واٹس ایپ گروپ" اسلامیات" کے سوالات اور ان کے جوابات

مقبول احمد سلفی نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏جولائی 26, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل

    جواب ازمقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹر،شمالی طائف(مسرہ)

    سوال(1): میں ایک باپردہ خاتون ہوں ، شوہر پچھلے تین سالوں سے کفالت نہیں کر رہے نہ میرے والدین ان پہ زور ڈال سکتے اور نہ ہی میرے سسرال والے کوئی نوٹس لیتے ہیں،یہ میرا دوسرا نکاح ہے۔ سوال یہ ہے کہ حالات سے مجبور ہو کر مجھے جاب کرنی ہے اور اپنےبھائی کا ہاتھ بھی بٹانا ہے جس کے لئے مجھے چہرے کا پردہ نہیں کرنا ہوگا کیونکہ باقی جاب بہت کم معاوضہ والاہے اور اس سے گھر والوں کی میں کفالت نہیں کر پاؤں گی۔ دعا کے ساتھ میری رہنمائی کر دیں۔
    جواب: اولا :عورت گھر کی زینت ہے ، اپنے بچوں کی تربیت، شوہر کی خدمت اور گھر کی ذمہ داریاں اس کے سرہیں ، اس وجہ سے اسلام نے عورت کو معاشی تگ ودو سے نجات دیدی ہے ۔ اگر عورت گھر چھوڑ دے اور باہر کی ذمہ داری ادا کرنے لگ جائے تو گھرویران بلکہ بسااوقات برباد ہوجاتاہے مگر جو صورت حالات آپ نے ذکر کی ایسی صورت میں آپ کسی ادارہ یا بااثرلوگوں کے ذریعہ شوہر پر اخراجات کا دباؤ ڈالیں ،اگر پھربھی وہ نفقہ برداشت کرنے پر راضی نہ ہو تو طلاق کا مطالبہ کرسکتی ہیں یا خلع لے سکتی ہیں۔ پھر عدت کے بعد کسی تیسرے صالح مرد سے نکاح کرکے اللہ کے فضل سے اپنی زندگی خوشگوار بناسکتی ہیں۔ ان سب چیزوں کے باوجود بھی نوکری کی ضرورت پڑے تو جان لیں اسلام نے عورتوں کو نوکری کرنے سے منع نہیں کیا ہے ، ایک عورت شرعی حدود میں رہ کر اس کے لئے جو وظیفہ جائز ہے انجام دے سکتی ہے اور اس کے ذریعہ وہ اپنے اور اہل خانہ کی پرورش کرسکتی ہے مثلا سلائی ، کڑھائی ، صفائی ، امور خانہ داری ، کمپنیوں اور تعلیمی اداروں میں مزدوری وغیر ہ ۔ نوکری کے لئے شرعی حدود یعنی حجاب کی پابندی، اختلاط سے اجتناب، عفت وعصمت کی حفاظت ، محرم کے ساتھ سفر اور خلوت سے دوری ضروری ہے۔اسلام میں ایسے کسی جاب کی اجازت نہیں ہے جس سے پردہ ہٹانا پڑے ، اگر حجاب کے ساتھ تھوڑا ہی معاوضہ ملے وہی اختیار کریں اور صبروقناعت سے زندگی گزاریں ساتھ ہی اللہ سے مزید بہتری اور مال میں برکت کی بکثرت دعا کریں،وہی مشکل دور کرنے والا اور سارے جہان کو پالنے والا ہے۔

    سوال(2): سورہ کہف پڑھنے سے سکینت نازل ہوتی ہے اس کا کیا معنی ہے ؟ کیا اس کے پڑھنے سے گھریلو مسائل حل ہوجاتے ہیں یا گھر میں سکون آتاہے ؟
    جواب : سکینت کا نزول سورہ کہف کی قرات کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ یہ مکمل قرآن کے لئے عام ہے گوکہ پس منظر میں ایک صحابی رسول کا سورہ کہف پڑھنے کا ذکر ہے تاہم فرمان رسول بخاری میں ان الفاط میں ہے:
    اقرَأْ فُلانُ، فإنها السكينةُ نزلَتْ للقرآنِ، أو تنزَّلَتْ للقرآنِ(صحيح البخاري:3614)
    ترجمہ:قرآن پڑھتا ہی رہ کیونکہ یہ «سكينة» ہے جو قرآن کی وجہ سے نازل ہوئی یا (اس کے بجائے راوی نے) «تنزلت للقرآن» کے الفاظ کہے۔
    اور صحیح مسلم میں ان الفاظ کے ساتھ وارد ہے۔
    فإنها السكينةُ تنزلت عند القرآنِ . أو تنزلت للقرآنِ( صحيح مسلم:794)
    ترجمہ:یہ سکینت (اطمینان اوررحمت)تھی جو قرآن (کی قراءت) کی بنا پر (بدلی کی صورت میں) اتری۔
    اللہ کی رحمتوں کی کوئی انتہا نہیں ، قرآن کی قرات سے ایسا بھی ممکن ہے کہ گھر کے فتنے، تنازع، اور مسائل ختم ہوجائیں یا بے چین دل کو اس سے ٹھنڈک وسکون پہنچے ،رحمت کے فرشتوں کا نزول ہو تاہم قرات کے ساتھ قرآن کے دیگر حقوق بھی اداکئے جائیں مثلا اس کے معانی پہ غوروخوض، آیات سے عبرت ونصیحت ، دعوت وعمل کا جذبہ وغیرہ ۔

    سوال(3): ہم اپنے یہاں دعوت وتبلیغ کا کام کرتے ہیں اور مشارکین میں اکثر لوگ میلاد منانے والے ہیں۔ پہلے لوگ قرآن کلاس اور دیگر دروس میں آتے تھے پر جب سے انکو پتہ لگا ہم میلاد نہیں مناتے تو قرآن کلاس میں نہیں آرہے ہیں۔ ایسے میں کیا کریں ؟کھلے عام ہم میلاد کا انکار کرتے رہیں یا حکمت کے تحت پہلے لوگوں کو قرآن سے جوڑیں اور پھر آہستہ آہستہ انہیں ان بدعات کے بارے میں بتائیں ، سمجھ نہیں آرہا پلیز جلد رہنمائی کریں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
    جواب : دعوت میں حکمت وبصیرت اپنانا چاہئے مگر دعوت کے لئے خود کو میلادی منوانایا ظاہرکرنابدعت اور اہل بدعت کا تعاون ہے ۔ بلاشبہ دعوت کا کام حکمت کے ساتھ کریں یہ بڑے اجر کا کام ہے مگر خود کو بدعتى کا معاون نہ ظاہر کریں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں منکر ات پہ خاموشی اختیار کرنے کا حکم نہیں دیا ہے بلکہ اولا ہاتھ سے مٹانے ، ثانیا زبان سے نصیحت کرنے اور ثالثا دل میں اسے برا جاننے کا حکم دیا ہے۔ بھلے آپ کے درس میں لوگوں کی قلت ہو مگر حق کی تعلیم دیں ، میلادیوں سے غصے میں نہیں ، حکمت سے بات کریں تاہم میلاد منانے والے بھی ٹھیک اور نہ منانے والے بھی ٹھیک ایسی پالیسی نہ اپنائیں ۔ یاد رکھیں حق كى پیروی کرنے والے اور حق قبول کرنے والے ہردور میں کم رہے ہیں ۔ دعوت کا مقصد بھیڑ جمع کرنا نہیں حق بات پہنچانا ہو خواہ اس کے قبول کرنے والے تھوڑے ہی کیوں نہ ہوں ۔

    سوال(4): اگر میاں بیوی بوس و کنار کر رہے ہوں اوراذان ہونے لگے تو اذان کے احترام کے لئے یہ عمل چھوڑ دینا چائیے یا نہیں ؟ اور اگر نہیں چھوڑنا چائیے تو کیااذان کا جواب دینا ضروری ہے؟ نیز اگر حالت جماع ہو اور اس دوران جماعت کھڑی ہو جائے تو کیا اس عمل کو روک دینا چائیے یا کھانے پر قیاس کیا جا سکتا ہے جس طرح ایک حدیث ہے کہ اگر کھانا سامنے رکھا ہو تو پہلے کھانا کھائیں مہربانی ہوگی رہنمائی فرمائیں۔
    جواب : اذان کا مقصدلوگوں کو نماز کی طرف بلانا ہوتا ہے ۔ جب مسجد میں اذان ہونے لگے تو سارے کام کاج چھوڑ کر نماز کے لئے تیار ہونا چاہئے اور اول وقت پہ نماز ادا کرنا چاہئے کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: أفضلُ الأعمالِ الصَّلاةُ في أوَّلِ وقتِها(صحيح الجامع:1093)
    ترجمہ:بہترین عمل نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کرنا ہے۔
    اور جب جماع کی حالت میں اذان ہونے لگے یا اقامت کی آواز سنائی دے تو اس عمل کو جاری رکھنے میں کوئی حرج نہیں تاہم اس سے جلد فراغت حاصل کرکے اور غسل کرکے نمازادا کریں۔یاد رہے اذان سننے کے بعد بھی قصدا بستر پر لیٹے رہنا حتی کہ اقامت ہونے لگے تب جماع کرنا ہماری کوتاہی اور نماز سے غفلت ہے۔جہاں تک اذان کے جواب کا مسئلہ ہے تو یہ سب پر واجب نہیں بلکہ فرض کفایہ اوربڑے اجر وثواب کا حامل ہے اس لئے میاں بیوی سے بات چیت یابوس وکنار کے دوران جواب دینا چاہیں تو دینے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن جماع کے وقت اذان کا جواب دینے سے علماء نے منع کیا ہے ،جب اس عمل سے فارغ ہوجائیں تو بقیہ کلمات کا جواب دے سکتے ہیں ۔

    سوال(5): کیا گھر میں طوطا اور پرنده رکھنا جائز ہے ؟
    جواب : ہاں گھر میں طوطا یا خوبصورت وخوشالحان پرندہ رکھنا ، اسے پالنا اور پنجڑے میں بند کرنا جائز ہے اس شرط کے ساتھ کہ اس کی دیکھ ریکھ کی جائے اور اس کی خوراک کا انتظام کیا جائے ۔ نبی ﷺ کے زمانے میں ابوعمیر نامی بچہ ایک چڑیا سے کھیلا کرتا ،آپ نے اسے آزاد کردینے یا نہ کھیلنے کا حکم نہیں دیا ۔

    سوال(6):غیر مسلم ہندو اور کفار کے ہوٹل میں کھانا کیسا ہے وہ لوگ نجس ہوتے ہیں اور انکی کمائی حرام کی ہوتی ہے؟
    جواب : یقینا کافر نجس ہوتے ہیں مگر اس کے ہاتھ کا پکایا ہوا حلال کھانا نجس کے حکم میں نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو رسول اللہ ﷺ یہوی کا پیش کیا کھانا کبھی نہیں کھاتے ۔ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کفار کے ہاتھ کا پکایا ہوا کھانا جو ہمارے لئے شرعا حلال ہو اس کے ہوٹل میں کھاسکتے ہیں تاہم جس جگہ شراب وکباب عام ہوایسی جگہ کھانے سے پرہیز کریں خصوصا جب خنزیروغیرہ پکایا جاتا ہوکیونکہ بنائے اور کھائے گئے ایسے برتن میں آپ بھی کھائیں گے نیز یہ علم رہے کہ کفار کے ہوٹل سے اجتناب کرسکیں تو بہتر ہی ہے اور ضرورت پڑجائے تو حرج نہیں اور کفار کی ہر کمائی حرام نہیں ہے مثلا ہوٹل کی کمائی حرام نہیں ہے الا یہ کہ اس میں بھی حرام کاری کرتا ہو۔ یہاں ہوٹل میں ہمیں اس کی حرام کمائی سے سروکار نہیں ہے حلال فوڈ سے مطلب ہے۔

    سوال(7): کیا دوران وضو باتیں کرنا منع ہے بہت ساری مساجد میں وضو والی جگہ لکھا ہوتا ہے کہ دوران وضو باتیں نہ کریں کیا یہ بات صحیح ہے؟
    جواب : میں نے آج تک کہیں کسی مسجد کے وضوخانہ میں ایسا لکھا نہیں دیکھا البتہ وضو میں اسراف نہ کریں اس قسم کا جملہ عموما لکھا ہوتا ہے ۔ ممکن ہے عورتوں والے وضوخانوں میں ایسا کہیں لکھا ہوتا ہو کیونکہ عورتیں باتیں زیادہ کرتی ہیں اور بات کرتے کرتے وضو بنانے میں پانی زیادہ خرچ ہوگا ۔ بہرکیف! وضو کے دوران بات کرنا شریعت کی طرف سے منع نہیں ہے ۔

    سوال(8): آج کل مساجد میں مریضوں کے لئے نماز کی ادائیگی کی خاطر کرسیاں رکھی ہوتی ہیں اوراس کے آگے تختی لگی ہوتی ہے، نمازی جب سجدہ کرتا ہے تو وہ اس تختی پرسجدہ کر لیتا ہے,اس عمل کی شرعی حثیت کیا ہے؟
    جواب: شیخ صالح فوزان نے ایسی کرسی پر سجدہ کرنا ناجائز کہا ہے جس میں سجدہ کے لئے آگے تختی لگی ہو۔ ان کا استدلال ہے کہ نبی ﷺنے ایک مریض کو تکیہ پر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو اسے پھینک دیا ۔ اس لئے کرسی پر نماز پڑھنے والے مریض کو چاہئے کہ اگر زمین پر سجدہ کرنے کی قدرت رکھتا ہو تو زمین پر سجدہ کرے ورنہ کرسی پر ہی رکوع کے مقابلے میں ذرا زیادہ جھک کر سجدہ کرے ۔

    سوال(9):نماز کے دوران اگرکسی کاوضو ٹوٹ جائے تو کیا اس پر نماز چھوڑ کر وضو کرنا لازمی ہے؟
    جواب : اگر نماز کے دوران کسی کا وضو ٹوٹ جائے تو اسے نماز توڑ کر پھر سے وضو بنانا ضروری ہے اور ازسرے نو نماز شروع کرناہے ۔

    سوال(10):اگر لفظ بلفظ سیکھنے کا معاملہ ہو تو کیا حائضہ عورت اپنے ہاتھوں میں قرآن لے سکتی ہے ؟
    جواب : صحیح قول کی روشنی میں حیض والی عورت بغیر چھوئے قرآن مجید کی تلاوت کرسکتی ہے کیونکہ ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ہے البتہ جہاں تک چھونے کا مسئلہ ہے تو ہاتھوں میں دستانے لگاکر مصحف پکڑے یعنی سیکھنے یا سکھانے یا تلاوت کی غرض سے جب قرآن اٹھانے کی ضرورت ہو تو اپنے ہاتھوں میں دستانے لگالے ۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں "كِتَابُ الحَيْض "(بَابُ قِرَاءَةِ الرَّجُلِ فِي حَجْرِ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ) کے تحت ترجمہ الباب کے طورپر ایک اثر ذکر کیا ہے: وَكَانَ أَبُو وَائِلٍ: «يُرْسِلُ خَادِمَهُ وَهِيَ حَائِضٌ إِلَى أَبِي رَزِينٍ، فَتَأْتِيهِ بِالْمُصْحَفِ، فَتُمْسِكُهُ بِعِلاَقَتِهِ»
    ترجمہ:ابووائل اپنی خادمہ کو حیض کی حالت میں ابورزین کے پاس بھیجتے تھے اور وہ ان کے یہاں سے قرآن مجید جزدان میں لپٹا ہوا اپنے ہاتھ سے پکڑ کر لاتی تھی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل (دوسری قسط)

    مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹرطائف

    سوال(1):عورت توعموما گھر میں ہی فرض نماز ادا کرتی ہے اور وہ فرائض میں قرآن کی تلاوت اونچی قرات سے کرنا چاہتی ہو تو کیا فجرو مغرب اورعشاء کی نماز میں وہ اونچی قرات کر کے نماز کی ادائیگی کر سکتی ہے؟
    جواب : نماز عورتوں پر بھی ویسے ہی فرض ہے جیسے مردوں پر البتہ جہاں نماز میں عورتوں کے لئے خصوصیت ہے وہ حالت ان کے لئے مستثنی ہوگی ۔ جہری نمازیں یعنی فجر ، مغرب اور عشاء مردوں کی طرح عورتوں کے حق بھی میں جہرا مسنون ہیں لہذا وہ گھر میں ان نمازوں کی ادائیگی جہرا کرسکتی ہیں البتہ اگر ان کی آواز کوئی اجنبی مرد سننے والا ہو تو فتنے سے بچنے کے لئے سرا پڑھے ۔

    سوال (2): اس جملے کا مجھے ترجمہ معلوم کرنا ہے : مَا أَعَانَ عَلَى نَظْمِ مُرُوءَاتِ الرِّجَالِ كَالنِّسَاءِ الصَّوَالِحِ۔
    جواب: تاریخ دمشق لابن عساکر اور المجالسة وجواهر العلم للدينوري میں مذکور ہے کہ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ نے ذکر کیا ہے کہ عرب کے بعض حکماء کا کہنا ہے : "مَا أَعَانَ عَلَى نَظْمِ مُرُوءَاتِ الرِّجَالِ كَالنِّسَاءِ الصَّوَالِحِ ".یعنی مردوں کی مروت کی تنظیم و حفاظت میں نیک عورتوں نے جتنی مدد کی اتنی کسی نے نہیں کی ۔
    اس قول میں نیک عورتوں کی تعریف کی گئی ہے کہ ان کی وجہ سے مردوں کی اصلاح ہوتی ہے اور ان کے اخلاق ومروت کی حفاظت ہوتی ہے ۔

    سوال (3):دوران طواف نماز کے وقت کچھ عورتیں اپنے مردوں کے ساتھ نماز کے لئے مردوں کی صف میں کھڑی ہو جاتی ہیں اس کے بارے میں کیا حکم ہے اوراسی طرح عید ین کی نمازوں میں بعض مقامات پر گلیوں میں رش کی وجہ سے اکثر عورتیں اور مرد آگے پیچھے ایک ساتھ نماز میں کھڑے ہو جاتے ہیں ، اس کا بھی کیا حکم ہے ؟
    جواب : عورتوں کی صف مردوں سے الگ اور آخر میں ہونی چاہئے اس وجہ سے عورتوں کو حرم میں نماز پڑھتے وقت، یا عیدین ، نماز جمعہ اور فرائض مردوں کے ساتھ ادا کرتے وقت سب سے آخر میں مردوں سے الگ صف بناکر نما زادا کرنا چاہئے اور عموما عورتوں کے لئے مساجدومصلی میں جگہیں مخصوص کردی جاتی ہیں ان میں ہی نماز پڑھنا چاہئے لیکن اگر کبھی رش کی وجہ سے مردوں سے آگے نماز پڑھنا پڑجائے اس حال میں کہ نکلنے کا اختیار نہیں تو اس حالت میں پڑھی گئی نماز درست ہےلیکن ایک ہی صف میں مردوں کے ساتھ مل کر کھڑا ہونا جائز نہیں ہے ، ہاں کافی رش ہو اور مردوں کے دائیں بائیں ذرا ہٹ کے نماز پڑھ لی گئی تو بھی درست ہے ۔ اختلاط(رش کی وجہ سےمرد کے ساتھ کھڑا ہونا پڑجائے) کی وجہ سے عورت جماعت سے نماز چھوڑ دیتی ہے تو جائز ہے ۔

    سوال (4): کسی نے پیانو(Piano) بجانے کے لئےخریدا اور بعد میں اسے اپنے گناہ کا احساس ہوا تو كیا اسے بیچ کر اس کا پیسہ حلال ہوگا؟
    جواب : اگر پیانو اس دوکان والے کو لوٹا سکتا ہے جس سے خریدا ہے تو بہتر ہے اور واپس لیا گیا پیسہ بھی حلال ہے اور دوکاندار واپس نہ لے تو کسی دوسرے شخص کے ہاتھوں بیچنے پر اس شخص کے گناہ میں شریک ہوجائے گا اس لئے کسی دوسرے شخص کے ہاتھوں بیچنے سے بہتر ہے کہ اسے توڑ کر ناقابل استعمال بنادے ۔

    سوال (5):کیا ریاض الجنہ میں نماز پڑھنے کی کوئی خصوصیت ہے ؟
    جواب : ریاض الجنہ یہ وہ مبارک جگہ ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر یعنی حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہاسے منبر شریف کے درمیان میں ہے، اس کا نام ریاض الجنۃ یعنی جنت کا باغیچہ ہے ، یہ نام اس لئے پڑا کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا ہے:ما بين بيتي ومِنبَري رَوضَةٌ من رياضِ الجنةِ ، ومِنبَري على حَوضي(صحيح البخاري:1196,صحيح مسلم:1391)
    ترجمہ: میرے منبر اور میرے گھر کے درمیان والی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا ممبر قیامت کے دن میرے حوض پر ہوگا۔
    اس حدیث کی روشنی میں اس مقام کی بڑی فضیلت معلوم ہوتی ہے ، یہ دنیا کا مبارک مقام اور زمیں کا مبارک ٹکڑا ہے لہذا اگر کسی کو مسجد نبوی ﷺ آنے کا موقع ملے تو یہاں عبادت ، ذکر، اللہ سے دعا اور اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار کرنا چاہئے ۔ اس جگہ پہ نبی ﷺ سے بھی خاص طور سے عبادت کرنا ثابت ہے ۔یزید بن ابی عبید بیان کرتے ہیں کہ میں سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے ساتھ (مسجد نبوی میں) حاضر ہوا کرتا تھا۔ سلمہ رضی اللہ عنہ ہمیشہ اس ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھتے جہاں قرآن شریف رکھا رہتا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ اے ابومسلم! میں دیکھتا ہوں کہ آپ ہمیشہ اسی ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھتے ہیں، انہوں نے کہا: إِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَهَا (صحيح البخاري:502)
    ترجمہ: میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا کہ آپ بھی یہاں خاص کرنماز ادا کیا کرتے تھے ۔
    کنزل العمال (34950) اور مسند الفردوس (5676) میں ضعیف سند سے ایک روایت ہے :من سره أن يصلي في روضة من رياض الجنة فليصل بين قبري ومنبري۔
    ترجمہ: جسے ریاض الجنہ کی کیاری میں نماز ادا کرنا پسند آئے وہ میری قبر اور میرے ممبر کے درمیان نماز پڑھے۔

    سوال (6):"لاحول ولاقوة الاباللہ " کا صحیح ترجمہ بتا دیں اوراس کے ساتھ "ما شاء اللہ لاقوة الاباللہ" بھی پڑھ سکتے یا صرف "لا قوة الا بالله" پڑھنا کیسا ہے؟ نیزتینوں میں زیادہ اجر کس کلمہ میں ہے ؟
    جواب : "لاحول ولاقوة الاباللہ " کو حوقلہ کہا جاتا ہے ، یہ اذان میں حیعلتین کا جواب ہے اور نبی ﷺ کے فرمان میں اس کی بڑی فضیلت آئی ہے ۔ اس کا معنی ہے :[نیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی ہمت اللہ کے بغیر ممکن نہیں] ۔
    نبی ﷺ نے فرمایا:يا عبدَ اللهَ بنَ قيسٍ، قُلْ لا حولَ ولا قوةَ إلا باللهِ، فإنها كنزٌ من كُنوزِ الجنةِ (صحيح البخاري:7386)
    ترجمہ:عبداللہ بن قیس! «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہا کرو کہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔
    اس لئے اس عظیم ذکر کا کثرت سے ورد کرنا چاہئے اور"ما شاء اللہ لاقوة الاباللہ" بھی ایک ذکر ہے ، یہ سورہ کہف کی (39) آیت میں آیا ہے ۔ ان الفاظ کے ذریعہ اللہ کا شکر بجا لاسکتے ہیں اور اسی طرح کسی کو کسی کا مال، اولاد یا کسی کا حال اچھا لگے تو یہ کلمہ کہہ سکتے ہیں ، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ نظر بد سے حفاظت ہوگی ۔ اور محض "لاقوۃ الاباللہ" کا ذکر نہیں ملتا اس لئے نظر بد سے بچنے کے لئے "ما شاء اللہ لاقوة الاباللہ" اور ذکر کے طورپر "لاحول ولاقوة الاباللہ " کہا جائے ۔

    سوال(7)میں بسااوقات بچوں کو سلانے کے لئے سونے کے اذکار پڑھاتی ہوں مگر اس وقت سوتی نہیں ہوں کیا مجھے سونے کے وقت اذکاردوبارہ پڑھنے ہیں ؟
    جواب : سونے کے اذکار سونے سے قبل پڑھنا ہے، اگر کوئی بچے کو سلانے کے لئے اسے اذکار پڑھائے تو بلاشبہ پڑھنے والی کو بھی فائدہ ہوگا تاہم جب خود بستر پر سونے کے لئے جائیں تو اس سے قبل دوبارہ اذکار پڑھ لیں کیونکہ یہ اذکار بستر پر جانے کے وقت سونے سے قبل کے ہیں جب انسان سونے کی نیت سے اس سے ماقبل پڑھے ۔ ہاں اگر بچوں کے سوتے وقت انہیں اذکار پڑھائے نیز خود بھی وہ اسی وقت سونے لگیں تو اپنی طرف سے بھی نیت کرلیں یہ ایک مرتبہ بھی کفایت کرجائے گا۔

    سوال(8): میں چند مہینے پہلے میں عمرہ کرکے آئی ہو اوردوران طواف کعبہ ہی کو ہی دیکھتی رہی ، جب واپس گھر آئی ہو تو معلوم ہوا کہ طواف کے دوران کعبہ کی طرف دیکھنا سخت منع ہے کیا واقعی یہ بات سچ ہے ؟
    جواب : کعبہ کی طرف دیکھنا منع نہیں ہے خواہ طواف میں ہو یا بغیر طواف کے ۔اصل میں لوگوں میں یہ اعتقاد مشہور ہے کہ کعبہ کی طرف پہلی نظر پڑنے پر دعا کرنےسے قبول ہوتی ہے لیکن اس بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے ، ہاں ایک ضعیف حدیث میں چار مقامات پر آسمان کا دروازہ کھلنے اور دعا قبول ہونے کا ذکر ہے ، ان میں سے ایک خانہ کعبہ کی دیدار کے وقت ہے۔ یہ ضعیف حدیث ہے اس لئے دلیل نہیں پکڑی جائے گی ۔ (دیکھیں : سلسلہ ضعیفہ : 3410)
    بہرکیف! آپ کا طواف صحیح ہے ، آئندہ یہ ذہن میں رہے کہ طواف میں کعبہ کی طرف دیکھنا نہ ضروری ہے اور نہ ہی ہے عبادت ، چلتے ہوئے نظر پڑجائے یا اس کی عظمت کا خیال کرکے اسے دیکھنے لگیں تو کوئی حرج نہیں ہے مگر یہ اعتقاد نہ رکھیں کہ اس پہ نظر کرکے دعا کرنے سے دعا قبول ہوگی ورنہ نہیں ۔

    سوال(9):ایک شخص دن میں سوتا ہے تو کیا وہ رات کے اذکار پڑھے گا ؟
    جواب: اس سلسلے میں علماء کے متعدد اقوال ہیں ، بعض نے کہا ہے کہ یہ رات کے ساتھ ہی خاص ہے اور بعض نے کہا کہ دن میں سونے کے وقت بھی پڑھ سکتے ہیں ۔ ایک تیسرا قول جو مناسب معلوم ہوتا ہے جسے شیخ ابن باز نے اختیار کیا ہے کہ جو اذکار رات میں سونے کے ساتھ خاص ہیں وہ رات میں پڑھے جائیں مثلا مَن قرَأ بالآيتَينِ مِن آخرِ سورةِ البقرةِ في ليلةٍ كفَتاه(صحيح البخاري:5008)
    ترجمہ: جس نے سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں رات میں پڑھ لیں وہ اسے ہر آفت سے بچانے کے لئے کافی ہوجائیں گی ۔
    یہ رات میں سونے کے ساتھ خاص ہے اور نبی ﷺکا یہ فرمان کہ جب تم میں سے کوئی اپنے پستر پر لیٹنے کا ارادہ کرے تو پہلے اسے اپنی چادر کے کنارے سے جھاڑ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد کیا چیز داخل ہوگئی ہے۔ پھر یہ دعا پڑھے:باسمِكَ ربِّي وَضعتُ جَنبي وبِكَ أرفعُهُ ، إن أمسَكْتَ نفسي فارحَمها ، وإن أرسلتَها فاحفَظها بما تحفَظُ بِهِ عبادَكَ الصَّالحينَ(صحيح البخاري:6320)
    ترجمہ: اے میرے رب! تیرے نام سے میں نے اپنا پہلو رکھا ہے اور تیری قوت سے میں اسے اٹھاؤں گا۔ اگر تو نے میری جان کو روک لیا تو اس پر رحم کرنا اور اگر اسے چھوڑ دیا تو اس کی حفاظت کرنا جس طرح تو اپنے لوگوں کی حفاظت کرتا ہے۔
    یہ عام ہے، دن اور رات دونوں وقت سونے سے قبل پڑھ سکتے ہیں ۔

    سوال(10): مجھے کہیں سے ایک واقعہ ملا ہے اس کی حقیقت واضح کریں : ایک شخض اپنی بیوی کو صرف اس وجہ سے چھوڑنا چاہتا تھا کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتا تھا۔ اس کے جواب میں یہ الفاظ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمائے تھے‘ کیا ضروری ہے کہ ہر گھر کی بنیاد محبت پہ ہی ہو؟ تو پھر وفاداری اور قدردانی کا کیا؟ (بحوالہ البیان والتابعین 2/101 فرائض الکلام صفحہ 113)
    جواب : سید قطب نے فی ظلال القرآن (1/606) میں یہ قول ذکر کیا ہے :
    وما أعظم قول عمر بن الخطاب - رضي الله عنه - لرجل أراد أن يطلق زوجه؛ لأنه لا يحبها- "ويحك! ألم تبن البيوت إلا على الحب؟! فأين الرعاية وأين التذمم؟
    ترجمہ: اور عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے عظیم قول میں سے ہے کہ ایک آدمی اپنی بیوی کو اس وجہ سے طلاق دینا چاہ رہاتھا کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتا تھا تو حضرت عمر نے اس سے کہا کہ کیا ضروری ہے کہ ہر گھر کی بنیاد محبت پہ ہی ہو؟ تو پھر وفاداری اور قدردانی کا کیا؟
    اس معنی کے الفاظ حضرت عمررضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کنزالعمال میں ملتے ہیں :فليس كل البيوت تبنى على الحب، ولكن معاشرة على الأحساب والإسلام(كنز العمال:16/554،رقم :45859)
    ترجمہ: ضروری نہیں کہ ہر گھر کی بنیاد محبت پر قائم ہو بلکہ دینداری اور خاندانی شرافت بھی گھروں کو سنوارنے کا ذریعہ ہوا کرتی ہیں ۔
    یہ ایک عمدہ بات ہے کہ جہاں میاں بیوی میں محبت میں کمی یا الفت کا فقدان ہو وہا ں صرف محبت کی کمی وجہ سے گھر توڑ دینا صحیح نہیں ہے بلکہ اخلاق ومروت ،غیرت وحمیت ،عزت وشرافت ،مذہبی روایات اورتہذیبی اقدار کی بنیادپر اپنا گھر قائم رکھ سکتے ہیں ۔

    سوال(11):ایک عورت اگر شریعت کی پابند ہے جبکہ اس کے گھرکےمردحضرات بے دین ہیں مثلا بے نمازی، سود خور، شراب خور،جواڑی، عورتوں کی بےعزتی کرنےوالے اورانہیں مارنے پیٹنے والےتو کیا ایسے باپ، بھائی، چچا اس دیندارعورت کے ولی ہوسکتے ہیں جو زبردستی اس کی شادی کسی شرابی یا جواڑی سے کرنا چاہتے ہیں؟
    جواب: اللہ نے عورت کی عفت وعصمت کی خاطر ہی ولی کا اہتمام کیا ہے لیکن ولی بے دین اور کفراکبرکا مرتکب ہو تو اس کی ولایت اس کے بعد والے ولی میں منتقل ہوجاتی ہے مثلا باپ بے دین ہے تو بھائی ولی بنے گا اور اگر بھائی بے دین ہے تو چچا میں سے جو دیندار ہو اسے ولایت کا حق ہوگا۔ اگرباپ نمازکا منکر نہیں ، کبھی ادا کرنے والا اور کبھی چھوڑ دینے والاہو تو مسلمان ہی مانا جائے گا اور نماز کے علاوہ دیگر گناہ شراب نوشی ، قماربازی اور سودخوری وغیرہ گناہ کبیرہ ہے مگر ان کاموں سے کوئی اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ ایسا آدمی فاسق مانا جائے گا ، اگر کوئی فاسق آدمی اپنی لڑکی کی شادی بے دین اور شرابی کبابی آدمی سے کرے تو لڑکی کو حق حاصل ہے کہ وہ اس شادی سے انکار کردے اور ولی کو بھی اختیار نہیں کہ وہ جبرا لڑکی کی شادی اس کی مرضی کے خلاف کسی بے دین سے کرائے ۔ بعض علماء نے ولی کے لئے عدالت کی بھی شرط لگائی اس صورت میں فاسق ولی نہیں بن سکتا مگر صحیح قول کی روشنی میں فاسق ولی بن سکتا ہے ، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ذکر کیاہے : النكاح بولاية الفاسق يصح عند جماهير الأئمة (مجموع الفتاوى:32/101) کہ جمہور ائمہ کے نزدیک فاسق کی ولایت نکاح میں صحیح ہے۔

    سوال(12):کیا رمضان میں اعتکاف میں عورت طواف کر سکتی ہے کیونکہ ہم کتنا ہی دور سے طواف کریں نامحرم سے ضرور ٹکراتے ہیں اوررمضان میں رش بھی بہت ہوتا ہے؟
    جواب: اعتکاف کی حالت میں بلاضرورت مسجد سے باہر جانا منع ہے اور مسجدحرام میں اعتکاف کرنے والی عورت کے لئے نفلی طواف کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے، یہ مسجد ہی کا حصہ ہے ۔ جس طرح مسجد حرام کے کسی حصہ میں معتکف عبادت کرسکتا ہے اسی طرح اس مسجد کے دوسرے حصہ مطاف میں آکر طواف کرسکتا ہے بلکہ بعض علماء نے اعتکاف کی حالت میں نفلی عبادت سے افضل طواف کرنا قرار دیا ہے۔ دوران طواف عورت مردوں سے ہٹ کر چلنے کی کوشش کرے ، لاشعوری طور پر یا رش کی وجہ سے مردوں سے ٹکرا جانے پر کوئی گناہ نہیں ہے اور اعتکاف یا طواف میں کوئی نقص نہیں آئے گا۔

    سوال(13): عورتوں میں برص کا مرض کثرت سے پایا جاتا ہے ،یہ علاج سے بھی اکثر ٹھیک نہیں ہوتا ، اس مرض کی وجہ سے عورتوں کی شادی میں کافی دشواری پیدا ہورہی ہے آپ اس سلسلے میں قرآن وحدیث سے رہنمائی فرمائیں۔
    جواب : برص سے نبی ﷺ نے پناہ مانگی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللهم إني أعوذُ بك من الجنونِ والجُذامِ ، والبرصِ وسيِّئِ الأسقامِ»(صحيح النسائي:5508)
    ترجمہ:اے اللہ! پاگل پن، کوڑھ، برص اور برے امراض سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
    یہ ایک بیماری ہے اس وجہ سے اللہ کے رسول نے اس سے پناہ مانگی ہے ، اویس قرنی رحمہ اللہ کو بھی یہ بیماری تھی اللہ سے دعا کی اکثر ختم ہوگئی سوائے ایک درہم یا دینار کے برابر ۔ اسے شادی بیاہ میں عیب سمجھا جاتا ہے اور متعدی بھی تصور کیا جاتا ہے اس وجہ سے برص والے مرد یا برص والی عورت کی جلدی شادی نہیں ہوتی ہے ۔ لوگ اس بیماری کو لاعلاج بھی سمجھتے ہیں اور کہتےہیں کہ اس کا علاج صرف عیسی علیہ السلام ہی کرسکتے تھے ،ان کے بعد اب کسی کی یہ بیماری ٹھیک نہیں ہوگی جبکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے : ما أنزَلَ اللَّهُ داءً إلَّا أنزلَ لَه شفاءً(صحيح البخاري:5678)
    ترجمہ: اللہ نے کوئی ایسی بیماری نازل نہیں کی جس کا کوئی علاج(شفا) نہ ہو۔
    اس لئے یہ بیماری جہاں لاعلاج نہیں ، وہیں اس مرض والے سے شادی کی ممانعت بھی کسی صحیح حدیث میں نہیں ہے ۔ کوئی اگر برص والے یا برص والی سے شادی کرنا چاہے تو شرعا منع نہیں ہے اور شادی کے بعد اللہ پر توکل اور اس سے دعا کرتے ہوئے صحت مند اولاد کی امید کی جاسکتی ہے ۔
    اہل علم نے یہ بات بھی ذکر کی ہے کہ شادی کے موقع پر جس میں یہ مرض ہو اس کو ظاہر کردینا چاہئے اور اگر کسی میں یہ مرض شادی کے بعد ظاہر ہوا تو دوسرے کونکاح فسخ کرنے کا اختیار ہے اور چاہے تو اکٹھے بھی رہ سکتے ہیں ۔
    قبیلہ بنوغفار کی ایک عورت سے نبی ﷺ نے شادی کی ،جب اس عورت نے اپنا کپڑا نکالا تو برص کی بیماری معلوم ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے جدا کردیا ، یہ روایت ضعیف ہے اور اسی طرح سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب یہ قول بھی ضعیف ہے: أيُّما امرأةٍ غُرَّ بها رجلٌ بها جنونٌ أو جذامٌ أو برصٌ فلها مهرُها بما أصاب منها وصداقُ الرجلِ على من غرَّه(إرواء الغليل:1913)
    ترجمہ: ایسا کوئی مرد جو کسی ایسی عورت کے ذریعہ دھوکہ دی گئی جسے پاگل پن یا کوڑھ یا برص کی بیماری لاحق تھی تو اس کا مہر وہی ہے جو اس کے ذریعہ مرد کو لاحق ہوا اور مرد کا مہر اس پر ہے جس نے اسے دھوکہ دیا۔
    مختصر یہ ہے کہ برص ایک بیماری اور انسانی عیب ہے جس سے تنفر ممکن ہے مگر ایسا نہیں ہے کہ اس مرض میں مبتلا مرد/عورت کی شادی نہیں ہوسکتی ، جو کسی کا سہارا بن کراللہ سے اجر کا طالب ہو وہ شادی کرسکتا ہے اور دھوکہ میں برص زدہ سے شادی ہوجانے پر نکاح فسخ کرنا ہی ضروری نہیں ہے چاہے تو اسے باقی رکھ سکتا ہے۔

    سوال(14): ایک عورت جنبی تھی اور اسی حالت میں ماہواری شروع ہوگئی تو جنابت کے لئےغسل کب کرے ، حیض سے پاک ہوکر یا اس سے پہلے ہی؟
    جواب: جنابت ایک ناپاکی ہے اور حیض ایک دوسری ناپاکی ہے ،اگر عورت فورا غسل جنابت کرلیتی ہے تو اس سےجنابت کی ناپاکی ختم ہوجاتی ہے مگر نماز نہیں پڑھے گی اور نہ ہی روزہ رکھے گی کیونکہ وہ حیض کی حالت میں ہے۔جب حیض سے پاک ہوتب طہارت کے واسطے دوسرا غسل کرےاور نماز پڑھنا شروع کرے ۔ غسل جنابت بالفور کرنے سے ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ جنابت کی ناپاکی ختم ہوجائے گی اور دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ قرآن کی تلاوت کرسکتی ہے کیونکہ جنبی کے لئے قرآن کی تلاوت منع ہے جبکہ حائضہ کے لئے ممانعت کی کوئی صحیح اور صریح دلیل نہیں ہے ۔

    سوال(15): کیا خاتون کو تھوڑے لمبے ناخن رکھنے میں شریعت اسلامیہ کی طرف سے کوئی قباحت ہے ؟
    جواب: ناخن کاٹنے کا تعلق صفائی سے ہے اور یہ دس فطری امور میں سے ایک ہے۔ ناخن کاٹنے میں مرد وعورت دونوں برابر ہیں یعنی دونوں کو ناخن کاٹنے کا حکم ہوا ہے۔ حضرت انس بن مالک سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
    وُقِّتَ لنا في قصِّ الشاربِ، وتقليمِ الأظفارِ، ونتفِ الإبطِ، وحلقِ العانةِ، أن لا نتركَ أكثرَ من أربعينَ ليلةً .(صحيح مسلم:258)
    ترجمہ: ہمارے لیے مونچھیں کترنے ، ناخن تراشنے، بغل کے بال اکھیڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے لیے وقت مقرر کر دیا گیا کہ ہم ان کو چالیس دن سےزیادہ نہ چھوڑیں۔
    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مرد ہو یا عورت زیادہ سے زیادہ چالیس دن تک اپنے ناخن چھوڑ سکتا ہے ، اس سے زیادہ دن ہونے پر واجبی طورپر اپنا ناخن کاٹنا ہوگا ورنہ گنہگار ہوں گے
    کسی مسلمان عورت کے لئے لمبے ناخن رکھنا جائز نہیں ہے ، اس میں فطرت کی مخالفت ، فساق وفجار خواتین اور حیوانات کی مشابہت کے ساتھ اپنے اندر نجاست پالنا بھی ہے ۔ بھلا مومنہ عورت ، نماز و روزہ کا اہتمام کرنے والی اورطہارت وپاکیزگی کا پیکر اپنے ہاتھوں میں نجاست کیسے پالے گی ؟۔ لمبے ناخن کی تہ میں گندگی جمتی رہتی ہےاس لئے ہفتہ ہفتہ ہی اس کی صفائی بہتر ہے پھرلمبے ناخن رکھنے والیاں اپنے ہاتھوں کی نمائش بھی کرتی ہیں کیونکہ لمبے ناخن رکھے ہی جاتے ہیں نمائش کے لئے ،اس پر مستزاد اکثر اس پہ نیل پالش کی جاتی ہے جس سے وضو نہیں ہوتا ۔ گویا گناہ کے ساتھ یہ عمل عبادت میں بھی مخل ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل (تیسری قسط)

    جواب از شیخ مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹر،شمالی طائف(مسرہ)

    سوال(1) تھکان کی وجہ سے شوہر کے بلاوے پر اس کی خواہش پوری نہ کرے تو کیا عورت گنہگار ہوگی ؟
    جواب : میاں بیوی کی زندگی الفت ومحبت اور خلوص ووفا پر قائم ہے جہاں ایک دوسرے کی رعایت ، تعاون اور سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اللہ نے مردوں کو بھلائی کے ساتھ رہنے کا حکم دیا ہے ، فرمان باری ہے:وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء:19)
    ترجمہ:اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو۔
    عورت کو اپنے شوہر کی اطاعت کا حکم دیا ہے ، اس کے حکم کی نافرمانی گناہ کے ساتھ باعث مواخذہ بھی ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے:
    واللاتي تخافون نشوزهن فعظوهن واهجروهن في المضاجع واضربوهن فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا (النساء:34)
    ترجمہ: اورجن عورتوں کی نافرمانی اوربددماغی کا تمہیں ڈر اورخدشہ ہوانہيں نصیحت کرواورانہیں الگ بستروں پر چھوڑ دو اورانہیں مار کی سزا دو ، پھر اگر وہ تمہاری بات تسلیم کرلیں تو ان پر کوئي راستہ تلاش نہ کرو ، بے شک اللہ تعالی بڑي بلندی اوربڑائي والا ہے۔
    نشوزمیں یہ بھی داخل ہے کہ شوہر جماع کے لئے بلائے اور بیوی بغیرعذر کے انکار کردے۔شوہر کسی کام کے لئے بلائے یا جماع کے لئے بلائے عورت فورا سارا کام چھوڑ کر حکم کی تعمیل کے لئے دوڑ پڑے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :إذا الرَّجلُ دعا زوجتَهُ لحاجتِهِ فلتأتِهِ ، وإن كانت علَى التَّنُّورِ(صحيح الترمذي:1160)
    ترجمہ: جب خاوند اپنی بیوی کواپنی حاجت پوری کرنے کے لیے بلائے تواسے آنا چاہیے ، اگرچہ وہ تنور پرہی کیوں نہ ہو ۔
    نبی ﷺ کا فرمان ہے : إذا دعا الرجلُ امرأتَهُ إلى فراشِهِ فأَبَتْ ، فبات غضبانَ عليها ، لعنتها الملائكةُ حتى تُصبحَ(صحيح البخاري:3237)
    ترجمہ:جب کوئي شخص اپنی بیوی کواپنے بستر پر بلائے اوربیوی آنے سے انکار کردے اورخاوند اس پر ناراضگی کی حالت میں ہی رات بسر کردے تو اس عورت پر صبح ہونے تک فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں۔
    ان احادیث سے معلوم ہوا کہ رات میں جیسے ہی شوہر بستر پر بلائے یا جماع کی خواہش ظاہر کرےبیوی اپنے شوہر کی اطاعت کرے اور فرمانبرداری میں آناکانی سے پرہیز کرے۔ تھکا ہوا ہونا جماع میں رکاوٹ نہیں ہے ، ممکن ہے شوہر بیوی سے زیادہ تھکا ہوا وروہ اپنی تھکان دور کرنے کے لئے بیوی سے قربت چاہتا ہو ایسے میں عورت اپنے آپ کو شوہر کے حوالے کردے ۔ ہاں کوئی مرض ہو ، کوئی شرعی رکاوٹ(حیض ونفاس) ہو یا کوئی دوسرا عذر ہو تو جماع سے انکار کرنے پر عورت کے لئے کوئی گناہ نہیں ۔
    عورت کو ایک بات کا بہت ہی خیال رکھنا چاہئے کہ مباشرت کے معاملے میں مردوں میں صبر کی کمی ہے لہذا جب بھی آپ کے شوہرمیں اس بات کی خواہش پیدا ہو آپ رضامندی کا اظہار کریں البتہ شوہر کثرت جماع پہ مجبور کرے، غیرفطری طریقے سے اس کے پاس آئے، یا ایسے وقت میں جماع کا ارادہ کرے جب عبادت سے غفلت کا امکان ہو تو پھراسے انکار کرنے کا حق ہے ۔

    سوال(2) شوہر پر بیوی کے لئے کس مقدار میں خرچ کرنا ضروری ہے ، کیا اپنی حیثیت کے مطابق یا محض اس کی ضرورت پوری کرنا کافی ہے؟
    جواب : اسلام نے شوہر کے ذمہ بیوی اور بال بچوں کا خرچ (روٹی، کپڑا، مکان اور معالجہ وغیرہ)واجب کیا ہے مگر اس کی مقدار متعین نہیں کی ہے تاہم قرآن وحدیث کے نصوص سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مرد پر عورت کی ضروریات کے بقدر اخراجات واجب ہیں جیساکہ سیدہ عائشہ ؓسےروایت ہے کہ سیدنا ہند بنت عتبہ ؓنےعرض کی،اللہ کے رسول!
    إنَّ أبا سفيانَ رجلٌ شحِيحٌ ، وليسَ يُعْطيني ما يَكفيني وولدي إلا ما أخذتُ منهُ ، وهو لا يعلمُ ، فقالَ :خُذي ما يكفيكِ وولدَكِ بالمعروفِ.(صحيح البخاري:5364)
    ترجمہ: بلاشبہ ابو سفیان ؓ بخیل آدمی ہیں اور مجھے اتنا مال نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولاد کو کافی ہوالایہ کہ میں کچھ مال لاعلمی میں لے لوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: د ستور کے مطابق اتنا مال لے سکتی ہو جو تمہیں اور تمہاری اولاد کو کافی ہو۔
    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کی ضروریات پوری کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے ، اگر شوہر اس ذمہ داری کی ادائیگی میں کوتاہی کرے تو بیوی بغیربتائے شوہر کے مال میں بقدر حاجت لے سکتی ہے ۔
    مرد کے لئے نفقہ میں بخیلی کرنا یا روک رکھنا جائز نہیں ہے ، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:كفى بالمرء إثمًا أن يَحبِسَ ، عمن يملكُ ، قُوتَه(صحيح مسلم:996)
    ترجمہ: انسان کے لیے اتنا گناہ ہی کا فی ہے کہ وہ جن (اہل وعیال)کی خوراک کا مالک ہے انھیں نہ دے ۔
    مرد کی حیثیت زیادہ ہے مگر عورت کی ضروریات زندگی پوری کردیتا ہے تو وہ گنہگار نہیں ہے اوراسراف سے بچتے ہوئے اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرتا ہے تو اس میں بھی کوئی ممانعت نہیں ہے بشرطیکہ مال اور دیگر اہل حقوق کی بھی حق تلفی نہ کررہاہو۔

    سوال(3) برف سے تیمم کرنا کفایت کرجائے گا؟
    جواب: برف کا پانی پاک ہے اور پاک کرنے والا بھی ہے ، بخاری و مسلم میں دعا ہے کہ اے اللہ میرے دل کو اولے اور برف کے پانی سے دھو دے ۔
    اللَّهمَّ اغسل قلبي بماءِ الثَّلجِ والبَرَدِ (صحيح البخاري:6377)
    اے اللہ! میرے دل کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے۔
    اللهمَّ طهِّرْني بالثَّلجِ والبَرَدِ والماءِ البارِدِ( صحيح مسلم:476)
    ترجمہ: اے اللہ ! مجھے برف ، اولے اور ٹھنڈے پانی سے پاک کردے۔
    اس سے پتہ چلتا ہے کہ برف کے بہتے پانی سے وضو اور غسل کرسکتے ہیں لیکن جمی ہوئی برف سے تیمم کرنے کے متعلق جواز وعدم جواز میں اختلاف ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے:فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا(النساء:43)
    ترجمہ:اگر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرو۔
    اس آیت میں اللہ تعالی نے پاک مٹی سے تیمم کا حکم دیا ہے اور یہ مٹی زمین کا حصہ ہے اس وجہ سے مٹی یا اس کی دوسری اجناس ریت،غبار، کنکری، پتھر، مٹی کی ٹھیکری ، کچی اینٹ، مٹی کی دیوار، مٹی کا پلسٹروغیرہ سے تیمم کرسکتے ہیں مگر جو مٹی کی جنس نہیں ہے اس سے تیمم نہیں کرسکتے اور برف مٹی کی جنس سے نہیں ہے لہذا اس سے تیمم کفایت نہیں کرے گا۔
    فتح الباری میں عمررضی اللہ عنہ کا قول ہے :" إنَّ الثَّلجَ لا يُتيمَّمُ به" کہ برف سے تیمم نہیں ہوگا مگر ابن رجب نے اس کی سند میں ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے۔ (فتح الباري لابن رجب:2/233)

    سوال(4) آج کل عورتوں کا اسٹیج پروگرام ویڈیو کی شکل میں آتا ہے یہ کام شرعا کہاں تک درست ہے ؟
    جواب:عورت کی آواز کا پردہ نہیں ہے اس وجہ سے جس طرح عورت ضرورت کے تحت مردوں سے بات کرسکتی ہے اسی طرح دعوتی مقصد سے اس کی آواز کو رکارڈ بھی کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ اس کی آواز میں لچک،نرمی، تصنع،خوش الحانی نہ ہو جس سے فتنے کا اندیشہ ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے:
    يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا(الأحزاب:32) .
    ترجمہ:اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو ۔
    آواز کے ساتھ دعوتی ویڈیوز بنانے میں بھی حرج نہیں ہے مگر یہاں بھی فتنے کے امور سے بچنا ہوگا ۔ اسٹیج پروگرام میں فتنہ سامانی ہے، یہاں عورت کا مکمل بدن (چہ جائیکہ حجاب میں ہو)نقل وحرکت کے ساتھ نظر آتا ہے۔ اسٹیج کی دیگر خواتین حتی کہ پروگرام میں موجود تمام خواتین کو کیمرے میں دکھایا جاتا ہے ۔ظاہر سی بات ہے کہ ویڈیو بننے پہ اجنبی مرد بھی یہ پروگرام دیکھیں گے اس لئے عورتوں کے اسٹیج پروگرام کی صرف آواز رکارڈ کی جائے توفتنے سے حفاظت ہوگی ۔

    سوال(5) شوہر کے مال سے خرچ کرنا یا صدقہ کرنے کی نوعیت کیا ہوگی ؟
    جواب : عورت شوہر کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر اپنی اور اپنے بچوں کی ضرورت کی تکمیل کے لئے بقدر ضرورت لے سکتی ہے اور اسی طرح صدقہ بھی کرسکتی ہے اگر شوہر نے اس کی اجازت دے رکھی ہو۔
    اجازت دو طرح کی ہوسکتی ہیں ۔ ایک اجازت صراحت کے ساتھ کہ تمہیں میرے مال سے صدقہ کرنے کی اجازت ہے اور ایک اجازت عرفا رضامندی والی ہو یعنی صدقہ کرنے پر شوہر کو کوئی اعتراض نہ ہو۔
    اگر شوہرنے اپنی اجازت کے بغیر کچھ بھی صدقہ کرنے کی اجازت نہ دی ہو توضرورت کے علاوہ شوہر کے مال سے لینا جائز نہیں ہوگا خواہ صدقہ کی نیت سے ہو یا لوگوں(والدین وغیرہ) کا تعاون کرنے کی نیت سے ہو۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    ولا تُنفِقُ المرأةُ شيئًا مِن بيتِها إلَّا بإذنِ زوجِها، فقيل: يا رسولَ اللهِ، ولا الطَّعامَ؟ قال: ذاكَ أفضَلُ أموالِنا(صحيح أبي داود:3565)
    ترجمہ: اور کوئی عورت اپنے گھر میں سے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کوئی چیز خرچ نہ کرے ۔ کہا گیا : اے اللہ کے رسول ! کھانا بھی نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو ہمارے افضل اموال میں سے ہوتا ہے ۔
    بعض احادیث میں اجازت کی صراحت نہیں ہے مگر وہاں بھی اجازت کی قید مانی جائے گی جیسے نبی ﷺ کا یہ فرمان:
    إذا أطعمتِ المرأةُ من بيتِ زوجِها، غير مفسدةٍ، لها أجرها، وله مثله، وللخازنِ مثلُ ذلك، له بما اكتسب، ولها بما أنفقتْ .(صحيح البخاري:1440)
    ترجمہ: جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے کھانا کھلائے جبکہ وہ گھر کی تباہی کا ارادہ نہ رکھتی ہو تو اسے اجر ملے گا،اس کے شوہر کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا اور خازن کو بھی ثواب ملے گا،مرد کی کمائی کرنے کا اور عورت کو خرچ کرنے کی وجہ سے اجر دیاجائے گا۔

    سوال(6) شوہر سے پوچھے بغیرعورت اپنے مال کو جہاں چاہے صرف کرسکتی ہے اور جسے چاہے دے سکتی ہے یعنی اپنے والدین ، بھائی بہن کو؟ اور شوہر پر بھی خرچ کرسکتی ہے؟
    جواب : عورت اپنے ذاتی مال میں خود مختار ہے جہاں چاہے بھلائی کے ساتھ خرچ کرسکتی ہے ۔فقراء ومساکین ہوں ، والدین ہوں ، بھائی بہن ہوں، کوئی اور رشتہ دارہوں یا نیکی کا کوئی کام ہو تمام جگہوں پر بغیر شوہر کی اجازت کے خرچ کرسکتی ہے۔ عہد رسول میں بھی صحابیات بغیر پوچھے صدقہ وخیرات کرتی تھیں بلکہ نبی ﷺ خود ہی عورتوں کو خصوصی طورپرصدقہ کی ترغیب دیتے تھے ، ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحی یا عید الفطر کے لئے عید گاہ کی طرف نکلے اور عورتوں کے پاس گزرے تو فرمانے لگے :
    يا معشر النساء تصدقن، فإني رأيتكن أكثر أهل النار .(صحيح البخاري:1462)
    ترجمہ:اے عورتوں کی جماعت! صدقہ و خیرات کیا کرو بیشک مجھے دکھایا گیا ہے کہ جہنم میں تمہاری اکثریت ہے۔
    حسن معاشرت اور شوہر کو خوش رکھتے ہوئے ان سے اپنے مال سے خرچ کرنے کی اجازت لے لیتی ہے تو یہ میاں بیوی کے درمیان خوشگوارزندگی اور سازگار ماحول کے لئے بہت بہتر ہے خصوصا آج کے پرفتن دور میں ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے:
    قيل لرسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ أيُّ النساءِ خيرٌ ؟ قال : التي تسرُّه إذا نظر ، وتطيعُه إذا أمر ، ولا تخالفُه في نفسِها ومالها بما يكره(صحيح النسائي:3231)
    ترجمہ: رسول اللہﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سی عورت بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ عورت کہ جب خاوند اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کردے اور جب اسے کوئی حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے اور اپنے نفس اور مال میں اس کی مخالفت نہ کرے جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔
    اس حدیث میں بہترین عورت اسے کہا گیا ہے جو ذاتی مال کے تصرف میں بھی شوہر کی خوشی چاہے گوکہ شوہر سے اجازت کی ضرورت نہیں ہے پھربھی محض حسن معاشرت کا خیال کرتے ہوئے اجازت بہتر ہے جیساکہ نبی ﷺ کا یہ فرمان بھی اسی حسن معاشرت پہ ابھارتا ہے ۔
    لا يجوزُ لامرأةٍ ، هبةٌ في مالِها ، إذا ملكَ زوجُها عصمتَها(صحيح النسائي:3765)
    ترجمہ: جب خاوند بیوی کی عصمت کا مالک بن جائے تواس کے لیے اپنے مال میں کچھ بھی جائز نہيں۔
    امام سندھی نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ یہ حدیث حسن معاشرت اور شوہر کوخوش کرنے کے معنی پر محمول ہے۔
    جہاں تک شوہر پر اپنا مال صرف کرنے کی بات ہے تو یہ بھی خیر کا کام ہے اور شوہر محتاج ہو تو اس کو زکوۃ بھی دے سکتی ہے۔

    سوال(7) میں اپنے بیٹے کا نام فاطر احمد رکھنا چاہتی ہوں کیا اس نام کے رکھنے کی ممانعت ہے ؟
    جواب : قرآن میں فاطر کا لفظ چھ جگہوں پہ آیا ہے اور تمام جگہوں پر" فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ" کے الفاظ کے ساتھ وارد ہے حتی کہ صحیح احادیث میں بھی کہیں پر اکیلے الفاطر کا لفظ نہیں آیا ہے، ہر جگہ اضافت کے ساتھ ہی آیا ہے ۔ ننانوے اسمائے حسنی سے متعلق بعض حدیث میں الفاطر کا لفظ آیا ہے وہ ضعیف ہیں ۔
    جب فاطر اضافت کے ساتھ آیا ہے تو ہم اسے اللہ کی صفت کہیں گے اسمائے حسنی نہیں کہیں گے جیسے نور کا لفظ قرآن میں جہاں بھی اللہ کے لئے آیا ہے اضافت کے ساتھ آیا ہے جیسے نوراللہ،نورہ،نورالسماوات اورنورمن ربہ وغیرہ مستقل طور پراللہ کے لئے النورکا لفظ نہیں آیا ہے اس لئے نور بھی اللہ کی صفت کہی جائے گی اسمائے حسنی میں سے نہیں ۔
    شیخ ابن باز اور شیخ ابن عثیمین رحمھما اللہ نے اسمائے حسنی کا ذکر کیا ہے ، قرآن کریم سے اکاسی نام ذکر کئے ہیں ان میں فاطر کا لفظ نہیں ہے ۔
    خلاصہ یہ ہے کہ بچے کا نام فاطر احمد رکھنے میں حرج نہیں ہے، یاد رہے عبدالفاطر نہیں کہیں گے ۔ یہ نام اس صورت میں صحیح ہوتا جب یہ اللہ کے لئے اسمائے حسنی میں سے ہونا ثابت ہوجاتا۔

    سوال(8) گھر میں نماز پڑھتے وقت بچہ بیڈ پر رو رہا ہو یا گرنے کا خطرہ ہوایسی صورت میں نماز توڑ دینی چاہئے یا کیا کرنا چاہئے ؟
    جواب: اگر آپ نماز میں ہیں اور بچہ رو رہاہے یا بیڈ سے گرنے کا خطرہ ہے تو دو صورتوں میں سے جو مناسب ہو اختیار کرسکتی ہیں ۔ یا تو نماز توڑ کر بچہ چپ کرائیں اوراسے گرنے سے بچائیں یا پھر بچہ قریب ہی ہو تو اسے گود اٹھاکر نماز جاری رکھیں یعنی اپنی نماز توڑنے کی ضرورت نہیں ہے جب بچہ قریب ہی ہو۔ اس طرح ایک دو قدم چلنے ، حرکت کرنے اور نماز کی جگہ واپس آکر اپنی نماز جاری رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
    عن أبي قتادةَ قال بينا نحنُ في المسجدِ جلوسٌ خرجَ علينا رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ يحملُ أمامةَ بنتَ أبي العاصِ بنِ الرَّبيعِ وأمُّها زينبُ بنتُ رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ وَهيَ صبيَّةٌ يحملُها على عاتقِهِ فصلَّى رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ وَهيَ على عاتقِهِ يضعُها إذا رَكعَ ويعيدُها إذا قامَ حتَّى قضى صلاتَهُ يفعلُ ذلِكَ بِها(صحيح أبي داود:918)
    ترجمہ: سیدنا ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ۔ آپ امامہ بنت ابی العاص بن ربیع کو اٹھائے ہوئے تھے ۔ اور اس کی والدہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینب تھیں ، یہ چھوٹی بچی تھی اور رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنے کندھے پر اٹھایا ہوا تھا ۔ آپ ﷺ نے نماز پڑھائی اور یہ آپ ﷺ کے کندھے پر تھی ، آپ ﷺ جب رکوع کرتے تو اسے نیچے بٹھا دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو اسے اٹھا لیتے ۔ آپ ﷺ نے ( اسی طرح ) نماز مکمل کی اور اس دوران اسے اٹھاتے اور بٹھاتے رہے ۔
    ام المومنین عائشہ ؓ کہتی ہیں:
    جئتُ ورسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي في البيتِ ، والبابُ عليه مغلقٌ ، فمشِىَ حتى فَتَحَ لي ، ثم رَجَعَ إلى مكانِه ، ووَصَفَتِ البابَ في القِبْلَةِ.(صحيح الترمذي:601)
    ترجمہ:میں گھرآئی رسول اللہﷺ نمازپڑھ رہے تھے اوردروازہ بند تھا،تو آپ چل کرآئے اور میرے لیے دروازہ کھولا پھر اپنی جگہ لوٹ گئے اور انہوں نے بیان کیاکہ دروازہ قبلے کی طرف تھا۔
    بچہ اگر دوری پر ہو یا زیادہ رو رہا ہو،اسے چپ کرانے میں بہلانے اور لوری دینے کی ضرورت ہو تو نماز توڑ دیں اور جب آپ نماز توڑ دیں گی تو بعد میں ازسرے نو نماز پڑھنی ہوگی ۔

    سوال(9) رات میں سونے ، عبادت کرنے اور جاگنے کا کیا روٹین ہونا چاہئے ؟
    جواب: رات کو اللہ تعالی نے آرام حاصل کرنے کے لئے اور دن کو روزی حاصل کرنے کے لئے بنایا ہے ، صحیحین میں ہےنبی ﷺ عشاء سے پہلے سونے اور عشاء کے بعد بات کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ ان باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ رات کو عشاء کی نماز کے بعد فورا سوجانا چاہئے تاکہ قیام اللیل کے لئے بیدار ہونا ہو تو قیام اللیل کرسکیں اور فجر کی نماز کے لئے وقت پہ بیدار ہوسکیں ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:
    أَحَبُّ الصلاةِ إلى اللهِ صلاةُ داودَ : كان ينامُ نصفَ الليلِ ويقومُ ثُلُثَهُ ، وينامُ سُدُسَهُ(صحيح البخاري:3420)
    ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ نماز حضرت داود علیہ السلام کی نماز ہے۔ وہ آدھی رات تک سوتے تھے اور پھر ایک تہائی رات کی عبادت کرتے اور آخری چھٹا حصہ پھر سو جاتے تھے۔
    اس عمل میں نفس پر مشقت ہے مگریہ سب سے بہتر سونے اور عبادت کرنے کا روٹین ہے کہ بندہ آدھی رات تک سوئے پھر بیدار ہوکر تہجد پڑھے پھر سوجائے اور نمازفجر کے لئے بیدار ہو۔ بہرکیف! سونے کے لئے وقت متعین نہیں ہے تاہم نہ کم نیند لینا ہے جس سے صحت کو ضرر لاحق ہو اور نہ ہی زیادہ نیند لینا ہے جس سے واجبات میں کوتاہی ہو۔

    سوال(10) بیٹایا بیٹی اگر ماں کو مال دیتے ہیں اور ماں نیکی کے راستے میں خرچ کرتی ہے تو کیا دونوں کو اجر ملے گا؟
    جواب: والدین اگر محتاج ہوں تو اولاد کو اپنے والدین پر خرچ کرنا واجب ہے اور بغیر محتاجگی کے بھی والدین کو دے سکتے ہیں۔ جب بیٹا یا بیٹی اپنی والدہ کو مال دے اور والدہ نیکی کے کاموں میں صرف کرے یا اپنی ضرورت پوری کرے ہردونوں صورت میں اولاد کو اجر ملے گا۔ اہل وعیال پر خرچ کرنا افضل نفقہ ہے اور اسے صدقہ قرار دیا گیا ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ(صحيح مسلم:955)
    ترجمہ: ان میں سے سب سے زيادہ اجرو ثواب والا وہ ہے جوآپ نے اپنے اہل وعیال پرخرچ کیا ۔
    نبی ﷺ کا فرمان ہے:إذا أنفَق الرجلُ على أهلِه يحتَسِبُها فهو له صدقةٌ(صحيح البخاري:55)
    ترجمہ: جب مرد اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتے ہے تو وہ اس کے حق میں صدقہ بن جاتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل (چوتھی قسط)

    جواب از شیخ مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف(مسرہ)

    سوال(1) رات میں وضو کرکے سونے گئی مگر دیر تک نیند نہیں آئی اور وضو ٹوٹ گیا تو میرا سوال یہ ہے کہ کیا مجھے دوربارہ وضو کرنا چاہئے ؟
    جواب : سونے سے قبل وضو کی بڑی فضیلت ہے ، نبی ﷺ کا فرمان ہے:إذا أتيتَ مضجعَكَ ، فتوضَّأْ وضوءَكَ للصَّلاةِ(صحيح البخاري:6311)
    ترجمہ: جب تو بستر پر آنے کا ارادہ کرے تو وضو کر جیسے نماز کے لیے نماز وضو کرتا ہے۔
    اسی حدیث میں مذکور ہے کہ وضو کرکے دائیں کروٹ سوجائے تو کہے "اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَهْبَةً وَرَغْبَةً إِلَيْكَ، لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ" اس کے بعد اگر مرجائے تو دین اسلام پر خاتمہ ہوگا۔
    نبی ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے:
    مَنْ باتَ طَاهِرًا باتَ في شِعَارِهِ مَلَكٌ ، لا يَسْتَيْقِظُ ساعَةً مِنَ الليلِ إلَّا قال المَلَكُ : اللهمَّ اغفرْ لِعَبْدِكَ فلانًا ، فإنَّهُ باتَ طَاهِرًا(السلسلة الصحيحة:2539)
    ترجمہ: جو شخص رات کو وضو کرکے سوئے تو ایک فرشتہ اس کے پاس رات گزارتا ہے جب وہ شخص اٹھتا ہے تو وہ فرشتہ کہتا ہے،اے اللہ! اپنے اس فلاں بندے کی مغفرت فرما کیونکہ وہ وضو کرکے سویا ہے۔
    عشاء کی نماز والا وضو باقی ہے تو پھر سے وضو بنانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن جس کا وضو ٹوٹ گیا ہے وہ نیا وضو بنالے اوربا وضو بستر پر آئے ، سونے سے پہلے وضو ٹوٹ جائے تو پھر سے بستر چھوڑنے اور وضو بنانے میں مشقت ہے ، نیند کا غلبہ بھی ختم ہونے کا اندیشہ ہے۔ اللہ نے انسان کو مشقت میں نہیں ڈالا ہے ۔ وضو کرنے والے کو اس کی نیت کے مطابق اللہ اجر دے گا۔ نیند بھی ناقض وضو ہے ، سونے سے آخر کار وضو ٹوٹ ہی جاتا ہے کیونکہ نیند ناقض وضو ہے پھر بھی اللہ اجر پوری رات کا دیتا ہے ۔

    سوال(2) قرآن پڑھتے پڑھتے اونگھ آنے لگے تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا؟
    جواب : تلاوت کے لئے باوضو ہونا افضل ہے مگر ضروری نہیں ہے ۔ بغیر وضو کے بھی آپ قرآن کی تلاوت کرسکتی ہیں ، رسول اللہ ﷺنے بھی بغیر وضو کے ایک مرتبہ نیند سے بیدار ہوکر سورہ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت کی تھیں ۔ آپ نے کافر بادشاہوں کے نام خطوط لکھے جن میں قرآنی آیات لکھی تھیں ۔ یہاں تک کہ حیض ونفاس والی عورتیں بھی قرآن کی تلاوت کرسکتی ہیں ، رسول اکرم ﷺ نے ایسی خواتین کو قرآن کی تلاوت سے منع نہیں کیا۔ ان ساری باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن پڑھتے ہوئے وضو ٹوٹ جائے یا بلا وضو قرآن پڑھ رہی ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے اور اونگھ سے تو وضو نہیں ٹوٹتا۔ صحيح مسلم( 376 ) میں ہے کہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں صحابہ كرام رضى اللہ عنہم عشاء كى نماز ادا كرنے كے ليے انتظار كرتے حتى كہ ان كے سر جھك جاتے اور پھر وضوء كيے بغير ہى نماز ادا كرتے تھے۔

    سوال(3) ایام بیض کے روزے کی فضیلت اور اس روزہ کو کب رکھا جائے گا ہمیں بتلائیں۔
    جواب : ایام بیض کے روزوں کی بڑی فضیلت ہے ، نبی ﷺ کا فرمان ہے:صومُ ثلاثةِ أيامٍ صومُ الدهرِ كلِّه(صحيح البخاري:1979)
    ترجمہ: ہرمہینے میں تین دن روزے رکھ لینا اس سے زمانے بھر کے روزے رکھنے کا ثواب ملتا ہے۔
    یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ صحابہ کو ایام بیض کے تین روزے رکھنے کی تاکید کرتے اور خود بھی سفر ہو یا حضر کبھی اسے ترک نہیں کرتے ۔(سلسلہ صحیحہ:580)
    ایام بیض کے روزے قمری تاریخ کے حساب سے ہرماہ تیسرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو رکھنا ہے، آپ ﷺ نے ابوذررضی اللہ سے فرمایا:يا أبا ذرٍّ إذا صُمتَ منَ الشَّهرِ ثلاثةَ أيَّامٍ ، فصُم ثلاثَ عشرةَ ، وأربعَ عشرةَ وخمسَ عشرةَ(صحيح الترمذي:761)
    ترجمہ:ابوذر!جب تم ہرماہ کے تین دن کے صیام رکھو تو تیرہویں ، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو رکھو۔
    بعض عورتوں کو وسط ماہ میں حیض آجاتا ہے،ایسی عورتیں شروع یا آخر ماہ میں بھی تین روزے اکٹھے یا متفرق طور پر رکھ لیں تو مذکورہ اجر ملے گا۔ ان شاء اللہ

    سوال(4) سجدہ سہو میں اپنی مرضی سے زیادہ سے زیادہ دعائیں کرسکتی ہوں ؟
    جواب : ذکوان نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:أقرَبُ ما يكونُ العبدُ من ربِّه وهو ساجِدٌ؛ فأكثِروا الدُّعاءَ.( صحيح مسلم:482)
    ترجمہ: بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس حالت میں ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے، لہٰذا اس میں کثرت سے دعا کرو۔
    یہ حدیث ہمیں بتلاتی ہے کہ سجدے کی حالت میں کثرت سے دعائیں کرنی چاہئے خواہ فرض نماز ہو یا سنت ونوافل یا سجدہ سہو ۔ فرض نماز کے سجدسہو میں مسنون دعاؤں پر اکتفا کرنا چاہئے یعنی جو دعائیں قرآن میں وارد ہیں یا نبی ﷺ نے جو ہمیں بتلائی ہیں، انہیں میں سے جو مرضی ہو پڑھنی چاہئے اور نوافل کے سجدوں میں اپنی مادری زبان میں بھی دعائیں کرسکتی ہیں ۔

    سوال(5) مجھ سے رمضان کے کچھ روزے چھوٹ گئے اورمیں اس کی تعداد بھول گئی اس صورت میں مجھے کتنا روزہ رکھنا پڑے گا؟
    جواب : اللہ تعالی کا فرمان ہے: فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ(البقرة:184)
    ترجمہ: جو كوئى بھى تم ميں سے بيمار ہو يا مسافر تو وہ دوسرے ايام ميں گنتى پورى كرے۔
    اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس عورت نے عذر کی وجہ سے روزہ چھوڑی ہے اسے اپنی گنتی معلوم رکھ کر اتنے دنوں کی قضا کرے ۔ اگر روزہ ترک کرنے میں اس سے غفلت ہوئی ہے تو اولا سچی توبہ کرے اور آئندہ اس غفلت سے بچنے کا اللہ سے وعدہ کرے۔ روزوں کی تعداد بھولنے میں غفلت نہیں بلکہ یاد داشت کی کمی ہے تو پھر کوئی حرج نہیں ہے ۔ ایسی عورت اپنی یاد داشت پہ زور دے اورایام حیض یا جس عذر کی وجہ سے روزہ ترک کیا ان ایام سے اندازہ لگائے اور دیکھے کہ کس پر اطمینان ہوتا ہے؟ جس عدد پر اطمینان ہوجائے اتنے کی قضا کرے اور اگر اسے شک ہو کہ چار چھوٹا یا پانچ تو پانچ رکھے یعنی زیادہ والا تاکہ وہ بری الذمہ ہوجائے۔

    سوال(6) کیا عورت احرام کی حالت میں موزہ پہن سکتی ہے اور کیا مرد ٹخنے سے نیچے والا موزہ پہن سکتا ہے ؟
    جواب : عورت کے لئے احرام کی حالت میں موزہ پہننا جائز ہی نہیں بہت اچھا ہےکیونکہ عورت کاجسم مکمل ستر میں داخل ہے اس لئے عورت سر سے لیکر پاؤں تک مکمل جسم کو اجنبی مردوں سے چھپائے گی خواہ حج وعمرہ ہو یا سفر ہو یا کوئی اور جگہ مگر بعض خواتین کو احرام کی حالت میں دیکھا جاتا ہے کہ ان کی شلواربھی ٹخنے سے اوپر ہوتی ہے اور پیر میں ہوائی چپل ہوتی ہے۔ یہ بالکل ہی غلط ہے۔
    احرام کی حالت میں عورت موزہ پہن سکتی ہے ، جوتی پہن سکتی ہے اور مردوں کے لئے ٹخنے سے نیچے والا موزہ علماء جائز قرار دیا ہے،صحیح بخاری میں ہے کہ جسے چپل نہ ملے وہ موزہ پہن لے اور اسے کاٹ کر ٹخنے سے نیچے کرلے۔

    سوال(7) ایسی عورت جسے میں نے قرض دیا ہو یا جو مسکین ہو وہ جب ہمیں دعوت کرے تو اس کی دعوت قبول کرنی چاہئے ؟
    جواب : دعوت قبول کرنا مسنون ہے مگر کوئی مسکین مجبوری میں کسی کا دل رکھنے کے لئے دعوت دے اور یہ بات ہمیں معلوم ہو تو محبت سے سمجھادیں کہ دعوت کی ضرورت نہیں ہے تاکہ دلی محبت قائم رہے اور مقروض یا کوئی غریب آدمی خوش دلی سے دعوت کرے اس حال میں کہ اسے کھلانے کی وسعت ہوتو دعوت قبول کرنا چاہئے خواہ معمولی چیز کی ہی دعوت کیوں نہ کرے اور کھانے میں عیب نہیں نکالنا چاہئے۔ دعوت کے بدلے ہم کچھ تحائف پیش کردیں تو اچھا ہوجائے گا ۔ اللہ تعالی مومن کی صفت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ (الحشر:9)
    ترجمہ: اور وه اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ خود ہی سخت تنگی میں ہوتے ہیں ۔
    اس آیت کی شان نزول میں ایک صحابی کا واقعہ کا ہے جو خود بیوی بچوں سمیت بھوکے رہ کر مہمان کی دعوت کرتے ہیں ۔

    سوال(8) کیا میں زکوہ کی رقم نکال کر الگ سے رکھ سکتی ہوں تاکہ اس میں سے تھوڑا تھوڑا کرکے حاجت مندوں کو وقتا فوقتا دیتی رہوں؟
    جواب : مال میں جب زکوۃ واجب ہوجائے اسی وقت مال کی زکوۃ نکال کر فقراء ومساکین اور حاجتمندوں میں تقسیم کردی جائے ، زکوۃ کے مال کو جمع کرکے رکھنا اور تھوڑا تھوڑا کرکے مانگنے والوںو حاجتمندوں میں تقسیم کرتے رہنا جائز نہیں ہے ۔ ہاں کوئی خاص محتاج ہو جس کو کچھ کچھ وقفہ سے دینا مصلحت کے تئیں ہو تو چند ایک قسطوں میں دینا حرج کی بات نہیں ہے ۔ نفلی صدقات نکال کر رکھ سکتی ہیں جسے سال بھر تقسیم کریں کوئی حرج نہیں ہے۔

    سوال(9) ایک مسجد میں نچلے حصے میں عورتوں کے لئے نماز اور تعلیم کے واسطے کمرہ خاص ہے کیا اس کمرے میں تعلیم کی غرض سے حائضہ عورت داخل ہوسکتی ہے ؟
    جواب : اگر وہ کمرہ اصلا نماز کے لئے بنایا گیا ہے اور کبھی کبھار خواتین اس میں درس وغیر ہ دے دیا کرتی ہیں تو پھر اس میں حیض والی عورت کا داخل ہونا اور اس کمرہ میں ٹھہرنا جائز نہیں ہے لیکن اگر یہ کمرہ شروع سے تعلیم کی نیت سے بنایا گیا اور اس میں عورتیں نماز بھی ادا کرلیا کرتی ہیں تو پھر اس صورت میں حیض والی کا اس میں دخول ممنوع نہیں ہے جیسے مسجد کے نچلے حصے میں کوئی کمرہ لائبریری، کوئی کمرہ اسٹور اور کوئی کمرہ امام کی رہائش کے لئے مخصوص کردیا جاتا ہے یہ کمرے اصلا مسجد کے حکم میں نہیں ہیں ،ان میں جنبی اور حائضہ کا دخول یا وقوف ممنوع نہیں ہے ۔

    سوال(10) شوہر غیرفطری طریقے سے عورت کو مباشرت پہ مجبور کرے تو ایک نیک بیوی کا کیا فریضہ بنتا ہے ؟
    جواب : بیوی کو مردوں کے لئے کھیتی قرار دیا گیاہے وہ جس طرح چاہیں اپنی بیوی سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں مگر جماع کے لئے اسلام نے پاکیزہ اصول بتلائے ہیں ۔ پچھلی شرمگاہ میں جماع حرام ہے ایسے فعل کا مرتکب شخص ملعون ہے ، جماع اگلی شرمگاہ میں حلال ہے اور حیض ونفاس میں اگلی شرمگاہ میں بھی جماع ممنوع ہے ۔ لہذا مومن مرد کو بیوی کے پاس جائز طریقے سے آنا چاہئے اور حرام وممنوع طریقوں سے اللہ کا خوف کھانا چاہئے ۔ مومنہ کے ذمہ ہے کہ شوہر کی بھلی بات میں تابعداری کریں ، منکر اور حرام کاموں میں بات نہ مانیں ، بیہودہ کا م پراللہ کا خوف دلائیں ، نصیحت کریں ، باز نہ آئے تو ناراضگی کا اظہار کریں ۔ یقینا مردوں میں گندی حرکتیں ،گندی چیزوں کے دیکھنے ، رب کی بندگی سے غافل اور اس کی پکڑ سے بے خوف ہوجانے کی وجہ سے پائی جاتی ہیں ۔ نیک بیوی ایسے مردوں کو نماز کا پابند بنائے۔ گندی فلموں اورفحش ناچ گانوں سے بچائے اور ان کی آمدورفت کی محفل اور دوست واحبا ب بہتر بنوائے ۔علماء سے مربوط ہونے اور ان کے بیانات سے نصیحت حاصل کی طرف لگائے ۔ ان کاموں سے شوہر میں تبدیلی پیدا ہوگی ، تمام معاملات میں برے کاموں سے بچے گااور اللہ کا خوف کھائے گا۔

    سوال(11) غسل جنابت، غسل حیض اور غسل نفاس کی دعا بتائیں ۔
    جواب : غسل کا طریقہ جان لیں تو شروع اور بعد کی دعا بھی اچھے سے معلوم ہوجائے گی ۔ پہلے غسل طہارت کی نیت کریں یعنی دل میں یہ خیال کریں کہ ہم پاکی حاصل کرنے کے لئے غسل کررہے ہیں پھر بسم اللہ کہیں ، اس کے بعد نماز کی طرح وضو کریں ،اس کے بعد پورے بد ن پر پانی بہاکر تمام اعضائے بدن کو دھوئیں حتی کہ بالوں کی جڑاور بغل ہر جگہ پانی پہنچ جائے۔ غسل کے بعد حمام میں ہیں تو باہر نکل کر وضو کے بعد کی دعا پڑھیں ۔ اس کے علاوہ اور کوئی ذکر یا مخصوص دعا نہیں ہے ۔

    سوال(12) اگر بچہ کی پیدائش کے وقت کوئی مرد نہ ہو تو کیا عورت نومولود کے کان میں اذان دے سکتی ہے ؟
    جواب : نماز کے واسطے عورت کے لئےاذان واقامت مشروع نہیں ہے لیکن اگر بچے کی پیدائش کے وقت نومولو د کے کان میں کوئی اذان دینے والا مرد نہیں ہے تو کوئی خاتون وضو کرکے یا بغیر وضو کے نومولود کے کان میں اذان دے سکتی ہے ۔ گوکہ عورت کے حق میں نماز کے لئے اذان واقامت مشروع نہیں ہے مگر یہاں اذان نماز کے لئے نہیں بطور ذکر ہے ۔ اسی طرح معلمہ بچوں کو تعلیم دیتے وقت اذان واقامت کی تعلیم دے سکتی ہے۔

    سوال(13) فیشن والے کپڑوں کی تجارت کرنا کیسا ہے ؟
    جواب : تجارت میں اسلام نے ہمیں حرام ذرائع کو اپنانے سے منع کیا ہے اور کوئی بھی معاملہ ہو گناہ اور برائی کے کاموں پر تعاون کرنے سے بھی منع کیا ہے ۔ کپڑوں کی تجارت حلال ہے مگر وہ کپڑے جو معصیت کے لئے استعمال کئے جائیں مثلا ناچ گانے وغیرہ ان کا بیچنا قطعا جائز نہیں ہے اور اسی طرح فیشن کے نام پہ وہ عریاں لباس بیچنا بھی حرام ہے جس سے ستر پوشی نہیں ہوتی یا کفار کی مشابہت پائی جاتی ہے۔ محض ایسے ہی کپڑوں اور لباس کی فروخت جائز ہے جن کے بارے میں غالب گمان ہو کہ یہ جائز اور مباح طریقے سے استعمال کئے جائیں گے ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ شرح العمدۃ میں لکھتے ہیں :"كل لباس يغلب على الظن أن يستعان بلبسه على معصية فلا يجوز بيعه وخياطته لمن يستعين به على المعصية والظلم"۔
    ترجمہ: ہر وہ لباس جس كے متعلق غالب گمان ہو كہ اسے پہن كر گناہ اورمعصيت کے کاموں ميں تعاون ليا جائيگا تو جو شخص اس سے معصيت اور ظلم ميں مدد اور معاونت حاصل كرے اس كے ليے اسے فروخت كرنا اور اسے سلائى كر كے دينا جائز نہيں۔
    اگر غلطی سے ایسے کپڑے آگئے ہوں تو اسی جگہ واپس کردئے جائیں جہاں سے لائے گئے ہوں اور اگر واپسی کا امکان نہ ہو توتوبہ کرتے ہوئے اس معصیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کی نیت سے دوسرے کفار تاجر کے ہاتھوں بیچ دے۔ بخاری ومسلم میں ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت عمر کو ریشم کی قبا دی تو انہوں نے اسے پہن لیا، جب آپ ﷺ نے انہیں وہ قبا پہنے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ یہ لباس وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا ، میں نے تمہیں اسے پہننے کے لئے نہیں بلکہ(بیچ کر) اس سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے دیا تھا۔

    سوال(14) بیوی رمضان کا روزہ قضا کررہی تھی شوہر نے روزہ کی حالت میں بیوی سے جماع کرلیا ایسی صورت میں میاں بیوی کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : یہ قضا روزہ فرض کے حکم میں ہے اس لئے نہ شوہر کو اس سے منع کرنے کا حق ہے اور نہ ہی بیوی کو اس معاملہ میں شوہر کی فرنبرداری کا فریضہ بنتا ہے ۔ اگر شوہر نے بیوی سے جبرا جماع کیا ہے تو بیوی بے قصورہے وہ اس روزہ کے بدلے پھر سے قضا کرے گی اورجماع میں بیوی کی بھی رضامندی ہے تو میاں بیوی دونوں توبہ کریں گے ۔ اس میں کوئی کفارہ نہیں ہے ۔

    سوال(15) عورت ٹرین میں کس طرح نماز پڑھے میرا مطلب وضو ، حجاب اور قبلہ وغیرہ کے کیا احکام ہوں گے ؟
    جواب : لمبے سفر میں نماز کا وقت فوت ہوجانے کا خطرہ ہو تو عورت ومرد تمام مسلمان پر واجب ہے کہ ٹرین میں ہی نماز ادا کریں لیکن معمولی دیر کے سفر میں یا تو اول وقت میں نماز پڑھ کے ٹرین میں سوار ہو ں یا پھر اتر کرنماز ادا کریں ۔ عورت جب ٹرین میں نماز کے لئے وضو کرے تو لوگوں کے سامنے وضو نہ کرے بلکہ باتھ روم میں پانی لیکر وضو کرے اور باہر نکل کر وضو کی دعا پڑھے اور قبلہ کی جو سمت غالب گمان میں ہونا معلوم ہو اسی سمت رخ کرے ، ذرا ٹیرھا ہونے یا نماز میں ٹرین کے غیرقبلہ ہوجانےکا کوئی مسئلہ نہیں ہے ، رسول اللہ ﷺ نے اہل مدینہ کو کہا کہ مشرق ومغرب کے درمیان سارا حصہ قبلہ ہے۔ پورے بدن کو سر سمیت پیروں تک چھپائے اور ڈبے میں اجنبی مرد ہو تو چہرہ بھی چھپائے اور آواز پست رکھے نیز کھڑے ہونے کی سہولت نہ ہو تو بیٹھے بیٹھے نماز ادا کرے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل(پانچویں قسط)

    جواب از شیخ مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹر،شمالی طائف(مسرہ)

    سوال(1) کیا ایک عورت اپنی بہن کے داماد سے پردہ کرے گی ؟
    جواب :ہاں عورت اپنی بہن کے داماد سے پردہ کرے گی کیونکہ وہ اس عورت کا محرم نہیں ہے ۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں عورت کو اس کی خالہ یا پھوپھی کے ساتھ جمع کرنا حرام قراردیا گیاہے ۔ اس حدیث کی وجہ سے ہم یہ نہیں کہیں گے کہ اپنی بہن کا داماد محرم ہوگیا ، نہیں ۔ دونوں آپس میں اجنبی ہی ہیں جیسے دو سگی بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنا حرام ہے مگر سالی اپنے بہنوئی سے پردہ کردے گی ۔ عورت کے لئے صرف اپنے داماد سے پردہ نہیں ہے اور اپنا داماد عورت کی رضاعی بیٹی کا شوہر ہے یا اپنی سگی بیٹی کا شوہر ۔ عورت کی پوتی ، پڑپوتی اور نواسی کا شوہر بھی داماد کے حکم میں ہے۔

    سوال(2)کیا چھوٹی بچیوں کا رقص کرتے ہوئے نظم پڑھنا شریعت کی رو سے جائز ہے ؟
    جواب : آجکل مسلمانوں کے یہاں اسٹیج پروگراموں میں بچیاں بدن کو حرکت دیتے ہوئے نظم پڑھتی ہیں ، بعض مقامات پر ایسی حرکات کے ساتھ قرآ ن بھی تلاوت کرتے ہوئے نظر آتی ہیں ۔ رقص کوئی اچھی چیز نہیں ہے کہ ہم مدرسوں اور اسکولوں میں مسلم بچیوں کو تلاوت اور اناشید کے ساتھ رقص بھی کروائیں ۔یہ چیز ناظرین کو بھاتی ہے مگر اس میں غیروں کی نقالی اور فتنے کا سبب ہے ۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    وأما الرقص من النساء فهو قبيح لا نفتي بجوازه لما بلغنا من الأحداث التي تقع بين النساء بسببه ، وأما إن كان من الرجال فهو أقبح ، وهو من تشبه الرجال بالنساء ، ولا يخفى ما فيه ، وأما إن كان بين الرجال والنساء مختلطين كما يفعله بعض السفهاء : فهو أعظم وأقبح لما فيه من الاختلاط والفتنة العظيمة لا سيما وأن المناسبة مناسبة نكاح ونشوة عرس (فتاوى إسلامية: 3/187).
    اس عبارت کا ترجمہ یہ ہے کہ رقص کرنے میں قباحت ہے اس وجہ سے ہم اس کے جواز کا فتوی نہیں دے سکتے اور ہمیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اس کے سبب عورتوں میں فتنہ برپا ہوا ہے ۔ اگر مرد رقص کرے توعورت کے رقص سے بھی قبیح ہے کیونکہ اس میں عورتوں کی مشابہت ہے اور اس کی قباحت سب پر عیاں ہے۔ اگر مردوعورت کے ساتھ مخلوط رقص ہو جیساکہ بعض بے وقوف کرتے ہیں تو یہ مردوں کے رقص سے بھی قبیح اور عظیم گناہ ہے کیونکہ اس میں اختلاط کے ساتھ بڑا فتنہ پایا جاتا ہے بطور خاص نکاح اور شادی کی مناسبت سے ہو۔
    اس لئے ذمہ داران ادارہ و تنظیم سے گزارش ہے کہ بچیوں کا مستقبل خراب نہ کریں ، یہ کل گھروں کی مالکن بنیں گی ، اگر اس نہج پہ بچیوں کی تربیت کی گئی تو اپنے گھروں میں اور معاشرہ میں یہی چیز پھیلائے گی اور فتنے کا سبب بنیں گی ، اس وقت فتنے کا اصل ذمہ دار مربی ہوں گے ۔

    سوال(3)جس طرح بیوی کے لئے بستر پہ بلانے سے انکارکرنے پر سخت وعید ہے ، اس کے برعکس اگر شوہر بیوی کی خواہش پوری کرنے سے انکار کرے تو کیا حکم ہے ؟
    جواب: صحیح بخاری(3237) میں فرمان رسول ﷺ ہے : جب کوئي شخص اپنی بیوی کواپنے بستر پر بلائے اوربیوی آنے سے انکار کردے اورخاوند اس پر ناراضگی کی حالت میں ہی رات بسر کردے تو اس عورت پر صبح ہونے تک فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں۔ اس حدیث میں مذکور لعنت عورت کے ساتھ خاص ہے ،ایسی کوئی خاص وعید مردوں کے سلسلے میں نہیں ہے ۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ عموما جماع کا مطالبہ شوہر کی طرف سے ہوتا ہے اور جماع پہ کنٹرول مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ پھر بھی اللہ کے رسول ﷺ نے مردوں کو عورتوں کے متعلق ڈرنے کا حکم دیا ہے ۔
    مسلم شریف کی حدیث ہے :فاتقوا اللهَ في النِّساءِ(مسلم :1218)
    ترجمہ : اے لوگو! تم عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔
    شوہر پر بیوی کے حقوق میں سے ہے کہ اس کا شوہر حسب ضرورت بیوی کی خواہش پوری کرے ،اگر وہ بلاعذر بیوی کی خواہش پوری نہیں کرتا تو ایسا شوہر ظالم ہے اور بیوی مظلوم ہے ۔ مظلوم اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا ،اس وجہ سے نبی ﷺ نے مظلوم کی بددعا سے بچنے کا حکم دیا ہے ۔ اگر مظلوم بددعا نہ بھی کرے پھر بھی اللہ کےیہاں اس کے لئے دردر ناک عذاب رکھا ہے ۔ فرمان الہی ہے : وَمَن يَظْلِم مِّنكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِيرًا(الفرقان:19).
    ترجمہ: تم میں سے جس نے بھی ظلم کیا ہے ہم اسے بڑا عذاب چکھائیں گے ۔
    عورتوں کو اس معاملے میں صبر سے کام لینا چاہئے ، اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

    سوال(4)حرم شریف میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ ہے کیا یہ فرض نماز کے ساتھ خاص ہے ؟
    جواب : اس سلسلے میں نبی ﷺ کی جو حدیث ہے وہ عام ہے،ہر نماز کو شامل ہے ۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں :
    صلاةٌ في مسجِدي أفضلُ من ألفِ صلاةٍ فيما سواهُ إلَّا المسجدَ الحرامَ وصلاةٌ في المسجدِ الحرامِ أفضلُ من مائةِ ألفِ صلاةٍ فيما سواهُ(صحيح ابن ماجه:1163)
    ترجمہ:میری مسجد میں نماز مسجد حرام کے سوا کسی بھی مسجد کی ہزاروں نمازوں سے افضل ہے۔ اور مسجد حرام میں ایک نماز پڑھنا کسی دوسری مسجد کی ایک لاکھ نمازوں سے افضل ہے۔
    یہاں "صلاۃ" کا لفظ وارد ہے جو فرض، سنت اور نفل تمام نمازوں کو شامل ہے لہذا مسجد حرام میں ایک نماز کا ثواب فرض کے ساتھ تمام نمازوں کوبھی شامل ہے ۔

    سوال(5)کسی سہیلی نے مجھ سے پوچھا ہے کہ آدم علیہ السلام نے حوا کو مہر میں کیا دیا تھا؟
    جواب : مختلف کتب سیراور قصص ومواعظ کی کتابوں میں حوا کا مہر نبی ﷺ پر درود پڑھنا ہے۔ درود پڑھنے کی تعداد بھی مذکور ہے ، یہ تعداد بعض جگہ تین مرتبہ ، بعض جگہ دس مرتبہ، بعض جگہ بیس مرتبہ، بعض جگہ سو مرتبہ اور بعض جگہ ہزار مرتبہ آیا ہے ۔ ان ساری روایات کا حکم یہ ہے کہ حوا کے مہر کے طور پر آدم علیہ السلام کا نبی ﷺ پر درود پڑھنا کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے ۔

    سوال(6)کسی کا باپ مرجائے اور اس کے ذمہ قرض ہو تو کیا اس کی اولاد زکوۃ سے قرض کی ادائیگی کر سکتی ہے ؟
    جواب : میت کے ذمہ قرض ہو تو اس کے وارثین کی ذمہ داری ہے کہ میت کے ترکہ سے قرض کی ادائیگی کریں۔ اگرمیت نے مال نہیں چھوڑا ہو تو جو بھی ترکہ میں چھوڑا ہو اسے بیچ کر ادا کیا جائے ۔ بالکل ترکہ نہ ہو تو اولاد زکوۃکے علاوہ مال سےقرض ادا کرسکتی ہے یا قرض خواہ خود ہی معاف کردے ۔ قرض کی ادائیگی کے لئے اولاد کے پاس زکوۃ کے علاوہ رقم نہ ہو تو اس صورت میں زکوۃ کی رقم میت کی طرف سے قرض کی ادائیگی کے لئے دی جاسکتی ہے۔

    سوال(7)ایک خاتون کئی سالوں تک بال ڈائی کراتی رہی ، اور نماز بھی پڑھتی تھی اسے اب معلوم ہوا کہ بال ڈائی نہیں کرانا چاہئے تو اس کی پچھلی نماز کا کیا حکم ہے کیونکہ اس سے تو وضو نہیں ہوتا؟
    جواب : مردوں اور عورتوں کے لئے صرف کالے رنگ سے بال رنگنامنع ہے ، کالے رنگ کے علاوہ دوسرے رنگ سے بال رنگنا منع نہیں ہے ۔ وضو کے وقت بالوں پر پرت جمی ہو اس طورپر کہ وضومیں مسح کا پانی بال تک نہیں پہنچ پاتا ہو تو اس صورت میں وضو نہیں ہوگا اور اس طرح وضوکرکے پڑھی گئی نماز نہیں ہوگی ۔ اگر عورت کالے رنگ سے بال رنگتی تھی اور اس کے بال پر وضو کے وقت پرت جمی ہوتی اس حالت میں وضو کرتی اور نماز پڑھتی تو یہ عورت کی شریعت کے حکم سے نادانی اور جہالت ہے ، وہ سابقہ عمل سے سچی توبہ کرے اور آئندہ اس عمل سے پرہیز کرے ۔ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔

    سوال(8)جوعورت احرام کی حالت میں وفات پاجائے اس کے غسل اور تکفین کی کیا صورت ہوگی ؟
    جواب: دوران حج وفات پانے والے مرد کو بیری ، پانی اور غیرخوشبو والے صابون سے غسل دیا جائے گا اور احرام کے کپڑے میں ہی کفن دیا جائے گا ۔ نہ اس کا بال کاٹاجائے گا، نہ اس کا ناخن کاٹا جائے گا اور نہ ہی اسے خوشبو لگائی جائے گی ۔ محرم کی طرح اس کا سر بھی کھلارہے گا اور کھلے سر، ایک چادر، ایک ازارمیں نماز جنازہ پڑھ کر دفن کردیا جائے گا۔
    محرمہ میت کو بھی غسل دیتے وقت بیری اور پانی سے غسل دیا جائے اور ہرقسم کی خوشبو سے پرہیز کیا جائے گا حتی کہ کفن میں بھی خوشبونہیں لگائی جائے گی ۔عام عورتوں کی طرح تین کپڑوں میں تدفین ہوگی اورسر و چہرہ بھی ڈھکا جائے گا مگر نقاب سے نہیں بلکہ دوسرے کپڑے سے ۔

    سوال(9) کیا عورت اپنی مرضی سے والد کی میراث کا حصہ چھوڑ سکتی ہے ؟
    جواب: اگر عورت بغیرمجبوری ، خوشی خوشی اپنے ہوش وحواش میں اپنا حصہ دیگر وارثین کے لئے چھوڑ دیتی ہے تو اس میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے ۔ یہاں ایک امر کی وضاحت ضروری ہے کہ بسا اوقات وارثین تقسیم میراث میں عورتوں کو جان بوجھ کر محروم کرتے ہیں یا اپنا حصہ چھوڑدینے کا مطالبہ اور اس مطالبے پر جبر کرتے ہیں یا حصہ مانگنے پر عورتوں سے رشتہ توڑ لیتے ہیں ایسی صورتوں میں مجبورا عورتیں اپنا حصہ چھوڑ دیتی ہیں ۔ میراث کی غیرمنصفانہ تقسیم کرنے والے لوگ اپنی آخرت بربادکرتے ہیں ، کل قیامت میں انہیں بندوں کی حق تلفی کی بدترین سزا ملے گی ۔ اس سزا سے بچنے کا راستہ دنیا میں حق والوں کا حق دینا ہے ۔

    سوال(10)اپنی سہیلی کی کوئی خوبی پسند آئے تو کیا میں اس سے بیان کرسکتی ہوں؟
    جواب: منہ پر کسی کی تعریف کرنے سے منع کیا گیا ہے تاکہ وہ کبروغرور میں نہ مبتلا ہوجائے لیکن اگر ممدوح کی بجا تعریف کرنے میں غرور کا اندیشہ نہ ہو تو مناسب الفاظ میں سامنے بھی تعریف کی جاسکتی ہے جیساکہ بعض احادیث سے جواز کا پہلو نکلتا ہے۔ تاہم خوشامدی الفاظ، بے جاتعریف، جھوٹےالقاب،مطلبی کلمات، غلو اور چاپلوسی کسی صورت میں جائز نہیں ہے۔ اللہ اس مرض سے ہمیں بچائے ۔
     
    Last edited: ‏دسمبر 7, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    بنت حوا کے چند مسائل اور ان کا شرعی حل
    سائلہ : بنت حوا کے شرعی مسائل کا حل
    جواب : شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ

    سوال(1):نبی کا نام آنے پر درود پڑھنے کی کیا دلیل ہے ؟
    جواب: نبی ﷺ کا فرمان ہے : البخيلُ الذي من ذُكِرْتُ عندَه فلم يُصَلِّ عليَّ(صحيح الترمذي:3546)
    ترجمہ: بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور پھر بھی وہ مجھ پر درود نہ بھیجے ۔
    اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ جب نبی کا نام آئے تو ہمیں آپ پر درود پڑھنا چاہئے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بغیر ذکر کے آپ پر درود نہیں پڑھ سکتے ۔ آپ پر درود پڑھنا تو بڑے اجر کا کام ہے اس لئے ایک مسلمان سے جس قدر ہوسکے آپ پر درود وسلام پڑھتا رہے۔

    سوال(2): رمضان میں آٹھ رکعت سے زیادہ پڑھتے ہیں کیا یہ صحابہ یا ان کے بعد والوں سے ثابت ہے ؟
    جواب: رمضان ہو یا غیر رمضان نبی ﷺ اکثروبیشتر آٹھ رکعت ہی پڑھا کرتے اور ساتھ ہی تین رکعت وتر بھی پڑھتےجیساکہ صحیحین میں موجود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول سے معلوم ہوتا ہے تاہم کوئی کبھی کبھار اس سے زائد بھی پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے۔ رات کی نماز دودو رکعت ہے اگر کسی کو طاقت ہو تو جتنا چاہے دو دو کرکے پڑھ سکتا ہے ، آخر میں ایک وتر پڑھ لے۔نبی ﷺ کا فرمان ہے:
    صلاةُ الليلِ مثنى مثنى ، فإذا خشي أحدُكم الصبحَ صلى ركعةً واحدةً ، توتِرُ له ما قد صلى.(صحيح البخاري:990 و صحيح مسلم:749)
    ترجمہ : رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور اگر تم میں کسی کو صبح ہوجانے کا اندیشہ ہو، اور وہ ایک رکعت پڑھ لے، تو یہ اس کی پڑھی ہوئی نماز کے لئے وتر ہوجائیگی۔
    حدیث رسول آجانے کے بعد کسی صحابی یا تابعی کے قول وفعل کی طرف التفات کی ضرورت نہیں ہے۔

    سوال(3): عشاء سے پہلے چار سنت کا ثواب شب قدر کی طرح ہے کیا یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے ؟
    جواب: عشاء سے پہلے نہیں بلکہ عشاء کے بعد چار رکعت پڑھنے کا اجر شب قدر کے برابر ملنے کا ذکر ہے مگر یہ کسی مرفوع روایت سے ثابت نہیں ہوتا تاہم اس سلسلے میں بعض آثار ملتے ہیں جو سندا صحیح ہیں ۔شیخ البانی نے ان آثار کے متعلق کہا ہے کہ گویا یہ موقوف روایات ہیں مگر مرفوع کے حکم میں ہیں کیونکہ یہ بات اجتہاد سے نہیں کہی جاسکتی ہے جیساکہ ظاہر ہے۔
    میں نےاس سوال کا جواب ایک اور جگہ آثارذکر کرکے دیا ہےجو میرے بلاگ پر دیکھ سکتے ہیں۔

    سوال(4): کیا باب الریان سے داخل ہونے والے وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے کبھی روزہ نہیں توڑا ، ہم جیسی خاتون نہیں ہوں گی جنہیں حیض ونفاس کی وجہ سے اپنا روزہ توڑنا پڑتا ہے یا اسی طرح فدیہ دینے والی ؟
    جواب: نبی ﷺ کا فرمان ہے: إذا صلَّتِ المرأةُ خَمْسَها ، و صامَت شهرَها ، و حصَّنَتْ فرجَها ، وأطاعَت زوجَها ، قيلَ لها : ادخُلي الجنَّةَ مِن أيِّ أبوابِ الجنَّةِ شِئتِ(صحيح الجامع:660)
    ترجمہ: ترجمہ :جب عورت اپنی پانچ وقت کی نماز پڑھ لے ، اپنے ماہ {رمضان } کا روزہ رکھ لے ، اپنی شرمگاہ کی ‏حفاظت کرلے ، اور اپنے شوہر کی اطاعت کرلے تو اس سے کہا جائے گا کہ جنت میں اسکے جس دروازے سے داخل ‏ہونا چاہے داخل ہوجا ۔
    نبی ﷺ کو معلوم ہے کہ خاتون کو حیض ونفاس آتا ہے جس کی وجہ سے ان کے روزے قضا ہوجاتے ہیں پھر بھی آپ نے انہیں جنت کی بشارت دی ہے اور یہاں تک فرمادیا کہ جنت کے دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہے داخل ہوجائے چاہے وہ دروازہ الریان ہی کیوں نہ ہو۔ خاص بات یہ ہے کہ عورت نے فرض روزہ عذر کے سبب چھوڑی ہو اور چھوڑے ہوئے روزوں کی وقت پر قضا کرلی ہو ۔ جس نے قضا کی استطاعت نہ رکھنے کی وجہ سے فدیہ دے دیا اس نے بھی روزہ کا حق ادا کردیا۔

    سوال(5): امہات المومنین نے رسول اللہ ﷺ سے تھوڑا سا خرچہ بڑھانے کی مانگ کی تو آیت نازل ہوگئی ، اس کی وضاحت فرمائیں ۔
    جواب: جب مسلمانوں میں فتوحات کی وجہ سے مالداری آئی تو امہات المومنین نے انصارومہاجرین کی عورتوں کو دیکھ کر رسول اللہ ﷺ سے نفقہ کی شکایت کیں اور اس میں اضافے کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالی نے سورہ احزاب کی یہ آیات نازل فرمائی:يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا * وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا(الأحزاب:28، 29)
    ترجمہ:اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم زندگانی دنیا اور زینت دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کردوں ۔ اوراگر تمہاری مراد اللہ اور اس کا رسول اور آخرت کا گھر ہے تو (یقین مانو کہ) تم میں سے نیک کام کرنے والیوں کے لئے اللہ تعالٰی نے بہت زبردست اجر رکھ چھوڑے ہیں ۔
    مذکورہ آیت کی شان نزول سے متعلق صحیحین کے علاوہ نسائی،ترمذی،ابن ماجہ اور مسند احمد وغیرہ میں حدیث مذکور ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ازواج مطہرات کی جانب سے نفقہ کی شکایت آئی تو آپ کو بیحد صدمہ ہوا حتی کہ آپ نے بیویوں سے علاحدگی اختیار کرلی ، ایک ماہ بعد یہ آیات نازل ہوئیں، آپ نے بیویوں پر پیش کیا اور انہیں اپنے ساتھ یا علاحدہ ہوجانے کا اختیار دیا تو تمام بیویوں نے آپ کو ہی اختیار کیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  7. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل ( چھٹی قسط)

    جواب از شیخ مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائفـمسرہ

    سوال(1): ایک شخص کو اکلوتی بیٹی تھی اس نے ایک لڑکا گود لیا ، جب یہ دونوں بچے بالغ ہوگئےکیا اس وقت لڑکی اپنے منہ بولے بھائی سے پردہ کرے گی؟
    جواب : منہ بولے بہن بھائی کی اسلام میں کوئی حقیقت نہیں ہے ، بھائی وہی ہیں جو سگے ہوں خواہ نسب سے ہوں یا رضاعت سے ۔ اگر لڑکی کی ماں نے لے پالک کو شیرخواری میں اپنا دودھ نہیں پلایا توبلوغت کے بعد اس لے پالک سے نہ صرف لڑکی پردہ کرے گی بلکہ اس کی ماں کو بھی پردہ کرنا لازم ہےاور اگرلے پالک لڑکی ہے تووہ منہ بولےباپ سے بھی پردہ کرےگی۔جب لے پالک(لڑکا/لڑکی) کا بلوغت کے بعد منہ بولےماں باپ سے پردہ ہےتو منہ بولے بہن بھائی کے درمیان بدرجہ اولی پردہ ہوگااس لئےلڑکی کو چاہئے کہ اپنے منہ بولے بھائی سے خلوت نہ کرے، مصافحہ نہ کرے،اس کے ساتھ سفر نہ کرے، بلاضرورت اور بلاحجاب بات چیت نہ کرے ، نہ ننگے سر آئےاور نہ اس کے سامنے اپنی زینت کا اظہار کرے کیونکہ یہ متبنی اس لڑکی کے لئے غیرمحرم ہے۔ آج کل انٹرنیٹ پہ بھی منہ بولے بہن بھائی بنائے جاتے ہیں ، دوران حج میدان عرفات میں عورتیں اجنبی لڑکے کوعرفاتی بھائی بنالیتی ہیں ۔ یاد رہے اس طرح بھائی بنالینے سے آپس میں پردہ نہیں اٹھ جاتا ہے، اجنبی ان احوال میں بھی اجنبی ہی رہیں گے ، آپس میں پردہ کرنا ہوگا اوراسی طرح آپس میں نکاح بھی جائز ہے ۔

    سوال(2):ایسے پھل کھانے کا کیا حکم ہے جو نجس پانی سے پٹایا گیا ہو؟
    جواب : اگر نجس پانی سے کوئی درخت سیراب ہوا ہو تو اس کا پھل کھانا جائز ہے کیونکہ وہ درخت، اس کی ڈالی، اس کا پتہ اور اس کا پھل سب کچھ پاک ہیں ۔ جب پاک چیز سے مل کر نجس چیز کا وصف بدل جائے تو وہ پاکی کے حکم میں ہے، اسے استحالہ کہتے ہیں ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے استحالہ سے متعلق یہی موقف اختیار کیا ہے ۔ آپ خنزیر فرائی کئے تنور کی پاکی پر دوسرا قول ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
    وهو مذهب أبي حنيفة ، وأحد قولي المالكية وغيرهم ، أنها لا تبقى نجسة . وهذا هو الصواب ، فإن هذه الأعيان لم يتناولها نص التحريم لا لفظا ولا معنى ، وليست في معنى النصوص ، بل هي أعيان طيبة فيتناولها نص التحليل(مجموع الفتاوى:21/ 610 –611) .
    یعنی دوسرا مذہب جوکہ ابوحنیفہ اور مالکیہ وغیرہ کا ہے کہ نجس چیزیں اپنی کیفیت بدلنے سے نجس نہیں رہتیں اور یہی قول درست ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان چیزوں کو حرمت شامل نہیں ہے ، نہ لفظی طور پر اور نہ ہی معنوی طورپر بلکہ یہ چیزیں پاک ہیں اور حلال چیزوں کے نصوص میں شامل ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ الاسلام نے نجس فضلات خشک ہوکر مٹی میں مل کر مٹی ہوجانے پراس جگہ کو پاک کہا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ نجس پانی سے سیراب ہوئے درخت کا پھل کھانا جائز ہے۔

    سوال(3):پانی کا کاروبار کرنا کیسا ہے جبکہ میں نے سنا ہے کہ پانی بیچنا حرام ہے ؟
    جواب : متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پانی بیچنا منع ہے ، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا:
    نهى رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ عن بيعِ فضلِ الماءِ .( أخرجه مسلم :1565، والنسائي :4670 مطولاً، وابن ماجه :2477، وأحمد:14639)
    ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے بچ جانے والے پانی کو فروخت کرنے سے منع فرمایا۔
    بظاہر اس حدیث سے پانی بیچنا ممنوع معلوم ہوتا ہے مگر علماء نے کہا ہے کہ یہاں پانی سے مراد نہروں اور چشموں کا پانی ہے جس پہ کسی کی ملکیت نہ ہو۔ جب پانی کو جمع کرلیا جائے اور اپنی ملکیت میں لے آیا جائے تو اس کا بیچنا جائز ہے ۔

    سوال(4):نکاح کن کن باتوں سے ٹوٹ جاتا ہے؟
    جواب : ان باتوں سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے ۔طلاق سےیا خلع سےیا ارتداد سےیا شوہر کے لاپتہ ہونے پر عدالت کے ذریعہ فسخ نکاح سے۔ احناف کے یہاں بیٹی یا ساس کو شہوت سے چھولینے یا سسر کا بہو سے زنا کرنے یا شہوت کے ساتھ چھولینے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے ۔ احناف کا یہ مسئلہ قرآن وحدیث کے خلاف ہے ۔ حدیث میں وارد ہے کہ حرام کام کسی حلال کو حرام نہیں کرسکتا (ابن ماجہ: 2015) گوکہ اس حدیث کو شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے مگر کئی آثار سے یہ بات منقول ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی صحیح اثر میں مذکور ہے :عنِ ابنِ عباسٍ أنَّ وطءَ الحرامِ لا يُحرِّمُ۔
    ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حرام وطی (مباشرت) سے (کوئی حلال چیز) حرام نہیں ہوجاتی ۔
    احناف سے گئے گزرے بریلوی ہیں جو اپنے مخالف مذہب والوں سے سلام ومصافحہ تک کرنے سے عورتوں کا نکاح توڑ دیتے ہیں بلکہ بسااوقات پورے پورے گاؤں کی عورتوں کا نکاح توڑ دیا جاتا ہے ۔ ایک جگہ ایک دیوبندی نے بریلویوں کو جنازہ کی نماز پڑھائی ، جب بریلوی ملاؤں کو معلوم ہوا تو پورے گاؤں کا نکاح ٹوٹ جانے کا اعلان کیا ۔ پھر تجدید نکاح کے نام پہ فیسوں سے جیب گرم کی جاتی ہے۔ چند باتیں عوام میں نکاح ٹوٹنے سے متعلق غلط مشہور ہوگئی ہیں ۔ ان میں بیوی کی پچھلی شرمگاہ میں وطی کرنے ،بیوی کا دودھ پینے، سالی سے زنا کرنے، بیوی سے کئی سال لاتعلق اور باپ چیت نہ کرنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان باتوں سے نکاح نہیں ٹوٹتا۔

    سوال(5):کیا خواب کی تعبیر جاننا ضروری ہے اور اگر کسی نے برا خواب دیکھ لیا اسے کسی سے بیان کردیا تو اس کے شر سے بچنے کی تدبیر کیا ہوگی؟
    جواب : حضرت ابو سلمہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں ایسے خوفناک خواب دیکھتا تھا جو مجھے بیمار کردیتے یہاں تک کہ میں نے حضرت ابو قتادہ ؓ کو فرماتے سنا: میں ایسے خواب دیکھتا جو مجھے بیمار کردیتے حتیٰ کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا:
    الرؤيا الحسنةُ مِن الله ، فإذا رأى أحدُكم ما يُحِبُّ فلا يُحدِّثُ به إلا مَن يُحِبُّ ، وإذا رأى ما يَكرَهُ فلْيَتعوَّذْ باللهِ مِن شرِّها ، ومِن شرِّ الشيطانِ ، ولْيَتفُلْ ثلاثًا ، ولا يُحدِّثُ بها أحدًا ، فإنها لن تَضُرَه .(صحيح البخاري:7044)
    ترجمہ: اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے، اس لیے جب تم میں سے کوئی اچھا خواب دیکھے تو وہ صرف اس سے بیان کرے جس سے وہ محبت کرتا ہے اور جب کوئی ناپسند خواب دیکھے تو اس کے شر اور شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے، تین بار تھو تھو کرے اور کسی سے بیان نہ کرے۔ ایسا کرنے سے وہ اسے کوئی نقصان نہیں دے سکے گا۔
    ایک دوسری روایت میں ہے ، نبی ﷺ فرماتے ہیں :إِذَا حَلَمَ أَحَدُكُمْ فَلَا يُخْبِرْ أَحَدًا بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِهِ فِي الْمَنَامِ(صحيح مسلم:2268)
    ترجمہ:جب تم میں سے کوئی شخص برا خواب دیکھے تو وہ نیند کے عالم میں اپنے ساتھ شیطان کے کھیلنے کی کسی دوسرے کوخبر نہ دے۔
    نبی ﷺ کا فرمان ہے:فمَن رأى شيئًا يَكْرَهُهُ فلا يَقُصَّهُ على أحدٍ ولْيَقُمْ فلْيُصَلِّ(صحيح البخاري:7017)
    ترجمہ:جس نے خواب میں کسی بری چیز کو دیکھا تو چاہیے کہ اسے کسی سے بیان نہ کرے اور کھڑا ہوکر نماز پڑھنے لگے۔
    ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اچھے خواب صرف اچھے لوگوں سے بیان کیا جائے تاکہ اس کے اندر حسد نہ ہو اور برے خواب کسی سے بھی نہ بیان کیا جائے کیونکہ اس کے بیان کرنے سے پریشانی کا اندیشہ ہے ۔
    اگر کسی نے انجانے میں یا دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے کسی سے اپنا برا خواب بیان کردیا ہے تو اسے چاہئے کہ برے خواب اور شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے کیونکہ کسی کے برا چاہنے سے بھی کچھ نہیں ہوتا جب تک کہ اللہ نہ چاہے اورنماز پڑھ کراللہ سے دعائیں کرے تاکہ برے خواب کے شر سے اللہ بچائے ۔آئندہ کسی سے برا خواب بیان نہ کرے ۔

    سوال(6):کسی نے اپنے موزہ پر مسح کرکے نماز پڑھی ، نماز کے بعد معلوم ہوا کہ مسح کی مدت ختم ہوگئی تو کیا اپنی نماز پھر سے لوٹائے گا؟
    جواب :اس میں چند مسائل ہیں ۔ اگر کبهی ایسا ہو کہ بهول کر بغیر وضو کے موزہ پہن لیا اور اسی حالت میں موزے پہ مسح بهی کرلیا یا مسح کی مدت ختم ہونے کے بعد مسح کرکے نماز ادا کرلی تو ان صورتوں میں نماز باطل ہے، اس نماز کو دہرانی ہوگی کیونکہ یہ معاملہ ایسے ہی ہے جیساکہ کوئی بلا وضو نماز پڑهے اورمسلم شریف کی حدیث ہے کہ بغیر وضو کے نماز قبول نہیں ہوتی۔
    دوران نماز امام (کسی کو امامت کے لئے بڑھادے)ہو یا مقتدی اگر اسے اس بات کا علم ہوجائے کہ مسح کی مدت ختم ہوگئی تھی پھر بھی مسح کرکے نماز ادا کررہاہے تو نماز توڑ دے اور نیا وضو کرکے پھر سے نماز پڑھے ۔
    اگر امام نے ایسی حالت میں نماز پڑھایا کہ اس نے مسح کی مدت ختم ہونے کے بعد مسح کیا تھا تو صرف امام کو نماز دہرانی ہوگی بقیہ لوگوں کی نماز درست ہے الا یہ کہ اگر مقتدی کو شروع میں ہی معلوم ہوگیا ہو تو وہ بھی اپنی نماز دہرالے ۔
    ایک مسئلہ یہ ہے کہ مسح کی مدت تو ختم ہوگئی تھی مگر آدمی کا وضو باقی تھا تو ایسی صورت میں پڑھی گئی نماز صحیح ہے۔

    سوال(7):عقیقہ کے موقع سے مہندی لگانے کا شرعی حکم کیا ہے ، آجکل اس کا رواج بڑھنے لگا ہے ؟
    جواب: عورتیں کبھی بھی مہندی لگاسکتی ہیں مگر کسی وقت کو متعین کرلینا رسم ورواج میں داخل ہے۔ایسے رسم ورواج سے بچنا چاہئے جس سے شر پھیلنے کا اندیشہ ہو۔ عقیقہ نومولود کے نام سے خون بہانے کا نام ہے ،اس عقیقہ سے عورت کے مہندی لگانے کا کیا تعلق ہے ؟ یاد رہے اگر عورتیں اجنبی مردوں سے مہندی لگواتی ہیں یا مہندی لگاکر اجنبی مردوں پر اپنی زینت ظاہر کرتی ہیں تو گناہگار ہوں گی ۔

    سوال(8):کیاعورتوں کے بالوں کو جو زمین پر گرجائیں انہیں دفن کردینا چاہئے تاکہ لوگ انہیں غلط مقاصد کے لئے استعمال نہ کریں ؟
    جواب: بالوں کو دفن کرنے سے متعلق کوئی نص موجود نہیں ہے تاہم بعض اہل علم اسے دفن کرنے کو اچھا خیال کرتے ہیں ۔اگر جادو ٹونا کا اندیشہ ہو جیساکہ آج کل اس کا بڑا رواج ہے تو پھر کسی محفوظ جگہ دفن کردینا چاہئے ۔اجنبی مردوں کی نظر نہ پڑے اس مقصد سے بھی بال زمین میں چھپایا جاسکتا ہے۔اکثرعورتیں توہمات کا شکار ہوتی ہیں اور ہربات کو جناتی اثرات سے منسوب کرتی ہیں ۔ میں ان عورتوں کو پابندی سے نماز ادا کرنے، کثرت سے استغفارپڑھنے اورطہارت واذکار پہ ہمیشگی برتنے کی نصیحت کرتا ہوں ۔ اللہ کی توفیق سے نہ کسی انسان کا جادو آپ پر اثر کرے گا اور نہ ہی کوئی شیطان آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    سوال(9):کیا عورت اپنے میکے میں قصر کرے گی ؟
    جواب: جب عورت اپنے شوہر کے ساتھ اس کے گھر میں سکونت پذیر ہو اور والدین کی زیارت کے لئے میکے جایا کرے تو دو شرطوں کے ساتھ قصر کرے گی ۔ پہلی شرط یہ ہے کہ میکے کی مسافت پیدل یا اونٹ کے ذریعہ ایک دن اور ایک رات یعنی تقریبا اسی کلومیٹرہو ۔ دوسری شرط یہ ہے کہ چاردن یا اس سے کم ٹھہرنے کی نیت ہو ۔ اگر عورت میکے میں چار دن سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت کرتی ہے تو پوری نماز پڑھے گی یا مسافت اسی کلومیٹر سے کم ہے تب بھی میکے میں مکمل نماز پڑھے گی ۔

    سوال(10):اگر شوہر مجھے بال کٹانے، ابرو بنانے، ناخن بڑے رکھنے کا حکم دے تو میں کیا کروں ؟
    جواب : نبی ﷺ کا فرمان ہے :لا طاعةَ في مَعصيةِ اللَّهِ إنَّما الطَّاعةُ في المَعروفِ(صحيح أبي داود:2625)
    ترجمہ:اللہ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں ، اطاعت تو بس نیکی کے کام میں ہے۔
    اگر والدین اپنی اولاد کو کفر کرنے کا حکم دیں، یا شوہر بیوی کو معصیت کے کاموں پر مجبور کرے یا حاکم رعایا کو ظلم وجور پر ابھارے تو ایسی صورت میں نہ والدین کی اولاد پر، نہ شوہر کی بیوی پر اورنہ حاکم کی رعایا پر اطاعت واجب ہے ۔ اللہ کی معصیت اور نافرمانی کے کاموں میں کسی کی بات نہیں مانی جائے گی ۔
    لہذا بیویاں اپنے شوہر وں کی اطاعت صرف بھلی باتوں میں کریں اور بال کٹانے، ابروبنانےاوربڑے ناخن رکھنے کا حکم دیں تو ان کی بات ٹھکرادیں ۔

    سوال(11):مجھے شوہر حمل روکنے کی دوا کھانے پر مجبور کرتا ہے ، ایسی صورت میں شوہر کی اطاعت کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : اگر شوہر کسی ضرورت ومصلحت اورشرعی عذر کی وجہ سے بیوی کو مانع حمل گولی کھانے کا حکم دے تو بیوی شوہر کی اطاعت کرےلیکن شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کا مانع حمل دوا استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ صرف شوقیہ طورپر اولاد سے بچنا نہ صرف شادی کے مقصد کے خلاف ہے بلکہ رسول اللہ ﷺکے اس فرمان کے بھی خلاف ہے جس میں کثرت سے بچہ جننے والی عورت سے شادی کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ بھی یاد رہےکہ کثرت سے مانع حمل گولی استعمال کرنے سے ،بعد میں اولاد سے محرومی ہوتی ہے کیونکہ اس کے برے اثرات ہیں جو حیض اور رحم مادر پر مرتب ہوتے ہیں ۔

    سوال (12):آج کل عورتیں باریک موزے پہنتی ہیں کیا اس پر مسح کیا جاسکتا ہے ؟
    جواب: بعض علماء نے باریک موزوں پر مسح کرناجائز کہنا ہے ، اس سلسلے میں زیادہ قوی بات یہ ہے کہ ایسے باریک موزے جس کے اندر سے قدم کی چمڑی اور رنگ دکھائی دے ان پرمسح کرنا جائز نہیں ہے ۔ایسی صورت میں وضو کرتے وقت موزہ اتار کر قدم دھونا ضروری ہے ورنہ وضو نہیں ہوگا۔ شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں: من شرط المسح على الجوارب أن يكون صفيقا ساتراً ، فإن كان شفافاً لم يجز المسح عليه ؛ لأن القدم والحال ما ذكر في حكم المكشوفة ۔(فتاوى الشيخ ابن باز:10/110).
    ترجمہ: جرابوں پر مسح کرنے کی شرط یہ ہے کہ جرابیں موٹی ہوں اور پورے قدم کو ڈھانپتی ہوں،اگر جرابیں شفاف(باریک) ہوں تو اس پر مسح کرنا جائز نہیں ہوگا کیونکہ اس صورت میں پاؤں ننگا ہونے کے حکم میں ہوگا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  8. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل(ساتویں قسط)

    جواب ازشیخ مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف(مسرہ)

    سوال(1):کیاخواتین کے لئے عمر کے کسی مرحلےمیں پہنچ کرپردہ کی پابندی ختم ہوجاتی ہے؟
    جواب : پردہ کی پاپندی کسی بھی مرحلے میں ختم نہیں ہوتی ہے تاہم جب عورت عمر رسیدہ ہوجائے تو اس کے لئے حجاب میں تخفیف ہے یعنی اپنے چہرہ اور ہتھیلی کو مردوں پر ظاہر کرسکتی ہےمگر ستر کے وہی احکام ہوں گے یعنی چہرہ اور ہتھیلی کے سوا سر سے لیکر پیر تک بالوں سمیت ہاتھ وپیروغیرہ مردوں سے چھپائے گی ۔اللہ کا فرمان ہے :
    وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا يَرْجُونَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ أَن يَضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِينَةٍ ۖ وَأَن يَسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَّهُنَّ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (النور:60)
    ترجمہ:بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید (اورخواہش ہی ) نہ رہی ہو وہ اگر اپنے کپڑے اتار رکھیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ وہ اپنا بناؤ سنگار ظاہر کرنے والیاں نہ ہوں تاہم اگر ان سے بھی احتیاط رکھیں تو ان کے لئے بہت افضل ہے اور اللہ تعالٰی سنتا جانتا ہے ۔
    ایسی بوڑھی عورت جسے حیض آنا بند ہوگیا ہو اور اس میں نکاح کی رغبت ختم ہوگئی ہو اسے اپنے حجاب وبرقع اتارنے یعنی شلواروقمیص کے اوپر بطور حجاب استعمال کئے جانے والی چادر کو اتار نے کی اجازت ہے ۔یہ اجازت ایک شرط کے ساتھ مشروط ہے وہ ہے زیب وزینت اور بناؤ سنگار کا ظاہر نہ کرنا ۔ اگر بوڑھی عورت بناؤسنگار ظاہر کرے مثلا زرق برق لباس،میک اپ، سرمہ، لیپ اسٹک ، کھنکھناتی خوبصورت چوڑیاں، خوبصورت انگوٹھی اور مائل کرنے والی گھڑیاں استعمال کریں تو پھرلباس کے ساتھ چہرے اور ہاتھوں کا بھی حجاب کرنا لازم ہوگا۔بوڑھی عورت بناؤ سنگار کا اظہار نہ کرے اور حجاب اتارنے سے فتنہ کا ڈر ہو تب بھی حجاب لازم ہےحتی کہ فتنے کا ڈر نہ ہو اور بوڑھی عورت عفت کی خاطر حجاب کرتی رہے تو ایسا کرنا اللہ تعالی نے بوڑھی عورت کے حق میں خیروفضل کا باعث قرار دیا ہے ۔ خلاصہ یہ ہوا کہ عورت کی عمر کے تمام مراحل میں حجاب کرنا افضل ہے تاہم بوڑھی عورت کے لئے جب فتنے کا ڈر نہ ہو اور زینت کا بھی اظہار نہ کریں تو اپنا چہرہ اور ہتھیلی کھولنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

    سوال(2): کیاسن رسیدہ (آئسہ)خواتین کےلئےبھی عدت گذارنا ضروری ہے؟
    جواب : عمر رسیدہ عورتوں کے لئے بھی طلاق، خلع اوروفات کی عدت ہےتاہم عدت کے احکام مختلف ہیں ۔
    بیوہ کو عدت کے طور پر چار مہینے اور دس دن گزارنے ہیں ۔ اللہ کا فرمان ہے :
    وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا(البقرة: 234)
    ترجمہ: اور تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن عدت میں رکھیں ۔
    یہ عدت چار مہینے دس دن (ایک سو تیس دن تقریبا)ان تمام بیوہ عورت کی ہے جو بڑی عمر کی ہو یا چھوٹی عمر کی خواہ حیض والی ہو یا غیر حیض والی اور مدخولہ ہو یا غیرمدخولہ البتہ اگر حاملہ ہے تو پھر وفات یا طلاق دونوں صورت میں عدت وضع حمل ہوگی یعنی عورت حمل وضع کرتے ہی عدت پوری ہوجائے گی جیساکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ(الطلاق:4)
    ترجمہ: اورحمل والیوں کی عدت ان کا وضع حمل ہے۔
    اگر چار ماہ دس دن سے پہلے ہی وضع حمل ہوجائے تو بعض اہل علم نے چار ماہ دس دن کی عدت مکمل کرنے کو کہا مگر صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حاملہ جیسے ہی بچہ جن دے تو نفاس سے پاک ہوکر شادی کرسکتی ہے خواہ یہ مدت کتنی بھی ہو۔
    ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: میں اپنے بھتیجے یعنی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں۔ پھر ان لوگوں نے ( ایک شخص کو) ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کے پاس (مسئلہ معلوم کرنے کے لیے) بھیجا، تو انہوں نے کہا:
    قد وضعت سبيعةُ الأسلميَّةُ بعدَ وفاةِ زوجِها بيسيرٍ فاستفتت رسولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فأمرَها أن تتزوَّج.(صحيح الترمذي:1194)
    ترجمہ:سبیعہ اسلمیہ نے اپنے شوہر کی وفات کے کچھ ہی دنوں بعد بچہ جنا۔ پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( شادی کے سلسلے میں) مسئلہ پوچھا تو آپ نے اسے ( دم نفاس ختم ہوتے ہی) شادی کرنے کی اجازت دے دی۔
    طلاق کی عدت عمررسیدہ عورت کے لئے جس کو حیض آنا بند ہوگیا ہے تین ماہ ہے ، یہی حکم مستحاضہ کا بھی ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے :
    وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ(الطلاق:4)
    ترجمہ: تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے نا امید ہوگئی ہوں ، اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی بھی جنہیں حیض آنا شروع نہ ہوا ہو اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کےوضع حمل ہے اور جو شخص اللہ تعالٰی سے ڈرے گا اللہ اس کے ( ہر) کام میں آسانی کر دے گا ۔
    اس آیت کو سامنے رکھتے ہوئے خلع والی بوڑھی عورت کی عدت ایک ماہ ہوگی کیونکہ حیض والیوں کی عدت خلع ایک حیض ہے ۔

    سوال(3):کیا ایسی کوئی حدیث ہے کہ جب بچہ بولنے لگے تو کلمہ سکھاؤ؟
    جواب: بعض روایات اس تعلق سے آئی ہیں کہ جب بچہ بولنے لگے تو لاالہ الا اللہ سکھا ؤ، مگر اس سلسلے میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے ۔
    ایک روایت یہ ہے: إذا أفصحَ أولادُكم فعلِّمُوهُم لا إلهَ إلَّا اللهُ(عمل اليوم والليلة لابن السني)
    ترجمہ: جب بچہ بولنے لگے تو اسے لاالہ الا اللہ کی تعلیم دو۔
    اس حدیث کو شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے۔(ضعيف الجامع:388)
    دوسری روایت ہے:افتحوا على صبيانِكم أولَ كلمةٍ ب لا إلهَ إلَّا اللهُ(شعب الإيمان)
    ترجمہ: اپنے بچوں کی پہلی تعلیم لاالہ الا اللہ سے شروع کرو۔
    اس حدیث کو شیخ البانی نے باطل کہا ہے۔(السلسلة الضعيفة:6146)
    تیسری روایت ہے:من ربى صغيرا حتى يقول لا إله إلا الله لم يحاسبه الله(المعجم الأوسط، مجمع الزوائد)
    ترجمہ: جسے بچپن میں لاالہ الا اللہ کی تعلیم دی گئی یہاں تک کہ وہ یہ کلمہ بولنے لگے تو اللہ اس کا محاسبہ نہیں کرے گا۔
    اس روایت کو شیخ البانی نے موضوع کہا ہے۔(ضعيف الجامع:5595)
    چوتھی روایت اس طرح سے ہے: كانَ النَّبيُّ صلَّى اللَّهُ عليه وسلَّم إذا أفصَحَ الغلامُ مِن بني عبدِ المطَّلِبِ عَلَّمَهُ هذه الآيةَ { وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا . . . } إلى آخِرِها۔
    ترجمہ: بنی عبدالمطلب کا بچہ جب بولنے لگتا تو نبی ﷺ اسے یہ آیت { وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا . . . } سکھلاتے۔
    اس روایت کو زیلعی نے معضل قرار دیا ہے۔(تخريج الكشاف:2/296)
    خلاصہ یہ ہوا کہ بچے کو سب سے پہلے کلمہ کی تعلیم دی جائے ایسی کوئی بات صحیح حدیث میں نہیں ہے لیکن چونکہ اسلام کی پہلی بنیاد کلمہ ہی ہے اس وجہ سے بچوں کو شروع سے کلمہ سکھایا جائے۔ ابن القیم رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ جب بچہ بولنے لگے تو اسے لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی تلقین کی جائے۔[تحفة المودود:231] انہوں نے یہ بات نبی ﷺ کی طرف منسوب نہیں کی ہے تاہم یہ اچھی بات ہے کہ اپنے بچوں کو آیت،حدیث، کلمہ، ذکر وغیرہ کی تعلیم دیں۔ مسند احمد میں ایک یہودی لڑکا کا ذکر ہے جو نبی ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا جب وہ بیمار پڑا تو نبی ﷺ اس کے پاس آئے اور کلمہ پڑھنے کو کہا تو وہ اپنے باپ کی طرف دیکھنے لگا۔ باپ نے کہا کہ ابوالقاسم کی اطاعت کروپھر بیٹے نے کہا: أشهَدُ أنْ لا إلهَ إلَّا اللهُ، وأنَّكَ رسولُ اللهِ۔ اس حدیث کو شعیب ارناؤط نے صحیح کہا ہے(تخريج المسند:12792)۔ اس طرح ہماری کوشش یہ ہو کہ ابتداء بھی لاالہ الا اللہ سے کریں ، زندگی اسی کے مطابق گزاریں اور اسی پر انتہا ہو ،اللہ سے اس کی توفیق طلب کریں اور خوب دعا ئیں کریں ۔

    سوال(4):کیا ازواج مطہرات آل بیت میں داخل ہیں ؟
    جواب: مسلم شریف میں ایک روایت ہے جس سے شیعہ ،عوام کو یہ دھوکہ دیتے ہیں کہ ازواج مطہرات آل بیت میں سے نہیں ہیں ۔ وہ روایت اس طرح سے آئی ہے ۔فَقُلْنَا: مَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ؟ نِسَاؤُهُ؟ قَالَ: لَا(مسلم:2408)
    اس ٹکڑے کا ترجمہ کیا جاتا ہے "ہم نے کہا آل بیت کون لوگ ہیں، نبی ﷺ کی بیویاں ؟ تو انہوں نے کہا کہ نہیں ۔
    اس کا اصل ترجمہ اور مفہوم اس طرح ہے کہ ہم نے ان سے پوچھا:آپ کے اہل بیت کون ہیں؟(صرف) آپ کی ازواج؟ توانھوں نے کہا کہ (صرف آپ کی ازواج)نہیں۔ یعنی آپ ﷺ کی ازواج کے علاوہ اور دوسرے بھی آل بیت میں شامل ہیں چنانچہ صحیح مسلم میں ہی اس سے پہلے والی حدیث کے کے الفاظ ہیں۔"فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: وَمَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ؟ يَا زَيْدُ أَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ؟ قَالَ: نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ " یعنی اور حصین نے کہا کہ اے زید! آپ ﷺ کے اہل بیت کون سے ہیں، کیا آپ ﷺ کی ازواج مطہرات اہل بیت نہیں ہیں؟ سیدنا زید ؓ نے کہا کہ ازواج مطہرات بھی اہل بیت میں داخل ہیں۔
    اس کے علاوہ قرآن کی آیت اور دوسری احادیث سے بھی ازواج مطہرات کا آل بیت میں سے ہونا ثابت ہے۔

    سوال(5):ہمارے علاقہ میں مسلمان عورتوں کا جوتی پہننا معیوب سمجھا جاتا ہے تو کیا یہ بات صحیح ہے ؟
    جواب: ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓ سے کہا گیا:
    إنَّ امرأةً تلبسُ النعلَ ، فقالت : لعن رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليْهِ وسلَّمَ الرَّجُلةَ من النساءِ(صحيح أبي داود:4099)
    ترجمہ: (جو) عورت (مردوں کے لیے مخصوص) جوتا پہنتی ہے ،( اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟) تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مردوں کی طرح بننے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ۔
    اس حدیث سے ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ عورت جوتا پہن سکتی ہے ، دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ جو جوتا مردوں کے لئے خاص ہو اسے عورت نہیں پہن سکتی ہے، لہذا عورتوں کے لئے مخصوص طورپربنے جوتے پہننے میں عورتوں کے لئے کوئی عیب نہیں ہے ۔ ہاں ایک بات کا یہ بھی خیال رہے کہ بعض جوتےبڑے بھڑکیلے ہوتے ہیں اسے پہن کر اور کپڑوں سے باہرکرکے گھر سے نکلنا فتنے کا باعث ہے ۔ اس سے پرہیز کیا جائے ، چھپاکر پہننے یا شوہر کے سامنے اور گھر میں استعمال کرنے میں کوئی حر ج نہیں ہے۔

    سوال(6):دوسری ذات وبرادری میں شادی کرنا کیسا ہے اور کفو سے کیا مراد ہے؟
    جواب: اسلام نے شادی کا معیار دین ٹھہرایا ہےجیساکہ نبی ﷺ کافرمان ہے :
    تُنكَحُ المرأةُ لأربَعٍ : لمالِها ولحَسَبِها وجَمالِها ولدينها، فاظفَرْ بذاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَداكَ (صحيح البخاري:5090)
    ترجمہ: عورت سے چار خصلتوں کے پیش نظر نکاح کیا جاتا ہے : مال، نسب، خوبصورتی اور دینداری۔ تمہارے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں! تم دیندار عورت سے شادی کرکے کامیابی حاصل کرو۔
    اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ذات وبرادری کی بنیاد پرہونے والی شادی کی تردید فرمائی ہے اور اپنی امت کو یہ تعلیم دی ہے کہ دین ملنے کے بعد شادی میں کوئی تردد نہیں ہونا چاہئے یعنی دیندار عورتوں سے ہی شادی کرنا چاہئے ۔ شادی میں ذات وبرادری اور حسب ونسب کا کوئی دخل نہیں ہے۔ آپ ﷺنے امت کو اس بات کی نہ صرف تعلیم دی بلکہ اس کا عملی نمونہ بھی پیش کیا۔ اپنی بیٹی رقیہ اور ام کلثوم رضی اللہ عنہما کا نکاح یکے بعد دیگرےعثمان رضی اللہ عنہ سے کیا جو اموی خاندان سے تھے جبکہ آپ ﷺ ہاشمی خاندان سے۔
    دین ہی کفو اور برابری کا نام ہے کیونکہ شادی میں اسلام نے دین کو ہی معیار بنایا ہے، اسی لئے امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو"بَابُ الأَكْفَاءِ فِي الدِّينِ " یعنی (باب: کفائت میں دینداری کا لحاظ ہونا) کے تحت ذکر کیا ہے۔
    قبائل کا وجود آپس میں محض ایک دوسرے کے تعارف کے لئے ہے ورنہ سارے بنی آدم کی اولاد ہیں، اور سارے مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں ، کسی اونچی ذات کو نیچی ذات پر کوئی فخر نہیں ہے ، اگر اللہ کے نزدیک کوئی حیثیت والا ہے تو تقوی کی بنیاد پر۔ آج شادی میں رنگ ونسل، ذات وبرادری اور دنیاوی غرض وغایت کی وجہ سے امت مسلمہ پر تباہی آئی ہوئی ہے، اگر ہم نے شادی میں دین کومعیار بنالیا تو زمین سے سارے فتنے ختم ہوجائیں گے ۔
    نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    إذا خطبَ إليكم مَن ترضَونَ دينَه وخلقَه ، فزوِّجوهُ إلَّا تفعلوا تَكن فتنةٌ في الأرضِ وفسادٌ عريضٌ(صحيح الترمذي:1084)
    ترجمہ:اگر تمہارے ہاں کوئی ایسا آدمی نکاح کا پیغام بھیجے جس کے دین اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس کے ساتھ (اپنی ولیہ) کی شادی کر دو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو زمین میں بہت بڑا فتنہ اور فساد پھیلے گا۔

    سوال(7):ربیبہ کسے کہتے ہیں اور اس کے کیا احکام ہیں ؟
    جواب:ربیبہ کہتے ہیں گود میں پلنے والی وہ بچی جو بیوی کے پہلے شوہر سے پیدا ہوئی ہو۔ یہ ربیبہ خاوند کے محرمات میں شامل ہے جب خاوند بیوی سے جماع کرلیا ہو۔ اللہ کا فرمان ہے: وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ (النساء:23)
    ترجمہ: (حرام کی گئی تم پر) تمہاری وہ پرورش کردہ لڑکیاں جو تمہاری گود میں ہیں، تمہاری ان عورتوں سے جن سے تم دخول کرچکے ہو، ہاں اگر تم نے ان سے جماع نہ کیا ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ۔
    جماع کے بعد ربیبہ مرد(خاوند) پر حرام ہوجاتی ہے، اس لئے اس سے پردہ نہیں ہے ۔ مرد کی حقیقی اولاد میں سے نہیں ہونے کے سبب نفقہ مرد پر واجب نہیں ہے تاہم احسان وسلوک کا تقاضہ ہے کہ اچھی طرح اس کی پرورش کی جائے، امید ہے کہ بیٹیوں کی پرورش کا اجر ملے گا۔ خاوند کی ربیبہ سے اس کے اپنے بیٹے کا نکاح جائز ہے اس وجہ سے بلوغت کے بعد بیٹے اور ربیبہ کے درمیان پردہ کا حکم دیا جائے۔

    سوال (8): اگر کوئی عورت پست قد ہو تو کیا اونچی ہیل والی چپل پہن سکتی ہے بطور خاص شوہر کے سامنے تاکہ اسے خوش کیا جاسکے؟
    جواب: صحیح مسلم میں نبی اسرائیل کی عورت کا ایک واقعہ ہے جسے نبی ﷺ نے بیان فرمایا ہے :
    كانت امرأةٌ ، من بني إسرائيلَ ، قصيرةً تمشي مع امرأتَين طويلتَين . فاتَّخذت رِجلَين من خشبٍ(صحيح مسلم:2252)
    ترجمہ: بنی اسرا ئیل میں ایک پستہ قامت عورت دولمبے قد کی عورتوں کے ساتھ چلا کرتی تھی ۔اس نے لکڑی کی دو ٹانگیں (ایسے جوتے یا موزے جن کے تلووں والا حصہ بہت اونچا تھا) بنوائیں۔
    مقصد خود کو لوگوں سے چھپانا تھا کہ اسے پہچان نہ سکیں اور کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچا سکیں، اس حدیث کی بنیاد پر صحیح مقصد کے لئے ہیل والی اونچی جوتی یا چپل کا پہننا جائز ہے مگر آج کا زمانہ فتنے سے بھرا ہواہے اور ایسی ایمان والی بھی کہاں جو عفت کے لئے ہیل والی چپل پہن کر حجاب میں چلے سوائے اس کے جس پر اللہ کی رحمت ہو ۔ عموما فاحشہ عورتوں کی نقالی، شہرت ، تکبر اور زینت کے اظہار کی خاطر ایسی چیزیں استعمال کی جاتی ہیں اور نبی ﷺ نے شہرت کا لباس پہننے پہ سخت وعید سنائی ہے: مَن لبسَ ثوبَ شُهْرةٍ ألبسَهُ اللَّهُ يومَ القيامةِ ثَوبَ مَذلَّةٍ(صحيح ابن ماجه:2921)
    ترجمہ: جو شخص شہرت والا لباس پہنے گا ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ذلت کا لباس پہنائے گا۔
    جہاں فتنے کا خوف نہ ہو مثلا عورتوں کے درمیان یا شوہر کے پاس یا اپنے گھر میں تو پھر وہاں ہیل والی جوتی یا چپل پہننے میں حرج نہیں ہے، یاد رہے اس میں اطباء نے جسمانی نقصان بتلایا ہے اس وجہ سے اس سےسدا بچنا ہی اولی ہے۔

    سوال(9): مرتے وقت جس کی زبان سے کلمہ نکلے کیا اسے ہم جنتی کہہ سکتے ہیں ؟
    جواب: نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس کی زبان سے آخری کلمہ لاالہ الا اللہ نکلے بشرطیکہ دل کی سچائی کے ساتھ کہا ہووہ جنت میں جائے گا اور بھی دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس پہ خاتمہ ہوتا ہے اس کے مطابق بدلہ ملے گا۔ ان احادیث کے ہوتے ہوئے بھی ہم کسی کو خاص کرکےجنتی نہیں کہہ سکتے ہیں، جنتی ہونے کی امید جتائی جاسکتی ہے کیونکہ یہ حسن خاتمہ کی علامت ہے ۔ بہتر ہے کہ ہم کہیں فلاں کو خاتمہ بالخیر نصیب ہوا۔شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ اس حدیث" من كان آخر كلامه من الدنيا لا إله إلا الله دخل الجنة" (دنیا میں جس کی زبان سے آخری کلمہ لا الہ الا اللہ نکلے وہ جنت میں داخل ہوگا) کے تحت لکھتے ہیں کہ اگر ہمیں کسی آدمی کے متعلق معلوم ہو کہ دنیا میں اس کا آخری کلام لا الہ الا اللہ تھا تو ہم کہیں گے کہ جنتی میں سے ہونے کی امید کی جاسکتی ہے لیکن متعین طور پر یقین کے ساتھ اسے جنتی نہیں کہیں گے ۔ (فتاوى نور على الدرب>الشريط رقم:352)

    سوال(10): ایک شادی شدہ عورت نے پہلے شوہر سے طلاق لئے بغیر دوسری جگہ نکاح کرلیا ہے اس نکاح پر شرعا کیا حکم لگے گا؟
    جواب : جب کوئی عورت ایک مرد کے نکاح کے میں ہو اور اس کا شوہر زندہ بھی ہوتو اس کے لئے کسی دوسرے مرد سے شادی کرنا حرام ہے ۔ لہذا مذکورہ صورت میں عورت کا نکاح ثانی باطل ہےمردوعورت کا اس طرح اکٹھا ہونا حرام کاری شمار ہوگی ۔ عورت فوری طور پر اس مرد سے الگ ہوجائے،اس میں طلاق یا خلع کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ طلاق یا خلع نکاح شرعی میں ہوتا ہے اور یہاں تو اصلا نکاح ہوا ہی نہیں ہے ۔ حالیہ مرد سے الگ ہوکر اللہ سے توبہ بھی کرےاور شوہر اول کے پاس رہنا چاہتی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ اس سے طلاق لے لے یا خلع حاصل کرلے پھر عدت گزار کر کہیں دوسرےمرد سے ولی کی رضامندی کے ساتھ نکاح کرسکتی ہے ۔ یاد رہے بغیر سبب کے طلاق کا مطالبہ یا خلع کا حصول گناہ کا باعث ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    أيُّمَا امرأةٍ سألت زوجَها طلاقًا في غيرِ ما بأسٍ فحرامٌ عليها رائحةُ الجنةِ(صحيح أبي داود:2226)
    ترجمہ:جوعورت بھی بغیر کسی وجہ کے طلاق کا مطالبہ کرے تواس پر جنت کی خوشبو تک حرام ہے۔
    ہاں اگر بیوی اپنے شوہر میں دینداری کی کمی پائے، حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرنے والا پائے اوربلاوجہ ظلم وزیادتی کرے تو پہلے اصلاح کی کوشش کرے اور اصلاح کی صورت نظر آئے اور اس کے ساتھ زندگی گزارنا دشوار ہوجائے تو طلاق کا مطالبہ کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل(آٹھویں قسط)

    جواب ازشیخ مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف (مسرہ)

    سوال(1): بیوہ عورت جواپنے بچوں کی خاطردوسری شادی نہ کرے تو کیا وہ قیامت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہو گی ؟
    جواب : ایسی ایک حدیث ابوداؤد ، مسند احمد ،الادب المفرد، المعجم الکبیراور الجامع الصغیر میں موجود ہے ،ان الفاظ کے ساتھ ۔
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    أنا وامرأةٌ سفعاءُ الخدَّينِ كَهاتينِ يومَ القيامة وأومأ يزيدُ :بالوسطى والسَّبَّابةِ امرأةٌ آمت من زوجِها ذاتُ منصبٍ وجمالٍ حبست نفسَها علَى يتاماها حتَّى بانوا أو ماتوا.
    ترجمہ:میں اور بیوہ عورت جس کے چہرے کی رنگت زیب و زینت سے محرومی کے باعث بدل گئی ہو دونوں قیامت کے دن اس طرح ہوں گے(یزید نے کلمے کی اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا) عورت جو اپنے شوہر سے محروم ہو گئی ہو، منصب اور جمال والی ہو اور اپنے بچوں کی حفاظت و پرورش کی خاطر دوسری شادی نہ کرے یہاں تک کہ وہ بڑے ہو جائیں یا وفات پا جائیں۔
    اس حدیث کو شیخ البانی نے متعدد جگہ پر ضعیف کہا ہے ۔ (السلسلة الضعيفة:1222، ضعيف أبي داود:5149، ضعيف الترغيب:1511، نقد النصوص:13)
    یہاں یہ بتانا بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ بیوہ کا اپنے بچوں کی پرورش اور شادی نہ کرنے کے سلسلے میں اور بھی روایات آئی ہیں مگر کوئی بھی صحیح نہیں ہے ،
    ایک روایت یہ ہے :
    أنا أولُ من يفتح بابَ الجنةِ ؛ إلا أني تأتي امرأةٌ تبادرني، فأقول لها : ما لكِ، ومن أنتِ ؟ ! فتقول : أنا امرأةٌ قعدتُ على أيتامٍ لي .
    ترجمہ: میں سب سے پہلے جنت کو دروازہ کھولوں گا سوائے ایک عورت کے جو مجھ سے پہل کرے گی ، میں اس سے پوچھوں گا تم کون ہو؟ تو وہ کہے گی کہ میں وہ عورت ہوں جو بچوں کی وجہ سے بیٹھی رہی ۔
    اسے شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے ۔(السلسلة الضعيفة:5374)
    دوسری روایت میں عرش کا سایہ پانے کی فضیلت بیان ہوئی ہے:
    ثلاثة في ظل العرش يوم القيامة يوم لا ظل إلا ظله : واصل الرحم ، يزيد الله في رزقه ويمد في أجله ، وامرأة مات زوجها وترك عليها أيتاما صغارا ، فقالت : لا أتزوج ، أقيم على أيتامي حتى يموتوا أو يغنيهم الله الخ۔۔
    ترجمہ: تین طرح کے لوگ قیامت میں عرش کے سایہ تلے ہوں گے جب اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ صلہ رحمی کرنے والا ، اللہ اس کے رزق میں زیادتی کرتا ہے اور اس کی عمر میں درازی دیتا ہے ۔ اور وہ عورت جس کا شوہر وفات پاجائے اور چھوٹے یتیم بچے چھوڑ جائے تو عورت کہے کہ میں شادی نہیں کروں گی ، یتیم بچوں کے ساتھ رہوں گی یہاں تک کہ مرجائیں یا انہیں اللہ اپنے فضل سے غنی کردے ۔
    اس روایت کو شیخ البانی نے بہت ہی ضعیف کہا ہے ۔(ضعيف الجامع:2580)
    لہذا معلوم یہ ہوا کہ بیوہ کا بغیر شادی کے رکی رہنےیا بچوں کی وجہ سے شادی نہ کرنے کی فضیلت سے متعلق کوئی حدیث صحیح نہیں ہے البتہ ایسی عورت کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ مناسب رشتہ ملے تو شادی کرلیں، اس سے عزت نفس، پاکدامنی ، مالداری اور تعاون جیسے بڑے فوائد حاصل ہوں گے ۔ شوہر کی وفات پہ صبرکرنے سے صبر کا بدلہ اوربچوں کی کفالت کا ثواب اپنی جگہ ثابت ہے ،عنداللہ وہ اس کا مستحق ہو گی۔

    سوال(2): اگر والد مجبورا بیٹی کی شادی بے دین لڑکا سے کرے تو بیٹی کو کیا کرنا چاہئے اور اسی طرح اگر شادی کے بعد لڑکی کو معلوم ہوکہ لڑکا بے دین ہے سمجھنے سے بھی نہیں سمجھتا تو ایسی صورت میں کیا کرے جبکہ دوسری طرف دونوں سوالوں میں باپ کی عزت کا بھی سوال ہے ؟
    جواب: مسلم سماج کا یہ بڑا المیہ ہے کہ بہت سے باپ اپنی لڑکیوں کی شادی جبرا ایسے لڑکے سے کردیتے ہیں جوبے دین ہوتا ہے یاجسے لڑکی بے دینی کی وجہ سے ناپسند کرتی ہے ۔ایسے باپ اولاد کےحق میں ظالم ہیں انہیں اللہ کے یہاں حساب دینا ہوگا اور یہ حقوق العباد کا معاملہ ہے جن کا محاسبہ شدید ہےلہذا باپ کو اپنی اولاد کے حق میں اللہ سے ڈرنا چاہئے ۔ لڑکیوں کو چاہئے کہ شادی سے پہلے جب لڑکے کے بے دین ہونا کا علم ہو تو اس شادی سے انکار کرے اور اگر جبرا والد شادی کرادیتے ہیں تو اس شوہر کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرے ۔ اللہ سے ہدایت کی خوب دعا ئیں کرے ۔ معمولی دین واخلاق کی کمی ہو تو اس کے ساتھ نباہ کی کوشش کرے ، اس کی تکلیف پر صبر کرے اور جب تک وہ مسلمان کہلائے جانے کے لائق ہے اس کے ساتھ زندگی گزارسکتی ہے مگر ایسی غلطیاں (شرک وبدعت ) کرے جن سے اسلام سے باہر ہوجاتا ہے تو اس وقت علماء سے اپنی صورت حال کا ذکر کرکے اس کے ساتھ رہنا جائز ہے یا نہیں معلوم کرکے پھر اپنی زندگی کا فیصلہ کرے ۔

    سوال(3): ایک مسلمان آدمی پہلے شرک کیا کرتا ہے پھر سچی توبہ کرلیا یہاں پوچھنا یہ ہے کہ پہلے والا سارا عمل ضائع ہوگیا یا باقی رہے گا؟
    جواب : متعدد نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک سارے اعمال کو ضائع کردیتا ہے اور توبہ سارے گناہوں کو مٹا دیتى ہے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
    وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ(الشورى: 25)
    ترجمہ: وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور (ان کی) برائیوں کو معاف کرتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ اسے جانتا ہے ۔
    نبی ﷺ کا فرمان ہے :التائبُ من الذنبِ كمن لا ذنبَ لهُ(صحيح ابن ماجه:3446)
    ترجمہ: گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہو جاتا ہے کہ گویا اس نے سرے سے کوئی گناہ ہی نہیں کیا۔
    جب بندےنے سچی توبہ کرلی ہے تو اللہ سے حسن ظن رکھے اور اللہ بندوں کے گمان کے ساتھ ہوتا ہے ۔ اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اس نے شرک کرکے جو گناہ اکٹھا کئے تھے اللہ نے سب معاف فرمادیا ہے اور جب سارے گناہ معاف ہوگئے تو اسے گزشتہ احوال کے متعلق فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے ،ہاں آئندہ ہمیشہ شرک وبدعت سے بچنے کی کوشش وفکر کرے ۔

    سوال(4): جو بچہ مرا ہوا پیدا ہو اس کا نام رکھ کردفن کرنا چاہئے یا بغیر نام کے کفن دفن کردینا چاہئے ؟
    جواب : نبی ﷺ نے نومولود کا نام ساتویں دن رکھنے کا حکم دیاہے لہذا جو بچہ سات دن سے پہلے وفات پاجائے یا مردہ حالت میں پیدا ہو ایسی صورت میں نہ اس کا عقیقہ ہوگا اورنہ ہی اس کا نام رکھا جائے گا۔ غسل وکفن دے کر اور نماز جنازہ ادا کرکے دفن کردیا جائے گا ۔ جب بچے کا کسی سبب آپ خود اسقاط ہوجاتا ہے ایسے بچے اگر چار ماہ بعد گرجائیں تو ان کا بھی غسل وکفن کے ساتھ نماز جنازہ ہے لیکن جو چار ماہ سے قبل ہی گرجائیں تو انہیں بغیر غسل کے کپڑے میں لپیٹ کر بغیر جنازہ پڑھے دفن کردیا جائے ۔

    سوال(5): ایک عورت کا ایک بیٹاتھا جو اس کی زندگی میں ہی وفات پاگیا،اور دوبیٹیاں زندہ ہیں ،ایسی صورت میں وفات پافتہ بیٹے کی اولاد (ایک بیٹا ،تین بیٹی) یعنی پوتے پوتیاں دادی کی جائیداد میں حصہ دار ہوں گی ؟
    جواب : ہاں ایسی صورت میں بیٹیوں کا بھی حصہ ہے اور پوتے اور پوتیوں کا بھی حصہ ہے۔ بیٹی کو دوثلث ملے گا اور بقیہ میراث پوتے پوتی میں "مثل حظ الانثین کے تحت تقسیم ہوگی یعنی لڑکے کو دہرا اور لڑکی کو اکہرا۔

    سوال(6): ہندوستانی حکومت کی طرف سے کنیا دان کی ایک اسکیم چل رہی ہے کہ بارہ سال تک ہرماہ ایک ایک ہزار روپئے پیسہ جمع کرنا ہے پھر مدت مکمل ہونے پر شادی کے نام سے لڑکی کے اکاؤنٹ میں پانچ یا چھ لاکھ روپئے آجائیں گے تو ایسی اسکیم میں حصہ لینا جائز ہے ؟
    جواب : کنیا دان کی مذکورہ اسکیم انشورنس کا حصہ ہے اور تمام قسم کی تجارتی اسکیم ناجائز اور حرام ہیں ۔ آپ جب اس اسکیم میں حصہ لیں گے تو اس کی اسکیم یعنی گائڈ بک سے معلوم ہوگا کہ جب بچی کے باپ کی وفات ہوجائے یا اکسڈنٹ ہوجائے تو فوری طورپر معاوضہ ملتا ہے بلکہ باقاعدہ کاغذات میں ایل آئی سی کنیادان پالیسی بھی لکھا ہوگاگویا یہ بیمہ کی ہی قسم ہے اور یہ ناجائز ہے مسلمانوں کواس میں حصہ لینا جائز نہیں ہے ۔

    سوال(7): بیٹی کا عقیقہ ہے میں نے دو جانور خریدا ہے کیا ان دونوں کو ذبح کرتے وقت عقیقہ کی دعا کرنی ہے ؟
    جواب : لڑکی کی جانب سے ایک بکرا ذبح کرنا مسنون اور کافی ہے،دوسرا بکرا ذبح کرنا بطور فخر ہو تو آدمی گناہگار ہوگا اور عقیقہ میں دعوت کھلانے کے مقصد سے ہو تاکہ کھانے والوں کا صحیح سے انتظام ہوجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔دونوں جانورذبح کرتے وقت اللہ کا نام لے لینا یعنی بسم اللہ اکبر کہہ دینا کافی ہےیا یہ دعا پڑھیں :"بسم اللهِ والله أكبرُ ، اللهم لك وإليكَ ، هذه عقيقَةُ فلانٍ"۔

    سوال(8): دیت کی تقسیم کیسے ہوگی ؟
    جواب : نبی ﷺ کا فرمان ہے :إنَّ العقلَ ميراثٌ بينَ ورثةِ القتيلِ على قرابتِهم، فما فضلَ فللعصبةِ (صحيح أبي داود:4564)
    ترجمہ: دیت کا مال مقتول کے وارثین کے درمیان ان کی قرابت کے مطابق تقسیم ہو گا، اب اگر اس سے کچھ بچ رہے تو وہ عصبہ کا ہے۔
    یہاں عقل سے مراد دیت ہے۔یہ حدیث دلیل ہے کہ دیت بھی بقیہ ترکہ کی طرح ہی میراث کے اصول کے تحت تقسیم ہوگی یعنی پہلے میت کا قرض چکایا جائے گا اور اس نے کسی غیروارث کے لئے کچھ وصیت کی ہو تو اس کا نفاذ عمل میں لایا جائے پھر وارثین پر تقسیم کی جائے گی ۔

    سوال(9): کیا عورت اپنے اپنے گھروں میں اسپیکر سے آنے والی آواز کے تحت امام کی متابعت میں نماز ادا کرسکتی ہے یا کسی جگہ تمام عورتیں جمع ہوجائیں اورامام کی متابعت میں نماز ادا کریں تو درست ہے؟ ۔
    جواب : یہ مسئلہ اختلافی ہے ، بعض علماء مثلا شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ وغیرہ نے اس شرط کے ساتھ گھر میں امام کی متابعت میں نماز ادا کرنے کو درست کہا ہے جب مسجد سے لیکر گھر تک صفیں متصل ہوں ورنہ امام کی اقتداء درست نہیں ہے ۔ مردوں کو نبی ﷺ نے مسجد میں آکر نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے اور ازواج مطہرات کا گھر مسجد نبوی سے متصل تھا پھر بھی انہوں نے آپ ﷺ کی اقتداء میں اپنے گھروں میں نماز نہیں ادا کیں جس سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کوئی امام کی متابعت میں اپنے گھروں میں نماز نہیں پڑھ سکتا، نہ مرد اور نہ ہی عورت ۔ عورت کی نمازاپنے گھر میں افضل ہے وہ اپنے گھر میں خود سے نماز ادا کرے یاکسی جگہ چند عورتیں جمع ہوجاتی ہوں تو کوئی عورت جماعت سے نماز پڑھاسکتی ہے ۔

    سوال(10): کیا شوہر اپنی بیوی کی نانی کے لئے محرم ہے ؟
    جواب : سورہ نساء آیت نمبر تئیس میں محرمات کا ذکر ہے ،ان میں ساس بھی ہے اور ساس کے ہی تابع لڑکی کی نانی اور دادی بھی ہے لہذا شوہر اپنی بیوی کی نانی کے لئے محرم ہے۔

    سوال(11): شوہر بے دین ہے ، ایسی صورت میں میرے لئے اللہ سے دعا کرنا کہ مجھے دیندار شوہردے کیسا ہے؟
    جواب :ایک وقت میں عورت ایک ہی مرد کے ساتھ زندگی گزارسکتی ہے اس کے لئے بیک وقت دو مرد سے شادی کرنا حرام ہے ، اس بناپر جو دعا پوچھی جارہی ہے اس میں دوسرے مرد یا دوسری شادی کا ذکر ہے جبکہ موجودہ شوہر کے ہوتے ہوئے ایسی دعا کرنا صحیح نہیں ہے ۔ ہاں اس دعا سے مراد یہ ہو کہ اللہ اس کے شوہر کو نیک بنادے تو کوئی مسئلہ نہیں تاہم دعائیہ جملے بھی درست کرلئے جائیں کہ اے اللہ میرے شوہر کو دیندار وصالح بنادے ۔

    سوال(12): کسی کی ایک ماں اور دو باپ ہے پہلا باپ سے ایک لڑکی پیدا ہوئی اور دوسرا باپ سے لڑکا، اب سوال یہ ہے کہ کیا ان دونوں میں شادی ہو سکتی ہے؟
    جواب :لڑکا اور لڑکی دونوں ایک ماں سے ہیں ، یہ دونوں آپس میں سگے بھائی بہن ہیں اور سگے بھائی بہن کا آپس میں نکاح حرام ہے ۔

    سوال(13): کیا یہ بات صحیح ہے کہ سفید بالوں کو اکھیڑنے سے منع کیا گیا ہے اور عورت بھی اس میں شامل ہے ؟
    جواب : ہاں سفید بالوں کو اکھیڑنا منع ہے مردوں کے لئے بھی اورعورتوں کے لئے بھی ،نبی ﷺ کافرمان ہے :
    لا تنتِفوا الشَّيبَ ما من مسلِمٍ يشيبُ شيبةً في الإسلامِ إلَّا كانت لَهُ نورًا يومَ القيامةِ إلَّا كتبَ اللَّهُ لَهُ بِها حسنةً وحطَّ عنهُ بِها خطيئةً(صحيح أبي داود:4202)
    ترجمہ: سفید بال نہ اکھیڑو،اس لئے کہ جس مسلمان کا کوئی بال حالت اسلام میں سفید ہوا ہو تو وہ اس کے لئے قیامت کے دن نور ہو گا اور اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھے گا اور اس سے ایک گناہ مٹا دے گا۔
    لہذا کوئی مرد یا عورت اپنے سر کے بال نہ اکھیڑے بلکہ سفیدی ظاہر ہونے پر اسلام نے ہمیں کالے خضاب کے علاوہ دوسرے رنگ سے بدلنے کا حکم دیا ہے۔

    سوال(14):فاطمہ رضی اللہ عنہا رات میں دفن کی گئیں اور اس کی وجہ کیا تھی؟
    جواب : صحیح مسلم میں مذکور ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ان کے شوہر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رات میں دفن کیا تھا ۔
    فلما تُوُفِّيَتْ دفنَها زوجُها عليُّ بنُ أبي طالبٍ ليلًا(صحيح مسلم:1759)
    ترجمہ: جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے خاوند سیدنا علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے ان کو رات کو دفن کیا۔
    تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ فاطمہ نے شدت حیا کی وجہ سے اسماء بنت عمیس کو پردہ پوش چارپائی تیار کرنے کی وصیت کی تھی اور رات میں دفن کرنا بھی حیا کے باعث تھا تاکہ ان کی وصیت کے مطابق کوئی انہیں دیکھ نہ سکے جوکہ اس ٹکڑے سے واضح ہوتا ہے۔
    وجعلَتِ لها مثلَ هودجِ العروسِ فقالتْ أمرَتْني أنْ لا يدخلَ عليها أحدٌ وأَريْتُها هذا الذي صنعتُ وهيَ حيةٌ فأمرَتني أنْ أصنعَ ذلكَ عليها.
    ترجمہ: اور انہوں نے دلہن کی ڈولی کی طر(ایک پردہ پوش چادر چارپائی تیار) تیار کیں اور فرمایاکہ مجھے (فاطمہ) نے اس کا حکم دیا کہ کوئی اس کے قریب نہ آئے اور یہ جو چارپائی تیار کی ہوں اس کے بنانے کی وصیت مجھ سے انہوں نے اپنی زندگی میں کی تھیں ۔
    اس روایت کو جورقانی نے مشہور حسن کہا ہے ۔(الأباطيل والمناكير:2/81 )

    سوال(15): کیا فرشتے قرآن نہیں پڑھتے ؟
    جواب : فرشتے بھی قرآن کی تلاوت کرتے ہیں ۔ فرشتوں کے متعلق ذکر کرنا اور نماز پڑھنا وارد ہے جو قرآن کی تلاوت پر دلیل ہے ۔ جبریل علیہ السلام اللہ کی وحی قرآن لیکر آتے تو محمد ﷺپر پڑھتے اور آپ اسے حفظ کرتے ، اس کا بھی ذکر قرآن میں ہےبلکہ پہلی وحی اقرا کے سلسلے میں تو تفصیل وارد ہے اور رسول اللہ ﷺ کا جبریل کے ساتھ رمضان میں قرآن کا دورہ کرنا بھی مذکور ہے ۔ فرشتے قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اس بات کی قرآن سے چند دلائل دیکھیں :
    اللہ کا فرمان ہے :فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا(الصافات:3)
    ترجمہ: پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی ۔
    اس آیت کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ فرشتے قرآن کی تلاوت کرتے ہیں ۔
    اللہ کا فرمان ہے :فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ(القيامة:18)
    ترجمہ: جب ہم اسے پڑھ لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں ۔
    یہاں "قراناہ" سے مراد یہ ہے کہ جب جبریل علیہ السلام اللہ کی جانب سے قرات پوری کردیں تب اس قرات کی اتباع کریں یعنی اس کے احکام وشرائع کی پیروی کریں اور لوگوں کو بھی بتلائیں ۔
    اللہ کا فرمان ہے :عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى(النجم:5)
    ترجمہ: اسے پوری طاقت والے فرشتے نے سکھایا ہے ۔
    اللہ کا فرمان ہے :سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى(الأعلى:6)
    ترجمہ: ہم تجھے پڑھائیں گے پھر تو نہ بھولے گا۔
    یعنی اللہ فرشتے کے ذریعہ محمد ﷺ کو ایسا پڑھوائیں کہ زبان پر جاری کردیں گے پھر اسے کبھی نہ بھولیں گے ۔

    سوال(16): کوئی عورت ظہر کے وقت حائضہ ہوجائے اور اسی طرح مغرب کے وقت پاک ہو تو اس کی نماز کی قضا کا کیا حکم ہوگا؟
    جواب : عورت جس نماز کے وقت میں حیض سے ہوئی ہے پاک ہونے پر اس کی قضا دے گی مثلا ظہر کے وقت حیض آیا ہے تو جب پاک ہوگی ظہر کی قضا کرے گی اور جس نمازکے وقت حیض سے پاکی حاصل ہورہی ہے عورت اس وقت کی نماز ادا کرے گی ساتھ ساتھ وہ نماز بھی پڑھنی ہوگی جس کے ساتھ دوسری نماز جمع کی جاتی ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ اگر عصر کے وقت پاک ہوئی ہے تو ظہر بھی پڑھے گی ۔

    سوال(17): کافر کی غیبت کرنا کیسا ہے ؟
    جواب: ہمیں اپنے مسلمان بھائی کی غیبت سے منع کیا گیا ہے اور کافر کے کفر وشرک اور فسق وفجور کوبیان کرنا غیبت نہیں ہے تاکہ اس کے کفر وشرک اور فسق وفجورسے دوسروں کو بچایا جاسکے اور کافر کی ہدایت کے لئے راستہ ہموار کیا جائے البتہ ذمی کافر کی غیبت سے علماء نےمنع کیا ہے ۔

    سوال(18):کیا نظر لگنے والے کا علم نہ ہو تو نیک آدمی کے وضو کے پانی سے غسل دیا جا سکتا ہے ؟
    جواب : نظر بد اتارنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ جس کی نظر لگی ہو اسے کسی برتن میں وضوکراکر اور کمر تک کے حصے کو دھوکر اس پانی کو مریض کے سر پرپچھلی طرف سے انڈیل دیا جائے ۔جب سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو عامر بن ربیعہ کی نظر لگ گئی تو آپ ﷺ نے عامر کوغسل کرنے کا حکم دیا اور اس کے غسل کے پانی کوسہل کے جسم پر انڈیل دیا گیا جس سے وہ ٹھیک ہوگئے ۔ جس کی نظر لگی ہو اس کا علم نہ ہو تو کسی بزرگ کے وضو کے پانی سے مریض کو غسل نہیں دیا جائے گا بلکہ ایسی صورت میں رقیہ شرعیہ سے دم کیا جائے گا۔

    سوال(19):کیا عورتوں کو جمعہ کے دن اذان اور خطبہ ختم ہونے کے بعد نماز پڑھنی چاہئے ؟
    جواب : عورتوں پر نمازجمعہ فرض نہیں ہے لیکن مردوں کے ساتھ مسجد میں ادا کرنا چاہیں تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ جب عورت جمعہ کے دن اپنے گھر میں نماز پڑھے تو ظہر کی نماز ادا کرے گی اور نماز کا وقت ہوتے ہیں اول وقت میں نمازظہر ادا کرلے اسے اذان یا خطبہ ختم ہونے کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے تاہم عورت اگر اذان کا جواب دیتی ہے تو اس میں اجر ہے ۔

    سوال(20) فرحت ہاشمی صاحبہ بیان کررہی تھی کہ قیامت میں ہرمومن کا سایہ ہوگا جبکہ لوگوں میں مشہور تو سات قسم کے لوگوں کا سایہ ہے اس کی کیا حقیقت ہے ؟
    جواب : مجھے نہیں معلوم کہ یہ بات فرحت ہاشمی صاحبہ نے کہی ہے یا نہیں لیکن اگر کسی نے کہی ہے تو اس سے غلطی سرزد ہوئی ہے ۔آئیے دیکھتے ہیں اس بات کی حقیقت۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    يعرَقُ النَّاسُ يومَ القيامةِ حتَّى يذهبَ عرقُهم في الأرضِ سبعين ذراعًا ، ويُلجِمُهم حتَّى يبلُغَ آذانَهم(صحيح البخاري:6532)
    ترجمہ:قیامت کے دن لوگ پسینے میں شرابور ہو جائیں گے اور حالت یہ ہو جائے گی کہ تم میں سے ہر کسی کا پسینہ زمین پر ستر ہاتھ تک پھیل جائے گا اور منہ تک پہنچ کر کانوں کو چھونے لگے گا۔
    ایسی حالت میں سات قسم کے آدمیوں کو اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سایہ میں رکھے گا جس دن اس کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ ان سات قسم کے لوگوں میں ایک صدقہ کرنے والا بھی ہوگا۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں :ورجلٌ تصدَّقَ بصدقةٍ ، فأخفاها حتى لا تعلمَ شمالُهُ ما تُنْفِقْ يمينُهُ(صحيح البخاري:1423)
    ترجمہ:اوروہ انسان جو صدقہ کرے اور اسے اس درجہ چھپائے کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔
    یعنی صدقہ عرش الہی کے سایہ کا سبب ہے اسی بات کو دوسری احادیث میں اس طرح بھی بیان کیا گیا ہے ۔
    كُلُّ امرِئٍ في ظِلِّ صَدَقَتِه حتى يُفْصَلَ بينَ الناسِ ، أو قال حتى يُحْكمَ بينَ الناسِ و في رواية حتى يُقْضَى بين الناسِ.(صحيح ابن خزيمة:2431، قال البانی إسناده صحيح على شرط مسلم)
    ترجمہ:قیامت کے دن ہرمومن لوگوں کا فیصلہ ہونے تک اپنے صدقہ کے سایہ تلے ہوگا۔
    إنَّ الصَّدقةَ لتُطفيءُ عَن أهلِها حرَّ القبورِ ، وإنَّما يَستَظلُّ المؤمِنُ يومَ القيامةِ في ظلِّ صدقتِهِ(صحيح الترغيب:873)
    ترجمہ: بے شک صدقہ اپنے صاحب کو قبر کی گرمی سے بچائے گا اور بے شک مومن قیامت کے دن اپنے صدقہ کے سایہ میں ہوگا۔
    ان احادیث کا مطلب یہ نہیں کہ قیامت کے دن ہرمومن کا سایہ ہوگا بلکہ مطلب یہ ہے کہ صدقہ عرش الہی کے سایہ کا سبب ہے یعنی جو مومن صدقہ دے گا وہ صدقہ کی وجہ سے سایہ کا مستحق ہوگا اورصدقہ کرنے والا سات قسم کے لوگوں میں سے ایک ہے جسے عرش الہی کا سایہ نصیب ہوگا ۔
    سات قسم کے لوگوں کے علاوہ ایک اور حدیث ملتی ہے ، رسول اللہ کا فرمان ہے:من أنظرَ معسرًا ، أو وضع عنهُ ، أظلَّهُ اللهُ في ظلِّهِ (صحيح مسلم:3006)
    ترجمہ: جو شخص کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کو معاف کر دے اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سایہ میں رکھے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  10. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل (نویں قسط)

    جوابات ازشیخ مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹر ،شمالی طائف (مسرہ)

    سوال(1):تہجد کی نماز میں کون سی دعا پڑھی جائے گی؟
    جواب : تہجد کی نماز کے لئے نبی ﷺ سے کوئی خاص دعا وارد نہیں ہے ، یہ رات کی عموما طویل نماز ہے ، اس نماز میں رب سے جو چاہیں مانگیں ،جتنی چاہیں رات کے اندھیرے میں اپنے خالق ومالک کے سامنے آنسو بہائیں ۔ اللہ رات میں بندوں کو خوب نوازتا ہے بلکہ رات میں اپنے بندوں کو پکارتا ہے کہ ہے کوئی مانگنے والا؟ تہجد کی نماز کے لئےدعائے استفتاح کا ثبوت ملتا ہے ، وہ یہ ہے :
    «اللهم لك الحمد،‏‏‏‏ أنت نور السموات والأرض ومن فيهن،‏‏‏‏ ولك الحمد أنت قيم السموات والأرض ومن فيهن،‏‏‏‏ ولك الحمد،‏‏‏‏ أنت الحق ووعدك حق،‏‏‏‏ وقولك حق،‏‏‏‏ ولقاؤك حق،‏‏‏‏ والجنة حق،‏‏‏‏ والنار حق،‏‏‏‏ والساعة حق،‏‏‏‏ والنبيون حق،‏‏‏‏ ومحمد حق،‏‏‏‏ اللهم لك أسلمت وعليك توكلت وبك آمنت،‏‏‏‏ وإليك أنبت،‏‏‏‏ وبك خاصمت،‏‏‏‏ وإليك حاكمت،‏‏‏‏ فاغفر لي ما قدمت وما أخرت،‏‏‏‏ وما أسررت،‏‏‏‏ وما أعلنت،‏‏‏‏ أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت»
    ترجمہ:اے اللہ! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں تو آسمان و زمین اور ان میں موجود تمام چیزوں کا نور ہے، تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں تو آسمان اور زمین اور ان میں موجود تمام چیزوں کا قائم رکھنے والا ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیرا قول حق ہے، تجھ سے ملنا حق ہے، جنت حق ہے، دوزخ حق ہے، قیامت حق ہے، انبیاء حق ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حق ہیں۔ اے اللہ! تیرے سپرد کیا، تجھ پر بھروسہ کیا، تجھ پر ایمان لایا، تیری طرف رجوع کیا، دشمنوں کا معاملہ تیرے سپرد کیا، فیصلہ تیرے سپرد کیا، پس میری اگلی پچھلی خطائیں معاف کر۔ وہ بھی جو میں نے چھپ کر کی ہیں اور وہ بھی جو کھل کر کی ہیں تو ہی سب سے پہلے ہے اور تو ہی سب سے بعد میں ہے، صرف تو ہی معبود ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
    اس دعاکے متعلق بخاری میں مذکور ہے : حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:
    كان النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم إذا قام منَ الليلِ يتهَجَّدُ قال : اللهمَّ لك الحمدُ،،،،،(صحيح البخاري:1120)
    ترجمہ: نبی ﷺ جب رات کے وقت تہجد پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے:اللهم لك الحمدُ,,,,,
    صحیح بخاری میں دوسری جگہ یہ الفاظ ہیں :كان النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم يدعو من الليلِ : ( اللهم لك الحمدُ,,,,,(صحيح البخاري:7385)
    اس کا معنی بھی قریب قریب ہے کہ نبی ﷺ رات میں یہ دعا پڑھتے :اللهم لك الحمدُ,,,,,
    صحیح ابن خزیمہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی مذکور ہے :كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام للتهجد قال بعد ما يكبر : اللهم لك الحمد،،،(صحیح ابن خزیمۃ:1152)
    ترجمہ: رسول اللہ ﷺ جب تجہد کی نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر کے بعد کہتے:اللهم لك الحمد،،،
    اس پہ امام ابن خزیمہ نے باب باندھا ہے :((باب ذكر الدليل على أن النبي إنما كان يحمد بهذا التحميد ويدعو بهذا الدعاء لافتتاح صلاة الليل بعد التكبير لا قبل))
    ترجمہ: اس بات کے ذکر میں کہ نبی ﷺ تکبیر کے بعد ، نہ کہ اس سے پہلے اس حمد اوردعا کے ساتھ تہجد کی نماز کا افتتاح کرتے ۔
    اب بات واضح ہوگئی کہ نبی ﷺ تہجد کی نماز شروع کرتے تو دعائے استفتاح کے طور پر مذکورہ ثنا کے ذریعہ اللہ سے دعا کرتے ، اگر کوئی اس کے علاوہ بھی ثنا پڑھتاہے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔

    سوال(2):گھر میں جمع ہوکر عورتیں نماز جنازہ جماعت سے ادا کر سکتی ہیں ؟
    جواب : عورتیں بھی میت کا جنازہ پڑھ سکتی ہیں ۔ حضرت ابوسلمی بن عبدالرحمن روایت کرتے ہیں کہ جب سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ادخُلوا به المسجدِ حتى أصليَ عليه(صحيح مسلم:973)
    ترجمہ: سعد کا جنازہ مسجد میں لاؤ تاکہ میں بھی نماز جنازہ ادا کرسکوں ۔
    عورتوں کی افضل نماز تو گھر میں ہی ہے ، اس لحاظ سے عورتیں میت کے غسل اور کفن کے بعد جمع ہوکر جماعت سے میت کی نماز جنازہ گھر ہی میں پڑھ لے تو کوئی حرج نہیں اور وہ مردوں کے ساتھ مسجد میں ادا کرنا چاہے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے جیساکہ اوپر والی حدیث عائشہ گزری جس سے مسجد میں عورت کا نماز جنازہ پڑھنا ثابت ہوتا ہے۔
    اس بارے میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ کیا عورتوں کے لئے جائز ہے کہ گھر کی ساری عورتیں جمع ہوکر گھر ہی میں میت کی نماز جنازہ پڑھ لے؟
    توشیخ رحمہ اللہ نے جواب کہ کوئی حرج نہیں عورتیں نماز جنازہ مردوں کے ساتھ مسجد میں ادا کرے یا جنازہ والے گھر میں ادا کرلے کیونکہ عورتوں کو نماز جنازہ پڑھنے سے منع نہیں کیا گیا بلکہ قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ (مجموع فتاوى ابن عثيمين:17/157)

    سوال(3):عورت کے سجدہ کا طریقہ کیا ہے ؟
    جواب :عورت اور مرد کی نماز یعنی قیام ، رکوع اور سجود وغیرہ میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے مردوعورت دونوں کے متعلق حکم فرمایا کہ تم لوگ اسی طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہواور سجدہ کرنے کا جو طریقہ ہمیں رسول نے بتلایا ہے اس میں مردوعورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔ احناف کے یہاں عورتوں کے سجدہ میں بازو بند اور پیٹ کو رانوں سے لگایا جاتا ہے ۔ اس بات کی کوئی دلیل نہیں سوائے اقوال رجال کے ۔ سجدہ آٹھ اعضاء پر کئے جائیں ، ناک زمین سے سٹی ہو، بازو اپنے پہلوؤں سے الگ اور ہاتھ کندھے کے برابر زمین پر ہوحتی کہ سجدہ میں آپ کے بغل کی سفیدی ظاہر ہوتی، بازؤں کے درمیان سے ایک بکری گزرنے کی جگہ ہوتی ۔ سجدہ کی حالت میں کتے کی طرح بازو بچھانے سے منع کیا گیا ہے ۔ سجدہ کی یہی کیفیت مردوں کے لئے ہے اور یہی کیفیت عورتوں کے لئے ہے ۔ جو لوگ عورتوں کے لئے زیادہ پردہ کی بات کرتے ہوئے کتے کی طرح بازو بچھانے کا حکم دیتے ہیں وہ حدیث کی مخالفت کرتے ہیں اور وہ سن لیں کہ پردے کا جوحکم رسول اللہ ﷺ بتلاگئے وہی مومنہ کے لئے مناسب ہے ۔دوسری بات یہ ہے کہ عورتوں کا جو اسلامى لباس ہے اس میں بدن کا کوئی عضو نمایاں نہیں ہوگا خواہ نماز ہو یا غیرنماز ، اسی طرح تیسری بات یہ ہے کہ عورتوں کی افضل نماز اس کے گھر میں ہے جس میں سب سے زیادہ پردہ ہے اور مردوں کے ساتھ سب سے پچھلی صف ہے ۔ اسلام کی یہ تعلیمات عورتوں کے حق میں کافی وافی ہیں ۔

    سوال(4):بیوی وفات پاجائے اور شوہر نے مہر ادا نہ کیا ہو تو کیا کرے یا شوہر وفات پاجائے اس حال میں کہ اس نے بیوی کا مہر ادا نہیں کیا ہے تو مہر کی ادائیگی کیا صورت ہوگی ؟
    جواب: بیوی کی وفات ہوجائے اس حال میں کہ شوہر نے مہر ادا نہیں کیا تھا تو وہ وارثین کا حق ہے ،مرد سے مہر کا مطالبہ کرکے میت کے وارثین میں تقسیم کردیا جائے اور اگر شوہر وفات پاجائے اس حال میں کہ اس نے مہر ادا نہیں کیا تھا تو میت کے ترکہ میں سے بیوی اپنا مہر پہلے وصول کرلے پھر بقیہ ترکہ وارثین میں تقسیم ہوگا۔

    سوال(5):اگر کوئی عورت اکسڈنٹ میں وفات پاجائے تو اسے شہید کہا جائے گا؟
    جواب : اکسڈنٹ میں قتل ہونے والا ڈوب کر مرنے والے اور ملبے میں دب کر مرنے والے کی طرح ہے اور رسول اللہ ﷺ نے ڈوب کرمرنے والے اور ملبے میں دب کر مرنے والے کو شہید کہا ہے ، اس وجہ سے اکسڈنٹ میں قتل ہونے والے کو بھی بالیقین نہیں تو ان شاء اللہ کے ساتھ شہید کہہ سکتے ہیں ۔ شیخ ابن باز اور شیخ ابن عثیمین رحمہما اللہ نے اکسڈنٹ میں مرنے والے کو شہید کہا ہے۔

    سوال(6):اگر کسی نے یہ منت مانی کہ وہ جب بھی مکہ جائے گا اپنی ماں کے نام سے عمرہ کرے گا؟ یہ نذر ماننا صحیح ہے اور اگر یہ نذر صحیح ہے تو اس کے سامنے بڑی مشکل ہے کہ ایسی نذر ہمیشہ کیسے پوری کرے ؟
    جواب : نذر ماننے سے کوئی بھلائی نہیں ملتی پھر بھی کسی نے ایسی نذر مان لی جس میں معصیت نہیں ہے تو اس کا پورا کرنا واجب ہے ۔ سوال میں مذکور ماں کے نام سے مسلسل عمرہ کرنا صحیح نہیں ہے ، میت کی طرف سے ایک عمرہ کرنا کافی ہے ،زندہ شخص خود نیکیوں کا محتاج ہے وہ اپنے لئے باربار عمرہ کرے اور اپنی ماں طرف سے نذر کا ایک عمرہ کرکے آئندہ کثرت سے فقط استغفار کرے اور مشکل نذر مان لینے کی وجہ سے قسم کا کفارہ ادا کردے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :كفارةُ النذرِ كفارةُ اليمينِ(صحيح مسلم:1645)
    ترجمہ: نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔

    سوال(7):خلع والی کا نقفہ ہے کہ نہیں ؟
    جواب : خلع والی عورت کی عدت شوہر کے گھر گزارنا واجب نہیں تاہم چاہے تو گزارسکتی ہے اور خلع کی عدت میں شوہر کے ذمہ نفقہ نہیں ہے ۔ جب فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا خلع ہوا تو آپ نے ان سے فرمایا: لا نفَقةَ لَكِ إلَّا أن تَكوني حاملًا (صحيح أبي داود:2290)
    ترجمہ: تیرے لیے کوئی خرچہ نہیں الا یہ کہ تو حاملہ ہو ۔
    ا س حدیث سے معلوم ہوا کہ خلع والی عورت کے لئے سابقہ شوہر کے ذمہ نفقہ نہیں ہے لیکن اگر وہ حاملہ ہو تو پھر رہائش اور کھانے کا خرچہ شوہر کے ذمہ ہے ۔

    سوال(8):ایک مسلم لڑکی کافر لڑکے کے ساتھ شادی کرلیا اور وہ اپنے اسلام پر باقی ہے کیا اسے باپ کے میراث میں سے حصہ ملے گا؟
    جواب : مسلم لڑکی کافر کے ساتھ شادی کرکے زندگی گزار رہی ہے گویا وہ اس کے دین پر راضی ہے ورنہ وہ اس کے ساتھ حرام کاری نہیں کرتی اور جو کافر کے دین سے راضی ہو وہ کافر ہے ،اس کے لئے مسلمان کی وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہے ۔ نبی ﷺکا فرمان ہے :
    لا يرثُ المسلمُ الكافرَ ولا الكافرُ المسلمَ(صحيح البخاري:6764)
    ترجمہ: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا اور نہ کافر کسی مسلمان ہی کا وارث بنتا ہے۔

    سوال(9):ایمو پر میاں بیوی ویڈیو کال کرتے ہوئے ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھ سکتے ہیں جبکہ دونوں کئی مہینوں سے دور ہوں؟
    جواب : میاں بیوی کو ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھنا جائز ہے ، یہ اللہ کے فضل واحسان میں سے ہے تاہم ایمو پر ویڈیو کال کرتے ہوئے میاں بیوی کا ایک دوسرے کے سامنے برہنہ ہونا فتنہ وفساد، ضرراور فحاشیت کا سبب بن سکتا ہے ۔
    اولا: ایسا ممکن ہے کہ ایمو بنانے والے کے پاس نہ صرف ہماری باتیں رکارڈ ہوتی ہوں بلکہ ویڈیوز بھی رکارڈ ہوتی ہوں ایسی صورت میں یہ کام میاں بیوی کے لئے حرام ہوگا۔
    ثانیا: میاں بیوی جب ننگےہوکر ویڈیو کال کررہے ہوں تو ممکن ہے کسی کی نظرپڑجائے یا شہوانی آواز وکیفیت کا ادراک کرنے والا ہوخواہ گھر کے بچے ہی سہی ، اس صورت میں بھی شرعی قباحت ہے ۔
    ثالثا:جب میاں بیوی ایک دوسرے سے دور ہوں اور عریاں ہوکر باتیں کریں اور اپنی شہوت کو ابھاریں تو پھر یہ شہوت بدکاری کا سبب بن سکتی ہے ۔ پاس میں میاں بیوی ہوتے تو ایک دوسرے سے جنسی خواہش پوری کر لیتے مگر دور ہونے کی وجہ سے ممکن ہے غلط طریقے سے جنسی خواہش پوری کرنے کی کوشش کی جائے، یہ غلط طریقہ کوئی بھی ہوسکتا ہے فحش ویڈیودیکھنا، مشت زنی کرناحتی کہ زنامیں بھی وقوع کا اندیشہ ہوسکتا ہے ۔ یہ صورت بہت ہی قبیح ہے۔ لہذا میاں بیوی کو ویڈیوکال پہ بات کرتے ہوئےایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھنے سے پرہیز کرناچاہئے ۔

    سوال(10):کیا ہم جنات کو دیکھ سکتے ہیں اور حیوانات بھی جنات کو دیکھتے ہیں ؟
    جواب: جنات کی تخلیق آگ سے ہوئی ہے اس وجہ سے کوئی انسان اس کو اپنی اصلی خلقت پہ نہیں دیکھ سکتا ہے تاہم جب انسان یا حیوان وغیرہ کی صورت اختیار کرے تو دیکھا جاسکتا ہے جیساکہ بعض صحابہ نے بھی دیکھا ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو شیطان نے ہی آیۃ الکرسی کے بارے میں خبر دی ۔ جہاں تک حیوانات کے دیکھنے کا مسئلہ ہے تو اس سلسلے میں بعض احادیث میں کتے ، گدھے اور مرغ کا جنات کو دیکھنے سے متعلق ذکر ملتا ہے۔

    سوال(11):میرا ایک پڑوسی ہے اس نے بلی پال رکھا ہے اور اپنی بلی کا نام عائشہ رکھا ہے کیا یہ درست ہے ؟
    جواب : بلی ایک حیوان ہے اور عائشہ زوجہ رسول یعنی محترم انسان کا نام ہے ، اللہ نے انسانوں کو حیوانات پر فوقیت وفضیلت دی ہے اس لئے حیوانات کا نام نیک لوگوں کے ناموں پر رکھنا صحیح نہیں ہے تاہم حیوانات کا بھی مخصوص نام رکھا جاسکتا ہے جیسے رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کانام عضباء تھا۔ (صحیح بخاری:2872)

    سوال(12):بدزبان عورت کے شر و بدزبانی سے کیسے بچا جائے جبکہ چوبیس گھنٹے کا واسطہ ہو اور ایسی بدزبان عورت نصیحت و وعظ جذب کرنے سے بھی محروم ہو؟
    جواب : منکر کو مٹانے کا رسول اللہ ﷺ نے تین درجہ بتلایا ہے ، اس کے حساب سے پہلا درجہ تو یہ بنتا ہے کہ بدزبان عورت کو اس کی بدزبانی سے باز رکھنے کے لئے کاروائی کی جائے ۔ اگر کاروائی نہیں کرسکتے تو زبان سے حتی المقدور اس سے باز رکھنے کی نصیحت کی جائے اور نصیحت کے لئے جو بھی مناسب اقدام ہوسکتے ہیں کرنا چاہئے مثلا اسلامی محفل میں لے جانا، علماء کی تقریریں سنانا، کتابیں مہیا کرنا اور وعظ ونصیحت کرنا وغیرہ ۔ جب نصیحت بھی بے سود ہو اور بدزبانی سے باز نہ آئے تو آخری مرحلہ اس برے کام کو دل میں برا جاننا ہے۔ ساتھ ہی ایسی عورت کی بدکلامی پہ خاموشی اختیار کرنا ہے، اللہ کا فرمان ہے :وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا (الفرقان:63)
    ترجمہ: اور جب بے علم لوگ ان سے باتیں کرنے لگتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے۔
    یہاں سلام کہنے سے مراد ہے جہالت پہ خاموشی اختیار کرنا۔ اسی سورت میں آگے اللہ کا ارشاد ہے :
    إِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا (الفرقان:72)
    ترجمہ: اور جب کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہوتا ہے تو شرافت سے گزر جاتے ہیں ۔
    یہاں بھی شرافت سے گزر جانے کا مطلب ہے بدکلامی پہ خاموشی اختیار کرنا اور جو بدکلامی پہ خاموشی اختیار کرلے وہ فتنے سے محفوظ ہوجائے گا۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :مَن صَمت نَجا(صحيح الترمذي:2501)
    ترجمہ: جس نے خاموشی اختیار کی اس نے نجات پالی۔

    سوال(13):کیا بیوی اپنے شوہر کا نام لے سکتی ہے ؟
    جواب : بیوی اپنے شوہر کا نام لے سکتی ہے ، اولاد کی طرف نسبت کرکےکنیت کے ساتھ بھی پکار سکتی ہے یا شوہر کو محبوب کسی نام سے موسوم کرسکتی ہے ان تمام صورتوں میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ یہ شوہر پہ منحصر ہے کہ وه کیا پسند کرتا ہے،اپنے نام سے پکارا جانا یا کسی اور نام سے ؟ شوہر جو پسند کرے بیوی کو اسے اختیار کرنا چاہئے تاکہ شوہر کو بلاتے وقت اسے خوشی محسوس ہواور کسی قسم کی ناگواری کا احساس نہ ہو۔

    سوال(14):اگر تین بچے آپریشن سے ہوئے ہوں تو چوتھی بار حمل ہونے پر نس بندی کرانا جائز ہوگا؟
    جواب: نس بندی حالات پہ منحصر ہے ، اگر بھروسے مند ڈاکٹرز نس بندی کرانے کا مشورہ دیں تو شوہر کی رضامندی کے ساتھ ہلاکت سے بچنے کے لئےنس بندی کرانا جائز ہوگا۔ نس بندی کے کئی طریقے ہیں ان میں سے سہل طریقہ اپنایا جائے تاکہ آئندہ خطرات ٹل جائیں تو دوبارہ بچے کی پیدائش کا امکان ہواور اگر سرے سے رحم مادر ہی نکالنا پڑجائے تو ضرورت کے تحت یہ عمل بھی جائز ہے۔

    سوال(15): اپنے بچے کی نجاست صاف کرتے وقت عورت کا ہاتھ بچے کی شرمگاہ سے لگ جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا؟
    جواب : ایسی دلیل ملتی ہے کہ بغیر پردے کے شرمگاہ سے ہاتھ چھوجائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے ، نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    إذا أفضى أحدُكم بيدِه إلى فرجِه و ليس بينه و بينها حجابٌ و لا سِترٌ ، فقد وجب عليه الوضوءُ(صحيح الجامع:362)
    ترجمہ: تم میں کسی کا ہاتھ اس کی شرم گاہ کو لگے اور (ہاتھ اور شرم گاہ کے ) درمیان میں کوئی ستر و حجاب نہ ہو یعنی ہاتھ براہ راست شرم گاہ کو مس کرے تو اس پر وضو لازم ہوگیا۔
    جو اہل علم ناقض وضو کے لئے شہوت کی قید لگاتے ہیں یا وضو کو محض مستحب کہتے ہیں ان کا موقف اس حدیث کے خلاف ہے ۔ شہوت کی قید کسی حدیث میں نہیں ہے بلکہ محض ستروحجاب کا ذکر ہے اور نص میں وجوب کا لفظ موجود ہوتے ہوئے استحباب کا معنی اخذ کرنا حدیث کے خلاف ہے ۔ اس وجہ سے جو علماء یہ کہتے ہیں کہ چھوٹے بچے کی شرمگاہ کو براہ راست ہاتھ لگنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے وہ دلیل کے قریب ہے ۔ دائمی فتوی کمیٹی کا یہی جواب ہے کہ براہِ راست شرمگاہ کو ہاتھ لگنے سے وضو ٹوٹ جائے گا، چاہے کسی چھوٹے بچے کی شرمگاہ ہو یا بڑے کی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: (جس شخص نے اپنی شرمگاہ پر ہاتھ لگایا تو وہ وضو کرے)اور اپنی یا کسی کی شرمگاہ دونوں ایک ہی حکم رکھتی ہیں۔ (فتاوى اللجنة الدائمة :5/ 265)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  11. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل (دسویں قسط)

    جوابات ازشیخ مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹر،شمالی طائف(مسرہ)

    سوال(1):بچوں کو بہلانے کے لئے ہم اپنے گھروں میں گڑیا خرید کر رکھ سکتے ہیں؟
    جواب : اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ گھروں میں بلاضرورت جاندار کی تصویر رکھنا جائز نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے تصویر کشی پہ وعید سنائی ہے لیکن بچوں کے کھلونوں کی اجازت ہے۔صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ، وہ بیان کرتی ہیں :كنت ألعبُ بالبناتِ عند النبيِّ صلى الله عليه وسلم وكان لي صواحبُ يلعبْنَ معي، فكان رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم إذا دخلَ يتَقَمَّعْن منه فيُسَرِّبُهُن إليَّ فيلْعبْن معي.( صحیح البخاري:6130)
    ترجمہ:میں نبیﷺکی موجودگی میں گڑیوں سےکھیلاکرتی تھی۔ میری بہت سی سہلیاں تھیں جومیرےساتھ کھیلاکرتی تھیں جب رسول اللہﷺگھرداخل ہوتےتووہ چھپ جاتیں۔آپﷺانہیں میرےپاس بھیجتےپھروہ میرےساتھ کھیل میں مصروف ہوجاتیں۔
    ابوداؤد میں یہ بھی مذکور ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا کے پاس گھوڑا تھا جس کے دو پر بنے ہوئے تھے ۔(صحيح أبي داود:4932)
    ان احادیث سے بچے اور بچیوں کو گڑیوں سے کھیلنے کی اجازت معلوم ہوتی ہے مگر چند باتیں ملحوظ رہنی چاہئے ۔ گڑیوں کے کھلونے شوقیہ طوپر گاڑیوں اور گھروں کی زینت کے لئے نہ ہوں، ایسی گڑیوں اور مجسموں سے پرہیز کیا جائے جن میں ہوبہو جاندار کی شکل وصورت مثلا آنکھ ، کان ، ناک اور آواز ہواور ایسے ہی بندر،کتے ،خنزیروغیرہ کے مجسموں بھی سے پرہیز کیا جائے ۔ سب سے بہتر قدرتی مناظر اور غیرجاندار کھلونے مثلا گاڑیاں،آلات، کچن اورگھریلو سامان وغیرہ ہیں۔

    سوال(2):کیا مسافر جمعہ کی نماز کے ساتھ عصر کی نماز کو جمع کرسکتا ہے ؟
    جواب : مسافر کے لئے ظہر کے ساتھ عصر کی نماز جمع کرنے کی رخصت ہے لیکن اگر وہ مقیم کے ساتھ جمعہ کی نماز ادا کریں تو پھر عصر کی نماز جمع نہیں کرسکتے کیونکہ جمعہ کی نمازکے ساتھ عصر کی نماز جمع کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔

    سوال(3):کیا ہینگ کھانا حلال ہے؟
    جواب:ہینگ کو عربی میں حَلْتِيْت اور انگریزی میں Asafoetida کہتے ہیں ۔ یہ ایک درخت کا گوند ہے جس کا استعمال بطور دوا اور عذا ہوتا ہے یعنی اسے دوا کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں اور کھانے کی چیزوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
    چونکہ اشیاء میں اصل حلت ہے اس وجہ سے ہینگ کھانا ہمارے لئے جائز ہے ، اس کے ناجائز ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔ اس میں لہسن کی طرح بو ہوتی ہے اس وجہ سے لہسن پر قیاس کرتے ہوئے اسے کھاکر نماز کے لئے آنا مکروہ کہا جا سکتا ہے ۔

    سوال(4):کیا شوہر اپنی بیوی سے تنخواہ چھپا سکتا ہے تاکہ والدین اور دوسرے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرسکیں ؟
    جواب: شوہر کے لئے اپنی بیوی کو تنخواہ بتانا ضروری نہیں ہے اگر اسے مخفی رکھنے میں بھلائی ہو ، بیوی کو اپنی ضروریات کی تکمیل سے مطلب ہے۔ہاں اگربیوی پرتنخواہ ظاہر کرنے میں کوئی نقصان وفتنہ نہ ہو تو حسن معاشرت کے تئیں بتانے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ ایک طرح سے اچھی بات ہے۔

    سوال(5):غیرمسلم کو دم کرنا شرعی اعتبار سے کیسا ہے ؟
    جواب : بخاری ومسلم میں مذکور ہے کہ نبی ﷺ دوران سفراپنے اصحاب کے ساتھ ایک قبیلہ پر اترے ، وہاں کے ایک سردار کو سانپ نے ڈس لیا تو چند صحابہ نے بکریوں کے ایک گلے کی اجرت پہ جھاڑپھونک کےذریعہ علاج کردیا ، یہ قبیلہ والے کافر تھے اور آپ ﷺ نے صحابہ کو کافر کے لئے رقیہ کرنے سے منع نہیں کیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمان کافر کو دم کرسکتا ہے ۔ بیماری کے وقت نصیحت کرنا بھی مریض اور گھروالوں کو فائدہ پہنچاسکتا ہے ، مریض کی ہدایت کے لئے دعا بھی کی جاسکتی ہے ، اس پر اسلام پیش کرکے کلمہ کی تلقین بھی کی جاسکتی ہے ۔ ایک یہودی غلام نبی ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا جب وہ بیمار پڑگیا تو نبی ﷺ نے اس کی عیادت کی اور کلمہ پڑھنے کو کہا تو اس نے کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کرلیا (بخاری:1356)

    سوال(6):چالیس حدیث حفظ کرنے کی کیا فضیلت آئی ہے ؟
    جواب : چالیس احادیث یاد کرنے کے سلسلے میں احادیث میں بڑے فضائل بیان کئے گئے ہیں جبکہ اس سلسلے میں کوئی حدیث ثابت نہیں ہے یاتو موضوع ہے یا ضعیف ہے ۔ امام نووی رحمہ اللہ نے اپنی مشہور زمانہ کتاب الاربعین(تیتالیس جامع احادیث کا مجموعہ) میں ذکر فرمایا ہے اور ان ساری روایات کے متعلق فرمایا ہے کہ حفاظ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے اگرچہ یہ متعدد طرق سے مروی ہے ۔(مقدمہ الاربعین للنووی)

    سوال(7): عورتوں کا یوگا کرنا کیسا ہے؟
    جواب : یوگا خالص ہندوانہ تعلیم ہے ،ہندو کی مذہبی کتاب ویدوں میں اس کی تعلیم وترغیب دی گئی ہے ۔ اس وجہ سے ہندو سادھو سنت خود بھی یوگا کرتے ہیں اور اپنے پیروکاروں کو اس کی خاص تعلیم دیتے ہیں ۔ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ کسی بھی مسلمان کے لئے دوسری قوم کی مذہبی تعلیم کو اپنانا جائز نہیں ہے اور یوگا ہندو مذہب کا حصہ ہونے کے سبب مسلم مرد یا مسلم عورت کے لئے اسے انجام دینا جائز نہیں ہے ۔

    سوال(8): جب عورت کسی مسلم دوکاندار کے پاس جائے تو کیا اسے سلام کرسکتی ہے ؟
    جواب : سلام محبت وسلامتی کا پیغام ہے ، نبی ﷺ نےسلام پھیلانے اور ایک دوسرے کو سلام کرنے کا حکم دیا ہے ۔ ایک مرد ،دوسرے مرد کو اور ایک عورت ،دوسری عورت کو سلام کرے حتی کہ مرد اپنی محرمات (عورت)سے اور عورت اپنے محارم(مرد) سے سلام کرسکتے ہیں۔ رہامسئلہ اجنبی عورت کا دوکاندار مرد کو سلام کرنے کا تو یہ اس وقت جائز ہوگا جب فتنے کا اندیشہ نہ ہو جیسے بوڑھی عورت دوکاندارمرد کو سلام کرے یا عورتوں کی جماعت ہو اس وقت سلام کرے ۔جوان لڑکی یا خوبصورت عورت کامرد دوکاندار کوسلام کرنا جائز نہیں کیونکہ اس میں فتنہ کا اندیشہ ہے یعنی فتنے کا اندیشہ ہو تو عورت مرد کو سلام نہ کرے اور فتنے کا اندیشہ نہ ہو تو سلام کرسکتی ہے ۔

    سوال(9): کسی نے قضا روزہ رکھا ہو اور طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے روزہ توڑنے کی نوبت آجائے تو کیا کرے؟
    جواب : فرض روزوں کی قضا کے وقت طبیعت ناساز ہوجائے یا کوئی عذر لاحق ہوجائے تو روزہ توڑا جاسکتا ہے اور نفلی روزہ ہو تو بغیر عذر کے بھی توڑ بھی سکتے ہیں ۔

    سوال(10): کیا جنات بنی آدم کی عورتوں سے جماع کرتا ہے؟
    جواب : علماء کے درمیان یہ شدید اختلاف کا موضوع ہے ، بعض علماء نے کہا ہے کہ جنات نبی آدم کی عورتوں سے جماع کرتا ہے اور بعض نے کہا کہ اس سلسلے میں کوئی صریح اور صحیح دلیل نہ ہونے کی وجہ سے جماع کرنے والی بات مردود ہے اور ویسے بھی یہ غیبی امور میں سے ہے جس کے لئے صریح دلیل چاہئے ۔
    یہ بات صحیح ہے کہ جنات غافل انسانوں پرتسلط پالیتا ہے ، کھانے پینے میں شریک ہوجاتا ہے ، خون میں دوڑتا ہے ، بدن میں داخل ہوجاتا ہے ،طرح طرح سے تکلیف پہنچاتا ہے، عورتوں سے کھلواڑ کرتا ہے مگر شیطان کا بنی آدم کی عورتوں سے جماع کرنے پر کوئی صحیح اور صریح دلیل موجود نہیں ہے ۔
    قرآن کی آیت : لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلا جَانٌّ (الرحمن:56)
    ترجمہ: وہاں (شرمیلی) نیچی نگاہ والی حوریں ہیں جنہیں ان سے پہلے کسی جن وانس نے ہاتھ نہیں لگایا۔
    اللہ کا فرمان :وَشَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ وَعِدْهُمْ ۚ(الاسراء:64)
    ترجمہ: اور ان کے مال اور ان کے اولاد میں بھی شریک ہوجا اور انہیں (جھوٹے) وعدے دے لے۔
    یہ آیات صریح نہیں ہیں جبکہ غیبی امور میں صریح دلیل چاہئے ۔
    نبی کے اس قول کو شیخ البانی نے بہت منکر کہا ہے :لا تقومُ السَّاعةُ حتَّى تَكثُرَ فيكُم أولادُ الجنِّ مِن نسائِكُم( السلسلة الضعيفة:5776)
    ترجمہ: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تمہاری عورتوں سے جنات کی اولاد بکثرت نہ جائیں ۔
    اسی طرح مذکور ہے :
    المُؤَنَّثونَ أولادُ الجِنِّ. قيل لابنِ عبَّاسٍ: يا أبا الفضلِ، كيف ذلك؟ قال: نهى اللهُ ورسولُه أنْ يأْتِيَ الرَّجلُ امرأتَه وهي حائضٌ، فإذا أتاها سبَقَه الشَّيطانُ إليها، فحمَلَتْ منه، فأَتَت بالمُؤَنَّثِ.
    ترجمہ: عورتیں جنات کی اولاد ہیں ، ابن عباس سے پوچھا گیا کہ وہ کیسے ؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے حائضہ عورت کے پاس جانے سے منع کیا ہے لیکن جب کوئی اس حال میں آئے تو اس حائضہ پر شیطان سبقت حاصل کرلیتا ہے اور وہ حاملہ ہوجاتی ہے اور لڑکی جنتی ہے۔
    اسے ابن عدی نے غیرمحفوظ کہا ہے (الكامل في الضعفاء:9/58 )
    اور بھی بہت سارے اقوال سے استدلال کیا جاتا ہے ، ان میں مجاہد بن جبرالمکی کا قول بہت مشہور ہے :
    إذا جامعَ الرَّجلُ ولم يُسمِّ ؛ انطوى الجانُّ على إحليلِهِ ، فجامعَ معَهُ ، فذلكَ قولُه : لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ۔
    ترجمہ: جب کوئی مرد جماع کرے اور بسم اللہ نہ کہے تو جن اس کے پیشاب کی نالی سے چمٹ جاتا ہے اور اس کے ساتھ جماع کرتا ہے ، اس کی دلیل اللہ کا قول : (لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ)ہے۔
    اسے شیخ البانی نے منکر مقطوع کہا ہے۔(السلسلة الضعيفة:5777)
    اسی طرح جس حدیث میں بحالت نماز مقعد میں شیطانی احساس کی بات مذکور ہے وہ ثابت نہیں اور جس میں بغیر شیطان کے معقد میں حرکت(ہوا خارج ہونے) کا ذکر ہے وہ ثابت ہے ۔(صحيح أبي داود:177)
    رہ گئی بات بیت الخلا میں داخل ہونے اور جماع کے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کا مسئلہ تو یہ بھی اس بات کی صریح دلیل نہیں ہے کہ شیطان انسانی عورت سے جماع کرسکتا ہے ۔
    خلاصہ یہ ہے کہ اس بات کی کوئی صریح اور صحیح دلیل نہیں کہ شیطان بنی آدم کی عورت سے جماع کرتا ہے اور یہ بات بھی صحیح نہیں کہ شیطان انسان سے نکاح کرتا ہے اور اس سے اولاد ہوتی ہے ۔
    ساتھ ہی میں اپنی بہنوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ طہارت کا ہمیشہ خیال رکھیں، نمازوں پر پابندی کریں، صبح وشام ، نماز اور روزمرہ کے اذکار کا اہتمام کریں اور شیطان کے تسلط وغلبہ سے بچنے کے اسباب اپناتے رہیں ۔

    سوال(11): لیکوریا کیا ہے اور اس کے کیا مسائل ہیں ؟
    جواب : اعضائے تولید کی بیماری سے عورت کی شرمگاہ سے شعوری یا لاشعوری طور پر خارج ہونے والی رطوبت کو لیکوریا کہاجاتا ہے ۔
    جس عورت کو لیکوریا ہو اسے یہ مسئلہ جاننے کی ضرورت ہے کہ لیکوریا سے طہارت پر کیا اثر پڑتا ہے ؟
    اولا : لیکوریا کے سبب خارج ہونے والی رطوبت پاک ہے یعنی رطوبت کے سبب عورت کو اپنی شرمگاہ اور کپڑے دھونے کی ضرورت نہیں ہے ۔
    ثانیا: یہ رطوبت ناقض وضو ہے یعنی شرمگاہ سے رطوبت نکلنے پر وضو ٹوٹ جائے گا ۔
    ثالثا : بعض عورتوں کو معمولی رطوبت آتی ہوگی یہاں تک کہ ایک وضو سے وہ ایک نماز پڑھ لیتی ہے اور بعض عورتوں کو مسلسل رطوبت خارج ہوتی ہوگی ایسی صورت میں ایک نماز کے لئے وضو بنانے کے بعد اسی وضو سے ایک وقت کی فرض وسنن ادا کرسکتی ہیں ، وضو کے بعد یا دوران نماز خارج ہونے والی رطوبت سے نماز پر اثر نہیں پڑے گا کیونکہ وہ ایسی صورت میں مستحاضہ کی طرح معذور ہے ۔ گویا مسلسل خارج ہونے والی رطوبت کی صورت میں عورت کو ہرنماز کے وقت وضو بنانا ہے، ایک وضو سے ایک وقت کی مکمل نماز پڑھ سکتی ہے ۔

    سوال(12): ایک مرد کی دو ساس ہو تو کیاسوتیلی ساس کے لئےداماد محرم ہوگا؟
    جواب : سوتیلی ساس داماد کے لئے محرم ہے ، صرف اس کی حقیقی ساس ہی محرم ہے ۔ اس وجہ سے سوتیلی ساس اس مرد سے پردہ کرے گی ، خلوت سے بچے کی ، اس کے ساتھ سفر نہیں کرسکتی اور شوہر کے انتقال کے بعد چاہے تو اپنے سوتیلے داماد سے شادی کرسکتی ہے ۔

    سوال(13): کیا کوئی عورت مرد ڈاکٹر سے حجامہ کرواسکتی ہے ، اسی طرح اس کے برعکس؟
    جواب : شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے بطور علاج ومعالجہ مرد کو عورت کے سامنے اپنی شرمگاہ ننگا کرنے اور عورت کو مرد کے سامنے اپنی شرمگاہ ننگا کرنے کی اجازت ذکر کی ہے مگر دوشرطوں کے ساتھ ۔ پہلی شرط یہ ہے کہ فتنے کا خوف نہ ہو اور دوسری شرط یہ ہے کہ خلوت نہ ہو ۔ دیگر علماء نےبطور ضرورت ایک جنس کا دوسرے جنس کے سامنے ستر کھولنے کی اور بھی شرطیں ذکر کیں ہیں ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر عورت کو علاج کی ضرورت ہو اور کوئی ماہرلیڈی ڈاکٹر نہ ہو تو مرد سے علاج کرواسکتی ہے لیکن ساتھ میں محرم ہونا ضروری ہے تاکہ خلوت اور اس کے فتنے سے مامون ہوا جاسکے۔

    سوال(14): کیا کوئی چیز بھول جائے تو درود پڑھنے سے مل جاتی ہے ؟
    جواب : سخاوی نے درود پر مشتمل اپنی کتاب"القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع" میں بھولنے پر درود پڑھنے سے متعلق تین روایات ذکر کی ہے۔
    پہلی روایت : إذا نسيتم شيئًا فصلُّوا عليَّ تذكروه إنَّ شاء اللهُ تعالَى۔
    ترجمہ: جب تم کوئی چیز بھول جاؤ تو مجھ پر درود بھیجو ان شاء اﷲ وہ (بھولی ہوئی چیز) تمہیں یاد آجائے گی۔
    اس کی سند کو ضعیف کہا ہے ۔
    دوسری روایت : من أراد أن يحدث بحديث فنسيه فليصل علي فإن في صلاته علي خلفا من حديثه ، وعسى أن يذكره۔
    ترجمہ: جو کوئی حدیث بیان کرنا چاہے اور وہ بھول جائے تو وہ مجھ پر درود بھیجے کیونکہ مجھ پر درود پڑھنے کے بعد ممکن ہے یاد آجائے ۔
    اس کی سند کو بھی ضعیف کہا ہے ۔
    تیسری روایت: من خاف على نفسِه النِّسيانَ فليُكثِرِ الصَّلاةَ على النَّبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم۔
    ترجمہ: جس اپنے اوپر بھول کا خوف محسوس کرے وہ نبی ﷺ پر کثرت سے درود پڑھے ۔
    اس کی سند کو منقطع کہا ہے ۔
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ کوئی چیز بھولنے پر درود پڑھنا ثابت نہیں ہے اور نہ ہی شریعت میں ایسا کوئی مخصوص ذكر ہے جس کے پڑھنے سے فورا جادوئی طورپروہ چیز مل جاتی ہے بلکہ اللہ کا فرمان ہے : وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ(سورہ کہف:24)
    جب کوئی چیز بھول جاؤ تو اپنے رب کو یاد کرو یعنی کچھ بھولنے پر اپنے رب کی تسبیح وتحمید اور استغفار کرو اور اس سے مدد طلب کر و,وہی تمہاری مدد کرنے والا ہے۔

    سوال(15): اگر کوئی عورت وضو کرے اور میک اپ کرے تو کیا وضو باقی رہے گا اس سے نماز ادا کرسکتی ہے؟
    جواب : ہاں ، اس کا وضو باقی رہے گا ، اس وضو سے اپنی نماز ادا کرسکتی ہے ۔ یہ بھی یاد رہے کہ عورت کو مصنوعی زینت کی بجائے نماز کے لئے مکمل ستروحجاب کے ساتھ نیت کاحسن، دل کا جمال اور عبادت میں خشوع وخضوع اختیار کرنا چاہئے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  12. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    بنت حواکے مسائل اور ان کا شرعی حل (قسط نمبرگیارہ)

    جوابات ازشیخ مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف (مسرہ)

    سوال(1): ایک عورت کا خلع ہوا اور اسی دن حیض آیا تو اس کی عدت کب ختم ہوگی ؟
    جواب : سب سے پہلے تو ہمیں یہ جاننا ہے کہ حیض کی حالت میں خلع ہوگا کہ نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ حیض کی حالت میں بھی خلع واقع ہوجائے گا۔ اور خلع کی عدت میں علماء کے درمیان اختلاف ہے تاہم صحیح بات یہ ہے کہ خلع کی عدت ایک حیض ہے اور جس حیض میں خلع واقع ہوا ہے اس کا شمار نہیں ہوگا بلکہ اس حیض سے پاک ہوکر جب اگلا حیض آجائے تب عدت پوری ہوگی ۔ابن قدامہ نے المغنی میں لکھا ہے کہ حیض میں طلاق دی جائے تو اس کا شمار عدت میں نہیں ہوگا اس بات میں اہل علم کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے ۔

    سوال(2): کیا عورت جوڑا بناکر نماز پڑھ سکتی ہے؟
    جواب : صحیح مسلم(2128) میں جہنمی عورتوں کی ایک صفت بتلائی گئی ہے: رُؤُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ البُخْتِ المائِلَةِ یعنی ان کے سربختی اونٹ کی کوہان کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے ہوں گے ۔ محدثین نے اس کے کئی معانی بیان کئے ہیں ان میں ایک معنی امام نووی نے قاضی کی طرف منسوب کرکے یہ بھی بیان کیا ہے کہ بال اکٹھا کرکے درمیانی سر کے اوپر جمع کرلینا جو بختی اونٹ کی کوہاں کی طرح معلوم ہوتا ہے۔ اس طرح مسلمان عورت کے بالوں کا جوڑا بنانا جائز نہیں ہے ۔
    اگر کسی عورت نے لاعلمی میں اس حالت میں نماز پڑھ لی بشرطیکہ بال ڈھکے ہوئے تھے تو اس کی نماز صحیح ہے، دہرانے کی ضرورت نہیں ہے تاہم یہ عمل نہ نماز میں درست ہے اور نہ ہی نماز کے باہر لہذا ہمیشہ کے لئے اس عمل سے باز رہے ۔

    سوال(3): شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کا گھر سے نکلناکیسا ہے ؟
    جواب : اللہ نے عورتوں کو گھروں میں سکونت اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ، فرمان الہی ہے : وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ(الاحزاب:33) ترجمہ:اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو۔
    یہی وجہ ہے کہ احادیث میں عورتوں کے متعلق گھر سے نکلتے وقت اجازت طلب منقول ہے ۔ صحیحین میں مذکور ہے کہ جب عائشہ رضی اللہ عنہا والد کے گھر جانے کا ارادہ فرمائیں تو رسول اللہ ﷺ سے کہا: أتأذن لي أن آتي أبوي(صحیح البخاري:4141وصحیح مسلم:2770).
    ترجمہ: کیا آپ مجھے والدین کے گھر جانے کی اجازت دیتے ہیں ؟
    نبی ﷺ کا فرمان ہے:إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ باللَّيْلِ إلى المَسْجِدِ، فَأْذَنُوا لهنَّ.(صحيح البخاري:865)
    ترجمہ:اگر تمہاری بیویاں تم سے رات میں مسجد آنے کی اجازت مانگیں تو تم لوگ انہیں اس کی اجازت دے دیا کرو۔
    ان نصوص سے اور اس معنی کی دوسری دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نہیں جاسکتی ہے اور جب شوہر نے خصوصیت کے ساتھ باہر جانے سے منع کیا ہوایسے میں باہر نکلنا سخت قسم کی نافرمانی اور گناہ کا باعث ہے۔

    سوال(4) : نوجوان خاتون کا مرد معلم سے قرآن کی قرات سیکھنا کیسا ہے ؟
    مردوں کا عورتوں سے اور عورتوں کا مردوں سے دین سیکھنا جائز ہے ، یہ دونوں شکلیں عہد رسول میں پائی جاتی ہیں ۔ صحابہ کرام ازواج مطہرات سے مسائل پوچھا کرتے تھے اور صحابیات رسول اکرم ﷺ سے سوال کیا کرتی تھیں ۔ مسلم سماج میں کہیں کہیں جوان لڑکی امام اور مولوی صاحب کے سامنے بلاحجاب تعلیم حاصل کرتی ہے جہاں بسا اوقات خلوت بھی ہوتی ہے اور بسا اوقات اور بھی لڑکیاں ہوتی ہیں ۔ یہ بڑے فتنے کا باعث ہے ، اپنے سماج سے اس پرفتن اور ناجائزطریقہ تعلیم کوختم کریں۔ رہا مسئلہ پردے کے پیچھے سے بغیر اختلاط وخلوت کے اور شرعی حدود کی رعایت کرتے ہوئےمدرسہ یا کسی جگہ تعلیم دینے کا تو یہ صورت جائز ہے ،ایسی جگہ پہ لڑکیاں اور عورتیں مردوں سے تعلیم حاصل کرسکتی ہیں ۔

    سوال(5): گھروں میں چیوٹیاں تکلیف دیں تو انہیں مارنا چاہئے کہ نہیں ؟
    جواب : نبی ﷺ نے چیونٹی کو مارنے سے منع فرمایا ہے جیساکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
    إنَّ النبيَّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ نهى عن قتلِ أربعٍ من الدوابِّ ؛ النملةِ، والنحلةِ، والهدهدِ، والصّردِ(صحيح أبي داود:5267)
    ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار جانوروں کے قتل سے روکا ہے چیونٹی، شہد کی مکھی، ہد ہد، لٹورا چڑیا۔
    اس حدیث کی شرح میں عون المعبود میں مذکور ہے کہ جو چیونٹی ضرر پہنچانے والی ہو اسے مار سکتے ہیں ۔ یہاں پر بڑے پاؤں والی سلیمانی چیونٹی مراد ہے کیونکہ وہ کم نقصان پہنچانے والی ہے لیکن چھوٹی چیونٹی زیادہ ضرر رساں ہوتی ہے اسے مار سکتے ہیں۔ امام مالک نے کہا کہ اگر چیونٹی ضرر رساں ہو اور ضرر دور کرنے کے لئے قتل کے علاوہ کوئی راستہ نہ ہو تو مار سکتے ہیں ۔ خلاصہ یہ ہوا کہ گھروں میں موجود چھوٹی چیونیاں جو ضرر پہنچاتی ہوں انہیں قتل کرسکتے ہیں ۔

    سوال(6) : باپ کا اپنے بیٹے کی سالی سے نکاح کرنے کا حکم کیا ہے ؟
    جواب : باپ کا اپنے بیٹے کی سالی اور اسی طرح بیٹے کی ساس سے نکاح کرنا جائز ہے کیونکہ وہ محرمات میں سے نہیں ہیں ۔

    سوال(7): گھروں میں کام کرتے وقت ٹیپ وغیرہ سے قرآن کی تلاوت لگاسکتے ہیں تاکہ تلاوت سے بھی فائدہ اٹھائیں اور کام بھی کرتے رہیں ؟
    جواب : سورہ اعراف میں حکم دیا گیا ہے کہ جب قرآن کی تلاوت ہو تو دھیان سے سنو اورخاموشی اختیار کرو، یہ حکم اللہ نے اس وقت دیا جب کفار تلاوت کے وقت شور مچایا کرتے تھے جیساکہ فصلت میں کفار کا حال مذکور ہے وہ کہتے تھے اس قرآن کو نہ سنواور اس کے پڑھے جانے کے وقت شور وغل مچایاکرو۔
    قرآن کی تلاوت کے آداب میں سے ہے کہ اسے غور وفکرسے سنا جائے اور عورتیں اپنے گھروں اور مطبخ میں کام کرتے وقت خاموشی سے تلاوت بھی سننا چاہیں تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن اس جگہ شورشرابہ ہو تو تلاوت نہ لگائی جائے کیونکہ ایسے میں قرآن کی اہانت ہوتی ہے ۔ تلاوت سے اصل مقصود ہے خاموشی سے اس کے معانی پہ غوروفکر کیا جائے تاہم جو عربی نہ سمجھے اس کے لئے بغیر غوروفکر کے بھی دھیان سے اور خاموشی کے ساتھ قرآن سننا باعث اجر ہے ۔

    سوال(8): جنبی عورت کا وضو کرکےمسجد یا اس کے صحن میں بیٹھنا کیسا ہے ؟
    جواب : اللہ کےفرمان: "وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ(النساء:43) کا ایک مطلب اہل علم نے یہ لیا ہے کہ جنابت کی حالت میں مسجد کے اندر مت بیٹھو ،ہاں مسجد سے گزرنے کی ضرورت ہو تو گزر سکتے ہیں ۔
    لہذا اس بات میں اختلاف نہیں ہے کہ ضرورت کے وقت جنبی مسجد سے گزر سکتا ہے یا مسجد میں مختصر وقت کے لئے داخل ہوسکتا ہے تاہم دیر تک مسجد میں ٹھہر سکتا ہے کہ نہیں ، اس میں اختلاف ہے ۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ وضو کرنے کے بعد ناپاکی کم ہوجاتی ہے اس وجہ سے مسجد میں جنبی وضو کے بعد ٹھہر سکتا ہے ۔ دلیل میں عطاء کا یہ قول پیش کیا جاتا ہے :
    رأيتُ رجالًا من أصحاب رسول الله صلَّى اللهُ عليه وسلَّم يجلسونَ في المسجدِ وهم مُجنِبونَ إذا توضَّؤوا وضوءَ الصَّلاةِ۔
    ترجمہ: میں نے اصحاب رسول کو نماز کی طرح وضو کرکے مسجد میں بیٹھتے دیکھا اس حال میں کہ وہ جنبی تھے ۔
    اس کی سند کو شمس الحق عظیم آبادی نے صحیح کہا ہے ۔(غاية المقصود:2/291)ابن کثیر نے مسلم کی شرط پہ کہا ہے ۔
    شیخ صالح فوزان نے الملخص الفقہی میں کہا کہ جس کو حدث اکبر لاحق ہو وہ وضو کرلے تو اس کے لئے مسجد میں ٹھہرنا جائز ہوگیا انہوں نے دلیل کے طور پر مذکورہ قول پیش کیا ہے ۔
    جہاں تک نبی ﷺ کا یہ فرمان کہ میں حائضہ اور جنبی کے لئے مسجد کو حلال نہیں سمجھتا ، اسے شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے ۔

    سوال(9): حیض سے پاک ہوکر غسل کرنے سے پہلے جماع کرنے کا حکم کیا ہے ؟
    جواب : سورہ بقرہ کی آیت نمبر دو سو بائیس میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ حیض کی حالت میں عورتوں سے الگ رہو اور جب وہ پاک ہوجائیں تب ان کے پاس جاؤ۔ اہل علم نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے کہ حیض سے پاک ہونے پر جماع کرنا جائز ہے یا غسل جنابت کے بعد ہی جماع کرسکتے ہیں ۔ راحج معلوم ہوتا ہے کہ جب عورت حیض سے پاک ہوجائے اور غسل جنابت کرلے تب جماع کرے ۔ اس بات کو علامہ ابن کثیر نے مذکورہ آیت کی تفسیر میں علماء کا متفقہ مسئلہ کہاہے۔

    سوال(10): پیار ومحبت کے طور پر میاں بیوی ایک دوسرے کے سامنے گانا گا سکتے ہیں ؟
    جواب : مجرد گانا منع نہیں بلکہ لغو، جھوٹ ،فحش اور بےہودہ گوئی منع ہے یا ایسا گانا منع ہے جو آلات موسیقی یا رقص پہ گایا جایا۔مجرد صحیح کلام جو لحن سے پڑھا جائے اس کی ممانعت نہیں ہے اس لئے میاں بیوی صحیح باتیں ایک دوسرے کے سامنے گاسکتے ہیں ۔

    سوال (11):کیا عورت جماعت سے نماز پڑھے تو وہی ثواب ملے گا جو مردوں کے لئے ہے؟
    جواب : عورتوں کی نماز گھر میں افضل ہے اگرچہ وہ اکیلے پڑھتی ہو اور جماعت سے نمازپڑھنے کا ستائیس گنا ثواب یہ مردوں کے ساتھ ہی خاص ہے کیونکہ وہ جماعت سے نماز پڑھنے کا حکم دئے گئے جبکہ عورتوں کو جماعت سے نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے ۔ عورتوں کا جماعت سے نماز پڑھنا محض جواز کی حیثیت رکھتا ہے نہ کہ وجوب اور افضلیت کا۔

    سوال(12):خلع کے بعد میاں بیوی پھر سے لوٹنا چاہیں تو رجوع کا کیا طریقہ ہوگا؟
    جواب : خلع کے بعد مرد کو طلاق کی طرح رجوع کا حق نہیں ہے کیونکہ خلع طلاق نہیں ہے بلکہ یہ فسح نکاح ہے جس میں رجعت نہیں ہے ۔ ہاں بیوی کی رضامندی کے ساتھ شوہر عدت کے دوران یا عدت کے بعد بھی نئے نکاح اور مہر جدیدکے ساتھ اکٹھا ہوسکتا ہے ۔

    سوال(13):نفاس کی عدت میں اگر شوہر نے بیوی سے جماع کرلیا تو کیا حکم ہے ؟
    جواب : حیض اور نفاس میں جماع کا حکم یہ ہے کہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے نیز اللہ سے سچی توبہ بھی کرے ۔

    سوال(14):میاں بیوی الگ رہتے ہوں وہ اگر اپنی اپنی نیکیاں ایک دوسرے سے بیان کریں تو کیا ریاکاری میں شمار ہوگی ؟
    جواب : اطلاع کی غرض سے میاں بیوی ایک دوسرے سے نیکی کا کام ذکر کریں تو اس میں مضائقہ نہیں ہے مثلا بیوی کہے کہ ابھی نماز پڑھ رہی ہو یا تلاوت کررہی ہو، آج روزے سے ہوں اور شوہر کہے کہ میں نے زکوہ کا مال محتاجوں میں تقسیم کردیا ۔
    اگر ایک دوسرے سے نیکی بیان کرنے کا مقصد تعریف حاصل کرنا ہے تو اس سے بچنا چاہئے ۔ نہ جانے کس بہانے آپ کی نیت میں فتور پیدا ہوجائے اور عبادت ریاکاری میں تبدیل ہوجائے ۔ ویسے بھی شیطان انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے وہ انسانی دلوں میں وسوسے اور بہکاوے ڈالتا رہتا ہے ۔ ہم شیطان کو اپنے اوپر غلبہ پانے کا موقع نہ دیں ۔

    سوال(15):عورت کبھی کبھار گھر میں اکیلی ہوتی ہے خصوصا جب شوہر باہر ہو تو کیا یہ منع ہے کیونکہ میں نے سنا ہے اکیلے نہیں رہنا چاہئے ؟
    جواب: بستی میں آپ اپنے گھر میں اکیلے رہتے ہیں تو یہ معیوب نہیں۔ ہاں معیوب یہ ہے کہ کوئی لوگوں سے مل جل کر نہ رہے یعنی الگ تھلگ رہیں، کسی سے کوئی مطلب یا تعلق نہ ہو ۔نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    المؤمنُ الَّذي يخالطُ النَّاسَ ويصبرُ على أذاهم أعظمُ أجرًا منَ المؤمنِ الَّذي لاَ يخالطُ النَّاسَ ولاَ يصبرُ على أذاهم(صحيح ابن ماجه:3273)
    ترجمہ: وہ مومن جو لوگوں سے مل جل کر رہتا ہے، اور ان کی ایذاء پر صبر کرتا ہے، تو اس کا ثواب اس مومن سے زیادہ ہے جو لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے، اور ان کی ایذاء رسانی پر صبر نہیں کرتا ہے۔

    سوال(16):کوئی گھر میں سویا ہوا ہو اس کے پاس نماز پڑھنا کیسا ہے؟
    جواب : اصل میں لوگوں میں غلط فہمی کا سبب یہ ہے کہ میت کو سامنے رکھ کرجنازہ کی نماز پڑھی جاتی ہے اس وجہ سے سوئے ہوئے آدمی کے پاس اس طرح نماز نہیں پڑھی جاسکتی۔ یہ خیال غلط ہے کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
    كانَ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ يُصَلِّي وأَنَا رَاقِدَةٌ مُعْتَرِضَةً علَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا أرَادَ أنْ يُوتِرَ أيْقَظَنِي، فأوْتَرْتُ.(صحيح البخاري:997)
    ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (تہجد کی) نماز پڑھتے رہتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر عرض میں لیٹی رہتی۔ جب وتر پڑھنے لگتے تو مجھے بھی جگا دیتے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی۔
    لہذا گھر میں کوئی سویا ہو تو اس کے پاس نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

    سوال(17):کیا خالہ ماں کے برابر اور چچا باپ کی طرح ہے ؟
    ہاں خالہ ماں کے درجہ میں ہے ، نبی ﷺ فرماتے ہیں :
    الخَالَةُ بمَنْزِلَةِ الأُمِّ(صحيح البخاري:2699)
    ترجمہ: خالہ ماں کے درجے میں ہے۔
    اور چچا کے متعلق وارد ہے:العمُّ والِدٌ۔(صحيح الجامع:4142)
    ترجمہ: چچا والد کے درجہ میں ہے ۔

    سوال(18):گھر بدلنے کے لئے کیا کوئی دن افضل ہے ؟
    جواب : گھر بدلنے کا نہ کوئی خاص دن ہے ، نہ ہی کوئی خاص طریقہ ہے اور نہ ہی کوئی دعا ہے ۔آپ کے لئے جب مناسب ہو اور جس طریقے سے آسانی ہو گھر بدل سکتے ہیں ۔

    سوال(19):کیا بیوی کی وفات پر شوہر کے لئے بھی سوگ منانا ہے جیسے شوہر کی وفات پہ بیوی مناتی ہے ؟
    جواب : سوگ منانا عورتوں کے ساتھ خاص ہے ،مردوں پر کوئی سوگ نہیں ہے ۔

    سوال(20):کیا آج کل کے فتنے کے زمانے میں جوان سسر سے پردہ کرناچاہئے ؟
    جواب : سسر سے پردہ نہیں ہے کیونکہ وہ محرم ہے لیکن اگر بہو کوپتہ چلے کہ اس کا سسر بدکردار ہے تو اس سے خود کو محفوظ رکھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  13. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل (بارہویں قسط)
    جواب ازشیخ مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹرشمالی طائف(مسرہ)

    سوال(۱):کیا شہید کی بیوی پر عدت ہے؟
    جواب : اللہ تعالی کا فرمان ہے : وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ۖ(البقرة:234)
    ترجمہ: تم میں سے جو فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن عدت میں رکھیں ۔
    اللہ کے اس فرمان کے مطابق ہر عورت جس کا شوہر وفات پاجائے یاقتل و شہید کردیاجائے چارماہ دس د ن عدت گزارے گی سوائے حاملہ عورت کے ۔ حمل والی عورت کی عدت وضع حمل ہے یعنی جب بچے کی پیدائش ہوگی اس وقت عدت مکمل ہوگی ۔
    سنن اربعہ میں زینب بنت کعب بن عجرہ کا واقعہ ہے جن کے شوہر ابوسعید خدری ؓ شہید (غلام نے قتل کیا)ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چار ماہ دس دن عدت گزارنے کا حکم دیا ۔(صحيح أبي داود:۲۳۰۰، صحيح الترمذي:۱۲۰۴، صحيح النسائي:۳۵۳۲، صحیح سن ابن ماجہ: ۲۰۳۱)

    سوال(۲):بلاضرورت خلع طلب کرنے والی عورت کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : نکاح مردوعورت کے لئے سکون زندگی ہے جس کی بنیاد پاکیزہ اصولوں پر قائم ہے ۔ اس رشتے کو بلاسبب توڑنے والا مرد یا توڑنے والی عورت اللہ کے یہاں گنہگار ٹھہریں گے ۔ عورت کے لئےبڑی سخت وعید آئی ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
    أيُّمَا امرأةٍ سألت زوجَها طلاقًا في غيرِ ما بأسٍ فحرامٌ عليها رائحةُ الجنةِ(صحيح أبي داود:2226)
    ترجمہ: جس عورت نے اپنے شوہر سے بغیر کسی ایسی تکلیف کے جو اسے طلاق لینے پر مجبور کرے طلاق کا مطالبہ کیا تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے ۔
    یہ طلاق کی وعید ہے جبکہ بلاسبب خلع طلب کرنا شمار کی علامت ہے ۔ ارشاد نبوی ہے:إِنَّ المختلِعاتِ والمنتَزِعاتِ ، هُنَّ : المنافِقاتُ (صحيح الجامع:1938)
    ترجمہ: {بلا ضرورت } اپنے شوہروں سے چھٹکارا لینے اور خلع کرانے والی عورتیں ہی منافق ہیں ۔
    ہاں ، اگر عورت شوہر میں دینی ، اخلاقی، معاشرتی اور مردانہ خرابی پائے تو خلع طلب کرسکتی ہے اس صورت میں کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

    سوال(۳):عورت سر کا مسح کیسے کرے جبکہ گھنے بال ہونے کی وجہ سے پیچھے سے واپس ہاتھ لانے سے بال بکھرنے کا ڈر ہے اور سر بھی ننگا ہوگا؟
    جواب : عورت ومرد کے مسح میں کوئی فرق نہیں ہے ، اللہ تعالی کا فرمان ہے :"وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ" یعنی اپنے سروں کا مسح کرو ۔ یہ فرمان مردوعورت دونوں کو شامل ہے ۔ نبی نے ہمیں مسح کا طریقہ یہ بتلایا کہ تر ہاتھوں کو سر کے اگلے حصے پر پھیرتے ہوئے گدی تک لے جائیں اور پھر واپس آگے کی طرف لے آئیں اور شہادت کی انگلی سے کان کا اندرونی حصہ اور انگوٹھے سے بیرونی حصہ مسح کریں ۔
    عورت کو اپنا بال ننگا کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی چوٹی ہو تو کھولنے کی ضرورت ہے ۔ دوپٹے کے اندر سے بالوں پر ہاتھ پھیرلیں اور اجنبی مرد آس پاس نہ ہو تو سر ننگا ہونے اور بال بکھرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

    سوال(۴):بیوی نے پہلے مہر معاف کردیا پھر مہر کا مطالبہ کررہی ہے ایسا کرنا کیسا ہے ؟
    جواب: اگر عورت کو مہر معاف کرنے کے لئے سسرال والے یا شوہر نے دھمکی یا طلاق کا خوف دلاکر مجبور کیا ہو اور مجبور ہوکربیوی نے مہر معاف کردیا ہو ایسی صورت میں یہ معاف کرنا لغو ہوگا اور شوہر کے ذمہ مہر باقی رہےگا اور بیوی مہر طلب کرے تو ادا کرنا واجب ہوگا، مطالبہ نہ بھی کرے تب بھی شوہر کو دینا ہوگا لیکن اگر بیوی نے ہوش وحواش میں اپنی مرضی سے معاف کردیا یا مہر لینے کے بعد شوہر کو ہدیہ کردیا تو دوبارہ مہر مانگنے کا حق بیوی کو نہیں ہے جیساکہ اللہ کا فرمان ہے: وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً ۚ فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا (النساء:4)
    ترجمہ:اور عورتوں کو ان کے مہر راضی خوشی دے دو ، ہاں اگر وہ خود اپنی خوشی سے کچھ مہر چھوڑ دیں تو اسے شوق سے خوش ہو کر کھالو ۔
    اس آیت سے معلوم ہوا کہ بیوی خوش دلی سے کچھ مہر یا سارا معاف کردے تو شوہر کے لئے حلال ہے اور خوش دلی سے معاف کئے ہوئے مہر کا دوبارہ مطالبہ کرنا بیوی کے لئے جائز نہیں ہے ۔

    سوال(۵):ایک عورت کو حیض آیا ہے مگر وہ شرم کی وجہ سے جماعت والی نماز میں شامل ہونا چاہتی ہے تاکہ کسی کو حیض کا علم نہ ہو ، کیا اس کا ایسا کرنا ٹھیک ہے ؟
    جواب : اللہ تعالی نے دین کے احکام بتانے میں شرم نہیں کیا اور نہ اس کے رسول نے شرم کیا جبکہ آپ بہت ہی حیا والے تھے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کی خواتین نے دینی احکام کی جانکاری حاصل کرنے میں بھی کسی قسم کی شرم محسوس نہیں کیں ۔ اللہ نے قرآن میں ذکر کیا کہ اے نبی آپ سے لوگ حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور اسی طرح حدیث میں مذکور ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم عہد رسول میں حیض سے ہوتے تو ہمیں صرف روزے کی قضا کا حکم دیا جاتا اور نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا۔ ان باتوں کے ذکر کا مقصد یہ ہے کہ کسی عورت کو حیض آجائے تو شرم کی وجہ سے نماز نہ پڑھے ، نبی نے حیض والیوں کو نماز اور روزہ سے منع فرمایا ہے :
    أَليسَ إذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ ولَمْ تَصُمْ، فَذلكَ نُقْصَانُ دِينِهَا(صحيح البخاري:1951)
    ترجمہ:کیا جب عورت حائضہ ہوجاتی ہے تو نمازاورروزہ نہیں چھوڑ دیتی ؟ یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔
    اگر کسی عورت نے یہ جانتے ہوئے کہ وہ حیض کی حالت میں ہے پھر بھی نماز پڑھ لی ہے تو اسے اللہ سے توبہ واستغفار کرنا چاہئے اورہمیشہ کے لئے اس عمل سے باز رہنا چاہئے ۔

    سوال(۶):چھوٹے بچیوں کو بنا بازو کے رنگین اور بھڑکیلے لباس پہننانے کا کیا حکم ہے جبکہ آج کل یہ سماج میں عام ہے؟
    جواب: بچیوں کے لباس بھی ہمیں صحیح اختیار کرنا چاہئے ۔ یہ نہ بھولیں کہ ہم مسلمان ہیں اور آج کل خواتین کے جو کپڑے ریڈی میڈ ملتے ہیں اکثر فاحشہ عورتوں کی ہوتی ہیں ۔ بچپن سے ہمیں اپنی بچیوں کو اسلامی ماحول میں ڈھالنا ہے ،اسلام نے ہمیں بچوں کی اسلامی تربیت کا حکم دیا ہے ، جب لڑکیوں سے تربیت چھین لیں گے تو آگے وہ اسلام پر کیسے چلے گی ؟۔
    ذرا سوچیں کہ جس بچی کو بچپن سے رنگین اور چھوٹے چھوٹے کپڑوں کی عادت ہوجائے وہ بعد میں پردہ کیسے کرے گی ؟آج جس قدر فتنہ عام ہے اس کے حساب سے بچپن سے بچیوں کی سخت نگرانی کے ساتھ اچھی تربیت کی ضرورت ہے تاکہ بدقماشوں کی بھینٹ نہ چڑھے اور نظر بد کا بھی اپنی جگہ مسئلہ ہے اچھوں کی بھی نظر لگ سکتی ہے ۔ اس لئے اپنی بچیوں کو اسلامی ماحول دیں ۔

    سوال(۷): گھر میں غیر مسلم خادمہ سے کام لینا جائز ہے ؟
    جواب: نوکرانی مسلم ہو یا غیرمسلم ،اس کے بڑے مفاسد ہیں ۔ اگر شرعی حدود میں رہ کر نوکرانی سے کام لیا جائے تو اس سے گھریلو کام لینے میں حرج نہیں ہے ۔ شرعی حدود میں سب سے اہم مردوزن کا اختلاط نہ ہوناہے۔ اگر گھر میں نوکرانی کا سامنا مردوں سے ہو ، کھانے پینے کی چیز اس کے سامنے پیش کرے ، کام کرتے اختلاط ہو یا مرد کے ساتھ خلوت ہو تو ان صورتوں میں نوکرانی سے کام لینا جائز نہیں ہے۔ نوکرانی سے کام لیتے وقت بڑے احتیاط کی ضرورت ہے اور مسلم خادمہ ہو تو بہتر ہے کہ وہ نظافت، پردہ اور دین واخلاق کا اہتمام کرسکے ۔

    سوال(۸):ایک شخص کو دو بیوی تھی، ایک پاس میں رہتی تھی اور دوسری الگ رہا کرتی تھی،اب اس کے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے ایسی صورت میں کیا دونوں عورت پر عدت ہے یا صرف اس عورت پر جو پاس میں رہا کرتی تھی ؟
    جواب : ایک شخص کی دو،تین یا چارجتنی بیویاں (اسلام میں مرد کو چار بیوی تک کی اجازت ہے)ہوں ، شوہر کی وفات پر ساری بیویاں عدت گزاریں گی خواہ وہ شوہر کے ساتھ رہتی ہوں یا الگ الگ ۔

    سوال(۹):جو عورت شوہر کی وفات کی عدت میں ہو کیا وہ عید گاہ جا سکتی ہے اور عید کے دن نئے لباس اورزینت کی چیزیں استعمال کر سکتی ہے؟
    جواب : جب زینب بنت کعب بن عجرہ کے شوہر شہید کردئے گئے اور انہوں نے نبی سے کہا اگر آپ مناسب سمجھیں تو مجھے اجازت دے دیں کہ میں اپنے اقارب اور اپنے بھائیوں کے گھر چلی جاؤں توآپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حکم دیا:امْكُثي في بيتِكِ الَّذي جاءَ فيهِ نعيُ زوجِكِ حتَّى يبلغَ الْكتابُ أجلَهُ(صحيح ابن ماجه:۱۶۶۴)
    ترجمہ: جب تک اللہ کی مقرر کردہ مدت (موت کی عدت) پوری نہیں ہو جاتی، اسی گھر میں رہائش رکھو جہاں تمہیں اپنے خاوند کی وفات کی خبر پہنچی۔
    یہ حدیث اور اس معنی کی متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے عورت شوہر کی وفات پہ لازمی طور پر شوہر کے گھر میں ہی عدت وفات گزارے گی اور بلاضرورت، بغیر کسی عذر کے گھر سے قدم نہیں نکالے گی ۔
    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے متوفی عنہا زوجہا کی عدت میں نمازعید سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ جس کا شوہر وفات پاجائے اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے پڑوسی یا رشتہ داریا نمازعید یا اس کے مثل کسی کام کے لئے گھر سے نکلے بلکہ وہ اپنے گھر میں باقی رہے گی ۔ (فتاوى نور على الدرب)
    اس بنیاد پرعورت نمازعید کے لئے گھر سے باہر نہیں نکلے گی اور نہ ہی وہ اس دن زینت کی چیزیں استعمال کرے کیونکہ وہ سوگ منارہی ہے اور سوگ میں زینت اختیار کرنا منع ہے ۔

    سوال(۱۰):میت کو وضو کرانے کا کیاحکم ہے ؟
    جواب : میت کو غسل دیتے وقت پہلے ناپاکی کی صفائی کی جائے پھر وضو کرایا جائے گا۔ میت کے حق میں وضو ضروری نہیں ہے بلکہ مستحب ہے جیساکہ عام غسل طہارت میں مستحب ہے ۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی (زینب رضی اللہ عنہا) کی وفات پر غسل دینے کے وقت فرمایا تھا:ابْدَأْنَ بمَيَامِنِهَا ومَوَاضِعِ الوُضُوءِ منها.(صحيح البخاري:167)
    ترجمہ:غسل داہنی طرف سے دو اور اعضائے وضو سے غسل کی ابتداء کرو۔
    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میت کی نجاست اور ناپاکی دور کرنے کے بعد استحبابی طور پر وضو کرایا جائے گا ، یہ وضو وجوبی طورپر نہیں ہے اس کی دلیل ایک صحابی کا واقعہ ہے جو اونٹنی سے گر کر وفات پاگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پانی اور بیری سے غسل دینے کا حکم دیا ، آپ نے اسے وضو کرانے کا حکم نہیں دیا۔(الشرح الممتع)

    سوال(۱۱):میت کے غسل وتکفین پہ غیر مسلم سے کام کاج کے لئے مدد حاصل کرنا شرعا کیسا ہے؟
    جواب : بہتر اور افضل یہی ہے غسل وتکفین کا سارا کام مسلمان ہی انجام دے تاہم ناگزیر حالات میں میت کے غسل اور اس کی تجہیز وتکفین پہ بعض کام کاج کے واسطے غیرمسلم سے مدد لی جا سکتی ہے جیسے بازار سے کوئی سامان منگوانا تاہم خالص غسل اور تجہیزو تکفین کے لئے مدد نہیں لی جائے گی۔شیخ صالح فوزان نے بیان کیا ہے کہ کسی کافر کا مسلمان کو غسل دینا جائزنہیں ہے کیونکہ میت کو غسل عبادت ہے اورعبادت کسی کافر کی جانب سے صحیح نہیں ہوگی ۔

    سوال(۱۲):کیا آپریشن کے بعد آنے والا خون نماز و روزہ کے لئے مانع ہے ؟
    جواب : ولادت کے بعد آنے والا خون نفاس کا مانا جائے گا چاہے ولادت آپریشن سے ہو یا طبعی طورپر۔ اس بنا پر عورت کو جب تک نفاس کا خون آئے اسے نما زوروزہ سے رکنا ہوگا اور جب خون بند ہوجائے تب غسل طہارت کے بعد نماز شروع کرے ۔

    سوال(۱۳):کیا بیوی شوہر سے تعلقاتی مردوں کے بارے میں جانکاری لے سکتی ہے تاکہ میاں بیوی کے درمیان فتنہ وفساد اور سماج میں شر پھیلانے سے روکا جا سکے ؟
    جواب : یقینا بیوی کا حق ہے کہ اگر شوہر کے حلقہ احباب پر شک ہو تو اس کے ساتھیوں کے دین و اخلاق کی جانکاری حاصل کرے اور یہ یقین سے معلوم ہو جائے کہ فلان شخص میاں بیوی کے درمیان فساد پیدا کرنے والا ہے یا شوہر کو برائی کے راستے پر لے جانے والا ہے یا سماج میں شرانگیزی کرنے والا ہے تو اپنے شوہر کو اس آدمی سے دور رہنے کی تاکید کر سکتی ہے بلکہ سختی کے ساتھ بیوی کو منع کرنا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
    مَن رَأَى مِنكُم مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بيَدِهِ، فإنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسانِهِ، فإنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وذلكَ أضْعَفُ الإيمانِ.(صحيح مسلم:29)
    ترجمہ:جوشخص کوئی برائی دیکھے تو چاہئے کہ اس برائی کو اپنے ہاتھ سے بدل دے ، جسے اتنی طاقت نہ ہو وہ اپنی زبان سے اسے بدل دے اورجسے اس کی طاقت بھی نہ ہووہ اپنے دل میں اسے براجانے اوریہ ایما ن کا سب سے کمتردرجہ ہے۔

    سوال(۱۴) : جیساکہ لوگوں میں دوا کھاتے وقت "ھوالشافی" کہنا رائج ہے کیا یہ دوا کھانے کی دعا ہے یا کوئی اور مخصوص دعا ہے ؟
    جواب : نبی ﷺ سے دوا کھانے کی کوئی مخصوص دعا ثابت نہیں ہے۔ ھوالشافی عام طور سے مسلم اطباء نسخہ جات کے شروع میں لکھتے پڑھتے ہیں اس وجہ سے لوگوں میں یہ رائج ہوگیا ۔ اصل میں ھوالشافی عقیدہ ہے کہ دوا کھانے والا اس ایمان و یقین کے ساتھ دوا کھائے کہ یہ بذات خود فائدہ نہیں کرے گی ، شفا تو اصل میں اللہ تعالی دینے والا ہے ۔
    کھانا کھاناہو، پانی پینا ہو، دوا کھانی یا پینی ہو شروع میں بسم اللہ کہیں جیساکہ حدیث سے ثابت ہے ۔ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ فرماتے ہیں :
    إذا أكَلَ أحدُكُم فليذكُرِ اسمَ اللَّهِ تعالى ، فإن نسِيَ أن يذكرَ اسمَ اللَّهِ تعالى في أوَّلِهِ فليقُلْ : بسمِ اللَّهِ أوَّلَهُ وآخرَهُ(صحيح أبي داود:3667)
    ترجمہ : جب کوئی کھانا کھائے تو پہلے بسم اللہ کہے ۔اگر کھانے کے شروع میں بسم اللہ کہنا بھول جائے تو" بسمِ اللَّهِ أوَّلَهُ وآخرَهُ" (اس کھانے کا آغاز اور اختتام اللہ کے نام کے ساتھ کرتاہوں)کہے ۔

    سوال(۱۵):کسی کا کوئی عزیز وفات پاجائے اور اس کی یاد آجائے ، اس کی یاد میں رونا آجائے تو کیا کیا جائے یعنی ایسا کیا جائے کہ دل کو تسلی ہو؟
    جواب : میت پہ رونا ایک فطری امر ہے جسے روکنا مشکل ہے ،کچھ ایسے بھی عزیز ہوتے ہیں جن کی یاد مدتوں آتی ہے ۔ کسی فوت شدہ رشتہ دار کی یاد میں رونا آجائے اس سے کوئی گناہ نہیں ہے ۔ ہاں ایسا رونا منع ہے جس میں نوحہ خوانی یعنی گریبان چاک کرنا اور چیخنا چلانا ہو۔
    اگر کسی کو میت کی یاد آجائے تو کثرت سے ان کے لئے استغفار کرے، استغفار سے ان کے درجات بلند ہوں گے ، دل کی تسلی کے لئے ان کی جانب سے صدقہ وخیرات بھی کرسکتے ہیں ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میت کی یاد سے ہمیں اپنا مرنا یاد آنا چاہئے ، ہمیں سوچنا چاہئے کہ یہاں کسی کو بقا نہیں ہے ، ہمیں بھی دنیا سے رخصت ہونا ہے ،جب یہ سوچ پیدا ہوگی تو نیک کام کا خیال آئے گا اور اس طرح دل کی تسلی کے ساتھ آخرت میں نجات کی کوشش کریں گے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  14. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    بنت حوا کے مسائل اور ان کا حل ۔ (قسط :۱۳)

    جواب ازشیخ مقبول احمد سلفی طائف

    سوال {۱}۔ اگر کوئی غریب عورت روزہ نہ رکھ سکے اور فدیہ دینے کی طاقت نہ رکھتی ہو اس کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : اللہ کی طرف سے روزہ تمام مسلمانوں پر فرض ہے خواہ وہ غریب ہو یا امیر لیکن مالی معاملات میں فقراء ومساکین کے احکام امیروں جیسے نہیں ہیں ۔ اگر کوئی غریب عورت بڑھاپے کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتی تو اس پر فدیہ دینا لازم نہیں ہے کیونکہ وہ غریب ہے جس طرح اس کے ذمہ صدقۃ الفطر نہیں ہے ، وہ تو خود دوسرے کے فدیوں اور صدقہ کی مستحق ہے ۔ اللہ نے کسی بندہ کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کیا ہے ۔

    سوال{۲{۔ رقیہ کی آیات پڑھ کر لوگ پیسے لیتے ہیں کیا یہ جائز ہے ؟
    جواب : دم کرنے پہ عطیہ لینا جائز ہے جیساکہ صحیح بخاری میں موجود ہے کہ ایک صحابی نے عرب کے ایک قبیلہ کے سردار کو سورہ فاتحہ کے ذریعہ دم کیا تو قبیلہ والے نے تیس بکریاں دی ۔ اس لئے دم کرنے پہ عطیہ یا اجرت لینے میں حرج نہیں ہے مگر آج کل کچھ لوگ شرعی دم کے نام پر لوگوں کو لوٹ رہے ہیں بلکہ کچھ نوجوان لڑکوں نے خصوصا عورتوں کو لوٹنااپناپیشہ بنا رکھا ہے کیونکہ یہ ان کی باتوں میں آجاتی ہیں، یہ بات اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ رہاہوں۔ اس معاملے میں دم کرنے والوں کو اللہ سے ڈرنا چاہئے اور اس بات کی فکر کرنی چاہئے کہ دم کرنا اگر تجارت محض ہوجائے تو قرات میں تاثیر کیسے پیدا ہوگی ؟ عوام کو بھی چاہئے کہ اولا خود سے دم کرے اور دوسروں سے دم کرانے کی ضرورت ہوتو نیک وصالح آدمی سے دم کرائے ۔

    سوال{۳}۔ کیا یہ حدیث صحیح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری ماں زندہ ہوتی، میں نماز میں اللہ کے حضورکھڑا ہوتا ، ماں آواز دیتی اور میں نماز چھوڑ کر دوڑ کر ماں کے پاس چلا جاتا اور دنیا والوں کو بتاتا کہ ماں کی عظمت کیا ہوتی ہے ؟
    جواب :ماں کی فضیلت میں بیان کیا جانے والا یہ واقعہ صحیح نہیں ہے، اس قسم کی کئی احادیث بیان کی جاتی ہیں مگر کوئی بھی صحیح نہیں ہیں ، بعض احادیث میں عشاء کی نماز کا ذکر ہے ۔ کسی بھی صحیح حدیث سے یہ بات ثابت نہیں ہے کہ ماں یا باپ کے بلانے پر فرض نماز توڑ دی جائے ۔ ہاں نفل نماز ہو تو توڑی جاسکتی ہے جیساکہ صحیح بخاری وصحیح مسلم میں موجود واقعہ جریج سے معلوم ہوتا ہے۔ ضرورت کے تخت مثلا موذی جانور آجائے ، آگ لگ جائے تو فرض نماز بھی توڑی جاسکتی ہے محض کسی کے بلاوے پر نہیں۔

    سوال{۴}۔ عورت گھر میں نماز پڑھتی رہتی ہے کبھی کوئی دروازے پہ آجاتا ہے ایسے میں نماز توڑ سکتی ہے ؟
    جواب : عورت گھر میں نماز پڑھتی رہے اور کوئی دروازے پہ آجائے تو اس کے لئے نماز نہیں توڑی جائے گی ،یہ آنے والے کی ذمہ داری ہے کہ گھر کے دوسرے افراد سے پوچھ لے ۔ ہاں ایک عمل یہ انجام دیا جاسکتا ہے کہ تلاوت کی تھوڑی آواز اونچی کردے یا تکبیر زور سے پڑھ دے تاکہ آنے والے کو نماز میں ہونے کا اندازہ ہوسکے۔

    سوال{۵}۔ عورت گھر میں اعتکاف کر سکتی ہے ؟
    جواب : جس طرح مرد کے لئے اعتکاف مسنون ہے اسی طرح عورت کے لئے بھی اعتکاف مشروع ہے ۔ اور یہ بھی واضح رہے کہ اعتکاف کی جگہ صرف مسجد ہے۔ اگر عورت اعتکاف کرے تو اسے بھی مسجد میں ہی اعتکاف کرنا ہوگا خواہ جامع مسجد ہو یا غیر جامع ۔ صرف جامع مسجد میں اعتکاف والی روایت (لاَ اعْتِكَافَ إِلاَّ فِى مَسْجِدٍجَامِعٍ) پر کلام ہے ۔ اگر جامع مسجد میں اعتکاف کرے تو زیادہ بہترہے تاکہ نماز جمعہ کے لئے نکلنے کی ضرورت نہ پڑے ۔

    سوال{۶}۔ اگر کسی محلے میں عورتوں کے لئے اعتکاف کی مسجد نہ ہو اور وہ اعتکاف کرنا چاہتی ہو تو کیا کرے ؟
    جواب : اللہ نے عورتوں کو عزت بخشی، گھر میں لزوم اختیار کرنے کاحکم دیا تاکہ دین وآبرومحفوظ رہے ، مسجد میں عورت نماز پڑھ سکتی ہے مگر اسلام نے اس بات کو عورتوں کے لئے مردوں کی طرح لازم نہیں قرار دیا۔ اسلام کی اس حکیمانہ تعلیم میں بڑے فوائد ہیں ۔عورتوں کے لئے اگر کہیں محلے میں اعتکاف کی جگہ مخصوص نہ ہو تو اعتکاف نہ کرے ، یہی حل ہے اور ان شاء اللہ نیت کا ثواب اللہ کی طرف سے ملے گا۔ ساتھ ہی محلے کی عورتیں پیسہ لگاکر یا مرد ذمہ داروں کو کہہ کر الگ انتظام کرواسکیں تو اچھی بات ہے ۔کتنے سارے مسلمان حج وعمرہ کی تمنا کرتے ہیں مگر سب کی تمنا پوری نہیں ہوتی، ہمیں اللہ سے ہمیشہ نیکی کی توفیق طلب کرنی چاہئے ۔

    سوال{۷}۔ اگر روزہ کی حالت میں منہ بھر کر قے آجائے تو کیا روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟
    جواب : قے تھوڑا ہو یا منہ بھر کر ،اگر آپ خود آیا ہے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا لیکن قصدا قے کیا جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔

    سوال{۸}۔ کیا یہ حدیث صحیح ہے ، ان للصائم عندفطرہ لدعوۃ ماترد{ابن ماجہ :۱۷۷۵} یعنی افطار کے وقت روزہ دار کی دعا رد نہیں کی جاتی ہے ؟
    جواب : اس حدیث کو شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے ، شیخ نے اس دعا کو صحیح کہا ہے :
    ثلاثُ دَعَواتٍ مُستجاباتٍ : دعوةُ الصائِمِ ، ودعوةُ المظلُومِ ، ودعوةُ المسافِرِ( صحيح الجامع:3030)
    ترجمہ: تین قسم کی دعائیں قبول کرلی جاتی ہیں ، روزہ دار کی دعا، مظلوم کی دعا اور مسافر کی دعا۔

    سوال{۹}۔ گھر میں کام کرتے وقت موبائل سے تقریر یا تلاوت سننا کیسا ہے ، کبھی اٹیج باتھ روم میں کپڑے دھوتے وقت موبائل وہاں رکھ کر یا بلوتوتھ سے تلاوت وتقریر سن سکتی ہوں اور نبی کا نام آنے پر درود پڑھ سکتی ہوں ؟
    جواب : گھر میں کام کرتے وقت تلاوت سننے میں حرج نہیں ہے جبکہ تلاوت سنی جائے اور وہاں شور شرابہ نہ ہو البتہ اٹیچ باتھ روم میں موبائل لے جاکر یا بلوتوتھ سے تلاوت یا قرآن سننا جائز نہیں ہےاور نہ ہی وہاں درود پڑھنا اور اللہ کا نام لینا جائز ہے ۔گھر میں تلاوت وتقریر لگی ہو اور آواز باتھ روم میں جائے تو مضائقہ نہیں ہے ۔

    سوال{۱۰}۔ کیا عورت نماز جمعہ اور تراویح کے لئے مسجد جا سکتی ہے اور کیا محرم کا ساتھ ہونا بھی ضروری ہے اس سلسلے میں صحابیات کا کیا عمل تھا؟
    جواب : نبی ﷺ کا فرمان ہے : لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّہ (صحیح بخاری:900 /صحیح مسلم:442)
    ترجمہ: اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو۔
    یہ حدیث دلیل ہے کہ عورتیں مسجد میں جاکر جمعہ ، تراویح حتی کہ پنج وقتہ نمازیں پڑھ سکتی ہیں اور عہد رسول سے آج تک رسول کی مسجد (مسجدنبوی) میں خواتین پنج وقتہ نمازیں، جمعہ اور تراویح میں شامل ہوتی آرہی ہیں ۔ صحیح مسلم میں ہے کہ صحابیہ ام ہشام رضی اللہ عنہاجمعہ کی نماز میں شریک ہوتی تھیں ، جمعہ میں شرکت کی وجہ سے خطبہ نبوی میں پڑھی جانے والی سورت ق انہیں حفظ ہوگئی۔ مسجد جانے کے لئے عورت کو محرم کی ضرورت نہیں ہے ،محرم کی شرط سفر کے لئے ہے ۔

    سوال{۱۱}۔ کچھ سال پہلے ہم نے ایک عمرہ کیا پھر مدینہ گئے ، مدینہ سے مکہ دوبارہ جاتے وقت وہاں سے احرام نہیں باندھا بلکہ مکہ کی قریبی میقات طائف سے احرام باندھ کر عمرہ کیا، کیا اس پہ کوئی دم وغیرہ ہے ؟
    جواب : اس کی دو صورتیں ہیں ، اگر طائف کسی غرض سے آئے تھے پھر یہاں سے عمرہ کا ارادہ ہوا اور احرام باندھ کر عمرہ کیا تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر عمرہ کی نیت مدینہ سے ہی تھی اور اس میقات کو تجاوز کرگئے حتی کہ طائف آکر احرام باندھا تو ایسی صورت میں میقات تجاوز کرنے پر دم دینا واجب ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ہر سمت والوں کے لئے میقات متعین کردی ہے ، وہ اسی میقات سے احرام باندھ کر آئیں گے ۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اگر کسی کا گزر دو میقات سے ہو تو پہلی چھوڑ کر دوسری میقات پہ احرام باندھنے میں حرج نہیں ہے مگر جمہور کے نزدیک دم ہے اور یہ دلیل سے قریب ہے۔

    سوال{۱۲}۔ ایک بہن کا سوال ہے کہ میت کو کلمہ پڑھ کر بخشنا کیسا ہے یا میت خواب میں کلمہ پڑھ کر بخشنے کا حکم دے تو کیا کرنا چاہئے ؟
    جواب : میت کو کلمہ پڑھ کر نہیں بخشا جائے گا اور نہ ہی اس قسم کے کسی خواب پہ عمل کیا جائے گا۔ میت کو جن طریقوں سے ایصال ثواب کرنا کتاب وسنت سے ثابت ہے بس انہیں طریقوں سے ایصال ثواب کیا جائے گا۔کلمہ پڑھ کر میت کو بخشنا قرآن وحدیث سے ثابت نہیں ہے اس لئے اس طریقہ سے میت کو نہیں بخشا جائے گا۔

    سوال{۱۳}۔ غم والم دور کرنے کے لئے آیات سکینہ کے نام سے چند آیات مشہور ہیں کیا ان آیات کا پڑھنا درست ہے؟
    جواب : مکمل قرآن غم والم دور کرنے کا ذریعہ ہے ، کسی ایک آیت یا چند آیات کو اپنی طرف سے پریشانی دور کرنے کے لئے خاص کرنا غلط ہے ، آیات سکینہ نام سے بھی قرآن وحدیث میں دلیل نہیں ملتی اس وجہ سے ان آیات کو غم دور کرنےکے لئے مخصوص کرنا اور پورے قرآن سے مستغنی ہوجانا صحیح نہیں ہے ۔

    سوال{۱۴}۔ ہیوی ڈپازٹ پہ روم کرایہ پر لینا جائز ہے ؟
    جواب : ہیوی ڈپازٹ پہ روم کرایہ پر لینا جائز نہیں ہے ،ڈپازٹ ایک قسم کی ضمانت ہے اور یہ ضمانتی رقم سماج میں رائج رقم کے حساب سے ہونا چاہئے۔

    سوال{۱۵}۔ عصری تعلیم کے لئے طالبات کو زکوۃ دینا جائز ہے ؟
    جواب : شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ طالب علم دنیاوی تعلیم کے لئے متفرغ ہو تو اسے زکوۃ کی رقم نہیں دی جاسکتی ہے کیونکہ ہم اس سے کہیں گے کہ تم دنیا کے لئے عمل کررہے ہو ،ممکن ہے کہ نوکری پاکر دنیا کمانے میں لگ جاؤ،اس لئے ہم تمہیں زکوۃ نہیں دیں گے ۔ شیخ کی اس بات پہ اضافہ کرتے ہوئے میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی مسکین طالبہ یاطالب مباح دنیاوی علوم کے ذریعہ مسلمانوں کو فائدہ پہنچاناچاہتی ہو/چاہتا ہوتو اسے زکوۃ دی جاسکتی ہے۔

    سوال{۱۶}۔ کیا زکوۃ کے پیسوں سے بچوں کو حافظ بنایا سکتا ہے اور کیا معلمات کی تنخواہ زکوۃ کی رقم سے دی جاسکتی ہے؟
    جواب : غریبوں کے بچوں کی دینی تعلیم پر زکوۃ خرچ کی جاسکتی ہے اور اسی طرح وہ معلمات جن کا شمار فقراء ومساکین میں ہوتا ہو ان کو بھی زکوۃ سےتنخواہ دے سکتے ہیں ۔

    سوال{۱۷}۔ کیا حالت حمل میں طلاق واقع ہوجاتی ہے ؟
    جواب : حالت حمل میں دی گئی طلاق واقع ہوجاتی ہے ، اس کی دلیل حضرت ابن عمر ؓ سے مروی وہ روایت ہے جس میں مذکور ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی۔یہ بات نبیﷺ کے سامنے ذکر ہوئی تو آپ نے فرمایا:
    مُرْه فلْيُراجِعْها ، ثم لْيُطَلِّقْها وهي طاهرٌ – أو حاملٌ -(صحيح النسائي:3397)
    ترجمہ:اسے کہو کہ اس سے رجوع کرے‘ پھر طہر یا حمل کی حالت میں اسے طلاق دے۔

    سوال{۱۸}۔ ایک شخص امریکہ میں رہتا ہے اسے ڈالر میں کتنا فطرہ دینا ہوگا؟
    جواب : فطرانہ ایک آدمی کی طرف سے تقریبا ڈھائی کلو اناج ہوتا ہے اور ہمیں سنت کی پیروی کرتے ہوئے اناج سے ہی فطرانہ ادا کرنا چاہئے لیکن اگر کسی مسکین کو پیسے کی سخت ضرورت ہو تو اسے ڈھائی کلو اناج کے حساب سے نقد روپیہ دیا جاسکتا ہے ۔ حساب بہت آسان ہے ، امریکہ میں بطور غذا استعمال ہونے والے ڈھائی کلو اناج کی قیمت کتنی ہوگی آسانی سے حساب جوڑ سکتے ہیں ۔ جہاں کہیں کوئی عالم فطرہ کی ایک مخصوص رقم رائج کردیتے ہیں وہ سنت کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ قیمت تو بطور ضرورت ہے اور اناج کی مختلف اقسام ہیں ،کوئی کسی اناج کے حساب سے دے ، کوئی کسی اناج سے دے ۔

    سوال{۱۹}۔ ایک عورت کا پچھلے سال کا روزہ باقی ہے وہ گردے کی مریضہ ہے اور اپنے روزہ کا فدیہ آٹا سے دینا چاہتی ہے مگر اسے خریدکر لانے والا اس کا سسر ہے یعنی وہ مشترکہ سامان ہوتا ہے۔کیا وہ اس سے فدیہ دے سکتی ہے یا اپنے ذاتی پیسے سے خریدکر دینا ہے ؟
    جواب : گردے کی مریضہ اگر روزہ نہ رکھ سکے یا پہلے والا روزہ قضا کرنے کی طاقت نہ رکھ سکے تو اپنے ہر روزہ کے بدلے ایک مسکین کو فدیہ دے دے ، فدیہ میں آٹا بھی دے سکتی ہے ، اگر سسر کی طرف سے ممانعت نہیں ہے تو مشترکہ غذا میں سے دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

    سوال{۲۰}۔ کیا یہ بات صحیح ہے کہ رمضان میں نئے کپڑے پہننے کا کوئی حساب نہیں ہوتا ہے؟
    جواب : ایسی بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔

    سوال{۲۱}۔ کیا لڑکی جماعت میں نکل سکتی ہے ؟
    جواب : شاید آپ کی مراد تبلیغی جماعت میں نکلنا ہے ۔ تو میرا یہ عرض کرنا ہے کہ تبلیغی جماعت کی جومروجہ شکل ہے اس میں مردوں کو بھی جاناجائز نہیں ہے ۔عورت کا معاملہ تو اور بھی نازک اور سنگین ہے ۔ اللہ نے اسے اپنے گھروں میں ٹھہرنے کا حکم دیا ہے ۔ عورتوں کو تبلیغ کرنے کی ممانعت نہیں ہے مگر مروجہ تبلیغی جماعت کی شکل میں دعوت کا کام کرنا بدعت والا کام ہےکیونکہ اس کی نظیر کتاب وسنت سے نہیں ملتی ۔ کتنی تعجب کی بات ہے کہ تبلیغ والے عورتوں کا مسجد جانا فتنہ قرار دیتے ہیں اور تبلیغ کے نام پہ گاؤں گاؤں بڑے شوق سے گھماتے اورباعث اجر وثواب سمجھتے ہیں ۔

    سوال{۲۲}۔ "اللھم مغفرتک اوسع من ذنوبی ورحمتک ارجی عندی من عملی "(اے اللہ تیری مغفرت میرے گناہوں سے زیادہ وسعت والی ہے اور مجھے اپنے عمل سے زیادہ تیری رحمت کی امید ہے) کیا اس دعا کو تین دفعہ پڑھنے سے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں ؟
    جواب : اسے امام حاکم اور بیہقی نے روایت ہے اور شیخ البانی نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ (ضعيف الترغيب:1007)

    سوال{۲۳}۔ اس نیت سے ڈالر رکھنا کہ اس کی قیمت بڑھے گی تو بیچیں گے حرام ہے ؟
    جواب : معمر بن عبداللہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    لا يَحْتَكِرُ إلَّا خاطئٌ( صحيح مسلم:1605)
    ترجمہ: گنہگار ہی احتکار (ذخیرہ اندوزی) کرتاہے یعنی مال روک کر رکھنے والا گنہگار ہے ۔
    یہ حدیث ہمیں بتلاتی ہے کہ ایسا کوئی سامان جس کی لوگوں کو ضرورت ہو اسے روک کر رکھنا اور اس کی قیمت منگنی ہونے پر بیچنا جائز نہیں ہے ۔ڈالر کا بھی حکم یہی ہے ۔ یہ لوگوں کی ضرورت اور گردش کی چیز ہے ،اسے مہنگے داموں پر بیچنے کے لئے روک کر رکھنے والا گنہگار ہوگا۔

    سوال{۲۴}۔ کیا ہم فرض یا نوافل کے سجدوں میں تسبیحات پڑھنے کے بعد مسنون یا قرآنی دعائیں پڑھ سکتے ہیں ؟
    جواب : فرض ونوافل کے سجدوں میں تسبیحات پڑھنے کے بعد دیگر ماثورہ دعائیں اورقرآنی دعائیں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ سجد ے میں آدمی اپنے خالق سے بہت قریب سے ہوتا ہے اس حالت میں کثرت سے دعا کرنی چاہئے اور ہمارے رسول نے اس بات کی تعلیم بھی دی ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  15. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل (قسط- 14)
    جوابات ازشیخ مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹر طائف

    سوال(1):دعا سے پہلے الله کی تعریف کرنا ہے تو سورة فاتحہ پڑھنا صحیح ہے کہ نہیں ؟
    جواب : دعا میں بلاشبہ اللہ کی تعریف کرنی چاہئے اور بھی بہت سے مقامات ہیں جہاں اللہ کی تعریف بیان کی جاتی ہے مثلا جمعہ اور عید کے خطبہ میں ۔ ان تمام جگہوں پر کہیں بھی نبی ﷺ سے اللہ کی حمد کے طور پر سورہ فاتحہ پڑھنا ثابت نہیں ہے لہذا ہمیں دعا سے پہلے یا دعا کو ختم کرنے کے لئے سورہ فاتحہ کو مخصوص نہیں کرنا ہے ۔

    سوال(2): تحیة الوضو نماز کے بارے میں بتائیں کیا عورتیں گھر میں بھی پڑھ سکتی ہیں، سنت اور تحیة الوضو کی نیت ایک ساتھ کر کے؟
    جواب: تحیۃ المسجد اور سنت الوضوء یہ کوئی مستقل بالذات نماز نہیں ہے بلکہ مسجد میں داخل ہونے اور وضو کرکے پڑھی جانے والی نماز ہے اس لئے اس کو دوسری نماز میں داخل کرسکتے ہیں ۔ کوئی مسجد میں داخل ہو اس وقت چاشت کی نماز کا وقت ہو تو تحیہ المسجد اور چاشت کی ایک ساتھ نیت کرکے پڑھ سکتاہے یا سنت الوضوء اور چاشت کی ایک ساتھ نیت کرسکتا ہے۔ اسی طرح سوال میں مذکور سنت الوضوء اور نماز کی سنت ایک ساتھ نیت کرکے پڑھ سکتے ہیں ۔

    سوال(3): تلاوت کے لئے وضو کیا تو تحیة الوضو پڑھ کر تلاوت کر سکتے ہیں کیا؟
    جواب : ہاں ،بالکل ۔جب بھی ہم وضو کریں تو دو رکعت، سنت الوضو کی نیت سے ادا کرسکتے ہیں ۔ تلاوت کے لئے وضو ضروری نہیں ہے بلکہ افضل ہے ، اگر آپ نے تلاوت کے لئے وضو کیا اوروضو کی دو رکعت ادا کرنا چاہتے ہیں تو ادا کرلیں پھر تلاوت کریں ۔

    سوال(4): کیا ایک ہی دفعہ قرآن پاک پڑھ کر 14 سجدے ایک ساتھ کر سکتے ہیں؟
    جواب : سجدہ تلاوت اسی وقت کرنا ہے جب آیت سجدہ کی تلاوت کی جائے ، وقت گزرنے کے بعد سجدہ تلاوت نہیں ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن میں موجود آیات سجدہ کی تلاوت ایک ساتھ کرنا غلط ہے ، اپنے اپنے وقت پریعنی آیت سجدہ پر سجدہ کرنا ہے ۔ ساتھ ساتھ یہ معلوم رہے کہ سجدہ کی آیات چودہ نہیں پندرہ ہیں ، اس موضوع پہ مستقل میرا مضمون میرے بلاگ میں موجود ہے۔

    سوال(5): کیا لیلة القدر مغرب سے شروع ہونے سے لے کر پوری فجر تک ہے یا سورج نکلنے تک وقت رہتا ہے ؟
    جواب : لیل عربی میں رات کو کہتے ہیں جس کا اطلاق سورج ڈوبنے سے لیکر طلوع فجر تک ہوتا ہے۔ سورہ القدر میں اللہ نے شب قدر کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ رات سلامتی والی ہے اور طلوع فجر تک رہتی ہے اس لئے شب قدر کے واسطے اجتہاد غروب شمس سے طلوع فجر کے درمیان ہونا چاہئے ۔

    سوال(6): کیا ہم دعا کے شروع میں سورة فاتحہ اس بنا پر پڑھ سکتے ہیں کہ اس میں الله تعالی کی تعریف بھی ہے اور ہمارے لئے دعا بھی ہے؟
    جواب : نہیں پڑھ سکتے ہیں کیونکہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے اس کی تعلیم نہیں دی ہے ۔

    سوال(7): وصیت کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو یہ ہرمسلمان کے لئے لازمی ہے؟
    جواب : وصیت کا حکم احکام شرعیہ کی طرح پانچ احوال پر منحصر ہے ۔ اگر آدمی کے ذمہ بندوں کے حقوق ہیں مثلا قرض، امانت، ہڑپا ہوا مال ، چوری کی ہوئی چیز، زکوۃ وکفارہ وغیرہ تو ان حقوق کی وصیت کرنا واجب ہے ۔ اعزاء واقرباء(وارث کے علاوہ) کے لئے وصیت کرنا مستحب ہے مثلا کسی مسکین رشتہ دار یا نیکی کے کاموں کی وصیت کرنا ۔اللہ کی معصیت میں وصیت کرنا حرا م ہے جیسے کوئی بیٹے کو ڈاکو بننے کی وصیت کرے یااپنے مال سے اپنی قبر پہ مزارتعمیر کرنے کا حکم دے۔ وارث محتاج ہوتو فقیر کے لئےمال کی وصیت کرنا مکروہ ہے ۔ مالدار آدمی، مالدا ر رشتہ دار یا اجنبی کے لئے وصیت کرے مباح کے درجے میں ہے ۔ (ماخوذازوصیت کے مختصراحکام ، شیخ مقبول احمد سلفی)

    سوال (8): کیا تراویح اور تہجد الگ الگ ہے ، ہمارے کچھ احناف رشتہ داروں کا کہنا ہے؟
    جواب :یہ دونوں ایک ہی نمازیں ہیں جو کہ حدیث عائشہ میں مذکور ہے کہ رمضان یا غیر رمضان میں آپ کا قیام آٹھ رکعت کا ہوا کرتا تھا۔اگر یہ تہجد کی نماز مان لی جائے تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ آپ ﷺ نے رمضان میں دوبارہ تراویح الگ سے پڑھی جس کی کوئی دلیل نہیں ۔
    یہ حدیث میں بڑی ٹھوس دلیل ہے من قام رمضان ۔۔۔۔الخ اس کا ترجمہ کیا کرتے ہیں جو رمضان میں تراویح پڑھے یا قیام اللیل کرے؟ ۔ اگر رمضان میں عشاء کے بعد پڑھی جانے والی تراویح کو تہجد اور قیام اللیل نہیں کہیں گے تو سابقہ گناہوں کی معافی کا اجر کس کو ملے گا اور کیوں؟ یہاں یہ بھی معلوم رہے کہ نبی نے تہجد کی نماز عشاء کے بعد، درمیانی رات اور آخری پہر تمام اوقات میں پڑھی ہے اس لئے رمضان میں لوگوں کی آسانی کے لئے عشاء کے فورا بعد قیام کرنے پہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا ہے، نہ ہی قیام اللیل سے خارج کیا جا سکتا ہے۔ مشہور حنفی عالم مولانا انور شاہ کشمیری نے بھی تہجد اور تراویح کو ایک ہی نماز تسلیم کیا ہے ۔ (دیکھیں:عرف الشذی :309)

    سوال (9): کیا مردوں کو ٹخنہ نہ ڈھکنے میں کوئی گناہ ہے ؟
    جواب : مردوں کو ٹخنہ سے نیچے کپڑا لٹکانے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ یہ تکبر کی علامت ہے اس لئے اگر کوئی مرد اپنا کپڑا ٹخنہ سے نیچے لٹکاتا ہے تو گناہ ملے گا ۔ ہاں موزہ سے ٹخنہ ڈھکتا ہے تو کوئی بات نہیں ہے۔

    سوال(10): کچھ لوگ سنت سمجھ کر سجدہ تلاوت نہیں کرتے اور کچھ کرتے بھی ہیں تو زمین پر نہیں کرتے بلکہ مصحف پرکرتے ہیں اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
    جواب : یہ بات صحیح ہے کہ سجدہ تلاوت واجب نہیں ہے اس لئے کوئی اسے چھوڑ دے تو کوئی گناہ نہیں ہے ، رسول اللہ سے بھی آیت سجدہ پر سجدہ نہ کرنا ثابت ہے اور اگر سجدہ تلاوت کرے تو صرف زمین پر سجدہ کرے ،مصحف پر سر جھکا لینے سے سجدہ نہیں ہوگا۔

    سوال(11): حمیم کا اصل معنی کیا ہے ، ہم نے قرآن میں بعض جگہ دوست، بعض جگہ پانی اور بعض جگہ کھولتا پانی متعدد معنی دیکھا ہے ؟
    جواب : یہ ذو معنی لفظ ہے یعنی اس کے کئی معانی ہیں ،اس لئے قرآن میں یہ مختلف معانی کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ عربی زبان کی بڑی خاصیت ہے کہ کتنے ا لفاظ اپنے اندر کئی معانی رکھتے ہیں ، کہاں پر لفظ کا کون سا معنی ہوگا سیاق وسباق سے طے کیا جاتا ہے۔

    سوال (12): استعمال کے زیورات پہ زکوۃ ہے کہ نہیں اس کی دلیل وضاحت دلیل سے کریں ؟
    جواب : سونے چاندی کے زیورات پہ زکوۃ ہے کہ نہیں اس سلسلے میں شدیدعلمی اختلاف ہے، اس مسئلے میں میں ان علماء کے ساتھ ہوں جو استعمال کے زیورات میں زکوۃ نکالنے کے قائل ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض قرآنی آیات اور احادیث کے عموم سے معلوم ہوتا ہے کہ سونا یا چاندی کسی شکل میں ہو اگر نصاب تک پہنچ جائے تو زکوۃ ہے ،نیز صراحت کے ساتھ زیور پہ زکوۃ نکالنے کی حدیث بھی پائی جاتی ہے ۔ ابوداؤد(ح:1563) میں حسن درجے کی روایت ہے ، ایک خاتون رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئیں ۔ ان کے ساتھ ان کی بیٹی بھی تھی اور بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے موٹے کنگن تھے۔ آپ ﷺ نے اس خاتون سے پوچھا:(أتُعطينَ زَكاةَ هذا)کیا تم اس کی زکوٰۃ دیتی ہو ؟
    اس نے کہا ، نہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا:(أيسرُّكِ أن يسوِّرَكِ اللَّهُ بهما يومَ القيامةِ سوارينِ من نارٍ)کیا تمہیں یہ بات اچھی لگتی ہے کہ قیامت کے روز اللہ تمہیں ان کے بدلے آگ کے دو کنگن پہنائے ؟
    چنانچہ اس عورت نے ان کو اتارا اور نبی کریم ﷺ کے سامنے ڈال دیا اور کہنے لگی ، یہ اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہیں۔

    سوال(13): ہماری ایک جاننے والی خاتون ہیں ، وہ زیارت کے ویزا پر اپنے بیٹے کے پاس جدہ آئی ہیں، انہیں اب عمرہ کرنا ہے ،سوال یہ ہے کہ وہ عمرہ کی نیت کے لئے میقات پہ جائے گی یا بیٹے کا گھر ہی میقات بن سکتی ہے ؟
    جواب : پہلے ایک بات یہ سمجھ لیں کہ زیارت کے ویزا سے نیت عمرہ کرنے کی ہو تو اپنے ملک سے سفر کرتے ہوئے میقات سے گزرتے وقت عمرہ کی نیت کرنی ہوگی ورنہ میقات تجاوز کرکے اندرون میقات سے احرام باندھ کر عمرہ کرنے پر دم لازم آئے گا۔ ہاں اگر زیارت کی نیت ملاقات کے ساتھ یہ ہو کہ اگر میسر ہوا تو عمرہ کرے گی ورنہ نہیں ۔ اور عمرہ میسر ہوجائے تو جدہ میں جہاں بھی رہائش پذیر ہو وہیں سے عمرہ کا احرام باندھے گی ۔

    سوال(14): مجھے موت کی سختیوں سے بچنے کی کوئی دعا بتادیں ۔
    جواب : سب سے پہلے ضروری یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں نیک کام کریں ، برائی سے بچیں،اللہ تعالی سے اچھی موت طلب کریں اور بری موت سے پناہ طلب کریں ۔نبی ﷺ کا فرمان ہے : إذا أرادَ اللهُ بعبدٍ خيرًا استعملَه ، فقيل : كيف يستعملُه يا رسولَ اللهِ ؟ قال : يوفِّقُه لعمَلٍ صالحٍ قبلَ الموتِ(صحيح الترمذي:2142)
    ترجمہ: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کام پر لگاتا ہے،عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیسے کام پر لگاتا ہے؟ آپ نے فرمایا:موت سے پہلے اسے عمل صالح کی توفیق دیتا ہے۔
    اس لئے ہم اعمال صالحہ کے ذریعہ پہلے اللہ کا پسندیدہ بندہ بنیں تاکہ موت کے وقت وہ ہمیں عمل صالح کی توفیق دے ۔ جب موت کا وقت قریب ہو تو کثرت سے لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنا چاہئے، مرنے والے کی زبان سے کلمہ نہ نکلنے تو پاس والوں کو آہستہ آہستہ کلمہ پڑھنا چاہئے تاکہ اس کی زبان پر کلمہ جاری ہوجائے ،حدیث ہے کہ جس کی زبان سے آخری کلمہ لاالہ الااللہ نکلے وہ جنت میں داخل ہوگا ۔

    سوال(15): میرے والد نے اپنی بیٹیوں کی شادی کے واسطے پلاٹ خریدا ہے جسے شادی کے وقت فروخت کیا جائے گا کیا اس پہ زکوۃ دینی ہوگی ؟
    جواب : اگر کسی زمین کو بیچنے کی نیت کرلی جائے تو اس کی حیثیت سامان تجارت کی ہوجاتی ہے ، اس وجہ سے فروخت کرنے کی غرض سے رکھی ہوئی زمین پر زکوۃ دینی ہوگی چاہے شادی کے لئے فروخت کرنی ہو یا کسی اور کام سے ۔
     
  16. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل (قسط- 15)

    جوابات ازشیخ مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹر طائف

    سوال (1): معاشرے میں مشہور ہے کہ خوشبو کا تحفہ سب سے بہترین ہوتا ہے اور خوشبو کا تحفہ لوٹانا نہیں چاہئے کیا حدیث میں ایسی کوئی بات ہے؟
    جواب : نبی ﷺ کو خوشبو بیحد عزیز تھی ، اس وجہ سے خوشبو کا کثرت استعمال آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں ملتا ہے ۔ آپ نے تحفہ کے طور پر پیش کی گئی خوشبو کو لوٹانے سے منع فرمایا ہے۔ یہ ممانعت اس وجہ سے ہے کہ خوشبو کم قیمت والی چیز ہے، کوئی اسے حقیر سمجھ کر لوٹا نہ دے حالانکہ اس کی مہک عمدہ ہے ۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :ثلاثٌ لا تُرَدُّ : الوسائدُ ، والدُّهنُ واللَّبنُ(صحيح الترمذي:2790)
    ترجمہ: ین چیزیں (ہدیہ وتحفہ میں آئیں) تو وہ واپس نہیں کی جاتی ہیں: تکئے ، دُہن(خوشبو) ، اوردودھ ۔
    سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مَن عُرِضَ علَيهِ طيبٌ فلا يرُدَّهُ، فإنَّهُ طيِّبُ الرِّيحِ، خفيفُ المَحملِ(صحيح أبي داود:4172)
    ترجمہ:جسے خوشبو پیش کی جائے تو وہ اسے واپس نہ کرے ،بلاشبہ اس کی مہک عمدہ ہوتی ہے اور اس میں کوئی بوجھ بھی نہیں ہوتا ۔
    خوشبو آپ ﷺ کو عزیز ہونے کے سبب یہ کہہ سکتے ہیں کہ تحفہ میں دی جانے والی عمدہ چیز ہے اور جس کسی کو بھی یہ تحفہ دیا جائے اسے ناپسند یا واپس نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس کی خصوصیت کے ساتھ ممانعت آگئی ہے ۔

    سوال (2): میری والدہ بیماری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکتیں آگے بھی صحتیاب ہونے کی کوئی امید نہیں ہے اور والدہ روزوں کا فدیہ دے دیتی ہیں۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ صحتیاب ہونے کی کوئی امید نہیں ہے تو فدیہ بھی نہ دیں اس بارے میں کیا حکم ہے؟
    جواب : وہ بیمار جن کی شفا یابی کی امید نہ ہو اور ایسے ہی بوڑے مردوعورت جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہو ان دونوں کو روزہ چھوڑنا جائز ہے اور ہرروزے کے بدلے روزانہ ایک مسکین کو نصف صاع(تقریبا ڈیڑھ کلو) گیہوں، چاول یا کھائی جانے والی دوسری اشیاء دیدے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ(البقرة:184)یعنی جو بیمار نہایت مشقت سے روزہ رکھ سکیں وہ فدیہ میں ایک مسکین کو کھانادیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ دائمی مریض اور عمر رسیدہ مرد وعورت کو روزہ چھوڑنے کے بدلے فدیہ دینا ہوگا ، یہی درست بات ہے اور جو لوگ فدیہ کا انکار کرتے ہیں ان کی بات درست نہیں ہے ۔

    سوال (3): تراویح میں آیت سجدہ آگئی اور امام جب سجدہ میں گئے تو ہم رکوع سمجھ کر رکوع میں چلے گئے ، پھر جب سجدہ کا پتا چلا تو ہم سجدہ میں چلے گئے، کیا اس کے لیے سجدہ سہو کرنا ہے؟
    جواب : ایسی صورت میں نماز کے آخر میں سجدہ سہو کرلے ، نبی ﷺ کا فرمان ہے :لِكُلِّ سَهْوٍ سَجدتانِ بعدَ ما يسلِّمُ(صحيح أبي داود:1038)
    ترجمہ: ہر سہو کے لیے سلام کے بعد دو سجدے ہیں ۔

    سوال (4): ابوداود کی حدیث میں اپنے محبوب ( بیٹے ، بیٹی یا بیوی وغیرہ ) کو سونے کا حلقہ پہنانے کو جہنم کی آگ کے حلقہ سے تعبیر کیا گیا ہے کیا اس حدیث کی روشنی میں عورتوں کے لئے سونے کا حلقہ ممنوع ہے ؟
    جواب : ہاں یہ بات ابوداود میں موجود ہے ، حدیث دیکھیں ،سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    من أحبَّ أن يحلِقَ حبيبَه حلقةً من نارٍ فليُحلِقْه حلقةً من ذهبٍ ، ومن أحبَّ أن يُطوِّقَ حبيبَه طوقًا من نارٍ فليُطوِّقْه طوقًا من ذهبٍ ، ومن أحبَّ أن يُسوِّرَ حبيبَه سِوارًا من نارٍ فليُسوِّرْه سِوارًا من ذهبٍ ، ولكن عليكم بالفضَّةِ فالعبوا بها(صحيح أبي داود:4236)
    ترجمہ:جو شخص اپنے محبوب ( بیٹے ، بیٹی یا بیوی وغیرہ ) کو آگ کا حلقہ پہنانا پسند کرتا ہو تو وہ اسے سونے کا حلقہ پہنا دے اور جسے پسند ہو کہ وہ اپنے محبوب کے گلے میں آگ کا طوق ڈالے تو وہ اسے سونے کی ہنسلی پہنا دے اور جسے پسند ہو کہ وہ اپنے محبوب کو آگ کا کنگن پہنائے تو وہ اسے سونے کا کنگن پہنا دے ۔ لیکن تم لوگ چاندی ، اختیار کرو اور اس سے دل بہلاؤ ۔
    یہ حدیث صحیح ہے اور اس حدیث کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ مرد کے ساتھ عورت کے لئے بھی سونے کا حلقہ، سونے کی ہنسلی اور سونے کا کنگن منع ہے مگر یہ حکم منسوخ ہے ، ابوموسیٰ اشعری ؓ کی روایت کی روشنی میں جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایاہے:
    حُرِّمَ لباسُ الحريرِ والذَّهبِ على ذُكورِ أمَّتي وأُحلَّ لإناثِهم(صحيح الترمذي:1720)
    ترجمہ: ریشم کا لباس اورسونا میری امت کے مردوں پر حرام ہے اور ان کی عورتو ں کے لیے حلال کیا گیا ہے۔
    خلاصہ یہ ہوا کہ سونا مردوں پر حرام ہے مگر عورتوں پر حرام نہیں ہے ۔

    سوال (5): زمین خریدتے وقت ہماری بیچنے کی نیت نہیں ہے، ہم نے اپنے پیسے محفوظ کرنے کے کے لیے زمین خریدی کہ بعد میں خود استعمال کریں گے یا بچوں کو دے دیں گے یا کوئی ضرورت پیش آئی تو اس کو بیچ کر ضرورت پوری کر لیں گے تو کیا اس زمین پر زکوة ہے؟
    جواب : جب زمین خریدتے وقت بیچنے کی نیت کی جائے تو یہ سامان تجارت کے حکم میں ہے اس پر زکوۃ دینی ہوگی ، یہی حکم اس صورت میں بھی ہے جب پیسے محفوظ کرنے کے لئے زمین خریدی جائے کیونکہ اب زمین کی حیثیت پیسے کی ہوگئی ہے اور پھر آپ نے کسی نہ کسی شکل میں بیچنے کی بھی نیت کی ہے۔ لہذا آپ مستقبل میں خود استعمال کریں یا بچوں کو دیں یا کسی ضرورت کے تحت بیچ دیں اس پہ زکوۃ دینی ہوگی۔

    سوال (6): کیامسجد عائشہ سے عمرہ کا احرام کا باندھ سکتے ہیں ؟
    جواب : پہلے یہ جان لی جائے کہ مسجد عائشہ کیا ہے ؟ مسجد عائشہ کوئی میقات نہیں ہے بلکہ حدود حرم کا باہری حصہ ہے ، یہاں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرے کا احرام باندھی تھیں۔جو لوگ میقات سے باہر رہتے ہیں وہ جب عمرہ کریں گے تو لازما کسی نہ کسی میقات سے احرام باندھیں گے البتہ وہ لوگ جو مکہ میں یعنی حدود حرم میں رہتے ہیں انہیں عمرے کا احرام باندھنے کے لئے میقات پر جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ حدود حرم سے باہر جاکر کسی بھی جگہ سے احرام باندھ سکتے ہیں اور چونکہ مسجد عائشہ حدود حرم سے باہر ہے لہذا مکہ کا رہائشی عمرہ کے لئے مسجدعائشہ جاکر احرام باندھ سکتے ہیں ۔ جہاں تک مسئلہ ہے ہندوپاک یا دیگر ممالک سے آنے والوں کا کہ وہ مسجد عائشہ سے احرام باندھ سکتے ہیں کہ نہیں ؟ تو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کا پہلا عمرہ لازما میقات سے احرام باندھ کر ہوگا جبکہ ایک سفر میں دوسرے عمرہ کی دلیل نہیں ،حتی کہ دوران حج بھی ایک ہی عمرہ ہے۔ عمرہ کرنے والوں اور حج کرنے والوں کو ایک سفر میں ایک ہی عمرہ پر اکتفا کرنا چاہئے ۔

    سوال (7): استخارہ کی دعا تشھد میں پڑھنا چاہيے یا سلام پھیرنے کے بعد؟
    جواب : استخارہ کی دعا تشہد میں نہیں پڑھنی ہے بلکہ سلام پھیرنے کے بعد پڑھنی ہے ، سیدنا جابر بن عبداللہ سلمی ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ اپنے صحابہ کرام ؓ کو تمام (جائز) کاموں میں استخارہ کرنے کی تعلیم دیتے تھے جس طرح آپ انہیں قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے، آپ فرماتے: إذَا هَمَّ أحَدُكُمْ بالأمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِن غيرِ الفَرِيضَةِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ إنِّي أسْتَخِيرُكَ،،الخ (صحيح البخاري:7390)
    ترجمہ:جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھ لے،پھر یوں کہے :اللَّهُمَّ إنِّي أسْتَخِيرُكَ،،،،
    استخارہ والی یہ حدیث دلیل ہے کہ دعائے استخارہ نماز کے بعد پڑھنی ہے ۔

    سوال (8): اگر کوئی وضو کرتے وقت بسم الله پڑھنا بھول جائے تو جب یاد آئے اسی وقت پڑھ لے یا دوبارہ وضو کرے؟
    جواب : وضو میں بسم اللہ پڑھنا مشروع ومسنون ہے ،واجب نہیں ہے لہذا اگر کوئی وضو کرتے وقت بسم اللہ بھول جائے تو کوئی حرج نہیں ہے اور اسے اپنا وضو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہاں جان بوجھ کر وضو سے پہلے بسم اللہ پڑھنا ترک نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس کا ہمیشہ اہتمام کرنا چاہئے ۔

    سوال (9): میرے ساس وسسر کے عقائد ٹھیک نہیں ہیں، کیا میں اپنے شوہر کو ان کے ساتھ حج و عمره پر جانے سے انکار کردوں کہ وہاں بدمزگی نہ ہو؟
    جواب : آپ کے شوہر ،آپ کے ساس وسسر کے ساتھ حج وعمرہ کے سفر پر جاسکتے ہیں ، آپ کو اس سے نہیں روکنا چاہئے ، اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کے شوہر کو حج وعمرہ کا مسنون طریقہ بتانے کا موقع ملے گا بلکہ مکہ ومدینہ میں حق واضح کرنا بہت آسان ہے کیونکہ یہاں کتاب وسنت پر عمل کیا جاتا ہے ، اگر کوئی حق کا متلاشی ہو تو مکہ ومدینہ کا سفر کرکے خود ہی حق تک پہنچ سکتا ہے اور اگر ساتھ میں کوئی رہبر بھی ہوتو سونے پہ سہاگہ ہوجائے گا ۔ دعوت حق کےلئے اعلی کردار، نرمی ، صبراور حکمت کی ضرورت ہے آپ ان باتوں کی تلقین شوہر کو کریں ۔

    سوال (10): لے پالک بچے کو پستان سے لگانے سے کیا وہ محرم بن جاتے ہیں؟
    جواب : صرف پستان کو منہ لگانے سے لے پالک محرم نہیں بن جائے گا، رضاعت {دودھ پالانا} جس سے حرمت ثابت ہوتی ہے اس کی دو شرطیں ہیں ، پہلی شرط یہ ہے کہ رضاعت دوسال کے درمیان ہو اور رضاعت کی تعداد پانچ ہویعنی بچہ پانچ بار اپنی خوراک پوری کرے تب رضاعت ثابت ہوگی ورنہ نہیں ۔

    سوال (11): اگر کوئی ہم سے معافی مانگے اور ہم چاہ کر بھی اسے معاف نہ کر پائیں اور نہ ہی اسے بتائیں ۔ تو سامنے والا غلط فہمی میں رہتا ہے کہ ہم نے معافی مانگ لی ہے، کیا اس پر ہمیں گناہ تو نہیں؟
    جواب : اگر ہم سے کوئی اپنی غلطی کی معافی مانگے تو ہمیں صاف لفظوں میں اس کے سامنے یا کسی کی معرفت ہی سہی معاف کرنے کی خبر بھیج دینی چاہئے ۔اسلام میں معاف کرنے والے کادرجہ بڑا ہے ، ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنی چاہئے کہ اللہ کے حق میں ہم نے بھی ہزاروں غلطیاں کی ہیں بلکہ حقوق العباد کے معاملے میں بھی کتنی ساری غلطیاں ہوں گی ۔جب ہم خود یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں معاف کردیا جائے تو دوسروں کو بھی ہمیں معاف کردینا چاہئے ۔اگر غلطی کرنے والے نے اپنی غلطی کے بقدر معافی مانگ لی ہے تو معاف نہ کرنا زیادتی ہے اور اگر غلطی کو ہتھیار بناکر ذلیل کرنا مقصد ہے تو پھر آپ اللہ کے یہاں گنہگار ہوں گے ۔

    سوال (12): کیا زکاة کی رقم زکاة کے مستحق افراد کو عمرہ پر جانے کیلئے دی جا سکتی ہے؟
    جواب : بہتر یہ ہے کہ مسکین افراد کو صدقہ وخیرات یا عطیات سے عمرہ یا حج کرایا جائے تاکہ زکوۃ کو ان کے اصل مصارف میں خرچ کرکے اللہ کے حکم کی ہوبہو پاسداری ہوسکے تاہم اہل علم نے فقیرومحتاج کو مال زکوۃ سے فریضہ حج اداکروانا جائز قرار دیا ہے ۔

    سوال (13): عورت کی میت کو غسل دینے اور دفنانے کا طریقه بتا دیں اور کیا حالت حیض میں غسل دے سکتے ہیں؟
    جواب : میت کو غسل دینے کا طریقہ یہ ہے کہ گرم پانی اور اس میں بیری کا پتہ استعمال کرنے کے لئے پہلےسے انتظام کرلیا جائے پھر میت کے جسم کا کپڑا اتارلیا جائے اور ستر ڈھانپ دئے جائیں، یاد رہے ایک عورت کامکمل بدن ستر ہے مگر عورت کا عورت کے لئےناف سے گھٹنے تک ستر ہے۔ عورت کو عورت ہی غسل دے گی سوائے اس کے شوہر کے ۔
    ٭غسل دیتے وقت سب سے پہلے میتہ کے ہاتھ وپیر کے ناخن کاٹ دئے جائیں اگر بڑے ہوں ، اسے بعد میں میتہ کے کفن میں ہی رکھ دیا جائے ۔
    ٭پھرغسل دینے والی اب نرمی سے میتہ کا پیٹ دبائے تاکہ فضلات باہر نکل جائیں اور ہاتھ پہ دستانہ لگاکر اگلے اور پچھلے شرم گاہ کی تیار شدہ بیری والے پانی سے صفائی کرے ۔
    ٭اس کے بعد نماز کی طرح وضو کرائے ، دونوں ہتھیلیاں کلائی تک تین بار، منہ اور ناک صاف کرے ۔تین بار چہرہ، تین بار دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت، سر اور کان کا مسح پھر دونوں پیر ٹخنوں سمیت دھوئے۔
    ٭ وضو کراکر بیری والا پانی پہلے سرپر بہائے پھر دائیں اوربائیں پہلو پر بہائے ۔اس کے بعد پورے بدن پر پانی بہائے۔کم ازکم تین بار جسم پر بہائے تاکہ مکمل طہارت حاصل ہویہ افضل ہے تاہم ایک مرتبہ سر سے پیر تک پورےجسم کادھونا بھی کفایت کرجائے گا۔ ضرورت کے تحت تین سے زائد بار بھی پانی بہاسکتے ہیں ۔ آخری بارغسل دیتے ہوئے کافور بھی ملالے تاکہ بدن خوشبودار ہوجائے اور نجاست کی مہک ختم ہوجائے۔
    ٭ اور آخر میں بالوں کی تین چوٹیاں بنا دے گی۔
    حیض والی عورت میتہ کو غسل دے سکتی ہے، ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ہے ، حیض میں نمازوروزہ ، طواف اور مسجد میں ٹھہرنا منع ہے باقی سارے کام کرسکتی ہے ۔

    سوال (14): گھر میں آگ لگ گئی اور دھوئیں سے گھٹن کی وجہ سے روزہ توڑنا پڑا، کیا اس روزہ کی قضا دینی ہے اور اس کا کفارہ بھی ہے؟
    جواب : ضرورت اور مجبوری کے تحت فرض روزہ توڑنا پڑجائے تو محض اس کی قضا دینی ہے ، اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے ۔

    سوال (15): وتر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھنا بھول جائیں تو کیا کریں؟
    جواب : دعائے قنوت پڑھنی واجب نہیں ہے مستحب ہے۔کوئی اگر وتر کی نماز میں دعائے قنوت بھول جائے تو کوئی حرج نہیں ہے، نہ ہی سجدہ سہو کرنا لازم ہے تاہم سجدہ سہو کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں، نبی ﷺ کا فرمان ہے :لِكُلِّ سَهْوٍ سَجدتانِ بعدَ ما يسلِّمُ(صحيح أبي داود:1038)
    ترجمہ: ہر سہو کے لیے سلام کے بعد دو سجدے ہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں