حدیث کی سند درکار ہے کہ یہ حسن ہے یا ضعیف ہے

زبیراحمد نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏اگست 16, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    درج ذیل حدیث کی سند درکار ہے کہ یہ حسن ہے یا ضعیف ہے

    حضرت ام المؤ منین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں:

    اذا دخلت علی النبی صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم قام الیھا تقبلّہا و اجلسھا فی مجلسہٖ وکان النبی صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم اذا ادخل علیہا قامت من مجلسہا فقبّلتہٗ و اجلستہٗ فی مجلسہا۔

    (ترجمہ) جب بھی فاطمہ زہرا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کھڑے ہوجایا کرتے تھے اور زہرا پر بوسہ دیتے تھے اور اپنے پاس بٹھا لیتے اور جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ان کے گھر تشریف لاتے تو سیدہ زہرا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعظیم کیلئے کھڑی ہو جاتی تھیں۔(المستدرک ، ۳:۱۶۰)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    ( سنن أبي داود )
    #5217 حدثنا الحسن بن علي وابن بشار قالا حدثنا عثمان بن عمر أخبرنا إسرائيل عن ميسرة بن حبيب عن المنهال بن عمرو عن عائشة بنت طلحة عن أم المؤمنين عائشة رضي الله عنها أنها قالت ما رأيت أحدا كان أشبه سمتا وهديا ودلا وقال الحسن حديثا وكلاما ولم يذكر الحسن السمت والهدي والدل برسول الله صلى الله عليه وسلم من فاطمة كرم الله وجهها كانت إذا دخلت عليه قام إليها فأخذ بيدها وقبلها وأجلسها في مجلسه وكان إذا دخل عليها قامت إليه فأخذت بيده فقبلته وأجلسته في مجلسها .

    تحقيق الألباني :
    صحيح الترمذي ( 4146 )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں