لٹکانے سے اتارنے تک، صادق وامین پاکستانی عدلیہ کا مثالی ارتقا

عائشہ نے 'اركان مجلس كے مضامين' میں ‏جولائی 29, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    قومی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے پاکستانی عدلیہ کا کردار ایک تکلیف دہ حقیقت کی صورت سامنے آتا ہے۔ میں اکثر سوچتی تھی کہ کیا ان قاضیوں کو احساس نہیں ہوا ہو گا کہ تاریخ ان کے بارے میں کیا کہے گی؟ ایک زمانے میں یہ سوال بھی مجھے بہت ستاتا تھا کہ جس ملک کی تحریک آزادی پرامن سیاسی جدوجہد تھی وہاں سیاست میں تشدد کا عنصر ختم کیوں نہیں ہو رہا؟ مقبول عام پاکستانی سیاست دان اپنے خاندان سمیت قتل، ٹارگٹ کلنگ، تاحیات پابندی، جبری جلاوطنی اور قید سے کب تک گزرتے رہیں گے۔ مہذب ممالک کی طرح ہمارا سیاسی نظام کب پرامن ہو گا؟ دنیا انتقال اقتدار کے جس مسئلے کو برسوں پہلے حل کر چکی ہے وہ آج تک ہماری پھانس کیوں بنا ہے؟ لیکن اب ہر بجٹ میں آنے والے نئے ٹیکس اور یوٹیلٹی بلز کی فکر نے مجھے بڑا شکر گزار اور قناعت پسند بنا دیا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ میری اپنے وطن اور قومی اداروں کے لیے وہ حساسیت ختم ہو چکی ہے جو کسی زمانے میں مضطرب رکھتی تھی۔ پاکستان آج بھی میرا وطن ہے لیکن اس کی بہتری کا شوق دل کے کسی کونے میں دفن ہو ئے مدت ہوئی۔ہمارے سماجی نظام میں اسی بے حسی اور مردہ دلی کو جذباتی پختگی کہتے ہیں جو اللہ اللہ کر کے مجھے کسی درجے میں حاصل ہو گئی ہے۔
    آج پانامہ کیس کا مکمل فیصلہ پڑھتے ہوئے اسی لیے بہت آسانی ہوئی۔ وہ کیس جس میں لندن فلیٹس، لوٹ مار کے پیسے اور نجانے کیا کیا مبالغے ہوتے رہے، اس کا فیصلہ ایسے نکتے کی بنیاد پر کیا گیا جو پٹیشن میں شامل ہی نہیں تھا۔نیت نیک ہونی چاہیے، پٹیشن سے کیا ہوتا ہے۔ لوٹ مار کے الزامات ایک طرف رہے، فیصلے کی بنیاد وہ تنخواہ بنی جو وصول ہی نہیں کی گئی۔ پٹیشنرز کی "صداقت و امانت" کا اعلی معیار تو مثالی تھا ہی، ہمارے قانونی ماہرین کی اس عمدہ کارکردگی پر دنیا بھی حیران ہے۔ یہی ہماری "انفرادیت" ہے جو ہمارے سیاسی، عدالتی اور سماجی نظام میں بار بار نظر آتی ہے اور عالمی دنیا میں ہماری پہچان بن چکی ہے۔ اسی لیے ملکی تاریخ کے ستر سال مکمل ہوئے لیکن "نوزائیدہ جمہوریت" کا اعزاز ہم نے ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔
    بہرحال اس فیصلے کے پاکستانی معیشت پر سب سے مثبت اثرات یہ ہوئے کہ مٹھائی خریدی اور کھائی گئی، سیاسی مخالفین کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سب سے بڑے مرض ذیابیطس سے خوب انتقام لیا گیا۔ دنیا کی قانونی تاریخ ہمارے 70 سالہ عدالتی نظام اور اس کے عجوبہ فیصلے کو کیا کہے گی اس کی فکر ہم کیوں پالیں۔ نئی نسل کا دل پاکستانی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے کتنا بے چین ہو گا یہ اس کا مسئلہ ہے۔ پاکستانی تاریخ کی ایک ذہین، مقبول اور باصلاحیت خاتون سیاست دان بے نظیر بھٹو پاکستانی عدالتی نظام کو قریب سے پرکھ چکی تھیں، وہ ہماری عدلیہ کے بارے میں ایک اصطلاح استعمال کرتی تھیں۔ اس وقت ان کی جدوجہد کا مطالعہ نہیں تھا تو معلوم نہیں تھا کہ کسی پھبتی کے پیچھے کتنا درد ہوتا ہے۔ اب ان کی پھبتی سمجھ بھی آتی ہے اور اس کا صحیح لطف بھی آتا ہے۔ ہمارا دل اب اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ سارا دن اس فیصلے پر دل کھول کر ہنستے ہوئے گزرا اور آئندہ بھی جب ہمارے قاضیوں اور اس کیس کے پٹیشنرز کی صداقت و امانت کا ذکر ہو گا ہم جی بھر کر ہنسیں گے۔ کتنی خوشی کی بات ہے کہ اب ہماری عدلیہ سیاست دانوں کو لٹکانے کی بجائے صرف اتارتی ہے! اس مثالی تاریخی ارتقا کی خوشی منانی چاہیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 1
  2. شرجیل احمد

    شرجیل احمد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جون 19, 2017
    پیغامات:
    56
    پیارے وطن پاکستان کو آزاد ہوئے 70 سال ہونے کو ہیں لیکن پاکستانیوں میں ٹانگ کھینچنے کی روایت بجائے کم ہونے کے بتدریج بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ بلکہ اب تو یہ عالمی سطح پر ضرب المثل بن چکی ہے۔ اس حوالے سے ایک لطیفہ یاد آیا کہ دوزخ میں ہر قوم و ملت کے افراد ڈالے گئے اور ان پر اس قوم کے حساب سے داروغہ مقرر کیا گیا جو باہر نکلنے کی کوشش کرنے والے کو واپس دھتکار دیتا تھا۔ لیکن پاکستانی قوم پر کوئی داروغہ نہیں تھا کہ جو بھی پاکستانی دوزخ سے نکلنے کی کوشش کرتا تو دوسرا پاکستانی اس کی ٹانگ کھینچ کر اسے واپس گرا لیتا تھا۔
    من حیث القوم ہم جس گراوٹ کا شکار ہوتے جا رہے ہیں، اس کی اصلاح کے لیے جہاں تک ہو سکے، ہمیں کوشاں رہنا چاہیے۔ کچھ ہو نہ ہو لیکن کم از کم ہم اللہ کے حضور ہی سرخرو ہو سکیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    عدل اور سیاسی استحکام کسی معاشرے کے لیے آکسیجن کی مانند ہوتے ہیں۔ جو ملک ستر سال بعد بھی نوزائدہ جمہوریت کا اعزاز رکھتا ہو اور جس ملک کا نظام عدل اتنا سڑ چکا ہو کہ اعلی ترین عدالت کے بنچ (فرد واحد کا نہیں پانچ پانچ قانونی دماغوں کا)کا فیصلہ خود قانونی ماہرین کو سمجھ نہ آ رہا ہو اس کی بہتری کی کیا توقع کی جائے۔
    ایک قانونی ماہر کی دہائی
    اس 'تاریخی فیصلے' پر کیوں نظرِثانی کی جانی چاہیے؟
    نواز شریف یہ کہنے میں بالکل حق بجانب تھے کہ کیپیٹل ایف زیڈ ای کی رقوم ان کی آمدنی اس لیے نہیں تھی کیوں کہ انہوں نے وہ وصول نہیں کی تھیں۔ اور اگر انہوں نے وہ وصول نہیں کی تو وہ ان کے اثاثے بھی نہیں تھے۔ مطلب، چنانچہ، وہ انہیں ظاہر کرنے کے لیے قانونی طور پر پابند نہیں تھے۔
    میں ایک اور مثال دیتا ہوں۔ زیادہ تر وکلاء کی طرح میرے کئی ایسے دیوالیہ کلائنٹس ہیں جنہوں نے مجھے بھاری قانونی فیس ادا کرنی ہے۔ ان میں سے کچھ ادا کریں گے، کچھ نہیں۔ چوں کہ میں کیش سسٹم کا استعمال کرتا ہوں، اس لیے میں صرف وہ فیس ظاہر کرتا ہوں جو مجھے میری آمدنی کے طور پر حاصل ہوئی ہے۔ میں وہ فیس ظاہر نہیں کرتا جو مجھے ملنی ہے مگر ملی نہیں ہے، نہ ہی میں اسے اپنے اثاثوں کی فہرست میں ظاہر کرتا ہوں، اور نہ میں اس پر صرف اس لیے ٹیکس ادا کرتا ہوں کیوں کہ میں فیس کی رسید بھیج چکا ہوں اور وہ "واجب الوصول" ہو چکی ہے۔
    اگر سپریم کورٹ نے یہ معیار ہر کسی پر عائد کیا، تو پارلیمنٹ میں موجود تمام وکلاء نااہل ہوجائیں گے اگر انہوں نے وہ فیس اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں ظاہر نہیں کی ہوگی جو انہیں ابھی ملنی ہے مگر اب تک ملی نہیں ہے۔
    مگر دوسری جانب سپریم کورٹ بار بار زور دے چکی ہے کہ کاغذاتِ نامزدگی میں ہر غلط اقرار نااہلی کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ یہ غلط اقرار ایسی "اہم تفصیلات" (material particular) کے بارے میں ہونا چاہیے جس کے بارے میں یہ حقیقت معلوم ہو کہ سامنے آنے پر آپ کی نااہلی کی بنیاد بن جائے گی (مثلاً دہری شہریت رکھنا)۔
    حوالہ https://www.dawnnews.tv/news/1062084
    یہ اس فیصلے کے صرف چند سقم ہیں جو ہر کسی کو نظر آ رہے ہیں۔ افسوس جوائنٹ انویسٹی گیشن کی ٹیم کو کرپشن کے اتنے ہی ثبوت مل سکے۔ پہاڑ کی کھدائی سے مردہ چوہا بھی نہیں نکلا۔ یہاں توہین عدالت کی اجازت نہیں لیکن اعلی عدالتیں خود توہین عدل میں مصروف ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  4. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,475
    اس "تاریخی فیصلہ" کی آڑ میں سوشل میڈیا پر صادق اور امین جیسے مقدس الفاظ کی جو درگت بنائ جا رہی ہے ' جو لطائف گھڑے جا رہے ہیں انہیں پڑھ کر دل خوں کے آنسو روتا ہے..ایسے لگتا ہے کوئ نادیدہ قوت ہاتھ دھو کے اس شق کے پیچھے پڑی ہے.
    مثلا:
    بلاول اور آصف زرداری اپنا نام صادق اور امین رکھنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں.
    مرد اپنی تنخواہ اور عورتیں اپنی عمر چھپانے کی وجہ سے نااہل ہوگئے ہیں.
    دفعہ ۶۲،۶۳ کے مطابق فرشتے ہی پارلیمنٹ میں بیٹھ سکتے ہیں.
    گویا ہمارے ملک میں کوئ صاحب کردار نہیں رہا..کوئ صادق و امین کے معیار پہ نہیں اترتا؟؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    ساری صداقت اور امانت ریاستی اداروں اور اس کے افسروں میں سمٹ گئی ہے۔ جو دھونس، رشوت سفارش سے ایک بار سرکاری ملازم بن جائے وہ آزاد ہے کہ اس ملک کے عوام اور ان کے منتخب عوامی نمائندوں کی تحقیر کرے۔ جس طرح عوام ریاستی اداروں کے دروازوں کے قریب پھٹک نہیں سکتے، عوامی رہنما بھی ان کے نزدیک کوئی وقعت نہیں رکھتے۔ عوام کے سیاسی شعور کا مذاق اڑانے والے جج ہوں یا جرنیل، ایک مافیا ہیں جو عوام کے خون پر پلتے ہیں۔ اسی بددیانت مافیا نے قانون کی یہ نئی تشریح کی ہے۔ یہی نتائج کے ذمہ دار ہیں۔
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    یہ بھی اچھا طریقہ ہے کہ سیاست دانوں کو نام لے کر بدنام کیا جاتاہے لیکن جب ریاستی اداروں کے کرتوتوں کی بات ہوتی ہے تو نادیدہ قوتیں کہہ کر اشارہ کیا جاتا ہے۔ ہم اس دن تک اس غلامی سے باہر نہیں نکل سکیں گے جب تک ان بے ہودہ قوتوں کو نام لے کر ان کی حرکتیں یاد نہیں کروائی جائیں گی۔ مولوی تمیزالدین کیس سے لے کر پانامہ کیس تک پاکستانی عدلیہ کی بددیانتی ایک کھلی حقیقت ہے۔
     
    • متفق متفق x 1
  7. خادم خلق

    خادم خلق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 27, 2007
    پیغامات:
    4,949
    میں نے یہ بات ملاحظہ کی ہے کہ اردو مجلس کے کچھ سینیئر ارکان حکمران جماعت کی حمایت کرتے نظر آئے ہیں ۔ اور اگر پہلی بار اگر ملک کی سب سے بڑی عدالت نے کرپشن کے خلاف کاروائی شروع کی ہے تو اس پر رولا ڈالا جارہا ہے ۔
    شاید یہ محترم ارکان بھول گئے ہیں کے یہ قبر پرست مشرک کی حمایت کر رہے ہیں ۔ اس نے جو کارگل کے شہیدوں کا خون بیچا تھا تب سے اس پر اللہ پاک کی پھٹکار ہے اور یہ اللہ کے حکم سے مزید ذلیل ہونے والا ہے۔ مزید یہ کہ جس کا پیسا باہر ہو وہ ملک کے یہ لئے بہت بڑا سکیورٹی رسک ہے ۔ اپنا پیسا بچانے کے لئے باہر کی حکومتوں سے ہر وقت بلیک میل ہوتا رہے گا۔ بجائے اس کے آپ احتساب کے عمل کی حمایت کرتےاور اس میں سب لٹیرے جس بھی طبقے سے ہو ان کو کیفر کردار تک پہنچانے میں عدلیہ کا ساتھ دیا جاتا یہاں تو اللہ معاف کرے چوروں کی چوری بھرپور حمایت کی جارہی ہے ۔ ابھی تو عدالت نے ہاتھ ہولا رکھا ہے ورنہ ان کو سیدھا جیل بھیجنا چاہیئے تھا ۔
     
    • متفق متفق x 1
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    ہمارے ہم وطن اللہ پاک کے ارادوں کے بارے میں اتنے تیقن سے دعوے کرتے ہیں، گویا ابھی ساتویں آسمان سے تشریف لائے ہوں۔ یہ اللہ ہی جانتا ہے کس پر اللہ کی زیادہ پھٹکار ہوتی ہے کسی عہدے سے باعزت ریٹائر ہو کر پرچم میں لپٹے تابوت والے پر یا عہدے سے محروم ہو کر گھر جانے والوں پر۔ جب لوگوں نے اسے طیارہ سازش کیس میں ہائی جیکر قرار دیا تھا اس وقت بھی اس کو مزید ذلیل کرنے، بلکہ سزائے موت کے دعوے کیے گئے تھے۔ اب بھی ذلیل کرنے سے لے کر تاحیات پابندی کی خواہشیں ہیں لیکن خدا جسے چاہے ذلیل کرے۔
    کسی زمانے میں بے نظیر بھٹو کو سیکیورٹی رسک مشہور کیا گیا تھا اب نواز شریف کی باری ہے، جنرل یحیی، جنرل غلام محمد، جسٹس منیر اور جنرل مشرف جیسے لوگ تو ملک کے خادم تھے۔
     
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    یہ بات حامی نہیں مخالف بھی پوچھ رہے ہیں کہ عدلیہ نے فیصلے میں ہتھ ہولا کیوں رکھا ہے؟ جب ایک بندہ قابو آ رہا تھا تو اس کی نااہلی کی وجہ اتنی بودی کیوں ہے؟
    اقتباس
    کرپشن کے تگڑے الزامات کو چھوڑ کر جس نمانی سی وجہ پر نواز شریف نا اہل ہوئے ہیں، ڈر ہے کہ کہیں اگلی باری کینٹین کا بل دیر سے دینے والے ارکانِ اسمبلی کی نہ ہو۔
    حوالہhttps://www.dawnnews.tv/news/1062186/
    کیا سبب یہ تو نہیں کہ میڈیا ٹرائل کو بہت کچھ تھا اصل ٹرائل کو کچھ نہیں تھا؟ یا سترویں یوم آزادی سے چند ہفتے پہلے یہ خدمت اتنی ضروری کیوں ہو گئی تھی؟
    کارگل کی باسی کڑھی کو ایک ملٹری ڈکٹیٹر نے نو برس تک ابالا، اب اس میں کچھ نہیں بچا اور وہ ڈکٹیٹر خود ایک عدالتی مقدمے سے بھاگ کر باہر بیٹھا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    مذہب، سیاست کے اختلافی مسائل پر لوگوں کی رائے یا موقف مختلف ہوسکتا ہے. اور ہونا چاہیے . یہ ضروری نہیں کہ جو سب کہ رہے ہوں. سوچ رہے ہوں. وہی سوچا جائے. اگر آپ لوگوں کی خیر اور اصلاح چاہتے ہیں تو بہ حیثیت مصلح درست رہنمائی اولین مقصدہے.۔ دینی لحاظ سے بھی حکمران کا تمام مسلمانوں کی نسبت حق زیادہ ہے کہ اس میں شر ہونے کے باوجود اسکی خیر پرحمایت کی جائے۔ حکمران کرپٹ تھا ۔ سب نے دیکھ لیا کہ فیصلہ کتنا شفاف تھا ۔ایک ایسے فیصلہ کی کیوں حمایت کی جاتی جس میں مکر اور فریب بلکل واضح تھا ۔ یہ اچھی زبردستی ہے ، مذہبی لوگوں کو چاہیے کہ اہل علم سے یہ بھی سیکھیں کہ کسی معین شخص کومشرک کہنے اوران کے کسی عمل کو شرکیہ کہنے میں کتنا فرق ہوتا ہے ۔
     
  11. خادم خلق

    خادم خلق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 27, 2007
    پیغامات:
    4,949
    مجھے جس قسم کے جواب کی توقع تھی آپ لوگوں نے ویسا ہی دیا ۔

    1-کیا دس سال جلا وطن رہنا پھٹکار نہیں ؟ مکہ اور مدینہ کے اتنے قریب رہ کر ہدایت نہ ملنا کیا بہت بڑی محرومی نہیں؟
    2- رہی مشرک والی بات تو پھر آپ لوگ ہی اس کو موحد کا سرٹیفیکیٹ صادر کردیں ۔ کیا بریلوی مشرک ہیں ؟ کیا قبر پرست مشرک میں یا موحد آپ ہی بتادیں ؟ بات ایک ہوگی بیچ کا راستہ نہ نکالیں ۔ کچھ تحقیق کریں اور اس کا فائدہ ہمیں بھی آنے دیں ۔

    اور بجائے اپنے موقف کی تائید میں آپ کچھ پیش کرتے آپ دبے الفاظ میں مجھ پر ذاتی حملے کر رہے ہیں ۔
     
    • متفق متفق x 1
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    جلاوطنی کو پھٹکار ثابت کرنے کے لیے دلیل چاہیے۔ اگر سیاست دان کی جبری جلاوطنی پھٹکار ہے تو سابق ملٹری ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے بیرون ملک فرار کو کیا کہیں گے؟ اگر یوں ہی بے دلیل پھٹکارنا ہے تو سب سے بڑی پھٹکار پاکستان کا عدالتی نظام ہے جس کی زد میں آکر پوری قوم کی زندگی تباہ ہو رہی ہے۔ عدل کے بغیر جینے والے یونہی الزامات اور توہمات میں جیتے ہیں اور ساری زندگی خود پر لگے کسی ایک الزام کو جھوٹا ثابت کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ اب تو یوں لگتا ہے اس قوم کا ہر فرد غدار، غیر ملکی ایجنٹ، بکاؤ اور بددیانت ہے۔ یہ اس عدلیہ کا احسان ہے کہ کسی چہرے کے خدوخال سلامت نہیں۔
     
  13. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    موحد تو کسی نے نہیں لکھا. کیا پاکستان کے کسی معتبر عالم نے مشرک کہا یا لکھا.؟ فتوی لیکر یہاں چسپاں کردیں. تاکہ یاددہانی رہے . ذاتی حملے کی بات ہے. آپ وزیر اعظم پر بغیر دلیل کے ذاتی حملے کررہے ہیں. اپنی ذات کی فکر ہے. کسی دوسرے کی نہیں. بھائی، آپ کو تحقیق کی ضرورت ہے.
    میں اس موضوع پر تفصیل سے اپنا موقف درج ذیل تھریڈ میں لکھا چکا ہوں.
    http://www.urdumajlis.net/threads/جی-آئی-ٹی-رپورٹ-پر-پیش-رفت.39475/
    ماہرین قانون و اہل علم کے تجزیہ و رائے دستیاب ہونے پر اس تھریڈ کو اپ ڈیٹ کیا جاتا رہے گا ان شاء اللہ.
     
  14. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
    [JUSTIFY]یہ پوسٹ صرف خادم خلق بھائی کے لیے ہے[/JUSTIFY]

    السلام علیکم! بھائی جس طرح کے تحفظات آپ کو ہیں، بالکل اسی طرح کے تحفظات مجھے بھی تھے اور شاید کچھ اب بھی ہوں ، لیکن آپ سے درخواست ہے کہ ایک بار میر ی پوسٹ پڑھ لیں۔

    1۔ نوازشریف ، شہباز شریف اور شرک کی ترویج:
    اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ نوازشریف اور شہباز شریف دونوں بریلوی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، اور اپنے اولین ادوار میں 'داتا دربار کمپلیکس' اور 'بری امام کمپلیکس' کھڑے کرنے میں ان کا اہم کردار رہا ہے، بلکہ
    مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ یہ مشہور صوفی بزرگ سید علی ہجویری کی قبر کو غسل بھی دیاکرتے تھے۔شیخ احسان الٰہی ظہیر جو کہ ضیاءالحق اور نوازشریف کے شدید مخالف تھے کی ایک تقریر سے اقتباس حاضر ہے،یادرہے یہ اقتباس 1987 سے پہلے کا ہے
    "اس قوم کی حمیت و غیرت کو دو قسم کے حکمرانوں نے کچلا ہے۔ ایک ان حکمرانوں نے جنہوں نے اپنے اقتدار کی بساط بچھانے کے لیے ان کی غیرت کو مارا، ایک ان حکمرانوں نے جنہوں نے ہر ایرے غیرے موقع پہ مردہ پرستی کو رواج دے کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ہم مردوں سے ڈرنے والی اور مردوں کو پوجنے والی قوم ہیں اور مردوں‌کو پوجنے والے کبھی زندوں کا مقابلہ نہیں‌کر سکتے۔
    مردوں کا پجاری یہ وزیر غسل دے رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ بڑا شریف ہے۔ اس کے نام کا حصہ شریف ہے۔ میں نے کہا اگر اس کے نام کی وجہ سے اس کی شرافت کی گواہی دیتے ہو تو بابراشریف نے کیا جرم کیا ہے؟ اس کے نام کا حصہ بھی تو شریف ہے؟
    شرم نہیں‌آتی۔ یہ وزیر ہیں۔ ان مردہ پرستوں نے زندوں کی کیا مدد کرنی ہے؟
    دس من عرق گلاب سے ایک قبر کو غسل دیا ہے۔ پی جاو اس عرق گلاب کو تا کہ تمہاری رہی سہی غیرت بھی مر جائے۔"

    (خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر: صفحہ نمبر 249، 250)
    مرکزی جمیعت اہل حدیث اورنوازشریف کی حمایت:
    آپ کے علم میں بھی ہو گا کہ عرصہ دراز سے پروفیسر ساجد میر 'ن لیگ' کے تعاون سے سینیٹر بن رہے ہیں، اس پر راولپنڈی کے ایک عالم دین جو توحید کے معاملے میں خاصے سخت گردانے جاتے تھے اور جمیعت سے بھی غالبا تعلق رکھتے تھے کااقتباس پیش خدمت ہے، یاد رہے اس وقت جنرل مشرف نے نوازشریف کو جلا وطن کیا ہوا تھا۔

    پروفیسر ڈاکٹر سید طالب الرحمٰن حفظہ اللہ کی تقریر میں سے اقتباس:
    جمہوریت کے متعلق کہتے ہیں:
    "
    اور بدقسمتی سے اسلامی ذہن رکھنے والی ہماری ساری جماعتیں اس گندے گٹر میں‌اتر چکی ہیں۔
    وہ جماعت اسلامی ہو
    وہ ڈاکٹر اسرار کی جماعت ہو
    وہ دیوبندیوں کی ہو، بریلویوں کی ہو
    اہلحدیثوں کی ہو
    سارے اس گندے گٹر میں‌اتر چکے ہیں

    ہم اوروں کا کیا کہیں ہماری اپنی جماعت کے امیر ایک سینٹ کی سیٹ کے بدلے پوری جماعت کو بیچ دیا، صرف ایک سیٹ کی خاطر
    اور ہر وقت تسبیح، جس طرح انسان ہر وقت اللہ کا ذکر کرتا ہے تسبیح پڑھتا ہے، ہر وقت اس کی زبان پر نوازشریف، نوازشریف، نوازشریف
    عمرہ کرنے کے لیے جائیں گے، پہلے نوازشریف کے چرنوں میں حاضری دیں گے
    اس گندی سیاست نے ہم سب کو پلید کر دیا ہے
    ہم ناپاک ہو چکے ہیں‌اس گندی سیاست میں اتر کر"

    2013 کے الیکشن میں بدلاہوا موقف:
    میں نے 2007 میں سید طالب الرحمٰن شاہ صاحب سے خطبہ عید میں سنا

    “ پاکستان میں سب سے زیادہ شرک پھیلانے والا حکمران نوازشریف اور شہباز شریف۔ لاہور میں داتا دربار کمپلیکس اور اسلام آباد میں‌بری امام کمپلیکس قائم کر کے شرک کو فروغ دینے والا نواز شریف“

    پھر کسی نے ایک خطبہ جمعہ میں محترم شیخ طالب الرحمٰن سے 2008 کے الیکشن سے قبل پوچھا تھا (ابھی بینظیر کا قتل اس وقت تک نہیں ہوا تھا) کہ ووٹ کس کو دیا جائے

    "تو انہوں نے بتایا کہ بے نظیر شیعہ ہے اور نوازشریف جب اقتدار میں آئے تو درباروں پر کمپلیکس بننا شروع ہو جاتے ہیں۔"

    میں نے کبھی بھی اس تناظر میں ووٹ نہیں ڈالا تھا 2013 سے پہلے
    لیکن
    مجھے شدید حیرانگی ہوئی کہ جب 2013 میں 'ن لیگ' کے پنجاب اسمبلی کے امیدوار اوپر ذکر کردہ عالم کی مسجد میں آئےاورانہوں نے جماعت کی پالیسی کے مطابق 'ن لیگ' کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا۔
    اور سوال و جواب کی نشست میں یہ بھی کہا کہ جمہوریت کفر کا نظام ہے لیکن بڑے چور سے بچنے کے لیے چھوٹے چور کو ووٹ دیا جا سکتا ہے

    4۔ عمران خان اور زرداری:


    عمران خان اور زرداری جو کہ بالترتیب تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے کرتا دھرتا ہیں بھی شرک سےقطعامبرا نہیں۔ عمران خان کےاکثر لانگ مارچ درباروںسےشروع ہوتے ہیں اورآئےدن اس کے مزاروں پر حاضری کی خبریں آتی رہتی ہیں ابھی کل ہی وہ بابا فرید کے مزار پر مست بیٹھا ہواتھا۔
    زرداری کے بارے میں اغلب امکان تو شیعہ ہونے کاہے، بنےنظیراورنصرت بھٹوتو پکی شیعہ تھیں، زرداری بھی پکا قبر پرست ہے، حتیٰ کہ گڑھی خدابخش کے ایک دورے کے موقع پر اس نے 'بھٹو' کی عبادت کا دعویٰ بھی کیا تھا۔۔۔۔

    ------- جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  15. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
    نوازشریف کے موجودہ نظریات:
    دارالسلام کے مالک عبدالمالک مجاہد صاحب لکھتے ہیں
    nawaz sharif.JPG nawaz sharif1.png

    6۔میری آبزرویشن

    نوازشریف کا سمدھی اسحاق ڈار تو ہر سال 'دربار شریف' کو عرق گلاب سے غسل دیتا ہے لیکن نوازشریف کو میں نے جلاوطنی سے واپسی کے بعد غسل دیتے نہیں دیکھا، جملہ معترضہ کےطور پر مشرف کا مجھے یاد آیا کہ ہ عمرے سےواپسی پر سیدھا 'داتا' دربارآیاتھا۔

    7۔ کچھ اہلحدیث علماء نوازشریف کے مخالف بھی ہیں جیسا کہ ابتسام الٰہی ظہیر

    -------------------------------

    یہ سب کہنےکےبعدمیں آپ سے کہوںگا کہ میں آپکو کسی پارٹی کی حمایت پر اکساتا نہیں، نوازشریف کومیں کمتر درجے کی برائی سمجھتا ہوں اورویسےبھی پیپلز پارٹی اورتحریک انصاف کا واضح جھکاو ایران کی طرف ہے ، اسی لیے میں نوازشریف کوووٹ دےدوںگا، اگرچہ اس کی جماعت میں بھی کافی خرابیاں ہیں۔

    شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  16. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    کتنی مزے کی بات ہے کہ کارگل کے سارے شہدا سیدھے شہدا ہیں لیکن سیاست دانوں کی باری آئے تو چھلنی لگے گی کہ کون مشرک ہے کون موحد!
    مذہب اور حب الوطنی کے ایسے حوالوں پر ہمیں اور کچھ نہیں ہنسنے کی اجازت تو ہونی چاہیے۔ ویسے بھی اس ساری بحث سے بہتر ہے کہ غداری کیس میں پاکستان سے فرار جنرل مشرف کا تازہ انٹرویو دیکھ لیا جائے جس نے ہر بات واضح کر دی ہے۔
     
  17. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    میرے علم میں تھا،یہ دو عالم دین ہیں.جن کے حوالے آئیں گے مگر ان میں سے کسی نے بھی مشرک نہیں کہا. بلکہ ان کا عملی شرک بیان کیا ہے. عبد الملک مجاہد کی نصیحت بھی پڑھ لی.بہتر ہے کہ یہ مشرک، کافر، منافق کا فیصلہ اہل علم کے لیے چھوڑ دیا کریں.ویسے بھی سوشل.. پر جو مذہبی و غیر مذہبی لوگ جمہوریت کو کفر سمجھتے ہیں. ان کو حق نہیں کہ وہ اس گندی سیاست پر بات کریں. یا اس کے کفریہ نظام کے فیصلے پر اپنی رائے دیں. اصولی بات ہے جب نظام ہی غلط ہے تو عقیدہ پر بات کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے، جو اس نظام کے تحت اقتدار میں آئے گا. وہ موحد نہیں ہو گا. کوئی ایک مثال بھی موجود نہیں. لہذا اعتراض کی بنیاد ہی غلط ہے. اگر موحد ہوتا، شاہ صاحب راولپنڈی میں مسجد کے منبر پر برا بھلا کہتے. جمہوریت پر بات کرنی ہے.تو جمہوریت کے سسٹم کو سامنے رکھیں.اور اتنے تنگ نظر بھی بن جائیں کہ اہل ایمان کی رائے پر ان سے بغض اور حسد کرنے لگیں.. معلوم نہیں نواز شریف پر میرا یہ موقف میرے لئے کیا مصیبت لے کر آئے. جیسا کہ ہوا کا رخ بتا رہا ہے.اور ماضی میں ہوتا آیا ہے. مجلس سمیت سوشل میڈیا پر حالات اچھے نہیں: ) اللہ اپنی پناہ میں رکھے.
     
  18. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    پاکستانی عدالتی نظام کے موضوع میں مشرک اور موحد کی بحث چھیڑنے والوں کو مبارک ہو، ہمارے محترم حافظ عبدالکریم حفظہ اللہ نئی کابینہ میں وزیر ہو گئے ہیں۔ ہم نے بزرگوں سے سلفیت سیکھی ہے اور بزرگوں کے ساتھ چلنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ نظر اصل مقصد پر مرکوز ہوتی ہے۔ الحمدللہ۔ خدا کرے کہ اب بات موضوع کے متعلق ہو۔
     
  19. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    یہ الفاظ سیرت کے تناظر میں استعمال ہوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لقب ہے لیکن آئین میں یہ عام انسان کے کردار کا معیار بنا کر درج کیے گئے ہیں۔ اگر آئین میں اس شق کو ڈالنے والے دوراندیش ہوتے تو مناسب الفاظ استعمال کرتے۔ لیکن ہماری قوم کو مذہب کا تڑکا لگانے کی عادت ہے۔ وقتی تڑکا تو لگ گیا اس کے آئندہ اثرات کیا ہوں گے یہ سوچنا ہماری قوم کو ابھی نہیں آیا۔
     
  20. خادم خلق

    خادم خلق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 27, 2007
    پیغامات:
    4,949
    آپ کی نواز شریف کی اندھی حمایت کی اصل وجہ یہی ہے یہی مقصد کہ وزارت مل گئی جی کرسی مل گئی جی بس جی بلے بلے ہو گئی ۔ آواز تو پھر بھی آپ نے اٹھانی نہیں ۔ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں جو بھی ان کی حمایت کرے اللہ ان کا حشر انہی کے ساتھ کرے ۔
    آپ کے پوائنٹ لگانے سے الحمدللہ میری ذات پر ذرا بھی فرق نہیں پڑے گا لیکن اس طرح کے کرپٹ حکمرانوں کی حمایت کرنے سے آپ کو اللہ نہ کرے کوئی نقصان اٹھانا پڑجائے ۔

    ابھی تھوڑا تحمل سے کام لیں فقط نااہلی ہوئی ہے ۔ اللہ کے حکم سے جلد جیل میں بھی جانا ہے۔
     
    • متفق متفق x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں