اپنے ملک میں ایم بی بی ایس میں داخلہ نہ لے سکنے والے ہونہار پاکستانی طلبا کے انتہائی اہم خوش خبری

کنعان نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏اگست 21, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,855
    اپنے ملک میں ایم بی بی ایس میں داخلہ نہ لے سکنے والے ہونہار پاکستانی طلبا کے انتہائی اہم خوش خبری، وہ کم پیسوں میں اس ملک سے میڈیکل تعلیم مکمل کر سکتے ہیں

    20 اگست 2017

    لاہور (نظام الدولہ) ایم بی بی ایس میں داخلہ لیکر ڈاکٹر بننے کا خواب رکھنے والے لائق ترین پاکستانی طالب علموں کو اینٹری ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد اپنا خواب پورا ہوتا نظر نہیں آرہا جس سے وہ ہی نہیں انکے والدین بھی بدترین ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں۔ سرکاری میڈیکل کالجوں میں داخلہ کی کڑی شرط پر پورا نہ اترنے والے جب اینٹری ٹیسٹ میں نمبر نہیں لے سکتے تو ایف ایس سی اور میٹرک کے زیادہ نمبر بھی انکے کام نہیں آتے۔ البتہ امراء اور مالی طور آسودہ والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں داخلہ دلوا کر اپنے اور بچوں کے خواب بھی پورے کرتے ہیں۔ جس سے ملک میں پیسے کی تقسیم سے پیدا ہونے والی غیر مساوی اور امتیازی لکیر گہری ہوتی جا رہی ہے۔ ان حالات میں بہت سے طالب علم روس اور چین کے سستے میڈیکل کالجوں میں داخلہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں جو پاکستان کے انتہائی مہنگے نجی میڈیکل کالجوں سے انتہائی سستے واقع ہوتے ہیں۔


    ملک میں ایم بی بی ایس میں داخلہ سے محروم ہونے والوں کو بیرون ملک میڈیکل کالجوں میں داخلہ کی ترغیبات دینے والوں کا نیا کاروبار جم چکا ہے جو پاکستان کے ناقابل فہم اور پیچیدہ نظام تعلیم سے پیدا ہونے والی بے چینی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ سستا ترین ایم بی بی ایس کرنے کے لئے چین سب سے فیورٹ ملک قرار دیا جا رہا ہے۔ چین میں ایم بی بی ایس کا داخلہ دلوانے والے ایڈوائزرز کا کہنا ہے کہ پاکستان کے نجی میڈیکل کالجوں میں پانچ سال سے چھ سال کے دوران اگر ساٹھ لاکھ روپے تک خرچ ہوتے ہیں تو چین کے معیاری میڈیکل کالجوں میں پانچ سال تک تعلیم مکمل کرنے اور ایک سال کی انٹرن شپ تک بائیس لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں جبکہ چین سے ایم بی بی ایس کرنے والے کی ڈگری پوری دنیا میں قابل قبول ہے۔

    انکے کے مطابق اب چین میں بھی انگریزی زبان میں ایم بی بی ایس کیا جا سکتا ہے جبکہ کچھ میڈیکل کالجوں میں پہلے چائینز زبان سیکھنا لازمی قرار دیا جاتا ہے۔ ایم بی بی ایس میں داخلہ کے لئے کم از کم میرٹ ساٹھ فیصد اور عمر سترہ سال سے چوبیس سال تک ہو سکتی ہے۔

    پاکستانی حکومت کو اس پہلو پر لازماً سوچنا ہو گا کہ میڈیکل تعلیم کو انڈسٹری بنا کر ناقص اینٹری ٹیسٹ کا مطالبہ نئی نسل کے خواب کچل ڈالے گا تو ملک کا مستقبل اپنے ملک کو کیسے سنوارے گا۔ میڈیکل کالجوں میں سیٹیں بڑھا کر اور نجی میڈیکل کالجوں کی اجارہ داری کم کر کے ملک کے قیمتی زرمبادلہ کے ساتھ ساتھ اپنی ہونہار نسل کو بھی بچایا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ پنجاب میں 20 اگست کو ہونے والے مشکل ترین اینٹری ٹیسٹ نے لائق ترین طالب علموں کو شدید ذہنی دھچکا لگایا ہے۔ اینٹری ٹیسٹ کی تیاری میں انہوں نے تین ماہ تک بھاری اخراجات پر اکیڈمیوں سے جو تربیت لے رکھی تھی، وہ بھی ان کے کسی کام نہیں آئی، اسکے برعکس چین میں داخلہ لینے والوں کو کسی قسم کے اینٹری ٹیسٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

    ح
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. شرجیل احمد

    شرجیل احمد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جون 19, 2017
    پیغامات:
    56
    قابل افسوس امر یہ ہے کہ پاکستان میں جو آئے روز نوجوان ڈاکٹروں کی ہڑتالیں اور مریضوں کے ساتھ طوفان بدتمیزی کے واقعات پیش آ رہے ہیں، ان میں ملوث اکثریت ایسے ہی ڈاکٹروں کی ہے جو ایف ایس سی میں کم نمبر لینے کے باوجود انٹری ٹیسٹ کے ذریعے سرکاری میڈیکل کالجوں میں پہنچے۔ اور امیرگھرانوں کے چشم و چراغ جن کے اینٹری ٹیسٹ میں نمبر کم آئے، انھوں نے پیسے کے بل بوتے پر پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں داخلہ لیا۔ راقم کی اپنی قریبی عزیز گذشتہ سال ایف ایس سی میں 1028 نمبر لینے کے باوجود سرکاری میڈیکل کالج میں داخلے سے محروم رہی جبکہ نقل کے ذریعے 793 نمبر لینے والی اس کی نالائق کلاس فیلو سرکاری میڈیکل کالج میں انتہائی معقول فیس پر پڑھ رہی ہے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں