واٹس ایپ گروپ" اسلامیات" کے سوالات اور ان کے جوابات

مقبول احمد سلفی نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏جولائی 26, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    آپ کے سوالات اور شیخ مقبول احمد سلفی کے جواب

    جواب از مقبول احمدسلفی

    سوال (1): بڑھاپے میں دو نمازوں کو اکٹھا کرنے کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : اہل علم نے دو نمازوں کو جمع کرنے کے چھ اسباب ذکر کئے ہیں وہ سفر، بارش، کیچڑ اندھیرے کے ساتھ، بیماری ، عرفہ اور مزدلفہ ہیں۔بڑھاپا بھی مرض ہی ہے ، بڑھاپا ایسا ہو کہ اپنے وقت پہ نماز ادا کرنا آسان ہو تو پانچوں نمازوں کو اپنے اوقات میں ادا کریں گے لیکن اگرنمازوں کو اپنے وقت پہ پڑھنے میں مشقت ہو تو دو نمازیں جمع تقدیم یا جمع تاخیر سے ادا کرسکتے ہیں ۔ شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے کہا کہ اگر کوئی بڑی عمر کا عاجز شخص ہے تو ظہر وعصر کو ایک وقت میں اور مغرب وعشاء کو ایک وقت میں جمع کرکے پڑھنے میں اس کے لئے کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ وہ ہرنماز کو اپنے وقت پر پڑھنے سے عاجز ہے۔ (موقع شیخ ابن باز ، حكم صلاة المتقدمين في السن الذين يصلونها في غير وقتها)

    سوال (2): کیاغیر مسلم رفاہی ادارے کے ذریعہ مسلم لڑکیوں کی شادی کرائی جاسکتی ہے ؟ یہ شادیاں ایک محفل میں اجتماعی صورت میں ہوتی ہیں اس کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : بہت سارے ممالک میں غیرمسلموں میں بھی ایسے فلاحی ادارے ہیں جو مسلم وغیرمسلم کی تفریق کئے بغیر سماجی کام کرتے ہیں ، اگر یہ ادارے مخلص ہوں یعنی اس کے پیچھے کوئی دھوکہ نہ ہو اور حلال پیسوں سے غریبوں کا تعاون کرتے ہوں تو غریب مسلمانوں کو ان اداروں سے فائدہ اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ کسی غریب بچی کی شادی کرنی ہو تو اس قسم کے مخلص اداروں سے تعاون لیا جا سکتا ہے ۔ ہاں اجتماعی صورت میں شادی ہو تو یہ خیال کرنا پڑے گا کہ وہاں فحش ومنکر نہ ہو۔

    سوال (3): فاسق و فاجر کسے کہتے ہیں اور ان دونوں میں کیا فرق ہے ؟
    جواب : فاسق فسق سے بناہوا ہے اور فسق کہتے ہیں اللہ کی اطاعت سے نکل جانا ، اس طرح فاسق کا معنی ہوا ،معصیت اور کبیرہ گناہوں کے ذریعہ اللہ کی اطاعت سے نکل جانے والا۔
    فاجر ، فجور سے ہے یہ بھی معصیت ونافرمانی اور کبائر کا نام ہے مگر فسق سے زیادہ شدید ہے جیسے حدیث میں جھوٹ کے متعلق ذکر ہے "الکذب یھدی الفجور" یعنی جھوٹ فجور کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔ اور جھوٹ اسلام میں شدید قسم کی معصیت ہے مومن کبھی جھوٹ نہیں بولتا اور جو جھوٹ بولتا ہے اسے ہدایت نہیں ملتی ۔ اس طرح فاجر کا معنی ہوگا معصیت او ر کبائر کے ذریعہ اللہ کی نافرمانی سے نکلنے والا۔ فاسق وفاجر میں ایک فرق شدت گناہ کا ہے تو دوسرا فرق فاجر ،فاسق کے مقابلہ میں گناہ پر مصر رہنے والا ہے ۔

    سوال(4): بنگلور میں مسلمانوں کی امبیٹینڈ نام سے ایک کمپنی ہے وہ شیئر مارکیٹ اور زمینات میں رقم لگاتی ہےیا حلال چیزوں میں انوسٹ کرتی ہے، اس کمپنی میں ایک لاکھ روپیہ لگانے سے ماہانہ گیارہ سے تیرہ ہزار منافع ملتا ہے کیا اس میں انوسٹ کرنا جائز ہوگا؟
    جواب : امبیٹینڈ کمپنی اگر ایسے شیئر مارکیٹ میں پیسہ لگاتی ہے جس کا کاروبار سود سے پاک اور حلال چیزوں کا ہے یا جہاں کہیں بھی انوسٹ کرتی ہے وہ حلال چیز یا حلال کام ہے تو آپ کا اس کمپنی میں انوسٹ کرنا جائز ہے اور طے شدہ منافع لینا بھی جائز ہوگا بشرطیکہ نقصان کی صورت میں اس میں شریک رہا جائے ۔

    سوال (5): ایک ایسے آدمی سے قرض لیکر عمرہ کرنا جائز ہے جس کے متعلق حرام کمائی کا شبہ ہے ساتھ ہی یہ بھی معلوم رہے کہ اس کی بیمار ماں عمرہ پہ آرہی ہے اس سے ملے کئی سال ہوگئے وہ اپنی ماں سے ملاقات کرنے اپنا ملک نہیں جاسکتا کیونکہ اس پہ مقدمہ چل رہاہے ؟
    جواب : ماں سے ملاقات کرنے کو عمرہ نام نہ دیا جائے بلکہ ملاقات یا عیادت نام دیا جائے ، آپ اس شخص سے قرض لیں جو حلال کمائی کرتا ہو ، ایسا قرض ملنا مشکل ہو تو اپنا کوئی سامان بیچ کر یا گروی رکھ کر کہیں سے رقم حاصل کریں ۔ لیکن اگر آپ کے پاس بیچنے کے لئے یا گروی رکھنے کے لئےبھی کوئی سامان نہ ہو یعنی آپ خود محتاج ہوں تو ایسی مجبوری میں ایسے شخص سے ضرورت بھر پیسہ لے سکتے ہیں جس کی کمائی میں شبہ ہو یعنی اس کا مال حلال وحرام میں مکس ہو ۔ مکہ پہنچ کر ملاقات کرلیں ، حالات کا جائز لے لیں وہاں سے اگر عمرہ کا ارادہ بنے تو عمرہ بھی کرلیں کوئی حرج نہیں ہے۔

    سوال (6): کیا یہ حدیث صحیح ہے ، نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ سفید بال نہ چنا کرو کیونکہ یہ قیامت کے دن نور ہوں گے۔ جس شخص کا جو جو بال سفید ہوتا گیا اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ اس کیلئے ایک نیکی لکھیں گے، ایک گناہ معاف کریں گے اور ایک درجہ بلند کریں گے۔ (ابن حبان عن ابی ہریرہؓ(
    جواب : ہاں یہ حدیث صحیح ہے ، شیخ البانی نے اسے صحیح الجامع میں ، صحیح ابوداؤد میں اور صحیح الترغیب وغیرہ میں صحیح کہا ہے ۔ متن وترجمہ پیش ہے ۔
    لا تنتِفوا الشَّيبَ ما من مسلِمٍ يشيبُ شيبةً في الإسلامِ إلَّا كانت لَهُ نورًا يومَ القيامةِ إلَّا كتبَ اللَّهُ لَهُ بِها حسنةً وحطَّ عنهُ بِها خطيئةً(صحيح أبي داود:4202)
    ترجمہ: سفید بال مت نوچا کروجس کسی مسلمان کے بال حالت اسلام میں سفید ہو جائیں قیامت کے دن یہ اس کے لیے نور کا باعث ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ ایک ایک بال کے عوض اس کی نیکی لکھتا ہے اور ایک گناہ دور کرتا ہے ۔

    سوال (7): میرا امتحان ڈھائی بجے سے پانچ بجے تک ہے اس دوران عصر کا وقت ہوجارہاہے ، کیا میں ظہر کی نماز کے ساتھ عصر کی نماز پڑھ سکتا ہوں ؟
    جواب : امتحان ایسا عذر نہیں ہے جس کی وجہ سے دو نمازوں کو آپ جمع کرسکتے ہیں ، آپ اپنے امتحان میں شریک ہوجائیں اور امتحان دینے کے بعد جب فارغ ہو ں اس وقت عصر کی نماز پڑھ لیں ۔ عصر کا وقت سورج ڈوبنے کے وقت تک رہتا ہے ۔

    سوال (8):خوشی کے موقع پر بچوں کو پھول پہنانا کیسا ہےمثلا حفظ قرآن کی تکمیل کے وقت؟
    جواب : کسی کی اچھی کارگردگی پر بطور تشجیع پھولوں کا ہار ، سرٹیفیکیٹ، اوارڈ اور نقود وغیرہ پیش کئے جائیں تو میرے خیال سے اس میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہئے ۔ ہاں اگر پھولوں کا ہار پہنانے میں کوئی مخصوص رسم ادا کی جاتی ہے یا اس میں کسی غیر قوم کی مشابہت اختیار کی جاتی ہے تو پھر اس صورت میں اسے ترک کردینا اولی ہے۔

    سوال (9): ایک سے زائد بیویاں ہوں تو شوہر کی خدمت تمام بیویاں ہمیشہ کرتی رہیں یا جسکی باری ہو وہی اپنے وقت پر خدمت کرے؟
    جواب : باری مقرر کرنا حق زوجیت کی ادائیگی کے لئے ہے جبکہ شوہر کی خدمت بیویوں کے ذمہ ہمہ وقت واجب ہے اسے کسی ایک وقت سے یا کسی ایک بیوی کے ساتھ خاص نہیں کیا جاسکتاہے ۔

    سوال (10): شریعت میں شوہر کی فرمان برداری کا جو حکم ہے کیا وہ صرف بستر تک محدود ہے یا ہربات میں شوہر کی اطاعت ضروری ہے؟۔
    جواب : شوہر کی اطاعت ہرجائز حکم کے ساتھ ہے ، کیا آپ کو نبی ﷺ کا یہ فرمان معلوم نہیں :
    المرأةُ الصَّالحةُ إذا نظر إليها تسرُّه وإذا أمرَها أطاعتْهُ وإذا غاب عنها حفِظتْهُ(تخريج مشكاة المصابيح لابن الحجر: 2/250(
    ترجمہ: نیک عورت وہ ہے جب اس کا شوہر اس کی طرف دیکھے تو خوش کردے اور جب حکم دے تو اطاعت بجالائے اور جب وہ غائب رہے تو اس کے اشیاء کی حفاظت کرے۔
    ایک دوسری روایت میں نبی ﷺ کا یہ فرمان ہے :
    إذا صلَّتِ المرأةُ خَمْسَها ، و صامَت شهرَها ، و حصَّنَتْ فرجَها ، وأطاعَت زوجَها ، قيلَ لها : ادخُلي الجنَّةَ مِن أيِّ أبوابِ الجنَّةِ شِئتِ( صحيح الجامع:660)
    ترجمہ :جب عورت اپنی پانچ وقت کی نماز پڑھ لے ، اپنے ماہ {رمضان } کا روزہ رکھ لے ، اپنی شرمگاہ کی ‏حفاظت کرلے ، اور اپنے شوہر کی اطاعت کرلے تو اس سے کہا جائے گا کہ جنت میں اسکے جس دروازے سے داخل ‏ہونا چاہے داخل ہوجا ۔
    ایک اور حدیث میں اس طرح آیا ہے حضرت حصین بن محصن کی پھوپھی بیان کرتی ہیں :
    أتيتُ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ في بَعضِ الحاجةِ ، فقالَ : أي هذِهِ ! أَذاتُ بعلٍ ؟ قلتُ : نعَم ، قالَ : كيفَ أنتِ لهُ ؟ قالَت : ما آلوهُ إلَّا ما عجزتُ عنهُ , قالَ : [ فانظُري ] أينَ أنتِ منهُ ؟ فإنَّما هوَ جنَّتُكِ ونارُكِ(آداب الزفاف للالباني:213)
    ترجمہ : میں کسی حاجت کیلئے خدمت نبوی میں حاضر ہوتی ہیں ، آپ نے سوال فرمایا : کیا تو شادی شدہ ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ، آپ نے فرمایا اپنے شوہر کے ساتھ تیرا معاملہ کیسا ہے ؟ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں اسکے حق کی ادائیگی اور خدمت میں کوئی کوتاہی نہیں کرتی ، الا یہ کہ میرے بس سے باہر ہو ، آپ نے فرمایا : دھیان رکھنا ، اسکے ساتھ تمہارا معاملہ کیسا رہتا ہے ؟ وہ تمہارے لئے جنت یا جہنم کا سبب ہے ۔

    سوال (11): جمعہ کے دن سورۃ الکھف کی فضیلت میں جس نور کا ذکر ہے اس نور سے کیا مراد ہے؟
    جواب : جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت سے نور نصیب ہوتا ہے ، اس کا ذکر کسی صحیح احادیث میں ہے مثلا
    ٭نبی ﷺ کا فرمان ہے ۔
    من قرأ سورةَ الكهفِ يومَ الجمعةِ أضاء له النُّورُ ما بينَه و بين البيتِ العتيقِ(صحيح الجامع: 6471)
    ترجمہ :جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھی اس کے اور بیت اللہ کے درمیان نور کی روشنی ہو جاتی ہے۔
    ٭رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    من قرأ سورةَ الكهفِ في يومِ الجمعةِ ، أضاء له من النورِ ما بين الجمُعتَينِ(صحيح الجامع:6470)
    ترجمہ : جو جمعہ کے دن سور ة الکہف پڑھے،اس کیلئے دونوں جمعوں(یعنی اگلے جمعے تک)کے درمیان ایک نور روشن کردیا جائے گا۔
    ٭نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، أَضَاءَ لَهُ مِنَ النُّورِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ الْعَتِيقِ(صحيح الترغيب للالبانی : 736)۔
    ترجمہ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جس نے جمعہ کی رات سورۃ الکھف پڑھی اس کے اور بیت اللہ کے درمیان نور کی روشنی ہو جاتی ہے۔
    یہاں نور سے مراد نور ہدایت ہے اس ہدایت کے نور سے معاصی اور منکرات سے آدمی بچتا رہے گا۔ علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے" نور مابین الجمعتین "کے متعلق کہا ہے کہ اس کا اثر اور ثواب برابر تمام ہفتے جاری و ساری رہے گا۔

    سوال (12): عورت کو کتنے کپڑوں میں کفن دینا ہے اور ان کپڑوں کا نام کیا ہے ؟
    جواب : عورت کو بھی مردوں کی طرح تین چادروں میں دفن کیا جائے گا ، عورت ومرد کے کفن میں فرق کرنے کی کوئی صحیح حدیث نہیں ہے ۔ ابوداؤد میں پانچ کپڑوں سے متعلق ایک روایت ہے جسے لیلیٰ بنت قائف ثقفیہ بیان کرتی ہیں جنہوں نے نبی ﷺ کی بیٹی ام کلثوم کو غسل دیا تھا۔ اس روایت کو شیخ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ ضعیف قرار دیتے ہیں اور شیخ البانی نے بھی ضعیف کہا ہے ۔ دیکھیں : )ضعيف أبي داود:3157(
    اس لئے شیخ البانی نے احکام الجنائز میں عورت ومردکے لئے یکسان کفن بتلایا ہے اور کہا کہ فرق کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ شرح ممتع میں ذکر کرتے ہیں کہ عورت کو مرد کی طرح کفن دیا جائے گا یعنی تین کپڑوں میں ، ایک کو دوسرے پر لپیٹ دیا جائے گا۔

    سوال (13) کیا کسی شخص کے انتقال پر تعزیتی مجلس قائم کرنا یا کسی زندہ شخص کی حیات وخدمات پر سیمینار کرنا اسلام میں جائز ہے ؟
    جواب : کسی کی تعزیت پہ مجلس قائم کرنا بدعت میں سے ہے ، نبی ﷺ کا واضح فرمان ہے : كنَّا نرى الاجتماعَ إلى أَهلِ الميِّتِ وصنعةَ الطَّعامِ منَ النِّياحة( صحيح ابن ماجه:1318)
    ترجمہ: ہم لوگ میت والوں کے ہاں جمع ہونے کو اور ( جمع ہونے والوں کے لیے) کھانا تیار کرنے کو نوحہ شمار کرتےتھے۔
    اور کسی ایسے زندہ آدمی کی حوصلہ افزائی کرنا جن کی قابل قدر خدمات ہوں دعوت دے کر اور کچھ لوگوں کو جمع کرکے اس میں حرج نہیں ہے ، یہ بلاوا تعریف کے پل باندھنے کے لئے نہیں بلکہ خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے تشجیعی اکرام سے نوازنے کے لئےہومگر جن کی خدمات نہ ہو صرف تعریف اور دنیاوی مفاد کے لئے تقریب یا اجلاس کرنا جائز نہیں ہے ۔ نبی ﷺ نے منہ پر کسی کی تعریف کرنے سے منع کیا ہے اور جس شخص کی جھوٹی تعریف کی جائے وہ کتنا قبیح ہوگا ؟۔

    سوال (14): منطق ،فلسفہ اور علم کلام کا سیکھنا کیسا ہے ؟
    جواب : اس وقت ان علوم کے سیکھنے سکھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور ان میں کچھ بھی بھلائی نہیں ہے ۔ ایک وقت تھا جب اس کا زمانہ تھا تو اس وقت دشمنان اسلام کو ان ہی زبان میں سمجھانے کے لئے بعض علماء نے بھی ان علوم کو سیکھا اور ان سے اسلام کا دفاع کیا جیسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے منطق کا علم حاصل کرکے منطقیوں کے رد میں الرد علی المنطقیین نامی کتاب لکھی ۔ شیخ ربیع ھادی مدخلی نے بڑی اچھی بات کہی ہے کہ جو ذکی ہے اسے علم منطق کی ضرورت ہی نہیں اور جو کند ذہن ہے اسے یہ علم فائدہ نہیں پہنچائے گا تو کیا متوسط آدمی کے لئےمنطق میں کوئی دخل رہے گا؟

    سوال (15): اگر میں نے کچی پیاز کھالی ہو اور نماز کا وقت ہوگیا ہے تو کیا کروں یا پیاز کھانے کے کتنی دیر بعد مسجد میں جاسکتے ہیں ؟
    جواب : کچی پیاز کھاکر مسجد آنا منع ہے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : من أَكلَ من هذِه الشَّجرةِ فلا يقربنَّ مسجدَنا ولا يؤذيَنَّا بريحِ الثُّومِ(صحيح مسلم:562)
    ترجمہ:جو شخص اس درخت سے کھائے وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اور لہسن کی بو سے ہم کو تکلیف نہ پہنچائے ۔
    اس کا کوئی وقت متعین نہیں ہے جب تک بدبو باقی رہے مسجد سے دور رہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نماز چھوڑ دے ، کہیں پر نماز ادا کرلے ۔

    سوال (16): آج کل بہت ساری مصنوعات میں چارکول استعمال کیا جاتا ہے اس کے نتائج بہتر ہیں میرا سوال یہ ہے کہ چارکول مکس مصنوعات مثلا پیسٹ ، ماکس وغیرہ استعمال کرسکتے ہیں؟
    جواب : اشیاء میں اصل اباحت ہے ، چارکول(کوئلے) سے اگر پیسٹ تیار کیا جائے یا ادویہ بنائے جائیں یا پھر مصنوعات تیار کئے جائیں تو ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ کے نقصان دہ نہ ہو۔

    سوال (17): شادی کے موقع پر لڑکی والوں کی طرف سے مہر کے طور پر پلاٹ، گھر، زیوروغیرہ کامطالبہ کرنا یا پیپر پہ لکھوانا جائز ہے ؟
    جواب : مہر لڑکی کا حق ہے جو شوہر کے ذمہ ہے اس میں لڑکی والوں یا لڑکے والوں کو دخل نہیں دینا چاہئے ۔ لڑکی چاہے تومعاف بھی کرسکتی ہے کیونکہ یہ اس کا حق ہے ۔ مہر میں بڑی رقم کا مطالبہ کرنایاپلاٹ ، گھر اور زیور کا جبرامطالبہ کرنا لڑکی والوں کے لئے جائز نہیں ہے ۔ لڑکے کو جو میسر ہو وہ مہر کے طور پر دے سکتا ہے اس میں جبر نہیں کیا جائے گااور مہر کی گرانی کرنا بھی جائز نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : خيرُ الصَّداقِ أيسرُه(صحيح الجامع:3279)
    ترجمہ: بہتر حق مہر وہ ہے جو زیادہ آسان ہو۔
    لہذا مہر کے معاملہ آسان رہے اسے لڑکے یااس کے گھروالوں پر بوجھ نہ بنائے جس کی آدائیگی اس کے لئے مشکل ہو۔

    سوال (18): مرد میت کو تابوت پر رکھ کر اسے ڈھانک کر لے جانا ضروری ہے ؟
    جواب : ویسے مرد کو کفن میں لپیٹنے کے بعد تابوت پر رکھ کربغیر چادر سے ڈھکے بھی قبرستان لے جا سکتے ہیں اور چادر سے ڈھک کر لے جانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے البتہ عورت کے حق میں بہتر ہے کہ تابوت پر پردہ ڈال کر لے جایا جائے کیونکہ وہ ستر کی چیز ہے ۔

    سوال(19): جو خودکشی کرلے کیا وہ سایہ بن کر لوگوں کو پریشان کرتا ہے ؟
    جواب : ایسا عقیدہ مسلمانوں کا نہیں بلکہ کافروں کے یہاں پایا جاتا ہے ۔ موت خواہ طبعی ہو یا خودکشی دونوں صورت میں اچھی بری روحوں کی الگ الگ جگہیں ہیں جہاں وہ رہتی ہیں ۔ اس لئے ایسا عقیدہ رکھنا کہ خودکشی کرنے والوں کی روح دنیا میں ہی بھٹکتی رہتی ہیں یا سایہ بن کر لوگوں کو پریشان کرتی ہیں باطل عقیدہ ہے ۔

    سوال (20): قضا نماز کی ادائیگی کے وقت اقامت کہنے کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : نماز کے لئے اقامت کا حکم مشروعیت کا ہے یعنی اقامت واجب نہیں ہے بغیر اقامت کے بھی نماز ہوجائے گی مگر مشروع یہ ہے کہ نماز قضا ہو یا ادا اقامت کہے خواہ اکیلے ہو یا جماعت سے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    اسلامیات کے پانچ سوالات اور ان کے مختصر جوابات
    جواب از مقبول احمد سلفی

    سوال (1): کیا خواتین حضرات مرد علماء کی تقریر سن سکتی ہیں ؟
    جواب : عورت کا مرد کی تقریر سننے میں کوئی حرج نہیں ہے ، اصل مسئلہ مرد کو دیکھنے کا ہے یعنی عورت اجنبی مرد کو دیکھتے ہوئے تقریر سن سکتی ہے کہ نہیں یا یوں کہہ لیں کہ عورت اجنبی مرد کا چہرہ دیکھ سکتی ہے کہ نہیں ؟۔ اس میں اختلاف ہے کہ عورت مرد کو دیکھ سکتی ہے کہ نہیں ؟ صحیحین کی روایت سے دیکھنےکی دلیل ملتی ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
    رأيتُ النبيَّ صلى الله عليه وسلم يستُرُني ، وأنا أنظرُ إلى الحبشةِ ، وهم يلعبون في المسجدِ( صحيح البخاري:987)
    ترجمہ: میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا وہ مجھے چھپائے ہوئے تھے اور میں ان حبشی مردوں کو جو مسجد نبوی میں کھیل رہے تھے دیکھ رہی تھی۔
    عورت کو نگاہیں نیچی کرنے اور مردوں کو نہ دیکھنے کا بھی حکم آیا ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ حکم لگے گا کہ ضرورتا ً عورت کا اجنبی مردوں کو دیکھنا جائز ہے مگر بلاضرورت دیکھنا منع ہے اور شہوت کی نظر سے دیکھنا تو سخت گناہ کا کام ہے ۔

    سوال (2): گھر میں چھپکلی ہو تو اسے مار دینا چاہئے اور کیا اس کے مارنے پر ثواب ملتا ہے ؟
    جواب : چھپکلی کو مارنا چاہئے کیونکہ نبی ﷺ نے اسے مارنے کا حکم دیا ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا گھر میں چھپکلی مارنے کے لئےنیزہ رکھتی تھیں۔ حدیث میں وزع کا لفظ آیا ہے جو چھپکلی کے معنی میں ہے یایہ چھپکلی کی ایک قسم ہے جو گھروں میں رہتی ہے اسی قسم کی چھپکلی کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مارا کرتی تھیں ۔ مسلم شریف کی روایت ہے ۔
    أنَّ النبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ أمر بقتلِ الوزَغِ . وسمَّاه فُوَيسِقًا .(صحيح مسلم:2238)
    ترجمہ: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وزغ(چھپکلی) کو قتل کرنے کا حکم دیا اور اسے فاسق قرار دیا ہے۔
    اور چھپکلی کے مارنے پر ثواب ملتا ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    من قتل وزَغًا في أولِ ضربةٍ كُتبت لهُ مائةُ حسنةٍ . وفي الثانيةِ دون ذلك . وفي الثالثةِ دون ذلك( صحيح مسلم:2240)
    ترجمہ: جو شخص گرگٹ کو ایک ہی وار میں مار ڈالے ، اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی ، دوسرے وار میں اس سے کم اور تیسرے وار میں اس سے بھی کم نیکیاں لکھی جائیں گی۔

    سوال (3): علم غیب عطائی کیا ہے ؟
    جواب : جو لوگ نبی ﷺ کے عالم الغیب ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں وہ لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے علم غیب کی دو قسم کرتے ہیں کیونکہ اپنی عوام کو جھوٹی باتوں سے بہلانے پھسلانے کا یہی مناسب بہانہ ہے ۔ ایک غیب ہے ذاتی اور دوسرا غیب ہے عطائی ۔ صوفیوں کا کہنا ہے کہ ذاتی غیب تو اللہ کے پاس ہے مگر عطائی غیب نبی ﷺ کے پاس ہے یعنی اللہ نے نبی ﷺ کو غیب کا علم عطا کیا ہے اس طرح نبی ﷺ بھی عالم الغیب ہوئے ۔ قرآن وحدیث سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ عالم الغیب صرف اللہ تعالی ہے ، یہ بات صحیح ہے کہ اللہ تعالی نے نبی ﷺکو غیب کی خبریں بتائیں تو یہ وحی اور رسالت کے قبیل سے ہے ، کسی کو اگر غیب کی چند باتیں بتائی جائے تو وہ عالم الغیب نہیں کہلائے گا۔ قرآن میں ایک طرف اللہ تعالی نے علم غیب کو اپنی صفت بتلایا ہے تو دوسری طرف محمد ﷺ کی ذات گرامی سے علم غیب کی نفی کی ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے:
    هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۖ هُوَ الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ (الحشر:22(
    ترجمہ: وہ اﷲ ہی ہے نہیں کوئی معبود سوائے اس کے ، جاننے والا غائب وحاضر کا بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا۔
    اس آیت میں اللہ نے علم غیب کو اپنی صفت بتلایا ہے ، دوسرا فرمان ہے :
    قُل لَّا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ ۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ (الانعام:50(
    ترجمہ: اے نبی ! آپ لوگوں سے کہہ دیں ! نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس اﷲکے خزانے ہیں اور نہ جانتا ہوں میں غیب اور نہ کہتا ہوں میں تم سے کہ میں فرشتہ ہوں نہیں پیروی کرتا مگر اس کی جو وحی کیا جاتا ہے میری طرف پوچھو (ان سے)کیا برابر ہوسکتاہے اندھا اور آنکھوں والا؟کیا تم غور نہیں کرتے ؟
    اس آیت میں اللہ نے کہا کہ محمد ﷺ غیب نہیں جانتے جو کچھ ان کے پاس ہے وحی ہے یعنی محمد ﷺ کی ذات سے علم غیب کی نفی کی ہے مطلب یہ ہوا کہ علم غیب اللہ کی صفت ہے اسے کسی دوسرےمیں تسلیم کرنا اللہ کی صفت کو مخلوق کی صفت سے تشبیہ دینا ہے ۔ اسی لئے ہم اہل حدیث نبی کی لائی ہوئی تمام باتوں کو وحی کہتے ہیں جیساکہ اللہ نے فرمایا: وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ، إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ(النجم:3-4)
    ترجمہ: اوروہ نبی اپنی خواہش سے تو بولتے ہی نہیں یہ تو وحی ہے جو کہ ان کی طرف وحی کی جاتی ہے ۔
    بحث کے طور پر تھوڑی دیر کے لئے مان لیتے ہیں کہ آپ ﷺ کو علم غیب عطائی ہے بطور مثال آپ ﷺ کو غیب کی چند باتیں عطا کی گئیں تو اس کا سیدھا مطلب یہ نکلتا ہے کہ غیب کی جتنی خبر آپ ﷺ کو عطا کی گئی اس کے علاوہ غیب کی دوسری کوئی بات نہیں جانتے ہیں کیونکہ عطا اسی کو کہیں گے تو مل جائے اور جو نہ ملے وہ عطا نہیں ہے ۔ ہم سیرت کی کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ نبی ﷺ کو طائف میں لہولہان کیاگیا، احد میں دانت شہید کیا گیا، جبل رماۃ پہ جنہیں آپ نے مامور کیا انہوں وہ جگہ چھوڑ دی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگی ،سترقاریوں کو آپ نے تعلیم دینے کے لئے بھیجا وہ شہید کردئے گئےوغیرہ اگر آپ غیب جانتے تو یہ حالات کبھی نہ پیدا ہوتے ۔

    سوال (4) : نماز میں نبی کا خیال آنے پر نماز ہوجائے گی ؟
    جواب : نبی ﷺ نے امت کو اپنی طرح نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے او ر نماز اللہ کے لئے پڑھی جاتی ہے گویا ہم نماز میں اللہ کا دھیان رکھ کر رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق ادا کریں گے ۔ اس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ بلاشبہ نماز میں نبی ﷺ اور آپ کی سنت کا خیال آئے گا اس کی ممانعت نہیں ہے کیونکہ باقاعدہ درود میں آپ ﷺ کا نام تک آیا ہے جسے قعدہ میں پڑھا جاتا ہے ۔ایسا ہوسکتا ہےکہ محمد کا نام آئے توجہ اس طرف چلی جائے مگر آپ کی طرف خیال کرکے اس میں ڈوب جانایا قصدا ًنماز میں آپ کا خیال لانا یہ منع ہے ۔

    سوال (5): کیا انما المومنون اخوۃ(سارے مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں) کے تحت نبی ہمارے بھائی ہیں ؟
    جواب : دین وایمان کے رشتے سے تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں خواہ نبی ہی کیوں نہ ہو۔ بخاری شریف کی اس روایت سے یہ بات بالکل عیاں ہوجاتی ہے ۔
    أنَّ النبيَّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ خطبَ عائشةَ إلى أبي بكرٍ ، فقالَ له أبو بكرٍ : إنَّمَا أنا أخوكَ ، فقالَ : أنتَ أخي في دينِ اللهِ وكتَابِهِ ، وهيَ لي حلالٌ .(صحيح البخاري:5081)
    ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ سے شادی کے لئے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کہا ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میں آپ کا بھائی ہوں ۔ ( تو عائشہ سے کیسے نکاح کریں گے ) ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا کہ اللہ کے دین اور اس کی کتاب پر ایمان لانے کے رشتہ سے تم میرے بھائی ہو اور عائشہ میرے لئے حلال ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    اللہ تعالی آپ کو خوش رکھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    آپ کے سوال اور ہمارے جواب

    جواب از شیخ مقبول احمد سلفی

    سوال (1): خودکشی کرنے والے کے لئے دعائے رحمت ومغفرت کرسکتے ہیں کہ نہیں ، اگر نہیں کرسکتے تو پھر ان کی تعزیت کی صورت کیا ہوگی ؟
    جواب : خود کشی کرنے والا اہل علم کے نزدیک کافر نہیں ہے اس لئے اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی البتہ صاحب علم وتقوی لوگوں کی نصیحت کے لئے اس جنازہ میں شریک نہ ہوں تو بہتر ہے ۔ جب خودکشی کرنے والا کافر نہیں ہے تو اس کے لئے دعائے مغفرت کرنا اورتعزیت کرنا جائز ہے۔

    سوال(2): ہمارے یہاں دودھ کی فروخت میں زیادہ فروخت ہونے کے لئے بعض دوکاندارایک پیک پر ایک فری دیتے ہیں کیا اس کے یہاں سے دودھ خرید سکتے ہیں ؟
    جواب : دودھ بیچنے والا اگر ایک پیک پر ایک سے زائد بھی فری دے تو اس سے دودھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ، یہ چیز اس کی ہے وہ اپنی مرضی سے جتنے میں چاہے بیچے ۔ ہاں تجارت ومعیشت ہو یا سلوک ومعاملات اسلام کا ایک قاعدہ ہمیشہ یاد رکھیں کسی کو نقصان پہنچانا جائز نہیں ہے ۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا:لا ضررَ ولا ضِرارَ( صحيح ابن ماجه:1910)
    ترجمہ: نہ (پہلے پہل) کسی کو نقصان پہنچانا اور تکلیف دینا جائز ہے، نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا اور تکلیف دینا۔
    اگر کوئی اپنے دوسرے کسی خاص بھائی کونشانہ بناکرتجارت میں نقصان پہچانے کی غرض سے مہنگا سامان سستا بیچتا ہے تو پھر جائز نہیں ہے البتہ مارکیٹ میں کمپٹیشن کی حد تک کوئی بات نہیں ۔

    سوال (3): حمام میں کامل برہنہ ہوکر نہانا کیسا ہے ، یاد رہےکہ آج کل اکثر لوگ ایسا کرتے ہیں ؟
    جواب : آدمی کو دوسروں سے ستر چھپانے کا حکم دیا گیا ہےلیکن آدمی کو خود اپنا ستر دیکھنا جائز ہے ۔وہ گھر میں ہو یا حما م میں اگر کوئی دیکھنے والا نہیں تو برہنہ ہوسکتا ہے اور پردے کی جگہ میں برہنہ ہوکر غسل بھی کرسکتا ہے ۔ بہتر یہ ہے کہ ستر ڈھانپ کر غسل کرے اس میں کامل حیا ہے اور نفسانی خیالات سے بچاؤ بھی ہے۔

    سوال (4): ایک عورت کو چالیس سال میں ایک بچہ پیدا ہوا، وہ آپریشن سے ہواجس میں تقریبا تین ساڑھے تین گھنٹے لگے ۔ ڈاکٹر نے کہا کہ آگے کافی کمپلیکیشن ہوسکتے ہیں ، اس کا رحم بھی کمزور ہوگیا ہے تو کیا عورت منصوبہ بندی کرسکتی ہیں ؟۔
    جواب : اولاد اللہ کی نعمت ہے بلاضرورت اس نعمت کا سلسلہ منقطع کرنا جائز نہیں لیکن صورت مسئلہ میں منصوبہ بندی کی جاسکتی ہے ۔اس کے علاوہ بھی عورت کو ایسی کوئی ضرورت پڑجائے جس سے رحم باندھنا یا کاٹنے کی ضرروت ہو تو جائز ہے مثلا رحم میں زخم ہوگیا یا کئی آپریشن کی وجہ سے مزید آپریشن کرنا جان کے لئےپرخطر ہوگیا البتہ شوقیہ ، بلا ضرورت ،بچوں کی کثرت ورزق کے خوف اور کم بچوں کی بہترین تعلیم کے مقصد سے منصوبہ بندی کرنا جائز نہیں ہے ۔

    سوال (5): کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ذات کے اعتبار سے بشر ہیں اور صفت کے اعتبار سے نور ہیں کیا یہ عقیدہ درست ہے ؟
    جواب : نبی ﷺ ذات اور صفات دونوں اعتبار سے بشر ہیں ،آپ ﷺ کی جو صفات ہیں وہ بشری ہیں انہیں صفات کی وجہ سے آپ کو بشر کہا جاتا ہے ۔ اگر صفات نوری ہوں تو آپ کا اطلاق نور پر ہوتا مگر ایسا نہیں ہے ۔ آپ کھاتے ہیں پیتے ہیں ، سوتے اور جاگتے ہیں ، غسل وطہارت کرتے ہیں ، محنت ومشقت کرتے ہیں ، بیویوں کے پاس جاتے ہیں ، تھک جاتے ہیں ، بیمار ہوجاتے ہیں، بازار جاتے ہیں وغیرہ یہ سب اوصاف ہیں اور بشر کے اوصاف ہیں ۔ لہذا آپ ﷺ ذات وصفا ت دونوں اعتبار سے بشر ہیں ۔ یہ بات الگ ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو معجزہ کے طور پر بہت سی خصوصیات سے نوازا اور ہرنبی کو اللہ کوئی نہ کوئی معجزہ دیتا ہے جو نبی ہونے کی علامت ہوتی ہے ۔ اس معجزہ کی وجہ سے نبی انسان ہی ہوتے ہیں ۔

    سوال (6): جو بچہ ماں کے پیٹ میں فوت ہو جائے اس کے غسل و جنازے کے کیا احکام ہیں؟۔
    جواب : اس میں سب کا اتفاق ہے کہ زندہ پیدا ہوکر مرنے والے بچے کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی ، اسی طرح اس بچے کی بھی نماز ادا کی جائے گی جس نے پیدائش کے وقت آواز نکالی ہو۔اختلاف اس میں ہے کہ جو بچہ مرا ہوا پیدا ہوا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی یا نہیں ؟
    اگر بچہ روح پھونکنے کے بعد یعنی چار ماہ کے بعد پیدا ہو تواسے غسل دیا جائے گا، اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اسے قبر میں دفن بھی کیا جائے گا چاہے مرا ہوا پیدا ہو۔تفصیل سے جواب جاننے کے لئے میرے بلاگ پر تشریف لائیں۔

    سوال (7): ہم دیکھتے ہیں جمعہ کوجب خطیب ممبر پہ بیٹھ جاتا ہے اور اذان ہونے لگتی ہے تو اس وقت مسجد میں آنے والے لوگ گھڑے ہوجاتے ہیں اور جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو نماز پڑھتے ہیں کیا ایسا کرنا صحیح ہے ؟
    جواب : بخاری ومسلم میں نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ جب تم مؤذن کی آواز سنو تو اسی طرح جواب دو جس طرح وہ کہہ رہا ہے ۔ اس حدیث کی روشنی میں آدمی کوکام چھوڑ کر اذان کے وقت اس کا جواب دینا چاہئے ۔ اس میں بہت زیادہ اجر بھی ہے ۔ تحیہ المسجد پڑھنا سنت مؤکدہ اور اذان کا جواب دینا مسنون ہے ، خطیب کے ممبر پر بیٹھ جانے اور اذان ہونے کے وقت آدمی کے لئے اذان کا جواب دینا بہتر وافضل ہے ، وہ چاہے تو براہ راست تحیہ المسجد پڑھنا شروع کرسکتا ہے لیکن اذان کا جواب دے کر پڑھے تو دو عملوں کا ثواب ملے گا۔

    سوال (8): ماں باپ اپنی زندگی میں ہی اپنی جائداد تقسیم کردینا چاہتے ہیں اس خوف سے کہ بیٹے آپس میں لڑائی نہ کریں یا پھر بیٹیوں کو حصہ نہ ملے کیا اسلام میں اس کی اجازت ہے ؟
    جواب : بیٹے اور بیٹیوں کے درمیان والد کی جائداد کی تقسیم اصل میں ان کی وفات کے بعد ہوگی لیکن کبھی اولاد میں ناگفتہ بہ حالات پیدا ہوجاتے ہیں جن کی وجہ سے میراث کی تقسیم کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہوجاتا ہے ۔ ایسے حالات میں بعض لوگ اپنی زندگی میں ہی اپنی جائداد اولاد میں تقسیم کردیتے ہیں ۔ اس عمل پہ میں یہ کہوں گا کہ شرعا میراث کی تقسیم موت کے بعد ہے لیکن اگر مجبوری کے تحت زندگی میں جائداد تقسیم کرنےکی نوبت آجائے تو تمام اولاد (لڑکے اور لڑکیوں)میں مال برابر برابر تقسیم کریں اس صورت میں میراث کی تقسیم کا قانون نہیں لگے گا بلکہ عطیہ اور ہبہ کا قانون نافذ ہوگا۔

    سوال (9): ایک شخص کے والد کا انتقال ہوگیا ہے اس کا عقیقہ نہیں ہوا تھا کیا اس کا بیٹا اپنے وفات یافتہ باپ کی طرف سے عقیقہ کرسکتا ہے ؟
    جواب : میت کی طرف سے عقیقہ کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے ،اگر کسی کا عقیقہ نہیں ہواہو اور وفات پاگیاہوتو اس کی طرف سے اس کےوارث کو عقیقہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

    سوال (10):ہنڈی وغیرہ سے پیسہ لگانا کیسا ہے؟
    جواب : اگر کسی ملک میں ہنڈی سے پیسہ بھیجنا منع ہو تو یہ کام ملکی آئین کے تحت قانونا جرم ہوگا البتہ شرعا اس کام میں کوئی حرج نہیں ہے۔

    سوال (11): اگر کسی سے غیبت ہوجائے ،ویسے تو اکثر لوگوں سے غیبت ہوتی رہتی ہے تو اس کا کوئی کفارہ ہے ؟ میں نے سنا ہے کہ اللھم اغفرلنا ولہ پڑھ لے کافی ہے ۔
    جواب : غیبت بدترین قسم کا گناہ ہے اور اس کا عذاب بھی سخت ہے اس لئےآدمی کو چاہئےکہ اس گناہ عظیم سے ہمیشہ بچتا رہے لیکن اگر کبھی بھول چوک میں کسی کی غیبت کر بیٹھے اور جس کی غیبت کی گئی اس کو خبر نہیں ہوئی تو استغفار پڑھ لے ۔ ساتھ ہی سچی توبہ کرے لیکن اگر غیبت کی خبر ہوگئی ہے تو اس سے معذرت کرنا ہے اور اگر حق ہے تواسے لوٹانا پڑےگا اور جس کی غیبت کی گئی وہ وفات پاگیا یا مل نہیں رہا اور اسے غیبت کی خبر نہیں ہوئی ہوتو ان صورتوں میں کثرت سے استغفار کرے۔اور اللھم اغفر لنا و لہ سے متعلق مشکوہ اور بیہقی وغیرہ میں روایت ہے مگر ضعیف ہے۔

    سوال (12): مرتد کی جائیداد کیسے تقسیم ہوگی یا باپ کی میراث سے مرتد بیٹے کو حصہ ملے گا کہ نہیں ؟
    جواب : اگر کوئی مرتد ہوگیا تو باپ کی جائداد سے محروم ہوجائے گا کیونکہ مرتد کے لئے میراث میں حصہ نہیں ہے لیکن اگر کسی مرتد کے پاس خود کی جائداد ہو اوراسے چھوڑ کر مرجائے تو اس کا سارا مال فے ہے اسے بیت المال میں جمع کردیا جائے گا ۔ یہ مسلک امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کا ہے۔

    سوال (13): کیا ایسا سینٹ یا عطر جس میں الکوحل ملا ہو لگا کر نماز پڑھ سکتے ہیں ؟
    جواب : معمولی مقدار میں کپڑے میں الکوحل لگا ہو تو اس میں پڑھی گئی نماز درست ہے ۔ الکوحل شراب ہے اور اسے پینے کی ممانعت ہے لیکن اسے بطور شراب نہ استعمال کرکے اس کی معمولی مقدار سینٹ یا عطر میں استعمال کیا جائے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اس کا اثر تحلیل ہوجائے گا تاہم پرہیز کرنا ہی بہتر ہےکیونکہ اسلام ہمیں شبہات سے بھی بچنے کی تعلیم دیتا ہے ۔

    سوال (14): کیا یہ حدیث صحیح ہے کہ ایک عورت اپنے ساتھ چار مردوں کو جہنم میں لے جائے گی ؟
    جواب : ایسی کوئی حدیث رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں ہے کہ ایک عورت اپنے ساتھ چار مردوں کو جہنم میں لے جائے گی ۔ ہرکوئی اپنے عمل کا ذمہ دار ہے اور آخرت میں کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ لہذا لوگوں میں پھیلی یہ بات سراسر جھوٹ ہے ۔ یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ عورت کے حجاب سے متعلق چار مردوں سے سوال کیا جائے گا اس کے باپ ، اس کے بھائی ، اس کے شوہر اور اس کے بیٹے سے ۔ یہ بھی کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے ،ہاں اسلام کی دوسری تعلیمات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہہ سکتے ہیں جو عورت جس مرد کی نگرانی میں ہو اسے چاہئے کہ وہ اپنی عورتوں سے پردہ کرائے ، مرد اگر اپنی ذمہ داری میں کوتاہی کیا ہوگا تو اس ذمہ داری کے متعلق قیامت میں پوچھ ہوگی ۔

    سوال (15): اگرامام کے ساتھ کسی کی ظہر کی دو رکعت نماز چھوٹ جائے تو مقتدی کوملنے والی دورکعتیں شروعاتی ہوں گی یا آخر کی ؟
    جواب : اس مسئلہ میں علماء کے درمیان اختلاف ہے اور راحج یہ معلوم ہوتا ہے کہ مقتدی امام کے ساتھ ملنے والی رکعات کو شروعاتی شمار کرے ۔

    سوال (16): ولی کا لڑکی کو جبرا شادی کرادینے کا کیا حکم ہے اور اگر ایسی شادی ہوگئی مگر زوجین میں اتفاق نہیں تو اس کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : لڑکی کو جبرا شادی کرانا ولی کی طرف سے صریح ظلم ہے ، ایساکرنے والا ظالم ہے بطور خاص جب دنیاوی کوئی مفاد پوشیدہو۔ جہاں تک جبری شادی کا معاملہ ہے تو یہ لڑکی کی مرضی پر موقوف ہے اگرلڑکی شوہر کو قبول کرلے اور اس شادی پر راضی ہوجائے تو ٹھیک ہے ورنہ نکاح فسح کردیا جائے گا۔

    سوال(17): کیا حج میں طواف و سعی کے دوران عورت کا مرد کے دوڑنے کے برخلاف آہستہ چلنا کس حدیث سے ثابت ہے، حدیث دیں،اگر نہیں ہے تو بنا دلیل اس عمل کی کیا حیثیت ہے؟
    جواب : طواف وسعی میں رمل مسنون ہے اور یہ صرف مردوں کے حق میں ہے اگر کسی مرد سےرمل چھوٹ جائے تو طواف وسعی صحیح ہے ۔ ترمذی اور ابن ماجہ وغیرہ میں ابن عمررضی اللہ عنہما کے متعلق مذکور ہے کہ وہ صفا ومروہ کی سعی میں عام چال چلتے پوچھا گیا تو انہوں جواب دیا اگر میں دوڑ وں تو میں نے رسول اللہﷺ کودوڑتے بھی دیکھا ہےاور اگر میں عام چال چلوں تو میں نے رسول اللہﷺ کو عام چال چلتے بھی دیکھا ہے اور میں کافی بوڑھاہوں ۔
    عورتوں پر طواف وسعی میں رمل نہیں ہے ، یہ متعدد آثار سے ثابت ہے بلکہ اس پر بعض اہل علم سے اجماع ہونا بھی منقول ہے ۔بیہقی میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، مصنف ابن ابی شیبہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما ، ابن عباس رضی اللہ عنہمااور حسن وعطاء سے مروی ہے کہ عورتوں پر رمل نہیں ۔ امام شافعی ؒ نے کتاب الام میں ذکر کیا ہے کہ عورتوں پر سعی بین الصفا والمروہ میں رمل نہیں اور نہ ہی اضطباع ہے ، امام نووی نے شرح مسلم میں لکھا ہے کہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عورتوں کے حق میں رمل مشروع نہیں ہے اور حافظ ابن حجر ؒ نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ رمل مردوں کی خصوصیت ہے عورتوں پر رمل نہیں ہے اور ابن المنذر نے اجماع نقل کیا ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیں ۔(جامع احکام النساء از مصطفی عدوی)

    سوال(18): قرآن میں کہیں روح تو کہیں نفس کا تذکرہ ہے ، ان دونوں کی حقیقت بتائیں ۔
    جواب : شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے ذکر کیا کہ روح ہی نفس ہے اور نفس ہی روح ہے ۔

    سوال (19): پولیو کا ٹیکہ لگانا کیسا ہے ؟
    جواب : پولیو کا ٹیکہ احتیاطی تدابیر کے طور پرہے اس میں شرعی کوئی رکاوٹ نہیں ہے، علماء نے اسے جائز قرار دیا ہے ۔ اگر یہ دوا صحت کے لئے مضر نہیں ہےتو اس کے استعمال میں قطعی کوئی حرج نہیں ہے ۔ وبا پھیلنے والے بہت سارے کاموں میں احتیاطا دوا کا استعمال کیا جاتا ہے مثلا حج کے لئے ٹیکہ لگتا ہے اسی طرح جانوروں کی پرورش والے مختلف فارموں میں احتیاطی دوائیں استعمال ہوتی ہیں ۔اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

    سوال (20): آب زمزم پینے کی یہ دعا کیسی ہے ؟
    اَللّٰھُمَّ اِنی اَسْئَلُکَ عِلْماً نَافِعاً وَرِزْقاً وَاسِعاً وَشِفاءً مِنْ کُلِّ دَاءٍ)مستدرک حاکم:۱/۴۷۳،حصن:۳۰۴(
    ترجمہ:اے اللہ میں تجھ سے نفع بخش علم کا کشادہ رزق کا اورہر بیماری سے شفا کا سوال کرتا ہوں۔
    جواب : ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اس اثر کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے ارواء الغلیل میں ضعیف قرار دیا ہے۔

    سوال (21): کیا لڑکا کی طرف سے ایک بکرا عقیقہ کرسکتے ہیں ؟
    جواب : مسنون یہ ہے کہ لڑکا کی طرف سے دو جانور پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ میں ذبح کیا جائے لیکن اگر کسی کو دو جانور کی بروقت طاقت نہیں تو ابھی ایک جانور ذبح کرلے اور جب طاقت ہوتو دوسرا جانور بھی ذبح کرلے ۔ ویسے عقیقہ سنت مؤکدہ ہے جسے عقیقہ دینے کی طاقت ہو وہی عقیقہ کرے اور جسے طاقت نہ ہو اس کے ذمہ عقیقہ نہیں ہے تاہم عقیقہ کی بیحد تاکید آنے کی وجہ سے پیدائش کے دو چار مہینے یا سال دو سال بعد بھی عقیقہ کرسکتے ہیں ۔

    سوال (22): عورتوں کا بلاضرورت سیروتفریح کے لئے گھر سے نکلنا کیسا ہے اگر ساتھ میں محرم بھی ہو؟
    جواب : عورت کو گھر میں سکونت اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہی حکم اس کی عفت وعصمت کی حفاظت کے عین مطابق ہےلیکن ضرورت کے تحت محر م کے ساتھ سفر کرسکتی ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ گھر میں زیادہ دن تک ٹھہرنے سے انسان اکتاجاتا ہےاس وجہ سے کبھی کبھار مناسب جگہوں کی سیروتفریح میں عورت کے لئے حرج نہیں ہے جبکہ اس کے ساتھ محرم بھی ہو،رسول اللہ ﷺ کا اپنی بیویوں کے ساتھ سفر پہ نکلنا یا گھر سے نکل کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑ لگانا اس بات پر دال ہے۔ ہاں بلا کسی وجہ کے منکرات والی جگہوں پہ آنا جانا یا گھر چھوڑ کے اکثر باہر وقت گزارنا عورت کے لئے قطعی مناسب نہیں ہے خواہ وہ اکیلی ہو یا محرم کے ساتھ ۔

    سوال (23): عورت کا تعلیم کے لئے فارن کنٹری جانا اور تعلیم یافتہ عورت کا نوکری کرنا کیسا ہے ؟
    جواب : دونوں کام صحیح ہیں بشرطیکہ اسلامی حدود میں ہوں۔ باہری ملک سفر کرنے کے لئے ساتھ میں محرم چاہئے اور اسکول میں تعلیمی نظا م علاحدہ ہونا چاہئے مخلوط نہ ہو اور نوکری کے لئے ضروری ہے کہ حجاب کی آزادی، عزت وآبروکی حفاظت اور اجنبی مردوں سے اختلاط نہ ہو۔

    سوال (24): ایک عورت نے ہرماہ تین روزے ایام بیض کے رکھنے کی نیت تھی اور وہ رکھتی بھی رہی لیکن اب بوڑھی ہوگئی نہیں رکھ سکتی تو کیا کرے ؟
    جواب : کسی کو بھی ایسی نذر نہیں ماننی چاہئے جس کی ادائیگی مشکل ہو لیکن اگر کسی نے ایسی نذر مان لی جس کی ادائیگی بعد میں مشکل ہوگئی تو اس کا کفارہ ادا کردے نذر پوری ہوجائے گی ۔ صحیح مسلم میں ہے نذر کاکفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ۔لہذا اس عورت کو قسم کا کفارہ ادا کرنا چاہئے اور وہ یہ ہے دس مسکینوں کو کھانا کھلانا، یا انہیں کپڑا پہنانا، یا ایک غلام آزاد کرنا،ان تینوں میں سے جس کی سہولت ہو کرسکتی ہے اور ان تینوں میں سے کسی کی طاقت نہ ہو تو تین روزے رکھے ۔

    سوال (25): کیا اپنے رشتہ دار کی بیٹی سے اپنے بیٹے کا رشتہ نہ کرنا بھی قطع رحمی یعنی رشتہ توڑنا ہے ؟
    جواب : یہ لوگوں کی غلط فہمی ہے کہ اگر اپنے رشتہ داروں میں شادی بیاہ کا پیغام دیا جائے اور دوسری جانب سے پیغام کا انکار ہوجائے تو اسے دشمنی پرمحمول کرتے ہیں اور آپس میں قطع تعلق کرلیتے ہیں ۔ شادی کا پیغام قبول نہ کرنا ہرگزقطع رحمی نہیں ہے اس لئے ہمیں اپنے سماج سے اس کج فکری کو دور کرنا چاہئے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    واٹس ایپ گروپ اسلامیات کے چند سوالوں کے جواب
    جواب از گروپ اڈمن مقبول احمد سلفی


    1- دوران نماز اگر نجاست کا علم ہو تو کیا کرے ؟
    جواب : اگر نماز کے دوران کپڑے میں نجاست لگنے کا علم ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں ۔ ایک صورت تو یہ ہے کہ نجاست کپڑے کے ایسے حصے میں لگا ہو جسے اتار ا جاسکتا ہو مثلا عمامہ یا ٹوپی تو اسے نماز کے دوران اتار کر جسم سے الگ کردیں ،نماز درست ہے جیساکہ نبی ﷺ کے جوتے میں نجاست لگی تھی تو آپ ﷺ نے اپنے جوتے اتار دئے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ نجاست لگا کپڑا اتارنا مشکل ہو مثلا کرتا یا پاجامہ تو اس حالت میں نماز توڑ لے اورنجاست دھلنے کے بعد ازسرے نو نماز ادا کرے ۔

    2- قبلہ کاعلم نہ ہو تو کیسے نماز پڑھے؟
    جواب : نماز کی صحت کے لئے قبلہ رو ہونا ضرروی ہے ،آدمی اگر کوئی ایسی جگہ پر ہو جہاں اسےقبلہ معلوم کرنا مشکل ہو تو جس جہت میں قبلہ کا یقین غالب ہو اس جہت رخ کرکے نماز پڑھ لے ۔اگر نماز کی ادائیگی کے بعد معلوم ہو کہ قبلہ رخ غلط تھا تو نماز دہرانے کی ضرروت نہیں ہے ۔ویسے آج کےٹکنالوجی کے دور میں آلات کے ذریعہ قبلہ کا علم حاصل کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہوگیا ہے ۔ہر نٹ والے موبائل کے ذریعہ قبلہ ڈائرکشن دیکھ سکتے ہیں۔

    3- ظالم کی موت پر مظلوم کا معاف کردینا کافی ہے اس کی سزا معاف ہوجائے گی اور اللہ اسے معاف کردے گا؟
    جواب : ہاں اگر مظلوم نے ظالم کو زندگی میں نہیں معاف کیا تو اس کی موت کے بعد بھی معاف کرسکتا ہے اور یہ معافی اس کے گناہوں کی بخشش کے لئے کافی ہے، مظلوم معاف کردے تو اللہ تعالی بھی معاف کردیتا ہے ۔

    4- کیا میاں بیوی ، بیٹا بیٹی ایک ہی صف میں گھر میں نماز پڑھ سکتے ہیں ؟
    جواب : نماز کی صف بندی میں عورتوں کا مقام پیچھے ہے اس میں رشتہ نہیں دیکھا جائے گا،نہ ہی عمر دیکھی جائے گی اور نہ گھرومسجد کا فرق کیا جائے گا۔ لہذا گھر میں بھی نماز پڑھی جائے تو مرد آگے اور عورتیں پیچھے کھڑی ہوں گی ۔

    5- ایک آدمی پرنٹنگ کا کام کرتا ہے اسے تصویر بھی چھاپنی ہوتی ہے ایسا کاروبار درست ہے ؟
    جواب : اسلام میں روح والی تصویر بنانا ،چھاپنا اور خریدوفروخت کرناجائز نہیں ہے ا س لئے کسی مسلمان کےلئے ایسا کاروبار کرنا جائز نہیں ہے جس میں روح والی تصویر چھاپنی پڑے لیکن بغیر روح والی تصویر ہو مثلا درخت، پہاڑ، زمین اور قدرتی مناظر وغیرہ تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

    6- غیر نماز میں اذان کے ذریعہ شیطان بگھانے سے فائدہ ہوگا؟
    جواب : حدیث میں مذکور ہے کہ نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارکربھاگتا ہے البتہ غیرنماز کے لئے اذان دے کر شیطان بھگانے کا کسی حدیث میں ذکر نہیں ہے اور جس بات کی دلیل نہیں مسلمان کو ایسا کام نہیں کرنا چاہئے ۔اسی طرح سے دین میں نیا کام شروع ہوتا ہے اور بعد میں چل کرلوگ اسے دین سمجھ لیتے ہیں۔

    7- ہمیں معلوم ہے کہ آدم علیہ السلام پہلے نبی ہیں مگر بخاری شریف میں نوح علیہ السلام کو پہلا نبی کہا گیا ہے دونوں میں صحیح کیا ہے ؟
    جواب : احادیث کی روشنی میں آدم علیہ السلام پہلے نبی ہیں اور نوح علیہ السلام پہلے رسول ہیں ۔ہررسول نبی بھی ہیں مگر ہرنبی رسول نہیں ہیں اس لئے نوح علیہ السلام کے لئے نبی اور رسول ہونا دونوں حدیث میں آیا ہے۔

    8- نفل نماز میں تشہد کے اخیر یا سجدہ میں اپنی زبان میں دعا کرسکتے ہیں؟
    جواب : نفل نماز میں تشہد کے اخیر میں سلام پھیرنے سےقبل اپنی زبان میں دعا کرسکتے ہیں اور سجدہ میں بھی اپنی زبان میں دعا کرسکتے ہیں ۔

    9- کیا نماز میں سنت پڑھنا لازم ہے؟
    جواب : سنت کا مقام فرض وواجب سے نیچے ہے اور نماز کی سنت نمازیں جن کی تاکید وارد ہیں انہیں ہمیشہ پڑھنا چاہئے کیونکہ نبی ﷺ سے مسلسل پڑھنا وارد ہے اس پہ بہت اجر ہے لیکن اگر کبھی کبھار چھوٹ جائے یاعمدا ہی چھوڑ دےتو اس پہ مواخذہ نہیں ہوگا۔ ہاں یہ یاد رہے کہ سنت کا چھوڑنا حقارت کی وجہ سے نہ ہو بلکہ سستی کی وجہ سے ہو۔

    10- ایک عورت کا سوال یہ ہے کہ وہ رات میں ٹی شرٹ اور ٹراؤزر پہن کر سوتی ہے کیا وہ اس لباس میں فجر کی نماز پڑھ سکتی ہے؟
    جواب : یہاں اس سوال کا بھی جواب دینا بہتر ہوگا کہ کیا عورت سوتے وقت ٹی شرٹ اور ٹراؤزر پہن سکتی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں اکیلے میں عورت جو لباس چاہے لگاسکتی ہے البتہ نماز میں مکمل ستر پوشی چاہئے یعنی پورا بدن جس میں مکمل ہاتھ،مکمل پیر اور مکمل سر بالوں سمیت داخل ہے ۔ ٹی شرٹ میں ہاتھ کھلا رہتا ہے اور ٹراؤزر بسااوقات چھوٹا بھی ہوتا ہے اورجست تو ہوتا ہی ہے لہذا ان دونوں کے اوپر ایک ساتر لباس لگالے جو ہاتھوں، پیروں اور سر کو مکمل ڈھانپ دے پھر نماز پڑھے ۔

    11- اس حدیث کی وضاحت کریں۔عن ابي هريرة، قال:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ما بين المشرق والمغرب قبلة.(ترمذی)
    ترجمہ: ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرق (پورب) اور مغرب (پچھم) کے درمیان جو ہے سب قبلہ ہے۔
    جواب : اس حدیث کے مخاطب مدینہ والے ہیں کیونکہ وہ قبلہ کے شمال میں ہیں وہاں والوں کے لئے حکم ہے کہ ان کے لئے مشرق ومغرب میں جو ہے سب قبلہ کے حکم میں ہےجیساکہ پیشاب وپاخانہ کے لئے مدینہ والوں کو مشرق ومغرب رخ کرنے کا حکم ہے۔اسی حدیث سے جو لوگ ہندوستان وپاکستان میں ہیں ان کے لئے استنجاء میں جس طرح مشرق ومغرب منع ہوگا اسی طرح قبلہ میں بھی یہ حکم نکلے گا کہ شمال اور جنوب کا جو حصہ ہے وہ سب قبلہ ہے۔ لہذا کوئی ہوبہو قبلہ کی جانب نہ ہوہلکا تیڑھا ہوجائے تو کوئی حرج نہیں ویسے کوشش ہو کہ بالکل قبلہ رخ ہوا جائے قصدا تیڑھا نہ ہو۔

    12- کھانا کھاتے وقت پانی پینے کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : کتاب وسنت میں کھاتے وقت پانی پینے کی کہیں ممانعت نہیں آئی ہے بلکہ قرآن وحدیث میں متعدد جگہ کھانے کے ساتھ ساتھ پینے کا ذکر آیا ہے اس لئے کھاتے وقت پانی پینے یا کھانے کے بعد پانی پینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

    13- کھانا کھانے کے دوران سلام کرنے کی کسی حدیث میں ممانعت آئی ہے ؟
    جواب : کھانا کھاتے وقت سلام کرنا کسی حدیث سے منع نہیں ہے اس لئے ہم کھاتے وقت سلام کرسکتے ہیں ۔ جب نماز کے دوران سلام کرنا اور اشارے سے جواب دینا جائز ہے تو کھانے وقت کیونکر منع ہوگا۔ کھانا کھاتےوقت نبی ﷺ سے بات کرنا ثابت ہے ،بخاری شریف کی ایک لمبی کا ایک ٹکڑا دیکھیں ۔ كُنَّا مع النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ في دعوةٍ ، فرُفِعَ إليهِ الذراعُ ، وكانت تُعجبُهُ ، فنهسَ منها نَهْسَةً ، وقال : ( أنا سيدُ القومِ يومَ القيامةِ (صحيح البخاري:3340)
    ترجمہ: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دعوت میں شریک تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دست کا گوشت پیش کیاگیا جو آپ کو بہت مرغوب تھا ۔ آپ نے اس دست کی ہڈی کا گوشت دانتوں سے نکال کر کھایا ۔ پھر فرمایا کہ میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں گا ۔
    اس حدیث میں کھاتے وقت رسول اللہ ﷺ سے بات کرنا ثابت ہے تو سلام کرنا اور اس کا جواب دینا بدرجہ اولی جائز ہوگا۔

    14- عورت اپنے ہاتھ اور پیر کا بال صاف کرسکتی ہیں تو اس کی دلیل دیں ۔
    جواب : جسم میں بالوں کی تین اقسام بنتی ہیں ایک قسم وہ ہے جس کو زائل کرنے کا حکم ہے مثلا بغل اور زیرناف، دوسری قسم وہ ہے جس کو زائل کرنا منع ہے مثلا ابرو اور داڑھی اور تیسری قسم وہ ہے جس کو زائل کرنے اور نہ کرنے کے متعلق شریعت خاموش ہےاس قسم کے مسائل کے متعلق نبی ﷺ کا یہ حکم ملتا ہے۔
    الحلالُ ما أحلَّ اللَّهُ في كتابِهِ والحرامُ ما حرَّمَ اللَّهُ في كتابِهِ وما سَكتَ عنْهُ فَهوَ مِمَّا عفى عنْهُ(صحيح الترمذي:1726)
    ترجمہ: حلال وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کردیا، اور حرا م وہ ہے ، جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حرام کردیا اورجس چیزکے بارے میں وہ خاموش رہا وہ اس قبیل سے ہے جسے اللہ نے معاف کردیاہے۔
    لہذا جسم کے اس حصے کا بال جس کے متعلق شریعت خاموش ہے مرد وعورت کاٹ سکتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    آپ کے سوالات اور مقبول احمد سلفی کے جوابات
    جوابات از مقبول احمد سلفی

    کئی سالوں سے سوشل میڈیا پہ کام کرنے کی وجہ سےلوگوں میں میرا نام اور نمبر کافی معروف ہوگیا ہے، (اس میں میری کوئی بڑائی نہیں ہرقسم کی تعریف کا مستحق اللہ تعالی ہے)اس لئے بہت سارے سوالات مختلف سماجی روابط پہ مجھ سے کئے جاتے ہیں پہلے میں سائل کووہیں پہ جواب دے دیا کرتا تھا جہاں سوال آتا تھا مگر اسے محفوظ نہیں کرپاتا تھا اب سوشل میڈیا کے مختلف مقامات پہ کئے گئے سارے سوالات کو ایک جگہ جمع کرتا ہوں اور پھر ان سب کا ایک ساتھ جواب شائع کرتا ہوں تاکہ نہ صرف سوال کرنے والا مستفید ہو بلکہ دوسرے حضرات بھی اس سے فائدہ اٹھائیں ۔ اس سلسلے کی کئی کڑیاں گزرچکی ہیں جنہیں میرے بلاگ "مقبول احمد ڈاٹ بلاگ اسپاٹ ڈاٹ کام" پر دیکھ سکتے ہیں ،اس کی ایک اور کڑی پیش خدمت ہے۔

    سوال(1):میں نے صحیح بخاری کی ایک حدیث پڑھی "جنت تلوار کی چھاؤں تلے ہے"اس حدیث کا مطلب کیا ہے؟
    جواب : ہاں یہ حدیث صحیح بخاری میں اس طرح سے ہے ۔ الجنة تحت ظلال السيوف(صحيح البخاري:3024) یعنی جنت تلوارکی چھاؤں میں ہے ۔ اس حدیث میں جہاد کی ترغیب دی گئی ہے جس اسلام کو سربلندی حاصل ہوتی ہے اور مسلمان میدان جنگ میں تلواروں سے جہاد کرتے ہیں تو ان تلواروں کی وجہ سے جنت ملتی ہے ۔ یہ حدیث مسلم میں بھی ہے جس کی شرح کرتے ہوئے شارح صحیح مسلم امام نووی لکھتے ہیں کہ اس کا معنی ہے جہاد اور معرکہ قتال میں حاضر ہونا جنت کا راستہ ہے اور اس میں داخل ہونے کا سبب ہے ۔

    سوال(2): کیا امام مہدی کی جماعت میں بہت تھوڑے مسلمان شامل ہوں گے؟ اور کیا ان مسلمانوں کی تعداد بھی بتائی گئی ہے؟
    جواب : مہدی علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کی تعداد مجھے احادیث میں نہیں ملی مگر ایک ایسی روایت ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عہد مہدی میں ساری زمین پر عدل قائم ہوجائے گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    لو لم يبقَ منَ الدَّهرِ إلَّا يومٌ ، لبعثَ اللَّهُ رجلًا من أَهْلِ بيتي ، يملأُها عدلًا ، كما مُلِئتْ جَورًا(صحيح أبي داود:4283)
    ترجمہ: اگر اس زمانے سے ایک دن بھی باقی ہوا تو اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت سے ایک آدمی کو اٹھائے گا جو اسے عدل سے بھر دے گا جیسے کہ ظلم سے بھری ہو گی ۔
    اہل تشیع کی کتابوں میں تعداد مذکور ہے اس طرف دھیان نہیں دیں ۔

    سوال(3): زمیں پر دجال کا فتنہ سب سے بڑا ہے توکیا دجال کے فتنے سے بچنے کے لئے سورہ الکہف کافی ہوگی، مطلب جن لوگوں نے سورہ الکہف حفظ کر لیا ہے وہ دجال کے خروج کے وقت سورہ الکہف پڑھیں گے تواس کے فتنے سے بچ جائیں گے؟
    جواب : سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات حفظ کرنے سے فتنہ دجال سے حفاظت ہوتی ہے ۔اس کی دلیل مسلم شریف کی مندرجہ ذیل روایت ہے ۔
    من حفِظ عشرَ آياتٍ من أولِ سورةِ الكهفِ ، عُصِمَ من الدَّجَّالِ(صحيح مسلم:809)
    ترجمہ: جو شخص سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرے گا وہ دجال کے فتنہ سے بچا لیا جائے گا۔
    اس حدیث میں ابتدائی دس آیات حفظ کرنے کی بات ہے ، مسلم کی ایک دوسری روایت میں مطلقا ابتدائی آیات پڑھنے کا ذکر ہےجس سے دس آیات ہی مراد ہیں ۔
    فمن أدركه منكم فليقرأْ عليه فواتحَ سورةِ الكهفِ(صحيح مسلم:2937)
    ترجمہ: تم میں سے جو شخص دجال کو پائے، اسے چاہیے کہ وہ سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے۔
    یہ فرمان نبوی ہے اس پر ہمیں ایمان لانا ہے اور یقین کرنا ہے کہ جو سورہ کہف کی تلاوت کرے بالخصوص دس ابتدائی آیات اور یہی آیات دجال کے خروجکے وقت پڑھے تو اس کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔ اس پہ تفصیلی مضمون پڑھنے کے لئے میرے بلاگ پر تشریف لائیں ۔

    سوال (4): قرضدار زندگی میں قرض ادا کرنے سے قاصر رہا اور موت کی آغوش میں چلا گیا ۔نا اسکے پاس کوئی جائیداد تھی جس سے قرض ادا ہو اور نا ہی کوئی اسکا قرض ادا کیا تو ایسی صورت میں وہ ہمیشہ سزا کا مستحق قرار دیا جائے گا یا اسکی توحید کی وجہ سے اسکو معاف بھی کیا جائے گا ؟
    جواب : اولا بلاضرورت قرض نہیں لینا چاہئے لیکن اگر شدید حاجت پڑجائے تو اس نیت سے قرض لیں کہ اسے چکانا ہے نہ کہ غصب کرجانا ہے ۔ جس کی نیت ایسی تھی کہ وہ قرض کو ادا کرے گا لیکن اس کی ادائیگی سے قبل وفات پاگیا نہ ہی اس نے مال چھوڑا کہ قرض ادا کیا جائے اور نہ مسلمانوں میں سے کسی نے اس کی جانب سے قرض ادا کیا تو قرض خواہ کو چاہئے کہ معاف کردے ، اللہ نے وقت پر قرض نہ ادا کر سکنے کی وجہ سے سورہ بقرہ (280) میں تنگ دست کے واسطے مہلت دینے کا حکم دیا ہے ۔اور نبی ﷺ کا فرمان ہے : من أخذَ أموالَ النَّاسِ يريدُ أداءَها أدَّى اللهُ عنه ، ومن أخذ يريدُ إتلافَها أتلفَهُ اللهُ(صحيح البخاري:2387)
    ترجمہ: جو کوئی لوگوں کا مال قرض کے طور پر ادا کرنے کی نیت سے لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی طرف سے ادا کرے گا اور جو کوئی نہ دینے کے لیے لے، تو اللہ تعالیٰ بھی اس کو تباہ کردے گا۔
    قرض خواہ نے اس کی وفات کے بعد معاف کردیا تو ٹھیک ورنہ اللہ تعالی اس کی جانب سے قیامت میں بدلہ دے گا لیکن واضح رہے یہ اس قرض کی بات ہے جو چکانے کی نیت سے لیا گیا ہو۔

    سوال (5): عورت کی ڈیلیوری کے وقت کون سی دعا پڑھنی چاہئے ؟
    جواب : بچہ ہوتے وقت عورت کوشدید سے شدید تکلیف ہوتی ہے بسااوقات زچگی کی تاب نہ لاکر عورت موت کی آغوش میں بھی چلی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس تکلیف کا قرآن میں ذکر کرکے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے :
    وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا(الأحقاف:15) .
    ترجمہ: اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا۔
    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام نے اتنی تکلیف دہ حالت زچگی کے لئے کوئی مخصوص دعا یا کوئی مخصوص عمل بتلایا ہے ؟
    تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام میں تکلیف کے وقت کے لئے متعدد دعا موجود ہے مگر زچگی کے لئے کوئی مخصوص ذکر، کوئی مخصوص دعا، کوئی مخصوص وظیفہ اور کوئی مخصوص عمل نہیں بتلایاگیاہے ۔ تکلیف کی حالت میں عورت بغیر تخصیص کے ذکرواذکار، تلاوت قرآن، دعاواستغفاروغیرہ کر سکتی ہے ۔

    سوال (6) :عرب کو برا بھلا نہ کہنے کے بارے میں کیا کوئی حدیث ہے ؟ جو عرب کو کھلے عام گالیاں دیتے ہیں ان کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : عرب کوگالی مت دو ایسی کوئی صحیح حدیث مجھے نہیں ملی ،اس طرح ایک روایت بیان کی جاتی ہے "لا تسبوا العرب فأنا من العرب" کہ تم عرب کو گالی نہ دو کیونکہ میں عرب میں سے ہوں ۔ اس روایت کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ اسی طرح مندرجہ ذیل روایات بھی موضوع یا ضعیف ہیں ۔
    من سبَّ العربَ ؛ فأولئكَ همُ المشركونَ(السلسلة الضعيفة:4601)
    ترجمہ: جو عرب کو گالی دیتاہے دراصل وہ مشرک ہے۔
    حبُّ العربِ إيمانِ ، وبغضُهم نفاقٌ(ضعيف الجامع:2683)
    ترجمہ: عرب سے محبت کرنا ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا نقاق ہے ۔
    لا يَبْغَضُ العربَ مؤمنٌ، ولا يُحِبُّ ثَقِيفًا إلا مؤمنٌ( السلسلة الضعيفة:1191)
    ترجمہ: عرب سے کوئی مومن بغض نہیں رکھتا اور ثقیف سے مومن ہی محبت کرتا ہے۔
    دوسری عام متفق علیہ حدیث کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح کسی مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اسی طرح عرب کو بھی گالی دینا فسق ہےاور جو اس کا ارتکاب کرے وہ فاسق ہے ۔

    سوال(7): ایک مؤحد کی سرکاری نوکری ہے اسے ایک ثقافتی پروگرام میں نظامت کا فریضہ سونپا گیا، دیپ جلانے کے وقت وہ اس سے الگ رہے لیکن مجبورا انہیں بھجن کا اعلان کرنا پڑا ، وہ بھائی شرمندہ ہیں اور پوچھتے ہیں اس کا کیا گناہ اور کیا کفارہ ہے؟
    جواب : کسی سرکاری پروگرام کی نظامت کرنا برا نہیں ہے مگر برائی کا اعلان کرنا بہرحال برا ہے۔ اگر اس موحد کو معلوم تھا کہ اس قسم کے پروگرام میں شرک کا پرچار کرنا پڑے گا تواس کی نظامت قبول نہیں کرنا چاہئے تھا ۔ خیر آئندہ سے احتیاط کرے اور گزشتہ گناہ کی معافی کے لئے اللہ تعالی سے توبہ واستغفار کرے ۔

    سوال(8):جب نبی صلى الله عليه وسلم کا نام لکھتے ہیں تو پورا نام نہیں لکھتے ہیں بلکہ نبی صلعم لکھتے ہیں تو کیا اس طرح سے لکھنا صحیح ہے مہربانی کرکے وضاحت کریں؟
    جواب : آج کل لوگ موٹی موٹی کتابیں لکھ لیتے ہیں ،لمبے لمبے مضامین ومقالات سے سیکڑوں صفحات سیاہ کرلیتے ہیں مگر چند حروف والفاظ پر مشتمل صلی اللہ علیہ وسلم نہیں لکھ سکتے ۔ صلعم کا کوئی معنی نہیں نکلتا اس لئے ہمیں مکمل صلی اللہ علیہ وسلم لکھنا چاہئے ۔ اگر مضامین ومقالات میں ہر جگہ اس کا التزام مشکل ہے تو دل میں پڑھ لیا جائے اور آج تو کمپیوٹر سے لکھا جاتا ہے جہاں صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک بٹن دبانے سے آجاتا ہے پھر کون سی پریشانی ؟ موبائل میں بھی ایک حرف لکھنے سے اس کے مساوی کئی الفاظ آپ خود ظاہر ہوجاتے ہیں لہذا ہمیں مکمل صلی اللہ علیہ وسلم لکھناچاہئے جیساکہ صحابہ کرام ومحدثین عظام جب نبی ﷺ کی کوئی حدیث بیان کرتے تو صلی اللہ علیہ وسلم لازما کہتے اور لکھتے۔

    سوال(9): امام کے مصلی پر جانے سے پہلے ہی موذن نے اقامت شروع کردی تو کیا اس طرح کرنا صحیح ہے ؟
    جواب : اقامت کا وقت ہوجائے اور امام مسجد کو آتا ہوا دیکھ لے تو موذن اقامت کہنا شروع کرسکتا ہے اس سے پہلے کی امام مصلی پر کھڑا ہو ۔ اس کی دلیل بخاری ومسلم کی یہ روایت ہے ۔
    عن أبي قتادة رضي الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم (إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي) رواه البخاري (637) ومسلم (604) وفي رواية لمسلم : (حَتَّى تَرَوْنِي قَدْ خَرَجْتُ).
    ترجمہ : حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اقامت ہوجائے تو تم اس وقت تک نہ کھڑے ہو جب تک مجھے دیکھ نہ لو ۔ اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے ۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے : یہاں تک کہ تم مجھے نکلتے ہوئے دیکھ لو۔

    سوال(10): کیا مشرک کی تعزیت اور تدفین میں شرکت کی جاسکتی ہے؟
    جواب : کسی کافر کی میت پہ اس کی تعزیت یعنی صرف صبر کی تلقین کرنا (استغفار جائز نہیں) کرنا جائز ہے لیکن اس کے جنازہ میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے ۔آپ ﷺ ابوطالب کی موت پہ ان کے جنازہ میں شریک نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کی تدفین میں جبکہ ابوطالب نے قدم قدم پہ آپ کی مدد کی تھی ۔
    ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اسلام نے کفار سے موالات کو منع فرمایاہے اور کافر کی میت میں شرکت موالات میں سے ہے ، اس میں کافر کا احترام اور اس سے محبت کا اظہار ہے ۔ جنازہ کے پیچھے چلنا، یہ تو ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پہ حق ہے، اسے کافروں کو کیسے دیا جاسکتاہے ۔ کافرمیت پہ اس کے کافر رشتہ داروں کو صبر کی تلقین کرنے کی بات اسلام کے احسان و سلوک کے تئیں ہے ۔

    سوال(11):میں نے ایک حدیث پڑھی ہے کہ اعرابی لوگ گوشت لاتے پتہ نہیں اس پر اللہ کا نام لیا ہوتا کہ نہیں نبی ﷺ نے فرمایابسم اللہ کرکے کھالوتو اس حدیث کی روشنی میں ہم یورپ رہنے والے عام دوکانوں سے گوشت خرید کر کھاسکتے ہیں ؟
    جواب : یہ حدیث نسائی وغیرہ میں موجود ہے اور صحیح روایت ہے ۔ یہاں اعرابی سے مراد مدینہ کامسلمان اعرابی ہے ۔ کافر کا ذبیحہ حلال نہیں ہے سوائے اہل کتاب کے ۔ ابوداؤد میں "إنَّ قومًا حَديثو عَهْدٍ بالجاهليَّةِ" (کچھ لوگ جاہلیت سے نئے نئے نکلے ہیں یعنی نئے مسلمان ہوئے ہیں)کے الفاظ آئے ہیں ۔
    یہ روایت بخاری شریف اس طرح مروی ہے ۔
    عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ قَوْمًا قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ قَوْمًا يَأْتُونَا بِاللَّحْمِ، لاَ نَدْرِي: أَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ أَمْ لاَ؟ فَقَالَ: «سَمُّوا عَلَيْهِ أَنْتُمْ وَكُلُوهُ» قَالَتْ: وَكَانُوا حَدِيثِي عَهْدٍ بِالكُفْرِ (صحیح البخاری : 5507)
    ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ گاؤں کے کچھ لوگ ہمارے یہاں گوشت بیچنے لاتے ہیں اور ہمیں معلوم نہیں کہ انہوں نے اس پر اللہ کا نام بھی ذبح کرتے وقت لیا تھا یا نہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ تم ان پر کھاتے وقت اللہ کا نام لیا کرو اور کھا لیا کرو ۔
    اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ مسلمان کا ذبیحہ کھایا کرو اور کھاتے وقت بسم اللہ پڑھ لیا کرو کیونکہ مسلمان اللہ کے نام سے ہی ذبح کرتے ہیں اس لئے مسلمانوں کے بازار سے یا مسلمان کی دوکان سے گوشت بلاپوچھے خرید سکتے ہیں الا یہ کہ تردد ہو لیکن کافر کی دوکان سے گوشت نہیں لے سکتے ہیں ۔
    المعجم الاوسط اور مجمع الزوائد میں اس روایت میں یہ زیادتی ہے ۔
    اجهَدوا أيمانَهم أنَّهم ذبَحوها ثمَّ اذكُروا اسمَ اللهِ وكُلوا۔
    ترجمہ: ان اعرابی سے قسم کھلاؤ کہ ذبح کرتے وقت بسم اللہ کہا ہے پھر اللہ کا نام لیکر کھاؤ۔
    اس روایت کو شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے ۔ ( السلسلة الضعيفة:5494)

    سوال(12): میرے پاس سند ہے ،صلاحیت ہے مگر تجرباتی سرٹیفکیٹ نہیں ہے جس کی وجہ سے کہیں نوکری نہیں ملتی کہاجاتا ہے اکسپیرئنس لاؤ ایسی صورت میں جعلی تجرباتی سرٹیفکیٹ بناکر نوکری کرنا کیسا ہے ؟
    جواب : آج حلال روزی کمانا مشکل اور حرام روزی کمانا آسان ہوگیا ہےیہی تو فتنے کے زمانہ میں مومن کی آزمائش ہےاس لئےجس قدر بھی حلال روزی کا حصول مشکل ہو مومن سے حلال کمائی ہی مطلوب ہے ۔ آپ نے اچھی تعلیم حاصل کی ہے ، قابلیت بھی موجود ہے تو احساس کمتری کا شکار نہ ہوں بہت سارے اداروں میں بغیر تجربہ کے نوکری ملتی ہے ،ہمیں زیادہ تنخواہ کا لالچ غلط راستہ دکھاتا ہے ، کم تنخواہ سے ہی زندگی کا آغاز کریں ،حلال روزی کم بھی ملے تو حرا م کی بے پناہ دولت سے بہتر ہے ۔ اس لئے یاد رکھیں کسی قسم کی جعلی سرٹیفکیٹ نہ بنائیں یہ جائز نہیں ہے ۔اپنی تعلیم ، محنت ، صلاحیت اور ایمانداری کے بل بوتے پر نوکری حاصل کریں بھلے ہی کم تنخواہ والی نوکری ملے ۔

    سوال(13): اگر غیرمسلم لڑکی کلمہ پڑھ لے تو مسلمان لڑکا اس سے نکاح کرسکتا ہے؟
    جواب : مسلمان اسے کہتے ہیں جو زبان سے کلمہ کا اقرار کرے ، دل سے اس کی تصدیق کرے اور اعضاء وجوارح سے اس پر عمل کرکے دکھائے۔اگر غیرمسلم لڑکی اس طرح سے ایمان لاتی ہے تو اس سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن کلمہ صرف عشق ومحبت کے چکر میں مسلمان لڑکا سے شادی کرنے کے لئے پڑھتی ہے ، اس کا دل کلمہ کی تصدیق نہیں کررہاہے تو اس سے شادی جائز نہیں ہے ۔ آپ کہیں گے کہ اس کے اسلام کو کیسے پہچانیں تو میرا جواب یہ ہے کہ اسکے عمل وکردار سے پہچانیں ۔ نماز قائم کرتی ہے کہ نہیں ، روزہ رکھتی ہے کہ نہیں ، پردہ کرتی ہے کہ نہیں اور اسی طرح اسلام کی دیگر تعلیمات؟ ۔

    سوال(14): کیا ہم اپنے آپ کو اللہ کا غلام نہیں کہہ سکتے ؟ کسی نے مجھ سے کہا کہ یہ اللہ کو پسندنہیں ہمیں اللہ کا بندہ کہنا چاہئے ؟
    جواب : ہم اپنے آپ کو اللہ کے بندے اور اس کے غلام دونوں کہہ سکتے ہیں کیونکہ اللہ تعالی ہمارا خالق بھی ہے اور مالک بھی ہے ۔ قرآن میں عبد اور عبید کالفظ آیا ہے ۔
    وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ (فصلت:46)
    ترجمہ: اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ۔
    وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا (الفرقان:63)
    ترجمہ: رحمن کے سچے بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں۔
    یہ دونوں لفظ بندے اور غلام دونوں کے لئے عربی میں مستعمل ہے۔

    سوال(15): میرے ذہن میں کئی دنوں سے ایک سوال کھٹکتا ہے وہ یہ کہ انسان دل سے سوچتا ہے یا دماغ سے؟
    جواب : سوچنے اور سمجھنے کا مرکز دل ہے اس لئے قرآن میں تدبر وتفکر کے لئے قلب (دل) کا لفظ آیا ہے اور اسی طرح حدیث میں بھی ۔ اللہ کا فرمان ہے: أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا (سورة محمد :24)
    ترجمہ : کیایہ لوگ قرآن میں غورنہیں کرتے ؟ یا ان کے دلوں پہ ان کے تالے لگے ہوئے ہیں۔
    نبی ﷺ کا فرمان ہے : ألا وإن في الجسدِ مُضغَةً : إذا صلَحَتْ صلَح الجسدُ كلُّه، وإذا فسَدَتْ فسَد الجسدُ كلُّه، ألا وهي القلبُ .(صحيح البخاري:52)
    ترجمہ:سن لو بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو گا سارا بدن درست ہو گا اور جہاں بگڑا سارا بدن بگڑ گیا۔ سن لو وہ ٹکڑا آدمی کا دل ہے۔

    سوال(16): میں نے ایک محلے میں مکان کرائے پر لیکر اس میں سلائی فیکٹری ڈالی ہے،اس کام کے لئے چھ سات افراد مامور ہیں ان کے لئے اس مکان میں ایک کمرہ نماز کے لئے مختص کردیا ہے کیا یہ صحیح ہے جبکہ اس محلہ میں کچھ فاصلے پر مسجد موجود ہے ؟
    جواب : مسجد قریب میں ہو اور اذان کی آواز سنائی دیتی ہو تو مسجد میں حاضر ہوکر جماعت سے نماز ادا کرنا چاہئے ، رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں جماعت سے نماز نہ پڑھنے والوں کو سخت وعید سنائی ہے ، نابینا کو بھی مسجد میں آنے کا حکم دیا ہے تو پھر مسجد چھوڑ کر اس کے بغل میں مصلی کیسے قائم کیا جاسکتا ہے ؟ ہاں مسجد دور ہو تو کام کرنے کی جگہ مصلی قائم کرلینے میں حرج نہیں ہے ۔

    سوال(17): تکبیر تحریمہ امام زور سے اور مقتدی آہستہ کہے اس کی صریح دلیل کیا ہے ؟
    جواب : امام کے حق میں نماز کی تمام تکبیریں بلند آواز سے کہنا مسنون ہے جبکہ مقتدی کے حق میں آہستہ سے۔ امام کا بلند آواز سے اس لئے کہ مقتدی کو امام کی پیروی کرنی ہے جیساکہ اس سے متعلق کئی احادیث موجود ہیں اور مقتدی آہستہ سےاس لئے کہ اس کے حق میں تکبیر سمیت ساری چیزیں سرا ً کہنا مسنون ہے ،صرف وہی کلمات بلند آواز سے کہیں گے جن کا الگ سے مقتدی کے لئے جہرا کہنے کا ثبوت ملتا ہے مثلا جہری نماز میں آمین کہنا۔اس بات کی دلیل وہ ساری احادیث ہیں جن کی بنیاد پر مقتدی کاالتحیات ،درود ، دعا وغیرہ آہستہ کہنے پر دلیل ہیں۔

    سوال(18) :ہمارے پڑوس میں ایک ساٹھ سالہ خاتون رہتی ہے جو عمرہ پہ جانا چاہتی ہے مگر اس کا کوئی محرم نہیں ہے کیا کوئی راستہ ہے؟
    جواب : بغیر محرم کے عورت کا سفر کرنا جائز نہیں ہے اس لئے اس خاتون کو عمرہ پراس وقت تک نہیں جانا چاہئے جب تک کوئی محرم نہ مل جائے ۔ ایسی خاتون کے لئے ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے پیسے سے کسی نیک آدمی کو بھیج کر اس کے ذریعہ عمرہ بدل کرالے۔

    سوال(20): کیا ایسی کوئی حدیث ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اپنی خوشیوں کو چھپاؤ؟
    جواب : اگر کسی مسلمان کو اللہ کی طرف سے کوئی نعمت ملے تو اسے بیان کرنا چاہئے اس سے نعمت کی قدر اور اللہ کا شکر ظاہر ہوتا ہے ۔ اللہ نے نبی ﷺ کو اس بات کا حکم بھی دیا ہے۔
    وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ (الضحی:11)
    ترجمہ: اور اپنے رب کی نعمتوں کا تذکرہ کریں۔
    ہاں اگر کسی خاص نعمت کے بیان کرنے سے بغض وحسد کا اندیشہ ہو تو نعمت کا ذکر خصوصیت کے ساتھ نہ کریں بلکہ عمومی انداز میں کریں تاکہ آپ کی اس خاص نعمت کا حاسد کو پتہ نہ چلے جیساکہ اللہ تعالی نے قرآن میں ذکر کیا ہے۔
    قَالَ يَا بُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَى إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا(یوسف:5)
    ترجمہ: یعقوب علیہ السلام نے کہا پیارے بچے ! اپنے اس خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا، ایسا نہ ہو کہ وہ تیرے ساتھ کوئی فریب کاری کریں ۔
    اس آیت میں خواب کی نعمت وبشارت کو اپنے حاسد بھائی سے چھپانے کا ذکر ہے۔
    اورفرمان نبوی ہے ۔
    استعينوا على إنجْاحِ الحوائِجِ بالكتمانِ ؛ فإنَّ كلَّ ذي نعمةٍ محسودٌ(صحيح الجامع:943)
    ترجمہ: لوگوں سے چھپاکر اپنے مقاصد کی کامیابی پرمدد طلب کرو کیونکہ ہر نعمت والا حسد کیا جاتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    ماہ صفر کے سوال وجواب کا دوسرا مجموعہ
    جوابات از شیخ مقبول احمدسلفی
    ماہ صفر 1439 میں انتظار میں رہے سوالوں کی پہلی قسط جوبیس سوا ل و جواب پر مشتمل تھی شائع کی جاچکی ہے، یہ اس کی دوسری قسط ہے۔

    (21) کیا شوہر کمرے میں دبے پاؤں آسکتا ہے جہاں صرف بیوی بچے ہوں یا شوہر کے لئے بھی شریعت نے کچھ آداب بتائے ہیں گھرمیں داخل ہونے کے؟
    جواب : سورہ نور میں اللہ نے ذکر کیا ہے کہ جب اپنے گھر کے علاوہ دوسروں کے گھر میں داخل ہونا چاہو تو پہلے گھر والوں سے اجازت طلب کرلو اور انہیں سلام کرو۔ یہ آیت بتلاتی ہے کہ آدمی اپنے گھر میں بغیر اجازت کے داخل ہوسکتا ہے لیکن گھر میں بیوی کے علاوہ ماں ، بہن اور بیٹیاں بھی ہوں تو پھر اجازت طلب کرنی ہے کیونکہ اجازت طلب کرنے کی علت کوئی ناپسندیدہ چیز پر نظر پڑنا ہےجیساکہ فرمان رسول ہے ۔ إنما جُعِل الاستئذانُ من أجلِ البصرِ (صحيح البخاري:6241)
    ترجمہ: ( اندر داخل ہونے سے پہلے ) اجازت مانگنا اسلئے ہےکہ ( اندر کی کوئی ذاتی چیز ) نہ دیکھی جائے۔
    ہرکوئی اپنی بیوی کو بہتر حالت میں دیکھنا چاہتا ہے اس لئے بہتر یہی ہے کہ گھر میں صرف بیوی ہو تو بھی اجازت طلب کرے یا کھنکھار دے یا قدموں کی آہٹ دیدے ۔

    (22) کیا رقیہ کرنا سنت سے ثابت ہے میرا مطلب کسی اور سے رقیہ کرانا کیسا ہے؟ یا خود کرنا بہتر ہے، شریعت میں اسکا کیا حکم ہے؟
    جواب : رقیہ دم کرنے کو کہتے ہیں اور یہ جائز ہے اس شرط کے ساتھ کہ رقیہ صرف اللہ کے کلام اور نبی ﷺ سے منقول صحیح دعاؤں کے ذریعہ ہی ہو اور اعتقاد یہ ہو کہ اس کے ذریعہ اللہ تعالی ہی فائدہ پہنچانے والا ہے ۔ عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہےانہوں نےکہا :كنا نَرْقي في الجاهليةِ . فقلنا : يا رسولَ الله ِكيف ترى في ذلك ؟ فقال : اعرِضوا عليَّ رُقاكم . لا بأسَ بالرُّقى ما لم يكن فيه شِركٌ .
    ترجمہ: ہم زمانہ جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :اپنے دم کے کلمات میرے سامنے پیش کرو دم میں کو ئی حرج نہیں جب تک اس میں شرک نہ ہو۔
    نبی ﷺ نے رقیہ کی اجازت کے ساتھ مریض پر دم کرنے کی بھی عملی تعلیم دی ہے ۔
    عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى مِنَّا إِنْسَانٌ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ ثُمَّ قَالَ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا(صحیح البخاری : 5707)
    ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت وہ بیان کرتی ہیں:جب ہم میں سے کوئی شخص بیمار ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس(کےمتاثرہ حصے) پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے،پھر فرماتے:"أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا"(تکلیف کو دور کردے،اے تمام انسانوں کے پالنے والے!شفا دے،تو ہی شفا دینے والا ہے،تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں،ایسی شفا جو بیماری کوذرہ برابر باقی نہیں چھوڑتی)۔
    بہتر یہ ہے کہ آدمی رقیہ خود کرے مگر کبھی دوسروں سے کرالئے تو کوئی حرج نہیں ہے ، دھیان رہے رقیہ کرنےوالامتقی وصالح ہو اور کلام اللہ اور کلام رسول سے رقیہ کرنے والا ہو۔

    (23) ریاست کرناٹکا میں اسوقت سلطان ٹیپو کا یوم پیدائش منایا جا رہا ہے جلوس وغیرہ نہیں ہوگا، بس ایک مقام پر تقریرہوگی جس میں سلفی علماء کرام کو مدعو کیا گیا کیا ہم اسمیں شرکت کرسکتےہیں؟
    جواب : ہندوستان میں جو اس قسم کا ڈے منایا جاتا ہے اس کا تعلق اسلام سے نہیں ہے بس سیاست سے ہے ۔ اگر یہ اسلامی ملک ہوتا تو پھر سرسید ڈے، اقبال ڈے اور ٹیپو ڈے نہیں منایا جاتا ۔ تو جس طرح ہندوستان کی جمہوری حکومت کو جھیل رہے ہیں جو اسلام مخالف ہے اسی طرح اسی فیصد کفار کے نرغے میں چودہ فیصدمسلمانوں کو اپنی حفاظت کے لئے مجبورا وطن کے نام پہ بہت کچھ کرنا پڑتا ہے ۔ مصلحت کا تقاضہ ہے کہ اسلامی حدود میں رہ کر وطن کے نام پہ ہونے والے سرکاری فنکشن میں بھی شرکت کریں البتہ اسلام مخالف وہ معاملہ جس میں حکومت کی طرف سے جبر نہ ہومثلایوم پیدائش تو اس کو منانے سے بچیں گے اور اگر کہیں کوئی منا رہاہے تو اس میں شرکت بھی نہیں کریں گے ۔ ہاں ہندوستانی تاریخ میں یاد کی جانے والی شخصیات پہ بغیر تخصیص کے علمی /شخصی سیمینار ہو تو چل سکتا ہے۔

    (24)سرکاری ملازمت کے لئے رشوت دینا یا لینا کیسا ہے ؟
    جواب : رشوت لینا دینا لعنت کا باعث ہے نبی ﷺکا فرمان ہے : عن عبدالله بن عمرو قال : لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي (صحيح أبي داود:3580)
    ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر ورضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے والے اور رشوت دینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
    آج کل عام طور سے سرکاری نوکری کے لئے رشوت دینی پڑتی ہے اور آدمی رشوت میں موٹی سے موٹی رقم دے دیتا ہے جبکہ اس مال کے دینے یا لینے سے سوائے گناہ کے کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور اگر اسی آدمی سے مسجد ومدرسہ کے نام پہ چندہ طلب کیا جائے تو دس بیس روپیہ بھی دینا مشکل ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں آپ کو سرکاری نوکری ہی کیوں چاہئے ، پرائیوٹ جاب کیوں نہیں جہاں رشوت نہیں ہے؟ ۔ جائز طریقے سے جائز نوکری کریں بھلے اس میں تنخواہ کم ہویہی مسلمان کے لئے بہتر ہے۔

    (25) ایک امام کے پاس چھوٹی بچی ہے اسے وہ اپنے سامنے ڈسک پر بٹھاکر نماز پڑھاتے ہیں تو بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا آپ ہمیں اس عمل کے متعلق بتلائیں ۔
    جواب : اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ، چھوٹی بچی کو ضرورت کے تحت اٹھاکر بھی نماز پڑھ سکتے ہیں جیساکہ رسول اللہ ﷺنے اپنی نواسی کو اٹھاکر نماز پڑھی ہے ۔ یہ حدیث دیکھیں :
    عَنْ أَبِي قَتَادَةَ:أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِأَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ، فَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا وَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا؟(صحیح مسلم :1212)
    ترجمہ: حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی صاحبزادی زینب اور ابو العاص بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہما کی بیٹی امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اٹھا کر نماز پڑھ لیتے تھے ، جب آپ کھڑے ہوتے تو اسے اٹھا لیتے اور جب سجدہ کرتے تو اسے (زمین پر) بٹھا دیتے تھے ؟

    (26) ایک عورت بہت پریشان رہتی ہے کیونکہ اس کے شوہر کی آمدنی بہت کم ہے اور تنخواہ آتے ہی سارا پیسہ پہلے سے لئے ہوئے قرض میں صرف ہوجاتا ہے ایسے میں عورت کیا کرے ؟
    جواب : عورت کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اللہ تعالی سے روزی میں برکت اور کشادگی کی دعا کرے وہ مسبب الاسباب ہے ساری پریشانی دور کردے گا۔ ساتھ ہی اپنے عملوں کا محاسبہ کرے کہ وہ صلاۃ وصوم کا پابند ہے کہ نہیں یا نافرمانی والی زندگی گزار رہی ہے ؟ صبرو قناعت کو اپنائے، ضرورتیں کم کرے اور مال کو جائز مصرف میں خرچ کرے ۔ ان شاء اللہ پریشانی دور ہوگی ۔

    (27) بچے کو عورت کب تک دودھ پلا سکتی ہے دلیل کے ساتھ بتائیں۔
    جواب : مدت رضاعت مکمل دوسال ہے ، اللہ کا فرمان ہے :
    وَالوَالِدَاتُ یُر ضِعنَ أولاَدَہُنَّ حَو لَینِ کَامِلَینِ لِمَن أرَادَ أن یُتِمَّ الرَّضَاعَةَ (البقرة:233 )
    ترجمہ : اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں یہ (حکم) اُس شخص کےلئے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے۔

    (28) عورت جنابت كى حالت میں غسل كو كتنى دير تک اورکن وجوہات پر مؤخر (delay) كر سکتی ہے ؟
    جواب : عورت غسل جنابت کو بغیر کسی وجہ کے مؤخر کرسکتی ہے ۔ غضیف بن حارث کہتے ہیں:
    قلتُ لعائشةَ أرأيتِ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ كانَ يغتسلُ منَ الجَنابةِ في أوَّلِ اللَّيلِ أو في آخرِهِ قالت ربَّما اغتسَلَ في أوَّلِ اللَّيلِ وربَّما اغتسلَ في آخرِهِ(صحيح أبي داود:226)
    ترجمہ: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ ارشاد فرمائیے ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت رات کے ابتدائی حصے میں کر لیتے تھے یا آخر رات میں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ بعض اوقات ابتدائے رات میں کرتے تھے اور بعض اوقات رات کے آخری حصے میں -
    اس حدیث سے دلیل ملتی ہے کہ عشاء کے بعد سے لیکر فجر سے پہلے تک غسل مؤخر کرسکتے ہیں یعنی ایک نماز سے دوسری نماز کے وقت تک مؤخر کرسکتے ہیں خواہ دن ہو یا رات مگر جنبی حالت میں نماز کا وقت ضائع کردینا یہ جائز نہیں ہے۔

    (29) ایک بہن کا سوال ہے کہ مجھے ظہر کے وقت روزانہ کہیں جانا ہوتا ہے کیا ظہر کے ساتھ عصر کی نماز پڑھ سکتے ہیں جبکہ واپسی پر وہ نماز قضا ہو جاتی ہے ۔
    جواب : اللہ تعالی نے پانچ وقت کی نمازوں کو اپنے وقتوں میں ادا کرنا فرض قرار دیا ہے لہذا کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ کام کاج کی وجہ سے دونمازوں کو اکٹھا کرکے پڑھے ۔ اسلامی بہن کو چاہئے کہ ظہر کے وقت ظہر کی نماز ادا کرے اور کام کے لئے باہر جانا ہو تو چلی جائے اور جہاں عصر کی نماز کا وقت ہوجائے وہاں عصر کی نماز پڑھے ۔ عصر کی نماز کا وقت ظہر کی نماز کا وقت ختم ہونے سے شروع ہوتا ہے یعنی جب ہرچیز کا سایہ اس کے مثل ہوجائے تو عصر کا وقت شروع ہوتا ہے اور سورج ڈوبنے تک رہتا ہے اس دوران کبھی بھی عصر کی نماز ادا کرسکتی ہے ویسے اول وقت میں ادا کرنا افضل ہے ۔ کبھی کبھار مقیم آدمی بغیر عذر کے دونماز اکٹھی کرلے تو اس کی گنجائش ہے جیساکہ نبی ﷺنے بغیر خوف وبارش کے دونمازوں کو جمع کیا مگر اسے عادت نہیں بناسکتے ۔

    (30) میں نے کسی لڑکی سے زنا کیا تھا جسکی شادی ہوچکی ہے،اس زانیہ سے ایک لڑکی ہوئی اس لڑکی کی عمراس وقت 19، 20 سال ہے میں نے اس کی شادی طے کی ہے کیا میں اس(بنت الزنا) کا ولی بن سکتا ہوں؟
    جواب : اسلام میں زنا کرنے والے کی بڑی سخت سزا ہے اے کاش!آج ہمیں اسلامی خلافت نصیب ہوتی تو زنا اس قدر عام نہ ہوتا ۔ آپ کو اللہ تعالی سے روروکر خوب خوب سچی توبہ کرنا چاہئے تاآنکہ یہ یقین ہوجائے کہ قہار نے مجھے معاف کردیا ۔ جہاں تک بنت الزنا کا معاملہ ہے تو یہ ماں کی طرف منسوب ہوگی اس لئے آپ اس کے ولی نہیں بن سکتے ، مسلمانوں کا حاکم یاکوئی دوسرا ذمہ دارومتقی آدمی ولی بن سکتا ہے۔

    (31)کیا داڑھی میں عطر لگانا سنت ہے ؟
    جواب : ہاں ، داڑھی میں عطر لگانا سنت ہے ، نبی ﷺ سر اور داڑھی میں عطر لگایا کرتے تھے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
    كنتُ أُطَيِّبُ النبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم بأطيَبِ ما يجِدُ، حتى أجِدَ وَبيصَ الطِّيبِ في رأسِه ولحيتِه(صحيح البخاري:5923)
    ترجمہ: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے عمدہ خوشبو لگایا کرتی تھی، یہاں تک کہ خوشبو کی چمک میں آپ کے سر اور آپ کی داڑھی میں دیکھتی تھی۔

    (32)کیا جادو کے ذریعہ تقدیر ٹل سکتی ہے؟
    جواب : اللہ تعالی نے ہماری تقدیر لکھ دی ہے اسے کوئی چیز نہیں ٹال سکتی ، جادو بھی نہیں ،ہاں کچھ تقدیریں اسباب کے تحت معلق ہوتی ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے وہ دعاؤں سے ٹل جاتی ہیں ۔یہ سچ ہے کہ جادو سے لوگوں کو نفع ونقصان پہنچایا جاتا ہے مگر یہ تقدیر پر اثر انداز نہیں ہوتا کیونکہ تقدیر لکھی جاچکی ہے ۔ جہاں تک جادو کے ذریعہ تاثیر پیدا ہونے کا مسئلہ ہے تو یہ اللہ کے حکم کے بغیر ممکن ہی نہیں ۔ اللہ کا فرمان ہے :
    وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ(البقرۃ: 102)
    ترجمہ: دراصل وہ بغیر اللہ تعالی کی مرضی کے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے ۔
    تو جادو کے ذریعہ کسی کو نفع یا نقصان پہنچانا اللہ کے حکم کے بغیر نہیں ہوتا اور اللہ نے ہرنفع ونقصان کو لکھ دیا ہے ۔

    (33) کیا جنات بھی قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اگر کرتے ہیں تو کیاوہ آیۃ الکرسی کی تلاوت نہیں کرتے ؟
    جواب : قرآن کی ایک مکمل سورت ہی جن کے نام سے موسوم ہے جس کی ابتدائی آیات سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے نبی ﷺ سے قرآن سنا انہیں پسند آیا اور وہ ایمان لے آئے ۔ قرآن میں دوسری جگہ مذکور ہے اللہ کہتا ہے میں نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ۔ ان دو قسم کی آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی طرح جنات بھی قرآن پر عمل کرنے کے مکلف ہیں تو جنات میں جو مومن ہیں وہ قرآن کی تلاوت کرتےہیں اوروہ یقیناآیۃ الکرسی بھی پڑھتے ہوں گے مگر جو سرکش اور کافر ہیں وہ قرآن سے دور ہوں گے بلکہ جب جب قرآن کی آیت سنیں گے بھاگا کریں گے ۔

    (34) جینس پیٹ کا کاروبار کرنا کیسا ہے جبکہ اسے لڑکیا ں بھی پہنتی ہیں ، بعض جینس چست اور بعض فیشن والا ہوتا ہے ،اسے عام طور سے ٹخنہ سے نیچے لٹکاکر پہناجاتا ہےان حالات میں ایک مسلمان کا ریڈی میڈ جینس پینٹ کا کاروبار کرنا کیسا ہے ؟
    جواب : ہروہ لباس جس کا پہننا جائز ہے اس کا کاروبار بھی جائز ہے اس لحاظ سے جینس پینٹ کا کاروبار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہےاس شرط کے ساتھ کہ یہ لباس ڈھیلا اور ساتر ہو البتہ لڑکیوں والا جینس جس میں مردوں سے مشابہت ہے یا بہت چست یعنی ساتر نہیں ہے یا پھروہ جینس جس میں بدقماشوں کی نقالی اور فیشن ہے اس سے پرہیز کرے کیونکہ ایسا پینٹ بیچنے سے گناہ کے کام پر تعاون ہورہا ہے ۔ اور جو لوگ ٹخنہ سے نیچے لباس پہنتے ہیں اس میں بیچنے والے کا کوئی قصور نہیں ہے پہننے والے کے ذمہ سارا گناہ ہے ۔

    (35) کیاسجدہ تلاوت کے لئے تکبیر کہنا ہے یا بغیر تکبیر کے سجدہ میں چلے جانا ہے؟
    جواب : سجدہ تلاوت کے لئے تکبیر کہنا چاہئے اور سجدہ میں جاکر سجدہ تلاوت کی دعا پڑھنی چاہئے اور سر اٹھاتے وقت تکبیر کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

    (36) میں نے ایک حدیث پڑھی ہے جس میں گھڑے میں منہ لگا کر پانی پینا منع ہے تو اس حدیث کی رو سے بوتل وغیرہ میں منہ لگاکر پانی پینا کیسا ہے جبکہ یہ اس وقت بہت عام ہے؟
    جواب : ہاں یہ حدیث صحیح ہے کہ مشک سے منہ لگاکر پانی پینا منع کیا گیا ہے ۔
    وعن ابن عباس قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الشرب من قي السقاء(صحيح البخاری :5629 )
    ترجمہ:اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے دھانے سے پانی پینے سے منع فرمایا ہے ۔
    اس کے ساتھ ہی ایک صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے بذات خود مشکیزے میں منہ لگاکر پانی پیا۔
    کبشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:
    دخلَ عليَّ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ فشرِبَ من في قربةٍ معلَّقةٍ قائمًا فقمتُ إلى فيها فقطعتُهُ(صحيح الترمذي:1892)
    رسول اللہﷺ میرے گھرتشریف لائے ، آپ نے ایک لٹکی ہوئی مشکیزہ کے منہ سے کھڑے ہوکر پانی پیا ، پھر میں مشکیزہ کے منہ کے پاس گئی اور اس کو کاٹ لیا.
    ان دونوں حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ پانی کا کوئی بھی برتن ہو اگر منہ لگاکرپینا آسان ہو، اس کا حجم بڑا نہ ہویااس کا دہانہ کشادہ نہ ہوجس سے منہ میں مقدار سے زیادہ پانی جانے کا خطرہ ہوتو برتن سے منہ لگاکر پیاجاسکتا ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    آپ کے سوالات اور ہمارے جوابات​

    جوابات از شیخ مقبول احمد سلفی

    سوال (1) : کبھی کبھی ساتھ میں حسن المسلم نام کی دعا کی کتاب ہوتی ہے اور مجھے حمام جانا ہوتا ہے تو کیا میں اس کتاب کو جیب میں رکھ کر حمام جاسکتا ہوں ؟
    جواب : اگر حمام جاتے وقت ساتھ میں ایسا کوئی ورق ہو جس میں اللہ کا نام درج ہو تو اسے باہر رکھ دے زیادہ بہتر ہے لیکن اگر اسے کپڑا یا جیب کے اندر چھپا لیتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے، اصحاب سنن سے مروی نبی ﷺ کا حمام جاتے وقت انگوٹھی نکالنے والی حدیث ثابت نہیں ہے ۔ امام احمد کہتے ہیں کہ اگر کسی کی انگوٹھی پر اللہ کا نام لکھا ہو اور اسے گھماکر باطنی ہتھیلی کی طرف کرلے تو حمام میں داخل ہوسکتا ہے (بحوالہ المغنی لابن القدامہ) اور شیخ ابن عثیمین ؒ کے فتاوی ورسال میں مذکور ہے کہ ایسے ارواق جس پر اللہ کا نام لکھا ہو انہیں ظاہر نہ کیا جائے بلکہ جیب میں چھپالیا جائے تو حمام میں داخل ہونا جائز ہے ۔ یہ تو ورق کا مسئلہ ہے اگر احادیث یا دعاؤں کی کتاب ہو یا مصحف ہو تو اسے کبھی بھی کسی صورت میں حمام میں لے کر داخل نہیں ہونا چاہئے ۔

    سوال(2): کیا رجم (سنگسار ) کا حکم اب بھی باقی ہے یا ختم ہوگیا کیونکہ میں نے ایک مضمون پڑھا جس میں لکھا تھا کہ رجم کا حکم پہلے تھا پھر منسوخ ہوگیا؟
    جواب : اللہ کی طرف سے نبی ﷺ پر آیت رجم نازل ہوئی ، وہ آیت یہ ہے۔
    الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ نَكَالًا مِنَ اللهِ وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ۔
    ترجمہ:جب کوئی(شادی شدہ )مردوعورت زنا کریں تو انہیں لازمی طورپر رجم کرو، یہ اللہ کی طرف سے بطور سزا ہےاور اللہ رب العزت بہت غالب اور بہت حکمت والے ہیں۔
    یہ آیت تحریری شکل میں قرآن میں موجود نہیں ہے البتہ اس کا حکم ابھی بھی باقی ہے۔ اس کے بے شمار دلائل ہیں صرف ایک دلیل دینے پر اکتفا کرتا ہوں جو اس باب میں کافی شافی ہوگا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
    أنَّ عمرَ -يعني ابنَ الخطَّابِ رضيَ اللَّهُ عنهُ- خطبَ فقالَ: إنَّ اللَّهَ بعثَ محمَّدًا بالحقِّ، وأنزلَ عليهِ الكتابَ، فَكانَ فيما أُنزِلَ عليهِ آيةُ الرَّجمِ، فقرأناها ووَعيناها، ورجمَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ، ورجمنا من بعدِهِ، وإنِّي خشيتُ إن طالَ بالنَّاسِ الزَّمانُ أن يقولَ قائلٌ: ما نجدُ آيةَ الرَّجمِ في كتابِ اللَّهِ، فيَضلُّوا بتركِ فريضةٍ أنزلَها اللَّهُ تعالى، فالرَّجمُ حقٌّ على مَن زنى منَ الرِّجالِ والنِّساءِ إذا كانَ مُحصنًا إذا قامَتِ البيِّنةُ، أو كانَ حَملٌ أوِ اعترافٌ، وايمُ اللَّهِ لولا أن يقولَ النَّاسُ زادَ عمرُ في كتابِ اللَّهِ عزَّ وجلَّ لَكَتبتُها(صحيح أبي داود:4418)
    ترجمہ: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا : تحقیق اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور ان پر اپنی کتاب نازل کی ۔ اس نازل کردہ ( کتاب ) میں رجم کی آیت بھی تھی ۔ ہم نے اسے پڑھا اور یاد کیا ہے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا ہے اور ان کے بعد ہم نے بھی رجم کیا ہے ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کوئی یہ نہ کہنے لگے کہ رجم والی آیت ہم کتاب اللہ میں نہیں پاتے ہیں ‘ اس طرح وہ اللہ کے نازل کردہ فریضہ کو ترک کر کے گمراہ نہ ہو جائیں ۔ پس جس کسی مرد یا عورت نے زنا کیا ہو اور وہ شادی شدہ ہو اور گواہی ثابت ہو جائے یا حمل ہو یا اعتراف ہو ‘ تو اس پر رجم حق ہے ۔ اللہ کی قسم ! اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ کہیں گے کہ عمر نے اللہ کی کتاب میں اضافہ کر دیا ہے تو میں اس آیت کو کتاب اللہ میں درج کر دیتا ۔
    اس حدیث سے صاف معلوم ہوگیا کہ رجم کا حکم باقی ہے ، نبی ﷺ نے آخری عمر تک زانی کو رجم کیا پھر اس کے بعد صحابہ کے زمانہ میں رجم ہوا حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ لوگ بعد میں رجم کے حکم میں شک کرنے لگے ہیں اوریہی ہوا۔جان لیں قرآن وحدیث میں وہی شک کرتا ہے جس کے ایمان میں خلل ہو۔

    سوال(3): گائے میں عقیقہ دینا شرعا کیسا ہے ؟
    جواب : جس طرح اللہ تعالی نے قربانی کے متعلق جانور کی تفصیل ذکر کردی ویسے ہی نبی ﷺ سے عقیقہ کے متعلق جانور کی صراحت موجود ہے ۔ عقیقہ کے لئے صحیح احادیث میں بکری، مینڈھا اور دنبہ کا ذکر ملتا ہے باوجودیکہ گائے اور اونٹ موجود تھے ۔ عقیقہ (قربانی) عبادت ہے اور عبادت توقیفی ہوتی ہے ، اس کے لئے نص چاہئے ۔ لہذا عقیقہ کے جانور کے لئے جو نص ملتا ہے ہمیں انہیں جانور سے عقیقہ دینا چاہئے ۔
    بعض لوگوں نے بڑے جانور مثلا گائے ، بیل ، اونٹ وغیرہ سے عقیقہ دینا جائز کہا ہے ۔ اگر بڑے جانور میں عقیقہ کا جواز تسلیم کیا جاتا ہے تو ایک بہت بڑا احتمال کھڑا ہوجاتا ہے وہ یہ کہ اگر گائے کا عقیقہ مانتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس میں ایک حصہ ہوگا یا قربانی کی طرح سات حصے ہوں گے ؟۔
    جواز کے قائلین میں سے بعض نے ایک حصہ کہا اور بعض نے سات حصہ کہا۔ چونکہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں جن کو جو مناسب لگا حکم دے دیا اور یہ معلوم ہے قربانی و عقیقہ عبادت توقیفی ہے اس میں بغیر دلیل کے کچھ کہنا صحیح نہیں ہے ۔
    لہذا منصوص جانور سے ہی عقیقہ کرے یہی احوط واولی ہے ۔ جن روایات میں اونٹ اور گائے کا عقیقہ مذکور ہے وہ ضعیف ہیں، ان سے استدلال نہیں کیاجائے گا۔

    سوال(4): مجھے دھات گرتا ہے ایسی صورت میں وضو کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : دھات منی گرنے کو کہتے ہیں جو عام طور سے پیشاب سے پہلے یا بعد میں گرتا ہے اسے جریان بھی کہتے ہیں ۔ اس کی وجہ پیٹ کی خرابی ہے ۔ جسے جریان آئے تو ہر نماز سے پہلے کپڑے میں لگے اور شرمگاہ میں لگے دھات صاف کرلے اور پھر وضو بنا کر نماز ادا کرے یعنی ہرنماز کے وقت ایسا ہی کیا کرے ۔

    سوال(5): میرے گھر میں بچوں کے نام انیس الرحمن، عتیق الرحمن ، خلیل الرحمن ، یونس الرحمن اور توصیف الرحمن وغیرہ ہے کسی نے بتلایا ہے کہ رحمن کے ساتھ عبد یا عباد یا عبید لگا سکتے ہیں دوسرے الفاظ نہیں اس بات کی کیا حقیقت ہے ؟
    جواب : بہتر تو یہی ہے کہ اسمائے حسنی کی طرف عبدیت کا انتساب کرکے نام رکھا جائے لیکن اگر کوئی اسمائے حسنی سے پہلے ایسا لفظ لگا تا ہے جس سے اللہ کی ذات وصفات میں کوئی نقص نہیں پیدا ہوتا یعنی معنوی اعتبار سے لفظ کا انتساب درست ہو تو اس قسم کا نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے جیساکہ سوال میں مذکور چنداسماء ہیں۔

    سوال(6): فاتحہ کئے ہوئے کھانا کو کھانا کیسا ہے ؟
    جواب : یہاں اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ فاتحہ کیا ہوا کھانا کس قسم کا ہے؟ کیا غیر اللہ کی نذرونیاز ہے اور کیا یہ فقراء ومساکین میں تقسیم کرنے کے لئے صدقہ ہے ؟ اگر اس قسم کا کھانا ہے تومعلوم ہو کہ غیراللہ والی نیاز بالکل حرام ہے البتہ فقراء کی نیت سے ہو توفقیر کھاسکتا ہے مالدار نہیں اور عام کھانا ہو توبھی نہ کھائے بلکہ فاتحہ خوانی کے ہرکھانے سے بچنا بہتر واولی ہے کیونکہ یہ بدعتی رسم ہے اس کے کھانے سے بدعتی کو شہ ملے گا اور بدعتی کام پر تعاون ہوگا۔

    سوال(7): غیرمحرم مرد، عورت کے جنازہ کو کندھا دے سکتا ہے کہ نہیں اور اسی طرح قبر میں اتارنے کا مسئلہ بتائیں ؟
    جواب : عورت کی لاش تابوت پر ہوتی ہے اور تابوت کو کوئی بھی مرد کندھا دے سکتا ہے البتہ بہتر ہے قبر میں اس کا محرم اتارے اور محرم نہیں تو معمر آدمی اتارے ۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
    شَهِدْنَا بِنْتًا لرسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ ، قال : ورسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ جالسٌ على القبرِ ، قال : فرأيتُ عيناهُ تدمعانِ ، قال : فقال : هل منكم رجلٌ لم يُقَارِفِ الليلةَ . فقال أبو طلحةَ : أنا ، قال : فانْزِلْ . قال : فنزَلَ في قَبْرِهَا .( صحيح البخاري:1285)
    ترجمہ: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی کے جنازہ میں حاضر تھے۔ آپ قبر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئی تھیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا۔ کیا تم میں کوئی ایسا شخص بھی ہے کہ جو آج کی رات عورت کے پاس نہ گیا ہو۔ اس پر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ہوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر قبر میں تم اترو۔ چنانچہ وہ ان کی قبر میں اترے۔

    سوال(8): کپڑے پہ بنی ایسی ذی روح تصویر کا کیا حکم ہے جس کا سر پیر تو واضح ہے مگر کان، ناک، آنکھ وغیرہ واضح نہیں ہیں؟
    جواب : ایسی تصویر جو ناقص ہو مثلا سر نہ ہو یا سر بنا ہو مگر اس میں کان ،ناک، منہ اور آنکھ نہ بنے ہوں یا پیر نہ ہو یا ہاتھ نہ ہو تو ایسی تصویر حرمت والی حدیث میں داخل نہیں ہے ۔ایسا ہی ایک معنی علماء بیان کرتے ہیں اس حدیث کا جس میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گڑیا کا ذکر ہے ۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جو تصویر واضح نہ ہو یعنی اس میں آنکھ ، ناک ، منہ اور انگلیاں نہ ہوں تو یہ مکمل تصویر نہیں ہے اور اس میں اللہ کی تخلیق کی مشابہت نہیں پائی جاتی ۔

    سوال(9): شادی سے پہلے منگیتر سے بات کرنا کیسا ہے ؟
    جواب : شادی سے پہلے منگیتر کو دیکھنا جائز ہے ۔ ابوھریرہ رضي اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
    كنتُ عند النبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ . فأتاه رجلٌ فأخبره أنه تزوَّج امرأةً من الأنصارِ . فقال له رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ : " أَنظَرْتَ إليها ؟ " قال : لا . قال : " فاذهبْ فانظُرْ إليها . فإنَّ في أعيُنِ الأنصارِ شيئًا (صحيح مسلم:1424)
    ترجمہ:میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا توایک شخص نبی صلی اللہ علیہ کے پاس آیا اور کہنے لگا میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے فرمانے لگے۔ کیا تم اسے دیکھا ہے ؟ وہ کہنے لگا نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جاؤ اسے جاکر دیکھو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے ۔
    جب منگنی ہوجائے تو پھر باربار لڑکی کو دیکھنا، اس سے خلوت کرنا یا اس سے موبائل کے ذریعہ بات کرنا جائز نہیں ہے ۔ بہت سارے گھروالوں کو اس سلسلہ میں غافل دیکھتا ہوں وہ اپنی بیٹی کو کھلی چھوٹ دیتے ہیں ،نتیجتاوہ اپنے ہونے والے شوہر کے ساتھ گھومتی ہے ، برابر فون پر بات کرتی ہے جب کہ اسلام میں یہ جائز نہیں ہے اس لئے جہاں لڑکا اور لڑکی کو شادی سے پہلے ایک دوسرے سے خلوت ورابطہ سے بچنا چاہئے ویسے ہی گھر والے بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کریں۔ بعض گھر والے سوچتے ہیں کہ اگر بات کرنے اور ملنے جلنے سے منع کیا جائے تو شادی ٹوٹ سکتی ہے ۔ ایسے لوگو ں کو بندوں سے خوف نہیں کھانا چاہئے بلکہ اللہ سے خوف کھانا چاہئے جس نے ہرکسی کا رشتہ بنایا ہے کہ کہیں اس کی ناراضگی کا کام کرنے سے وہ ناراض نہ ہوجائے اور شادی نہ ٹوٹ جائے ۔

    سوال (10) : کیا مشت زنی سے غسل واجب ہوجاتا ہے اور بغیر غسل کے پڑھی نماز کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : کسی بھی طرح سے منی خارج کرنے سے غسل واجب ہوجاتا ہے ، مشت زنی سے بھی غسل واجب ہوجاتا ہے۔ایسے کام کرنے والوں کو اللہ کا خوف کھانا چاہئے اور جس طرح سے منی خارج کرنا اللہ نے حلال کیا ہے بس وہی طریقہ اختیار کرنا چاہئے ۔ بغیر غسل کے پڑھی گئی نماز لوٹانی پڑے گی کیونکہ اس نے بغیر طہارت کے نماز پڑھی اور بغیر طہارت ادا کی گئی نماز نہیں ہوتی۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    لا تُقبلُ صلاةٌ بغيرِ طُهورٍولا صدقةٌ من غُلولٍ(صحيح مسلم:224)
    ترجمہ: نماز پاکیزگی کے بغیر قبول نہیں ہوتی اور صدقہ ناجائز طریقے سے حاصل کیے ہوئے مال سے قبول نہیں ہوتا۔

    سوال( 11): ضعیف حدیث کا کیا مطلب ہے اور کیا ضعیف حدیث پر عمل نہیں کیا جائے گا نیز حدیث میں ضعیف وصحیح کا فرق کرنے والے کون لوگ ہیں ؟
    جواب : پہلے حدیث کی تعریف سمجھ لیں ، حدیث کہتے ہیں ہروہ قول یا عمل یا تقریر یا وصف جس کی نسبت اللہ کے رسول ﷺ کی طرف کی گئی ۔اب اگر نسبت صحیح ہے تو حدیث صحیح ہوگی اور نسبت کمزور ہے تو حدیث ضعیف ہوگی ۔ اس نسبت کی ضرورت اس لئے پڑی کہ بہت ساری جھوٹی باتیں نبی ﷺ کی طرف منسوب کی جانے لگیں لوگ ان جھوٹی باتوں کو نبی کا فرمان سمجھنے لگے ۔ ظاہر سی بات ہے فرمان رسول ،وحی الہی ہے غیرمحقق اورجھوٹی نسبت والی حدیث پرکیسے عمل کیا جائے گا؟ محدثین نے ہزارہا کوشش کرکے حدیث کی جانچ پرکھ کے اصول وضع کئے جن کی بنیاد پر محدثین ہی صحیح اور ضعیف میں فرق کرتے ہیں ، اس فرق کو اصول حدیث کی جانکاری رکھنے والا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے۔

    سوال (12): کیا میں اپنی ساس کو احتراما امی کہہ کر پکار سکتا ہوں ؟
    جواب : برصغیر ہندوپاک میں ساس وسسر کو ماں باپ کہہ کر پکارا جاتا ہے یہ احترام کی حد تک درست ہے جبکہ نسبت کا دعوی نہ پایا جائے ۔

    سوال (13): بال رکھنے میں کیا سنت ہے یعنی میں اگر سر کے بال بغل سے چھوٹے اور درمیان میں بڑے رکھوں تو کوئی حرج ہے جسے فوجی کٹ کہتے ہیں ؟
    جواب : بال رکھنے میں حدیث سے تین اقسام معلوم ہوتی ہیں ۔ پہلی قسم کان کے درمیان تک ، دوسری قسم کان کی لو تک اور تیسری قسم کان کی لو اور کندھے کے اوپر تک ۔ ان تینوں قسموں میں سے کسی قسم کا بال رکھ سکتے ہیں ۔ اکثر مرد حضرات چھوٹا بال رکھنا پسند کرتے ہیں اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ،چھوٹا بال رکھیں مگر پورے سر میں برابر اور ساتھ میں دو باتوں کا بھی خیال کریں ۔ بالوں میں کسی قوم کی مشابہت یا کسی قسم کا فیشن نہ اختیار کریں اور نہ ہی سر کے کچھ حصے سے بال کاٹیں اور کچھ حصے کو چھوڑ دیں ۔

    سوال (14): ایسا گدا جو نرم ملائم اور اونچا ہو اس پر نماز پڑھنا جائز ہے کہ نہیں ؟
    جواب : گرمی وسردی یا دھول مٹی سے بچنے کے لئے قالین ، چٹائی اور ہلکے گدے پر نماز پڑھنا جائز ہے ۔ نبی ﷺ سے چٹائی پر نماز پڑھنااور صحابہ کرام کا اپنے دامن پر سجدہ کرنا صحیح بخاری میں مذکور ہے۔ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:كان النبيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي على الخُمْرَةِ (صحيح البخاري:381)
    ترجمہ: رسول اللہﷺ کھجور کی چٹائی پر نماز پڑھتے تھے۔
    حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:كنا نُصلي مع النبيِّ صلى الله عليه وسلم ، فيضعُ أحدُنا طَرَفَ الثوبِ ، من شدةِ الحرِّ ، في مكان السجودِ.(صحيح البخاري:385)
    ترجمہ: ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم میں سے ہر آدمی گرمی سے بچنے کے لیے اپنے کپڑے کے دامن پر سجدہ کرتا۔
    زیادہ اونچے اور اسفنج کے موٹے گدا سے پرہیز کرے یعنی خفیف قسم کا گدا استعمال کرے جس پر سجدہ کرنے سے پیشانی کو زمین پر استقرار ہو۔

    سوال (15) : کیا خوشبو کا تعلق جنات ہے کیونکہ میں نے سنا ہے جو لوگ خوشبو لگاتے ہیں انہیں جنات پکڑ لیتے ہیں؟
    جواب : خوشبو کا تعلق ہرگز سرکش جن سے نہیں ہے وہ تو بدبو والی جگہ پر رہتا ہے اسے بدبو پسند ہے اور لوگوں میں جو یہ مشہور ہے کہ خوشبو لگانے سے شیطان پکڑ لیتا ہے غلط ہے ،خوشبو لگانا سنت رسول اللہ ﷺ ہے بھلا سنت پر عمل کرنے سے شیطان کیوں پکڑے گا ۔ شیطان تو اسے پکڑتا ہے جس کا بدن مہکتا ہے ،جو ذکر الہی اور سنت رسول اللہ سے دور ہو ۔ اگر آپ شیطان سے بچنا چاہتے ہیں تو اللہ کی عبادت کریں، صبح وشام اس کا ذکر کریں اور سنت کے مطابق زندگی گزاریں ۔ جو اس سے عاری ہو وہ خوشبو لگائے یا بدبو شیطان کے شکنجے سے بچنا مشکل ہے ۔

    سوال (16): ہماری کوئی چیز گم ہوجائے تو کون سا ایسا وظیفہ پڑھا جائے کہ وہ چیز مل جائے ؟
    جواب : جب کسی کا کوئی سامان گم ہوجاتا ہے تواسے اس کی حصولیابی کے متعدد طریقے بتلائے جاتے ہیں ، مختلف اوراد ووظائف کا اہتمام کیا جاتا ہے اور بسااوقات عاملین حضرات معصوم آدمی پر الزام بھی لگادیتے ہیں کیونکہ انہیں کسی طرح اپنی فیس حلال کرنی ہوتی ہے۔ مسلمانوں کو سچی بات بتلاتا ہوں کہ نبی ﷺ نےاپنی امت کو گم شدہ چیز کی معلومات کے لئے کوئی مخصوص طریقہ یا وظیفہ نہیں بتلایا ہے جو لوگ چور پکڑنے یا گم شدہ مال برآمد کرنے کے لئے مخصوص ذکر و وظیفہ پڑھتے ہیں وہ قرآن وحدیث کے خلاف کرتے ہیں ۔ اس کام کے لئے جنات سے مدد لینے والے عاملین کے پاس جانا بھی گناہ کا باعث ہے ۔ آپ اللہ سے عمومی دعائیں کرسکتے ہیں جس طرح مصیبت دور کرنے کی دعا مانگتےہیں اسی طرح سامان کی واپسی کی دعا مانگیں ،اللہ نے چاہا تو گم شدہ سامان واپس ہوجائے گا یا سرکاری قانون کے ذریعہ چوری کا پتہ لگائیں مگر کوئی وظیفہ ہزار یا لاکھ مرتبہ پڑھ کر یقین کرنا کہ میرا سامان ہرحال میں واپس آجائے گا سوفیصد غلط ہے اور ایسی تعلیم دینے والا عامل نرا جاہل ہے۔ طبرانی ، بیہقی اور مصنف ابن ابی شیبہ وغیرہ میں گم شدہ سامان کی واپسی کی ایک دعا آئی ہے وہ ضعیف ہے۔

    سوال(17): رکوع کے بعدسینے پر ہاتھ باندھنا ثابت ہے ؟
    جواب : عبادت توفیقی ہے اس باب میں ہرعمل کے لئے سنت سے دلیل چاہئے ۔ رکوع سے پہلے سینے پر ہاتھ باندھنے کی دلیل ہے جبکہ رکوع کے بعد سینے پر ہاتھ باندھنے کی دلیل نہیں ہے اس لئے رکوع کے بعد ہاتھ نہیں باندھا جائے گا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پہلے والوں کے یہاں رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کا عمل نہیں پایا جاتا حتی کہ کتابوں میں اس عمل کا کوئی ذکر تک نہیں ہے۔ شیخ البانی ؒ نے تو اس عمل کو بدعت قرار دیا ہے۔

    سوال(18): میں ایک مسئلہ کو چند عالموں سے پوچھتا ہوں تو بسااوقات جواب مختلف قسم کا ہوتا ہے ایسے میں ایک عام آدمی کیا کرے ؟ کیا کسی ایک عالم پر بھروسہ کرلے ؟
    جواب : بعض مسائل میں شریعت کی طرف سے وسعت ہوتی ہے وہاں وسعت پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ وہ مسائل میں جن میں وسعت کی گنجائش نہیں پھر بھی اس میں علمائے کے درمیان اختلاف پایا جاتاہو تو اختلاف کو قرآ ن وحدیث کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا جیساکہ اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے اور جن کے پاس قوی دلیل ہو اسے اختیار کیا جائے گا ۔

    سوال(19): ایک بیوہ خاتون کے دو بچے ہیں اس عورت نے دوسرے مرد سے شادی کرلی ہے کیا اس کے پہلے والے بچوں کو یہ شوہر اپنا نام دے سکتا ہے ؟
    جواب : رشتہ میں تو وہ بچوں کا سوتیلا باپ ہی کہلائے گا مگر وہ انہیں اپنا نام نہیں دے سکتا کیونکہ اللہ کا حکم ہے بچوں کو ان کے باپ کے نام کے ساتھ پکارا جائے ۔

    سوال(20): کیا والدین شادی شدہ اولاد کو زکوہ دے سکتے ہیں یا شادی شدہ اولاد اپنے والدین کو زکوۃ دے سکتی ہے؟
    جواب : ماں کا معاملہ الگ ہے ،وہ بلاجھجھک اپنی محتاج اولاد کو زکوۃ دے سکتی ہے البتہ باپ صرف اس صورت میں اولاد کو زکوۃ دے سکتا ہے جب اولاد زکوۃ کا مستحق ہو اور زکوۃ کے علاوہ مال سے مدد کرنے کا ذریعہ باپ کے پاس نہ ہو۔اسی طرح اولاد بھی والدین کو اسی قسم کی اضطراری حالت میں زکوۃ دے سکتا جب وہ فقراء میں سے ہوں اور اولاد کے پاس اصل مال سے دینے کے لئے نہ ہو ۔ یہاں یہ عام قاعدہ ذہن نشیں رکھیں کہ جس پر نفقہ دینا واجب ہے وہ زکوۃ نہیں دے سکتا ہے یعنی نہ باپ اولاد کو ،نہ اولاد والدین کو زکوۃ دے گا سوائے اوپر مذکور مخصوص صورت حال کے۔

    سوال (21) : میں عمرہ کے لئے آیا تھا حرم کے باہری صحن میں داخل ہواتو ظہر کی نماز شروع تھی میں نے رکعت چھوٹنے کے خوف سے صف سے دور اکیلے ہی جماعت کی متابعت میں ظہر کی نماز ادا کرلی کیا میری یہ نماز درست ہے ؟
    جواب : صف کے پیچھے اکیلے شخص کی نماز نہیں ہوتی سوائے اس صورت کے جب اگلی صف میں داخل ہونے کی گنجائش نہ ہو۔ مذکورہ بالا صورت میں ظہر کی نماز نہیں ہوئی ،آپ کو یہ نماز دہرانی پڑے گی، اس کی دلیل یہ ہے۔ سیدنا علی بن شیبان رضی اللہ عنہ جو ایک وفد میں شامل ہو کر تشریف لائے تھے ان سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:
    خرَجنا حتَّى قدِمنا علَى النَّبيِّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ، فَبايعناهُ، وصلَّينا خلفَهُ، ثمَّ صلَّينا وَراءَهُ صلاةً أُخرى، فقَضى الصَّلاةَ، فرأى رجلًا فَردًا يصلِّي خلفَ الصَّفِّ، قالَ: فوقَفَ عليهِ نبيُّ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ حينَ انصَرفَ قالَ: استقبِلْ صلاتَكَ، لا صلاةَ للَّذي خَلفَ الصَّفِّ(صحيح ابن ماجه:829)
    ترجمہ: ہم روانہ ہوئے یہاں تک کہ نبی ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوگئے اور آپ ﷺ کی بیعت کی۔ ہم نے آپ ﷺ کی اقتدا میں نماز ادا کی، پھر آپ کے پیچھے ایک اور نماز پڑھی۔ آپ نے نماز مکمل کی تو دیکھا کہ ایک آدمی صف کے پیچھے اکیلا کھڑا نماز پڑھ رہا ہے۔اللہ کے نبی ﷺ اس کے پاس گئے اور فرمایا: شروع سے نماز پڑھو۔ صف کے پیچھے اکیلا کھڑے ہونے والے کی کوئی نماز نہیں۔

    سوال(22): مجھے پیشاب کی بیماری ہے میں اپنے ساتھ ٹیسو پیپر رکھتا ہوں اور ہمیشہ شرمگاہ کی صفائی کرتا ہوں ہرفرض نماز کے لئے وضوکیا کرتا ہوں ،سوال یہ ہے کہ نوافل کیسے ادا کروں ؟
    جواب : ہر نماز کے وقت پہلے کپڑے اور شرمگاہ میں لگے پیشاب کو صاف کرلیں پھر وضو کریں اور نماز پڑھیں ۔ جو نوافل فرض نماز کے بعد ادا کرنا چاہتے ہیں اس کے لئے الگ سے وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن جو نوافل فرض نمازکے فورا بعدنہیں بلکہ دوسرے اوقات میں ادا کریں گے اس کے وضو کرلیا کریں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  10. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    ماہ ربیع الاول 1439 ھ کے سوال وجواب

    جواب از شیخ مقبول احمد سلفی

    سوال (1):جب کوئی کسی کا سلام لیکر آئے تو کیسے جواب دیں ؟
    جواب : صحیح احادیث میں مذکور کہ اللہ تعالی اور جبریل علیہ السلام نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو نبی کے واسطہ سے سلام بھیجا اس لئے کوئی آدمی دوسرے کی معرفت سلام بھیج سکتا ہے اس کے جواب میں کہاجائے گا" وعلیک وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ " ۔ سلام بھیجنے والی عورت ہو تو کہا جائے گا" وعلیک وعلیھا السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ "۔ اس پہ مدلل جواب میرے بلاگ پر"غائبانہ سلام کا جواب" کے عنوان سے تلاش کریں ۔

    سوال (2):ایک شادی شدہ عورت جسے ایک بچہ بھی ہے اس نے چوری چھپے ایک دوسرے مرد سے شادی کرلی دس دنوں بعداس عورت کو پولیس پکڑ کر لے گئی ، پہلے شوہر کے لئے کیا حکم ہے ؟
    جواب : کسی عورت کے لئے جائز نہیں ہے کہ اس کا شوہر موجود ہو اور وہ کسی دوسرے مرد سے شادی کرلے ۔ جیساکہ سوال میں مذکور ہے عورت نے دوسرے مرد سےچوری چھپے شادی کرلی تو یہ شادی نہیں ہے ۔ اس عورت کا دوسرے مرد کے ساتھ رہنا زنا شمار ہوگا اور اس کی پاداش میں اگر دونوں شادی شدہ ہوں تو سنگسار کیا جائے گا۔افسوس اسلامی خلافت وعدالت نہ ہونے کی وجہ سے زنا کو فروغ مل رہاہے ۔
    زنا کے ارتکاب کے بعد بھی وہ عورت اب بھی پہلے والے مرد کی ہی بیوی ہے چاہے تو اسے رکھے یا طلاق دیدے ۔ یہاں مسلمان خاتون سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگر اسےاپنے شوہر سے کوئی شکایت ہے یا اس کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی تو نکاح فسخ کرلے اور دوسری جگہ شادی کرلے ۔یہ اسلامی طریقہ ہے اوراس میں خیر وبھلائی ہے۔

    سوال (3):ایک اجنبی مرد ایک اجنبی عورت کو راستہ چلتے کہیں سلام کرسکتا ہے ؟
    جواب : اسلام میں ایک دوسرے کو سلام کرنے کا حکم ہے جو محبت وسلامتی کا پیغام ہے۔ ایک مرد ،دوسرے مرد کو اور ایک عورت ،دوسری عورت کو سلام کرے حتی کہ مرد اپنی محرمات (عورت) سے بھی سلام کرسکتا ہے ۔ رہا مسئلہ اجنبی مرد کا اجنبی عورت کو سلام کرنے کا تو یہ اس وقت جائز ہوگا جب فتنے کا اندیشہ نہ ہو جیسے بوڑھی عورت کو سلام کرنا یا عورتوں کی جماعت پر سلام کرنا ۔اجنبی مرد کا جوان لڑکی یا خوبصورت عورت کو سلام کرنا جائز نہیں کیونکہ اس میں فتنہ کا اندیشہ ہے ۔ اگر کسی نے ایسی عورت کو سلام کرلیا تو جواب نہیں دینا چاہئے ۔

    سوال (4):کیا ہرماہ کے شر سے بچنے کی یہ دعا "اللھم انی اعوذبک من شر ھذا الشھر وشر القدر" (اسے اللہ میں تیری پناہ لیتا ہوں اس مہینہ کی برائی سے اور تقدیر کی برائی سے ) ثابت ہے ؟
    جواب : اس معنی کی کئی روایتیں وارد ہیں اور وہ چاند دیکھنے کے سلسلے میں آئی ہیں ان میں سے کوئی روایت صحیح نہیں ہے ، سب کی سب ضعیف ہیں ۔ مجمع الزوائد اور الجامع الصغیر وغیر ہ میں یہ دعا وارد ہے ۔
    "اللهمَّ إنِّي أسألُك مِن خيرِ هذا الشَّهرِ وخيرِ القَدَرِ وأعوذُ بك مِن شرِّه"
    ترجمہ: اے اللہ میں اس ماہ کی بھلائی اور تقدیر کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کے شر سے پناہ مانگتا ہوں ۔
    اسے شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے ۔(سلسلہ ضعیفہ : 3507، ضعیف الجامع :4408)

    سوال (5):کیا عورت لوہے کی چوڑی جس پر سونے کا پانی چڑھا ہو پہن سکتی ہے اور اس میں نماز درست ہے ؟
    جواب : عورتوں کا لوہے کی چوڑی پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے خواہ اس پر سونے کا پانی چڑھا ہو یا نہیں چڑھا ہو اور اس میں نماز بھی درست ہے ۔ فقہ حنفی میں عورتوں کے لئے لوہے کی انگوٹھی پہننا اور اس میں نماز پڑھنا مکروہ لکھا ہے مگر اس بات کی قرآن وحدیث سے کوئی دلیل نہیں ہے۔

    سوال (6):آج کل بے حیائی والے مشاعروں میں جہاں لڑکیوں کو صرف حسن وجمال کی وجہ سے دعوت دی جاتی ہے انہیں سننے کے لئے مسجد کے امام اور اسٹیج کے مقررین بھی جاتے ہیں ان کے پیچھے نماز پڑھنااور تقریر کرانا کیسا ہے؟
    جواب : آج کل کےمشاعرے واقعی بے حیائی کے اڈے ہیں ، اس میں شر کے علاوہ ذرہ برابر بھی خیر نہیں ہے ، اس قسم کی کوئی بھی جگہ ہو ہر مسلمان کو بچنا چاہئے اور جو لوگوں کے امام وپیشوا ہیں انہیں تو بطور خاص بچنا چاہئے ۔ آپ کسی امام یا مقرر کے متعلق بے حیائی والے مشاعروں میں جانے کی خبر رکھتے ہیں تو پہلے آپ انہیں تنبیہ کریں مان جائے تو ٹھیک ورنہ امامت وخطابت سے معزول کریں تاہم جب تک وہ نماز پڑھائیں ان کے پیچھے نماز ہوجائے گی ۔

    سوال (7):مجھے ان بچوں کا نام چاہئے جو بچپن میں بولے ہیں ۔
    جواب : مسند احمد، طبرانی ، ابن حبان اور حاکم میں فرعون کی بیٹی کی مشاطہ کا ایک واقعہ ہے جس کی سند صحیح ہے ،اس کا آخری ٹکڑا ہے ۔
    ‏‏قَالَ ‏‏ابْنُ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما : ‏تَكَلَّمَ أَرْبَعَةُ صِغَارٍ : ‏‏عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ‏‏عَلَيْهِ السَّلام ،‏ ‏وَصَاحِبُ ‏جُرَيْجٍ ،‏ ‏وَشَاهِدُ ‏‏يُوسُفَ ‏، ‏وَابْنُ ‏مَاشِطَةِ ابْنَةِ فِرْعَوْنَ۔
    ترجمہ: ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جن چارچھوٹے بچوں نے بات کی وہ یہ ہیں۔(1)عیسی بن مریم علیہ السلام(2)صاحب جریج(3)یوسف کی گواہی دینے والا(4)فرعون کی بیٹی کی مشاطہ کا بیٹا

    سوال (8):کیا مہر میں زیور دے سکتے ہیں ؟
    جواب : زیور مہر کے طور پر دے سکتے ہیں کیونکہ مہر کی نوعیت متعین نہیں ہے اور نہ ہی کمی بیشی کی کوئی حد ہے تاہم حیثیت کے مطابق بہترین چیز عورت کو مہر میں دے ۔ زیور مہر کی صورت میں دینے کے لئے پہلے بات طے کرلے تاکہ بعد میں لوگ اسے ہدیہ نہ سمجھیں اور پھر مہر کے لئے تنازع پیدا ہوجائے ۔

    سوال (9):تین سورتوں میں اسم اعظم آیا ہے اس کی وضاحت کریں ۔
    جواب : ابن ماجہ میں حسن درجے کی روایت ہے ، نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    اسمُ اللهِ الأعظمُ الَّذي إذا دُعِي به أجاب في سورٍ ثلاثٍ البقرةُ وآلُ عمرانَ وطه(صحيح ابن ماجه:3124)
    ترجمہ:اللہ کا عظیم ترین نام (اسم اعظم) جس کے ذریعہ دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے وہ تین سورتوں میں ہے ۔ سورہ بقرہ ، سورہ آل عمران اور سورہ طہ ۔
    ابن ماجہ کی دوسری روایت میں دوسورتوں کی آیت کی بھی تحدید ہے ، سورہ بقرہ " وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ " (آیت:163)، سورہ آل عمران " اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ " (آیت:2) اور تیسری سورت طہ کی آیت علماء یہ آیت " وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ " (آیت:111) بتلاتے ہیں ۔

    سوال (10):سوشل میڈیاسے جڑی عورتوں کو چیٹ کرنے کے سلسلے میں آپ کیا نصیحت کرتے ہیں ؟
    جواب : سب سے پہلے عورتوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ سوشل میڈیا کے اسی حصہ سے جڑیں جہاں آپ کے لئے امن زیادہ ہواور عزت وآبرو محفوظ ہو مثلا ٹویٹریا گوگل پلس ۔ فیس بک عورتوں کے لئے زیادہ خطرناک ہے اس سے دور رہیں تو بہتر ہے ۔ جو خواتین سوشل میڈیا پہ ہیں انہیں چیٹ کرتے ہوئے وہ آداب بجالانا ہے جو کسی سے بات کرتے ہوئے ملحوظ رکھنا ہے ۔ بلاضرورت چیٹ نہ کریں اور اجنبی و غیرمعروف مردوں سے تو بالکل نہیں ،ضرورت پڑنے پر مختصر الفاظ میں صرف دیندارمعروف عورتوں سے چیٹ کریں ، کوئی دینی جانکاری جو عورتوں سے نہیں مل سکی اس بابت کسی دین وامانت میں معروف عالم سے پوچھیں ۔ سوشل میڈیا کے جہاں بہت فوائد ہیں وہیں بہت نقصانات بھی ہیں اس کا صرف مثبت استعمال کریں اور عزت وآبرو کا خیال کرتے ہوئے تنہائی میں ہمیشہ اللہ کا خوف کھاتے رہیں ۔

    سوال (11):سجدے میں قرآنی دعا پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : رکوع اور سجدہ میں قرآن کی تلاوت ممنوع ہے لیکن دعا کی نیت سے قرآنی دعائیں سجدہ میں پڑھ سکتے ہیں خواہ وہ فرض نماز ہو یا نفل نماز ہو۔

    سوال (12) : مغرب کی نماز کے بعد دو رکعت سنت مؤکدہ کے علاوہ کیا چھ رکعت نماز اوابین پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے ؟
    جواب : نماز چاشت ہی نماز اوابین ہے جو سورج بلند ہونے سے شروع ہوتا ہے اور زوال سے پہلے تک رہتا ہے تاہم تاخیر سے پڑھنا بہتر ہے ۔ مسلم شریف میں ہے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا: صلاةُ الأوَّابينَ حين ترمَضُ الفِصالُ(صحيح مسلم:748)
    اوابین کی نماز اس وقت پڑھی جائیگی جب اونٹ کا بچہ سخت گرمی میں کُھر جلنے کے سبب اپنی ماں کا دودھ چھوڑ دے۔
    یہ حدیث صریح ہے کہ اوابین کا وقت دھوپ کے وقت ہے مغرب کا بالکل نہیں ہے ۔ اس حدیث کی روشنی میں حنفی حضرات جو اوابین کے نام سے مغرب کے بعد چھ رکعات ادا کرتے ہیں بالکل غلط ہے۔مغرب کے بعد چھ رکعات نوافل پڑھنے کا ذکر ملتاہے مگر وہ سخت ضعیف ہے ۔
    من صلَّى ستَّ رَكَعاتٍ ، بعدَ المغرِبِ ، لم يتَكَلَّم بينَهُنَّ بسوءٍ ، عدَلَت لَه عبادةَ اثنتَي عَشرةَ سنةً۔ ( ترمذی: 435،ابن ماجہ:256)
    ترجمہ:جس نے مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھیں اوران کے درمیان کوئی بری بات نہ کی تو ان کا ثواب بارہ سال کی عبادت کے برابر ہوگا۔
    یہ حدیث عمل کرنے کے لائق نہیں ہے کیونکہ یہ سخت ضعیف ہے دیکھیں :(ضعيف ابن ماجه:256)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    ربیع الاول 1439 کے سوال وجواب کی دوسری قسط

    مقبول احمد سلفی

    سوال (1):کیا اللہ ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے ؟
    جواب : یہ بات لوگوں میں یقین کی حدتک مشہور ہوگئی ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے ۔ جب ہم اس بات کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ میں تلاش کرتے ہیں تو کہیں بھی نہیں ملتی البتہ اتنی بات ضرور ملتی ہیں کہ اللہ تعالی اپنے بندوں پر ایک ماں کی رحم دلی سے زیادہ مہربان و رحمدل ہے چنانچہ بخاری ومسلم میں عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
    قدِمَ على النبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم سَبيٌ، فإذا امرأةٌ من السبيِ قد تحلُبُ ثَديَها تَسقي، إذا وجدَتْ صبيًّا في السبيِ أخذَتْه، فألصقَتْه ببَطنِها وأرضعَتْه، فقال لنا النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم : ( أترَونَ هذه طارحَةً ولدَها في النارِ ) . قُلنا : لا، وهي تقدِرُ على أن لا تطرَحَه، فقال : ( لَلّهُ أرحَمُ بعبادِه من هذه بولَدِها ) .(صحيح البخاري:5999، صحيح مسلم:2754)
    ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کا پستان دودھ سے بھرا ہو تھا اور وہ دوڑ رہی تھی ، اتنے میں ایک بچہ اس کو قیدیوں میں ملا اس نے جھٹ اپنے پیٹ سے لگا لیا اور اس کو دودھ پلانے لگی ۔ ہم سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم خیال کر سکتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں ڈال سکتی ہے ہم نے عرض کیا کہ نہیں جب تک اس کو قدرت ہوگی یہ اپنے بچہ کو آگ میں نہیں پھینک سکتی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جتنا یہ عورت اپنے بچہ پر مہربان ہو سکتی ہے ۔
    اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالی ماں کی رحمدلی سے زیادہ اپنے بندوں پرمہربان ہے مگر یہ نہیں کہا جائے گا کہ اللہ تعالی سترماؤں سے زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی کوئی دلیل نہیں ہے اور جس کی دلیل نہ ہوتعین کرکے وہ بات کہنا صحیح نہیں ہےگوکہ اللہ تعالی سترنہیں اس سے بھی زیادہ ماؤں کی رحم دلی سے بھی زیادہ رحمدل ہے مگر عدد مخصوص کرنا صحیح نہیں ہے ۔

    سوال (2):نبی کو آقا کہنا کیسا ہے ؟
    جواب : لفظ آقا فارسی سے آیا ہوا ہے ,اردو لغت کے حساب سے اس کے مندرجہ ذیل معانی ہیں ۔
    مالک ، خداوند ، صاحب ، خاوند ، حاکم ، افسر ۔ (حوالہ : فیروز اللغات اُردو)
    نبی ﷺ کے لئے سید کا لفظ حدیث میں آیا ہے ۔
    عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ (مسلم : 2278)
    ترجمہ : حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: میں قیامت کے دن بنی آدم کا سید (سردار) ہوں۔
    لفظ سید اردو میں سردار اور آقا کے معنی میں آتا ہے ۔ ساتھ ہی جب لفظ آقا کی تاریخ دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ آقا اصل میں ترکی لفظ ہے ۔ ترکی سے فارسی اور پھر فارسی سے اردو میں داخل ہوا۔
    عثمانیوں کے زمانے میں یہ لفظ عام طور سے ان لوگوں کے درمیان استعمال ہوا کرتا تھا جو حاکم ، حکومت اور فوج سے جڑا ہوا تھایعنی عام بول چال میں نہیں تھا۔
    اردو میں اس لفظ کی آمد بھی ایسے ہی معنوں میں لگتی ہے ۔ یہ لفظ سب سے پہلے اردو میں مرزا محمد رفیع سودا کی کلیات میں 1780 ء میں ملتا ہے ۔ اور سودا درباری شاعر تھا ۔ پہلے نواب بنکش کے دربار سے پھر نواب سجاع الدولہ کے دربار سے اورآخر میں نواب آصف الدولہ کے دربار سے وابستہ رہا۔آخرالذکر نواب نے انہیں ملک الشعراء کا خطاب دیا۔
    اس سے پتہ چلا کہ اردو میں اس لفظ کی آمد بھی خوشامدی پس منظر اور حکومتی نسبت سے ہوئی ۔ ویسے اس کے استعمال میں بڑی قباحت نظر نہیں آتی مگر اس کے بجائے سید کا استعمال زیادہ بہتر ہے کیونکہ یہ نبی ﷺ کے فرمان میں موجود ہے ۔

    سوال (3):کتنے گھر تک پڑوسی کہلائے گا؟
    جواب : پڑوسی کے ساتھ احسان وسلوک کی بڑی تاکید وارد ہے لیکن پڑوسی کی حد بندی کی تعیین نہیں وارد ہے ۔ ایک روایت ہے :
    السَّاكنُ من أربعينَ دارًا جارٌ.
    ترجمہ : چالیس گھر کے باشندے پڑوسی کہلاتے ہیں ۔
    اس کی بنیاد پر کہاجاتا ہے کہ آگے پیچھے اور دائیں بائیں سے چالیس گھر پڑوسی کی حد ہے مگر یہ روایت اور اس معنی کی دیگرروایت ثابت نہیں ہے ۔ اسے شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے۔(السلسلۃ الضعیفۃ:277)
    پڑوسی کی حد بندی کے سلسلے میں تعیین کرنا صحیح نہیں ہے متصل جو لوگ ہوں پڑوسی کے حکم میں ہیں خواہ وہ سبھی ایک مسجد میں نماز ادا کرتے ہوں یا ایک سے زائد مساجد میں البتہ قریب کا پڑوسی دور کے پڑوسی سے زیادہ حق رکھتا ہوں ۔
    عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي جَارَيْنِ فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي؟ قَالَ:إِلَى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا(صحيح البخاري:2595)
    ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری دو پڑوسی ہیں، تو مجھے کس کے گھر ہدیہ بھیجنا چاہئے؟ آپ نے فرمایا کہ جس کا دروازہ تم سے قریب ہو۔

    سوال (4):کعبہ کی تصویر لٹکانا یا اس کی شبیہ گھروں میں رکھنا کیسا ہے ؟
    جواب : بغیر روح والی تصویروں کی اجازت ہے مگر کعبہ کی تصویر فریم میں لگا کر گھروں میں لٹکانا لوگوں میں اس سے برکت حاصل کرنے کی نیت سے ہوتا ہے اس وجہ سے یہ نیت کرکے کعبہ کی تصویر لٹکانا جائز نہیں ہے ،یہی حال اس کی شبیہ کا بھی ہے ۔ کعبہ کے ساتھ اس پہ قرآنی آیات لکھا ہونا یا کعبہ کے گرد طواف کرنے والوں کی تصویر کا ہونا تو بالکل جائز نہیں ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ برکت کی نیت سے کعبہ کی تصویر یا اس کی شبیہ گھر میں رکھنا جائز نہیں ہے بالخصوص جب اس میں قرآنی آیات اور طواف کرنے والوں کی ذی روح تصویر ہو اور برکت کی نیت نہ ہو تو بھی بدعت کا راستہ بند کرنے کے لئے نہ رکھنا ہی بہتر ہے ، گھر کا کوئی نہ کوئی فرد یا گھر میں آنے والا کوئی زائراس سے برکت لے سکتا ہے ۔

    سوال (5):ایک صحابی اللہ کے رسول ﷺکے پاس آئےاور انہوں نے سوال کیا کہ کیا میرے ماں باپ دونوں جنت میں ہیں یا جہنم میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے اور آپ کے والدین دونوں جہنم میں ہیں ۔ کیا یہ حدیث صحیح ہے؟
    جواب : اچھا کیا آپ نے یہ سوال کرکے کیونکہ اکثریت کو اس کا علم نہیں ہے ۔ یہ حدیث مسلم شریف کی ہے یعنی صحیح حدیث ہے ،اس کی صحت کے بارے میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے کیونکہ مسلم شریف کی تمام احادیث کی صحت پر پوری امت کا اتفاق ہے ۔ حدیث کے الفاظ اور اس کا ترجمہ ملاحظہ کریں ۔
    عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيْنَ أَبِي؟ قَالَ:فِي النَّارِ، فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ، فَقَالَ:إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ(صحيح مسلم:203)
    ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا:اے اللہ کے رسول ! میرا باپ کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا:آگ میں ۔ پھر جب وہ پلٹ گیا توآپ نے اسے بلا کر فرمایا:بلاشبہ میراباپ اور تمہارا باپ آگ میں ہیں ۔
    اس حدیث سے واضح ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ کے والد کی وفات کفر پر ہوئی اس وجہ سے ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔

    سوال (6): ایک مسافر آدمی مقیم امام کے ساتھ مغرب کی نماز میں عشاء کی نیت سے شامل ہوتا ہے تو وہ دو رکعت پڑھے گا یا تین پڑھے گا؟
    جواب : اس مسئلہ میں ائمہ کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ۔ چونکہ مسافر پر جماعت سے نماز پڑھنا واجب نہیں اور یہاں امام ومسافر کے درمیان نماز کی رکعات کا فرق بھی ہے اس لئے مسافر الگ سے عشاء کی دو رکعت ادا کرلے اور ایک دوسراطریقہ یہ ہے کہ امام کے ساتھ عشاء کی نیت سے شامل ہوجائے اورامام کے سلام پھیرنے پرمزید ایک رکعت ادا کرکے عشاء کی چار رکعت مکمل کرلے۔

    سوال (7):لیزر کے ذریعہ بالوں کی صفائی کا کیا حکم ہے جبکہ اس سے بال اگنا ہی بند ہوجاتا ہے اور حدیث میں داغنے سے منع کیا گیا ہے ؟
    جواب: لیزر سے غیر ضروری بال کی صفائی خود سے مشکل ہے اس کے ماہر سے ہی کروانا پڑتا ہے اور اس میں جلد کی خرابی اور نقصان کا پہلو موجود ہے نیز پردے کی جگہ کی صفائی دوسروں سے کروانا بلاضرورت جائز نہیں ہے ۔علماء نے لیزر سے بال صفائی کی اجازت دی ہے مگر میرے سامنے مذکورہ موانع ہیں جن کی بدولت لیزر سے صفائی نہ کرنا بہتر ہے ۔ اسلام نے ہمیں غیر ضروری بال کی صفائی ہرچالیس دن کے اندر کرنے کی اجازت دی ہے اس لئے شعاعوں اور الکٹرک آلات کے ذریعہ بال کے مسام کو جلانے اور ہمیشہ کے لئے بال سے چھٹکارا پانے سے بہتر ہے صفائی کا وہ آلہ استعمال کیا جائے جس میں ضرر نہ ہو۔ ہاں اگر اس کی حاجت کسی کو ہو تو کوئی حرج نہیں مثلا کسی معذورکو غیرضروری بال کی صفائی برابر کرنا دشوار ہے وہ کچھ مشقت برداشت کرکے لیزر سے صفائی کرلے۔

    سوال(8):کسی شخصیت پر سیمینار کرنا کیسا ہے ؟
    جواب : سیمینار کا مفہوم ذہن میں رکھتے ہوئے یہ جانیں کہ زندہ شخص کے لئے سیمینار کرنا میری نظر میں درست نہیں ہے کیونکہ اس میں اس شخص کی منہ پر تعریف کرنا ہے اور اسلام نے کسی شخص کی منہ پر تعریف کرنے سے منع کیا ہے البتہ ایک ایسی شخصیت جن کی دینی، علمی، سماجی اور ثقافتی خدمات ہوں تو ان کی وفات کے بعد ان پر سیمینار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے تاکہ لوگوں کے اندر ان کے کارناموں سے تحریک پیدا ہو جیساکہ کسی اہم شخصیت کی وفات پر رسائل وجرائد کا خصوصی شمارہ نکالاجاتا ہے۔

    سوال (9):کنیڈا میں بلیک فرائڈے منایا جاتا ہے ، وہ تو ہم نہیں مناتے مگر اس موقع سے سیل لگتی ہے اور سامان بہت ہی سستے داموں پر فروخت ہوتا ہے تو کیا میں اس سیل سے فائدہ اٹھا سکتا ہوں ؟۔
    جواب : نومبر کے آخری جمعہ کو عیسائی بلیک فرائڈے کانام دیتے ہیں اور اس دن سے کرسمس ڈے منانے کی تیاری شروع کی جاتی ہے اسی لئے تمام قسم کی تجارتی چیزو ں میں بھاری چھوٹ ہوتی ہے۔اسلامی اعتبار سےجمعہ کا دن تمام دنوں کا سرداراور ہفتے کی عید ہے ۔ اس کی فضیلت میں نبی ﷺ کایہ فرمان وارد ہے:خيرُ يومٍ طلعت عليه الشَّمسُ ، يومُ الجمعةِ . فيه خُلِق آدمُ . وفيه أُدخل الجنَّةَ . وفيه أُخرج منها . ولا تقومُ السَّاعةُ إلَّا في يومِ الجمعةِ(صحيح مسلم:854)
    ترجمہ : سب سے بہترین دن جب سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے۔ اس دن اللہ نے آدم کو پیدا کیا۔ اسی دن جنت میں ان کو داخل کیا اور اسی دن ان کو جنت سے نکالا گیا۔
    اگر عیسائی بلیک فرائڈے منائے تو ہمیں اس کے بلیک فرائڈے کا حصہ نہیں بننا چاہئے اور نہ ہی ہمیں بلیک فرائڈے کی غلط اصطلاح استعمال کرنی چاہئے ، افسوس ہوتا ہےکہ مسلمان بھی اس جمعہ کو بلیک فرائڈے کی طرح منانے لگے اور اپنی دوکانوں میں ڈسکاؤنٹ دینےلگے پھر ہم میں اور عیسائی میں کیا فرق رہا؟

    سوال (10):اولاد کے حصول کے لئے مجھے کوئی وظیفہ بتائیں ۔
    جواب : سب سے پہلے تو یہ عقیدہ ذہن میں راسخ کریں کہ بچوں کی پیدائش کا تعلق اللہ تعالی کی مشیت سے ہے۔اس پختہ عقیدہ کے ساتھ یہ عقیدہ بھی ہو کہ اولاد کا مکمل طور پر اختیار بھی اسی کے پاس ہے ۔پھر میاں بیوی جائز وسیلہ اختیار کرتے ہوئے استغفار کے ساتھ خوب خوب اللہ سے دعائیں کریں۔ اپنی زبان میں بھی دعائیں کرسکتے ہیں اور قرآن میں بھی صالح اولادکی حصولیابی کے لئے کئی دعائیں وارد ہیں جنہیں پڑھ سکتے ہیں۔ اللہ کی طرف سے اولاد مقدر ہوگی تو دیر سویر آپ کو اولاد نصیب ہوگی اور اگر مقدر نہیں ہوگی تو کوئی بھی طریقہ اختیار کرلیں اولاد نہیں ہوگی ۔ یہ اٹل الہی قانون ہے کسی کو وہ اولاد سے نوازتا ہے اور کسی کو محروم کردیتا ہے ۔ جسے اولاد عطا کرنا چاہے اسے کوئی اولاد سے محروم نہیں کرسکتا اور جسے اولاد سے محروم کرنا چاہے اسے دنیا کا کوئی پیروفقیر یا مرشد وولی اولاد نہیں دے سکتا ۔

    سوال(11):اسلام کی رو سے جنم دن منانا جائز نہیں ہے تو کیا جنم دن کے موقع سے کیک وغیر ہ نہ کاٹیں صرف بہترین کھانا بناکر کھالیں تو یہ غلط ہے ؟
    جواب : اگر آپ کچھ بھی نہیں کرتے صرف سوچ رکھتے ہیں کہ جنم دن منانا چاہئے تو یہ بھی غلط ہے اور سوچ کے ساتھ ساتھ کھانا کھانا یا جنم دن منانے کے لئے کوئی ادنی سا کام کرنا گویا جنم دن منانا ہے لہذا کیک نہ کاٹ کر جنم دن پہ اچھا کھانا کھانا اس نیت سے کہ آج جنم دن ہے جائز نہیں ہے۔

    سوال(12):سودی بنک سے ملنے والی سودی رقم کیا ذاتی مقدمہ میں وکیلوں کی فیس،یا بچوں کےاسکول ڈونیشن یا جہیز کے سامان میں بلاثواب کے صرف کرسکتے ہیں ؟
    جواب : سود قطعی طور پر حرام ہے جہاں تک سودی بنک سے ملنے والی اضافی سودی رقم کا سوال ہے تو اسے نجی کسی بھی قسم کے کام میں صرف نہیں کیا جائے گا بلکہ مفاد عامہ یعنی رفاہی کام میں بلااجرکے صرف کردیا جائے گایا کسی مضطر کے اضطرای کام میں بھی صرف کرسکتے ہیں ۔

    سوال(13):ایک اہل حدیث سیاستداں ہے وہ سیاست کی مجبوری کی وجہ سے مزاروں کی توسیع میں مالی امداد فراہم کرتا ہے ، ایسے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے میلاد میں بھی شریک ہوجاتا ہے اور کھڑے ہوکر سلام بھی پڑھنا ہے ایسے شخص کا اسلام میں کیا حکم ہے ؟
    جواب : سیاسی مجبوری کے تحت مزار کے کام میں مدد کرنا جائز نہیں ہے ، نہ ہی عید میلاد یا مروجہ سلام جائز ہے ۔ مذکورہ شخص کو چاہئے کہ کسی کو خوش کرنے کی بجائے اللہ کو خوش کرنے والا کام کرے ورنہ مزاروں کی توسیع پہ مالی امداد، عید میلاد اور مروجہ سلا م میں شرکت کی وجہ سے بدعتی کہلائے گا۔

    سوال(14):عید میلاد النبی منانے والے کہتے ہیں کہ اسلام میں عیدوبقرعید کے علاوہ بھی عیدیں ہیں جیسے جمعہ کی عید، عرفہ کی عید اسی طرح عید میلاد ایسے لوگوں کو کیا جواب دیا جائے ؟
    جواب: سالانہ اصل دو ہی عیدیں ہیں اس کی تعیین اور عیدین کے احکام مکمل تفصیل سے رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمادئے ہیں ۔
    انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل جاہلیت کیلئے دو دن تھے جن میں وہ خوب کھیل کود کرتے چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے فرمایا: كانَ لَكُم يومانِ تلعَبونَ فيهِما وقد أبدلَكُمُ اللَّهُ بِهِما خيرًا منهُما يومَ الفطرِ ، ويومَ الأضحى(صحيح النسائي:1555)
    ترجمہ: تمہارے کھیلنے کیلئے دو دن تھےاور اللہ تعالی نے تمہیں اس سے بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں: عید الفطر اور عید الاضحی۔
    ان دونوں سالانہ عیدوں میں عیدگاہ، نماز اور تکبیرات وغیرہ کی تفاصیل واحکام کتب احادیث میں مذکور ہیں ۔ ایک حدیث میں یوم النحر کے ساتھ عرفہ اورایام تشریق کو بھی مسلمانوں کی عید قرار دی گئی ہے۔ روایت اس طرح ہے۔
    يومُ عرفةَ ويومُ النَّحرِ وأيَّامُ التَّشريقِ عيدَنا أَهلَ الإسلامِ ، وَهيَ أيَّامُ أَكلٍ وشربٍ(صحيح الترمذي:773)
    ترجمہ:یوم عرفہ ، یوم نحر اور ایام تشریق ہماری یعنی اہل اسلام کی عید کے دن ہیں اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔
    یوم النحر(عیدالاضحی )اور عیدالفطر ہی اصل عیدیں ہیں اوپر حدیث گزری ۔یوم عرفہ اور ایام تشریق بھی عیدکا دن ہے ، سوال یہ ہے کہ اس عید کے دن مسلمانوں کو کس قسم کی خوشی منانے کا حکم ہے اور نبی وصحابہ نے اس قسم کی خوشی کا اظہارکیا، کتنی رکعات نمازاور کہاں ،کس طرح پڑھنے کا ذکر ہے ؟ ظاہر سی بات ہے یہاں ان دنوں کوعیدکہنےسے مراد روزہ رکھنے سے منع کرنا ہے جیساکہ دوسرے حدیث میں صراحت ہے اور یہاں بھی کھانے پینے کا قرینہ روزہ نہ رکھنے سے متعلق ہے ۔ جمعہ کی عید کا ثبوت ہے ، عرفہ کی عید کا ثبوت ہے ، عیدالفطر اور عیدالاضحی کا ثبوت ہے ،نبی کی پیدائش کا دن بھی عید ہے اس پہ لفظ عید کی کوئی دلیل نہیں پیش کیاجاسکتاسوائے ٹامک ٹوئیاں مارنے کے ۔جب پیدائش نبی پہ لفظ عید کا کوئی ثبوت نہیں تو پھر عیدمیلادالنبی منانا خلاف سنت ہے۔

    سوال(15): شب زفاف میں دوگانہ اداکرنے کا کیا حکم ہے جیساکہ کچھ اداکرتے ہیں ؟
    جواب : شب زفاف میں بیوی کی پیشانی پکڑ کر یہ دعا پڑھی جائے۔
    اللَّهمَّ إنِّي أسألُكَ خيرَها وخيرَ ما جبلتَها عليهِ وأعوذُ بِكَ من شرِّها ومن شرِّ ما جبلتَها عليهِ(صحيح أبي داود:2160)
    ترجمہ: اے اللہ میں تجھ سے اس (عورت) کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس چیز کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں۔جس پر تونے اسے پیدا کیا اور میں اس کے شر سےتیری پناہ میں آتا ہوں اور اس چیز کے شر سے بھی تیری پناہ میں آتا ہوں جس پر تونے اسے پیدا کیا۔
    بس یہی رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے نماز کا کہیں ذکر نہیں البتہ اسلاف سے اس رات دو رکعت نماز پڑھنا ثابت ہے جسے شیخ البانی نے آداب الزفاف میں جمع کیا ہےاس لئے اگر کوئی پڑھنا چاہتا ہے تو پڑھ سکتا ہے۔

    سوال(16):فرشتوں کے نام پہ اپنے بچوں کا نام رکھنا کیسا ہے ؟
    جواب : ایک حدیث میں فرشتوں کے نام پر نام رکھنا منع ہے: ولا تُسمُّوا بأسماءِ الملائكةِ( اور فرشتوں کے نام پرنام نہ رکھو)۔ اسے شیخ البانی نے سخت ضعیف کہا ہے۔(ضعیف الجامع:3283)
    جب یہ حدیث ضعیف ہے تو اسے دلیل نہیں بنائیں گے اور ممانعت کی کوئی صحیح دلیل نہ ہونے کی وجہ سے کہا جائے گا کہ فرشتوں کے نام پر نام رکھ سکتے ہیں ۔ یہی موقف جمہور علماء کا ہے۔

    سوال (17): ایسا بیر(شراب) پینا جس میں نشہ نہ ہو اسلام کی رو سے کیسا ہے ؟
    جواب: ایسا مشروب جس میں الکوحل نہ ملاہو وہ خمریعنی حرمت والی شراب نہیں ہےاس لئے ایسے مشروب کا پینا جائز ہوگا تاہم اس سلسلے میں تین باتیں دھیان میں رکھنی ہوں گی۔
    پہلی بات: عام طور سے کہاجاتا ہے کہ فلاں مشروب میں نشہ نہیں مگر حقیقت کچھ اور ہوتی ہے یا نشہ باز کو نشہ کی لت ہونے کی وجہ سے نشہ کا انکار کرتا ہے اس لئے دیکھا جائے گا کہ کہیں ایسا مشروب تو نہیں جس میں نشہ موجودہے پھر بھی الکوحل فری کا جھوٹا دعوی کیا جاتا ہے؟۔
    دوسری بات: مشروب پاکیزہ ہو یعنی اس میں خباثت نہ ہو۔
    تیسری بات: مشروب میں کسی قسم کا ضرر نہ ہو۔

    سوال (18):کیا ابان کسی صحابی کا نام ہے جو مشہور محدث و فقیہ گزرے ہیں وضاحت کریں کیونکہ مجھے اپنے بچے کا نام رکھنا ہے۔
    جواب : ابان بن سعید رضی اللہ عنہ قبیلہ قریش کےایک جلیل القدر صحابی گزرے ہیں ،فتح مکہ سے تھوڑا پہلےسن 7 ہجری میں اسلام قبول کیا اور واقدی کے مطابق اجنادین کے دن سن13 ہجری کو شام میں جام شہادت نوش فرمایا۔ نبی ﷺ نےسات ہجری میں ایک سریہ کی قیادت دے کر بھیجا تھا اور9ہجری میں بحرین کا والی بھی مقرر کیا تھا آپ کی وفات کے وقت بحرین کے والی تھے۔ ایک اور مشہور ومعروف ابان گزرے ہیں وہ ہیں ابان بن عثمان تابعی جوکہ خلافت امویہ میں عبدالملک بن مروان کے عہد حکومت میں سات سال مدینہ کے والی رہے۔ سیر اعلام النبلاء میں لکھا ہے کہ ان سے کچھ احادیث مروی ہیں اور یہ ثقہ راوی ہیں بلکہ یحی بن قطان کے حوالے سے لکھا کہ وہ مدینہ کے دس فقہاء میں سے ایک ہیں ۔لوگ ان سے قضاء کی تعلیم حاصل کرتے ،عمروبن شعیب کہتے ہیں کہ میں نے ابان بن عثمان سے زیادہ علم حدیث اور فقہ کا جانکار نہیں دیکھا۔

    سوال(19): میں نے وضو کے تین گھنٹے بعد موزہ پہنا کیا اس پہ مسح کرسکتا ہوں ؟
    جواب : اگرتین گھنٹے بعد موزہ اس حال میں پہنا گیا کہ وضو باقی تھا تو اس پر مسح کرسکتے ہیں ۔

    سوال(20): میں کام کے دوران جوتا پہنتا ہوں اسے نکالنے میں دقت ہے کیا اس جوتے پر مسح کرسکتا ہوں ؟
    جواب : اگر جوتا اتنا لمبا ہو کہ مکمل ٹخنہ ڈھک دےتو اس جوتے (بوٹ) پر مسح کرسکتے ہیں کیونکہ وہ خف کے حکم میں ہوگا لیکن ٹخنہ سے نیچے جوتا پر مسح کرنا جائز نہیں ، اسی طرح اس موزہ پر مسح جائز نہیں جو ٹخنہ سے نیچے ہو۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    واٹس ایپ گروپ اسلامیات کے سوال وجواب

    جواب از مقبول احمد سلفی

    سوال (1): میری امت میں بنو تمیم کے لوگ اہل شرک پر مضبوط اور بھاری ہوں گے اور قیامت تک کعبہ کی چابھی اس کے پاس رہے گی ۔ اس قسم کی حدیث کی صحت درکار ہے۔
    جواب : اس میں دوباتیں ہیں دونوں صحیح نہیں ہیں ۔ پہلی بات جو صحیح ہے وہ اس طرح ہے ۔
    هم أشدُّ أُمَّتي علَى الدَّجَّالِ(صحيح البخاري:2543)
    ترجمہ: یہ لوگ(بنوتمیم والے) دجال کے مقابلے میں امت میں سے سب سے زیادہ سخت مخالف ثابت ہوں گے۔
    اور دوسری بات یہ بنوتمیم قیامت تک کعبہ کی کلیدبرداری کریں گے وہ بھی صحیح نہیں ہے ، یہ بات قبیلہ بنوشیبہ کے متعلق نبی ﷺ نے فرمائی تھی جب 8 ہجری میں مکہ فتح ہوا۔حافظ ابن حجر ؒنےتہذیب میں لکھا ہےکہ نبی ﷺ نے شیبہ بن عثمان بن ابی طلحہ اور عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ کو بلایا اور انہیں کعبہ کی چابھی سونپتے ہوئے فرمایاکہ یہ اب ہمیشہ کے لئے تمہارے پاس رہے گی ، تم سے ظالم کے علاوہ کوئی نہیں چھین سکتا ۔ انتہی۔ اور اس وقت سے اب تک بنوشیبہ میں ہی کلید برداری کی خدمت موجود ہے۔ ہاں بنوتمیم کے بڑے فضائل ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ وہ قریش سے پہلے کلید برداری کرتے رہے ہیں۔

    سوال (2) سردی کے موسم میں ایک نمازی کے لئے شریعت کی طرف سے کیا آسانی ہے ؟
    جواب : سردی کا موسم مومن کے لئے موسم بہار ہے ، اس میں عبادت کے پہلو سے خیر ہی خیر ہے۔ شعب الایمان اور مسند احمد وغیرہ میں ایک روایت ہے ۔ الشِّتاءُ ربيعُ المؤمنِ ، قصُرَ نهارُهُ فصامَ ، وطالَ ليلُهُ فقامَ۔
    ترجمہ:سردی مومن کے لئے موسم بہار ہے اس کے دن چھوٹے ہوتے ہیں تو وہ روزہ رکھ لیتا ہے اور راتیں لمبی ہوتی ہیں تو قیام کرلیتا ہے۔
    شیخ البانی نے اس کی سند میں ضعف بتلایا ہے تاہم اسلاف سے موسم سرما میں خوش ہونے اور اس سے بکثرت فائدہ اٹھانے کا ذکر ملتا ہے۔ایک صحیح روایت اس طرح ہے ۔الغَنيمةُ الباردةُ ،الصَّومُ في الشِّتاءِ(صحيح الترمذي:797)
    ترجمہ: بڑی غنیمت ٹھنڈی ہے کہ اس میں روزہ رکھا جائے۔
    عبادت کے اعتبار سے اس موسم میں بڑی غنیمتیں ہیں البتہ ٹھنڈک میں لوگوں کے لئے ضرر بھی ہے اس لئے زمانے میں ٹھنڈی کے ضرر سے بچنے کی جو بھی سہولت ہے اختیار کرسکتے ہیں ۔ مثلا گرم پانی سے وضو یا غسل کرنا، مسجدوں میں ہیٹر وغیرہ کا انتظام کرنا، وضو کرکےلگائےہوئے موزے پر مسح کرنا، گرم لباس پہن کر عبادت کرنا، قالین پر نماز پڑھنا۔اسی طرح ایک وضو سے دوسرے وقتوں کی نماز ادا کرسکتے ہیں ۔ یہ یاد رکھیں کہ وضو یا غسل طہارت کرنے والے مسلمان ہی صرف ٹھنڈی میں بیمار نہیں پڑتے بلکہ نرم وگرم بستروں میں عیش کرنے والے بھی بیمار پڑتے ہیں ۔ بیماری اور شفا اللہ کی طرف سے ہے ، مومن کے لئے بیماری میں اجر اور کافر کے لئے سراپا تکلیف ہے۔ اس لئے ایک مومن کو اللہ کے احکام کی تعمیل میں ہی آسانی ہے۔

    سوال(3): کیا سردی میں ٹوپی پر مسح کرسکتے ہیں جیساکہ رسول اللہ ﷺ نے عمامہ پر مسح کیا ہے ؟
    جواب : سردی ہو یا گرمی نبی ﷺ نے عمامہ پر مسح کیا ہے تو عمامہ پر ہی مسح کرنا جائز ہوگا، اس لئے کوئی سردی کے موسم میں ٹوپی پر مسح نہیں کرسکتا۔

    سوال(4): حلال جانور کا پاخانہ وضو کی حالت میں لگ جائے تو کیا وضو ٹوٹ جائے گا ؟
    جواب : حلال جانور کاپیشاب وپاخانہ دونوں پاک ہیں ، کپڑے میں لگ جانے سے کپڑا ناپاک نہیں ہوتااور وضو ٹوٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ نجاست کے چھونے یا لگنے سے وضو نہیں ٹوٹتا جہاں نجاست لگے وہ جگہ ناپاک ہوگی۔تاہم کپڑے پر ماکول اللحم جانور کا پیشاب یا پاخانہ لگ جائے تو اسے صاف کرلینا چاہئے ۔

    سوال (5): تم قیامت کے دن اپنے اور اپنے باپ کے نام کے ساتھ پکارے جاؤگے اس لئے اچھے نام رکھا کرو، ابوداؤد کے حوالے سے کیا یہ حدیث صحیح ہے ؟
    جواب : ابوداؤد میں کتاب الادب کے تحت 4948 کی حدیث ان الفاظ کے ساتھ وارد ہے۔
    "إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم فأحسنوا أسماءكم"
    اس حدیث کی سند میں ضعف ہے جیساکہ شیخ البانی اور دیگر محدثین نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ تاہم نصوص سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قیامت میں باپ کے نام سے پکارا جائے گا۔

    سوال(6): کیا وہ شخص لقمہ دے سکتا ہے جوجماعت میں ابھی شامل نہیں ہوا ہو؟
    جواب : اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ شخص جو ابھی نماز میں شامل نہیں ہوا ہے اس نے امام سےقرات میں کوئی بھولتے دیکھا تو لقمہ دیدے ۔

    سوال (7): فقیر اور مسکین کی صحیح تعریف بتلائیں ۔
    جواب : فقیر وہ ہے جواپنی ضروریات پورا کرنے کے قابل نہ ہو اوراس وجہ سے لوگوں سے مانگتا ہو اور مسکین وہ ہے جو محتاج ہو مگر اپنی ضرورتوں کو لوگوں کے سامنے نہ بیان کرتا ہو۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    ليس المسكينُ الذي يطوفُ على الناسِ ، تَرُدُّهُ اللُّقمةُ واللقمتانِ ، والتمرةُ والتمرتانِ ، ولكنَّ المسكينَ : الذي لا يجدُ غِنًى يُغْنِيهِ ، ولا يُفْطَنُ بهِ فيُتَصَدَّقْ عليهِ ، ولا يقومُ فيسألَ الناسَ .( صحيح البخاري:1479)
    ترجمہ: مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کے پاس پھرتا ہے تاکہ اسے ایک دو لقمہ یا ایک دو کھجور مل جائے بلکہ مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ اس کے ذریعہ سے بےپرواہ ہو جائے۔ اس حال میں بھی کسی کو معلوم نہیں کہ کوئی اسے صدقہ ہی دیدے اور نہ وہ خود ہاتھ پھیلانے کے لیے اٹھتا ہے۔

    سوال(8): اپنے کسی عزیز کی سخت ضعیفی کی حالت پہ اس قسم کے جملے کہنا کیسا ہے ؟ اللہ ان کے حق میں بہتر کرے، یا اللہ ان کے حق میں آسانی کرے۔
    جواب : اس میں کوئی حرج نہیں ، یہ دونوں دعائیہ جملے ہیں ۔

    سوال(9): اپنے وطن سے محبت کرنے کا اسلامی نظریہ کیا ہے ؟
    جواب : وطن سے محبت کرنافطری امر ہے ، اسلام نے اس سے کسی کو منع نہیں کیا ہے بلکہ وطن کی محبت کا اظہار نبی ﷺ سے اور ہمارے اسلاف سے ملتا ہے ۔ ہاں یہ دھیان رہے کہ وطن کی محبت کو دین وایمان نہ سمجھے اور نہ ہی حب الوطنی میں غلو کرے یعنی وطن کی محبت کو دین کے کسی حکم پر ترجیح دے یا اس کی تعریف میں جھوٹی بات کہے یا حد سے تجاوز کرے۔ محبت اعتدال میں رہے تاکہ غلو اور تجاوز سے بچارہے۔

    سوال(10): کیا حائضہ عورت میت کو غسل دے سکتی ہے ؟
    جواب : حائضہ ، نفساء اور جنبی عورتوں کا میت کو غسل دینے اور کفن دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ، اس سلسلے میں ممانعت پہ کوئی نص وارد نہیں ہے ۔

    سوال(11): پنچ وقتہ نمازوں کی وجہ تسمیہ کیا ہے ؟
    جواب : ترمذی کی مندرجہ ذیل روایت میں نمازوں کے اسماء اور ان کی وجہ بیان کی گئی ہے۔طوالت کی وجہ سے صرف ترجمہ پیش کرتا ہوں۔
    عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جبرئیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کے پاس میری دوبارامامت کی،پہلی بارانہوں نے ظہر اس وقت پڑھی (جب سورج ڈھل گیااور)سایہ جوتے کے تسمہ کے برابرہوگیا، پھرعصراس وقت پڑھی جب ہرچیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہوگیا،پھر مغرب اس وقت پڑھی جب سورج ڈوب گیا اورصائم نے افطار کرلیا، پھر عشاء اس وقت پڑھی جب شفق غائب ہوگئی، پھرصلاۃِ فجر اس وقت پڑھی جب فجرروشن ہوگئی اورصائم پرکھاناپینا حرام ہوگیا، دوسری بارظہرکل کی عصرکے وقت پڑھی جب ہرچیز کا سایہ اس کے مثل ہوگیا، پھر عصراس وقت پڑھی جب ہرچیز کا سایہ اس کے دومثل ہوگیا، پھر مغرب اس کے اوّل وقت ہی میں پڑھی (جیسے پہلی بارمیں پڑھی تھی) پھر عشاء اس وقت پڑھی جب ایک تہائی رات گزرگئی، پھرفجراس وقت پڑھی جب اجالا ہوگیا، پھرجبرئیل نے میری طرف متوجہ ہوکر کہا:اے محمد! یہی آپ سے پہلے کے انبیاء کے اوقاتِ صلاۃ تھے، آپ کی صلاتوں کے اوقات بھی انہی دونوں وقتوں کے درمیان ہیں۔( صحيح الترمذي:149)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    گوگل پلس کے سوال وجواب

    جواب از شیخ مقبول احمد سلفی

    سوال (1):اہل بدعت کو جب بدعت پہ خبردار کرتے ہیں یا ان کے متعلق دوسروں کو ان کی خرافات سے بچنے کی دعوت دیتے ہیں تو لوگ اسے مسلمان کے تئیں غیبت قرار دیتے ہیں آپ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں ؟
    جواب : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے منکر کو مٹانے کا حکم دیا ہے لہذا ہمارا کام منکر کو مٹانا ہو۔ منکر میں کفر ، شرک ، بدعت ، خرافات اور فسق و فجور سبھی داخل ہیں ۔ منکر مٹانا اور منکر انجام دینے والوں کا رد کرنا سنت رسول ہے اسے غیبت نہیں کہیں گے۔

    سوال (2): میرا شوہر پردیش میں بنک سے الگ ہوکر حساب وکتاب(آڈٹ) کا کام کرتا ہے ، اس کام میں لوگوں کے اکاؤنٹ کی تفاصیل بتلانی ہوتی ہے نیز ان لوگوں کے سودی قرضے ہوتے ہیں توان کی تفاصیل بھی آڈٹ کرنا پڑتا ہے کیا یہ کام سود کے دائرے میں آتا ہے؟
    جواب : اگر آڈٹ کا کام جنرل ہے یعنی سبھی جائز جگہوں پہ اور ساری عام کمپنیوں کے لئے آڈٹ کرتے ہیں تو اس نوکری میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ برائی کے کاموں پر تعاون سے پرہیز کرنا چاہئے لیکن اگر آڈٹ کا کام صرف سودی بنکوں کے کلائنٹوں کے لئے ہے جن کا اکاؤنٹ چیک کرنا ہوتا ہے تو یہ سود پہ تعاون ہے اور ایسی نوکری جائز نہیں ہے ۔

    سوال (3):سورہ کہف کی انیسویں آیت کا ایک لفظ ہے "ولیتلطف" جس کاترجمہ ہے نرمی سے بات کرنا۔ یہ تھوڑا بڑا کرکے قرآن میں لکھا ہوا ہوتا ہے کیونکہ یہ قرآن پاک کے درمیان میں آتا ہے ۔ مولانا طارق جمیل صاحب کہتے ہیں کہ یہ لفظ پورے قرآن کا خلاصہ ہے اس سلسلے میں ہم آپ سے صحیح رہنمائی چاہتے ہیں ۔
    جواب :یہ لفظ وسط قرآن ہےکہنا صحیح نہیں ہے ۔اکثرمفسرین نے سورہ کہف کی 74 آیت کے لفظ" نکرا "کا نون وسط کہا ہے۔ ہندوستان و پاکستان والوں کا قرآن میں ولیتلطف کو بڑاکرنا اپنی طرف سے زیادتی ہے۔ سعودی کے قرآن میں ایسا نہیں ہے جہاں قرآن اترا بلکہ تفسیر ابن کثیر اور طبری وغیرہ میں اس لفظ پر کوئی بحث موجود نہیں ہےاس لئے اس لفظ کی اپنی جانب سے کوئی خصوصیت ذکر کرنا صحیح نہیں ہے ۔ ولیتلطف کا جو معنی ومفہوم نکلتا ہے بس اسے بیان کرنا چاہئے۔

    سوال (4): مجھے مندرجہ ذیل حدیث کا مفہوم جاننا ہے ۔ " میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: آدمی ( نماز پڑھ کر ) لوٹتا ہے تو اسے اپنی نماز کے ثواب کا صرف دسواں، نواں، آٹھواں، ساتواں، چھٹا، پانچواں، چوتھا، تیسرا اور آدھا ہی حصہ ملتا ہے" ابوداؤد: 796
    جواب : اوپر والی حدیث ابوداؤد کی شرح عون المعبود میں لکھاہے کہ نماز کے ارکان ' شروط اور خشوع و خضوع وغیرہ میں خلل کی وجہ سے نماز کے اجر میں فرق پڑتا ہے۔

    سوال (5):الباقیات الصالحات سے کیا مراد ہے اور اس کی وجہ تسمیہ کیا ہے ؟
    جواب : وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ مَّرَدًّا (مريم:76)
    ترجمہ: اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہے ۔
    یہاں " الباقیات الصالحات" (باقی رہنے والی نیکیاں) سے بعض علماء نے "سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر" کہا ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد تمام قسم کے اعمال صالحہ ہیں ۔
    اورالباقیات الصالحات کی وجہ تسمیہ کے متعلق علماء بیان کرتے ہیں کہ اس کا اجر آدمی کے لئے باقی رہتا ہے اور کبھی وہ فانی نہیں ہوتااس لئے اسے الباقیات الصالحات کہا جاتا ہے۔

    سوال (6): مشروم حلال ہے یا مکروہ ہے ؟
    جواب : یہ زمین سے اگنے والی ایک قسم کی سبزی ہے ۔ اس کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں ، بعض میں انسانی جسم کے نقصان اور بعض جسمانی اعتبار سے مفید ہے ۔ جس قسم کے مشروم میں نقصان دہ کوئی پہلو نہ ہو تو اسے بلا حرح غذا کے طور پر استعما ل کیا جاسکتا ہے۔

    سوال (7): اس حدیث کا مطلب سمجھا دیں.
    اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے رازداری سے مدد لو کیونکہ ہر اُس انسان سے (لوگوں کی طرف سے) حسد کیا جاتا ہے جس پر اللہ کی طرف سے نعمت کی گئی ہو(صحيح الجامع للألباني : 943، السلسلة الصحيحة الألباني : 1453)
    جواب : اگر کسی مسلمان کو اللہ کی طرف سے کوئی نعمت ملے تو اسے بیان کرنا چاہئے اس سے نعمت کی قدر اور اللہ کا شکر ظاہر ہوتا ہے ۔ اللہ نے نبی ﷺ کو اس بات کا حکم بھی دیا ہے۔
    وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ (الضحی:11)
    ترجمہ: اور اپنے رب کی نعمتوں کا تذکرہ کریں۔
    ہاں اگر کسی خاص نعمت کے بیان کرنے سے بغض وحسد کا اندیشہ ہو تو نعمت کا ذکر خصوصیت کے ساتھ نہ کریں بلکہ عمومی انداز میں کریں تاکہ آپ کی اس خاص نعمت کا حاسد کو پتہ نہ چلے جیساکہ اللہ تعالی نے قرآن میں ذکر کیا ہے۔
    قَالَ يَا بُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَى إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا(یوسف:5)
    ترجمہ: یعقوب علیہ السلام نے کہا پیارے بچے ! اپنے اس خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا، ایسا نہ ہو کہ وہ تیرے ساتھ کوئی فریب کاری کریں ۔
    اس آیت میں خواب کی نعمت وبشارت کو اپنے حاسد بھائی سے چھپانے کا ذکر ہے۔
    اورفرمان نبوی ہے ۔
    استعينوا على إنجْاحِ الحوائِجِ بالكتمانِ ؛ فإنَّ كلَّ ذي نعمةٍ محسودٌ(صحيح الجامع:943)
    ترجمہ: لوگوں سے چھپاکر اپنے مقاصد کی کامیابی پرمدد طلب کرو کیونکہ ہر نعمت والا حسد کیا جاتا ہے۔

    سوال (8): ایک عورت نفل روزے کی نیت کی تھی دوپہر کے وقت بھول کر پیٹ بھر کھانا کھا لیا اس کا روزہ ٹوٹ گیا یا کوئی اور حکم ہے ؟
    جواب:فرض روزہ ہو یا نفل بھول کر کھا پی لینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا خواہ کم کھائے یا زیادہ۔

    سوال (9):"سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظيم"سوبار ہی پڑھنا ہے یا اس سے زیادہ بھی پڑھ سکتے ہیں ۔ میری عادت یہ ہے کہ کام کاج کرتے ہوئے پڑھتی رہتی ہوں کبھی 150، تو کبھی دو ڈھائی سو بھی ہوجاتے ہیں کیا ایسا کرنا بدعت کے زمرے میں آئے گا؟
    جواب:ذکرمیں سنت یہ ہے کہ جہاں تعداد وارد ہے وہاں تعداد کے حساب سے ذکر کرنا چاہئے اور جہاں تعداد وارد نہیں وہاں تعداد متعین کرکے ذکر کرنابدعت ہے ۔ اگر کسی ذکر کے لئے مثلا 100 مرتبہ تعداد متعین ہے تو آپ بغیر تعیین کے 100 سے زائد بار بھی ذکر کرسکتے ہیں مگر 100 سے زائد بار متعین کرکے ذکر کرنا بدعت کہلائے گا۔ بطور مثال آپ نے 100 دفعہ والے ذکر کو150 فکس کرکے ذکر کرنا شروع کیا تو بدعت ہے مگر یونہی 150 ، 200 یا اس سے زیادہ ہوجائے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔

    سوال (10): اگر کوئی عورت فجر کے بعد دو رکعت اشراق پڑھنا چاہے اور سورج نکلنے تک ٹیک لگا کر ذکر کرتی یہاں تک کہ دو رکعت ادا کرلے تو کیا اسے پورے حج وعمرہ کا ثواب ملے گا اورکیا جگہ تبدیل کرنے سے پورے حج اور عمرہ کا ثواب نہیں ملتا ہے ؟
    جواب:حج و عمرہ کا ثواب اس کو ملے گا جس نے فجر کی نماز جماعت سے ادا کی اور وہ وہیں بیٹھا ذکر کرتا رہا ۔شیخ ابن باز نے کہا کہ اس میں عورت بھی داخل ہے مگر شیخ ابن عثیمین نے کہا کہ اس میں عورت داخل نہیں ہے کیونکہ وہ جماعت سے نماز نہیں پڑھتی ،ہاں اگر نماز پڑھ کر وہیں بیٹھی رہی اور ذکر کرتی رہی پھر دو رکعت نماز ادا کی تو خیر و بھلائی ہے۔

    سوال (11): قرآن حفظ کرنے کے دوران ایک سورہ کو کئی دفعہ دہرانا ہوتا ہے تو ہر بار شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھیں گے یا نہیں؟
    جواب: قرآن شروع کرتے وقت ایک بار بسم اللہ کہیں گے اور وہ بھی وہاں پرجہاں بسم اللہ آیا ہے یعنی سورت کے شروع میں مگر ہم نے درمیان سورت سے قرآن پڑھنا شروع کیا ہے تو صرف تعوذ یعنی اعوذ باللہ کہنا ہے۔

    سوال(12): کیا إسرائيل یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا اگر ہاں تو اس طرح کہنا اسرائیل دہشت گرد ہے، اسرائیل خائن ہے، اسرائیل ناحق خون کررہا ہے، اسرائیل ظالم ہے وغیرہ کیسا ہے ؟
    جواب: اسرائیل کو برا بھلا نہیں کہنا چاہئے بلکہ یہودی اور صہیونی کو گالی دینا چاہئے کیونکہ اسرائیل یعقوب علیہ السلام کا نام تھا۔

    سوال(13): یہودیوں کے ظلم اور مکاری کی وجہ سے ہم یہودی پروڈکٹ کا بائیکاٹ کرتے ہیں لیکن پھر بھی کچھ چیزیں جو دوسری کمپنی کا حلال نہیں لیکن یہودی کمپنی کا حلال ہے(مثلاً nescafe یہودی کمپنی osem کے ساتھ شئیر ہے لیکن اسکی coffee کا ingredients حلال ہے) تو کیا یہ بائیکاٹ درست ہے اور کیا ہم اسی طرح یہودی یا کسی غیر مسلم کے حلال پروڈکٹ خرید سکتے ہیں؟
    جواب: اگر یہودی مصنوعات کا بدل موجود ہے جو مسلمانوں کی تیار کردہ ہے تو اسے استعمال کرنا بہتر ہے تاکہ مسلم تجارت کی مدد ہو لیکن بدل نہیں موجود ہے کافروں کی تیار کردہ ہے تو یہودی یا ہندو یا دوسرے کافر سارے اسلام کے دشمن ہیں ، مجبوراان سب کا حلال سامان استعمال کرسکتے ہیں ۔ ہاں اگر یہودی سے متعلق سارے مسلمان کسی خاص پس منظر میں مثلافلسطینی مسلمان پرظلم کے پس منظر میں اس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہئے تو ہمیں ایک دوسرے مسلمان کا ساتھ دیتے ہوئے یہودی مصنوعات کابائیکاٹ کرنا چاہئےتاکہ تجارتی گھاٹے سے یہودی کو سبق ملے ۔

    سوال(14): اکثر غیر مسلموں کے تہوار پر بعض چیزیں آفراور ڈسکاؤنٹ پر ملتی ہیں، آن لائن یا آف لائن ہر جگہ یہی حال ہے تو کیا ہمیں غیر مسلموں کے تہوار پر ڈسکاؤنٹ میں ملنے والی چیزیں لینی چاہئے جبکہ ہم عام دنوں میں بھی وہ چیزیں خریدتے ہیں؟
    جواب: تہوار کے موقع سےاس قسم کے آفر سے فائدہ اٹھانے پر کوئی حرج نہیں ہے۔

    سوال(15):جب گھر میں بڑے بزرگ بے نمازی یا بے دین ہوتو چھوٹا آدمی اسے کیسے سمجھائے ؟
    جواب: اپنے سے بڑوں کو سمجھنا واقعی ذرا مشکل ہے، ہمیں حکمت سے برابر سمجھاتے رہنا چاہئے ماننا نہ ماننا ان کا کام ہے ، ہم نے حکمت کے ساتھ ان پر صحیح بات پیش کردی تو ہمارا فریضہ ادا ہوگیا اللہ تعالی ہم سے اس فریضہ کے بارے میں سوال نہیں کرے گا۔ ساتھ ساتھ ان کی ہدایت کے لئے دعا کرتے رہیں ، آپ سے نہ سمجھ پائے تو دوسروں کے ذریعہ سمجھائیں یا دینی پروگرام میں لے جائیں ۔یعنی اپنی بساط بھر کوشش کریں ۔

    سوال (16) : ایک خاتون اپنے بریلوی شوہر سے خلع لینا چاہتی ہے جب عورت شوہر سے خلع لے گی تو کیا خاوند عورت کو خرچ دے گا اور اولاد کس کے پاس رہے گی؟
    جواب : شرعی عذر کے بنیاد پرشوہر سے خلع لینا جائز ہے ، خلع لینے کے بعد عورت ایک حیض جہاں چاہے عدت گزارے گی اور اس عورت کے لئے سابق شوہر کی طرف سے نہ رہائش ہے اور نہ ہی خرچ تاہم اگر وہ حاملہ ہوتو وضع حمل تک نان ونفقہ اور رہائش ہے۔
    اسلام میں عورت کو ہی بچے کی پرورش کا زیادہ حق ملا ہے لیکن عورت عدت گزارکر کسی اور مرد سے دوسری شادی کرلے تو اس صورت میں بچے کی پرورش کا حقدار بچوں کاباپ ہوگا اور جب بچہ باشعور ہوجائے تو اسے اختیار ہے ماں باپ میں سے جسے اختیارکرے ۔ بچہ ولادت کے بعد جہاں بھی رہے اس وقت سے بلوغت تک اس کا خرچ باپ کے ذمہ ہے ۔

    سوال (17): کیا درود پڑھتے وقت اپنی جانب سے کچھ الفاظ اضافہ کردینا بدعت تو نہیں مثلا اللھم صلی علی سیدنا محمد ۔اس میں سیدنا کا لفظ زیادہ ہے اس کا کیا حکم ہے؟
    جواب : درود پڑھنے میں انہیں الفاظ کا استعمال کرنا چاہئے جن کی نبی ﷺ نےہمیں تعلیم دی ہے البتہ مختصرا نبی ﷺ پر درود پڑھتے ہوئے بغیر تعیین کے مناسب الفاظ استعمال کئے جائیں تواس میں کوئی حرج نہیں ہے مثلا یہاں سید کا لفظ مناسب ہے اسے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ حرج اس میں ہے کہ کوئی شخص اپنی جانب سے درود کے الفاظ وضع کرلے اور اسے ہی مخصوص کرکے پڑھتا رہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  14. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    آپ کے شرعی مسائل اور ان کا حل
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ​

    جواب از شیخ مقبول احمد سلفی

    سوال (1): کیا کوئی مرنے سے پہلے یہ وصیت کرسکتا ہے کہ میرے جنازے میں بدعتی لوگ شریک نہ ہوں ؟
    جواب : میت کو ایسی وصیت نہیں کرنی چاہئے جس کا نفاذ اس کے وارثین کے لئے طاقت سے باہر ہو اور بدعتی کی جنازے میں عدم شرکت کی وصیت کا نفاذ کرنا بہت ہی مشکل امر ہے ۔ ہاں میت یہ وصیت کرسکتا ہے کہ مجھے بدعتی لوگ غسل نہ دیں، میرےجنازہ کو کندھا نہ دیں ،نہ ان میں سے کوئی میری نماز جنازہ پڑھائے اور نہ ہی قبر میں اتارے۔

    سوال(2): ایک حدیث میں نبی ﷺ نے دعا کی ہے کہ مجھے مسکین کی حالت میں زندہ رکھ اور مسکین کی حالت میں وفات دے اس کا کیا مطلب ہے ؟
    جواب : یہ بات صحیح ہے کہ نبی ﷺ نے مسکین کی حالت میں زندہ رہنے اوروفات پانے کی اللہ سے دعا کی ہے ۔ ترمذی میں نبی ﷺ کی یہ دعا اس طرح ہے ۔
    اللَّهمَّ أَحيِني مِسكينًا، وأَمِتْني مِسكينًا، واحشُرني في زُمرةِ المساكينِ يومَ القيامَةِ، فقالَت عائِشةُ: لِمَ يا رسولَ اللهِ؟ قال: إنَّهم يَدخُلون الجنَّةَ قبلَ أغنيائِهم بأربعين خريفًا، يا عَائشةُ، لا ترُدِّي المِسكينَ ولو بشِقِّ تَمرةٍ، يا عائشةُ، أحِبِّي المساكينَ، وقَرِّبيهم؛ فإنَّ اللهَ يقرِّبُكِ يومَ القيامَةِ(صحيح الترمذي:2352)
    ترجمہ: یااللہ! مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ اور مسکینی کی حالت میں وفات دے اور قیامت کے روز مسکینوں کے زمرے میں اٹھا، ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے دریافت کیا اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ آپ نے فرمایا:اس لیے کہ مساکین جنت میں اغنیاء سے چالیس سال پہلے داخل ہوں گے، لہٰذا اے عائشہ کسی بھی مسکین کو دروازے سے واپس نہ کرو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی سہی، عائشہ! مسکینوں سے محبت کرو اوران سے قربت اختیار کرو، بیشک اللہ تعالیٰ تم کو روز قیامت اپنے سے قریب کرے گا۔
    شارح ترمذی شیخ مبارک پوری رحمہ اللہ نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ مسکنت :ذلت وعاجزی کو کہتے ہیں ،یہاں نبی ﷺ کا مقصود تواضع اور اپنے رب کے لئے عاجزی کا اظہار ہے ۔ اس سے نبی ﷺ اپنی امت کو تواضع اختیار کرنے اور کبروغرور سے دور رہنے کی تعلیم دیتے ہیں ۔تو یہاں اس قسم کے مسکین کے درجات کی بلندی اور ان کا اپنے رب سے قربت پر متبنہ کرنا مقصود ہے۔

    سوال (3): کیا سفید بال چھوڑے رکھنا سنت کی مخالفت ہے ؟
    جواب : بخاری شریف میں وارد ہے :إن اليهودَ والنصارى لا يصبُغون ، فخالفوهم(صحيح البخاري:3462)
    ترجمہ: بے شک یہود ونصاری اپنے بالوں کو نہیں رنگتے ہیں ،تم ان کی مخالفت کرو۔
    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہمیں اپنے سفید بالوں میں خضاب لگانا چاہئے اور کالے خضاب سے منع کیا گیا ہے۔
    سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے روز ( سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد ) ابوقحافہ کو لایا گیا تو ان کے سر اور ڈاڑھی کے بال ثغامہ بوٹی کی مانند سفید تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:غيِّروا هذا بشيءٍ ، واجتَنِبوا السَّوادَ(صحيح مسلم:2102)
    ترجمہ: انہیں کسی رنگ سے بدل دو اور سیاہی سے بچو ۔

    سوال (4): کیا حاجت کی نماز صحیح احادیث سے ثابت ہے ، اگر ثابت ہے تو اس کا طریقہ کیا ہے ؟
    جواب : سب سے پہلے ایک بات جان لیں کہ حاجت کے نام سے جو نماز لوگوں میں مشہور ہے وہ نماز صحیح احادیث سے ثابت نہیں ہے اس لئے نماز حاجت یا صلاۃ الحاجہ کی کوئی مخصوص نماز نہیں ہے البتہ اللہ کی کتاب اور محمد ﷺ کی تعلیمات سےعمومی طور پر پتہ چلتا ہے کہ کسی آدمی کو دعا کرنا ہو تو اس سے پہلے دو رکعت نماز ادا کرسکتا ہے اور اسی طرح کوئی دشوار معاملہ درپیش ہو یا کوئی پریشانی کا سامنا ہو دوگانہ ادا کرکے رب سے دعائیں کرسکتا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے :يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ (البقرۃ:153)
    ترجمہ: اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعہ مدد چاہو،اللہ تعالی صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے ۔
    اسی طرح صحیح حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺکو کوئی غم لاحق ہوتا تو نماز پڑھتے۔
    عن حذيفةَ قالَ كانَ النَّبيُّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ إذا حزبَهُ أمرٌ صلَّى(صحيح أبي داود:1319)
    ترجمہ: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی غم لاحق ہوتا تو نماز پڑھنے لگتے تھے ۔

    سوال (5): کبار علماء سے کیا مراد ہے اس زمرے میں کس قسم کے علماء داخل ہیں ؟
    جواب : علمائے کبار انہیں کہتے ہیں جو علم وبصیرت اور ثقاہت وفقاہت میں بڑے ہوں ۔ ان کی پہچان یہ ہے کہ قرآن سنت کی دعوت وبصیرت (علی منہج السلف) حاصل کرنے کے لئے خلق کبیر ان کی طرف التفات کرے۔

    سوال (6): ایک آدمی کو پیشاب کی بیماری ہے اس نے ایک وضو سے ایک وقت کی نماز پڑھی ، دوسری نماز سے پہلے پیشاب کے قطرے آگئے تو کیا اسے وضو کرنا پڑے گا جبکہ نہ تو اس نے پیشاب کیا ہے ،نہ ہی پاخانہ کیا ہے اور نہ سویا یا ہوا خارج ہوئی ؟
    جواب : جنہیں پیشاب کی بیماری ہو انہیں ہر نماز کے لئے نیا وضو کرنے کی ضرورت ہے خواہ اس نے ناقض وضو کاارتکاب کیا ہو یا نہیں کیا ہو۔

    سوال(7): کیا عام آدمی کے بھی خواب سچے ہوتے ہیں ؟
    جواب : خواب سچے بھی ہوتے ہیں اور ایک عام آدمی بھی سچا خواب دیکھ سکتا ہے ۔جب کبھی ہمیں خواب میں کوئی اچھی چیز دکھائی دے تو جو خواب کے ماہرین ہیں ان سے رجوع کرکے اس کی تعبیر جاننی چاہئے ۔ ہر کسی سے خواب بیان نہ کریں اور برے خواب کسی سے بھی نہیں ۔ نبی ﷺکا فرمان ہے:
    الرؤيا ثلاثٌ فبُشرَى مِن اللهِ وحديثُ النَّفسِ وتخويفُ من الشَّيطانِ فإن رأى أحدُكُم رؤيا تُعجبُه فليقصَّ إنْ شاءَ وإنْ رأى شيئًا يكرهُهُ فلا يقصُّهُ على أحدٍ وليقُمْ يُصلِّي(صحيح ابن ماجه:3168)
    ترجمہ: خواب تین قسم کا ہوتا ہے۔ ایک اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ خوشخبری ہے۔ دوسرا دل کے خیالات اور تیسرا شیطان کا ڈرانا ہے۔ لہذا اگر کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے اچھا لگے ، اگر چاہے تو اسے بیان کرے اور اگر کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو اسے کسی سے بیان نہ کرے اور اٹھ کر نماز پڑھ لے ۔

    سوال (8): جس طرح محمد ﷺ کوکلمہ ملا کیا باقی انبیاء کو بھی کوئی کلمہ ملا ، اس کے الفاظ کیا تھے ؟
    جواب : سارے ابنیاء کا کلمہ " لاالہ الااللہ " ہے ۔ نوح علیہ السلام نے وفات کے وقت اپنے بیٹے کولاالہ الااللہ کی وصیت کی ۔ (صحیح الادب المفرد:426)۔موسی علیہ السلام نے اللہ سے کچھ سکھانے کو کہا تو اللہ نے انہیں لاالہ الااللہ کی تعلیم دی اور سارے انبیاء نے جو سب سے بہترین دعا کی ہے وہ عرفہ کی دعا ہے ۔
    لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وحدَهُ لا شريكَ لَهُ، لَهُ الملكُ ولَهُ الحمدُ وَهوَ على كلِّ شَيءٍ قديرٌ(صحيح الترمذي:3583)

    سوال (9): تہجد کی نماز آٹھ رکعت ہے لیکن اگر کوئی تہجد کی صرف دو چار رکعتیں پڑھنا چاہے تو کیا پڑھ سکتا ہے ؟
    جواب : رات کی نماز دو دو رکعت ہے جس قدر چاہیں دو دو رکعت کرکے قیام اللیل کرسکتے ہیں ۔ اس میں کوئی حر ج نہیں ہےکہ کوئی دو پڑھے ، کوئی چار پڑھ لے ،کوئی اس سے زیادہ پڑھے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    صلاةُ الليلِ مثنى مثنى ، فإذا خشي أحدُكم الصبحَ صلى ركعةً واحدةً ، توتِرُ له ما قد صلى.(صحيح البخاري:990 و صحيح مسلم:749)
    ترجمہ : رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور اگر تم میں کسی کو صبح ہوجانے کا اندیشہ ہو، اور وہ ایک رکعت پڑھ لے، تو یہ اس کی پڑھی ہوئی نماز کے لئے وتر ہوجائیگی۔

    سوال(10): موجودہ زمانے میں خریدوفروخت کے لئے کئی قسم کے کارڈ استعمال ہوتے ہیں مثلا ڈیبٹ کارڈ، کریڈٹ کارڈ، بزکارڈ وغیرہ مجھے جاننا یہ ہے کہ کیا کریڈیٹ کارڈ کا استعمال کرسکتا ہوں ؟
    جواب : کریڈٹ کارڈ اصل میں قرض پر نفع حاصل کرنے کی غرض سے جاری کیا جاتا ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ قرض پر نفع حاصل کرنا سود ہے اس وجہ سے کریڈٹ کارڈ کا استعمال جائز نہیں ہے ۔

    سوال(11): نکاح کے موقع پر چھوہارا تقسیم کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
    جواب : نکاح کے بعد چھوہارا تقسیم کرنا رسول اللہ یا اصحاب رسول اللہ کی سنت نہیں ہے یہ محض رسم ہے اسے ہٹانا بہتر ہے کیونکہ اس کی وجہ سے اکثرجگہوں پر تنازع ہوتا ہے ۔ بیہقی کی روایت اس روایت کو شیخ البانی نے موضوع کہا ہے۔ : كان إذا زوَّج أو تزوَّج نثَر تمرًا. ( السلسلة الضعيفة:4198)
    ترجمہ: جب نبی ﷺ شادی کرتے یا کراتے تو کھجور تقسیم کرتے ۔

    سوال(12): ایک آدمی عمرہ کی نیت سے احرام باندھا اور عمرہ کرنے سے قبل راستہ میں ہی بیمار ہوگیا ، اس نےاحرام اتار دیا اور ہاسپیٹل سے علاج کرایا، اس وقت وہ حدود میقات یعنی جدہ میں ہے وہ کہاں سے احرام باندھے اورکیسے عمرہ کرے ؟
    جواب : احرام حج یا عمرہ میں داخل ہونے کی نیت کو کہتے ہیں اور اسے احرام کا کپڑا نہیں اتارنا چاہئے تھا اسی کپڑے میں علاج کراتا۔ بہر حال وہ ابھی تک محرم ہے ،اسے دوبارہ احرام باندھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اپنی جگہ سے احرام کا لباس لگاکر عمرہ کرنے چلا جائے اور اس سے پہلے احرام کی ممنوعات میں سے جس کا ارتکاب کیا ہے وہ جہل کی بنیاد پر ہے اس وجہ سےاس پر کوئی فدیہ نہیں ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  15. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    آپ کے مسائل اور ان کا شرعی حل

    جوابات از شیخ مقبول احمد سلفی

    (1) میں کبھی کبھار گھر میں وتر کی نماز پڑھتا ہوں کیا یہ صحیح ہے اور کبھی کبھار اس میں دعا پڑھنا بھول جاتا ہوں تو کیا مجھے آخر میں سجدہ سہو کرنے کی ضرورت ہے ؟
    جواب : وتر کی نماز مسجد اور گھر کہیں بھی پڑھ سکتے ہیں ، یہ رات کی آخری نماز ہے اور اس میں دعائے قنوت بھول جانے پر سجدہ سہو کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ واجب نہیں سنت ہے اورنماز میں سنت چھوٹ جانے پر سجد ہ سہو نہیں ہے ۔

    (2) آج کل گاڑی کی سہولت کی وجہ سے کچھ لوگ گاؤں کی مسجد چھوڑ کر جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے دور والی بڑی مسجدمیں جاتے ہیں جہاں زیادہ مصلی اور مشہور خطیب ہوتے ہیں ایسا عمل شریعت کی روشنی میں کس حد تک درست ہے ؟
    جواب : اپنے قریب کی جامع مسجد کو چھوڑ کر دور والی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے کی غرض سے جانے میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے جبکہ اس سے مقصد بڑی جماعت میں شمولیت، کثرت قدم اور باصلاحیت خطیب سے استفادہ ہو ۔ ہاں اگر قریبی جامع مسجد کے امام سے تنفر یا مسجد کمیٹی کے ذمہ داران سے تنازع یا مسجد کے اندر آنے والے کسی دوسرے فرد سے ناراضگی کے سبب ہو تو پھر دور جانا صحیح نہیں ہے اور میرے خیال سے شہروں میں قریبی مسجد چھوڑ کر دور جانے میں عام لوگوں کے لئے تشویش نہیں ہے مگر قصبہ اور گاؤں کی مسجد کو چھوڑ کر دوسرے گاؤں یا شہر جاکرہمیشہ نماز جمعہ ادا کرنے میں عام لوگوں کے لئے خلجان اور سوء ظن کا باعث ہے ایسی صورت میں آدمی قریبی مسجد میں جمعہ پڑھے اور کبھی باہر چلا جائے تو کوئی حرج نہیں ۔

    (3) جمعہ کی نماز کے بعد کتنی رکعت ہے اور کیا جمعہ کے بعد چار رکعت فرض پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے جو ظہر کے نام سے ہو؟
    جواب : نماز جمعہ کے بعد دو یا چار رکعت پڑھنا چاہئے اور جمعہ کے بعد ظہر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ جمعہ کے دن ظہر کے وقت جمعہ کی نماز ہے جس کی ادائیگی سے نماز ظہر کی فرضیت ختم ہوجاتی ہے ۔گاؤں دیہات میں بعض لوگ ظہر احتیاطی کے نام سے چار رکعت ادا کرتے ہیں یہ دین میں سراسر بدعت ہے ۔

    (4) دین سکھانے کے لئے نبی ﷺ نےستر قراء کو بھیجا تھا جنہیں منافقین نے قتل کردیا تو نبی ﷺ نے ان منافقین کے حق میں بددعا کی تھی ، اللہ نے ان منافقوں کا کیا حشر کیا؟
    جواب : بئر معونہ کے پاس عامر بن طفیل کے شہ پر بنوسلیم کے قبائل عصیہ ، رعل اور ذکوان نے تقریبا ستر صحابہ کرام کو شہید کردیا ۔ آپ ﷺ کو جب اس واقعہ کی خبر ہوئی تو سخت غمگین ہوئے شاید اتنے غمگین کبھی نہ ہوئے تھے ۔ اسی لئے آپ نے مسلسل ایک مہینے تک قبائل بنوسلیم پر بد دعا کی ۔ اسی دوران اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ جو رب سے جاملے ان سے ہم اور ہم سے وہ راضی ہیں تب نبی ﷺ نے قنوت نازلہ چھوڑ دی ۔ ان مناقوں کے لئے اس سے برا حشر کیا ہوگا کہ نبی ﷺ نے ان پر تیس دن تک لعنت بھیجی اور آخرت میں جہنم کا سب سے نچلہ درجہ پہلے سے متعین ہے ۔

    (5) یہودیوں کے بارے میں سنتا ہوں کہ اسے تابوت سکینہ ملا تھا کیا یہ سچ ہے یا کہانی ہے ؟
    جواب : یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن میں تابوت کا ذکر آیا ہے مگر اس سے لوگوں نے بڑے قصے گھڑ لئے ۔ اللہ کا فرمان ہے :
    وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ آيَةَ مُلْكِهِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِمَّا تَرَكَ آلُ مُوسَى وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ ۚ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ(البقرۃ:248)
    ترجمہ: ان کے نبی نے پھر کہا کہ اس کی بادشاہت کی ظاہری نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلجمعی ہے اور آل موسیٰ اور آل ہارون کا بقیہ ترکہ ہے۔ فرشتے اسے اٹھا کر لائیں گے۔ یقیناً یہ تمہارے لئے کھلی دلیل ہے اگر تم ایمان والے ہو۔‏
    واقعہ یہ ہے کہ ایک پیغمبر نے نیک و صالح بندے طالوت جو اس کی قوم سے نہیں تھے ان کے بادشاہ ہونے کی خبر دی جسے اللہ نے بادشاہت دی مگر قوم نہ مانی اور کوئی نشانی کا مطالبہ کیا تو مذکورہ بالا آیت کے ذریعہ اللہ نے اس نشانی کی خبر دی کہ حضرت طالوت کی بادشاہت کی نشانی یہ ہے کہ اس کے پاس بنی اسرائیل کا گم شدہ تابوت ہوگا جس میں موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے آثار و تبرکات ہوں گے ۔ چنانچہ اللہ نے اس تابوت کو طالوت کے گھر پر ظاہر کردیا ، اس سے نبی اسرائیل خوش ہوگئے ۔ تو یہ اللہ کی طرف سے ایک نشانی تھی جو نبی کے ذریعہ ایک صالح بندہ کو ملی ۔ اس نشانی میں موجودہ زمانے کے صوفیوں کے لئے غیراللہ کے لئے نذرونیاز، مردو ں سے استغاثہ اور اولیاء سے حاجت روائی کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔

    (6) نبی اور رسول میں کیا فرق ہے ؟
    جواب : نبی اور رسول میں فرق سے متعلق علماء کے درمیان کئی اقوا ل ہیں ۔ کسی نے کہا نبی وہ ہے جنہیں شریعت تو دی گئی مگر تبلیغ کا حکم نہیں ہوا اور رسول کو تبلیغ کا حکم ہوا۔ کسی نے کہا نبی وہ ہے جنہیں الگ سے کوئی شریعت نہ دی گئی ہو سابقہ شریعت کی تبلیغ کرے اور رسول کو مستقل شریعت کی تبلیغ کا حکم ملا ہو۔ بعض نے کہا رسول کافروں کی طرف بھیجے جاتے ہیں اور نبی ایسی قوم کی طرف جو کسی پیغمبر پر پہلےسے ایمان لاتی ہو انہیں تعلیم دینے کے لئے بھیجے جاتے ہیں ۔

    (7) کیا کوئی مرنے کے بعد پردہ کرجاتا ہے جیساکہ بعض مسلمان صالحین اور نیک لوگوں کے بارے میں اس قسم کا عقیدہ رکھتے ہیں،اسی عقیدے کی بنیاد پر ان سے استغاثہ کرتے ہیں ؟
    جواب : قرآن وحدیث میں بے شمار دلائل ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ سارے لوگ مر جائیں گے کوئی بھی نہیں بچے گا ۔ موت سے نہ توا ولیاء مستثنی ہیں اور نہ ہی انبیاء حتی کہ فرشتوں کو بھی موت آنی ہے ۔ پھر کون ایسا انسان ہے جس کی الگ سے خصوصیت بیان کی گئی ہے کہ اسے موت نہیں آئے گی اور اس کی کیا دلیل ہے ؟ ظاہر سی بات ہے کہ پورے قرآن اور حدیث کے پورے ذخیرہ میں نہ تو عبدالقادر جیلانی کے لئے موت سے استثناء آیا ہے ، نہ معین الدین چشتی کے لئے ، نہ نظام الدین اولیاء کے لئے اور نہ ہی کسی دوسرے پیرومرشد کے لئے ۔ دنیائے فانی کی یہی تو حقیقت ہے کہ یہاں سے سب کو فنا ہونا ہے ۔ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے ۔ پھر ایک دن صور پھونکا جائے گا اور مرے ہوئے سارے لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے ۔ دوبارہ زندہ کئے جانے کا عقیدہ ہمیں کافروں کے اس خیال سے ممتاز کرتا ہے کہ انہیں دوبارہ زندہ کئے جانے اور اخروی دنیا پر یقین نہیں ۔ لہذا کسی کے بارے میں یہ کہنا وہ پردہ فرماگئے ، یا فلاں بزرگ نے بس جگہ بدل لی یا فلاں صاحب کی وفات نہیں ہوئی بس ان کا وصال ہوا ہے صحیح نہیں ہے ۔ ہمیں یہ کہنا کہ فلاں کی وفات ہوگئی یعنی کسی کی وفات میں ذرہ برابر شک نہیں کرنا ہے اور یہ عقیدہ رکھنا ہے کہ جو وفات پاگئے وہ ہماری کچھ بھی مدد نہیں کرسکتے کیونکہ وہ ہماری پکار سے غافل ہیں ۔

    (8) بعض علماء موبائل سے لی گئی تصویر کو جائز کہتے ہیں اس بارے میں آپ کا موقف کیا ہے ؟
    جواب : موبائل سے لی گئی تصویر بھی ان تصویروں میں داخل ہے جن کی شریعت میں ممانعت ہے ۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ تصویروں کی حرمت میں جو مصالح ہیں وہ موبائل سے لی گئی تصویروں میں بھی بدرجہ اتم موجود ہیں ۔ لہذا ضرورت سے زائد تصویر لینے سے پرہیز کی جائے خواہ موبائل سے ہی کیوں نہ ہو۔

    (9) جو علماء تصویروں کے جواز کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں کہ ضرورت کی حد تک جائز ہے مجھے اس ضرورت کی حد کیا ہے اسے جاننا ہے ۔
    جواب : ضرورت کی حد یہ ہے کہ جہاں اور جس کام میں آپ کو تصویر کی ضرورت ہے اس کے بغیر وہ کام نہیں ہوگا وہ ضرورت کے اندر داخل ہے مثلا بطور شناخت آئی کارڈ، پاسپورٹ ، فارم وغیرہ

    (10) ہمیں معلوم ہے کہ کسی کی تعظیم کے لئے کھڑا نہیں ہونا چاہئے جبکہ بعض مدارس ہی میں استاد کی آمد پر طلبہ کھڑے ہوتے ہیں ایسا کیوں ہے ؟
    جواب : کسی کی تعظیم میں کھڑا ہونے سے نبی ﷺ نے منع کیا ہے ۔آپ ﷺ کا فرمان ہے :
    مَن سرَّهُ أن يتمثَّلَ لَهُ الرِّجالُ قيامًا فَليتَبوَّأ مَقعدَهُ منَ النَّارِ(صحيح الترمذي:2755)
    ترجمہ: جسے شخص یہ بات خوش کرے کہ لوگ اس کے لئے احتراما کھڑے ہوں پس وہ اپنا ٹھکانا جھنم میں بنا لے۔
    لہذا ذمہ داران مدارس کو چاہئے کہ نوٹس کے ذریعہ اس عمل کا خاتمہ کریں ۔

    (11) ایک گھر میں ایک دن آگے پیچھے دو لڑکوں کی شادی ہے ، گھروالے سوچ رہے ہیں کہ دونوں کی شادی کے بعد ایک ساتھ ولیمہ کریں گے کیا اسلام میں اس کی گنجائش ہے ؟
    جواب : جس نے شادی کی ہے اسے چاہئے کہ وہ ولیمہ کرے اور اگر دو آدمیوں کی شادی ہوئی ہے تو دونوں کو ولیمہ کرنا چاہئے ۔ کسی کا ولیمہ دوسرے سے معلق نہیں ہے ۔ نکاح کے بعد جب لڑکی کی رخصتی ہوجائے تو ولیمہ کیا جائے ۔ برصغیر میں مشترکہ خاندانی نظام کی وجہ سے دعوت کھلانے میں دشواری ہے اس دشواری کی وجہ سے اگر دونوں شاد ی کا ولیمہ ایک ساتھ کیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے اور ولیمہ میں کچھ تاخیر ہوجانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ۔

    (12) رکوع سے جب سر اٹھاتے ہیں تو رفع الدین رکوع سے اٹھتے وقت کرتے ہیں یا اٹھنے کے بعد سیدھے کھڑے ہوکر؟
    جواب : رکوع سے اٹھنے کے وقت رفع یدین کے سلسلے میں جو الفاظ وارد ہیں ان میں یہ ہے کہ آپ ﷺ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع یدین کرتے ، کسی میں ہے جب آپ سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو رفع یدین کرتے ، کسی میں ہے پہلے سمع اللہ لمن حمدہ کہہ لیتے پھر رفع یدین کرتے۔ ان سب سے پتہ چلتا ہے کہ جھکے جھکے رفع یدین نہیں کرنا ہے بلکہ رکوع سے قیام میں انتقال کرتے وقت سیدھا ہوتے ہوئے رفع یدین کرنا ہے ۔

    (13) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس دن سفر کرنا پسند کرتے تھے، کیا اس حوالے سے ہم تک کوئی بات پہنچی ہے؟
    جواب : ویسے کسی بھی دن سفر کرنا جائز ہے البتہ نبی ﷺ جمعرات کو دن کے پہلے پہر میں زیادہ تر سفر کیا کرتے تھے ۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
    لقَلَّما كان رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يخرجُ إذا خرجَ في سفرٍ ، إلا يومَ الخميسِ.(صحيح البخاري: 2949)
    ترجمہ:بہت کم ہی ایسا ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات کے علاوہ کسی اور دن سفر پر نکلتے۔
    سیدنا صخر ‏غامدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
    وَكانَ إذا بَعثَ سريَّةً أو جيشًا بَعثَهُم من أوَّلِ النَّهارِ(صحيح أبي داود:2606)
    ترجمہ: آپ ﷺ کو کوئی مہم یا لشکر روانہ کرنا ہوتا تو انہیں دن کے پہلے پہر روانہ کیا کرتے۔

    (14) ایک شخص نے دو سگی بہنوں سے ایک ساتھ نکاح میں جمع کیا ان سے بچے پیدا ہوئے کیا ان بچوں سے شادی کرنا جائز ہے ؟
    جواب : سورہ نساء کی آیت نمبر تئیس میں دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنے سے منع کیا گیا ہے جس نے ایسا کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کی مخالفت کی ہےاور دوسری شادی باطل وحرام ہے ۔ اگر ایسا کوئی مسلمان آدمی موجود ہے جس کی زوجیت میں دو بہنیں ایک ساتھ ہیں تو آخری بیوی کو شوہر سے جدا کیا جائے گا اور جو ان سے بچے پیدا ہوئے انہیں اپنے والدین کی طرف ہی منسوب کیا جائے گااور ان پر ولدالزنا کا حکم نہیں لگے گا ۔ ان بچوں سے شادی کرنا بالکل جائز ہے ، گناہ کا بوجھ اس پر ہے جس نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے ۔

    (15) نکاح کے بعد جس لڑکی کی رخصتی ہوئی وہ شوہر کے گھر آئی اور شوہر نے خلوت تو کیا مگر جماع نہیں کیا اور طلاق دیدیا کیا اس لڑکی پر عدت ہے ؟
    جواب : ہاں اس لڑکی پر عدت ہے کیونکہ بیوی کے ساتھ خلوت جماع کے مقدمات میں سے ہے ۔نکاح کے بعد جس لڑکی کی رخصتی ہوگئی اور شوہر نے اس سے جماع کیا یا صرف خلوت(تنہائی) اختیار کیا اور شوہر نے طلاق دیدیا تو اس لڑکی کے لئے مہر اور عدت ہے ۔ ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کا فیصلہ ہے :
    أنَّ مَن أغلَقَ بابًا أو أرْخَى سِترًا فقد وجَب المَهرُ ووجَبَتِ العِدَّةُ( إرواء الغليل:1937)
    ترجمہ: بے شک جس نے دروازہ بند کرلیا یا پردہ گرا لیا تو مہر واجب ہوگیا اور عدت بھی واجب ہوگئی ۔

    (16) ایک عورت حمل سے ہے اور مدت حمل چھ ماہ ہے۔ ڈاکٹر کی رپورٹ کے مطابق بچہ کا گردہ کام نہیں کررہاہے اور بچہ کا ہاتھ بھی سوج رہا ہے اگر آپریشن کرکے بچہ کو باہر نہیں نکالا گیا تو ماں کی جان خطرے میں پڑسکتی ہے، ایسی صورت میں کیا کرنا چاہئے ؟
    جواب :پہلی بات یہ ہےکہ برصغیر میں آپریشن کے معاملے میں بہت سارے ڈاکٹر لوگوں کو جھانسہ دیتے ہیں اور باطل طریقے سے مال اینٹھتے ہیں یعنی آپریشن کی صورت نہیں ہوتی ہے مگر زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی غرض سے آپریشن کی صلاح دیتے ہیں بلکہ بہت سی جگہوں پر زبردستی آپریشن کردیا جاتا ہے۔ اگر واقعی صورت حال ایسی ہے جیساکہ اوپر مذکور ہے تو اس صورت میں عورت کا آپریشن کرنا ضروری ہے تاکہ اس کی جان بچ سکے ۔ اس آپریشن میں بچے کی جان کا خطرہ ہو تو بھی ماں کو بچے پر ترجیح دی جائے گی ۔

    (17)کیا آر ٹی او کا کام کیا جاسکتا ہے جس میں ایجنٹ لوگوں کا کام رشوت کی بنیاد پر آر ٹی او سے کرواکر لاتا ہے اور خود اپنا کمیشن الگ سے لیتا ہے مگر کوئی کام بغیر رشوت کے نہیں کرواتا ، مطلب یہ کہ رشوت ہی دھندا ہے کیا اسے بطور پیشہ اختیار کیا جاسکتا ہے ؟
    جواب : اسلام میں کوئی بھی ایسا پیشہ اختیار کرنا جائز نہیں ہے جس کی بنیاد رشوت پر قائم ہو ۔ اگر آر ٹی او سے کام کروانا رشوت کی بنیاد پر ہوتا ہے تو اسے بطور پیشہ اختیار کرنا جائز نہیں ہوگا ۔اس میں ایک پہلو یہ ہے کہ اگر آر ٹی او کا کام بغیر رشوت بھی ہوسکتا ہے تو اس وقت یہ کام فی نفسہ جائز ہوگا البتہ رشوت لینا ناجائز ہوگا۔

    (18) ہمارے گھر میں سوتے وقت سورہ سجدہ اور سورہ ملک کی تلاوت کرنے کا معمول تھا مگر ابھی پتہ چلا کہ یہ حدیث ضعیف ہے ، اس بارے میں آپ سے تصدیق کرنی تھی ۔
    جواب : رات میں سوتے وقت سورہ سجدہ اور سورہ ملک کی تلاوت کرنا صحیح ہے ۔ چنانچہ سیدنا جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے:
    أنَّ النَّبيَّ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ كانَ لا يَنامُ حتَّى يقرأَ الم تنزيلُ وَ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ(صحيح الترمذي:2892)
    ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک «الم تنزيل» اور «تبارك الذي بيده الملك» پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے۔

    (19) گیارہویں شریف کی کیا حقیقت ہے ؟
    جواب : گیارہ یا گیارہویں تک تو ٹھیک ہے مگر یہ شریف لگانا ٹھیک نہیں ہے ۔ اس نام سے ہی رسم و رواج کی بو آرہی ہے ۔ قطع نظر اس سے کہ تاویخ وفات میں شدید اختلاف ہے اہل تصوف نے گیارہ ربیع الاول کو اس قدر ہوا دی کہ ہر قمری ماہ کی گیارہویں رات کو جیلانی کے نام سے کھانا بنایا جاتا ہے یا ان کے نام سے جانور ذبح کیا جاتا ہے اور ان کے نام سے نذر ونیاز کی جاتی ہے ۔ منانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ پیر صاحب اللہ کے ولی ہیں ، ان کی یوم وفات پر نذر ونیاز اور محفل قائم کرکے اولیاء اللہ کی محبت ، ان کے علمی کارنامے اور ان کے ذکر جمیل کرکے اللہ اور اس کے رسول کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا کی جاتی ہے اور ان کی سیرت اپنانے کا جذبہ بیدار کیا جاتا ہے ۔
    یہ گیارہویں دراصل دین میں نئی ایجاد ہے، تیسرہویں صدی سے پہلے کہیں پر اس کا کوئی رواج نہیں تھا۔ ایسے کام کے متعلق نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ جِس نے ہمارے اِس دِین میں ایسا نیا کام بنایا جو اِس میں نہیں ہے تو وہ کام مردود ہے۔(بخاری)
    اس رسم بدعت میں جس طرح چندہ کے ذریعہ لوگوں کا مال لوٹا جاتا ہے اسی طرح ایمان وعقیدہ بھی برباد کیا جاتا ہے ۔ اللہ پر سے توکل واعتماد ہٹاکر ساری توجہ کچھ اس طرح ولیوں کی طرف کی جاتی ہے کہ وہی ہمارے مختارکل ہیں ، ان سے ہی دنیا چلتی ہے لہذا انہیں کو خوش کیا جائے، ان کا ہی دامن پکڑا جائے ، ان سے ہی فریاد رسی کی جائے ۔ وہ خوش تو دینا و آخرت کا بیڑا پار ہے ۔ یہ سراسر ایمان کی بربادی ہے ۔
    اس کے علاوہ گیارہویں میں یوم وفات منانا، کسی کام کے لئے دن متعین کرنا، عبادت کے نام پرمخصوص محفل قائم کرنا، فضول چراغاں کرنا، عید کی طرح عمدہ لباس و پکوان اور عبادت کا اہتمام کرنا، عورت ومرد کا اختلاط ہونا، رقص وسرود کرنا، غیراللہ کے نام سے نذر ماننا ، غیراللہ کی عبادت کرنا، بےایمان و بدعمل قوالوں کا شرکیہ کلام پڑھنا اور رات بھر من گھرنت قصے کہانیاں، جھوٹی باتیں ، مصنوعی اور بے سروپا باتیں عبدالقادر کی طرف منسوب کرنا اور ان کا درجہ اللہ اور اس کے رسول سے بھی بڑھا دینا یہ سب باتیں دین وایمان کے منافی ہیں۔

    (20)کیا منکر نکیردو فرشتوں کے نام حدیث سے ثابت ہےاور اس کی وجہ تسمیہ کیا ہے ؟
    جواب : منکر ونکیر یہ دوفرشتوں کے نام ہیں جو صحیح احادیث سے ثابت ہیں ۔ ترمذی میں حسن درجے کی روایت ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    إذا قبرَ الميِّتُ - أو قالَ أحدُكم - أتاهُ ملَكانِ أسودانِ أزرَقانِ يقالُ لأحدِهما المنْكَرُ والآخرِ النَّكيرُ(صحيح الترمذي:1071)
    ترجمہ: جب میت کو ياتم میں سے کسی کو دفنا دیا جاتا ہے تو اس کے پاس کالے رنگ کی نیلی آنکھ والے دو فرشتے آتے ہیں ان میں سے ایک کو منکر اور دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے۔
    اور ان ناموں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فرشتے ہی انکار کرنے والے ہیں بلکہ یہاں انکار کا مطلب یہ ہے کہ میت کے لئے یہ دونوں فرشتے انجان ہیں تو منکر ونکیر میت کے اجنبی ہونے کی وجہ سے نام پڑا ہے جیساکہ ابراہیم علیہ السلام نے(قوم لوط کی ہلاکت کے واسطے) آنے والےفرشتوں کو نہ جان سکنے کی وجہ سے" قوم منکرون" یعنی انجان قوم کہا تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  16. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    آپ کے مسائل اور ان کا شرعی حل

    جوابات از شیخ مقبول احمد سلفی


    (1) اگر میں امام کے ساتھ پہلی رکعت میں بحالت رکوع شامل ہوتا ہوں تو کیا دوسری رکعت میں مجھے ثنا پڑھنا پڑے گا ؟
    جواب : ثنا پڑھنے کا مقام پہلی رکعت کا قیام ہے ۔ یہاں سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ رکوع میں ملنے سے رکعت ہوگی یا نہیں ؟ اس میں شدید اختلاف ہے ،دونوں طرف دلائل ہیں جن کا دل جس پرمطمئن ہوجائے عمل کرے تا ہم میری نظر میں اس رکعت کوشمار نہ کرنا ہی قوی معلوم ہوتا ہے ۔ اب سوال کا جواب یہ ہوگا کہ مدرک رکوع نے رکعت مان لی تو اگلی رکعت میں ثنا پڑھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کا مقام گزر چکا ہے لیکن اگر اس رکعت کو لوٹانا ہے تو اگلی رکعت میں ثنا پڑھے کیونکہ وہ اس کی پہلی رکعت ہوگی ۔

    (2) جو امام کے ساتھ قرات کی حالت میں ملے وہ سورہ ثنا کیسے پڑھے ؟
    جواب : شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے ایسے سوال کا جواب یہ دیا ہے کہ جو امام کو قرات فاتحہ میں پائے تو خاموش رہے اورامام کی قرات مکمل ہونے پر ثنا پڑھے پھر سورہ فاتحہ پڑھے لیکن جو امام کو سورہ فاتحہ کے علاوہ قرآن کی دوسری قرات میں پائے تو ثنا نہ پڑھے صرف فاتحہ پڑھے ۔

    (3) نبی ﷺ کے جنازہ کی نماز جماعت سے کیوں نہیں پڑھی گئی ؟
    جواب : یہ بات صحیح ہے کہ کسی نے نبی ﷺ کے جنازہ کی نماز جماعت سے نہیں پڑھائی ہے ، ہر صحابی نے الگ الگ نماز جنازہ ادا کی ۔ اس کی کئی وجوہات بیان کی جاتی ہیں ۔ ایک یہ ہے کہ آپ ﷺ نے صحابہ کو ایسی ہی وصیت کی تھی ۔ دوسری وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ آپ کی عظمت شان کی وجہ سے کسی نے امامت نہیں کرائی ۔ تیسری وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ نبی ﷺدنیا میں سب کے امام وقائد تھے تو آپ کی اجازت کے بغیرکسی نے امامت کرانا مناسب نہیں سمجھا ۔ ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ آپ کی فضیلت واحترام میں ہر صحابی انفرادی طور پر نماز جنازہ پڑھ کر فیض وبرکت حاصل کرنا چاہ رہے تھے بایں طور کہ ان کا کوئی دوسرا امام نہ ہو۔ یہ وجہ زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے۔

    (4) نبی ﷺ اور حضرت عیسی علیہ السلام کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟
    جواب : بخاری شریف میں سلمان رضی اللہ عنہ کا ایک اثر موجود ہے جس میں چھ سو سال مذکور ہے۔

    (5) باپ کی موجودگی میں لڑکی کا بہنوئی اس کا ولی بن سکتا ہے ؟
    جواب : لڑکی کا بہنوئی اس کی شادی میں ولی نہیں بن سکتا کیونکہ ولی عصبات میں سے ہوتا ہے یعنی جنہیں میراث میں حصہ ملتا ہے، نیز قریبی ولی کی موجودگی میں دور والے کی ولایت صحیح نہیں ہےمثلا باپ کی موجودگی میں بھائی کی ولایت ۔

    (6) چوڑی میں کھنکھنانے کی آواز ہوتی ہے کیا آواز والی چوڑی عورت گھر میں یا باہر استعمال کرسکتی ہے ؟
    جواب : سورہ نور میں اللہ نے عورتوں کو پیر سے آواز نکال کر چلنے سے منع کیا ہے ، تفسیرابن کثیر میں اس بابت مذکور ہے کہ زمانہ جاہلیت میں اکثر ایسا ہوتا تھا کہ عورتیں زور سے پاؤں زمین پر رکھ کر چلتی تھیں تاکہ پیر کا زیور بجے اسلام نے اس سے منع فرمادیا۔ لہذا کسی عورت کے لئے کھنکھنانے والی چیز پہن کر باہر نکلنا یا اجنبی مردوں کے سامنے آنا جائز نہیں ہے البتہ شوہر کے گھر میں جہاں اجنبی نہ ہوں وہاں کھنکھناتی چوڑیا ں یا کھنکھناتے پازیب پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

    (7) کوئی حاجی ایسے خریدار سے زمین بیچ کر حج کرتا ہے جس کا مال سودی قرض پر لیا گیا ہواور حاجی کو معلوم بھی ہو ایسے حج کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : اس کاحج صحیح ہے لیکن چونکہ اسے معلوم تھا کہ خریدار سود پر لئے پیسے سے قیمت ادا کرے گا اس وجہ سے اس معاملہ میں گنہگار ہے کیونکہ یہ ایک طرح سے سود پر تعاون ہے ۔ اپنے اس گناہ کی اللہ سے توبہ مانگے ۔

    (8) کوئی آدمی صحراء میں ہو اور کپڑے کی پاکی یا ناپاکی پریقین نہ ہو تو نماز کے وقت کیا کرے جبکہ ساتھ میں معمولی مقدار میں پانی بھی ہو؟
    جواب : اگر کپڑے میں ناپاکی کی علامت موجود نہیں اور نہ ہی نجاست لگنے کا یقین ہو تو اسی کپڑا میں وضو کرکے نماز پڑھے ،محض شک کی بنیاد پر کپڑا نجس نہیں مانا جائے گا۔

    (9) نکاح شغار کی حقیقت واضح کریں ۔
    جواب : نکاح شغار ممنوع ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے بیٹے یا بھائی کی شادی کسی آدمی کی بیٹی یا بہن سے کرواتا ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ بھی اپنے بیٹے یا بھائی کی شادی اس کی بیٹی یا بہن سے کرے ۔ یہ دونوں شادی ایک دوسرے پہ منحصر ہوتی ہے ، ایک باقی تو دوسری باقی اور ایک ٹوٹی تو دوسری بھی ٹوٹ جاتی ہے۔ اس قسم کے نکاح کو شغار کہا جاتا ہے جوکہ اسلام میں جائز نہیں ہے خواہ نکاح میں مہر ہو یا نہ ہو ۔

    (10) نشہ کرنے والے جہنم میں طوائف کی شرمگاہ سے بہنے والا پانی پئے گا کیامجمع الزوائد میں ایسی کوئی حدیث ہے؟
    جواب : یہ حدیث مسند احمد، مستدرک حاکم اور صحیح ابن حبان وغیرہ میں اس طرح سے آئی ہے ۔
    مَن مات مُدمِنًا للخمرِ سقاه اللهُ جلَّ وعلا مِن نهرِ الغُوطةِ قيل: وما نهرُ الغُوطةِ ؟ قال: نهرٌ يجري مِن فُروجِ المومِساتِ يُؤذي أهلَ النَّارِ ريحُ فُروجِهنَّ ۔(أخرجه ابن حبان :1380 و1381 والحاكم :4/146 وأحمد :4/399)
    ترجمہ: ہمیشہ شراب پینے والاجو مرا اللہ تعالیٰ اس کو نہر غوطہ پلائے گا۔ پوچھا گیا کہ نہر غوطہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: زانیہ عورتوں کی شرمگاہوں سے جاری ہوئی نہر ہے ان کی بدبو سے دوزخیوں کو تکلیف دی جائے گی۔
    اس حدیث کو امام حاکم نے صحیح الاسناد کہا اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے ۔ ہیثمی نے اس کے رجال کو صحیح کہا ہے اور منذری نے صحیح یا حسن یا ان کے قریب بتلایا ہے ۔

    (11) زمین کے معاملے میں دلالی کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
    جواب : کمیشن جسے اردو اور عربی میں دلالی کہتے ہیں۔ عربی میں سمسرہ بھی کہتے ہیں ، اسی لفظ سے امام بخاری نے اپنی صحیح میں باب باندھا ہے۔ خرید و فروخت یا بازار کے حوالے سے دلالی کافی مشہور ہے ۔ دلال بائع اور مشتری کے درمیان سودا کرواتاہے۔ عموما دلالی کی اس وقت ضرورت پڑتی ہے جب آدمی کو کسی چیز کے متعلق گہری معلومات نہ ہو۔ مگر دلالی میں بے راہ روی اور من مانی کی وجہ سے بلاضرورت افراد کو بھی پھنسا لیا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اب سماج میں دلالی کو معیوب پیشہ تصور کیا جاتا ہے اور دلال سے گھن جاتا ہے ۔
    امین بن کر دلالی کرنا کوئی معیوب نہیں ہے اور بائع اور مشتری میں سودا کرنے پہ طے شدہ اجرت لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں "بَاب أَجْرِ السَّمْسَرَةِ" کے تحت ذکر کیا ہے کہ ابن سیرین، عطاء اور حسن رحمہم اللہ اجمعین دلالی کی اجرت لینےمیں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے ۔ دلال کے لئے ضروری ہے کہ وہ سودا طے کرانے میں امین ہو، خریدار سے سامان کی وہی صفت بیان کرے جو اس سامان میں ہے اور اپنی اجرت سودا طے کرانے سے پہلے طے کرلے ۔ بائع کو کچھ قیمت اور مشتری کو کچھ قیمت بتاکر زیادہ مال ہڑپنا حرام ہے ۔

    (12) فوٹوگرافر کا پیشہ اختیار کرنا کیسا ہے؟
    جواب : تصویر صرف ضرورت کے وقت جائز ہے اور فوٹو گرافر کوضروری وغیر ضروری ہر قسم کی تصویر بنانی پڑے گی اس وجہ سے کسی مسلمان کے لئے یہ پیشہ اختیار کرنا جائز نہیں ہے ۔ افادیت کی غرض سے اسلامی بیانات کی ویڈیوز بنانے کو بعض علماء نے جائز کہا ہے ان علماء کے قول کی روشنی میں اسلامی بیانات کی ویڈیوز بنانا جائز ہوگا۔

    (13) زنا سے کوئی عورت حاملہ ہوگئی اسی سے زانی مرد کی شادی کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : زنا اسلام کی نظر میں بہت بڑا گناہ ہے اس لئے اس کی سزا بھی بڑی ہے ، اے کاش! یہ سزا دنیا میں نافذ ہوجائے تو زانیوں کو عبرت ملے ۔توبہ کا دروازہ کھلا ہے ، دونوں سچی توبہ کرلیں تو آپس میں نکاح کرسکتے ہیں ۔

    (14) کوئی آدمی روز امام کے سلام پھیرنے کے بعد پیٹھے ہٹ کر بیٹھتا ہے اس کا یہ روزانہ کا عمل کیسا ہے ؟
    جواب : امام کے ساتھ پھیرنے کے بعد نمازیوں کو اسی جگہ پر بیٹھے بیٹھے نماز کے بعد کے اذکار کا اہتمام کرنا چاہئے ، صف میں تنگی کے باعث کوئی مصلی آگے پیچھے کسک جاتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن بلاضرورت کوئی پیچھے کسکنے کومعمول بنا لیتا ہے تو اس سے نمازیوں کےلئے سوء ظن اور پچھلی صف والوں کے لئے دقت کا باعث ہے لہذا اس عمل سے باز آئے ۔

    (15) ایک آدمی نےکسی عورت سے اس کی عدت میں نکاح کرلیا اب دونوں شرمندہ ہیں تو کیا کرنا پڑے گا ؟
    جواب : دونوں نےگناہ کبیرہ کا ارتکاب کیاہے اس لئے سچے دل سے اللہ تعالی سے توبہ کرے اور پھر سے عقد مسنون کرے کیونکہ پہلاوالا نکاح باطل ہے۔

    (16) میری ظہر کی نماز چھوٹ گئی ،عصر کے وقت مسجد میں داخل ہواتو پہلے کون سی نماز ادا کروں ؟
    جواب : اگر عصر کی جماعت ہونے میں کچھ وقت باقی ہے تو اس دوران ظہر کی نماز ادا کرلیں اور اگر جماعت شروع ہونے والی ہے یا ہوگئی ہےتو آپ ظہر کی نیت سے امام کے ساتھ مل جائیں ۔ یہ آپ کی ظہر کی نمازہوگئی پھر بعد میں عصر کی نماز پڑھ لیں ۔ جنگ خندق کے موقع سے رسول اللہ ﷺ سے عصر کی نماز فوت ہوگئی تو آپ نے پہلے عصر کی نماز پڑھی حالانہ مغرب کا وقت تھا اور پھر مغرب کی نماز پڑھی ۔

    (17) میں طالب علم ہوں ، میں اپنا کپڑا محض میلا ہونے کی وجہ سے ایسے دھوبی سے صاف کرواتا ہوں جو ہندومسلم کے کپڑوں کو ایک ساتھ دھوتا ہے کیا کافر کے نجس کپڑوں میں رکھ کر صاف کرنے سے میرا کپڑا پاک ہوجائے گا؟
    جواب : نجس اور میلے کپڑوں کو ایک ساتھ پاک پانی سے دھونے پر کپڑے پاک ہوجائیں گے ، نجس کپڑے خواہ مسلم کے ہوں یا کافر کے ۔

    (18) موبائل میں موجود لڈو گیم کھیلنے کا کیا حکم ہے اورکیا یہ چوسر ہے جس سے منع کیا گیا ہے ؟
    جواب : علماء نے لڈو کو نردشیر(چوسر) میں شمار کیا ہے کیونکہ یہ لعبۃ الطاولہ یعنی لکڑی کے تختوں پرکھیلا جانے والاایک کھیل ہے ۔

    (19) لڑکا اور لڑکی پر روزہ کب فرض ہوتا ہے نماز کے بارے میں معلوم ہے کہ دس سال پر مارنے کا حکم دیا گیاہے اس لئے دس سال سے نما ز ادا کرنا ضروری ہے ؟
    جواب : لڑکے اور لڑکیا ں بلوغت کے بعد شریعت کا مکلف ہوتے ہیں ،نماز اور روزے کی فرضیت بلوغت کے بعد ہے اس سے پہلے نہیں ۔ دس سال پہ نماز کے لئے مارنے کا حکم محض تادیبا ہے ۔ ہاں باشعور اور روزے کی طاقت رکھنے والے بچوں سے تربیت کے طور پر بلوغت کے پہلے سے ہی روزہ رکھوایا جائے گا۔

    (20) جس نے وتر کی نماز نہیں پڑھی اور فجر کے وقت آنکھ کھلی تو وہ وتر کی نماز کب اور کیسے ادا کرے ؟
    جواب : وتر کا وقت عشاء کے بعدسےلیکرفجر تک ہے ، فجر کی اذان سے پہلے پہلے ادا کرسکتا ہے لیکن جب اذا ن ہوجائے تو چاشت کی نمازتک مؤخر کرے اورپھر اس کی قضا کرے کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو وتر کی نماز سے سو جائے یا بھول جائے تو جب یاد آئے اسے پڑھ لے ۔

    (21) تسبیح فاطمی میں اکبر اللہ 33 بار کہنا ہے یا 34 بار کہنا ہے ؟
    جواب : دونوں قسم کی روایتیں موجود ہیں اور صحیح درجہ کی ہیں لہذا 33 بار اور 34 بار دونوں طرح کی تسبیح درست ہیں ۔

    (22) کسی مسلم عورت نے کافر سے شادی کرلی دو بچے بھی ہوگئے ،اب اپنے عمل پر شرمندہ ہے اسے کیا کرنا ہے اور اس کے بچوں کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : اس عورت کو اللہ سے سچے دل سے توبہ کرنا چاہئے تاکہ اللہ اس سے ہوئے بڑے گناہ کو معاف کردے اور پھر وہ اس طرح کی بڑی غلطی کا ارتکاب نہ کرے۔ زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ ماں کی طرف منسوب ہوگا۔

    (23) کیا نبی ﷺ نے سعودی عرب والوں کے لئےخاص قسم کی دعا کی ہے ؟
    جواب : نبی ﷺ کے زمانے میں سعودی عرب تو تھا ہی نہیں اس کا قیام شاہ عبدالعزیز السعود کے وقت ہوا پھر سعودی عرب والوں کے لئے کوئی خاص دعا کیسے ہوگی ؟ ہاں اس وقت سعودی عرب کے جو شہر تھے ان میں سے بعض شہروں کے لئے خصوصی دعا کی ہے مثلا مکہ مکرمہ اورمدینہ طیبہ کے لئے اور ابھی سعودی عرب سے کئی عربی ممالک الگ الگ ہیں ان میں سے بھی بعض کے لئے دعا وارد ہے جیسے شام ویمن ۔

    (24) ذہن میں ہمیشہ غلط وسوسے آتے ہیں حتی کہ اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں بھی مجھے اسلام سے کوئی علاج بتلائیں ۔
    جواب : یہ جان لیں کہ دل میں برے وسوسے شیطان کی طرف سے پیدا ہوتے ہیں اس سے بچنے کے لئے سب سے اہم وسیلہ دعا کے ذریعہ اللہ سے پناہ طلب کرنا ہے ۔ اس کی توفیق ہوگی تو ہر قسم کے شر سے محفوظ ہوسکتے ہیں ۔ دعا کے علاوہ کچھ مزید کچھ اسباب اپنانے ہوں گے مثلا استغفار کی کثرت، ذکر الہی کا اہتمام، اعمال صالحہ کی طرف کثرت توجہ، برائی کا خوف اور اسباب برائی سے اجتناب، اچھی صحبت کا انتخاب اور عبادت پر جہد مع التسلسل وغیرہ ۔

    (25) شیر خوار بچے کو چھوڑ کر حج پر جانے سے حج نہیں ہوتا ہے ایسا کسی امام نے کہہ کر ایک صاحب کو شک میں ڈال دیا ہے آپ سے اس کی وضاحت مطلوب ہے ۔
    جواب : اگر بچے کی دیکھ ریکھ کرنے والا کوئی ہے تو اسے چھوڑ کر حج پر جانے میں کوئی حرج نہیں ہے اس سے حج کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور یقینا بچے کی دیکھ بھال کرنے والاکوئی ہوگا تبھی توکوئی اپبے بچوں کو چھوڑ کر آسکتا ہے اور حج کے دوران بہت قسم کی مشکلات ہیں لہذا بچوں کو چھوڑ کر آنے میں ہی بھلائی ہے اگر اس کی دیکھ ریکھ کا بہتر بندوبست ہے۔ جہاں تک امام کی بات ہے وہ سوائے وسوسہ کے اور کچھ نہیں ہے ، اس پر دھیان نہیں دیا جائے ۔

    (26) ایک لڑکا اپنی پسند سے کسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے مگر اس کے والد راضی نہیں ہیں میرا سوال یہ ہے کہ کیا کوئی لڑکا والد کی رضامندی کے بغیر اپنی پسند سے شادی کرسکتا ہے ؟
    جواب : رضامندی اصل میں صرف لڑکی کو اپنے ولی کی چاہئے ، لڑکے کو ولی اور اس کی رضامندی کی ضرورت نہیں ہے ، والد کی عدم رضامندی سے ہوئی شادی اپنی جگہ صحیح ہےتاہم والدین کے انکار کی وجہ جاننی چاہئے اور ان کی رضامندی سے شادی کرنا زیادہ بہتر ہے تاکہ شادی کے بعد آپس میں ناچاقی، مقاطعہ اور سوء ظن کے خطرات سے بچا جا سکے ۔

    (27) نکاح کو اتنا آسان کرو کہ زنا مشکل ہوجائے ،ایسی کوئی حدیث یا کوئی قول کہیں ملتا ہے ؟
    جواب : نبی ﷺ کے فرامین میں اس قسم کی کوئی صحیح حدیث موجود نہیں ہے حتی کہ مجھے اس معنی کی کوئی ضعیف روایت بھی نہیں ملی ۔ ممکن ہے کسی نے گھڑ لیا ہو لہذااس بات کو نبی ﷺ کی طرف منسوب کرنا یا بطور دلیل پیش کرنا جائز نہیں ہے۔

    (28) کسی شادی شدہ عورت کو ایک مرد نے بھگاکر شادی کرلی ، اس وجہ سے اس کے شوہر نے بیوی کو طلاق دیدی مگر اسے ایک ماہ بعد اس کی خبر ہوئی تو طلاق کب سے شمار ہوگی اور عدت کہاں گزارے گی جبکہ اس کے لئے سسرال ومیکے دونوں کےدروازے بند ہیں ؟
    جواب : جس وقت عورت کو طلاق دی گئی اسی وقت سے طلاق شمار ہوگی خواہ اس کی خبر بیوی کو دیر سے پہنچے اور عدت تو شوہر کے گھر گزارنی چاہئے مگر مذکورہ صورت میں جہاں اس کے لئے امن ہو وہاں عدت گزارے ۔ یہاں عورت کے لئے عدت گزارنے سے زیادہ اہم شوہر کو چھوڑ کر اجنبی مرد کے ساتھ بھاگ جانا ہے،یہ اسلامی اعتبار سے بہت ہی بڑا گناہ ہے ، اس گناہ کے لئے اللہ سے معافی طلب کرے اور آئندہ ایسی غلطی نہ کرنے کا عزم مصمم کرے ۔ اللہ بہت ہی معاف کرنے والا ہے۔

    (29) ایک مولانا سے میری دوستی ہے اسے اکثر گاؤں والے دعوت دیتے رہتے ہیں تو وہ مجھے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں ،کیا اس کے ساتھ میرا جانا درست ہے ؟
    جواب : اس طرح آپ کا دعوت میں شریک ہونا درست نہیں ہے کیونکہ دعوت دینے والے نے صرف مولانا کو دعوت دی ہے ۔ ہاں اگر مولانا صاحب دعوت دینے والے سے آپ کوساتھ لینے کی منظوری لے لیں تو اس وقت درست ہے۔

    (30) ایک مرغی کہیں سے میرے گھر چلی آئی ہے ، پاس پڑوس میں پتہ کیا تو کسی نے میرا ہے نہیں کہا، ایسی صورت میں کیا اس مرغی کو ذبح کو کرکے کھا سکتا ہوں ؟
    جواب : گم شدہ سامان کو ایک سال تک پہنچان کرانے کا حکم ملا ہے لہذااگر آپ نےجلدبازی میں ذبح کرکے کھالیا اور بعد میں مرغی والا مطالبہ کرنے آیا تو اس کی قیمت لوٹانی پڑے گی ۔ آپ اسے گھر سے باہر بھگادیں جہاں سے آئی تھی چلی جائے گی ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  17. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,433
    جزاک اللہ خیرا شیخ!
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  18. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    آپ کے مسائل اور ان کا شرعی حل

    جوابات از شیخ مقبول احمد سلفی

    (1)غلام دست گیر نام رکھنا کیسا ہے ؟
    جواب : دست گیر کا معنی مدد کرنے والا ہوتا ہے اور عام طور سے ہندوپاک میں دست گیر کی نسبت عبدالقادر جیلانی کی طرف کی جاتی ہے کہ وہ بندوں کی دست گیری (مدد کرنے والے) ہیں اسی عقیدے کے تحت انہیں پیردست گیر سے موسوم کیا جاتاہے۔ اگر دست گیر سے مراداللہ ہے تو غلام دست گیر نام رکھنا صحیح ہے اور اگر اس کی نسبت جیلا نی کی طرف ہے تو جائز نہیں ہے اور چونکہ لوگوں کا ذہن اس لفظ سے فورا غیراللہ کی طرف منتقل ہوجاتا ہے اس لئے ویسے ہی اس نام سے بچنا بہتر ہے۔

    (2)کیا ابلیس کو بھی موت آئے گی اور اسی طرح شیطانوں کو بھی جبکہ ان کا کام انسانوں کو گمراہ کرنا ہے ؟
    جواب : جب اللہ تعالی نے ابلیس کو آدم علیہ السلام کا سجدہ کرنے کا حکم دیا تو اس نے انکار کردیا اور سجدہ نہیں کیا۔ اس وجہ سے اللہ تعالی نے ابلیس کو اپنے دربار سے دھتکار دیا۔ ابلیس نے اللہ تعالی سے مہلت مانگی تو اللہ نے اسے مہلت دیدی۔ اس وقت ابلیس اللہ کی مہلت میں ہے اور قیامت تک اس مہلت سے فائدہ اٹھاکر لوگوں کو گمراہ کرتا رہے گالیکن قیامت کے وقت وہ، اس کے چیلے اور سارے شیطان مر جائیں گے ۔

    (3)ایک بہن جو پہلے غیراسلامی ماحول میں پلی بڑھی اب اسے دین کا احساس ہوا تو اس نے ترک نماز پر توبہ کرلی ، روزوں کی قضا کررہی ہے کیا اسے مسکینوں کو فدیہ بھی دینا ہوگا؟
    جواب : رمضان کے فرض روزے جس نے جان بوجھ کر چھوڑے ہوں اس کی قضا کے سلسلے میں علماء کے درمیان اختلا ف پایا جاتا ہے ۔ بعض قضا کا حکم دیتے ہیں اور بعض عدم قضا کا۔ توبہ کے ساتھ قضا کرلینا بہتر ہے لیکن فدیہ کی کوئی بات نہیں ہے۔

    (4)فری میں حج کرنا یعنی کسی کے دئےہوئےپیسے سے حج کرنا کیسا ہے اور اس قسم کے حج سے فریضہ ساقط ہوجاتا ہے ؟
    جواب : دوسروں کے جائز مال سے حج کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس طرح ادا کئے گئے حج سے فریضہ ساقط ہوجائے گا۔

    (5)کیا مسلمان لڑکا شیعہ لڑکی سے شادی کرسکتا ہے ؟
    جواب : شیعہ میں بہت سارے فرقے ہیں ، شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے سفارینی کے حوالے سے بائیس فرقے کا ذکر کیا ۔ شیخ ابن باز نے کہا کہ شیعہ میں بہت سے فرقے ہیں ان میں سے بعض کافرہیں اور بعض کافر نہیں ہیں۔ اس بنیاد پر علی الاطلاق شیعہ کے سارے فرقوں کو کافر کے حکم میں نہیں مانا جائے گا۔ جہاں تک شیعہ لڑکی سے شادی کا مسئلہ ہے تو پہلےاس کا عقیدہ معلوم کیا جائے گا،اگر وہ عام شیعہ کے کفریہ عقائد سے پاک ہو اور توبہ کرکے اسلامی عقیدہ کا قائل ہو تو اس صورت میں وہ شیعہ نہیں مسلم شمار ہوگی اورتب اس سے نکاح کرنا درست ہوگا ورنہ نہیں ۔

    (6)گھروں میں بچوں کی گڑیا ہو تو وہاں نماز یا دیگر عبادت ہوتی ہے کہ نہیں ؟
    جواب : اس میں پہلا مسئلہ گڑیا سے متعلق ہے کہ اسے گھروں میں رکھنا کیسا ہے ؟، اس سلسلے میں گوکہ بعض علماء نے رکھنے کا جواز نکالا ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گڑیا سے دلیل پکڑی ہے تاہم گڑیا کو گھروں میں نہ رکھنا ہی احوط واولی ہےکیونکہ روح والی تصویروں کے متعلق بڑی مذمت اور شدت گرفت آئی ہےالبتہ جس جگہ تصویر یا گڑیا ہو اس جگہ پڑھی گئی نماز صحیح ہے ۔

    (7)ایک مسلم اگر غیرمسلم کا دنیا میں حق مارتا ہے تو روز قیامت اس مسلمان و کافر کا کیسے حساب وکتاب ہوگا؟
    جواب : حقوق العباد کا فیصلہ بروز قیامت ہوگا جو بدلے کا دن ہے، جس کا حق مارا گیاہوگا اسے اللہ جل وعلا کامل انصاف دے گا اور جس نے کسی کاحق مارا ہوگا اسے بھی اپنے کئےکا بدلہ ملے گا خواہ کافر ہو یا مسلم ہو۔اب رہی بات کہ مظلوم کافر کو بدلہ کس طرح دیا جائے گا؟اس کی کیفیت صرف اللہ کو معلوم ہے، اس بابت شریعت خاموش ہے ، ہمیں یوم حساب کے عدل وانصاف پہ کامل ایمان لانا ہے اور غیبی امور میں سے جس کی تفصیل نہیں بیان ہوئی ہے وہاں خاموشی اختیار کرنا ہے۔

    (8)بیٹی کا نام آیات رکھنا کیسا ہے ؟
    جواب : آیات ،آیت کی جمع ہے جس کا معنی حجت وبرہان اورعلامت و نشانی ہے۔ اس لفظ میں کوئی خرابی نہیں ہے اس لئے یہ نام رکھا جاسکتا ہے۔

    (9)اس میسج کی کیا حقیقت ہے "آج رات جو دعا مانگو وہ قبول ہوگی کیونکہ آج رات کو چاند خانہ کعبہ کا طواف کرے گا۔"؟
    جواب: دعا کی قبولیت کا افضل وقت بغیر دلیل کے نہیں مانی جائے گی اور مذکورہ قول کی کوئی دلیل نہیں ہے ، یہ ایک گھڑی ہوئی بات ہے۔ لوگوں نے یہ بات گھڑی ہے کہ ایک لاکھ سال میں ایک بار 3:25 صبح کے وقت چاند کعبہ کے گرد گھومتا ہے اس وقت جو دعا کی جائے قبول ہوتی ہے ،سراسر فضول اور واہیات ہے،اس جھوٹی بات کو صرف اندھی عقیدت کا شکار ہوکر سوشل میڈیا پرشیئر کیا جارہاہے۔ آپ خبردار رہیں۔

    (10)فوت شدہ بچہ کی جانب سے عقیقہ کرنے کا کیا حکم ہے ؟
    جواب: بچے کی پیدائش پر اس کے ساتویں دن عقیقہ کرنا مسنون ہے ، جو بچہ سات دن کے بعد وفات پائے اس کی طرف سےعقیقہ کرسکتے ہیں اور جو سات دن سے پہلےہی انتقال کرجائے اس کی طرف سے عقیقہ نہیں ہے۔

    (11)ایک عورت نے فجر کی دو سنت پڑھی مگر سلام پھیرنا بھول گئی اور پھر کھڑے ہوکر دو رکعت فجر کی نماز ادا کی یعنی ایک سلام سے چار رکعات ادا کی ، دو سنت کی اور دو فرض کی ۔ اس نماز کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : فجر کی فرض نماز میں کوئی کمی نہیں ہے ،وہ ادا ہوگئی اور سنت نماز میں سلام نہیں پھیرنے کی وجہ سے نماز کا ایک رکن چھوٹ گیا ،اس کا حکم یہ ہے کہ اگر وہیں مصلے پہ سلام چھوٹنے کا علم ہوگیا تو سنت کی نیت کرکے سلام پھیرلے اور سجدہ سہو کرے او ر اگر درمیان میں لمبا وقفہ گزر گیا تو پھر سے دو رکعت سنت ادا کرلے کیونکہ رکن چھوڑ دینے سے نماز نہیں ہوتی۔

    (12)شہید کو قتل کے وقت چیونٹی کے برابر تکلیف ہوتی ہے کیا یہ خصوصیت اس عورت کو بھی مل سکتی ہے جن پر شہید کا اطلاق ہو؟
    جواب : حدیث میں یہ خصوصیت اس مجاہد کی بیان کی گئی ہے جو میدان جنگ میں قتل ہو تو انہیں محض چٹکی یا چیونٹی کے برابر قتل سے پہلے تکلیف ہوتی ہے۔ اور وہ مرد یا خاتون جومیدان جنگ میں قتل کے علاوہ دوسرے اعمال کی وجہ سے شہید کا درجہ پاتے ہیں ان کے متعلق اللہ سےاس خصوصیت کی امید کی جاسکتی ہے مگر وثوق کے ساتھ نہیں کہا جاسکتاہے۔

    (13)کیا عقیقہ کے جانور کا دانتا ہونا ضروری ہے ؟
    جواب: عقیقہ کے لئے بکرا / بکری کا ایک سال مکمل ہونا ضروری ہے ، ساتھ ہی جانورجسمانی عیوب ونقائص سے بھی پاک ہو۔

    (14)شوہر اگر بیوی کو اپنے والدین یا کسی رشتہ دار سے بات چیت کرنے سے منع کرے تو بیوی کو بات ماننی چاہئے یا نہیں ؟
    جواب : نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ کسی کی اطاعت صرف بھلی باتوں میں ہی کی جائے گی اور اللہ کی معصیت میں کسی مخلوق کی بات نہیں مانی جائے گی۔ شوہرکا اپنی بیوی کو اس کے والدین سے بات چیت کرنے سے منع کرنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ اسکےکسی رشتہ دارسے بات کرنے سے روکے ۔ اگر کسی عورت کو ایساسنگین مسئلہ درپیش ہو تو بالفور شوہر کی مخالفت نہ کرے بلکہ شوہر کو راضی کرنے اور سسرال والوں سےاس کی ناراضگی دور کرنے کی کوشش کرے ۔ خود سے مسئلہ حل نہ کرسکے تو کسی کو ثالث بنالے اور خوشگوار ماحول میں معاملہ کا تصفیہ کرے ۔

    (15) زکوۃ کے پیسے سے کسی کو حج کرایا جاسکتا ہے میرا مطلب یہ ہے کہ کیا زکوۃ کے پیسے کو حج کے مصرف میں صرف کرنا اور اس رقم سے کسی مسکین کو حج کرانا درست ہے ؟
    جواب : حج فی سبیل میں داخل ہے اس کی صراحت حدیث میں موجود ہے ۔اس لئے مال زکوۃ سے محتاج ومسکین کو حج کرایاجاسکتا ہے ،شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا یہی موقف( یعنی مال زکوۃ سے فقیر کو حج کرانا) ہے جسے الاختیارات میں ذکر کیا ہے۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے کہا کہ اگر نفلی حج ہو تو زکوۃکامال حج کی ادائیگی کے لئے صرف نہیں کیا جائے گا لیکن اگر فریضہ (پہلا حج)ہو تو اس کی ادائیگی کے لئے مال زکوۃ دے سکتے ہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  19. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا شیخ

    امر واقع یہی ہے کہ لوگ یہ نام رکھتے ہی عبدالقادر جیلانی کی نسبت سے ہیں۔
     
    • متفق متفق x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  20. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    آپ کے مسائل اور ان کا شرعی حل

    جوابات از مقبول احمدسلفی

    1- میں نے اپنے بیٹے کا عقیقہ کیا اس میں دوبکرے ذبح کئے اور مزید کچھ گوشت خرید کر اس میں ملالیا تاکہ جتنے لوگوں کو دعوت دی گئی سب کو ہوسکے ، کیا یہ درست ہے اور کہیں یہ اشتراک تو نہیں ؟
    جواب : عقیقہ کی دعوت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اور اگر دعوت میں افراد بڑھ جائیں تو کچھ زائد گوشت خرید کر عقیقہ میں شامل کرنےمیں کوئی حرج نہیں ہے ، یہ اشتراک نہیں ہے ۔ اشتراک کہتے ہیں قربانی کے جانور میں عقیقہ کا حصہ لینے کو۔آپ نے لڑکا کی طرف سے دومستقل جانور ذبح کیا سنت پوری ہوگئی ۔ اب اس عقیقہ میں مزید گچھ گوشت ملالینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ ہاں عقیقہ کی دعوت میں ریاونمود کی خاطر ہزاروں لوگوں کو بلانا اور عقیقہ کے گوشت کے علاوہ ڈھیر سارا گوشت مزید خرید کرلاناجائز نہیں ہے ۔ اگر اللہ نےضرورت سے زیادہ پیسہ دیا ہے تو زائد گوشت کے پیسوں کو غریبوں میں صدقہ کردیں یا اس سے محتاجوں کی مدد کریں ۔

    2- وراثت میں بیٹیوں کا کیا حصہ مقرر کیا گیا ہے بتائیں کیونکہ نہ لوگوں کو اس کا علم ہے اور نہ ہی اسے نافذ کرتے ہیں ؟
    جواب : وراثت میں بیٹیوں کا حصہ بیٹے کے مقابلے میں آدھا ہے یعنی دولڑکی کو جتنا حصہ ملے گا اتنا حصہ ایک لڑکے کو ملے گا۔ اللہ کا فرمان ہے : يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ(النساء:11)
    ترجمہ: اللہ تعالی تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے ۔
    یہ تقسیم اس صورت میں ہے جب میت نے لڑکا اور لڑکی دونوں چھوڑا ہو لیکن اگر صرف لڑکیاں ہوں ،لڑکے نہ ہوں اورلڑکی کی تعداد دو ہو یا دو سے زیادہ تو انہیں تہائی مال میں سے دو حصے ملے گیں اور اگر صرف ایک لڑکی ہوتوکل مال کا اسے نصف حصہ ملے اور بقیہ عصبہ پر تقسیم ہوگا۔ اللہ کا فرمان ہے : فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ{الـنساء:11}
    ترجمہ: اور اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں اور دو سے زیادہ ہوں تو انہیں مال متروکہ کا دوتہائی ملے گا اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے۔

    3- آپ کس دلیل کی بنیاد پر بڑی عمر میں عقیقہ دینے کے قائل ہیں اسے حوالہ کے ساتھ ذکر کریں مہربانی ہوگی؟
    جواب : نبی ﷺ کا فرمان ہے : كلُّ غلامٍ رهينٌ بعقيقتِه، تُذبحُ عنه يومَ سابعِه، ويُحلق رأسُه ويُسمَّى( صحيح النسائي:4231)
    ترجمہ:ہر بچہ اپنے عقیقہ کے ساتھ گروی ہے، ساتویں دن اس کی طرف سے ( عقیقہ) ذبح کیا جائے، اُس کا سر منڈایا جائے اور اس کا نام رکھا جائے۔
    اس حدیث سے دلیل ملتی ہے کہ عقیقہ بعد میں بھی دیاجاسکتا ہے کیونکہ ہر بچہ اپنے عقیقہ کی وجہ سے گروی ہوتا ہے اور وہ گروی اسی وقت ختم ہوگی جب بچہ کی طرف سے عقیقہ دیا جائے گا۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ بسا اوقات آدمی مستطیع ہوتا ہے مگر وقت پرپیسے نہیں ہوتے یا بعض لوگ شروع میں غریب ہوتے ہیں بعد میں مالدار ہوجاتے ہیں ایسے لوگ اپنے بچوں کی گروی اس وقت ختم کریں جب انہیں سہولت ہو لیکن جسے اللہ نے بچے کی پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کی طاقت دیا ہے اس کے لئے افضل یہی ہے کہ وہ بغیر کسی چیز کا انتظار کئے اسی دن عقیقہ کرے۔

    4- کچھ لوک جزاک اللہ خیرا کے ساتھ مزید الفاظ کثیرا ، یا احسن الجزاء یا فی الدنیا والآخرہ لگاتے ہیں کیا اس طرح نبی ﷺ سے ثابت ہے اگر نہیں تو کہیں نئی بدعت کے دائرے میں تو نہیں آئے گا؟
    جواب : جزاک اللہ خیرا دعائیہ کلمہ ہے ، کوئی اسی پر اکتفا کرے تو ٹھیک ہے اور کوئی اس میں مزید دعائیہ جملہ بڑھائے تو بھی ٹھیک ہے ، دعا دینے میں الفاظ کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔ جس طرح ہم دوسری زبانوں میں کسی کو بہت ساری دعائیں دیتے ہیں اسی طرح عربی میں بھی دے سکتے ہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں کہ دعاؤں کی زیادتی جزاک اللہ خیرا کے ساتھ ہو۔

    5- میرے گھر میں کام کاج کے لئے پانی کی ٹنکی ہے اس میں چوہا گرکر مرگیا، کیا اس کا پانی ناپاک ہے اور اس کے لئے ہمیں کیا کرنا پڑے گاکہ پانی پاک ہوجائے ؟
    جواب : اگر پانی کے حوض میں چوہا یا بلی یا کتا گر کر مرجائے تو اولا اس مرے ہوئے جانور کو حوض سے نکال کر پھینک دے اس کے بعد دیکھے کہ پانی کے تین اوصاف ، رنگ ، بو اور مزہ میں سے کسی میں تبدیلی آئی ہے؟ اگر نہیں تو پانی پاک ہے اور اگر ہاں تو اس حوض میں سے اس قدر پانی نکال کر پھیک دے جس سے پانی میں آئی تبدیلی ختم ہوجائے ۔

    6- مغرب کے وقت بچوں کو گھر سے باہر نہیں جانے دینا چاہیے تو کیا مغرب کی نماز پڑھنے کے لئے بھی بچوں کو گھر سے باہر جانے سے روکنا چاہئے ؟
    جواب : یہ حکم واجبی نہیں ہے پھر بھی چھوٹے بچوں کو سورج ڈوبنے کے بعد اکیلے کھیلنے کودنے یا غیرضروری کام کے لئے باہر نہ بھیجا جائے تاہم ضروری کام کے لئے کسی کے ساتھ جائے یا نماز کے لئے جائے تو کوئی حرج نہیں ۔

    7- کیا ایک مصلی پہ میاں بیوی نماز پڑھ سکتے ہیں ؟
    جواب : بیوی کے بغل میں نماز پڑھنےکی دو صورتیں ہیں ، اگر شوہر وبیوی ایک ساتھ نماز پڑھیں تو لازما بیوی کو شوہر کے پیچھے کھڑا ہونا پڑے گا اور اگر شوہر وبیوی الگ الگ اپنی نماز پڑھ رہے ہوں تو ایک دوسرے کے بغل میں ایک مصلی پر کھڑے ہوکر نماز پڑھ سکتے ہیں ۔

    8- قنوت نازلہ اور قنوت وتر میں کیا فرق ہے ؟
    جواب :مصائب کے وقت فرض نماز میں دشمنوں کے خلاف دعا کی جاتی ہے اسے قنوت نازلہ کہتے ہیں ۔ اس سے مظلوم مسلمانوں کی نصرت و اعانت اور سفاک کفار و اعداء اسلام کی بربادی مقصود ہے۔ مغرب یا فجر کی نماز میں امام مسجد نماز کی آخری رکعت میں رکوع کے بعد ہاتھ اٹھا کربلند آواز سے دعاپڑھے جس میں مسلمانوں کے لئے دعا کرے اور کفار پرکثرت سے لعنت بھیجے اور سارے مقتدی اس پہ آمین کہیں ۔ ضروت پڑے تو پانچوں نماز میں دعا کی جاسکتی ہے کیونکہ پانچوں نماز میں قنوت کا ثبوت ملتا ہے ۔ آپ کى قنوت اکثر فجر کی نماز میں ہوتى۔
    اور رات کی آخری نماز وتر میں رکوع سے پہلے یا بعد میں دعا کرنے کو قنوت وتر کہتے ہیں ۔ گویا قنوت نازلہ اور قنوت وتر میں فرق ہے ، ایک فرق تو یہ ہوا کہ قنوت وتر نماز کا حصہ ہے جو صرف وتر کی نماز مشروع ہے جبکہ قنوت نازلہ کسی نماز کا حصہ نہیں بلکہ مصیبت کے وقت ہرفرض نماز میں پڑھی جانے والی اضافی دعا ہے۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ قنوت نازلہ میں دعا رکوع کے بعد ہے جبکہ قنوت وتر میں پہلے ہےتاہم رکوع کےبھی دعائے قنوت کی جاسکتی ہے۔ دونوں میں ایک چیز مشترک یہ ہے کہ دونوں دعائیں ہیں اور دونوں میں دعاؤں کی زیادتی جائز ہے اور ہاتھ اٹھانا بھی۔

    9- کسی کا رشتہ دار جادو کرتا ہے اور لوگوں کو اس کے جادو کی خبر بھی ہے اس سے لوگ کافی پریشان ہیں کیا وہ اس سے قطع تعلق کیا جاسکتا ہے؟
    جواب : جادو کرنا نواقض اسلام میں سے ہے اس وجہ سے جادو کرنے والا اسلام سے باہر ہوجاتا ہے ۔ جادوگر شرک وکفر دونوں کا مرتکب ہو اس لئے وہ کافر اور مشرک شمار کیا جائے گا۔اس لئے نبی ﷺ نے جادوگروں کے پاس جانے سے منع فرمایا ہے بلکہ اس کی سزا قتل مقرر کی ہے ۔ جس کسی کا رشتہ دار جادوگر ہو اسے احسن طریقے سے دعوت دے اور خالص توبہ کرائے ورنہ اس سے نہ صرف مقاطعہ جائز ہے بلکہ سماج کو اس سے پاک کرنے کے لئے اس کے شر سے بچتے ہوئے جوصورت اختیار کرنی پڑے جائز ہےخواہ سزا دی جائے یا شہر بدر کیا جائے یا سماجی بائیکاٹ کیا جائے تاکہ سماج میں اور لوگوں کے گھروں میں کفر وشرک داخل نہ ہو۔
    اس معاملہ میں ایک بات دھیان میں رہے کہ بسااوقات دیہی علاقوں میں بغیر ثبوت کے کسی کو ڈائن ، چڑیل اور جادوگرنی قرار دے دیا جاتا ہے اور اسے سارے محلے میں بدنام کیا جاتا ہے ،اس لئے بغیر ثبوت کے کسی کو مطعون کرنا یا اس کے ساتھ زیادتی کرنا بہت بڑا جرم ہے اس بات کی ہمیں سمجھ ہونی چاہئے۔

    10- کیا منفرد جہری نمازوں کو سرا پڑھ سکتا ہے ؟
    جواب : سنت تو یہی ہے کہ منفرد بھی جہری نمازوں کو جہرا ہی پڑھے لیکن اگرکوئی مصلحتا یا بغیر مصلحت کے جہری نماز کو سرا بھی ادا کرلے تو نماز صحیح ہے البتہ سنت چھوٹ گئی ، ہاں اگر منفرد نے بھول سے جہری نماز کو سرا پڑھ لیا تو سجدہ سہو کرلے ۔

    11- کسی نے بیس سال پہلے ایک دینار مہر میں طے کیا جو ابھی بھی دینا باقی ہے تو کیا آج کے حساب سے مہر دینا پڑے گا یا صرف ایک دینا ر دلیل سے واضح کریں ؟
    جواب : صرف ایک دینار ہی دینا ہے کیونکہ شوہر کے ذمہ یہ بطور قرض باقی ہے اور قرض کی ادائیگی جب بھی ہوگی اسی شکل میں ہوگی ، ہاں اگر تاخیر کی صورت میں اپنی مرضی سے کچھ دینا چاہے تو دیاجا سکتا ہے کیونکہ قرض پہ بلامشروط کچھ زائد دینا جائز ہے جیساکہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ قرض تھا جسے آپ نے ادا کیا اورکچھ زیادہ دیا۔( صحيح البخاري:443)
    اس پر مفصل مضمون پڑھنے کے لئے میرے بلاگ پر "پچاس سال پہلے کا قرض کس طرح چکائیں؟" مطالعہ فرمائیں۔

    12- تیسری اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورت ملانے کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : ظہر، عصراور عشاء کی آخری دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھنا چاہئے ۔اس کی دلیل مندرجہ ذیل حدیث ہے۔
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ، وَسُورَةٍ سُورَةٍ، وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا(صحيح البخاري:762)
    ترجمہ:حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے، آپ نے فرمایا کہ نبی ﷺ ظہر اور عصر کی دو رکعات میں سورہ فاتحہ اور کوئی ایک ایک سورت پڑھتے تھے۔ اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا بھی دیتے تھے۔
    اس سے مزید وضاحت ایک دوسری روایت میں ہے ۔سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:
    كنَّا نَقرَأُ في الظُّهرِ والعَصرِ خَلفَ الإمامِ في الرَّكعتينِ الأولَيينِ ، بفاتحةِ الكِتابِ وسورةٍ . وفي الأُخرَيينِ بفاتحةِ الكِتابِ(صحيح ابن ماجه:694)
    ترجمہ: ہم لوگ امام کے پیچھے ظہر اور عصر کی نمازوں میں پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور کوئی اور سورت پڑھتے تھے اور بعد کی دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتے تھے۔
    مشروع یہی ہے کہ رباعی نماز کی آخری دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھے حتی کہ مغرب کی تیسری رکعت میں بھی ۔ نبی ﷺ سے ظہر کی آخری دورکعتوں میں سورت پڑھنا بھی ثابت ہے مگر یہ آپ کا کبھی کبھار کا عمل تھا۔

    13- ہمارے یہاں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بیٹے کی کمائی سے باپ کا حج نہیں ہوگا کیا یہ صحیح ہے ؟
    جواب : یہ بات صحیح نہیں ہے کہ بیٹے کے مال سے باپ کا حج نہیں ہوگا ، بیٹے کے مال میں باپ کا خصوصی حق ہے اور اپنے بیٹے کی کمائی کھانا ایسے ہی جیسے اپنی کمائی کھانا ہے ۔اس لئے نبی ﷺ نے فرمایا: إنَّ أَطيبَ ما أَكلَ الرَّجلُ مِن كَسْبِه، ووَلدُه مِن كَسْبِه.( صحيح النسائي:4463)
    ترجمہ: انسان کا سب سے اچھا کھانا وہ ہے جواپنی کمائی سے کھائے اوراس کا بیٹا بھی اس کی کمائی ہی ہے۔
    ایک صحابی نبی ﷺ سے عرض کرتے ہیں:
    يا رسولَ اللَّهِ إنَّ لي مالًا وولدًا وإنَّ أبي يريدُ أن يجتاحَ مالي فقالَ أنتَ ومالُكَ لأبيكَ(صحيح ابن ماجه:1869)
    ترجمہ: اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس مال بھی ہے اوراولاد بھی اورمیرا والد میرا مال لینا چاہتا ہے تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو اورتیرا مال تیرے والد کا ہے۔
    اس لئے بیٹے کے مال سے باپ کا اپنی ضرورت بھر پیسہ لیناجائز ہے اوراس کے مال سے حج وعمرہ کرنا بھی جائز ہے۔ہاں ضروریات کے علاوہ باپ اپنے بیٹے کو مجبور کرکے دوسرے کام کے لئے مثلا حج یا عمرہ کے لئے پیسہ نہیں لے سکتا اپنی خوشی سے دےتو پھر صحیح ہے۔

    14- کیا حج کے لیے آئسہ(بوڑھی) عورتوں کے لیے بھی محرم کا ہونا لازمی ہے ۔((وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لا يَرْجُونَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ أَنْ يَضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بزينة.))پر قیاس نہیں کیا جا سکتا ہے؟
    جواب : عورت کے ساتھ سفر میں محرم کا ہونا ضروری ہے جیساکہ فرمان رسول ﷺ ہے : لا تسافرُ المرأةُ إلَّا معَ ذي محرمٍ(صحيح البخاري:1862)
    ترجمہ: کوئی عورت بغیر محرم کے سفر نہ کرے ۔
    یہ فرمان عام ہے جو ہر بالغ عورت کو شامل ہے خواہ جوان ہو یا بوڑھی اور سوال میں مذکور قرآنی آیت سفر سے متعلق نہیں ہے بلکہ حجاب (پردہ) سے متعلق ہے۔

    15- اکسڈنٹ میں قتل ہونے کا حکم کیا ہے ؟
    جواب : اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ڈائیور سےقصدا قتل نہیں ہوا ہے تواسےقتل خطا کہتے ہیں اور قتل خطا میں دیت اور کفارہ دونوںواجب ہو جاتے ہیں ۔ اگر مقتول کے وارث دیت معاف کر دیں تو دیت ساقط ہو جاتی ہیں مگر کفارہ باقی رہ جاتا ہے ۔ کفارہ میں غلام آزاد کرنا یا مسلسل دو مہینے کا روزہ رکھنا ہے۔ مزید تفصیل میرے بلاگ پر دیکھیں۔

    16- اللہ نے قرآن میں نبی ﷺ پر درود اور سلام دونوں پڑھنے کا حکم دیا ہے تود ردود ابراہیمی کے اندر صرف درود ہے اس صورت میں ہمیں کون ساد ردود پڑھنا چاہئے ؟
    جواب : نماز میں تو درود ابراہیمی ہی پڑھنا ہے اور نماز سے باہر درود ابراہیمی کے علاوہ دیگر ثابت درود بھی پڑھ سکتے ہیں کیونکہ صرف درود پڑھنا بھی جائز ہے اور اس کی اپنی فضیلت ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى الله عَلَيْهِ عَشْرًا(صحيح مسلم:932)
    ترجمہ:جس نے مجھ پر ایک بار درود بھیجا اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت نازل فرمائے گا۔
    اور اللہ نے قرآن میں نبی ﷺ پر درود وسلام دونوں پڑھنے کا حکم دیا ہے اس لئے درود ابراہیمی کے علاوہ سلام کے ضیعےکا بھی التزام کیا جائے جیساکہ صحابہ کرام نبی کا نام آنے پر صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے ۔ اس میں درود وسلام دونوں جمع ہیں ۔

    17- جسے دعائے قنوت یاد نہ ہو وہ وتر کی نماز میں کیا کرے ؟
    جواب : جسے دعا ئے قنوت یاد نہ ہو وہ جس قدر جلدممکن ہو اسےیاد کرے جس طرح نماز کی دوسری دعائیں یاد کیا ہے اور جب تک یاد کی ہوئی دوسری دعائیں بھی قنوت میں پڑھ سکتا ہے نیز چاہے تو دعائے قنوت یاد کرتا رہے اور وتر میں کتاب سے دیکھ کر پڑھ لیا کرے ۔ جب یاد ہوجائے تو زبانی پڑھے ۔ کبھی کبھار دعائے قنوت چھوڑ دے تو کوئی حرج نہیں ۔

    18- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قیام الیل کے لئے اٹھتے تو سورۃ آل عمران کی آخری آیت کی تلاوت آسمان کی طرف دیکھ کر کرتے تھے، اگر کوئی شخص ایسی جگہ رہتا ہے جہاں سے آسمان نہ دکھائی دے مثلاً فلیٹ وغیرہ میں رہتا ہے تو وہ کیسے پڑھے؟
    جواب : یہ صحیح ہے کہ نبی ﷺ جب اٹھتے تو باہر نکل کر آسمان کی طرف دیکھ کر سورہ آل عمراہ کی آخری آیات پڑھتے پھر اچھی طرح مسواک کرتے پھر وضو کرتے پھر قیام اللیل کرتے ۔ روایت اس طرح سے ہے ۔
    أنَّ ابنَ عباسٍ حدثه ؛ أنه بات عندَ النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ ذاتَ ليلةٍ . فقام نبيُّ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ من آخرِ الليلِ . فخرج فنظر في السماءِ . ثم تلا هذه الآيةَ من آلِ عمرانَ : {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ، حتى بلغ، فَقِنَا عَذَابَ النَّار } [ 3 / آل عمران / الآيتان 190 و191 ] ثم رجع إلى البيتِ فتسوَّك وتوضأَ . ثم قام فصلَّى . ثم اضطجع . ثم قام فخرج فنظر إلى السماءِ فتلا هذه الآيةَ . ثم رجع فتسوَّك فتوضأَ . ثم قام فصلَّى ( صحيح مسلم:256)
    ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ابو متوکل کو بتایا کہ انہوں نے ایک رات اللہ کے نبی ﷺ کے ہاں گزاری ۔ اللہ کے نبی ﷺ رات کے آخری حصے میں اٹھے ، باہر نکلے اور آسمان پر نظر ڈالی پھر سورہ آل عمران کی آیت :﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ﴾تلاوت کی اور﴿فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾تک پہنچے ۔ پھر گھر لوٹے اور اچھی طرح مسواک کی اور وضو فرمایا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ، پھر لیٹ گئے ، پھر کھڑے ہوئے ، باہر آسمان کی طرف دیکھا، پھر ( دوبارہ) یہ آیت پڑھی،پھر واپس آئے ، مسواک کی اور وضو فرمایا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔
    اگر کوئی نیند سے بیدار ہو تو گھر سے باہر نکل کر سورہ آل عمران کی آخری آیات پڑھے، دوسری روایت میں آخری دس آیات کا ذکر ہے ۔ جو لوگ فلیٹ کے اندر ہوتے ہیں، رات میں باہر نکلنا مشکل ہےتو وہ چھت پر چڑھ جائیں وہ بھی نصیب نہ ہو تو کھڑکی کھول لیں اگر کھڑکی سے بھی آسمان نہ دکھے تو بغیر آسمان کی طرف دیکھے یہ آیات پڑھ لیں ، مسواک کرلیں اور قیام اللیل ادا کرلیں سنت پر عمل ہوجائے گا۔

    19- کشمیر میں سورج یا چاند گرہن کے وقت حاملہ عورت کو بہت احتیاط برتنے کوکہا جاتا ہے مثلا چاقو، قینچی وغیرہ کے استعمال سے حتی کے گھر سے باہر جانے سے بھی منع کیا جاتا ہے اس کی شریعت میں کوئی حقیقت ہے ؟
    جواب : شریعت میں اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے یہ صرف اور صرف باطل نظریہ ہے ۔ دنیا میں اللہ کے حکم کے بغیر ایک پتا بھی نہیں ہلتا اور اللہ تعالی کی طرف سے جس کے لئے جس بات کا فیصلہ ہوجائے اسے پوری دنیا مل کر بھی ٹال نہیں سکتی ۔ مسلمانوں کا یہ ایمان ہو کہ مصیبت بھی اللہ کی طرف سے ہے اور اس کا ٹالنے والا بھی وہی ہے ۔ اگر ہمیں مصیبت سے بچنا ہے تو اللہ پر ایمان مضبوط رکھیں اور نیک عمل کرتے رہیں ۔ سورج گرہن کے وقت نبی ﷺ کے بیٹے ابراہیم کا انتقال ہواتھا اس سے بدفالی لینا گمراہی ہے ، ہاں گرہن اللہ کی نشانی میں سے ہے اس لئے تمام مسلمانوں کو اس سے سبق لینا چاہئے اور کثرت سے توبہ کرنا چاہئے اور دنیا سے رخ موڑ کر اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہئے ۔

    20- موبائل میں قرآن رکھنے اور اسے حمام لے جانے کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : موبائل ایک الکٹرانک آلہ ہے جس سے آج کل متعدد کام لیا جارہاہے ، اس میں مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں ، شرعی حدود میں رہتے ہوئے جیسے اس موبائل کا استعمال درست ہے ویسے ہی اس کے ذریعہ ہرقسم کا مثبت کام لینا بھی درست ہے ۔
    آج کل موبائل کے لئے قرآن سافٹ ویر تیار کرلیا گیا ہے ، جس سے قرآن پڑھنےاوریادکرنے میں بڑی آسانی ہوگئی ہے ۔ بظاہر موبائل میں قرآن مجید رکھنے اور اس سے تلاوت کرنے یا حفظ کرنے میں شرعی کوئی ممانعت نہیں ، اس لئے ہم بلاحرج اپنے موبائل میں قرآن مجید رکھ سکتے ہیں۔
    جس موبائل میں قرآن ہو اسے حمام میں لے جاسکتے کیونکہ یہ مصحف کے حکم میں نہیں ہے ، یہ ایک اپلیکیشن ہے جسے ضرورت کے تحت لوڈ کرتے ہیں اور ڈیلیٹ بھی کردیتے ہیں ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی کے سینے میں قرآن محفوظ ہو اور وہ حمام جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں