خطبہ حرم مکی ملکی عدم استحکام کے وقت شہری کیا کریں؟ شیخ سعود الشريم

Danish نے 'خطبات الحرمین' میں ‏اگست 19, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. Danish

    Danish نوآموز

    شمولیت:
    ‏جولائی 22, 2017
    پیغامات:
    3
    ملکی عدم استحکام کے وقت شہری کیا کریں؟ شیخ سعود الشريم

    ترجمہ: محمد عاطف الیاس
    نظر ثانی: حافظ یوسف سراج
    بشکریہ، پیغام ٹی وی

    پہلا خطبہ:
    الحمد للہ! تعریف اللہ ہی کے لیے ہے کہ جو اکیلا کامل، صاحبِ جمال اور منفرد جلال والا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرتے ہیں اور اس کی کبریائی بیان کرتے ہیں۔ وہی اکیلا سارے چھوٹے بڑے معاملات چلانے والا، ان کی تقدیر بنانے والا اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے والا ہے۔ وہی اپنی عظمت اور علم کی بنا پر سب سے بلند ہے۔ اسی نے اپنے بندے پر قرآنِ کریم نازل فرمایا تاکہ وہ تمام لوگوں کو خبردار کرنے والا بن جائے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی نے ساری مخلوقات کو پیدا فرمایا اور ان کی تقدیر لکھی۔ وہ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان اور ان کے حال سے بخوبی واقف ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے، رسول، دوست اور مخلوق میں سے بہترین شخصیت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو انسانوں اور جنوں کے لیے بشارتیں دینے والا، خبردار کرنے والا اور بحکمِ الٰہی اللہ کی طرف بلانے والا روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور سلامتی ہو، آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی ساری پاکیزہ آل، ازواج مطہرات اور صحابہ کرام پر۔
    بعد ازاں!
    اللہ کے بندو! مجھے اور آپ سب کو دل اور زبان سے خوشی اور ناراضی میں، مشکل اور آسانی میں ہر موقع پر خوفِ خدا اختیار کرنے کی نصیحت کی گئی ہے۔ خوفِ خدا بندۂ مؤمن کا بہترین زادِ راہ ہے۔ اسی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا ساتھ نصیب ہوتا ہے اور اسی سے ہر خوف اور ڈر ختم ہو جاتا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
    ’’سُنو! جو اللہ کے دوست ہیں، جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ کا رویہ اختیار کیا، ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے‘‘ (یونس: 62-63)۔

    اے مسلمانو!
    بنی نوع انسانی کے تمام دانشمند لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ اجتماعیت ہی میں خیر وہدایت ہے اور تفرقے میں برائی اور گمراہی ہے۔ دو لوگوں کا اجتماع ایک آدمی کی تنہائی سے بہتر ہے، تین کا دو سے اور چار کا اتحاد تین سے بہتر ہے...
    اجتماعیت اپنانے والی قومیں کبھی ذلیل نہیں ہوتیں، جبکہ تفرقہ باز قومیں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں، نیزوں کے اکٹھ سے ایک نیزہ کبھی نہیں ٹوٹتا اور دوسرے نیزوں کے اکٹھ سے الگ ہو جانے والا نیزہ کبھی سلامت نہیں رہتا۔ ایک یا دو کے ساتھ تو شیطان ہو سکتا ہے مگر تین یا ان سے زیادہ تعداد کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ فرمانِ نبویﷺ ہے:
    ’’اکیلا سوار شیطان ہے، دو سوار بھی شیطان ہیں، مگر تین سوار تو ایک قافلہ ہیں۔‘‘ (ابو داؤد: 2607)
    اسی طرح فرمایا:
    ’’ جو جنت کے درمیانی حصہ میں جانا چاہتا ہو، وہ جماعت سے جڑا رہے، کیونکہ اکیلے شخص کے ساتھ شیطان ہو سکتا ہے البتہ دو کے ساتھ شیطان کا ہونا مشکل ہے۔‘‘ (ترمذی: 2165)

    اللہ کے بندو! دین اسلام نے نظم اجتماعی کو بہت ملحوظ رکھا ہے، اس کی حفاظت کرنے والی ہر چیزوں کی ترغیب دلائی ہے اور اسکے بگاڑ کا راستہ روکا ہے اور متعدد مقامات پر افراد کے مقابلے میں جماعت اور امت کے حق کو ترجیح دی ہے، کیونکہ اگر ہر شخص جماعت اور امت کے مفاد کے سامنے اپنے مفاد کو ترجیح دینے لگے تو امت کی اجتماعیت، اور اس کا استحکام ختم ہو جائے گا، تفرقہ بازی، کنجوسی اور خود پسندی پھیل جائے گی اور ہر کوئی یہ دعویٰ کرنے لگے گا کہ وہ دوسرے کی نسبت زیادہ بر حق ہے۔
    چنانچہ دینِ اسلام نے ان تمام چیزوں کے متعلق واضح ہدایات دی ہیں کہ جن سے مسلمانوں میں فرقہ واریت اور اختلاف پھیلنے کا اندیشہ ہو۔ اسی طرح جائز اختلاف رائے کو اختلافات اور انتشار میں بدلنے کی تمام راہیں روکی ہیں۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:
    ’’جب تم ایک حاکم کی حکمرانی پر متفق ہو اور کوئی آ کر تمہارے درمیان انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرے تو اسے قتل کر دو۔‘‘ (مسلم: )
    دیکھو! اللہ کے بندو! کس طرح اس حدیث میں انفردی اور چھوٹے مفاد پر بڑے اور جماعتِ مسلمین کے مفاد کو ترجیح دی گئی ہے۔ یہاں تک کہ اگر نظم اجتماعی کے مفاد کے لیے کسی شخص کو مار ڈالنا لازمی ہو جائے تو بھی اس کے مفاد کو ترجیح دی جائے گی اور اس کی حفاظت کا خیال کیا جائے گا۔
    اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! کیا آپ نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا کہ علمائے اسلام نے اپنی آنکھوں سے چاند دیکھ لینے والے کو یہی حکم دیا ہے کہ اگر اس گی گواہی قبول نہ کی جائے تو وہ باقی مسلمانوں کے ساتھ ہی روزے رکھے اور انہی کے ساتھ عید کرے۔ فرمانِ نبویﷺ ہے:
    ’’روزہ اسی دن شروع ہوتا ہے جس دن سارے مسلمان روزہ رکھیں اور عید الفطر بھی اسی دن ہوتی ہے جس دن سارے مسلمان عید کریں اور عید قربان بھی اسی دن ہوتی ہے کہ جس دن سارے مسلمان عید کریں۔‘‘ (ترمذی: )
    علما فرماتے ہیں کہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ روزہ اور عید لوگوں کی زیادہ تعداد ہی کے ساتھ ہوتی ہے۔

    اللہ کے بندو!
    جب بھی کوئی شخص جماعت سے الگ ہوتا ہے تو غرور اس کا قائد اور خود پسندی اس کی رہبر بن جاتی ہے۔ پھر وہ ہر شکاری کا شکار اور ہر لالچی کے لیے ترنوالہ بن جاتا ہے۔ تاہم جب کوئی نظم اجتماعی سے مل جاتا ہے تو وہ مسلمانوں کے جسد کا ایک حصہ بن جاتا ہے، ایسے میں جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو سارا جسم اس کی فکر میں بخار اور بے چینی محسوس کرتا ہے۔

    اللہ کے بندو!
    اگرچہ قرآن وسنت میں نظمِ اجتماعی کے ساتھ جڑے رہنے کی تلقین کی گئی ہے، عقل بھی اسی کی قائل ہے اور ایسا نہ کرنے کا خطرہ بھی واضح کیا گیا ہے، تاہم کچھ لوگوں کو دوسروں کی مخالفت اور نظم اجتماعی سے علیحدگی میں عجیب مزا آتا ہے۔ انہیں اس وقت تک چین نہیں آتا جب تک وہ نظم اجتماعی سے الگ ہو کر نمایاں نہیں ہو جاتے، چنانچہ وہ کسی بات پر بھی نظم اجتماعی سے اتفاق نہیں کرتے۔ ایسے لوگ جماعت سے الٹ چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جیسے بھی ہو، ہر جگہ ان کا چرچا لازمی ہونا چاہیے۔ چنانچہ جب لوگ دائیں طرف چلتے ہیں تو وہ بائیں طرف ہو جاتے ہیں۔ جب لوگ ’’ہاں‘‘ کہہ رہے ہوں تو اس وقت انہیں ’’نہ‘‘ کہنا محبوب ہو جاتا ہے اور جب لوگ ’’نہ‘‘ کہیں تو وہ بالضرور ’’ہاں‘‘کہتے ہیں۔
    ایسے لوگ حق پرست یا عدل وانصاف کے طالب نہیں ہوتے، بلکہ ان کا مقصد لوگوں میں اختلاف پیدا کرنا اور ان کی اجتماعیت ختم کرنا ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کا موضوعِ گفتگو بننا چاہتے ہیں، چنانچہ وہ اعتراضات کر کے اور دوسروں کے خلاف جا کر اپنی اہمیت جتاتے ہیں، چاہے ایسا کرنے کی خاطر انہیں خود پسندی اور دوسروں کی بے جا مخالفت جیسا مکروہ، یا حرام کام ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
    خدا کی قسم! یہ راستہ بے عقل، ہٹ دھرم اور متکبروں کا راستہ ہے، جنہیں لوگوں کو پریشان اور منتشر کرنے میں مزا آتا ہے۔ جو امت کے بڑے دھاروں کی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور اپنی رائے کی درستی کے لیے تصوراتی اور غیر حقیقی راہیں تراشتے ہیں۔ دانشمندوں کا طریقہ یہ ہے کہ جب جماعت درستی پر ہو تو اس کا ساتھ دیا جائے اور جب وہ غلطی پر ہو تو بھی اسی کے ساتھ رہا جائے، مگر نصیحت، صبر اور درگزر سے کام لیا جائے۔ اس طرح وہ اجتماعی راستے سے نہیں ہٹتے اور نظم اجتماعی سے الگ بھی نہیں ہوتے، کیونکہ نظم اجتماعی کے غلطی پر ہونے سے سارے نظم اجتماعی ہی کو چھوڑ دینا جائز نہیں بن جاتا، بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ نظم اجتماعی کے فیصلوں کے ساتھ چلا جائے اور ان کی مخالفت سے اپنے آپ کو دور رکھا جائے۔ اسی سے الفت بھی دائم رہتی ہے اور محبت بھی بڑھتی ہے۔ اسی سے اجتماعیت بھی نصیب ہوتی ہے اور انتشار ختم ہوتا ہے۔ اسی سے اجتماعیت کو نقصان پہنچانے والوں کی راہ بند ہوتی ہے۔
    اگر اجتماعیت ختم ہو جائے تو پھر دشمنی، بغض، خود پسندی اور حق سے دوری عام ہو جاتی ہے اور ایسی حالت میں اس سے بچنا ممکن نہیں رہتا۔ غور کیجیے کہ جماعت سے علیحدہ ہونے والوں میں کتنے خود پسندی اور غرور کا شکار ہو گئے، ان کے گمان درست نہ نکلے پھر وہ اپنے ارادے کے بر عکس چل پڑے۔ تنہا لوگ ہی ہلاکت کے گرداب میں گھرتے ہیں اور بھیڑیا بکریوں کے ریوڑ کو نہیں بلکہ ریوڑ سے الگ ہونے والی بکریوں کو کھاتا ہے۔
    نظم اجتماعی کے ساتھ وابستگی کے دعووں کی حقیقت اسی وقت معلوم ہوتی ہے جب جماعت کسی مشکل میں گھر جاتی ہے یا اس کے سامنے مشکلات نظر آنے لگتی ہیں۔ اسی وقت سچا اور جھوٹا الگ الگ ہوتا ہے اور اسی وقت حقیقی آنسو مگرمچھ کے آنسو سے ممتاز ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ یہ دعویٰ تو کرتے ہیں کہ وہ نظم اجتماعی کے ساتھ ہیں، مگر جب نظمِ اجتماعی پر کڑا وقت آتا ہے تو ان کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور ان کی خود پسندی آشکار ہو کر دوسروں کو ڈرانے اور رسوا کرنے لگتی ہے۔ پھر وہ جماعت سے یوں نکل جاتے ہیں جیسے آٹے سے بال نکالا جاتا ہے۔
    ایسے لوگ اجتماعیت کے نظام کا سب سے بڑا خطرہ ہیں، کیونکہ ان کا جسم تو اجتماعیت کے ساتھ ہوتا ہے مگر دل کسی اور کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ تعداد میں تو اضافہ کرتے ہیں مگر درحقیقت میں اجتماعیت میں کمی کرتے ہیں۔
    ایسے لوگوں سے چوکنے اور خبردار رہیے۔ اجتماعیت کو یہی لوگ نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کی وجہ ہی سے انتشار پیدا ہوتا ہے اور انتشار کی رکاوٹیں دور ہو جاتی ہیں۔ جسم کے اندر سے حملہ آور ہونے والی بیماری باہر سے آنے والی بیماریوں سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کی مثال چراہ گاہ میں چھپے بھیڑیوں کی سی ہے کہ جن کی کمین گاہ کو بصیرت اور دانشمندی والے ہی جان سکتے ہیں ، چرنے والی معصوم بکریاں ان سے بے خبر رہتی ہیں۔

    عربی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
    جب میں نے چرواہوں کو غفلت میں پایا اور چراہ گاہ سے بھیڑیے کی چاپ سنی تو میں نے بلند آواز میں خبردار کر دیا کہ غافل مت ہونا! میں نے چراہ گاہ میں بھیڑیے کی کمین گاہ دیکھی ہے۔

    اللہ کے بندو! اجتماعیت کے ساتھ ملنے میں سلامتی اور معاملات کی درستی ہے، تاہم کبھی کبھار ایسا بھی ہوجاتا ہے کہ تمام تر اجتماعیت شکست وریخت کا شکار ہو کر منتشر ہو جائے، اور اگرچہ ایسا بہت کم ہوتا ہے، لیکن اگر ہو بھی جائے تو ان حالات کو بھی ہمارے دین نے بیان کیا ہے اور ان حالات کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔
    صحیح بخاری ، صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث میں روایت ہے ، ادریس خولانی ﷫ سیدنا حذیفہ بن یمان ﷜ سے روایت کرتے ہیں کہ لوگ رسول اللہﷺ سے خیر کے متعلق پوچھتے تھے اور حضرت حذیفہ ﷜ برائی سے خائف رہنے کے باعث برائی کے متعلق پوچھتے رہتے تھے۔ حضرت حذیفہ ﷜ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم جاہلیت کی برائی میں تھے تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کی یہ خیر نصیب فرمائی۔ کیا اس خیر کے بعد پھر کوئی برائی بھی آئے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! میں نے پوچھا: کیا اس برائی کے بعد پھر خیر آئے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ ہاں! اور اس میں کچھ گردوغبار بھی ہو گی‘‘ میں نے پوچھا: یہ گردوغبار کیا ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ایسے لوگ آئیں گے جن کی کچھ چیزیں تو درست ہوں گی جنہیں تم بھی درست سمجھتے ہو گے اور ان کی کچھ چیزیں تمہیں غلط لگیں گی‘‘ میں نے دریافت کیا: کیا اس بھلائی کے بعد پھر کبھی برائی آئے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ ہاں! ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو جہنم کے دروازوں پر کھڑے ہو کر لوگوں کو جہنم کی طرف بلائیں گے، جو ان کی بات مانے گا، وہ اسے جہنم رسید کر دیں گے۔‘‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ان کی نشانی بتا دیجیئے! آپ ﷺ نے فرمایا: ’’وہ ہم ہی میں سے ہوں گے اور ہماری ہی زبانیں بولتے ہوں گے۔‘‘ میں نے کہا: اگر میں نے وہ زمانہ پا لیا تو آپ مجھے کیا ہدایت دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مسلمانوں کی جماعت اور ان کے حکمران سے جڑے رہنا‘‘ میں نے کہا: تو اگر ان کی کوئی جماعت یا کوئی حکمران ہی نہ ہو تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تو ساری جماعتوں سے الگ ہو جانا، خواہ اس کے لیے موت تک کسی درخت کی جڑ چبا کے گزارہ کرنا پڑے!‘‘

    اس حدیث میں آنے والا حکم ہر موقع پر اور ہر مقام کے لیے ہے، صحابہ کرام کے دور سے لے کر، کہ جب فتنہ شروع ہوا تھا اور حضرت علی ﷜ اور حضرت عثمان ﷜ کے خلاف بغاوت ہوئی تھی ، تب سے لے کر زمانے کے اختتام تک۔ سب زمانوں کے لیے یہی نصیحت ہے۔
    تفرقہ بازی کے زمانے میں لوگوں سے الگ ہونے کے حوالے سے حافظ ابن حجر ﷫ علامہ طبری ﷫ کے حوالے سے فرماتے ہیں: ’’جب لوگوں کا کوئی حکمران نہیں ہوتا اس وقت لوگ فرقوں میں بٹ جاتے ہیں۔ اس وقت کسی جماعت میں شامل ہونا درست نہیں، بلکہ ہو سکے تو سارے فرقوں سے الگ ہو جانا چاہیے تاکہ برائی سے بچا جا سکے۔ جب کوئی جماعت حق پر نظر آئے اور وہ اس پر قائم ہو تو اس میں شامل ہونا لازمی ہے، تاکہ اس کی قوت زیادہ ہو سکے اور اس کے ساتھ مل کر حق کو طاقتور بنایا جا سکے۔ اس حالت میں اس جگہ اور اس وقت وہی مسلمانوں کی جماعت ہے۔‘‘
    اللہ کے بندو! جس طرح اسلام نے نظم اجتماعی کے ساتھ جڑے رہنے کا حکم دیا ہے، اجتماعیت سے الگ ہونے سے روکا ہے، اسی طرح دین اسلام نے نظم اجتماعی کو اپنی ذمہ داریاں سمجھنے کی تلقین کی ہے، اور ہر حال میں شریعت اپنانے، ہر چھوٹے اور بڑے فرد کی ذمہ داری ادا کرنے، اپنے فرائض ادا کرنے اور اپنا حق مانگنے کا حکم دیا ہے۔ اگر اہل اسلام کا ایک گروہ اس مجموعی ذمہ داری کو ادا کرتا رہے ، مسلمانوں کی فکر کرے اور ان کا مفاد ملحوظ رکھے اور دشمنوں سے مقابلہ کرے تو سب لوگوں کی طرف سے فریضہ ادا ہو جائے گا بصورت دیگر گناہ گار ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ جب ایک گروہ ساری جماعت کا فرض ادا کر دیتا ہے تو اس کا فائدہ سب کو ہوتا ہے اور جب سب لوگ اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہیں تو گناہ بھی سبھی کو ہوتا ہے۔
    سنو! اللہ کے بندو! یقیناً تم نے جان لیا۔ تم مسلمانوں کے نظمِ اجتماعی سے جڑ جاؤ۔ اکٹھے ہو جاؤ۔ تفرقے میں نہ پڑو۔ مل جاؤ اور ناراضگیاں ختم کر دو۔ اللہ کے بندو! سب بھائی بھائی بن جاؤ۔ اس کے خلاف جانے سے چوکنے اور ہوشیار رہو، کیونکہ نظمِ اجتماعی سے الگ ہونے میں نقصان اور گھاٹا ہے۔
    اللہ تعالیٰ کا فرمان سچ ہے۔ فرمایا:
    ’’جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے، حالانکہ اس پر راہِ راست واضح ہو چکی ہو، تو اُس کو ہم اُسی طرف چلا دیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بد ترین جائے قرار ہے‘‘ (نساء: 115)
    اللہ مجھے اور آپ کو قرآن وسنت میں برکت عطا فرمائے، اس کی آیات اور ذکر وحکمت سے فائدہ پہنچائے۔ میں نے جو کہا وہ آپ نے سن لیا۔ اگر درست کہا تو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے۔ اگر غلط کہا تو اپنے نفس اور شیطان کی وجہ سے۔ میں اللہ سے اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کے لیے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں۔ تم بھی اسی سے معافی مانگو اور اسی کی طرف رجوع کرو۔ یقینًا میرا رب معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

    دوسرا خطبہ:
    تعریف اللہ کے لیے ہے۔ آخری نبی پر درود وسلام۔
    اما بعد!
    اے مسلمانو! نظمِ اجتماعی کے ساتھ جڑنے اور اس سے الگ نہ ہونے کی نصیحت کرتے ہوئے اہل علم، دانشمندوں، پڑھنے لکھنے والوں، اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان میں اپنا حصہ ڈالنے والوں سے یہ بات کہنا بھی لازمی ہے کہ وہ بھی اپنے علمی اور صحافتی معاملات میں نظمِ اجتماعی کے مفاد سے الگ نہ ہوں۔ ایسے فتوے نہ دیں کہ جو ثقہ علما اور محققین کے فتووں کے خلاف ہوں۔ ضعیف اقوال سے دور رہیں ، کسی عالم کے انفرادی فتویٰ کی اتباع نہ کریں اور نہ ان چیزوں پر چلیں کہ جن پر عمل امت کے ہاں متروک ہو چکا ۔
    جو منفرد مسائل کے پیچھے لگا رہتا ہے اور انہیں اکٹھا کرتا رہتا ہے وہ کبھی صاحب توفیق نہیں ہو سکتا بلکہ وہ بہت سا شر اکٹھا کر لیتا ہے جیسا کہ سلف صالحین نے فرمایا ہے۔
    علامہ محمد بن حزم﷫ فرماتے ہیں:
    ’’ان چیزوں میں اپنے ساتھیوں اور ہم عصروں کی مخالفت نہ کرو جن سے دنیا وآخرت کا کوئی معاملہ جڑا ہوا نہیں ہے۔ چاہے وہ چھوٹی سی چیز ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ ایسا کرنے سے سوائے دوسروں کی اذیت، ناپسندیدگی اور دشمنی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایسا کرنے سے انسان اپنا ہی کوئی بڑا نقصان کربیٹھے اور مقابل میں کچھ حاصل بھی نہ کر سکے۔‘‘
    علامہ خطابی ﷫ نے کچھ علما ءکے اقوال نقل کیے ہیں، مثلًا فرمایا:
    ’’کچھ لوگوں کو دوسروں کے خلاف جانے میں عجیب لطف آنے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ سب لوگوں کی مخالفت کرنا، ان کے ساتھ کسی مسئلے پر اکٹھے نہ ہونا اور ان سے محبت نہ کرنا ہی بہترین راہِ عمل ہے۔ جس کی یہ عادت ہو، وہ نہ تو حق دیکھ پاتا ہے اور نہ حق کی نصرت کر پاتا ہے، نہ اسے دین یا مذہب ہی سمجھتا ہے۔ بلکہ وہ اپنی رائے پر اکڑ جاتا ہے اور اپنے نفس کے لیے دوسروں سے انتقام لینے لگتا ہے۔‘‘
    ایک مرتبہ امام مالک ﷫ کے استاد علامہ ربیعہ بن ابی عبد الرحمٰن رونے لگے تو ایک شخص نے ان سے پوچھا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ’’بے علم لوگوں سے فتویٰ پوچھا جانے لگا ہے اور دین میں بڑا خلل پیدا ہو گیا ہے۔‘‘ پھر کہا: ’’آج فتویٰ دینے والوں میں ایسے بھی ہیں جو چور سے بڑھ کر جیل جانے کے مستحق ہیں۔‘‘
    یہ واقعہ نقل کرنے کے بعد امام ابن قیم ﷫ فرماتے ہیں:
    ’’اہل علم کہتے ہیں: اگر ربیعہ ﷫ ہمارا زمانہ دیکھ لیتے تو کیا بنتا کہ آج ہمارے دور میں تو بے علم لوگ فتویٰ دینے پر جری ہو گئے ہیں ، بلکہ انہیں فتویٰ دینے کا بڑا شوق چرایا ہے، وہ بڑے تکلف کے ساتھ مسائل کا فتویٰ دینے کی کوشش کرتے ہیں، وہ جہالت اور جرات کے ساتھ ناتجربہ کار، بدنام اور بد نیت ہیں۔ وہ اہل علم کے نزدیک یا تو منکر یا پھر غریب سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو نہ کتاب وسنت کا علم ہے اور نہ سلف صالحین کے اقوال ہی کا کچھ علم۔‘‘
    اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اگر علامہ ربیعہ ﷫ نے دوسری صدی میں اور ابن قیم ﷫ نے آٹھویں صدی میں یہ بات کی تھی تو آج ہمارے حال کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟!
    آج تو یہ خلا مزید بڑھ گیا ہے اور ہمارے اور ان کے عہد میں فرق بہت زیادہ ہے۔ اللہ ہی ہمارا مدد گار ہے! ہم اسی کے سامنے شکایت کرتے ہیں اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
    • اعلی اعلی x 1
    • مفید مفید x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    جزاکم اللہ خیرا. بھائی، نئے خطبہ بھی پوسٹ کرتے رہا کریں. شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    جزاک اللہ خیرا۔
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    کیا محمد عاطف الیاس صاحب نے پیغام ٹی وی کے لیے خطبہ جمعہ حرم مکی کا اردو ترجمہ پیش کرنا بند کردیا ہے؟
    @شفقت الرحمن
     
  6. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    768
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    ٹھیک ہے شیخ،شکریہ.
     
  8. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    443

    اس خطبہ کا موضوع غلط لکھا ہے

    اس کا اصل موضوع یہ تھا اسلام میں جماعت سے وابستگی کے احکامات


    أهمية لزوم جماعة المُسلمين

    ٢٧ شوال ١٤٣٨ هجري 21 - 07 - 2017

    اردو

    [/FONT]




     
  9. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    443
    أهمية لزوم جماعة المُسلمين
    ٢٧ شوال ١٤٣٨ هجري 21 - 07 - 2017


    عربی
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں