واٹس ایپ گروپ" اسلامیات" کے سوالات اور ان کے جوابات

مقبول احمد سلفی نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏جولائی 26, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    634
    آپ کے مسائل اور ان کا شرعی حل

    جوابات از شیخ مقبول احمد سلفی

    1/ اکہری اذان دیکر دہری اقامت کہہ سکتے ہیں کہ نہیں ؟
    جواب :اذان اکہری نہیں ہوتی ،اقامت اکہری ہوتی ہے اور یہی اصل ہے جیساکہ حکم رسول ﷺ موجود ہے۔
    عن أنسٍ قال : أُمِرَ بلالٌ أن يَشْفَعَ الأذانَ ، وأن يُوتِرَ الإقامةَ ، إلَّا الإقامةَ .(صحيح البخاري:605)
    ترجمہ: حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت بلال ؓ کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ اذان میں جفت (دو دو مرتبہ) کلمات کہے اور تکبیر میں قد قامت الصلاة کے علاوہ دیگر کلمات طاق (ایک ایک مرتبہ) کہے۔
    نبی کریم ﷺ کی یہی سنت آپ ﷺ کے زمانے میں معمول بہ تھی جیساکہ سیدنا ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں:
    إنما كان الأذانُ على عهدِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم مرتين مرتين والإقامةُ مرةً مرةً غيرَ أنه يقولُ قد قامتِ الصلاةُ قد قامتِ الصلاةُ فإذا سمِعنا الإقامةَ توضأنا ثم خرجنا إلى الصلاةِ.(صحيح أبي داود:510)
    ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اذان کے کلمات دو دو بار کہے جاتے تھے اور اقامت ( تکبیر ) کے ایک ایک بار ۔ سوائے اس کے کہ مؤذن «قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة» کہا کرتا تھا ( یعنی دو بار ) تو جب ہم اقامت سنتے تو وضو کر کے نماز کے لیے نکل پڑتے ۔
    چونکہ ابومحذورہ والی روایت جو کہ سنن ابن ماجہ، سنن نسائی، سنن ابی داؤداور صحیح ابن حبان وغیرہ میں ہے اور صحیح درجہ کی ہے اس وجہ سے کوئی دہری اقامت کہے تو اس میں بھی مضائقہ نہیں ہے ۔

    2/ کیا جس کے پاس روپئے نہیں ہوں مگر زمین یا گھر میں سامان ہوں تو اسے لازمی طور پر زمین بیچ کر یا گھر کا سامان بیچ کر قربانی دینا چاہئے ؟
    جواب : قربانی کسی مسلمان کے اوپر لازم نہیں ہے خواہ وہ مالدار ہو یا اس سے نیچے ۔ یہ سنت موکدہ ہے یعنی ایسی سنت ہے جس کی زیادہ تاکید آئی ہے اس لئے اس مسلمان کو جسے قربانی کے وقت جانور خریدنے کی طاقت ہو اسے قربانی دینا چاہئے لیکن قربانی کے وقت کسی کے پاس وقتی طور پر پیسہ نہیں تو ادھار وغیرہ کرکے بھی قربانی دے سکتا ہے بشرطکہ قرض ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔ اور وہ مسلمان جس کے پاس جانور خریدنے کی طاقت نہیں ہے مگر اس کے پاس زمین ہے تو اسے زمین بیچ کر قربانی دینے کی ضرورت نہیں ہے ، نہ ہی قربانی دینے کے لئے گھر کا سامان بیچے کیونکہ یہ چیزین ضروریات زندگی ہیں ان کی انسان کو اپنے ضروریات کی تکمیل کے لئے ضرورت ہے ۔ ہاں اگر ضرورت سے زائد زمین ہے اسے بیچنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا یا گھر میں زائد سامان ہو اسے ہٹادینے سے حرج نہیں ہے تو ایسی صورت میں سامان یا زمین بیچ کر قربانی خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ یہ یاد رہے کہ محض قربانی کے لئے ضرورت کی زمین یا گھر کا ضروری اثاثہ نہیں بیچنا چاہئے ۔

    3/ حج کرنے والے کے نام کے آگے حاجی لگانا درست ہے ؟
    جواب : حج ایک عظیم عبادت ہے اور اسی کا قبول ہوتا ہے جو مبرور ہو یعنی جو لغوورفث سے پاک، ایمان وعمل سے مزین اور سنت رسول اللہ سے معطر ہو۔ یہ عبادت کسی مسلمان کو نصیب سے زندگی میں ایک بار ادا کرنے کی سعادت ملتی ہے ، اس عبادت کی انجام دہی کے بعد آدمی رب سے بکثرت دعائیں کرے تاکہ اس کا حج مقبول ہو اور اس حج پہ جس عظیم بشارت کا وعدہ کیا گیاہے اس کا مستحق ہوسکے ۔ جس مسلمان کو ایسی فکرہوگی وہ کبھی اپنے نام کے ساتھ حاجی نہیں لگائے گاکیونکہ اس سے ریاکاری جھلکتی ہے۔عباد ت کا تعلق اللہ سے ہے اس کی نسبت سے خود کو عابد ، نمازی، حاجی وغیرہ کہنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ اس بندے کو اپنی عبادت کی قبولیت کا یقین ہے اور اس نے اس عبادت سے رب کی رضا نہیں اپنی ناموری کا ذریعہ بنانا مقصود ہے۔ نبی یا صحابہ سے بڑھ کر اس وقت کسی کا ایمان نہیں ، انہوں نے اپنے نام کے ساتھ حاجی نہیں لگایا تو ہم کس شمار وقطار میں ہیں ؟ ہاں دوران حج کسی کو نام نہ معلوم ہونے کی وجہ سے حاجی کہہ دیا تو یہ الگ بات ہے ،یہ وقت بھی مناسک حج کاہے لیکن حج کو زندگی بھر کے لئے اپنی ذات وصفات کے تعارف کا ذریعہ بنالینا سراسر ریاونمود ہےجس کی بیحد مذمت آئی ہے ، اس کا اثر دوسرے اعمال پر پڑتا ہے بلکہ اس سبب آدمی جہنم رسید بھی ہوسکتا ہے ۔

    4/ شرابی کی نماز جنازہ اور اس میں شرکت کاکیا حکم ہے ؟
    جواب : شراب پینا حرام اور گناہ کبیرہ ہے ، اس کا مرتکب بڑےسزا کا مستحق ہے البتہ وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہے ۔ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہونے کی وجہ سے فاسق وفاجر کہیں گے ۔ ایسے مسلمان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور عام لوگ اس کے جنازہ میں شریک ہوں گے تاہم دوسروں کی نصیحت کے لئے علماء اور صالح افراد اس میں شرکت نہ کریں ۔

    5/ بیوٹی پارلر میں جاب کرنے کا شرعی حکم کیا ہے ؟
    جواب : بیوٹی پارلر میں غیر شرعی امور سے بچنا بہت مشکل ہے مثلا ابرو تراشنا، سر کے بال چھوٹا کرنا، بلاضرورت عورتوں کی مقامات ستر کو دیکھنامحض زیبائش کے لئے، کسی عورت کا حرام کام گانے بجانےیا شوہر کے علاوہ دوسرے اجنبی مردوں کے لئے سنگار کرنا وغیرہ ۔ ان کے علاوہ کہیں پر مردوں سے اختلاط ہے تو کسی خاتون کو اس نوکری کے لئے تنہا گھر سے باہر آمدرفت کرنی پڑتی ہے۔ ان تمام مفاسد و ناجائز کاموں سے بچ کراور شرعی حدود میں رہ کر اگر کوئی عورت بیوٹی پارلر کا جاب کرسکتی ہے تو پھر کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر غیرشرعی امور سے نہیں بچ سکتی ہے تو اس صورت میں یہ جاب کرنا جائز نہیں ہوگا۔ ایک لفظ میں یہ کہیں کہ بناؤسنگار کا کام فی نفسہ جائز ہے اور اس کا پیشہ اختیار کرکے اس پہ اجرت حاصل کرنا بھی جائز ہے لیکن اس پیشے میں ناجائز کام کرنا پڑے تو وہ کمائی جائز نہیں ہے۔

    6/ حجامہ پہ اجرت لینا منع ہے مگر کیا کوئی اسے آج کے ترقی یافیہ دور میں جہاں حجامہ سائنسی آلات کے ذریعہ ہوتا ہے اسے پیشہ کے طور پر اپنا سکتا ہے ؟
    جواب : نسائی ،ابن ماجہ اور مسند احمد وغیرہ کی صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے حجامہ کی اجرت لینے سے منع کیا ہے مگر صحیحین میں سینگی لگانے پر رسول اللہ ﷺ نے خود اجرت دی ہے اس کا ذکر ہے ۔ دونوں قسم کی احادیث موجود ہیں ،ان دونوں کی روشنی میں یہ کہا جائے گاکہ سینگی پراجرت لینا کراہت کے ساتھ جائزوحلال ہے ۔

    7/ قرانی تعویذ کا بھی وہی حکم ہے جو شرکیہ امور پر مشتمل ہو یا قرآن پر مشتمل تعویذ کا حکم جواز کے قبیل سے ہے ؟
    جواب : نبی ﷺ نے مطلقا تعویذ سے منع کیا ہے فرمان رسول ہے : من علَّق تميمةً فقد أشركَ(صحيح الترغيب:3455)
    ترجمہ: جس نے کسی قسم کی تعویذ لٹکائی اس نے شرک کیا۔
    جن لوگوں نے قرآنی تعویذ کو جائز کہا ہے اور جن چند دلائل سے استدلال کیا ہے وہ قوی نہیں ہے۔ قرآنی آیات ویسے بھی دیوارودر یا جسم وغیرہ پر لٹکانا اہانت کے زمرے میں آتا ہے۔مجھے سب سے زیادہ حیرت ان لوگوں پر ہے جنہوں نےقرآن کی تعظیم میں حد سے زیادہ غلو کیا اور پھر قرآنی آیات لٹکاکر اس کی توہین بھی کرتے ہیں بلکہ اس کی کمائی کھاتے ہیں۔ایک طرف قرآن کا ادب تو دوسری طرف اس کی توہین،معاذاللہ۔ قرآن کا نزول پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لئے ہواہے لہذا قرآن کے نزول کے مقصد کے خلاف کوئی کام نہیں کرنا چاہئے۔

    8/ حدیث میں قبلہ رخ تھوکنا منع ہے مگر کسی مسجد میں قبلہ کی جانب ہی وضو خانہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : بلاشبہ قبلہ کی جانب تھوکنا منع ہے مگر قبلہ کی جانب وضو کرنا منع نہیں ہے۔ وضو کے عمل میں تھوکنا پایا نہیں جاتا ہے ، ایک عمل کلی اورایک عمل ناک کی صفائی بھی ہے،قبلہ رخ ان عملوں کی انجام دہی میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اگر کسی کو وضو کے وقت تھوکنے کی ضرورت پڑجائے تو دائیں بائیں تھوک سکتا ہے۔

    9/ اگر کسی انسان کو دوسرے انسان کا مال یا حسن وجمال اور صحت وتندرستی دیکھ کراپنے اندر کمی کا احساس کرے تو صبر کرے یا اپنے رب سے اس چیز کا سوال کرے ؟
    جواب : اللہ تعالی نے ہمیشہ سے سماج میں دو طبقہ اونچ نیچ کا بنایا ہے۔ اس فرق کو قیامت تک کو ئی مٹا نہیں سکتا۔ اشتراکیت والوں نے مساوات کا نعرہ لگایا اور اپنی موت آپ مرگیا۔ جس کمی کا احساس آپ کے دل میں کسی کے مال ، حسن وجمال اور صحت وتندرستی سے پیدا ہوتا ہے اس کا علاج نبی ﷺ نے اس حدیث میں بتلایا ہے ۔
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:إِذَا نَظَرَ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي المَالِ وَالخَلْقِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ(صحيح البخاري:6490)
    ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:جب تم میں کوئی شخص کسی ایسے آدمی کو دیکھے جو مال ودولت اور شکل وصورت میں اس سے بڑھ کر ہے تو اس وقت اسے ایسے شخص کو بھی دیکھنا چاہیئے جو اس سے کم درجے کا ہے۔
    اس حدیث سے پتہ چلا کہ کسی کا مال ، جاہ وجلا ل ،حسن وجمال آپ کو اپنی کمی کا احساس دلائے تو اس سے کم درجہ کے گرے پڑے لوگ ہیں ان کی طرف بھی دیکھا کروخاص طور سے اس آدمی کو جس پر تمہیں کسی وجہ سے برتری حاصل ہے ۔
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا نَظَرَ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْمَالِ وَالْخَلْقِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ مِمَّنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ(صحیح مسلم : 7428)
    ترجمہ:حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص اس کی طرف دیکھے جسے مال اور جمال میں فضیلت حاصل ہے تو اس کو بھی دیکھے جو اس سے کمتر ہے ، جس پر ( خود ) اسے فضیلت حاصل ہے ۔
    اس طرح سے انسان کی احساس کم مائگی ختم ہوجائے گی اور اللہ کی نعمتوں کی ناقدری نہیں ہوگی۔
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْظُرُوا إِلَى مَنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ (صحيح مسلم:7430)
    ترجمہ:حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اس کی طرف دیکھو جو ( مال ور جمال میں ) تم سے کمتر ہے ، اس کی طرف مت دیکھو جو تم سے فائق ہے ، یہ لائق تر ہے اسکے کہ تم اللہ کی نعمت کو حقیر نہ سمجھو گے ۔

    10/ میرے پاس اردو میں ایک امیج ہے جس میں سات آسمانوں کے رنگ اور ان کے الگ الگ نام ہیں اس کی کیا حقیقت ہے ؟
    جواب : لوگوں میں اس طرح سے سات آسمانوں اور ان کے رنگوں کے نام مشہور ہیں ۔
    (1)رقیعہ :پہلے آسمان کا نام رقیعہ ہے اور یہ دودھ سے بھی زیادہ سفید ہے۔(2)فیدوم یا ماعون :دوسرے آسمان کا نام فیدوم یا ماعون ہے اور یہ ایسے لوہے کا ہے جس سے روشنی کی شعاعیں پھولتی ہیں۔(3)ملکوت یا ہاریون :تیسرے آسمان کا نام ملکوت یا ہاریون ہے اور یہ تانبے کا ہے۔(4)زاہرہ: چوتھے آسمان کا نام زاہرہ ہے اور یہ آنکھوں میں خیرگی پیدا کرنے والی سفید چاندی سے بنا ہے۔(5)مزینہ یا مسہرہ :پانچوں آسمان کا نام مزینہ یا مسہرہ ہے اور یہ سرخ سونے کا ہے۔(6)خالصہ : چھٹۓ آسمان کا نام خالصہ ہے اور یہ چمکدار موتیوں سے بنا ہے۔(7)لابیہ یا دامعہ : ساتویں آسمان کا نام لابیہ یا دامعہ ہے اور یہ سرخ یا قوت کا ہے اور اسی میں بیت المعمور ہے۔
    اس طرح کی بات ضعیف وموضوع روایات میں مذکور ہےجو غالبا اسرائیلیات سے درآئی ہے ۔ اس پر اعتماد نہیں کیا جائے گا۔ کسی صحیح حدیث میں سات آسمان کے نام اور رنگوں کا ذکر نہیں ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    634
    نماز سے متعلق چند سوالوں کے جواب

    جواب از شیخ مقبول احمد سلفی

    (1)اگر چار رکعات فرض نماز میں دو رکعتوں کے بعد تشہد میں بیٹھنا بھول جائیں اور سیدھے کھڑے ہو جائیں تو کیا سجدہ سہو ادا کرنے سے نماز درست ہوجائےگی؟
    جواب : نماز کا پہلا تشہد واجب ہے اور واجب چھوٹنے پر سجدہ سہو لازم آتا ہے ۔ اس میں تھوڑی تفصیل ہے وہ یہ ہے کہ اگرکوئی تشہد بھول کر کھڑا ہونے لگے اور بالکل سیدھا ہونےسے پہلے یاد آجائے کہ وہ تشہد نہیں کیا ہے تو تشہد میں لوٹ جائے ایسی صورت میں سجدہ سہو نہیں ہے لیکن اگر سیدھا کھڑا ہوچکا ہو یا تیسری رکعت کے لئے قرات شروع کردیا ہو تب تشہد بھولنے کا خیال آئے تو اب تشہد میں واپس نہیں لوٹنا ہے بلکہ نماز مکمل کرنی ہے اور سلام پھیرنے سے قبل دوسجدے سہو کے واسطے کرنے ہیں ۔ ان باتوں کی دلیل ملاحظہ فرمائیں :
    عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِذَا قَامَ الْإِمَامُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ, فَإِنْ ذَكَرَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوِيَ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ، فَإِنِ اسْتَوَى قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ، وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ(صحيح أبي داود:1036)
    ترجمہ: سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :جب امام دو رکعتوں پر کھڑا ہو جائے اور صحیح سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے ہی اسے یاد آ جائے تو چاہیئے کہ بیٹھ جائے ( اور تشہد پڑھے ) اور اگر سیدھا کھڑا ہو جائے تو نہ بیٹھے بلکہ سہو کے دو سجدے کرے ۔
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، وَانْتَظَرْنَا التَّسْلِيمَ, كَبَّرَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ, وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، ثُمَّ سَلَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.(صحيح أبي داود:1035)
    ترجمہ: سیدنا عبداللہ ابن بحینہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں اور کھڑے ہو گئے ‘ بیٹھے نہیں ۔ پس لوگ بھی آپ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہو گئے ، جب آپ ﷺ نے اپنی نماز مکمل فرمائی اور ہمیں آپ ﷺ کے سلام کہنے کا انتظار تھا ‘ آپ نے تکبیر کہی اور دو سجدے کیے جبکہ آپ ( تشہد میں ) بیٹھے ہوئے تھے ‘سلام سے پہلے ۔ ان کے بعد سلام پھیرا ۔

    (2)اگر چوتھی رکعت کے بعد بیٹھنا بھول گئے پانچویں کے لئےکھڑے ہوگئے اور پھر یادآ گیا تو بیٹھ سکتے ہیں یا رکعت پوری کریں گے؟اس سلسلے میں سجدہ سہو کا کیا حکم ہے ؟
    جواب: اگر کوئی جہل یا نسیان کی وجہ سے چار رکعتوں والی نماز میں آخری قعدہ میں نہ بیٹھ کر پانچویں رکعت کے لئے کھڑا ہوجائے تو اس کی ایک صورت تو یہ ہےکہ اسے اس زیادتی کا علم دوران نماز ہی ہوجائے مثلا قرات یا رکوع کے درمیان تو فورا قرات یا رکوع چھوڑ کر واپس قعدہ میں بیٹھ جائے اور پھر سلام کے بعد سجدہ سہو کرے اور دوسری صورت یہ ہےکہ نماز مکمل کرنے کے بعد زیادتی کا علم ہو تو بھی سلام کے بعد سجدہ سہو کرے ۔
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا فَقِيلَ لَهُ أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ وَمَا ذَاكَ قَالَ صَلَّيْتَ خَمْسًا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ(صحيح البخاري:1239)
    ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ ظہر کی پانچ رکعات پڑھیں۔ آپ سے عرض کیا گیا: آیا نماز میں کچھ اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: "وہ کیا؟" عرض کیا گیا: آپ نے پانچ رکعات پڑھی ہیں۔ تو آپ نے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے۔
    نماز میں زیادتی سے متعلق ایک بات یہ یاد رکھیں کہ عمدا زائد رکعت ادا کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے، مقتدی کو معلوم ہوکہ امام زائد رکعت کے لئے کھڑا ہوگیا ہے تو سبحان اللہ کے ذریعہ متنبہ کرے اور دوسری بات یہ ہے کہ نماز میں زیادتی کا شک ہوجائے یا واقعی زیادتی ہوگئی ہو جو عمدا نہ ہو بلکہ جہل اور نسیان کی وجہ سے ہو تو سلام کے بعد سجدہ سہو ہوگا۔

    (3)چاررکعات کی نماز میں دوسری رکعت میں غلطی سے پورا درود اور دعا پڑھ کر سلام مکمل پھیرا ہی تھا کہ یاد آیا چاررکعات پوری نہ ہوئی تو بعد از سلام کھڑے ہو کر بقیہ دورکعتیں پڑھ سکتے ہیں یا پوری نماز ادا کریں گے؟
    جواب : اگر کوئی بھول کر چار رکعتوں والی نماز میں دو رکعت پر ہی سلام پھیردے اورمعلوم ہو کہ ابھی ہم نے دو ہی رکعت پڑھی ہے تو پھر سے صرف دو ہی رکعت پڑھے اور سلام پھیرنے سے قبل سجدہ سہو کرے ۔
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَقَصَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ أَحَقٌّ مَا يَقُولُ قَالُوا نَعَمْ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ قَالَ سَعْدٌ وَرَأَيْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى مِنْ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ فَسَلَّمَ وَتَكَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى مَا بَقِيَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَقَالَ هَكَذَا فَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ(صحيح البخاري:1240)
    ترجمہ: حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو ذوالیدین نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز میں کمی کر دی گئی ہے؟ نبی ﷺ نے اپنے اصحاب سے دریافت کیا: "آیا ذوالیدین صحیح کہتا ہے؟" انہوں نے عرض کیا: ہاں (صحیح کہتا ہے)۔ اس کے بعد آپ نے دو رکعتیں مزید پڑھیں، پھر دو سجدے کیے۔ (راوی حدیث) سعد بن ابراہیم کہتے ہیں: میں نے عروہ بن زبیر ؓ کو دیکھا، انہوں نے نماز مغرب کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا، پھر گفتگو بھی کی، اس کے بعد بقیہ نماز ادا کی اور دو سجدے کیے اور فرمایا کہ نبی ﷺ نے بھی ایسے کیا تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    634
    آپ کے مسائل اور ان کا شرعی حل

    جوابات از شیخ مقبول احمد سلفی


    1/میں نے سنا ہے کہ خواب کا اثر چالیس سال تک رہتا ہے ایسی کوئی حدیث ہے ؟
    جواب : سورہ یوسف کی سو نمبر(100) کی آیت میں یوسف علیہ السلام کے لئے والدین اور گیارہ بھائیوں کا سجدہ کرنا مذکور ہے جو یوسف علیہ السلام کےبچپن کے خواب کی تعبیر تھی ۔آپ نے بچپن میں خواب دیکھا تو اسے اپنے والد سے بیان کیا کہ میں نے گیارہ ستارے اور چاندوسورج کو اپنے لئے سجدہ کرتے دیکھا ہے تو والد گرامی نے کہا کہ اس خواب کو کسی سے بیان نہ کرنا ۔ جب برسوں بعد گھروالوں نے انہیں سجدہ کیا تو بچپن کے خواب کی تعبیر پوری ہوئی ۔ یہ خواب شرمندہ تعبیر کب ہوا اس سلسلے میں علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں پانچ اقوال ذکر کئے، ایک قول اٹھارہ سال، دوسراقول چالیس سال، تیسراقول ترپن سال، چوتھا قول اسی سال اور پانچواں قول تراسی سال ہے ۔ سلیمان کی طرف منسوب یہ قول ہے کہ خواب دیکھنے اور اس کی تاویل کے ظاہر ہونے میں چالیس سال کا وقفہ تھا اوراس کے بعد یہ بھی مذکور ہے کہ عبداللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ خواب کی تعبیر کے واقع ہونے میں اس سے زیادہ زمانہ لگتا بھی نہیں ،یہ آخری مدت ہے ۔ اسی بنیاد پر بعض علماء نے کہا ہوگا کہ خواب کا اثر چالیس سال تک رہتا ہے مگر چونکہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے اس لئے ہم اس قول کو بنیاد نہیں بنا سکتے اور ویسے بھی ہم نے دیکھا کہ یوسف علیہ السلام سے اہل خانہ کی جدائی کے وقفہ میں اختلاف ہے ۔

    2/ اگر کوئی کسی رکعت میں اما م کے پیچھے یا اکیلے نماز پڑھتے ہوئے سورہ فاتحہ بھول جائے تو سجدہ سہو کرنا ہوگا؟
    جواب : نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنا رکن ہے خواہ وہ مقتدی ہو یا امام / منفرد ۔نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ سورہ فاتحہ کے بغیر نہیں ہوتی۔ اگر کوئی دوران نماز سورہ فاتحہ بھول جائے تو اس کی وہ رکعت شمار نہیں کی جائے گی کیونکہ اس رکعت میں نماز کارکن(فاتحہ) چھوٹنے سے وہ رکعت باطل ہوگئی، اس وجہ سے وہ اس رکعت کے بدلے مزید ایک رکعت ادا کرے گا اور سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کرے گاحتی کہ وہ امام کے پیچھے نماز پڑھ رہاہو تو بھی امام کے سلام پھیرنے کے بعد ایک رکعت ادا کرے گا اور سلام کے بعد سجدہ سہو کرے گا۔

    3/ بسا اوقات ہم ضرورت کے لئے بنک سے لون(قرض) لیتے ہیں کیا ہمیں اس لون پر بھی زکوۃ دینی ہوگی ؟
    جواب : سب سے پہلے میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ لین دین میں سودی بنک کا سہارا نہ لیں الا یہ کہ اضطراری حالت ہو۔ جہاں تک آپ کے سوال کا جواب ہے تو زکوۃ قرض لینے والے کے ذمہ نہیں ہوتا بلکہ قرض دینے والے کے ذمہ ہوتا ہے اس وجہ سے لون پر زکوۃ نہیں ہے۔

    4/ ایک شخص قرض میں ڈوبا ہوا ہے وہ کپڑوں کا کاروبار کرتا ہے ، کاروبار بروقت کافی مندا ہے کیا اس شخص کو اپنی تجارت میں زکوۃ دینا پڑے گا؟
    جواب : اگر کوئی شخص قرضدار بھی ہے اور تاجر بھی ہے تو اسے زکوۃ دینی ہوگی اگر اس کی مالیت تجارت نصاب تک پہنچتی ہواور اس پر سال گزرگیا ہو۔ ہاں اگر وہ چاہے تو پہلے قرض ادا کردے ، قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچتا ہے نصاب تک پہنچنے کی صورت میں اس کی زکوۃ دے اور نصاب تک نہ پہنچے تو زکوۃ نہیں ہے ۔

    5/ کیا کسی کے لئے اپنا نکاح خود سے پڑھا نا جائز ہے ؟
    جواب : کوئی حرج نہیں ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :إذا خطبَ إليكم مَن ترضَونَ دينَه وخلقَه ، فزوِّجوهُ إلَّا تفعلوا تَكن فتنةٌ في الأرضِ وفسادٌ عريضٌ(صحيح الترمذي:1084)
    ترجمہ:اگر تمہارے ہاں کوئی ایسا آدمی نکاح کا پیغام بھیجے جس کے دین اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس کے ساتھ (اپنی ولیہ) کی شادی کر دو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو زمین میں بہت بڑا فتنہ اور فساد پھیلے گا۔
    اس میں نکاح کا طریقہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ کوئی آدمی اپنی شادی کا پیغام کسی لڑکی کے والد/سرپرست کو دے کہ میں فلانہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور لڑکی کے والد لڑکے میں دین واخلاق پائے تو اس سےلڑکی کی شادی کردے یعنی لڑکی کا ولی لڑکے سے کہے کہ میں اپنی بیٹی کی شادی تم سے کرتا ہوں کیا تمہیں قبول ہے ، لڑکا کہے ہاں مجھے قبول ہے ۔ شادی ہوگئی ۔
    سعودی عرب کی فتوی کمیٹی لجنہ دائمہ سے سوال کیا گیا کہ کوئی خود سے اپنا نکاح پڑھا سکتا ہے تو جواب دیا گیا کہ ہاں آدمی کا خود سے عقد نکاح کرنا جائز ہے مثلا لڑکی کا ولی اس آدمی سے کہے کہ میں اپنی فلاں بیٹی کا نکاح تم سے کرتا ہوں تو وہ کہے مجھے قبول ہے ، عقد ہوگیا بشرطیکہ دوعادل گواہ موجود ہوں۔ (اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء،الفتوىرقم ‏:11045‏)‏

    6/ بعض بے دین یا مغربی تہذیب سے متاثر عورت طلاق کی عدت نہیں گزارتی ہے اسلام میں ایسی عورت کی کیا سزا ہے؟
    جواب : اگر کسی مسلمان عورت نے شوہر کے طلاق دینے کے بعد عدت نہیں گزاری تو وہ اسلام کی اہم تعلیم کی خلاف ورزی کرتی ہے ایسی صورت میں سچے دل سے اللہ تعالی سے توبہ کرے ورنہ آخرت میں اس کی پوچھ ہوگی ۔ ہاں بھول سے یا عمدا چند ایام عدت کے نہیں گزارے تو اللہ اپنی رحمت سے معاف کردے گا اور اس کی قضا بھی نہیں ہے بلکہ عدت کے ایام گزرجانے کے بعد اس کی کوئی قضا نہیں ہے ۔
    یہاں ایک اہم معاملہ ہے کہ اگر کسی عورت کو طلاق کی عدت (تین حیض) گزارنی تھی ، اس نے عدت نہ گزارکر اسی دوران کسی دوسرے مرد سے شادی کرلی تو یہ شادی حرام اور باطل ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے : وَلا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ(البقرة:235)
    ترجمہ:اور عقد نکاح جب تک کہ عدت ختم نہ ہوجائے پختہ نہ کرو۔
    ایسے جوڑے کا اکٹھا رہنا حرام کاری اور زنا شمار ہوگا ، مسلمان قاضی /ذمہ دار کو چاہئے کہ ان دونوں کے درمیان تفریق کردے ۔ پھر عورت پہلے شوہر کی بقیہ عدت پوری کرے اور مزید دوسرے باطل نکاح کی بھی عدت پوری کرے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایسوں کو کوڑے لگاتے ۔

    7/ جب دم کرانا شرعا جائز ہے تو پھر دم کرانے والے لوگ ستر ہزار اہل توحید میں سے کیوں نہ ہوں گے جو بلاحساب وعذاب جنت میں جائیں گے؟
    جواب : دم کرنا شرعا جائز ہے، اس کی ممانعت نہیں ہے مگر جو دم نہیں کرواتے ہیں وہ اللہ پر زیادہ بھروسے والے ہیں جیساکہ سبعون الف والی حدیث سے واضح ہوتا ہے اور ایسے لوگ توحید کے اعلی تقاضے کو پورا کرتے ہیں ، اس لئےہم کہہ سکتے ہیں جائز دم توکل کے منافی تونہیں ہے البتہ کمال توکل کے منافی ہے۔ اسی سبب جو دم نہیں کرتے یا کراتے انہیں اکراما ایسے لوگوں میں شامل کیا گیا ہے جو بلاحساب وعذاب جنت میں داخل ہوں گے ۔ دم کے علاوہ مزید تین اور صفات ہیں جن کی بدولت بلاحساب وعذاب جنت نصیب ہوگی ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : كانوا لا يكتوُون ، ولا يستَرْقون ، ولا يتطيَّرون ، وعلى ربِّهم يتوكَّلون (صحيح البخاري: 6541)
    ترجمہ: یہ لوگ بدن کو نہیں داغتے، نہ دم جھاڑ کراتے ہیں اور نہ بد شگونی ہی لیتے ہیں بلکہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔
    شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہاں دم سے مراد دوسروں سے کہنا کہ دم کردو ، شیخ کے قول کی روشنی میں خود سے دم کرنے والے اس گروہ میں شامل ہوں گے ۔

    8/ کیا نومولود کی تحنیک کرنایعنی گٹھی پلانا مسنون ہے ؟
    جواب : بعض اہل علم نے کہا ہے کہ نومولود کی تحنیک (کسی چیز کا چباکربچہ کے منہ میں دینا)کرنا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص ہے کیونکہ یہ تبرک ہے جبکہ اکثر اہل علم نے نومولود کے لئے تحنیک کرنا مستحب لکھا ہے بلکہ امام نووی رحمہ اللہ نے شرح مسلم میں تحنیک کے استحباب پر علماء کا اتفاق ذکر کیا ہے ۔ لہذا ہمیں بچوں کی ولادت پرکھجور یا کسی میٹھی چیز سے تحنیک کرنا چاہئے ۔
    عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «وُلِدَ لِي غُلاَمٌ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ، فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ، وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ، وَدَفَعَهُ إِلَيَّ»، وَكَانَ أَكْبَرَ وَلَدِ أَبِي مُوسَى(صحيح البخاري:5510)
    ترجمہ: سیدنا ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میرے یہاں لڑکا پیدا ہوا تو میں اسے لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور کھجور کو چبا کر اس کی گھٹی دی نیز اس کے لیے خیر وبرکت کی دعا فرمائی پھر وہ مجھے دے دیا یہ سیدنا ابو موسیٰ ؓ کے سب سے بڑے لڑکے تھے۔
    اس حدیث سے معلوم ہواکہ صحابہ کرام اپنے بچوں کو نبی ﷺ کے پاس خیروبرکت کی دعا کے لئے لاتے ، آپ بچے کا نام بھی رکھتے اور تحنیک بھی کرتے تو جس طرح نومولود کا نام رکھنا عام ہے اسی طرح تحنیک بھی عام ہے اسے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص نہیں مانا جائے گا ۔

    9/ کیا بغیر قدم چھپائے عورتوں کی نماز نہیں ہوگی ؟
    جواب : ابن ابی شیبہ کی روایت ہے جسے شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے ۔
    قال ابنُ عمرَ إذا صلت المرأةُ فلتصلِّ في ثيابِها كلِّها : الدرعِ والخمارِ والملحفةِ(تمام المنة:162)
    ترجمہ: ابن عمر رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب عورت نماز پڑھے تو مکمل لباس میں نماز پڑھے یعنی قمیص ، دوپٹہ اور قمیص کے اوپر چادر۔
    عورت کا یہ لباس سلف کے یہاں معروف ہے اس لئے بحالت نماز جہاں عورت کو بالوں سمیت مکمل جسم چھپانا ہے(سوائے چہرے کے لیکن اجانب ہوں تو چہرہ بھی واجب السترہے) وہیں دبیز کپڑے سے اچھی طرح دونوں قدموں کو بھی ڈھکنا ہے ۔بعض اہل علم نماز میں دونوں قدموں کا ڈھکنا واجب قرار دہتے ہیں ،مالک بن انس کہتے ہیں کہ اگر عورت نے نماز پڑھی اس حال میں کہ اس کے بال کھلے تھے یا اس کے قدموں کا ظاہری حصہ کھلا تھا تو اپنی نماز دہرائے گی اگر وہ نماز کے وقت میں ہی ہو۔
    بعض اہل علم عدم وجوب کے قائل ہیں بہر کیف ! احتیاط کا تقاضہ ہے کہ عورت نماز میں اپنے دونوں پیروں کو ڈھک کر نماز پڑھے ۔

    10/ نماز کے بعد کے اذکار کیا نوافل کے بعد بھی مسنون ہیں ؟
    جواب :نماز کے بعد کے جو اذکارہیں وہ فرض نماز کے فورا بعد ہی ادا کرنا ہے کیونکہ وہی اس کا مقام ہے جیساکہ نبی ﷺ کے اقوال وافعال سے معلوم ہوتا ہے ۔ رسول اللہ کا فرمان ہے : مُعَقِّبَاتٌ لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ - أَوْ فَاعِلُهُنَّ - دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ، ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَسْبِيحَةً، وَثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَحْمِيدَةً، وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَكْبِيرَةً(صحیح مسلم:1373)
    ترجمہ: (نماز کے یا ) ایک دوسرے کے پیچھے کہے جانے والے ایسے کلمات ہیں کہ ہرفرض نماز کے بعد انھیں کہنے والا ۔۔یا ان کو ادا کرنے والا۔کبھی نامراد و ناکام نہیں رہتا ، تینتیس بار سبحان اللہ ،تینتیس بار الحمد اللہ اورچونتیس با ر اللہ اکبر ۔
    اس حدیث میں تسبیح کا ذکر فرض نماز کے بعد ہے ، اسی طرح دوسرے اذکار بھی فرض نماز کے بعد پڑھے جائیں گے ۔ یہی طریقہ مسنون ہے ، ہاں اگر کوئی فرض نماز کے بعد نہیں پڑھ سکا ، سنت کی ادائیگی کے بعد پڑھتا ہے تو ان شاء اللہ ماجور ہوگا۔

    11/ عمرہ میں کسی نے سعی چھوڑدیا اور بال منڈاکر حلال ہوگیا؟
    جواب : عمرہ میں سعی کرنا رکن ہے ، اگر کوئی اس رکن کو چھوڑ دے تو اس کا عمرہ نہیں ہوگا ۔ جو انجانے میں طواف کرکے بال منڈاکر حلال ہوگیا ہے اسے چاہئے کہ پھر سے احرام کا لباس لگائے اور سات چکر سعی کرے پھر بال کٹاکر یا منڈاکر حلال ہوجائے ۔ انجانے میں پہلی بار بال منڈانے کی وجہ سے کوئی فدیہ نہیں دینا پڑے گا۔

    12/ جس نے عمرہ کیا اور طواف کے چکر میں شک ہے اسے کیا کرنا چاہئے ؟
    جواب : اگر طواف کرتے ہوئے اس کے چکر میں شک ہوجائے تو کم پر بنا کرے مثلا اسے شک ہے کہ چار کیا یا پانچ تو چار مانے اور بقیہ چکر پورا کرے لیکن اگر عمرہ کی ادائیگی کے بعد شک پیدا ہو اس کے طرف التفات نہ کرے ، یہ وسوسہ ہے۔

    13/ عقیقہ کے لئے جانور کا گوشت تول کر لیناکیسا ہے؟
    جواب : عقیقہ دراصل خون بہانے کا نام ہے یہ مقصداس وقت پورا ہوگا جب آپ مسلم بکرا خریدکر اسے نومولود کے نام سے ذبح کریں گے ۔ اگر ہم ذبح کئے ہوئے جانور سے گوشت خرید کر عقیقہ دیتے ہیں تو یہ کفایت نہیں کرے گا ۔ البتہ یہ جائز ہے کہ زندہ جانور وزن کرکے خریدیں اور اسے نومولود کے نام سے ذبح کریں خواہ وہیں قصائی سے ذبح کرائیں یا گھر لاکر ،دونوں صورت میں کوئی حرج نہیں ہے۔

    14/ کفار کی قبر پہ جانا اور اس کو مٹی دینا کیسا ہے ؟
    جواب :کافر کی میت پہ اس کی تعزیت(اسلامی احسان و سلوک کے تئیں) یعنی اس کے اقرباء کو دلاسہ دینا ماسوا استغفار کے جائز ہے لیکن اس کے جنازہ میں شرکت کرنا ، قبرپہ حاضری دینا یا اس کے کفن دفن میں شریک ہوناجائز نہیں ہے ۔

    15/ میری ایک سہیلی کا شوہر باہر رہتا ہے ،بہت دنوں سے بات چیت نہیں کرتا ہے تو بیوی کے لئے کوئی عدت ہے ،کیا کرے؟
    جواب : ایسا شوہر بیوی کے حقوق کی ادائیگی میں خیانت کر رہا ہے تاہم میاں بیوی کا رشتہ ابھی باقی ہےاور عورت کے لئے کوئی عدت نہیں ہے ۔ اس عورت کو چاہئے کہ کسی واسطہ سے شوہر سے اپنے حق کا مطالبہ کرے ، شوہر کسی طرح بات چیت اور حقوق کی ادائیگی سے انکار کرتا ہے تو پھر عورت کو اختیار ہے کہ اس کے ساتھ نکاح باقی رکھے یا طلاق کا مطالبہ کرے ۔ اگربیوی اپنے شوہر سے علاحدہ ہونا چاہتی ہو اور وہ طلاق بھی نہ دے تو مسلمان قاضی کے توسط سے اپنا نکاح خلع کے ذریعہ فسخ کرالے ۔

    16/ ایک شخص نے کسی کی غیبت کی اور غیبت کا علم اس شخص کو ہوگیاتو غیبت کرنے والے نے معافی مانگی تو اسے معاف نہیں کررہاہے ؟
    جواب : غیبت کرنا گناہ کبیرہ ہے بلکہ حقوق العباد میں سے ہے ، یہ گناہ اس وقت تک معاف نہیں ہوگا جب تک کہ صاحب معاملہ معاف نہ کرے ۔ اگر کسی نے بہکاوے میں آکر ایک مسلمان کی غیبت کردی ، اسے اپنی غلطی کا احساس بھی ہوگیا اور صاحب معاملہ سے شرمندہ ہوکر معافی بھی طلب کررہا ہے تو اسے معاف کردینا چاہئے ۔ معاف کرنے والے کا درجہ بڑا ہوتا ہے ۔ صاحب معاملہ معاف نہ کرے تو درمیان میں کسی صاحب اثر کو لاکر معاملہ حل کرے ممکن ہے آپس میں غلط فہمی یا حقوق ہوں ۔

    17/ مسجد کے اوپر فیملی کوارٹربنانا کیسا ہے؟
    جواب : اگر ذاتی ملکیت والی عمارت میں نماز کے لئے ایک فلیٹ خاص کردیا گیا ہے تو اس عمارت کے اوپر تعمیری کام کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگرعلاحدہ طور پرپہلے سے مستقل مسجد بنی ہوئی ہے توبعد میں اس کے اوپر فیملی کوارٹر بنانا جائز نہیں ہے کیونکہ اس کا پورا حصہ مسجد ہے۔ ہاں اضطراری صورت کی بات الگ ہے۔

    18/ قبرستان میں سایہ کے لئے درخت لگانا اوراس کا پھل کھانا کیسا ہے ؟
    جواب : قبرستان کو اسی حالت میں چھوڑ دیا جائے جس حالت میں ہےالبتہ اس کے حفاظتی امور جن سے قبرستان اور میت کی بے حرمتی نہ ہو جائز ہے مثلا گھیرا بندی کرنا ، مٹی برابر کرنا، غیرضرور ی اشیاء گھاس پھوس او ر درخت اکھیڑنا وغیرہ جائز ہیں۔ عیسائی اپنے قبرستان کو باغیچہ کی طرح بارونق بناتے ہیں اس وجہ سے علمائے اسلام نے قبرستان میں شجرکاری سے منع کیا ہے ، یہ کوئی زینت کی جگہ نہیں ہے کہ اسے قمقموں اور پودوں سے بارونق بنائے جائے ۔ یہ عبرت کی جگہ ہے اسے اپنی ہیئت پہ رہنے دی جائے ۔ اگر محض سایہ حاصل کرنے کی غرض سے چند ایک درخت مناسب جگہوں پر لگادیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ مقصد نہ پھل اگانا ہو اور نہ ہی قبرستان کی زینت ہو۔

    19/ باپ، دادا، بھائی اور چچا نہ ہونے کی صورت میں کیا نانا یا مامو لڑکی کا ولی بن سکتا ہے ؟
    جواب : حقیت کے اعتبار سے ولایت کی ترتیب ہے ۔ پہلے باپ پھر دادا، پھر بیٹا، پھر سگے بھائی ،، اس طرح سوتیلا بھائی (باپ کی جانب سے)، پھر سگے اور سوتیلے بھائی کی اولاد ، پھر حقیقی چچا ،پھر باپ کی طرف سے سوتیلا چچا ۔اس ترتیب کے ساتھ ان میں سے جو زندہ ہو اس کی ولایت میں لڑکی کی شادی ہوگی اور ننہیال سے کوئی ولی نہیں بنے گا۔

    20/ نماز میں اقعاء کا حکم و طریقہ کیا ہے ؟
    جواب : نماز میں اقعاء کی دو صورتیں ہیں ، ایک صورت کی ممانعت آئی ہے اور دوسری صورت مسنون ہے۔ اقعاء کی جو صورت ممنوع ہے وہ یہ ہے کہ آدمی دونوں پنڈلیاں اور ران کھڑی رکھے اور سرین زمین پر رکھے نیز دونوں ہاتھ بھی زمین پر ہوں ۔اور اقعاء کی جو صورت جائز ہے وہ یہ ہے کہ آدمی دونوں قدموں کو زمین پر کھڑا کرکے ایڑی پر سرین رکھے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    634
    جنازہ سے متعلق چند سوالوں کے جواب

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جنازہ کے متعلق کچھ سوالات کے جوابات مطلوب ہیں ۔

    پہلا سوال : کیا کسی کا انتقال ہو جائے تو ان کی چارپائی قبلہ رخ ہونی چاہیے؟

    دوسراسوال : جب جنازہ کو گھر سے مسجد لے جاتے ہیں یا مسجد سے قبرستان لے جاتے ہیں اس وقت میت کا سر شمال کی جانب ہوناچاہئے یا جنوب کی جانب؟.

    تیسرا سوال : میت کو قبر میں اتارنے سے پہلے قبر میں عبیر کا پاوڈر ,گلاب کا پانی یا بعض لوگ زمزم کا پانی چھڑکتے ہیں کیا یہ صحیح ہے؟

    چوتھا سوال : خبر میں میت کو رکھنے کے بعد بعض لوگ لکڑی یا بعض جگہ پتھر دیتے ہیں کیا یہ وہ کچی اینٹوں کی طرح ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قبرمیں رکھی جاتی تھی جیساکہ سعودیہ میں آج بھی اس کا رواج ہے۔ کیا یہ صحیح ہے ؟ اور میت کو دفنانے کے بعد قبر کو کوہان کے مانند بنانا صحیح ہے؟

    پانچواں سوال : کیا قبرستان میں میت کی تدفین کے وقت آنے والے افراد کی نصیحت کے لیے کوئی عالم یا کوئی جاننے والا کچھ دیر فکر آخرت دلاتے ہوئے بیان کرے تو یہ جائز ہے؟

    چھٹا سوال: میت کے گھر پہ دفنانے کے بعد دو دن یا تین دن یا ہفتہ کے بعد میت کے گھر والوں کو وعظ و نصیحت کے لیے جمع ہونا، میت کے گھر والوں کی طرف سے دی گئی کھانے کی دعوت تناول فرمانا شریعت کی نظر میں کیا حکم رکھتا ہے؟

    ساتواں سوال : عورتوں کے لئے کفن کا کپڑا تین ہے یا پانچ ؟

    آٹھواں سوال : عورتوں کے سر کی چوٹی کو کتنے حصے کیا جائے اور بال پیٹ یا پیچھے یا سینے پر رکھے جائیں ؟

    نواں سوال : بیری کے پتوں کی کیا خصوصیت ہے اور اس میں کیا حکمت ہے میت کو غسل دینے کے لئے اس کے استعمال کا کیوں حکم دیا گیا؟

    مہربانی فرما کر ان سوالات کے جواب قرآن و سنت کی روشنی میں دے کر عنداللہ ماجور ہوں ۔

    سائل : عبداللہ تلنگانہ

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    الحمدللہ :

    ان میں سے اکثر سوالات کے مدلل ومفصل جواب میری کتاب جنازہ کے اہم مسائل واحکام میں موجود ہیں پھر بھی سائل کے اصرار پہ ان کا مختصر جواب دیا جارہاہے ۔
    پہلے سوال کا جواب : جس پارپائی پہ کسی کی وفات ہوئی ہے اس چارپائی کا کوئی مسئلہ نہیں وہ جوں کا توں رہے گی البتہ اچھا ہے کہ میت کا چہرہ قبلہ رخ کردیا جائے ۔ ابن حزم نے کہا:
    وتوجيه الميِّت إلى القِبلة حسَنٌ، فإن لَم يُوجَّه، فلا حرَج؛ قال الله تعالى: فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ [البقرة: 115]،ولَم يأتِ نصٌّ بتوجيهه إلى القِبلة(المحلى :1/ 256).
    ترجمہ: میت کو قبلہ کی طرف کرنا اچھا ہے اوراگر نہ کیا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے۔اللہ کا فرمان ہے : تم جدھر بھی منہ کرو ادھر ہی اللہ کا منہ ہے۔ میت کو قبلہ رخ کرنے سے متعلق کوئی دلیل وارد نہیں ہے۔
    شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ میت کو قبلہ رخ کیا جائے ، کعبہ زندہ اور مردہ تمام مسلمانوں کا قبلہ ہے۔ (موقع شیخ ابن باز)
    ابوقتادہ سے مروی قبلہ رخ کرنے والی روایت کو شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے ۔(إرواء الغليل: 3 / 153)
    خلاصہ یہ ہوا کہ صرف میت کو وفات کے وقت قبلہ رخ کردیا جائے یہ بہتر ہے اور نہ بھی کیا گیا تو کوئی حرج نہیں ہے۔

    دوسرے سوال کا جواب : جنازہ لے جاتے ہوئے راستہ میں شمال وجنوب کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے ، بس اتنی سی بات ہو کہ میت کولے جاتے ہوئے سر کا حصہ آگے کی طرف ہو۔

    تیسرے سوال کا جواب : میت کو قبر میں اتارنے سے پہلے کوئی چیز چھڑکنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کوئی دلیل ہے البتہ میت کو غسل دیتے وقت بیری اور کافور (خوشبو) کا استعمال کیا جائے۔کافور آخری مرتبہ غسل دیتے وقت استعمال کریں تاکہ خوشبو باقی رہے ، اسی طرح غسل کے بعد کستوری، عنبر اور کافور والی خوشبومیت کے بدن کو لگائی جائے بطور خاص سجدہ والی جگہوں کو اور کفن کو بھی خوشبو کی دھونی دی جائے ۔ میت کےلئےخوشبو کے تعلق بس یہی عمل مسنون ہے۔ اور قبر کے اندر گلاب وعنبراور زمزم چھڑکنا یا قبر کے اوپر چھڑکنا اپنی من مانی ہے ۔ قبر کے اوپر دفن کے فورا بعدصرف پانی چھڑک سکتے ہیں یہ مستحب ہے ضروری نہیں ہے۔

    چوتھے سوال کا جواب : نبی ﷺ نے حضرت عثمان بن مظعون کی قبر کو پتھر سے نشان زد کیاتھا اس سے دلیل پکڑتے ہوئےکسی قبر کو نشان زد کرنے کے لئے اس کے پاس پتھر یا تختی نصب کرنا درست ہے مگر قبر پہ لکھنا یا کتبہ لگانا یا قبر کو ایک بالشت سے زیادہ اونچی کرنا جائز نہیں ہے۔ اورجمہور علماء کا قول ہے کہ کوہان نما قبر سنت ہے جیساکہ صحیح بخاری میں روایت ہے :
    عَنْ سُفْيَانَ التَّمَّارِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ: أَنَّهُ رَأَى قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَنَّمًا.(1405)
    ترجمہ: حضرت سفیان تمار سے روایت ہے،انھوں نےبتایا:میں نے نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک کو کوہان شتر(اونٹ کے کوہان) کی طرح ابھری ہوئی دیکھا ہے۔

    پانچویں سوال کا جواب : نمازجنازہ سے قبل خطبہ دینا یا وعظ ونصیحت کو لازم پکڑنا جائز نہیں ہے ۔ جنازہ کا تقاضہ ہے کہ بلاتاخیر نمازجنازہ پڑھ کر جلدسے جلد میت کو دفن کردیا جائے ۔ بسااوقات جنازہ کے لئے کافی لوگ جمع ہوتے ہیں اور کچھ کا انتظار کیا جارہا ہوتا ہےاس صورت میں بغیر خطبے کی شکل کے چند ناصحانہ کلمات کہنے میں کوئی حرج نہیں مگر یاد رہے وعظ ونصیحت کے نام پہ جنازہ میں تاخیر کرنا خلاف سنت ہے، نصیحت کے لئے کسی کا جنازہ اٹھنااور قبرستان جانا کافی ہے ۔(تفصیل کے لئے میری کتاب دیکھیں )

    چھٹے سوال کا جواب : اہل میت کے یہاں جمع ہونا اور پھر ان لوگوں کے لئے اہل میت کا کھانا پکانا نہ صرف زمانہ جاہلیت کے عمل میں سے ہے بلکہ یہ نوحہ میں شمار ہے ۔
    كنَّا نرى الاجتماعَ إلى أَهلِ الميِّتِ وصنعةَ الطَّعامِ منَ النِّياحة(صحيح ابن ماجه:1318)
    ترجمہ: ہم گروہِ صحابہ اہل میّت کے یہاں جمع ہونے اور ان کے کھانا تیار کرانے کو مردے کی نیاحت سے شمار کرتے تھے۔
    امام نووی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اہل میت کا کھانا بنانا، دوسروں کا ان کے یہاں جمع ہونا اس سلسلے میں کوئی چیز منقول نہیں ہے اس لئے یہ کام بدعت اور غیرمستحب ہے ۔ (روضة الطالبين:2/145).
    اس لئے اہل میت کا میت کی وفات پہ تیجا، دسواں، تیرہواں ، چالیسواں یا کوئی اوراس طرح کا دن منانا بدعت ہے البتہ گھر آئے مہمان کی ضیافت کرنا اس سے مستثنی ہے ۔اہل میت کو چاہئے کہ میت کی طرف سے فقراء ومساکین میں بغیر دن کی تعیین کے صدقہ کرے ۔

    ساتویں سوال کا جواب : عورت کو بھی مردوں کی طرح تین چادروں میں دفن کیا جائے گا ، عورت ومرد کے کفن میں فرق کرنے کی کوئی صحیح حدیث نہیں ہے ۔ ابوداؤد میں پانچ کپڑوں سے متعلق ایک روایت ہے جسے لیلیٰ بنت قائف ثقفیہ بیان کرتی ہیں جنہوں نے نبی ﷺ کی بیٹی ام کلثوم کو غسل دیا تھا۔ اس روایت کو شیخ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ ضعیف قرار دیتے ہیں اور شیخ البانی نے بھی ضعیف کہا ہے ۔ دیکھیں : (ضعيف أبي داود:3157)
    اس لئے شیخ البانی نے احکام الجنائز میں عورت ومردکے لئے یکسان کفن بتلایا ہے اور کہا کہ فرق کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ شرح ممتع میں ذکر کرتے ہیں کہ عورت کو مرد کی طرح کفن دیا جائے گا یعنی تین کپڑوں میں ، ایک کو دوسرے پر لپیٹ دیا جائے گا۔

    آٹھویں سوال کا جواب : ام عطیہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی ایک صاحبزادی کی وفات پر ان کے غسل سے متعلق ایک حدیث بیان کرتی ہیں اس حدیث کے آخری الفاظ ہیں : فَضَفَرْنَا شَعَرَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ وَأَلْقَيْنَاهَا خَلْفَهَا(صحيح البخاري: 1276)
    ترجمہ: ہم نے ان کے بال گوندھ کر تین چوٹیاں بنائیں اور انھیں پیٹھ کے پیچھے ڈال دیا۔

    نویں سوال کا جواب : بیری کے پتے کی یہی بڑی خصوصیت ہے کہ نبی ﷺ نے میت کو اس سے غسل دینے کا حکم دیا ہے ، علماء نے اس کی حکمت بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سے بدن کی اچھی صفائی ہوتی ہے۔

    واللہ اعلم بالصواب
    کتبہ
    مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف (مسرہ) سعودی عرب​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    634
    جنازہ سے متعلق چند سوالوں کے جواب (دوسری قسط)

    جوابات از شیخ مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف (مسرہ)


    11/اکتوبر 2018 کو جنازہ سے متعلق چند سوالوں کے جواب میں نے دئے تھے ، اس کے بعدمزید چند سوالات آگئے جن کا مختصر جواب نیچے دیا جارہاہے ۔
    (1) کیا میت کو زمین والی قبر میں ہی دفن کرنا ضروری ہے یا زمین کے اوپر بھی دفن کیاجاسکتا ہے؟
    جواب : اسلام میں سدا سے مردوں کو زمین میں دفن کرنے کا عمل رہا ہے ، اس طریقہ پر ہمیشہ مسلمان عمل پیرا رہے۔ اللہ تعالی نے بھی اس حقیقت کا ذکر کیا ہے کہ انسانوں کی تخلیق مٹی (زمین)سے ہے، وہ مرکر اسی زمین میں جاتا ہے اور اسی زمین سے قیامت میں اٹھایا جائے گا۔ فرمان باری تعالی ہے:
    مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى (طه:55 ).
    ترجمہ:اس زمین میں سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گے اور اسی سے پھر دوبارہ تم سب کو نکال کھڑا کریں گے ۔
    عہدرسالت میں جن کی بھی وفات ہوئی نبیﷺ نے زمین میں قبر کھود کر دفنانے کا حکم دیا ۔آج بھی صحابہ کرام کی قبریں حتی کہ خود آپ ﷺ کی قبر مبارک اس بات کا ثبوت ہیں۔
    جب نبی ﷺ کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو (زمین والی )قبرمیں دفنایا جارہاتھا تو آپ ﷺ نےپوچھا تھا کہ کیا تم میں کوئی ایسا شخص بھی ہے کہ جو آج کی رات عورت کے پاس نہ گیا ہو۔ اس پر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر قبر میں تم اترو چنانچہ وہ ان کی قبر میں اترے۔(صحیح بخاری:1285)
    سیدنا ہشام بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ احد کے روز انصاری لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا : ہم زخمی ہیں اور تھکے ہوئے بھی تو آپ ﷺ کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا:احفُروا وأوسِعوا ، واجعَلوا الرَّجُلَيْنِ والثَّلاثةَ في القبرِ (صحيح أبي داود:3215,3216)
    ترجمہ: قبریں کھودو اور کھلی کھلی بناؤ اور دو دو اور تین تین کو ایک ایک قبر میں دفنا دو ۔
    عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:اللَّحدُ لَنا والشَّقُّ لغيرِنا(صحيح الترمذي:1045)
    ترجمہ: بغلی قبرہمارے لیے ہے اور صندوقی قبر اوروں کے لیے ہے۔
    بغلی والی قبر کہتے ہیں کہ زمین میں میت کے قد برابر مستطیل گڑھا کھودا جائے پھر قبلہ کی جانب نیچے والی دیوار میں میت کے جسم کے مطابق گڑھا کھودا جائے اورشق(شگاف) ہیں کہ زمین میں میت کے برابر لمبا گڑھا کھودا جائے ۔
    ان سارے دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ میت کے لئے قبر زمین میں ہی کھودی جائے اور اسی میں دفن کیا جائے ۔
    بعض علاقوں میں تھوڑی سی زمین کھودنے پر نیچے سے پانی آجاتا ہے ، وہاں قبر کھودکر مردوں کو دفن کرنا مشکل ہے ، ایسی صورت میں زمین کے اوپر دفن کرنے کی جو مناسب صورت بنے دفن کیا جاسکتا ہے مگر پہلے کوشش یہی ہو کہ زمین میں دفن کی صورت اختیار کی جائے اور آج کازمانہ ترقی یافتہ ہے، قبرستان کی مشکلات کو دور کرسکتے ہیں۔ کہیں پر قبرستان بناکر اس میں مٹی ڈال کر اس قدراونچا کرلیا جائے کہ قبر کے برابر زمین کھودنے پرپانی نہ نکلے اس طرح ہم اپنے مردوں کوزمین میں دفن کرسکیں گے ۔

    (2) کیا میت کو دفنانے کے بعد اذان دینا صحیح ہے کیونکہ میں نے دو جگہ ایسا کرتے ہوئے دیکھاہے؟۔
    جواب : قبر پر یا قبرستان میں اذان دینا بدعت ہے اور بدعت گمراہی کا نام ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کے فرامین میں قبرستان میں اذان دینے کا کوئی ذکر نہیں ہےبلکہ چار فقہی مذاہب میں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ قبرستان میں اذان دینے کا عمل بریلوی طبقہ میں رائج ہے کیونکہ اس کے گرو اعلی حضرت نے قبرپہ اذان دینے کی کتاب لکھا ہے ۔ ہمارے لئے رب کا قرآن اور نبی کافرمان کافی ہے ان دونوں کتابوں میں قبر پر اذان کاکوئی ثبوت نہیں ہے جو قرآن وحدیث کے خلاف عمل کرتا ہے اس کا وہ عمل مردودوباطل ہے۔

    (3) دفنانے کے بعد میت کے سر کی طرف اور پاؤں کی جانب کھڑے ہوکر سورۃ بقرہ کا آخری حصہ پڑھا جاتا ہے اس عمل کی کیا حیثیت ہے؟ ۔
    جواب : امام طبرانی نے المعجم الکبیر(13613) میں اور بیہقی نے شعب الایمان(8854) میں ایک روایت ذکر کی ہے۔
    إذا ماتَ أحدُكم فلا تحبِسوهُ ، وأسرِعوا بهِ إلى قبرِهِ ، وليُقرَأْ عندَ رأسِه بفاتحةِ الكتابِ ، وعندَ رجلَيهِ بخاتمةِ البقرةِ في قبرِه۔
    ترجمہ: جب تم میں سے کوئی مر جائے تو اسے روک نہ رکھو بلکہ اسے قبر کی طرف جلدی لے جاؤ اور اس کی قبر پر اس کے سر کی جانب سورہ فاتحہ اور اس کے پاؤں کی جانب سورہ بقرہ کی آخری آیات پڑھی جائیں۔
    ہیثمی نے مجمع الزوائد(3/47) میں اس روایت کو ضعیف کہا ہے اور شیخ البانی نے السلسلة الضعيفة(4140) میں بہت ہی ضعیف کہا ہے ۔ اس لئے میت کو دفنانے کے بعد اس کے سرہانے یا پیر کی جانب سورہ فاتحہ یا سورہ بقرہ کی آیات پڑھنا غیرمسنون عمل ہے اس سے بچنا چاہئے بلکہ قبرستان میں قرآن پڑھنے کی سرے سے کوئی صحیح دلیل نہیں ہے۔

    (4) میت کو لحد کے اندر لے جاتے وقت کچھ مٹی گر جاتی ہیں تو کچھ لوگ فوراً چیخ اٹھتے ہیں کہ مٹی کو اندر نہ گرنے دیں بلکہ جو مٹی گر جاتی ہے اسکو بھی نکال لی جاتی ہے یہ بات مجھے حیرت میں ڈال رہی ہے۔
    جواب : میرے خیال سے قبر کے پاس لوگوں کو احتیاط برتنے کو کہاجاتا ہوگا تاکہ میت پر مٹی نہ گرے ،بد احتیاطی میں قبر کا سرا بھی ٹوٹ سکتا ہے ، آدمی بھی اس میں گرسکتا ہے۔ شاید یہی نیت ہوگی ۔ تھوڑی بہت مٹی قبر میں گرجائے تو اسے نکالنے کی ضرورت نہیں ہے خواہ میت کو دفن کرتے وقت گرے یا اس سے قبل ۔ جو گورکن ہوتے ہیں وہ بڑی محنت سے قبر کھودتے ہیں اس کے سامنے کسی سے ذرہ برابر بھی مٹی قبر میں گرے برداشت نہیں ہوتا اس لئے لوگوں پر چلا اٹھتے ہیں ، اگر آپ اپنے گھر کو صاف ستھراکریں اور کوئی دوسرا وہاں گندا کرے تو شاید آپ کو بھی برداشت نہیں ہوگا۔

    (5) میت کو لحد میں لٹانے کے بعد لکڑی کے پھٹوں یا کنکریٹ کی بنی سلوں سے ڈھانپ دیا جاتا ہے تو کچھ جگہوں پر چھوٹے سوراخ رہ جانے کی بنا پر انکو پتھر، اینٹوں یا کاغذ کے ٹکڑوں سے بند کیا جاتا ہے کیا یہ ضروری عمل ہے؟۔
    جواب : یہ اس لئے ایسا کیا جاتا ہے تاکہ جب مٹی ڈالی جائے تو قبرکے اندر نہ گرے اور اسی طرح مردہ خور جانور کمزور مقامات سے قبر میں داخل ہوکر میت کو چیرپھاڑسکتا ہے جبکہ ہمیں میت کی بے حرمتی سے منع کیا گیا ہے اس لئے ضروری ہے کہ قبر کو پہلے مضبوطی سے بند کیا جائے پھر اس پر مٹی ڈالی جائے ۔

    (6) کیا جنازہ اٹھاتے وقت اور قبرستان تک لے جاتے ہوئے پورے راستے میں کلمہ شہادت پڑھنا ضروری ہے؟
    جواب : جنازہ کے ساتھ چلتے ہوئے خاموشی اختیار کی جائے ، بعض لوگ کلمہ شہادت اور بلند آواز سے ذکر کرتے ہیں جوکہ دین میں نئی ایجاد ہے ۔ صحابہ کرام جنازہ کے پیچھے آواز بلند کرنے کو ناپسند فرماتے تھے ۔كان أصحابُ النَّبيِّ صلَّى اللهُ علَيهِ وسلَّمَ يكرهونَ رفعَ الصَّوتِ عند الجنائزِ .(أحكام الجنائزللالبانی : 92)ترجمہ: نبی ﷺ کے اصحاب جنازہ کے پیچھے آواز بلند کرنے کو ناپسند فرماتے تھے ۔
    ٭ شیخ البانی نے کہا کہ اس کی سند کے رجال ثقہ ہیں ۔
    نبی ﷺ کا فرمان ہے : لا تُتبَعُ الجَنازةُ بصَوتٍ ولا نارٍ(سنن أبي داود:3171)ترجمہ: جنازے کے پیچھے آواز اور آگ کے ساتھ نہ آ۔
    شیخ البانی نے کہا کہ اس کی سند میں غیر معروف ہے مگر مرفوع شواہد اور بعض موقوف آثارسے اسے تقویت ملتی ہے ۔ (احکام الجنائز:91)
    اس کا مطلب یہ ہوا کہ جنازہ کے پیچھے جس طرح آواز لگانا منع ہے اسی طرح آگ لے کر جانا منع ہے کیونکہ اس میں اہل کتاب کی مشابہت ہے ۔

    (7) مسجد میں مائیک سے یا رکشتہ وغیرہ میں لاؤڈسپیکر لیکر جنازہ کی خبر دینا جائز ہے ، یہ ہمارے علاقہ میں رواج کی شکل اختیار کرلیا ہے؟
    جواب: اصل وفات کی تشہیر کرنا منع ہےجوکہ نعی میں داخل ہے لیکن تجہیزوتکفین میں شامل ہونے اور دعائے مغفرت کے لئے اعزاء واقارب اور مسلمانوں کو خبر دینے کی غرض سے موبائل سے فون کرنے یا مسجد کے اسپیکر سے اعلان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ رکشہ اور گاڑی وغیرہ میں اسپیکر لگاکر گاؤں گاؤں میت کا اعلان کرنا درست نہیں ہے۔

    (8) جس وقت میت کے لئے نماز جنازہ ہوتی ہے اس وقت میت کا چہرہ کس طرف ہونا چاہئے ؟
    جواب : اس وقت میت کا چہرہ قبلہ رخ ہویا غیرقبلہ کوئی حرج نہیں ہے البتہ اہم با ت یہ ہے کہ امام کس جگہ کھڑا ہو ؟ میت مرد ہو تو امام سر کے پاس اور عورت ہو تو درمیان میں کھڑا ہو۔ اگر میت میں کئی مردوعورت اور بچے ہوں تو عورتوں کو قبلہ کی طرف پھر بچوں کو،اس کے بعد مردوں کو امام کی جانب رکھا جائے ۔

    (9) کیا عورتیں الگ سے جماعت بناکر گھر میں جنازہ کی نماز ادا کرسکتیں ہیں ؟
    جواب : بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عورت نماز جنازہ نہیں پڑھ سکتی اور اس خیال سے متعلق ثبوت کے طور پر ایک روایت بیان کی جاتی ہے وہ اس طرح ہے :لَيْسَ للنِّسَاءِ في الجنازَةِ نصيبٌ(مجمع الزوائد:16/3)
    ترجمہ: عورتوں کے لئے جنازہ میں کوئی حصہ نہیں ہے ۔
    اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ ضعیف ہے ۔ شیخ البانی نے اسے بہت ہی ضعیف کہا ہے ۔(ضعيف الترغيب:2069)
    حقیقت یہ ہے کہ عورتیں بھی میت کا جنازہ پڑھ سکتی ہیں ۔ حضرت ابوسلمی بن عبدالرحمن روایت کرتے ہیں کہ جب سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ادخُلوا به المسجدِ حتى أصليَ عليه(صحيح مسلم:973)
    ترجمہ: سعد کا جنازہ مسجد میں لاؤ تاکہ میں بھی نماز جنازہ ادا کرسکوں ۔
    عورتوں کی افضل نماز تو گھر میں ہی ہے ، اس لحاظ سے عورتیں میت کے غسل اور کفن کے بعد جمع ہوکر جماعت سے میت کی نماز جنازہ گھر ہی میں پڑھ لے تو کوئی حرج نہیں اور وہ مردوں کے ساتھ مسجد میں ادا کرنا چاہے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے جیساکہ اوپر والی حدیث عائشہ گزری جس سے مسجد میں عورت کا نماز جنازہ پڑھنا ثابت ہوتا ہے۔
    اس بارے میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ کیا عورتوں کے لئے جائز ہے کہ گھر کی ساری عورتیں جمع ہوکر گھر ہی میں میت کی نماز جنازہ پڑھ لے؟
    توشیخ رحمہ اللہ نے جواب کہ کوئی حرج نہیں عورتیں نماز جنازہ مردوں کے ساتھ مسجد میں ادا کرے یا جنازہ والے گھر میں ادا کرلے کیونکہ عورتوں کو نماز جنازہ پڑھنے سے منع نہیں کیا گیا بلکہ قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ ("مجموع فتاوى" ابن عثيمين:17/157)

    (10) ایک بھائی کا اعتراض ہے کہ ایصال ثواب کا لفظ استعمال کرنا غلط ہے کیونکہ یہ قرآن وحدیث میں کہیں نہیں آیا ہے ، بدعتیوں میں اس کا مخصوص طریقہ اور مخصوص ماحول ہے اس سلسلے میں آپ کی رہنمائی درکار ہے ؟
    جواب : لفظ "ایصال ثواب" کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ مروجہ طریقہ تو بہت ساری چیزوں میں ہے اس کی وجہ سے ہم صحیح الفاظ استعمال نہیں کر سکتے ہیں ایسا نہیں ہے۔ میت کو زندہ شخص اپنے بعض اعمال سے فائدہ پہنچاتا ہے یہ ایصال ثواب ہی ہے۔ بدعتیوں کے نزدیک وسیلہ کا مروجہ طریقہ شرکیہ ہے تو کیا ہم وسیلہ کا استعمال ترک کر دیں گے؟ ۔ نہیں۔
    جیسے وسیلہ میں مشروع و غیر مشروع وسیلہ ہے اسی طرح ایصال ثواب میں بھی مشروع وغیرمشروع ایصال ثواب ہے اس وجہ سے ایصال ثواب کے استعمال میں حرج نہیں ہے ۔ اس لفظ کو بہت سے سلفی علماء نے بھی استعمال کیا ہے اور عربی میں تو اس کا استعمال عام ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں