واٹس ایپ گروپ" اسلامیات" کے سوالات اور ان کے جوابات

مقبول احمد سلفی نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏جولائی 26, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,334
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    695
    رمضان المبارک 2018 کے چند اہم سوالات وجوابات
    جوابات از شیخ مقبول احمد سلفی

    1/ نیند میں دانت کا خون لعاب کے ساتھ حلق میں چلا گیا اور اسی طرح جسے دانت سے خون آئے وہ کیا تھوک کی طرح گھونٹ سکتا ہے ؟
    جواب : آدمی نیند میں مرفوع القلم ہے اس وجہ سے بحالت نیند جو خون حلق سے نیچے اترگیا اس پہ کوئی مسئلہ نہیں ہے تاہم بیداری کی حالت میں دانتوں سے خون نکلنے پر باہر پھینکنا ہوگا۔ عمدا اسے گھونٹنے سے روزہ فاسد ہوجائے گا ۔ تھوک کا معاملہ الگ ہے کہ اس کے گھونٹنے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔

    2/ بیوی کے ساتھ مستی کرتے ہوئے منی خارج ہوجائے توروزہ باقی رہے گا یا ٹوٹ جائے گا؟
    جواب : روزہ کی حالت میں اسی شخص کو بیوی سے مستی کرنی چاہئے جسے یقین ہو کہ جماع میں واقع نہیں ہوگا یا منی کا اخراج نہیں ہوگا ۔ اگر کسی نے بیوی سے مستی کرتے ہوئے منی خارج کرلیا (بغیر جماع کے)تو اس کا روزہ فاسد ہوگیا۔ اس شخص کو اس روزے کے بدلے قضا کرنا ہوگا۔

    3/ فطرانہ کی رقم بتلاکر دینا ضروری ہے ؟
    جواب : ضروری نہیں ہے کہ فطرانہ بتلاکر ہی دیا جائے ،بغیر بتلائے بھی دے سکتے ہیں اس بات کی جانکاری کے ساتھ کہ بلاضرورت فطرانہ میں رقم دینا جائز نہیں ہے۔

    4/ روزہ کی حالت میں بیوی سے بات کرتے ہوئے مذی نکل جائے تو اس سے روزہ پر کیسا اثر پڑتا ہے ؟
    جواب : مذی لیس دار پتلا مادہ ہے جو شہوانی خیالات کے وقت شرمگاہ سے نکلتا ہے اس کے نکلنے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا ہے ۔یہ ناقض وضو ہے ۔

    5/ بہار ویوپی کے بہت سے افراد روزہ میں بھی گل منجن کا استعمال کرتے ہیں اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟
    جواب : گل تمباکو سے تیار کیا ہوا ایک قسم کا منجن ہے ۔ اس کا وہی نقصان ہے جو سورتی، گٹکھا اور سگریٹ وغیرہ کا ہے ۔ بالفاظ دیگر اگر سگریٹ دھوئیں والا تمباکو ہے تو گل منجن بغیر دھوئیں والا تمباکوہے۔
    یہ روزہ اور بغیر روزہ کے ہمیشہ حرام ہے اور جو چیز حرام ہے اس کا ارتکاب روزہ کی حالت میں کرنا اشد گناہ کا باعث ہے۔ اگر کوئی لاعلمی میں عام منجن سمجھ کر اس کا استعمال کیا کرتا تھا تو وہ آئندہ کے لئے توبہ کے ساتھ ترک کرنے کا پختہ ارادہ کرے ۔

    6/ میں ہرسال رمضان میں سونے چاندی کی زکوۃ نکالتا تھا اس سال میری تنخواہ نہیں آئی میں بہت پریشان ہوں اوپر سے قرض بھی ہے میرے لئے کیا حکم ہے ؟
    جواب : زکوۃ کے لئے رمضان خاص نہیں ہے ، آپ کے خیال سے محسوس ہوتا ہے کہ آپ رمضان میں ہی زکوۃ نکالنا ضروری سمجھتے ہیں ۔ جب سونا چاندی پر سال گزرے تب زکوۃ ہے ۔ اگر ہمیشہ رمضان میں ہی ان کی زکوۃ دیتے آئے ہیں تو امسال بھی رمضان میں زکوۃ نکالیں بشرطیکہ آپ کے پاس 85 گرام سونا اور 595گرام چاندی ہو۔ اس سے کم میں زکوۃ فرض نہیں ہے۔ سونا اور چاندی کی زکوۃ نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ ڈھائی فیصدنفس سونا اور چاندی زکوۃ میں ادا کردیں یا اسے بیچ کر اس کی قیمت زکوۃ کے طور پر ادا کریں یا پھر دوسرے مال سے ۔ ان تین صورتوں میں سے جو ممکن ہو کرلیں ۔ آپ روزگار والے ہیں اور قرض چکانا آسان ہو تو قرض بھی لے کر زکوۃ ادا کرسکتے ہیں۔

    7/ پوتا پوتی اور نواسہ نواسی کو زکوۃ دینا کیسا ہے ؟
    جواب : پوتا ،پوتی، نواسہ اور نواسہ کو زکوۃ کے مال سے مدد نہیں کرسکتے ہیں۔شیخ الاسلام نے کہا کہ آباءواجداد سے لیکر اولاد وپوتے تک زکوۃ اس صورت میں دے سکتے ہیں جب وہ زکوۃ کے مستحق ہوں اور زکوۃ دینے والا ان کے اخراجات برداشت کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔

    8/ ایک شخص تراویح کی نماز پڑھا رہاتھاکہ دوسری رکعت کے بعد تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہوگیااور قرات کرنے لگا ایسی صورت میں کیا کیا جائے گا؟
    جواب : مقتدی کو چاہئے کہ امام کو یاد دلائے اور امام قرات چھوڑکرلازمی طورپر بیٹھ جائے کیونکہ رات کی نماز دودو رکعت ہے۔تشہد کرے اور سلام پھیرکر سجدہ سہوکرے۔

    9/ ہمارے ساتھ کمپنی میں غیرمسلم بھی رہتے ہیں ، کیا ہم اپنی افطاری کے وقت انہیں افطار کی دعوت دے سکتے ہیں ؟
    جواب : افطار اس کے لئے ہے جو روزہ رکھتا ہے اس لئے اصلا روزہ دار کو ہی مدعو کیا جائے،یہ بڑے اجر کا کام ہے لیکن جو روزہ دار نہ ہو اسے مدعو نہیں کیا جائے البتہ اگر کوئی غیرمسلم افطار کی دعوت میں شریک ہوجائے تو اسے نہیں اٹھایا جائے اور وہ غیر مسلم جو اسلام کی طرف مائل ہو یا اسے دعوت دینا مقصد ہو تو اسلامی حکمت کے تئیں افطار پہ غیرمسلم کو بلاسکتے ہیں ورنہ نہیں۔

    10/ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ کسی غیرمسلم کو خون دینے کی نوبت آگئی، ڈاکٹر نے روزہ توڑ کر خون دینے کو کہا ایسی صورت میں کیا کسی کافر کے لئے مسلمان اپنا روزہ توڑ سکتا ہے ؟
    جواب : ضرورت پڑنے پر مسلمان آدمی کافر کو اپناخون عطیہ کرسکتا ہے ،اس میں شرعا کوئی ممانعت نہیں ہے یہ انسان ہونے کے تئیں اس کے ساتھ اسلام کا حسن تعامل ہے ۔اگر کسی کافر کو ایمرجنسی میں خون کی ضرورت ہو اور ڈاکٹر کا مشورہ روزہ توڑنے کا ہو تو وہ اپنا روزہ توڑ کر خون عطیہ کرسکتا ہے ۔ ویسے علم میں یہ بات رہے کہ بعض علماء حجامہ کو مفسد صوم نہیں خیال کرتے اس صورت میں محض خون کے عطیہ سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔یہ بات ضرور ہے کہ زیادہ مقدار میں خون نکلنے سے کمزوری محسوس ہوگی ۔ اس بناپر وہ اپنا روزہ توڑنے کے لئے معذور ہے ،بعض میں اس کی قضا کرے گا ۔

    11/ مجھے دعائے قنوت میں امام کے پیچھے بلند آواز سے آمین کہنے کی شریعت سے کوئی دلیل چاہئے ۔
    جواب : عنِ ابنِ عبَّاسٍ قالَ : قنتَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ شَهرًا متتابعًا في الظُّهرِ والعصرِ والمغربِ والعشاءِ وصلاةِ الصُّبحِ في دبرِ كلِّ صلاةٍ إذا قالَ سمعَ اللَّهُ لمن حمدَهُ منَ الرَّكعةِ الآخرةِ يدعو على أحياءٍ من بني سُلَيمٍ على رِعلٍ وذَكوانَ وعُصيَّةَ ويؤمِّنُ مَن خلفَهُ(صحيح أبي داود:1443)
    ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کہتے کہ رسول اللہﷺ مسلسل ایک مہینہ تک ظہر ، عصر، مغرب، عشاءاور صبح کی نماز کی آخری رکعت میں سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد بنو سلیم کے قبائل رعل ، ذکوان، عصیہ کے لیے بددعا کرتے اور لوگ آپ کے پیچھے آمین کہتے۔
    قنوت نازلہ کی طرح قنوت وتر بھی دعا ہے ،اس میں قنوت نازلہ کی طرح دعاؤں کا اضافہ کرسکتے ہیں لہذا جب امام زور سے دعائیں کرے تو مقتدی بلند آواز سے آمین کہے گا۔

    12/ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ کوئی معتکف اپنے رشتہ دار کی وفات پر اس کے جنازہ میں شریک ہوسکتا ہے ؟
    جواب : ایسی کوئی مرفوع صحیح حدیث نہیں ہے جس سے پتہ چلے کہ معتکف جنازہ میں شریک ہوسکتا ہے، ابن ماجہ کی یہ روایت موضوع ہے۔
    المُعْتَكِفُ يَتْبَعُ الجِنازَةَ ، ويَعُودُ المريضَ.(ضعيف ابن ماجه:351)
    ترجمہ: اعتکاف کرنے والا جنازہ کے پیچھے چل سکتا ہے اور مریض کی عیادت کرسکتا ہے۔
    البتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحیح اثر میں مذکور ہے کہ معتکف کا جنازہ میں شریک نہ ہونا ہی سنت ہے۔
    عن عائشةَ قالت السُّنَّةُ على المعتَكفِ أن لا يعودَ مريضًا ولا يشهدَ جنازةً ولا يمسَّ امرأةً ولا يباشرَها ولا يخرجَ لحاجةٍ إلَّا لما لا بدَّ منهُ ولا اعتِكافَ إلَّا بصومٍ ولا اعتِكافَ إلَّا في مسجدٍ جامِعٍ(صحيح أبي داود:2473)
    ترجمہ: ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا نے فرمایا کہ معتکف کے لیے سنت یہ ہے کہ مریض کی عیادت کو نہ جائے ‘ جنازے میں شریک نہ ہو ‘ عورت سے مس نہ کرے اور نہ اس سے مباشرت ( صحبت ) کرے اور کسی انتہائی ضروری کام کے بغیر مسجد سے نہ نکلے ۔ اور روزے کے بغیر اعتکاف نہیں اور مسجد جامع کے علاوہ کہیں اعتکاف نہیں ۔
    کچھ آثار سے بعض صحابہ کا جنازہ میں شرکت معلوم ہوتی ہے اس لئے ساری روایات وآثار کو جمع کرکے یہ رائے قوی معلوم ہوتی ہے کہ اپنے قریبی رشتہ دار یا جن کا حق ہے معتکف پر ان کے جنازہ میں شریک ہوسکتا ہے ورنہ نہیں۔

    13/ میں سوچتا ہوں کہ گھر کے افراد کی طرف سے فطرانہ میں کسی کی جانب سے گیہوں،کسی کی جانب سے چاول، کسی کی جانب سے نمک ، کسی کی جانب سے تیل ، کسی کی جانب سے گوشت اس طرح نکال کر جمع کروں پھر انہیں الگ الگ شخص کو ساری چیزوں میں سے تھوڑا تھوڑا دینے کے لئے تقسیم کروں کیا اس طرح فطرانہ ادا ہوگا؟
    جواب : کھانے والی ہرشی فطرانہ میں دی جاسکتی ہے اس لحاظ سے آپ کی سوچ درست معلوم ہوتی ہے بلکہ ایک اچھی سوچ کہی جاسکتی ہے اس طرح ہرمسکین جو فطرانہ لینے سے کتراتے ہیں اور رقم کا مطالبہ کرتے ہیں ان سب کے لئے نعم البدل ہے۔شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں کہ صحيح يہى ہے كہ جو چيز بھى خوراک ہو خواہ وہ دانے کی شکل میں ہو يا پھل اور گوشت وغيرہ کی شکل میں تو وہ فطرانہ ميں كافى ہو گى۔(الشرح الممتع :6 / 183).
    یہاں ایک بات مزید بتلانا چاہوں گا کہ صرف ایک شخص کی طرف سے یعنی ایک صاع کے بدلے تھوڑا گیہوں ،تھوڑا چاول ،تھوڑی دال اس طرح نہیں نکال سکتے ہیں۔

    14/ غیر رمضان میں اعتکاف کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
    جواب : حقیقت تو یہی ہے کہ نبی ﷺ نے غیررمضان میں اعتکاف نہیں کیا ہے سوائے اس کے کہ رمضان میں جب کبھی اعتکاف نہ کرسکے تو شوال میں کیا ۔ اس وجہ سے اعتکاف اصلا رمضان میں ہی مشروع ہے لیکن اگر کوئی غیررمضان میں اعتکاف کرے تو بھی اہل علم کے اقوال کی روشنی میں جائز ہے۔

    15/ کیا روزے کا فدیہ زکوۃ کے مستحقین کو دے سکتے ہیں اور فدیہ میں قیمت ادا کرسکتے ہیں ؟
    جواب : زکوۃ کے آٹھ مصارف ہیں جبکہ روزہ کے فدیہ کا مصرف فقراء و مسکین بتلایا گیا لہذا ہم صرف فقیرو مسکین کو ہی فدیہ دیں گے اور طعام یعنی مسکین کو کھانا دینا ہے نہ کہ اس کی قیمت کیونکہ اللہ کا فرمان ہے : وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ(البقرۃ:184) ۔
    ترجمہ: اوروہ لوگ جوطاقت رکھتے ہيں وہ بطور فدیہ مسکین کوکھانا کھلائیں۔
    اگر ہم اپنے من سے مسکین کو فدیہ کی قیمت دیتے ہیں تو اللہ کے فرمان کے خلاف کرتے ہیں ۔

    16/وضو کرتے ہوئے حلق سے پانی اتر گیا ایسی صورت میں روزہ باقی ہے یانہیں ؟
    جواب : اللہ تعالی بندوں سے بھول چوک معاف کردیا ہے اس وجہ سے کلی کرتے وقت پانی کا حلق سے نیچے اتر جانا روزہ کو فاسد نہیں کرے گا۔ چونکہ بحالت روزہ ناک میں پانی ڈالتے وقت احتیاط کا حکم ہے اس وجہ سے روزہ دار کلی کرتے وقت اور ناک صاف کرتے وقت احتیاط کرے ۔

    17/ ایک شخص کو فجر کے بعد قے آیا اس نے پھر دوا کھالی اور پانی وغیرہ پی لیا اس کے روزے کا حکم ہے ؟
    جواب : اس صورت میں اس کا روزہ ٹوٹ گیا ،رمضان کے بعد وہ ایک روزہ قضا کرے گا۔

    18/ مجھے رات میں حیض آیا ہے اس سے بیحد تکلیف محسوس کررہی ہو ں اب کیاعبادت کا کوئی کام نہیں کرسکتی اور کیا مجھے بھی دن میں بھوکا رہنا پڑے گا جیساکہ میں سنی ہوں ؟
    جواب : بحالت حیض روزہ اور نماز منع ہے لیکن ذکر قلبی اور ذکر لسانی منع نہیں ہے ۔ دعاواستغفار کریں، ذکرواذکار کریں اور مصحف کو کسی چیز سے پکڑ کر تلاوت کریں ،موبائل سے تلاوت کریں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے،کتب بینی اور مواعظ حسنہ سے مستفید ہوں ۔اس سے متعلق میرا تفصیلی مضمون میرے بلاگ پر مطالعہ کریں۔دن میں آپ کو بھوکا رہنے کی ضرروت نہیں ہے ۔

    19/ زکوۃکے پیسے سے قبرستان کی تعمیرکی جاسکتی ہے یا نہیں ؟
    جواب : زکوۃ کے پیسے سے قبرستان کی تعمیر نہیں کی جاسکتی ہے۔

    20/ ران کو بغیر پردے کے چھونے سے وضوٹوٹ جاتا ہے کیو نکہ یہ بھی ستر میں داخل ہے ؟
    جواب : بغیر حائل صرف اگلی اور پچھلی شرمگاہ کو چھونے سے وضو ٹوٹے گا ،ان کے علاوہ کسی ستر کو چھونے سے وضو لازم نہیں آئے گا ۔

    21/ ہم لوگوں نے کئی روز تک اونٹ کے گوشت سے بنے سموسے کھائے اور نماز پڑھ لی ایسی نمازوں کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : اونٹ کا گوشت ناقض وضو ہے ، جو نماز اونٹ کے گوشت سے بنے سموسے کھاکر پڑھی گئی گویا وہ بغیر وضو کے پڑھی گئی نماز ہوئی ۔ایسی نمازہوئی ہی نہیں ۔لہذا ان نمازوں کا اعادہ کرنا پڑے گا۔

    22/ ایک شخص کانپور کے حساب سے سحری کھایا وہ بہار پہنچ کر اب کانپور کے حساب سے افطار کرےیا بہار کے حساب سے ؟
    جواب : روزہ دار کے لئے جب اور جس جگہ سورج غروب ہوجائے اس وقت اور اس جگہ کے اعتبار سے افطار کرے ۔ اگر جہاز میں رہتے وقت سورج غروب ہورہاہے تو جہاز میں افطار کرے اور جہاز سے اتر کر ایرپورٹ یا گاؤں ، سڑک ، بستی میں سورج ڈوب رہاہے تو وہاں افطار کرے۔

    23/ کیا رمضان میں عبادت صرف طاق راتوں میں ہی مشروع ہے یا جفت راتوں میں بھی کرسکتے ہیں؟
    جواب : لوگوں کا یہ خیال غلط ہے کہ ہم صرف طاق راتوں میں ہی عبادت کریں ۔ میں تو لوگوں کو کہتا ہوں کہ شب قدر پانے کے لئے سنت نبوی اپنائی جائے ۔ آپ ﷺ آخری عشرہ کی مکمل راتوں میں شب بیداری فرماتے یہی وجہ ہےکہ صحابہ کرام سے لیکر آج تک کے بہت سارے اہل علم طاق وجفت دونوں راتوں میں بیدار ہوکرخوب خوب عبادت کرتے اور شب قدر تلاش کیا کرتے ۔ ہمیں بھی اس سنت پر عمل کرنا چاہئے اس سے نہ صرف عبادتوں پہ اجر عظیم کا اضافہ ہوگا بلکہ شب قدر بھی فوت نہیں ہوگی ۔

    24/ آخری عشرہ کی طاق رات اگر جمعہ کی شب ہوجائے تو وہ شب قدر ہے، اس کی کیا حقیقت ہے ؟
    جواب : یہ ایک مجرد قول ہے جس کی کتاب وسنت میں کوئی دلیل نہیں ہے ۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے قائل کو اپنی زندگی میں کبھی شب جمعہ لیلۃ القدر ہونے کا احساس ہوا ہو اس بنیاد پر یہ بات کہی ہو۔ دلائل سے ہمیں یہ معلوم ہے کہ شب قدر آخری عشرہ میں ہے اور اہل علم کا کہنا ہے کہ یہ رات ہرسال منتقل ہوتی رہتی ہے ۔ اس وجہ سے ہمیں اس رات کو پانے کے لئے مکمل آخری عشرہ اجتہاد کرنا چاہئے ۔

    25/ ایک رات آنکھ لگ گئی، فجر کی اذان سے آنکھ کھلی۔ جلدی سے کلی کرکے ایک گلاس پانی پی لیا کیا وہ روزہ میرا ہوگیایا اس کی قضا کرنی پڑے گی ؟
    جواب : شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ اگر کسی نے اذان کے وقت معمولی سا کھالیا یا پی لیا تو بظاہر اس میں کوئی حرج نہیں ہے ،اس بات کے ساتھ کہ اسے صبح ہونے کا علم نہ رہاہو۔

    26/ ناپاکی کی حالت میں سحری کھانا کیسا ہے ؟
    جواب : ہاں، ناپاکی کی حالت میں سحری کھاسکتے ہیں ۔

    27/ اگر ہم خلیجی ملک میں رہنے والے اپنے ملک میں فطرانہ دیں تو دے سکتے ہیں یا نہیں اور ہم کس ملک کے حساب سے فطرانہ دینا چاہئے ؟
    جواب : خلیجی ممالک میں کام کرنے والے ضرورت کے تحت فطرانہ اپنے ممالک میں بھی دے سکتے ہیں اور ہر ملک کے مسلمانوں کے لئے فطرانہ یکساں ہے وہ تقریبا ڈھائی کلو فیکس اناج ہے۔

    28/ ختم قرآن پر مٹھائی تقسیم کرناکیسا ہے ؟
    جواب : ختم قرآن پر مٹھائی تقسیم کرنے کا عمل کتاب وسنت میں موجود نہیں ہے اس لئے اس سے بچنا اولی وافضل ہے ۔اگر کہیں تکلف اور کسی خاص رسم ورواج سے بچتے ہوئے یونہی سادہ انداز میں کسی نے نمازیوں کے درمیان مٹھائی تقسیم کردی تواس میں کوئی حرج نہیں ۔بعض جگہوں پر ختم قرآن پہ تقریب، کھانے پینے میں افراط اور مختلف قسم کےطور طریقے رائج ہیں ،ان چیزوں کی شرعا گنجائش نہیں ہے ۔

    29/ جمعہ کے دن عید آجائے تو نماز جمعہ کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : اگر جمعہ کے دن عید کی نماز پڑجائے تو اس دن جمعہ کی نمازبھی پڑھ سکتے ہیں یاپھر ظہر ہی ادا کرنا کافی ہوگا۔
    اجتمعَ عيدانِ على عَهدِ رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ فصلَّى بالنَّاسِ ثمَّ قالَ من شاءَ أن يأتيَ الجمعةَ فليأتِها ومن شاءَ أن يتخلَّفَ فليتخلَّف(صحيح ابن ماجه:1091)
    ترجمہ : ابن عمر رضي الله عنهما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک ساتھ دو عید پڑگئیں (یعنی عید اور جمعہ)، تو آپ نے عید کی نماز پڑھانے کے فرمایا کہ: جو شخص جمعہ پڑھنا چاہے توپڑھ لے، اور جو نہیں پڑھنا چاہتا ہے تو وہ نہ پڑھے۔

    30/ بعض خواتین کا خیال ہے کہ روزہ کی حالت میں بے پردہ ہونے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے کیاایسا خیال درست ہے ؟
    جواب : روزہ ایک پاکیزہ عمل ہے ، اور خالص اللہ کی خشنودی کے لئے ہے، اس لئے روزہ کا شمار عظیم عبادتوں میں ہوتا ہے ۔ روزہ تقوی کا عظیم مظہر ہے ۔ روزہ ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس حالت میں گناہ کا کوئی کام نہ کریں، تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو۔ اگر کوئی خاتون روزہ کی حالت میں بے پردہ ہوگئی تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا ، مگر بے پردگی اسلام میں حرام ہے ، اور پردہ میں چہرہ بھی داخل ہے ، بلکہ لوگوں کی توجہ کا اصل مرکز چہرہ ہی ہے ، اسے اجنبی مردوں سے چھپائے رکھنا عورت پر لازم ہے ۔
    روزہ مسلم خاتون سے مطالبہ کرتا ہے کہ روزے کی حالت میں بے پردہ باہر نہ نکلیں۔ بازار میں بلاضرورت اور بے پردہ گھومنا باعث گناہ ہے ۔ اجنبی مردوں کے سامنے چہرہ کھلے آناجاناحرام ہے ۔ اور یہ بات بھی ذہن نشیں کرلیں کہ یہ کام صرف روزہ کی حالت میں ہی نہیں عام حالات میں بھی ممنوع ہیں۔ روزے کی حالت میں یہ گناہ اور بھی شدید ہوجاتا ہے ۔ کتنے عیب کی بات ہے کہ ایک طرف خاتون روزہ رکھ کر اللہ کو راضی کرنا چاہتی ہے اور دوسری طرف بے پردہ ہوکر رب کو ناراض بھی کر رہی ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,274
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    695
    عیدسے متعلق سوالوں کے جواب

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    امید کہ آپ سب مشائخ حضرات اللہ کے فضل و کرم سے بخیر و عافیت سے ہوں گے،عید کے دن کے تعلق سے کچھ سوالات ہیں برائے مہربانی دلائل کی روشنی میں جواب دیکر شکریہ کا موقع مرحمت فرمائیں گے۔
    (1) کیا ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرنا چاہئے یا نہیں؟
    (2) سبح اسم ربک الاعلی جب امام پڑھتا ہے تو مقتدی بھی کچھ کلمہ پڑھتے ہیں کیا ایسا کچھ پڑھنا چاہئے؟
    (3) سورہ غاشیہ کی آخری آیت جب امام پڑھتا ہے تو مقتدی بھی "اللهم حاسبنی حسابا یسیرا "پڑھتے ہیں کیا یہ درست ہے؟
    (4) کیا عید گاہ میں پکّا یا کچّا ممبر کی کوئی گنجائش ہے؟
    (5) کیا عید کے دن گلے ملنا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم یا صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے ثابت ہے؟
    (6) تکبیریں جو کہ چاند دیکھنے کے بعد سے نماز ادا کرنے تک پڑھتے ہیں کیا نماز کے بعد بھی پڑھنی چاہیے؟
    (7) ایک امام جو خود ایک نماز پڑھا چکا ہو دوسرے عالم کے ہوتے ہوئے کیا دوبارہ امامت کرا سکتا ہے یعنی ایک ہی امام دو مرتبہ جماعت کرایاکیااس طرح درست ہے؟
    دراصل مجھے ایک نئی جگہ نماز پڑھنے کا موقع ملا جو میں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا تھا وہ سب وہاں دیکھا اور یہ سوالات میرے ذہن میں آئے برائے مہربانی جواب ضرور دیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔
    سائل : اشرف نذیر، جامتاڑا۔جھارکھنڈ(ممبر اسلامیات گروپ واٹس ایپ)

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    الحمدللہ:
    آپ کے تمام سوالوں کے جواب بالترتیب مندرجہ ذیل ہیں ۔

    جواب (1) : عیدین کی زائد تکبیرات پہ رفع یدین کرنا رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے ۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اپنی مسند میں بیان کرتے ہیں ۔
    ويرفعُهما في كلِّ تَكبيرةٍ يُكبِّرُها قبلَ الرُّكوعِ حتَّى تنقضيَ صلاتُهُ(صحيح أبي داود:722)
    ترجمہ: آپ ہر رکعت میں رکوع سے پہلے ہر تکبیر میں رفع یدین کرتے، یہاں تک کہ آپ کی نماز پوری ہوجاتی۔
    یہ حدیث دلیل ہے کہ آپ ﷺ رکوع سے پہلے تمام تکبیر پر دونوں ہاتھ اٹھایا کرتے تھے ۔ اس کو مندرجہ ذیل روایت سے بھی تقویت ملتی ہے۔
    عن وائل بن حُجْر قال:رأيتُ رسول الله - صلَّى الله عليه وسلَّم - يرفع يدَيْه مع التكبير۔(رواه أحمد :4/ 316 والطيالسي :1021والدَّارِمي :1/ 285).
    ترجمہ: وائل بن حجر سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو تمام تکبیرات پر رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا۔
    حکم : اس کی سند کو شیخ البانی نے حسن کہا ہے۔(إرواء الغليل:3/113)

    جواب (2): سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى(سورہ الاعلی:1)
    اس کے جواب میں "سبحان ربی الاعلی "کہنے کی دلیل ملتی ہے،روایت دیکھیں :
    أنَّ النَّبيَّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ كانَ إذا قرأَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى قالَ سبحانَ ربِّيَ الأعلى۔
    ترجمہ: نبی ﷺ جب "سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى" کی تلاوت کرتے تو آپ کہتے "سبحانَ ربِّيَ الأعلى"۔
    اس کو شیخ البانی نے صحیح قرار دیا ہے ۔ (صحیح ابوداؤد: 883)
    گوکہ یہ روایت صحیح ہے مگر سورہ فاتحہ کے آخر میں آمین کہنےکے سوا مقتدی کے لئے فرض نماز میں قرآن کی کسی آیت کا جواب دینا ثابت نہیں ہے۔ جن بعض صحیح روایات سے قرآن کی بعض آیات کا جواب دینا ثابت ہے وہ سب امام کے لئے ہے۔ہاں نفل نماز میں امام یا مقتدی بھی قرآنی آیات کا جواب دے سکتا ہے جيساکہ نبی ﷺ سے ثابت ہے لیکن فرض نماز میں ایسا کرنا صحیح نہیں کیونکہ فرض نماز میں اگرآپ ﷺ قرآنی آیات کا جواب دیتے تو صحابہ کرام سے حرف حرف وہ باتیں منقول ہوتیں مگرایسا نہیں ہے ۔

    جواب (3): سورہ غاشیہ کے آخر میں" اللهم حاسبني حساباً يسيراً "پڑھنے سےمتعلق کوئی روایت نبی ﷺ سےمجھے نہیں ملی ، ایک روایت اس طرح آتی ہے :
    سیدہ عائشہ رضى الله عنها فرماتی ہیں :كان النبي، صلى الله عليه وسلم ، يقول في بعض صلاته: "اللهم حاسبني حساباً يسيراً".فقالت عائشة رضي الله عنها:ما الحساب اليسير؟قال:أن ينظر في كتابه فيتجاوز عنه (رواه أحمد وقال الألباني : إسناده جيد)
    ترجمہ : نبی کریمﷺ اپنی بعض نمازوں میں"اللهم حاسبني حساباً يسيرا" پڑھا کرتے تھے۔سیدہ عائشہ نے دریافت کیا کہ آسان حساب سے کیا مراد ہے؟ تو آپ نے فرمایا:اللہ اعمال نامہ کو دیکھے اور بندے سے درگزر کردے۔
    اس حدیث سے بس یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک دعا ہے جسے نبی ﷺ اپنی بعض نمازوں میں پڑھا کرتےتھے، اسے سورہ غاشیہ یا اس کی آخری آیت" إن إلينا إيابهم، ثم إن علينا حسابهم"سے خاص کرنا صحیح نہیں ہے ۔

    جواب (4): شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ عید کی نماز میں امام کے لئے منبر پر خطاب کرنا مسنون ہے؟
    تو شیخ نے جواب دیا کہ کچھ علمائے کرام اس بات کے قائل ہیں کہ یہ سنت ہے وہ اس وجہ سے کہ جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے : نبی ﷺ نے لوگوں کو عید کے دن خطاب کیا اور پھر نیچے اتر کر خواتین کے پاس گئے۔
    اس حدیث کی روشنی میں ان کا کہنا ہے کہ نیچے اترنے کا عمل کسی اونچی جگہ سے ہی ممکن ہے چنانچہ اسی پر عمل جاری و ساری ہے۔
    دیگرعلماء کہتے ہیں کہ عید گاہ میں منبر نہ لیکر جانا زیادہ بہتر ہے مگر عید گاہ میں منبر لے جانے یا نہ لے جانے ہر دو صورت کی گنجائش ہے ان شاء اللہ۔
    (مجموع فتاوى ورسائل ابن عثيمين:16 /350) .

    جواب (5): شيخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے دريافت كيا گيا:نماز عيد كے بعد مصافحہ اور معانقہ كرنے كا حكم كيا ہے ؟
    توانہوں نے جواب دیا:ان اشياء ميں كوئى حرج نہيں، كيونكہ لوگ اسے بطور عبادت اور اللہ تعالى كا قرب سمجھ كر نہيں كرتے، بلكہ لوگ يہ بطور عادت اور عزت و اكرام اور احترام كرتے ہيں، اور جب تك شريعت ميں كسى عادت كى ممانعت نہ آئے اس ميں اصل اباحت ہى ہے۔ اھـ(مجموع فتاوى ابن عثيمين : 16 / 208- 210 )

    جواب (6): شب عید یعنی 29 کا چاند دیکھا گیا تو انتیس کی رات یا رمضان کا 30 دن پورا کرکے جب سورج غروب ہوجائے اس وقت سے عید الفطر کی تکبیر کا وقت شروع ہوجاتا ہے اور جب امام نمازعید شروع کردے اس سے پہلے ختم ہوجاتا ہے۔

    جواب (7): ایک شخص کو ایک مرتبہ ہی عید کی نماز پڑھنا ہے خواہ وہ امام ہو یا مقتدی ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    لا تصلُّوا صلاةً في يومٍ مرَّتينِ(صحيح أبي داود:579)
    ترجمہ: تم کسی نماز کو دن میں دو مرتبہ نہ پڑھا کرو۔
    نسائی نے کتاب العيدين ، باب الصلاة قبل الإمام يوم العيد میں ذکر کیا ہے:
    أنَّ عليًّا استخلَفَ أبا مَسعودٍ على النَّاسِ فخرجَ يومَ العيدِ ، فقالَ : يا أيُّها النَّاسُ ، إنَّهُ ليسَ منَ السُّنَّةِ أن يصلِّيَ قبلَ الإمامِ(صحيح النسائي:1560)
    ترجمہ: حضرت علی نے ابو مسعود کو لوگوں پر خلیفہ بنایا، تو آپ عید کے دن باہر آئے اور فرمایا:اے لوگوں: امام سے پہلے نماز پڑھنا سنت نہیں ہے۔
    اس سے معلوم ہوتاہے کہ علی رضی اللہ عنہ عیدگاہ جاتے وقت ابومسعود رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے خلیفہ بنادیا تاکہ وہ لوگوں کو مسجد میں نماز پڑھائیں اور حضرت علی رضي الله عنہ نے ان لوگوں کو دوبارہ نماز نہیں پڑھائی۔
    اس لئے امام کے ہوتے ہوئے دوسری مرتبہ ایک امام کا نماز عید پڑھنا خلاف سنت ہے۔


    واللہ اعلم بالصواب
    کتبہ
    مقبول احمد سلفی
    مشرف واٹس ایپ گروپ "اسلامیات"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    695
    واٹس ایپ گروپ اسلامیات میں کئے گئے سوالوں کے جواب
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جواب از مقبول احمد سلفی

    سوال (1): میرا ایک سوال ہے جورمضان میں بھی پوچھا گیا تھالیکن اس کاجواب آیانہیں ,سوال یہ ہے کہ کچھ لوگ حج یاعمرہ کرنے کے لئے سائیکل پر سوار ہوکر ایک ملک سے دوسرا ملک ہوتے ہوئے مکہ پہونچتے ہیں، جبکہ آج کے دور میں آسانیاں موجود ہیں ۔اور پھر ہوتایہ ہیکہ مختلف مقامات کے لوگ ان کا استقبال بھی کرتے ہیں ۔ کیاآج کے دور میں آسانیاں ہونے کے باوجود سائیکل پر یا پیدل چل کر حج یا عمرہ کے لئے جانا درست ہے ، برائے مہربانی جواب دیں ؟
    سائل :محمد مدثر بھوپال ایم پی
    جواب : اسلام ترقی کے مخالف نہیں ہے ، آج کے دور کی جو سفری سہولیات اور ایجادات ہیں ان سے شرعی حدود میں رہ کر فائدہ اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ترقی یافتہ زمانے میں پیدل یا سائیکل سے حج کرنا واقعی تعجب خیز امر معلوم ہوتا ہے جبکہ پہلے والوں نے پیدل اور جانوروں پر سفر کرکے ہی حج کیا کرتے تھے ۔ بعد میں بس، گاڑی ، پانی اور ہوائی جہاز کی ایجاد ہوئی ۔ ان سب سہولیات کی باوجود آج بھی کہیں کہیں سے خبریں آتی ہیں کہ فلاں نے سائیکل سے حج کا سفر کیا ، فلاں نے پیدل حج کے لئے سفر کیا۔ اور آج سوشل میڈیا کی وجہ سے یہ لوگ جہاں جہاں پہنچتے ہیں وہاں وہاں کی ساری خبریں لوگوں میں عام ہوتی رہتی ہیں ۔دیکھیں حج کے لئے سفر پیدل ہو یا سوار کوئی حرج نہیں ہے تاہم ایک بات کی توجہ ضروری ہے کہ حج عبادت ہے اور عبادت کے لئے اخلاص اور اتباع رسول ضروری ہے ۔ لہذا ایسے امور سے ہمیں بچنا ہے جن سے اخلاص ختم ہوتا ہے ۔ بہت سے لوگ حج کی تمنا رکھتے ہیں مگر سب کووافر مالی طاقت نصیب نہیں ہوتی ایسے قسم کے بعض لوگ کم سے کم خرچ والا سفر کرتے ہیں ، خلوص وللہیت کا جاننے والا اللہ ہے ،ہمیں کسی کے نیک عمل پہ بدظنی کا بھی شکار نہیں ہونا چاہئے بلکہ ایک مسلمان کے لئے ہمارے دل میں حسن ظن ہو۔

    سوال (2):کچھوا، کیکڑا اور گھونگا کھا نا شریعت میں حرام ہے یا حلال؟
    سائل : خورشید ، دربھنگہ، بہار
    جواب : سعودی کی فتوی کمیٹی بنام "اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء" کے فتوی نمبر (11126) میں بحری کچھوے کو حلال کہا گیا ہے۔
    کیکڑا جسے انگریزی میں کریب اور عربی میں سرطان کہتے ہیں اسے شیخ محمد صالح منجد نے سمندری جانور کی فہرست میں فتوی نمبر 1919 کے تحت کھانا جائز کہا ہے ۔
    گھونگھا جسے انگریزی میں Snail اور عربی میں حلزون کہتے ہیں۔ دو قسم کے ہوتے ہیں ایک بری اور دوسری بحری شیخ محمد صالح منجد نے دونوں قسم کےگھونگھوں کو جائز کہا ہے ۔ دیکھیں فتوی نمبر 114855، حکم اکل الحلزون۔

    سوال (3)سوال ہے کہ "عالج نفسک بماء زمزم"(مصنف دکتور خالد جاد)نامی کتاب زیر مطالعہ ہے جس میں زمزم کی فضیلت کے ضمن میں امام سیوطی کا قول لکھا گیا ہے کہ زمزم آب کوثر سے افضل ہے اس لئے کہ اس پانی سے نبی علیہ السلام کے قلب اطہر کو دھویا گیا تو کیا واقعی زمزم کوثر سے زیادہ افضل ہے ،قران و سنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔
    سائل :محمد یوسف اصلاحی، ضلع سیونی مدھیہ پردیس
    جواب :اس بات کا کئی جگہوں پر ذکر ملتا ہےمگر کوثر جنت کی ایک نہر ہے اور جنت کی اشیاء کا دنیاوی چیزوں سے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ہے اور زمزم کے بارے میں یہ کہا جائے گا روئے زمین پر سب سے اچھا پانی ہے جیساکہ صحیح حدیث میں اس کا ذکر ہے ۔ (دیکھیں سلسلہ صحیحہ : 1056)

    سوال (4): کیا اجماع بھی دلیل کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے ؟
    جواب : شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے لکھاہے کہ اجماع یقینی ،قطعی طورپر حجت ہے اور یہ تین اصول میں سے ایک ہے ۔ وہ تین اصول قرآن، سنت صحیحہ اور اجماع ہیں۔ اجماع کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ نبی ﷺ کے اصحاب کا اجماع ہے ۔(مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز: 427/8).

    سوال(5): کیا موقوف روایات حجت ہیں؟
    جواب : صحابہ کے اقوال وافعال اور تقاریر کو موقوف روایت کہتے ہیں ۔ اس کے کئی اقسام ہیں ۔ وہ موقوف روایات جن میں اجتہاد کی گنجائش نہ ہو مثلا غیبی امور ہوں تو وہ مرفوع حدیث کے حکم میں ہیں ان سے استدلال کیا جائے گا۔ اور وہ موقوف روایات جن میں اجتہاد کیا گیا ہو اور وہ کسی نص (قرآنی آیات وسنت صحیحہ) کے خلاف نہ ہو ، نہ ہی کسی صحابی کا اختلاف مروی ہو تو اس سے دلیل پکڑیں گے البتہ مختلف فیہ روایات میں ترجیح کے قابل روایت کو اخد کیا جائے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    695
    پلاٹ کی زکوۃ کے متعلق سوال

    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
    زکوٰۃ کے حوالے سے کچھ سوالات ہیں...
    1. زید سعودی عرب میں ایک کمپنی میں ملازم ہےوہ اپنی جمع پونجی سے منافع حاصل کرنے کی نیت سے کچھ پلاٹس اپنے ملک میں خریدے، کچھ سستی قیمت کے ہیں تو کچھ مہنگی، کسی پلاٹ پر اگر سال گزر جائے تو اس کی مالیت کے اعتبار سے زکوٰۃ ادا کر دیتا ہے۔
    امسال چند ماہ قبل اس نے ایک بیس لاکھ کا پلاٹ خریدا ہے، اب وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ اگر اس پلاٹ پر بھی ایک سال گزر جائے اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا وقت آن پہنچے تو اس پلاٹ کی قیمت کے اعتبار سے پچاس ہزار روپے کی زکوٰۃ بنتی ہے جبکہ اگر وہ پلاٹ بیچنے پر منافع بھی اتنا ہی آنے والا ہے یعنی پچاس ہزار روپے۔ اب اس کا سوال یہ ہے کہ اگر وہ زکوٰۃ ادا کرتا ہے تو منافع سے محروم رہے گا اور اگر زکوٰۃ ادا نہ کرے تو گنہگار ہوگا۔ اب اس کا شرعی حکم جاننا چاہتا ہے۔
    2. پلاٹس اور زمینوں پر زکوٰۃ کب نکالی جائے گی ہر سال یا پھر جب بِک جائے تب؟
    3. بچیوں کی شادی کے لئے کچھ پلاٹس خرید کر رکھ دئیے جاتے ہیں کیا ان پر بھی ہر سال زکوٰۃ واجب ہے؟
    ان سوالات کے شرعی جوابات مدلل انداز میں مطلوب ہیں۔جزاکم اللہ خیرا
    سائل : عبادالرحمن دکن، حیدرآباد


    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    الحمد للہ :
    اللہ تعالی نے ہمارے اوپر زکوۃ کو فرض قرار دیا ہےاور زکوۃ سے سماج کے بہت سارے مسائل حل ہوتے ہیں ۔ یہ زکوۃ صرف انہیں لوگوں کو دینا ہوتا ہے جن کے پاس ضرورت سے زائد مال ہواس لئے مالدار میں اپنے مالوں کو پاک کرنے اور اپنے مال سے غریب ومحتاج کی مدد کرنے کا مخلصانہ جذبہ کارفرما ہو۔

    جن چار چیزوں میں زکوۃ ادا کرنی ہے ان میں سے ایک مال تجارت ہے ۔گوکہ اموال تجارت میں زکوۃ نکالنے کے متعلق اختلاف ہے مگر صحیح بات یہی ہے کہ ان میں بھی زکوۃ نکالنا ہے ۔ ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور احمد وغیرہ میں ہے ۔
    كنَّا في عَهْدِ رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ نُسمَّى السَّماسِرَةَ فمرَّ بِنا رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ فسمَّانا باسمٍ هوَ أحسَنُ منهُ، فقالَ: يا معشرَ التُّجَّارِ، إنَّ البيعَ يحضرُهُ اللَّغوُ والحلفُ، فَشوبوهُ بالصَّدقةِ(صحيح أبي داود:3326)
    ترجمہ: ہمیں (تاجرکو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سماسرہ کہا جاتا تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے تو ہمیں ایک اچھے نام سے نوازا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سوداگروں کی جماعت! بیع میں لایعنی باتیں اور (جھوٹی) قسمیں ہو جاتی ہیں تو تم اسے صدقہ سے ملا دیا کرو یعنی صدقہ کرکے اس کی تلافی کرلیا کرو۔
    سمرہ بن جندب سے مروی ایک روایت اس طرح کی آتی ہے ۔
    إنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلم كان يأمرُنا أن نُخرِجَ الصَّدقةَ من الذي نُعِدُّ للبيعٍ(سنن أبي داود:1562)
    ترجمہ:رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ جو سامان ہم نے تجارت کی غرض سے رکھا ہوا ہے اس سے زکوٰۃ ادا کریں۔
    اس کی سند کو شیخ البانی سمیت کئی محدثین نے ضعیف کہا ہے تاہم شیخ ابن باز نے اسے مشہور کہا ہے اور اس کے لئے شاہد ہے یہ بھی کہا ہے ۔دیکھیں : (فتاوى نور على الدرب لابن باز:15/253، مجموع فتاوى ابن باز: 167/14)
    نافع مولی ابن عمر سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے جسے حافظ ابن حجر عسقلانی نے درایہ میں، امام شافعی نے الام میں ، بیہقی نے السنن الکبری میں، ابن حزم نے المحلی میں اور امام نووی نے المجموع میں ذکر کیا ہے ۔
    عنِ ابنِ عمرَ ليسَ في العُروضِ زَكاةٌ إلَّا ما كانَ للتِّجارةِ.
    ترجمہ: نافع مولی ابن عمر سے روایت ہے کہ سامان میں زکوۃ نہیں ہے الا یہ کہ وہ تجارت کے لئے ہو۔
    (الدراية:1/261, السنن الكبرى للبيهقي:4/147 , المحلى:5/234, المجموع:6/48, الإمام الشافعي: 2/46)

    اس سے بات صاف ہوجاتی ہے کہ مال تجارت میں زکوۃ ہے اور یہ بھی معلوم رہے کہ مال تجارت اور اس کے منافع دونوں کو جوڑ کر زکوۃ دی جائے گی جب یہ نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر ایک سال کی مدت گزرجائے ۔

    مال تجارت میں ہر وہ چیز داخل ہے جس سے تجارت کی جاتی ہےخواہ پرچون کی دوکان ہو، گاڑیوں کا شوروم ہو یا پلاٹوں کی خریدبکری ۔

    ہم میں سے بعض لوگ پلاٹ کے سلسلے میں خرید تے وقت یہ نیت کرلیتے ہیں کہ جب اس کی قیمت بڑھے گی تب بیچ دیں گے ۔ اس نیت سے خریدے گئے پلاٹ کا حکم مال تجارت کی طرح ہے ۔ جس طرح مال تجارت میں زکوۃ دیتے ہیں اسی طرح اس نیت سے خریدے گئے پلاٹ پر بھی زکوۃ دیں گے ۔دو شرطوں کے ساتھ کہ اس کی قیمت نصاب زکوۃ تک پہنچتی ہو اور اس پر ایک سال گزرجائے ۔

    پہلے سوال کا جواب یہی ہے کہ بیس لاکھ کے پلاٹ پر ایک سال گزرجانے کے بعد پچاس ہزار زکوۃ کے طور پر ادا کرنا ہوگا۔ جہاں تک منافع سے محرومی کی بات ہے تو اللہ تعالی نے مالداروں کے مال میں ضرورتمندوں کا حق رکھا ہے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
    وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ (الذاريات:19)
    ترجمہ: اور ان کے مال میں مانگنے والوں کا اور سوال سے بچنے والوں کا حق تھا۔

    دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ بیچنے کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ کی ہرسال زکوۃ دینی ہوگی۔

    تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ بچیوں کی شادی کے لئے خریدے گئے پلاٹ شادی میں بیچنے کی نیت سے ہو تو اس پر بھی سالانہ زکوۃ ہے ۔


    واللہ اعلم بالصواب
    کتبہ
    مقبول احمد سلفی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  7. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    695
    آپ کے مسائل اور ان کا شرعی حل

    جوابات از شیخ مقبول احمد سلفی


    1/ کتے کے جھوٹے کو دھونے کا حکم ہے تو کیا شکاری کتے کا جھوٹا بھی دھویا جائے گا؟
    جواب : کسی چیز کو نجس یا حرام ماننے کے لئے دلیل چاہئے ، چونکہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات بار دھوئیں لیکن اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ شکاری کتے کا شکار دھویا جائے ۔ اس وجہ سے شکاری کتا جس جگہ شکار کو کاٹے اسے دھونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ کا فرمان ہے : فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ (المائدة:4)
    ترجمہ: پس جس شکار کو وہ تمہارے لئے پکڑ کر روک رکھیں تو تم اس سے کھالو اور اس پر اللہ کے نام کا ذکر کر لیا کرو۔
    اللہ نے ہمیں معلم (سکھائے ہوئے ) جانور کے شکار کو کھانے کا حکم دیا ہے ، اگر دھونا ضروری ہوتا تو اللہ تعالی یا اس کے پیغمبر ضرور ہمیں اس بات کا حکم دیتے ۔ حافظ ابن حجر نے تو شکاری کتے کے جھوٹا کو پاک قرار دیا ہے ۔

    2/ ایک جگہ حدیث میں جو غالبا مسند احمد میں ہے قرآن سے مت کھاؤ اور دوسری جگہ بخاری میں ہے کہ قرآن سے جو تم لیتے ہو وہ سب سے بہتر ہے ان دونوں میں صحیح کیا ہے کیا قرآن کی تعلیم پر اجرت لینی ہے یا نہیں ؟
    جواب : صحیح بخاری کی حدیث سے بالکل واضح ہے کہ قرآن پر اجرت لینا جائز ہے اس لئے صحیح بخاری کی جامع شرح فتح الباری میں اس حدیث کی شرح میں مذکور ہے کہ اس حدیث سے جمہور نے دلیل پکڑی ہے کہ قرآن کی تعلیم پر اجرت لینا جائز ہے ۔ جہاں تک ان نصوص کامعاملہ ہے جن میں قرآن سے اجرت لینا منع ہے ان کی روشنی میں یہ کہا جائے گا کہ افضل اور اولی یہی ہے کہ جن کو اجرت کی ضرورت نہیں وہ بغیر اجرت کے قرآن کی تعلیم دے البتہ جنہیں اجرت لینے کی ضرورت ہے ، جن کے پاس اپنے اور گھروالوں کی ضروریات کی تکمیل کا دوسرا ذریعہ نہ ہو تو ان کے لئے قرآن کی تعلیم پر اجرت لینا جائز ہے ۔ تو تعلیم قرآن پر اجرت لینے کا مسئلہ محض جواز کا ہے افضل نہ لینا ہے۔

    3/ بسم اللہ پڑھ کر فائر کرنے سے شکار کرنے سے ذبیحہ شمار ہوگا؟
    جواب : سوال کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر بندوق سے شکار کیا جائے تو وہ شکار کھایا جاسکتا ہے کہ نہیں ؟ اس سوال کے جواب میں کئی پہلو ہیں ۔ ایک پہلو تو یہ ہے کہ اگر بندوق کی گولی تیز دھار والی ہے ،اس طرح کہ شکار کو کاٹ کر اندرجسم میں داخل ہوجائے تو بسم اللہ پڑھ کر ایسے بندوق سے کئے گئے شکار کو کھایا جائے گا اگرچہ زخم لگنےسے مرجائے اور یہ زخم جسم کے کسی حصہ پر بھی لگا ہو۔ اس کی دلیل تیر سے شکار کرنے والی حدیث ہے ۔
    ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر گولی تیز دھار دار نہ ہو بلکہ اس سے شکار کو قوت سے چوٹ لگے اور مر جائے تو پھر وہ شکار حلال نہیں ہے ، ہاں اگر شکار چوٹ لگنے سے نہیں مرے اور جلدی سے اسے اسلامی طریقہ سے ذبح کرلیا جائے تو پھر کھا سکتے ہیں ۔
    ایک تیسر ا پہلو یہ بھی ہے کہ اگرتیز دھار والی کسی چیز سے شکار کرتے وقت بسم اللہ نہیں پڑھا اور شکار مرگیا تو اس کا کھانا حلال نہیں ہے کیونکہ اس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا ہے ۔

    4/ میرے گاؤں میں ایک بلی ہے جو چوزے کو کھا جاتی ہے اسے مارنا کیسا ہے ؟
    جواب : بلی عموما گھروں میں آتی جاتی رہتی ہیں مگر گھروں کو نقصان نہیں پہنچاتی سوائے کھانے پینے کی چیزوں کو جھوٹا کرنے کے اس لئے رسول اللہ ﷺ نے اس کے جھوٹے کو پاک قرار دیا ہے ۔ بعض بلياں نقصان پہنچاتی ہیں ۔ کبوتروں کو کھاجاتی ہیں یا مرغیوں کو ماردیا کردیتی ہیں ، ایسی صورت میں پہلے بلی کو اس کام سے روکنے کی کوشش کی جائے گی اور بچاؤ کا راستہ اختیار کیا جائے گا تاکہ بلی کو قتل نہ کرنا پڑے لیکن پھر بھی کوئی فائدہ نہ ہو تو ضرررساں بلی کو قتل کرسکتے ہیں ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ نہ کسی کو نقصان پہنچاؤ اور نہ ہی خود نقصان اٹھاؤ۔

    5/ ایک شخص باہر ملک گیا وہاں جاکر معلوم ہوا کہ داڑھی کٹائے بغیر کوئی کام نہیں ملے گا اس نے داڑھی کٹائی اس کا کیا گناہ ہے اور ایسا کرنا چاہئے کہ نہیں ؟
    جواب : نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں کی جائے خواہ وہ وقت کا حاکم ہوکفیل ہو یا والدین ۔ اسی طرح معصیت کا کام کرکے روزی کمانا بھی جائز نہیں ہے ۔ داڑھی رکھنا اسلام میں فرض ہے جواس فریضہ کو روزی کے لئے ترک کرتا ہے وہ گنہگار ہے اسے چاہئے کہ گزشتہ گناہوں کی اللہ سے معافی مانگے اور فرمان رسول کے مطابق داڑھی کو معاف کرے چاہے اس کو نوکری چھوڑنا پڑے ۔ اللہ نے بہت وسیع دنیا بنائی اور ہزاروں حلال ذرائع معیشت ہمارے مہیا فرمائے ہیں ۔ اللہ کا فرمان ہے کہ جو تقوی اختیار کرتا ہے اس کے لئے نجات کا راستہ پیدا کرتا ہے ۔ اللہ پر اور اس کے کلام پر کامل توکل کریں اور اس کی زمین میں تقوی کے ساتھ حلال روزی تلاش کریں وہی اکیلا سب کی روزی کا مالک ہے یقینا اپنے متقی بندوں کے لئے روزی کا دروازہ کھول دے گا۔

    6/ کیا عورت زور سے آمین کہہ سکتی ہے ؟
    جواب : عورتوں کے لئے جس طرح اجانب کی موجودگی میں نماز میں آواز پست رکھنا ہے اسی طرح آمین بھی سرا کہنا ہے لیکن اگر اجانب موجود نہ ہوں تو جہری نمازوں میں یا عورتوں کی جماعت میں یا اپنے گھر (جہاں اجنبی نہ ہو) میں بلند آواز سے آمین کہہ سکتی ہے۔

    7/ جس مکان کا کرایہ ادا کیا جارہاہو اس کو ہیوی ڈپازٹ پہ لینا کیسا ہے ؟
    جواب : ڈپازت امانت کے درجہ میں ہے جو عموما سوسائٹی میں رائج رقم کی طرح ہو مگر ہیوی ڈپازٹ کے نام پر مکان مالک کرایہ دار سے خطیر رقم وصول کرتا ہے اور اسے اپنے کام میں صرف کرتا ہے جو قطعا درست نہیں ہے ۔ اس کا ایک صحیح بدل یہ ممکن ہے کہ مکان مالک کرایہ دار سے چند مہینوں کا کرایہ اڈوانس میں لے لے مگر اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے کرایہ دار سے موٹی رقم وصول کرنا جائز نہیں ہے۔

    8/ کھڑے ہوکر کھانا کھانا کیسا ہے ؟
    جواب : ایک طرف احادیث میں کھڑے ہوکر کھانے پینے کی ممانعت ہے تو دوسری طرف کھڑے ہوکر کھانے پینے کی دلیل بھی ملتی ہے۔ ان دونوں اقسام کی حدیثوں میں تطبیق یہ ہے کہ ممانعت والی حدیث کراہت پر محمول ہوگی یعنی کھڑے ہوکر کھانا پینا بکراہت جائز ہے اور بیٹھ کر کھانا پینا افضل واحسن ہے۔

    9/ سجدے میں قرآن پڑھنا منع ہے تو کیا ہم اس میں قرآن کی دعا بھی نہیں پڑھ سکتے ہیں ؟
    جواب : صحیح مسلم میں وارد ہے کہ نبی ﷺ نے رکوع اور سجدہ میں تلاوت کرنے سے منع کیا ہے اس لئے رکوع اور سجدہ میں قرآن کی تلاوت نہیں کریں گے لیکن سجدہ میں دعاکی ترغیب آئی ہے اس لئے سجدہ میں قرآنی دعاؤں کو تلاوت کی نیت سے نہیں بلکہ دعا کی نیت سے پڑھ سکتے ہیں ۔

    10/ ایک شخص پردیس سے اپنا ملک لوٹ کر گیا اور اس نے اپنی بیوی سے پچھلی شرمگاہ میں مباشرت کرلی ،اب اس کو دوست واحباب نے بتلایا کہ اس کا نکاح ٹوٹ گیا قرآن وحدیث اس سلسلے میں کیا کہتا ہے ؟
    جواب : یہ بات صحیح نہیں ہے کہ بیوی کی پچھلی شرمگاہ میں وطی کرنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے یونہی لوگوں میں پھیلی ایک غلط فہمی ہے البتہ یہ کام بہت ہی گھناؤنا ہے اس کی وجہ سے آدمی ملعون قرار پاتا ہے ۔ جس نے بھی ایسا لعنتی کام کیا ہے اسے چاہئے کہ سچے دل سے اللہ سے توبہ کرے اور آئندہ اس سے پرہیز کرے ۔

    11/ کسی کو ویزا فری میں ملتا ہے وہ آگے پیسا لیکر بیچتا ہے ایسا کرنا کیسا ہے ؟
    جواب : اگر کسی شخص کو فری میں ویزا ملا یہ کہہ کر کہ مجھے عامل چاہئے تو اس ویزا کو بیچنا جائز نہیں ہے لیکن اگر ویزا کے حصول میں محنت اور پیسے صرف ہوئے ہوں تو اس کے بقدر پیسہ لے سکتا ہے ۔ یہاں یہ بات بھی معلوم رہے کہ ویزا کی فیس سعودی حکومت کے قانون کے مطابق کفیل کو برداشت کرنا ہے۔ ویزا کی ایک نوعیت یہ بھی ہے کہ کسی کفیل کو عامل نہیں چاہئے ہوتا ہے بلکہ اسے ویزا سے زیادہ پیسہ کمانا مقصود ہوتا ہے اور عامل کو آزاد چھوڑ دیتا ہے۔ کفیل ویزا مثلا دوہزار ریال میں حکومت سے حاصل کرتا ہے تو اسے کئی کئی ہزار ریال میں آگے فروخت کرتا ہے پھر اس کے خریدار اس میں اضافہ کے ساتھ آگے بیچتے ہیں۔ اس قسم کے ویزا کی خرید بکری سراسر ناجائز اورحکومت کے ساتھ دھوکہ ہے کیونکہ حکومت کے نزدیک نہ اس عمل کی اجازت ہے اور نہ ہی حکومت کے قانون کے حساب سے ویزا بیچنے کی اجازت ہے۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوا ل کیا گیا کہ بعض لوگ مثلا تین ہزار ریال میں ویزا نکالتے ہیں پھر اسے آٹھ دس ہزارریال میں بیچ دیتے ہیں تاکہ وہ دوسرے کے نزدیک کام کرے اس کا کیا حکم ہے ؟ توشیخ نے جواب دیا کہ ویزا لائسنس ہے یعنی منسٹری سے لائسنس لیتا ہے تاکہ عامل منگائے پھر وہ دوسرے کے ہاتھ لائسنس بیچ دیتا ہے تاکہ دوسرا شخص عامل بلائے یہ سراسر حرام اور ناجائز ہے۔ میرا کہنا ہے کہ اگر تمہیں عامل کی ضرورت ہے تو ویزا تمہارے ہاتھ میں ہے اور عامل کی ضرورت نہیں ہے تو جہاں سے ویزا لیا تھا وہاں لوٹا دو اس کا بیچنا تمہارے لئے حلال نہیں ہے۔

    12/ کیا ایسی حدیث ثابت ہے کہ عشاء کے بعد چار رکعت نفل پڑھنے سے شب قدر کے قیام کا اجر ملتا ہے ؟
    جواب : کئی مرفوع روایات میں اس کا ذکر ہے کہ عشاء کے بعد چار رکعت لیلۃ القدر کے برابر ہے مگر کوئی روایت صحیح سند سے ثابت نہیں البتہ بعض آثار صحیح سند سے مروی ہیں ۔ مثلا
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن مسعود رضي الله عنه قَالَ : مَنْ صَلَّى أَرْبَعًا بَعْدَ الْعِشَاءِ لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِتَسْلِيمٍ، عَدَلْنَ بِمِثْلِهِنَّ مِنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ .( المصنف :2/127)
    ترجمہ: ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ جو عشاء کے بعد ایک سلام سے چار رکعت پڑھے تو یہ لیلۃ القدر کے برابر ہے۔
    عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال : مَنْ صَلَّى أَرْبَعًا بَعْدَ الْعِشَاءِ كُنَّ كَقَدْرِهِنَّ مِنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ.( المصنف :2/127))
    ترجمہ: ابن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جس نے عشاء کے بعد چار رکعت پڑھی اس کا اجر لیلہ القدر کی طرح ہے۔
    عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ : أَرْبَعٌ بَعْدَ الْعِشَاءِ يَعْدِلْنَ بِمِثْلِهِنَّ مِنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ.(( المصنف :2/127))
    ترجمہ: عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ عشاء کے بعد چار رکعت لیلۃ القدر کے برابر ہے۔
    شیخ البانی نے ان آثار کے متعلق کہا ہے کہ گویہ یہ موقوف روایات ہیں مگر مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ یہ بات اجتہاد سے نہیں کہی جاسکتی ہے جیساکہ ظاہر ہے۔

    13/ والدین کو بیٹا زکوۃ دے سکتا ہے اور اسی طرح والدین بیٹے پر زکوۃ صرف کرسکتے ہیں ؟
    جواب : نہ باپ بیٹے پر زکوۃ کا مال صرف کرسکتا ہے اور نہ ہی بیٹا باپ پر ۔

    14/ دادا کے مال میں یتیم پوتے کا حصہ ہے یا نہیں؟
    جواب : اگر دادا کا انتقال ہوجائے اور اپنے پیچھے اولاد چھوڑ جائے تو پوتا پوتی کا حصہ نہیں بنتا۔

    15/ رمضان کے قضا روزے اور شوال کے چھ روزے ایک نیت سے رکھے جاسکتے ہیں کہ نہیں ؟
    جواب : چونکہ شوال کےچھ روزوں کا اجررمضان کے روزوں کی تکمیل کے بعد ہے اس لئے ایک نیت سے قضا اور نفلی روزے نہیں رکھے جاسکتے ۔ جیسے قضا روزوں کی تکمیل سے پہلے شوال کے چھ روزے نہیں رکھ سکتے ویسے ہی ایک نیت سے قضا اور شوال کے نفلی روزوں کو جمع نہیں کرسکتے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    695
    آپ کے مسائل اور ان کا شرعی حل

    جواب از شیخ مقبول احمد سلفی


    1/ کیا دینی کام کے لئے جمعیت بنانا یا مدرسہ کھولنا ضروری ہے جبکہ سماج کی خدمات کے لئے دینی ادارے موجود ہیں ؟
    جواب : دینی خدمات انجام دینے کے لئے نہ مدرسہ قائم کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کوئی ٹرسٹ بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت اکثر وبیشتر جگہوں پر کئی کئی مدارس اور ادارےقائم ہیں ۔ جوادارہ مخلصانہ طور پر سماجی خدمات انجام دے رہاہو اس ادارے سے جڑ کر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اکثر لوگوں میں کسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کا جذبہ نہیں ملتا ،سبھی چاہتے کہ ان کا اپنا ادارہ ہو، وہ ادارے کا رئیس کہلائیں ۔ کام ہو نہ ہو نام اونچا رہے ۔ اسی سبب آج ہماری جماعت میں انتشار ہے۔ جہاں ضرورت ہو دینی خدمات انجام دینے کے لئے ادارہ قائم کرنا کوئی معیوب نہیں ہے لیکن بلاضرورت مالی منفعت کے حصول ، شہرت طلبی، دوسرے ادارے یا ذاتی رنجش کی وجہ سے ادارہ والوں کو نیچا ثابت کرنے کے لئے ادارے کا قیام خدمت نہیں فساد امت ہے ۔ جہاں جہاں ایسا فساد برپا ہو اسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

    2/ کیا یہ حدیث صحیح ہے ؟
    "علماء سے بغض رکھنے پر چار قسم کے عذاب "حضرت علیؓ فرماتےہیں کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ: جب میری امت اپنے علماء سے بغض رکھنے لگے گی اور بازاروں کی عمارتوں کو بلند اور غالب کرنے لگے گی تو اللہ تبارک وتعالیٰ ان پر چار قسم کے عذاب مسلط فرمادیں گے۔①قحط سالی ہوگی ②حاکم وقت کی طرف سے مظالم ہوں گے③حکام خیانت کرنے لگیں گے④دشمنوں کے پےدرپے حملے ہوں گے۔ (فتاوی رحیمیہ 2/82-83، کتاب الایمان ، معاصی اور توبہ کا بیان )
    جواب : یہ روایت مستدرکم حاکم میں بایں الفاظ موجود ہے ۔
    إذا أبغضَ المسلِمونَ علماءَهُم ، وأظهَروا عمارةَ أسواقِهِم ، وتناكَحوا علَى جمعِ الدَّراهمِ ، رماهمُ اللهُ عزَّ وجلَّ بأربعِ خصالٍ : بالقَحطِ منَ الزَّمانِ والجَورِ منَ السُّلطانِ والخيانَةِ مِن ولاةِ الأحكامِ ، والصَّولةِ من العدوِّ(مستدرک حاکم : 7923)
    اسے شیخ البانی نے منکر کہا ہے ۔ ( السلسلة الضعيفة:1528)

    3/ کیا حاملہ اور مرضعہ پر روزوں کی قضا نہیں ہے ؟
    جواب : دودھ پلانے والی عورت اور حاملہ عورت کو جب اپنے لئے یا بچے کےلئے روزہ کے سبب خطرہ لاحق ہو تو روزہ چھوڑ سکتی ہے ۔ بلاضرر روزہ چھوڑنا جائز نہیں ہے ۔ نبی ﷺ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے ۔
    إنَّ اللَّهَ عزَّ وجلَّ وضعَ للمسافرِ الصَّومَ وشطرَ الصَّلاةِ ، وعنِ الحُبلَى والمُرضِعِ( صحيح النسائي:2314)
    ترجمہ: اللہ تعالی نے مسافر کے لئے آدھی نماز معاف فرما دی اور مسافر اور حاملہ اور دودھ پلانے والی کو روزے معاف فرما دیئے۔
    جب عذر کی وجہ سے عورت روزہ چھوڑدے تو بعد میں اس کی قضا کرے۔حاملہ اور مرضعہ کے تعلق سے بعض اہل علم بوڑھےعاجز شخص پر قیاس کرکے چھوٹے روزوں کے بدلے مسکین کو کھانا کھلانا کہا ہے مگر حقیقت میں مریض و مسافر کا اعتبار کرکے روزوں کی قضا کرنی ہے یہی قوی موقف ہے جیساکہ اوپر والی حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ والی روایت حاملہ اور مرضعہ کی جانب سے کھانا کھلانے کے متعلق مرجوح قرار پائے گی۔

    4/ کیا صحاح ستہ کے علاوہ مارکیٹ میں ایسی کوئی حدیث کی کتاب ہے جو تخریج شدہ ہو؟
    جواب : آپ کا سوال سوشل میڈیا کے ذریعہ ہے اس لئے اسی مناسبت سے میرا جواب ہے کہ موبائل میں پلے اسٹور سے اسلام 360 لوڈ کرلیں ، اس میں صحاح ستہ کے علاوہ مسند امام احمد اور مشکوۃ کی تحقیق وتخریج کے ساتھ شیخ البانی ؒ کا سلسلہ صحیحہ بھی شامل ہے ۔

    5/ کیا زندہ آدمی کی جانب سے عمرہ کرسکتے ہیں؟
    جواب : زندہ آدمی کی طرف سے عمرہ اس صورت میں کر سکتے ہیں جب کسی کو عمرہ کرنے کی مالی طاقت ہو مگر جسمانی طور پر معذور ہو تو اس کی جانب سے عمرہ کرسکتے ہیں ، اور اسی طرح عورت کا محرم نہ ہو جو سفر میں ساتھ رہے تو اس کی جانب سے اور اس کے مال سے کرسکتے ہیں ۔ عمرہ بدل کے لئے ضروری ہے کہ آدمی پہلے اپنا عمرہ کرچکا ہو۔ لوگوں میں مشہور زندہ کی طرف سے طواف کرنا چاہئے غلط ہے۔

    6/ قرآن میں مکمل پندرہ سجدے ہیں ۔ پارہ نمبر سترہ میں دو سجدے ہیں امام شافعی ؒ کے نزدیک جبکہ امام ابوحنیفہ ایک ہی مانتے ہیں اس وجہ سے احناف کے یہاں صرف چودہ سجدے ہیں اس کی کیا حقیقت ہے ؟
    جواب: احناف کی طرح شافعیہ کے نزدیک بھی چودے سجدے ہیں البتہ سورہ حج میں شافعیہ کے نزدیک دو سجدے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک ایک سجدہ ہے ۔
    اہل الحدیث پندرہ سجدے مانتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ابوداؤد میں حدیث ہے ۔
    ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَهُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَجْدَةً فِي الْقُرْآنِ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهَا ثَلَاثٌ فِي الْمُفَصَّلِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي سُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَانِ (سنن ابی داؤد: 1401)
    ترجمہ: عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قرآن مجید میں (۱۵) سجدے پڑھائے: ان میں سے تین مفصل میں اور دو سورۃ الحج میں ۔
    اس حدیث کو امام نووی نے الخلاصہ میں حسن ، ابن الملقن نے تحفۃ المحتاج میں صحیح یا حسن ، ابن القیم نے اعلام الموقعین میں صحیح اور صاحب تحفۃ الاحوذی نے حسن کہا ہے۔
    حنفی کے مشہور عالم علامہ بدرالدین عینی نے بخاری کی شرح عمدۃ القاری میں مندرجہ ذیل روایت کو نقل کرکے صحیح کہا ہے۔
    عن عمرِو بنِ العاصِ أنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ أقرأَهُ خمسَ عشرةَ سجدةً في القرآنِ العظيمِ مِنْهَا ثلاثةٌ في المُفَصَّلِ(عمدة القاري:7/139 )
    ترجمہ: عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قرآن مجید میں (۱۵) سجدے پڑھائے: ان میں سے تین مفصل میں۔
    گویا حنفی عالم سے پندرہ سجدوں کا ثبوت مل رہا ہے اور سورہ حج میں دو سجدے ہونے کا صحیح حدیث سے ثبوت ملتا ہے ۔
    ان عقبة بن عامر حدثه ، قال : قلت لرسول الله صلى الله عليه وسلم : افي سورة الحج سجدتان ؟ قال : " نعم ، ومن لم يسجدهما فلا يقراهما ".
    ترجمہ: عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا سورۃ الحج میں دو سجدے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں اور جو یہ دونوں سجدے نہ کرے وہ انہیں نہ پڑھے۔
    اس حدیث کو شیخ البانی نے حسن کہا ہے ۔( صحيح أبي داود: 1402)

    7/ بعض اہل علم سے مروی ہے کہ وہ کہتے ہیں:جب مجلس میں آدمی ایک بار رسول اللہ ﷺ پر درود بھیج دے تواس مجلس میں چاہے جتنی بار آپ کانام آئے ایک بار درود بھیج دینا ہر بار کے لیے کافی ہوگا؟ کیا یہ درست ہے؟
    جواب : کسی طویل مجلس میں اگر بیٹھا جائے تو ایک بار کم ازکم نبی ﷺ پر درود پڑھنا ہی چاہئے خواہ آپ ﷺ کا اسم گرامی آئے یا نہ آئے ۔نبی ﷺ کا فرمان ہے:
    أيُّما قومٍ جَلَسُوا ، فَأَطَالوا الجُلوسَ ، ثُمَّ تَفَرَّقُوا قبلَ أنْ يَذْكُرُوا اللهَ تعالى ، أوْ يُصلُّوا على نبيِّهِ كانَتْ عليهم تِرَةٌ مِنَ اللهِ ، و إنْ شاءَ عَذَّبَهُمْ ، و إنْ شاءَ غفرَ لهُمْ(صحيح الجامع:2738)
    ترجمہ: جو لوگ کافی دیر کہیں بیٹھیں اور پھر اللہ کا ذکر کیے اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے بغیر منتشر ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر حسرت رہے گی۔ اگر اللہ چاہے تو انہیں عذاب کرے گا اور چاہے تو انہیں معاف کر دے گا۔
    اور مستحب ہے کہ آپ ﷺ کاجب جب نام لیا جائے ﷺ کہنا چاہئے اس کے بے شمار اجر ہیں ، جو اس میں بخیلی کرتا ہے وہ خیرکثیر سے محروم رہتا ہے۔ چونکہ آپ کے ذکر پر درود وسلام پڑھنا مستحب ہے اس لئے بسااوقات چھوٹ جائے یا بکثرت نام آنے پر کبھی کبھار پڑھ لے اور کبھی ترک ہوجائے کوئی حرج نہیں ہےتاہم ہماری کوشش یہی ہو کہ جب جب اسم نبی آئے درود پڑھیں ۔

    8/ کیا ایسی کوئی حدیث ہے کہ اللہ کا اتنا ذکر کرو کہ لوگ تمہیں دیوانہ کہیں ؟
    جواب : ہاں ایسی حدیث موجود ہے" أَكثِروا ذكرَ اللهِ حتى يقولوا : مجنونٌ"
    ترجمہ: اللہ کا ذکر اتنی کثرت سے کرو کہ لوگ یوانہ کہنے لگیں ۔
    تخریج : (مسند أحمد:3/ 68 ، صحیح ابن حبان:3/ 99،مستدرك حاکم:1/ 677).
    حکم : اس روایت کو شیخ البانی نے منکر کہا ہے۔ (السلسلة الضعيفة:7042)

    9/ غربت کی وجہ سے جس کے والدین نے بچپن میں عقیقہ نہیں کیا تو کیا وہ شخص اپنا عقیقہ خود سے جوانی یا بڑھاپا میں کر سکتا ہے ؟
    جواب : عقیقہ بعد میں بھی کر سکتے ہیں اس وجہ سے جب عقیقہ کرنے کی استطاعت ہوجائے کیا جاسکتا ہے ۔ جس کے والد نے اس کی طرف سے عقیقہ نہ کیا ہو وہ خود بھی اپنا عقیقہ کرسکتا ہے گوکہ یہ کام والد کے ذمہ تھا مگر ان کے پاس اس کی استطاعت نہیں تھی ۔

    10/ حاجی حج کے دوران کب تک نماز قصر کرے گا؟
    جواب : حاجی ایام حج میں منی ، مزدلفہ اور عرفات میں قصر کے ساتھ نماز ادا کریں گے یعنی یوم الترویہ سے لیکر ایام تشریق تک قصر کرنا ہے۔

    11/ جو لوگ باہری ملک سے حج پہ آئے ہیں وہ ایک عمرہ کرنے کے بعد دوسرا عمرہ کے لئے مسجد عائشہ جائیں گے یا میقات پر؟
    جواب : حج میں ایک ہی عمرہ ہوتا ہے جس حاجی نے اپنے حج کے لئے ایک عمرہ کرلیا ہے اسے دوبارہ عمرہ نہیں کرنا چاہئے ۔وہ حج شروع ہونے تک انتظار کریں اور اپنے اوقات طواف ، نفلی عبادات ، تلاوت واذکار اور دعاو استغفار میں گزاریں ۔

    12/ حضرت علی کا بتلایا دماغ تیز کرنے کا وظیفہ یا علیم یااللہ کیسا ہے ؟
    جواب : انٹرنیٹ پہ بڑے پیمانے پر یہ بات پھیلی ہوئی ہے کہ ایک سائل حضرت علی کی خدمت میں آیا اور بھولنے کی شکایت کیا تو آپ نے اس سے کہا رزق حلال کھاؤ اور اس پر ایک مرتبہ یاعلیم یااللہ کہو تمہارا دماغ تیز ہوجائے گا اور فجرکی نمازکے بعد آسمان کی طرف دیکھ کے یاعلیم یااللہ کا ورد کرکے دعا کرو باتیں کبھی نہیں بھولو گے ۔ اس قصہ کو بیان کرکے پھر ایک وظیفہ تیار کیا جاتا ہے اول وآخر سات بار درود شریف پڑھا جائے اور 33 بار یاعلیم یااللہ کا ورد کیا جائے ۔ دس دن تک یہ عمل ہو تاکہ 330 کی تعداد مکمل ہوجائے ۔ کوئی چاہے تو یہ عمل ایک دن یا پانچ دن میں بھی کرسکتا ہے لیکن 330 کی تعداد مکمل کرنی ہے۔ بچوں کو بھی مٹھائی وغیرہ پہ پڑھ کر کھلاسکتے ہیں ۔
    اس وظیفہ کا قرآن وحدیث سے کوئی تعلق نہیں ہے ، یہ بناوٹی ہے اور بدعتی کام ہے ۔ اس سے بجائے قوت حافظہ تیز ہونے کے گناہ ملے گا کیونکہ ہمیں اللہ تعالی نے اور اس کے پیغمبر محمد ﷺ نے ایسا کوئی وظیفہ نہیں بتلایا ہے ۔ دین نام ہے جو کچھ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ میں ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    695
    آپ کے مسائل اور ان کا شرعی حل

    جوابات از شیخ مقبول احمد سلفی

    1/ اس کلام کی کیا حقیقت ہے "جب تمہیں ہچکی لگے تو پہلی ہچکی پر کلمہ طیبہ پڑھ لو ان شاءاللہ ہچکی رک ہو جائے گی اور اس عمل کو اپنی عادت بنا لو اور جب موت آئے گی جو برحق ہےتو موت سے پہلے ایک ہچکی آئے گی اور تماری عادت کی وجہ سے تمہاری زبان سے کلمہ طیبہ جاری ہو جائے گا ان شاءاللہ "۔
    جواب : ہچکی انسانی فطرت ہے جسے بعض اطباء نے بیماری کی علامت یا کھاتے پیتے وقت کسی خرابی کے سبب آتی ہے اس سے نجات پانے کے لئے بہت سے نسخے ہیں جسے عمل میں لاکر اسے بند کیا جاسکتا ہے۔ذکر تو ہروقت مشروع ہے لیکن اگر کوئی ہچکی کے وقت کلمہ پڑھنے کو خاص کرتا ہے تو اس سے بدعت ظاہر ہوتی ہے کیونکہ ایسی کوئی تعلیم رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں ہے۔ بہتر یہ ہے کہ طبی نسخہ اختیار کیا جائے اور عافیت ملنے پر اللہ کی حمد بیان کی جائے ۔

    2/ فرض نمازوں کے بعد آیۃ الکرسی اور معوذات پڑھنے کی کیا فضیلت ہے ؟
    جواب : فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھنے سے متعلق رسول اللہ کا فرمان ہے :
    مَنْ قرأَ آيةً الكُرسِيِّ دُبُرَ كلِّ صلاةٍ مكتوبةٍ ، لمْ يمنعْهُ من دُخُولِ الجنةَ إلَّا أنْ يمُوتَ (صحيح الجامع:6464)
    ترجمہ: جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھتا ہے تو اسے جنت میں داخل ہونے سے موت کے علاوہ کوئی چیز نہیں روکتی ۔
    اور معوذات یعنی سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس یہ تینوں عظیم سورتیں ہیں ۔ پہلی سورت رحمن کی صفات پر مشتمل ہے تو بقیہ دوجن و شیطان اور شروحسد سے پناہ مانگنے پر البتہ فرض نمازوں کے بعد انہیں پڑھنے کی خاص فضیلت وارد نہیں ، رسول اللہ ﷺ کی تعلیم ہے کہ انہیں پڑھی جائے۔

    3/ بچے کو دو سال سے زائد دودھ پلانے کا کیا شرعا کیا حکم ہے ؟
    جواب : مدت رضاعت دوسال ہے جو اللہ کے اس فرمان میں موجودہے :
    وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ(البقرۃ :233)
    ترجمہ : مائیں اپنی اولاد کو دو سال کامل دودھ پلائیں جن کا ارادہ دودھ پلانے کی مدت بالکل پوری کرنے کا ہو۔
    دو سال سے زیادہ دودھ پلانا جائز ہے اگر اسے ماں کے دودھ کی حاجت ہو۔ اس کی متعدد مثالیں ہوسکتی ہیں مثلا بچہ لاغر ہو اور ماں کے دودھ سے اسے فائدہ پہنچتا ہویا اسی طرح دانہ پانی نہ کھاتا پیتا ہو وغیرہ ۔ اللہ کا فرمان ہے : لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ (البقرة:279 )۔
    ترجمہ: نہ تم کسی پر زیادتی کرواور نہ ہی تم پر کوئی زیادتی کرے ۔

    4/ اگر جمعہ کے دن خطیب نہ ہو تو کیا جمعہ کے بدلے ظہر کی نماز پڑھ لی جائے ؟
    جواب : اگر کسی دن رسمی خطیب جمعہ کو حاضر نہ ہوسکے اور مسجد میں کوئی عالم دین بھی موجود نہ ہو تو عوام میں سے ہی کوئی جمعہ کا مختصر خطبہ دے جس میں حمدوثنا کے بعد معمولی سی نصیحت کردے اور درود پڑھ کر خطبہ ختم کردے کفایت کرجائے گاپھر دو رکعت جمعہ کی نماز پڑھادے۔ آج تو تقریبا تمام مساجدمیں خطبات کی کتابیں رکھی ہوتی ہیں اسے دیکھ کر پڑھ لیا جائے اور پھر جمعہ کی نماز پڑھی جائے یاقریب کی کسی جامع مسجد میں چلے جائیں مگر جمعہ چھوڑ کر اس کے بدلے میں ظہر پڑھنا صحیح نہیں ہے ۔

    5/ ووٹ دینے کی شرعا کیا حیثیت ہے ؟
    جواب : جمہوریت اپنی جگہ بلاشبہ اسلام سے متصادم ہے ساتھ ہی ووٹنگ کا مروجہ طریقہ جس ادنی اور اعلی سب برابر ہوں سوفیصد غلط ہے مگر چونکہ جمہوری نظام کے تحت رہنے والوں پر حکمرانی کرنے والاووٹنگ سے ہی چنا جاتا ہے ایسے میں ہمارا حق بنتا ہے کہ ووٹ کا صحیح استعمال کرکےاور رشوت ودباؤ سے بالاتر ہوکر مفاد عامہ کی خاطر کام کرنے والے نمائندہ کا انتخاب کریں اور زیادہ نقصان پہنچانے والے عناصر سے قوم کو بچائیں۔

    6/ اٹیچ باتھ روم میں وضو کرنا کیسا ہے ؟
    جواب : اٹیچ باتھ روم میں وضو کرسکتے ہیں اور وضو کرتےوقت بسم اللہ کہنا چاہئے اور بیت الخلاء میں اللہ کانام لینا منع ہے اس وجہ سے اللہ کانام زبان سے نہ لے بلکہ دل میں پڑھ لے اور وضو کرکے وضو کی دعا باہر آکر پڑھے ۔ ویسے شروع میں بسملہ کہنے کے متعلق اختلاف ہے بعض نے واجب اور بعض نے سنت کہا ہے۔

    7/ جمعہ کے دن خطیب کو ممبر سے اترنے کے بعد مقتدی کھڑا ہو یا اقامت کے دوران ہی؟
    جواب : اقامت کے دوران کسی بھی وقت مقتدی کھڑا ہوسکتا ہے ، کھڑا ہونے کاکوئی وقت متعین نہیں ہے۔

    8/ کیا خون نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟
    جواب: خون بہنے سے وضو نہیں ٹوٹتا ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب زخمی ہوئے اور خون بہہ رہاتھا تو اسی حالت میں نماز پوری کی ۔

    9/ قربانی کا گوشت غیر کو دے سکتے ہیں یا نہیں ؟
    جواب : غیرمسلم دوست، پڑوسی ، نرم اخلاق والوں، مانگنے والوں، اسلام کی طرف میلان رکھنے والوں یا مسلمانوں کی مدد کرنے والوں یعنی جو کافر ہمارے احسان وسلوک کے حقدار ہیں کو قربانی کا گوشت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

    10/ اگر امام کے پیچھے مقتدی سے ایسی کوئی غلطی ہوجائے جس سے سجدہ سہو کرنا پڑتا ہے تو کیا نماز کے آخر میں سجدہ سہو کرنا ہوگا؟
    جواب : مقتدى بھول جائے تو اس كى كئى ايک حالتيں ہيں:
    1-اگر مقتدى اپنى نماز ميں بھول جائے اور وہ مسبوق بھى نہ ہو يعنى اس نے سب ركعات امام كے ساتھ ادا كى ہوں، مثلا ركوع ميں سبحان ربى العظيم بھول جائے تو اس پر سجدہ نہيں ہے كيونكہ اس كى جانب سے امام متحمل ہے، ليكن فرض كريں اگر مقتدى سے ايسى غلطى ہو گئى جس سے كوئى ايك ركعت باطل ہو جاتى ہو، مثلا سورۃ فاتحہ پڑھنا بھول گيا تو اس حالت ميں امام كے سلام پھيرنے كے بعد وہ ركعت ادا كرنا ضرورى ہے جو باطل ہوئى تھى پھر تشھد پڑھ كر سلام كے بعد سجدہ سہو كرے.
    2- اگر مقتدى نماز ميں بھول جائے اور وہ مسبوق ہو يعنى اس كى كوئى ركعت رہتى ہو تو وہ سجدہ سہو ضرور كرے گا چاہے وہ امام كے ساتھ نماز ادا كرتے ہوئے بھولا ہو يا باقى مانندہ نماز ادا كرتے ہوئے بھول جائے؛ كيونكہ اس كے سجدہ كرنے ميں امام كى مخالفت نہيں ہوتى اس ليے كہ امام اپنى نماز مكمل كر چكا ہے.(رسالۃ فى احكام سجود السھو تاليف شيخ ابن عثيمين بحوالہ الاسلام سوال وجواب فتوی رقم :72290)

    11/ سالی کی بیٹی سے شادی کا حکم بتائیں ۔
    جواب : جس طرح بیوی کے ہوتے ہوئے سالی سے نکاح حرام ہے اسی طرح سالی کی بیٹی سے بھی نکاح حرام ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    أن يجمعَ الرجلُ بين المرأةِ وعمَّتِها ، وبين المرأةِ وخالتِها .(صحيح مسلم:1408)
    ترجمہ: کسی عورت اور اس کی پھوپھی کو، اور کسی عورت اور اس کی خالہ کو (نکاح میں) اکٹھا نہ کیا جائے۔
    جب بیوی کی وفات ہوجائے یا طلاق ہوجائے تو عدت گزرنے کے بعد سالی کی بیٹی سے شادی کرسکتے ہیں۔

    12/ ہمارے علاقے میں حجاج حج پر نکلنے سے پہلے کسی عالم کو گھر بلاکر ان سے دعا کرواتے ہیں ، اس عمل کا کیا حکم ہے؟
    جواب : کسی زندہ نیک آدمی سے دعا کروانا جائز ہے لیکن دعا کروانے کا کوئی مخصوص طریقہ رائج کرلیا جائے تو پھر غلط ہے مثلا حج پر جانے سے پہلے لوگ اپنے گھر عالم بلابلاکر دعا کروانے لگے تو پھر اس صورت میں یہ کام ممنوع ہوگا۔

    13/ دوران حج وعمرہ صفا ومروہ پر جو دعائیں کرنی ہے ان میں ہاتھ اٹھانا ہے یا بغیر اٹھائے دعا کرنی ہے ؟
    جواب : صفا ومروہ پر یہ دعا بغیر ہاتھ اٹھائےتین تین دفعہ پڑھنی ہے" لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير، لا إله إلا الله وحده أنجز وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده۔" اوردرمیان میں ہاتھ اٹھاکر قبلہ رخ ہوکر جو جی میں آئے تین دفعہ دعا کرے ۔
    اور کنکری مارتے وقت جمرہ اولی کی رمی کے بعد اس سے ہٹ کر قبلہ رخ ہوکر ہاتھ اٹھا کر دعا کرے اور ایسا ہی جمرہ وسطی کی رمی کے بعد بھی کرے مگر جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد دعا کے لئے نہ ٹھہرے ۔

    14/ لڑکی کے والد نہیں ہیں ،والدہ ہے مگر وہ شادی کے لئے راضی نہیں ہے جبکہ لڑکی اور لڑکا نیز لڑکا کے گھروالے راضی ہیں ۔ کیا اس صورت میں ماں ولی بن سکتی ہے یا اس کی جگہ کوئی دوسرا ولی بن سکتا ہے ؟
    جواب : نکاح میں ماں کی ولایت قبول نہیں ہے ، مردوں کو یہ حق حاصل ہے اور حقیت کے اعتبار سے ولایت کی ترتیب ہے ۔ پہلے باپ پھر دادا، پھر بیٹا، پھر سگے بھائی ،، اس طرح سوتیلا بھائی (باپ کی جانب سے)، پھر سگے اور سوتیلے بھائی کی اولاد ، پھر حقیقی چچا ،پھر باپ کی طرف سے سوتیلا چچا ۔اس ترتیب کے ساتھ ان میں سے جو زندہ ہو اس کی ولایت میں لڑکی کی شادی ہوگی ۔

    15/ہم طالب علم جامعہ کے اندر جس روم میں رہتے ہیں اس میں پیسے کی چوری کثیر تعداد میں ہوتی ہے اورکسی کا کہنا ہے کہ کوئی آدمی ہے جو جن کے ذریعہ سے پتہ لگا لیتا ہے تو کیا اس پر عمل کرنا صحیح ہوگا ؟
    جواب : گم شدہ سامان کی برآمدگی کے لئے جنات کی مدد لینا جائز نہیں ہے ، آپ کے لئے یہی کافی ہے کہ اللہ سے اس کی واپسی کی دعا کریں، پوچھ تاچھ کریں اور قانونی کاروائی کریں ۔

    16/زید نے پانچ لاکھ موٹی رقم حامد کو بطور قرض دیا اور ادائیگی کی مدت دو سال مقرر کی اور زید نے دوسال تک اس مال کی زکاۃ دی ، اب ادائیگی وقت ہو گیا مگر حامد قرض کی ادائیگی کی طاقت نہیں رکھتا ٹال مٹول کرتے ہوئے مزید ایک سال ہوگیا تو کیا زید پر اس دیے ہوئے مال کی زکاۃ اس سال واجب ہے؟
    جواب : ہاں تیسرے سال کی بھی زکوۃ ادا کرے گا۔

    17/کیا یہ حدیث صحیح ہے ؟*** فیضانِ حدیث *** قیامت کے روز اللہ کریم کے عرش کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا، تین شخص اللہ پاک کے عرش کے سایے میں ہوں گے (1) وہ شخص جو میرے امتی کی پریشانی دُور کرے (2) میری سنت کو زندہ کرنے والا (3) مجھ پر کثرت سے درود پڑھنے والا.( البدور السافرہ حدیث 366 )
    جواب : ان الفاظ کے ساتھ یہ روایت ملتی ہے مگر اس کی کوئی اصل نہیں ہے ۔
    "ثلاثةٌ تحت ظلِّ عرشِ اللهِ يومَ القيامةِ ، يومَ لا ظلَّ إلَّا ظلُّه . قيل : من هم يا رسولَ اللهِ ! قال : مَن فرَّج على مكروبٍ من أمَّتي وأحيَا سنَّتي ، وأكثر الصَّلاةَ عليَّ"
    سخاوی نے کہا کہ اس کی معتمد اصل پہ مجھے اطلاع نہیں مل سکی ۔( القول البديع:181)

    18/ یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں نے سجدہ کیا تھا یہ کون سا سجدہ تھا؟
    جواب : یوسف علیہ السلام نے بچپن میں خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے او ر چاند وسورج انہیں سجدہ کررہے ہیں ،یہی خواب اس وقت تعبیر بن کر حقیقت میں تبدیل ہوگیا جب انہیں مصر کی بادشاہت ملی کہ ان کے والدین اورسارے بھائی بطور سلام وتکریم سجدہ ریز ہوگئے ۔ دراصل یہ یوسف علیہ السلام کی شریعت میں جائز تھا جبکہ امت محمدیہ میں کسی قسم کا سجدہ غیراللہ کے لئے جائز نہیں ہے ۔

    19/ میاں بیوی میں جھگڑا لڑائی ہونے کی وجہ سے تقریبا تیس سال تک دوری رہی اب وہ دونوں اکٹھا ہونا چاہتے ہیں اس کے لئے کیا نکاح تجدید کرنے کرنے کی ضرورت ہے ؟
    جواب : جھگڑا لڑائی سے میاں بیوی میں دوری ہوجانے پر نکاح نہیں ٹوٹتا ہے خواہ کتنے بھی سال ہوگئے ہوں البتہ اس طرح دوری نہیں اختیار کرنی چاہئے تھی اس پہ اللہ تعالی سے توبہ واستغفار کریں۔ وہ دونوں ابھی بھی میاں بیوی ہیں لہذا نکاح کی ضرورت نہیں ہے بغیر نکاح کے اکٹھے ہوسکتے ہیں ۔

    20/ دربار پر چڑھائے ہوئے بکرے منڈی یا قریبی بازار میں اس کے متولیان بیج دیتے ہیں ایسے بکرے کا گوشت یا قیمہ خریدنا کیسا ہے ؟
    جواب : دربار پر چڑھایا ہوا جانور غیراللہ کے لئے ہے جس کا کھانا ، خریدنا، بیچنا کچھ بھی جائز نہیں ہے۔

    21/ میں ایک مسجد میں امام ہوں وہاں لوگوں نے رمضان میں تراویح اور وتر کی نماز کے بعد جنازہ کی نماز پڑھی جبکہ حدیث میں وتر کو آخری نماز بنانے کا حکم ہے ؟
    جواب : صحیحین کی روایت سے ثابت ہے کہ رات کی آخری نماز وتر کو بنانا چاہئے لیکن نبی ﷺ سے وتر کے بعد بھی دو رکعت نماز پڑھنا ثابت ہےجیساکہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ وتر کے بعد رسول اللہ ﷺ بیٹھ کردو رکعت ادا کیا کرتے تھے (مسلم:738) اس لئے وتر کے بعد بھی نوافل یا دوسری نماز (نماز جنازہ) پڑھ سکتے ہیں ۔

    22/ تکافل مروجہ کی شرعی کیا حیثیت ہے ؟
    جواب : مروجہ تکافل بھی بیمہ کی طرح ناجائز ہے کیونکہ یہ بھی بیمہ ہی کی ایک شکل ہے ۔
     
  10. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    695
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبر کاتہ

    شیخ میرے کچھ سوالات ہیں جن کا جواب قرآن وحدیث کی روشنی میں چاہئے ۔

    1/جو دو رکعت یا ایک رکعت والی نماز ہے اس میں تورک کیا جائے گا یا نہیں ؟

    2/فجر کی سنت کے بعد مسجد میں لیٹ سکتے ہیں یا نہیں اور فجر کی نماز کے بعد سونے کا حکم بھی بتادیں؟

    3/مسجد میں کسی بیمار کی شفایابی کے لئے دعا کا اعلان کر سکتے ہیں کہ نہیں ؟

    4/ناپاکی کی حالت میں اگر پورے دن کی نماز بھول کرپڑھ لئےاور آخر میں ناپاک ہونے کا علم ہوا تو کیا ان نمازوں کو لوٹائیں گے،ناپاکی کپڑے میں نجاست لگنے کی صورت میں ہو یا اور کوئی دوسری وجہ سے ہو؟

    شیخ ان سوالوں کاجواب مطلوب ہے ،اللہ آپ کے علم و عمل اور صحت و تندرستی میں برکت عطا فرمائے۔

    سائل : حمید اللہ سلفی ایس نگر یوپی، واٹس ایپ گروپ "اسلامیات " کا ادنی ممبر


    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    جواب (1): اس موقف میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے اور دلائل کی رو سے ہر نماز کے آخری قعدہ میں تورک کرنا مسنون معلوم ہوتا ہے ۔ اس وجہ سے دو رکعت یا ایک رکعت والی نماز کے قعدہ میں بھی میں تورک کرنا چاہئے ۔

    جواب (2):

    فجر کی نماز سے پہلے دو رکعت سنت کی ادائیگی کے بعد رسول اللہ ﷺ سے اپنے گھر میں تھوڑی دیر آرام کے لئے لیٹنا ثابت ہے ، اس لئے کوئی اس پر عمل کرنا چاہے تو اپنے گھر میں عمل کرسکتا ہے مسجد میں نہیں ۔ مسجد میں اس عمل کا ثبوت نہیں ہے ۔ ایک اور بات یہ ہے کہ دورکعت سنت کے بعد لیٹنا دراصل تہجد سے تھکاوٹ کی بناپر ہو اس شرط کے ساتھ کہ اس پر نیند غالب ہونے کا گما ن نہ ہو۔

    اورفجر بعد سونے کی ممانعت کے ثبوت میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے ، بعض ضعیف روایت میں ذکر ہے کہ فجر کے بعد سونے سے رزق سے محرومی ہوتی ہے مگر صحیح حدیث میں ممنوع نہ ہونے کے سبب فجر کے بعد سونے میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ دو باتوں کا خیال کیا جائے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ فجر کی نماز پڑھ کے سویاجائے اور دوسری بات یہ ہے کہ رات میں نیند پوری ہوگئی ہوتو بلاضرورت فجر کے بعد نہ سوئے ۔ زیادہ سونے سےسستی پیدا ہوتی ہے اور صبح کے وقت میں برکت ہے اس سے مستفید ہوا جائے ۔ کوئی یہ نہ سوچے کہ اس وقت میرے پاس کوئی کام نہیں ہے تو سوناہی افضل ہے ۔ نہیں، بہت سارے کام ہیں، تدبر کےساتھ قرآن کی تلاوت،حفظ قرآن وحدیث اورحفظ ادعیہ، ذکرواذکار، دینی کتابوں کامطالعہ ، مسجد، مدرسہ، ادارہ یا گھر میں لوگوں کے درمیان وعظ ونصیحت وغیرہ۔ کتنی عجیب بات ہے دنیاکے کاموں کے لئے ہمارے پاس کافی وقت ہےمگر دین کے لئے کوئی وقت نہیں ۔کم از کم اس وقت کو تو دین کے لئے نکال لیں ہوسکتا ہے اسی کی برکت سے دنیا بھی مزید سنور جائے اور آخرت تو ان شاء اللہ سنور ے گی ہی۔

    جواب (3): مریض کی شفایابی کے لئے مسجد میں اعلان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، یہ اپنےمریض مسلمان بھائی کے ساتھ تعاون ہے، اس اعلان کے سبب بہت سے لوگ دعائیں دیں گے ، بہت سے عیادت کو جائیں گے اور بہت سے مادی اور معنوی طور پر مدد بھی کریں گے ۔ تاہم نماز کے بعد امام کا دعا کرنا اور سارے مقتدی کا آمین کہنا اس بات کی دلیل نہیں ہے ، انفرادی طور پر دعا کی جائے ۔

    جواب (4): اگر ناپاکی کپڑوں میں لگی تھی اور بھول کر اس کپڑے میں پورے دن کی نماز ادا کر لی گئی پھر بعد میں معلوم ہوا کہ کپڑے میں نجاست لگی تھی تو ان نمازوں کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے ، نماز صحیح ہے ۔ اور اگر طہارت کی ضرورت تھی مگر یاد نہیں رہا اور بغیر غسل کے دن بھر کی نماز ادا کر لی تو ان ساری نمازوں کو دہرانا ہوگا کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ بغیر طہارت کے نماز قبول نہیں ہوگی ۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبہ

    مقبول احمد سلفی​
     
    Last edited: ‏اگست 4, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں