کرنا، روزہ رکھنا، قرآن کی تلاوت کرنا شہد اور لبان استعمال کرنا۔
    اس روایت کی کوئی حقیقت نہیں ہے ، حضرت علی سے مروی ایک یہ روایت ہے ۔
    ثلاثةٌ يَزْدِنَ في الحفظ ويُذهِبْن البلغم ، اللُبانُ، والسواكُ ، وقراءةُ القرآن.
    ترجمہ: تین چیزیں حافظہ مضبوط اور بلغم دور کرتی ہیں ۔ لبان ، مسواک اور تلاوت قرآن۔
    یہ سب روایات کثیر تعداد میں شیعہ کی کتابوں میں درج ہیں ممکن ہے سوال میں مذکور بات بھی شیعہ کتاب سے ہی ہو یا بے اصل روایتوں میں سےلیکن نبی ﷺ کے ثابت فرامین میں سے نہیں ہے۔

    سوال(11): ایک عیسائی نے اسلام قبول کیا ہے اب ان کےلئے کیسی دعا کرنی چاہئے؟
    جواب : الحمد لله ، اللہ کی طرف سے اس نئے بھائی کے لئے بڑا فضل ہے کہ اسے ہدایت نصیب ہوئی ۔ اس پہ اللہ کا شکر بجا لانا چاہئے۔
    اسے ہدایت مل گئی , ایک انسان کے لئے سب بڑی کامیابی یہی ہے ،اب اس کے لئے استقامت کی کثرت سے دعا کرنی چاہے تاکہ وہ دین اسلام پر ثابت قدم رہے نیز اسے اسلام کی بنیادی تعلیم سے بھی آگاہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ اولا طہارت، غسل ، وضو اور نماز وغیرہ پھر ارکان اسلام ، ارکان ایمان وغیرہ
    اللہ تعالی اسے دین اسلام پر ثابت قدم رکھے۔ آمین یارب العالمین

    سوال (12): میں نے اللہ کے لئے نذر مانی تھی کہ میری بھابھی کو اگر بیٹا ہوگا تو دس روزہ رکھوں گا مگر بیٹی پیدا ہوئی تو کیا روزہ رکھنا ہے ؟
    جواب : آپ کو کوئی روزہ نہیں رکھنا ہے کیونکہ نذر پوری نہیں ہوئی ، جب نذر پوری ہوتی تب آپ کو دس روزہ رکھنا ضروری ہوتا۔

    سوال(13): میرے دوست لندن سے آرہے ہیں اس کے استقبال کے لئے میں طائف سے مکہ مکرمہ آیا ہوا ہوں ۔ دوست نے راستہ میں کہیں سے احرام نہیں باندھا وہ اب جدہ آگئے ہیں وہ کیا کرے اور میرا ارادہ پہلے عمرہ کا نہیں تھا مگر اب عمرہ کرنا چاہتا ہوں تو کہاں سے احرام باندھو؟
    جواب : آپ اپنے دوست سے کہیں کہ وہ اہل طائف کی میقات قرن المنازل پہ چلے جائیں وہ سب سے قریب میقات ہے وہاں سے احرام باندھ کر آئیں پھر عمرہ کریں اور آپ مسجد عائشہ چلے جائیں وہاں سے احرام باندھ کر عمرہ کرلیں ۔

    سوال(14): کیا عورت کی کمائی حرام ہے؟
    جواب : اسلام میں عورت کی معاشی کفالت اس کے سر پرست کے ذمہ ہے ، نکاح سے پہلے باپ پر اور نکاح کے بعد شوہر پر، اس لئے عورت کو محنت ومزدوری کے لئے گھر سے باہر نکلنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن عورت کسی وجہ سے کوئی جائز ذریعہ معاش اپنانا چاہے تو اسلام میں اس کی اجازت ہے تاہم کسب معاش کے لئے عورت کو اسلامی آداب بجالانا ہوگا۔ حجاب کی پاسداری، اختلاط سے اجتناب، محرم کے ساتھ سفر اور عفت وعصمت کی نگہداشت وغیرہ
    جو آدمی عورت کی جائز کمائی کو حرام کہتا ہے اسے اسلام کی خبر نہیں ہے ، عہد رسول میں صحابیات صنعت وحرفت، خریدوفروخت، کاشت کاری اور کسب معاش کیا کرتی تھیں ۔ اس سلسلہ میں ایک حدیث پیش کرنا ہی کافی ہے ۔
    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی صنعت وحرفت کا کام کیا کرتی تھیں اور اس کے فائدے سے گھر کا خرچ چلاتی تھی جس کی وجہ سے صدقہ کرنے کا پیسہ نہیں بچ پاتا تھا تو رسول اللہ ﷺ سےعرض کرتی ہیں :
    يا رسولَ اللهِ إني امرأةٌ ذاتُ صَنْعَةٍ أبيعُ منها وليسَ لي ولا لولدي ولا لزوجي نفقةٌ غيرُها وقد شَغَلُوني عن الصدقةِ فما أستطيعُ أن أتصدقَ بشيٍء فهل لي من أجرٍ فيما أنفقتُ قال فقال لها رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ أنفقي عليهم فإنَّ لكِ في ذلكَ أجرٌ ما أنفقتِ عليهم(مجمع الزوائد:3/390وابن حبان:4247)
    ترجمہ:اسے اللہ کے رسول ! میں ایک کاری گر عورت ہوں ، صنعت کا سامان بیچا کرتی ہوں ۔ میرے لئے، میرے بچوں کے لئے اور میرے شوہر کے لئے صنعت کے فائدہ کے علاوہ کوئی خرچہ نہیں ہے ۔ان لوگوں نے مجھے صدقہ سے مشغول کردیا ،میں کچھ صدقہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتی ہوں تو کیا میں جو خرچ کرتی ہوں اس میں میرے لئے اجر ہے ؟ تو اللہ کے رسول ﷺ نے ان سے فرمایا:ان لوگوں پر خرچ کرو بےشک اس میں تمہارے لئے اجر ہے جو ان لوگوں پر خرچ کرتی ہو۔
    اس کی سند کو شیخ البانی نے ارواء الغلیل شیخین کی شرط پر کہا ہے ۔ اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ایک جلیل القدر صحابی کی بیوی صنعت کا پیشہ اختیار کئے ہوئے تھی،اس کے علاوہ گھر میں کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے،صحابیہ کی کمائی سے بچوں اور شوہر کا خرچ چل رہا تھا بلکہ رسول اللہ ﷺ نےبذات خود ان پر خرچ کرنے کا حکم دیا ۔ اس حدیث سے ان لوگوں کی بھی تردید ہوجاتی ہے جو بیوی کی کمائی شوہر کے لئے جائز نہیں قرار دیتے ہیں ۔

    سوال(15): جسے پہلے معلوم نہیں تھا اور نکاح شغار کرلیا اس کی شادی کے کئی سال گزرگئے بال بچے بھی ہیں اس کی شادی کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : جس نے لاعلمی میں نکاح شغار کرلیااور بعد میں اس کے عدم جواز کا علم ہوا اسے چاہئے کہ اپنے نکاح کی تجدید کرلے ، اس نکاح میں ولی، مہر اور دو عادل گواہ کی بھی ضرورت ہے اس طرح میاں بیوی بری الذمہ ہوجائیں گے اس شرط کے ساتھ کہ زوجین میں سے دونوں ایک دوسرے سے رضامند بھی ہوں۔ نیز اللہ تعالی سے گزشتہ غلطی پر توبہ بھی کرلے ۔

    سوال(16): ایک عورت کی شادی تقریبا آٹھ سال پہلے ہوئی تھی اب اس کی نند سے اس کے بھائی کی شادی ہونی ہے کیا یہ شادی اسلام میں جائز ہے ؟
    جواب : اس شادی میں کوئی حرج نہیں ہے ، اسے نکاح شغار نہیں کہیں گے کیونکہ ایک شادی آٹھ سال پہلے بغیر کسی شرط ومعاہدہ کے ہوچکی ہے ۔

    سوال(17): کسی غیرمسلم کے جنازے میں شریک ہونا کیسا ہے ؟
    جواب : کسی کافر کی میت پہ اس کی تعزیت (استغفار جائز نہیں) کرنا جائز ہے لیکن اس کے جنازہ میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے ۔آپ ﷺ ابوطالب کی موت پہ ان کے جنازہ میں شریک نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کی تدفین میں جبکہ ابوطالب نے قدم قدم پہ آپ کی مدد کی تھی ۔
    ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اسلام نے کفار سے موالات کو منع فرمایاہے اور کافر کی میت میں شرکت موالات میں سے ہے ، اس میں کافر کا احترام اور اس سے محبت کا اظہار ہے ۔ جنازہ کے پیچھے چلنا، یہ تو ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پہ حق ہے، اسے کافروں کو کیسے دیا جاسکتاہے؟ ۔اور کافرمیت کی تعزیت کی بات اسلام کے احسان و سلوک کے تئیں ہے ۔

    سوال (18):ایک عورت کو 24 تاریخ سے ماہواری شروع ہوئی ،پھر وہ یکم تاریخ کو نہاکر پاک ہوگئ۔ کئی روز کے بعد پھر سے 12 تاریخ کو خون آنے لگا کیا وہ نماز پڑھے گی ؟
    جواب : عام طور سے عورت اپنے حیض کی مدت جانتی ہے یعنی اسے عادتا مہینہ میں تین دن ،چار دن یا ہفتہ دس دن ہمیشہ حیض آیا کرتا ہے ۔ہرمہینہ ان دنوں میں آنے والے خون کو عورت حیض سمجھے اور خون بند ہونے پر نہاکر پاک ہوجائے اور نماز پڑھنے لگے ۔ عادت سے ہٹ کر کچھ دنوں بعد پھر خون آنے لگے تو اسے بیماری کا خون سمجھے اورہرنماز کے لئے وضو کرکے نماز پڑھتی رہے ۔ زوجہ رسول ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا خون کثرت سے آتا تھاانہوں نےاس خون کے متعلق نبی ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے ان سے فرمایا: امْكُثي قدرَ ما كانت تَحْبِسُكِ حيضتكِ . ثم اغتسلي وصلي(صحيح مسلم:334)
    ترجمہ: اپنی مدت حیض کے برابر تو نماز روزہ سے رکی رہ، پھر غسل کر اور نماز پڑھ۔۔
    لہذا 12 تاریخ سے جو خون عادت کے خلاف آنے لگا ہے اسے حیض نہیں استخاضہ سمجھے اور نماز پڑھتی رہے لیکن یادرہے استحاضہ میں ہرنماز کے لئےوضو کرنا ہوگا۔

    سوال (19):کشف کسے کہتے ہیں اور اسلام میں کشف والہام کی کیا حقیقت ہے ؟
    جواب : دل میں خیال وتصور پیدا ہونے کو کشف کہتے ہیں ۔ اکثر اوقات شیطان کی طرف سے طرح طرح کی باتیں انسان کے دلوں میں پیدا ہوتی ہیں کیونکہ شیطان انسان کے پیچھے لگاہواہے بلکہ اس کے خون میں گردش کرتا ہے ۔ کبھی کبھی صالح بندے پر اللہ کی طرف سے کرامت کی طرح کشف والہام ہوجایاکرتا ہے اسے کشف رحمانی کہیں گے جیساکہ موسی علیہ السلام کی ماں کے دل میں اللہ نے تابوت بنانے کا الہام کیا اور اسی طرح ابوبکر صدیق نے اپنی بیوی کے متعلق حضرت عائشہ سے کہا کہ انہیں بیٹی ہوگی۔
    یہاں یہ بات جان لیں کہ پیروطریقت ،صوفی اور قبرپرستوں نے کشف کے نام پہ بڑا بازار گرم کیا ہے ، آئے روز ایک سے ایک کشف ،ایک سے ایک کرامت ۔ یہ دراصل لوگوں کوانوکھی باتوں سے اپنی جانب متوجہ کرنا چاہتے ہیں اور ان میں اپنا بڑا مرتبہ بناکر تصوف وطریقت کو فروغ دینا چاہتے ہیں ، دو لفظوں میں سمجھ لیں کہ اس قسم کے اکثر کشف شیطانی ہوتے ہیں وہ لوگوں کو کشف شیطانی سے تصوف وطریقت کی طرف بلاتے ہیں ۔ اس سے ہمیں ہوشیار رہنا ہے۔

    سوال(20): انگریزی تاریخ بارہ بجے رات کو بدلتی ہے اور کیا عربی تاریخ سورج ڈوبنے سے ہی بدل جاتی ہے ؟ نیز اگر میری بیٹی بدھ کوگیارہ بج کر چالیس منٹ پر رات میں پیدا ہوئی تو اس دن کو بدھ شمار کرکے ساتویں دن منگل کو عقیقہ کریں یا اسے جمعرات سمجھ کر بدھ کو عقیقہ کرنا ہوگا؟
    جواب : نولود کے ساتویں دن کی تحدید میں اہل علم کا اختلاف ہے ، شریعت کی قمری تاریخ اور اس کے اصول سے مجھے جو معلوم ہوتا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ سورج ڈوبنے سے دن بدل جاتا ہے جس طرح سوال میں مذکور بدھ کی رات ،اسے عربی زبان میں قمری تاریخ کی روشنی میں جمرات کی رات کہا جاتا ہے گویا بچے کی پیدائش کا دن جمعرات مانا جائےگااور جمعرات سے شمار کرکے ساتویں دن بدھ کو عقیقہ کیا جائے گا۔ میں نے یہاں اختلافی بات ذکر نہیں کی ہے مثلا کسی نے ولادت کا دن شمار نہیں کیا ہے ، کسی نے زوال کا قاعدہ بیان کیا ہے ، کسی نے فجر سے پہلے اور بعد کا قاعدہ بیان کیا ہے اور کسی نے رات کی ولادت کو شمار نہیں کیا ہے مگر میں نے یہاں ہجری تاریخ کا جو اسلامی اصول ہے وہ بیان کیا ہے ۔

    سوال (21): کیا اسلام میں کافی حلال ہے اطباء اس کے بہت فوائد بیان کرتے ہیں ؟
    جواب : کھانے پینے کی چیزوں میں اصل حلت ہے یعنی ساری چیزیں حلال ہیں سوائے ان چیزوں کے جن کے بارے میں اسلام نے کھانے سے منع کردیا ۔ اور اسی طرح کھانے پینے کی چیزوں میں اسلام کا ایک قاعدہ یہ ہے کہ اس میں جسمانی نقصان نہ ہو۔ کافی پینا حلال ہے واقعی اطباء اس کے بڑے فوائد بیان کرتے ہیں لیکن اگر اس کا استعمال زیادہ کیا جائے تو نقصان دہ بھی ہے اس لئے صحت کی حفاظت کے لئے کبھی کبھار استعمال کیا جائے تو بہتر ہے ۔ ویسے چائے میں بھی فوائد اور نقصانات دونوں ہیں مگر اس کا استعمال اپنی جگہ درست ہے ۔ صحت کی حفاظت کے لئے چائے کا بھی استعمال کم ہو تو بہتر ہے۔

    سوال (22): عورتوں کے درمیان ایک عالمہ ہفتہ واری درس کیا کرتی ہیں کچھ لوگ اسے بدعت کہتے ہیں آپ سے اس کی حقیقت جاننی ہے۔
    جواب : دینی پروگرام ہفتہ واری ہو، ماہانہ ہو یا سالانہ درست ہے بدعت کہنے والے کے پاس حقد وکینہ کے سواکچھ نہیں ہے ۔جس طرح دینی پروگرام منعقد کرنا مردوں کے لئے جائز ہے اسی طرح عورتوں کے لئے بھی لئے جائز ہے تاہم خواتین کے دروس وبیانات کے لئے اسلامی احکام کو بروئے کار لاناضروری ہے ویسے بھی یہ دور پرفتن ہے ، شیطان اور اہل شروفساد گھات لگائے بیٹھے ہیں جیسے موقع ملتا ہے لوگوں کو بڑے بڑے گناہ میں ملوث کردیتا ہے ۔ جہاں عورتوں کا پروگرام ہو وہاں پردے کا معقول انتظام ہو، مردوں کا کوئی گزرنہ ہو، عورتوں کی آواز اندر تک ہی محدود رہے ، پروگرام کے ذمہ دار وانتظام سب عورتوں کے ہاتھ میں ہو اور فتنہ وفساد کے ذرائع سے بچاؤ ہو۔

    سوال (23): میں اکثر مدینہ کی زیارت کے لئے جایا کرتا ہوں تو میرے رشتہ دار جو سعودی میں ہیں یا اپنے ملک میں وہ مجھ روضہ رسول پہ سلام کہنے کو کہتے ہیں اسلام میں اس کی کیا حیثیت ہے؟
    جواب : ایسا کام غیر مسنون اور غیر مشروع ہے ۔ اس کا ثبوت قرآن و حدیث میں کہیں نہیں ملتا ۔ سلام تو ایسی چیز ہے کہ کوئی کہیں سے بھی نبی ﷺ کو سلام کرسکتا ہے اور ہم کم ازکم پانچ بار نماز میں نبی ﷺ پر درود وسلام بھیجتے ہی ہیں پھر دوسروں کے ہاتھوں بھیجنے کی کیا ضرورت؟
    شاید ایسے لوگوں کو نبی پاک ﷺ کے اس فرمان پہ یقین نہیں ہے :
    لا تجعلوا بيوتكم قبوراً ، ولا تجعلوا قبري عيداً ، وصلُّوا عليَّ فإن صلاتكم تبلغني حيث كنتم (صحيح أبي داود:2042)
    ترجمہ :تم اپنے گھروں كو قبريں مت بناؤ اور ميرى قبر كو ميلہ گاہ نہ بناؤ، اور مجھ پر درود بھيجا كرو كيونكہ تم جہاں بھى ہو تمہارا درود مجھ تك پہنچ جاتا ہے۔
    قبر پہ جاکے سلام پیش کرنے کے متعلق ایک موضوع روایت پیش کی جاتی ہےکہ "جو انسان میری قبر کے پاس کھڑا ہو کرمجھ پر درود وسلام پڑھتا ہے اسےمیں خود سنتا ہوں اور جو میری قبر سے دور رہ کر درود پڑھتا ہے وہ مجھے پہنچایا جاتا ہے۔"
    ٭محدثین کے فیصلہ کے مطابق یہ حدیث خود ساختہ اور موضوع ہے۔ (سلسلہ الاحادیث الموضوعۃ :نمبر۲۰۳)
    اس لئے یہ موضوع روایت ہمارے لئے حجت ودلیل نہیں بنے گی ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  19. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,357
    اس طرح غیر مسلم کی وفات پر انا للہ وانا الیہ راجعون کہ سکتے ہیں ؟
     
  20. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    ہاں کہہ سکتے ہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں