عورت جانور ذبح کرسکتی یے؟

عطاءاللہ خان سمیجو نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏اگست 22, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. عطاءاللہ خان سمیجو

    عطاءاللہ خان سمیجو رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2017
    پیغامات:
    12
    السلام علیکم میرا سول یہ ہے کہ کیا عورت کا ذبیحہ جائز ہے؟
     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,440
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ!
    سوال واضح نہیں. کچھ مزید تفصیل لکھیں.
     
  3. عطاءاللہ خان سمیجو

    عطاءاللہ خان سمیجو رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2017
    پیغامات:
    12
    یعنی عورت جانور ذبحہ کر سکتی ہے یا نہیں قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    جی عورت خواہ مسلمان ہو یا اہل کتاب، اس کا ذبیحہ درست ہے۔
    اس کی پہلی دلیل یہ ہے کہ اس کی کوئی ممانعت نہیں۔ یہ اصول یاد رکھ لیجیے کہ جس چیز سے عورتوں کو منع نہیں کیا گیا وہ کرنا ان کے لیے جائز ہے۔
    دوسری دلیل: صحیح البخاری باب ذبیحہ المراۃ والامۃ کی احادیث جن میں ذکر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتوں نے جانور ذبح کیا اور آپ نے اسے کھانے کی اجازت دی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  5. عطاءاللہ خان سمیجو

    عطاءاللہ خان سمیجو رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2017
    پیغامات:
    12
    بہت بہت شکریہ جواب دینے کا جزاک اللہ خیر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,440
    عورت بھی قربانی کاجانورذبح کرسکتی ہے۔
    نافع نے (عبد الرحمٰن یا عبد اللہ ) بن کعب بن مالک سے سنا وہ عبد اللہ بن عمرؓ سے کہہ رہے تھے کہ ان کے والد نے ان کو خبر دی ان کی ایک لونڈی سلع پہاڑ پر (جو مدینہ میں ہے) بکریاں چرایا کرتی تھی ایک دن اس نے ایک بکری کو دیکھا وہ مر رہی ہے اس نے کیا کیا ایک پتھر توڑ کر اس سے وہ بکری ذبح کر ڈالی کعب نے اپنے لوگوں سے کہا اس کا گوشت ابھی نہ کھاؤ میں نبیﷺ کے پاس جاتا ہوں آپ سے پوچھ لوں یا میں ایک شخص کو نبیﷺ کے پاس بھج کر پچھوا لوں (یہ راوی کی شک ہے) غرض کعب خود نبیﷺ کے پاس آئے یا کسی کو بھیج کر پچھوا بھیجا آپ نے فرمایا اس بکری کو کھاؤ۔
    (بخاری/کتاب الذبائح:۲۲)
    سیدنا ابو موسیٰ اشعری ؓ اپنی بیٹیوں کو قربانی کا حکم دیا کرتے تھے۔
    (صحیح بخاری ،الاضاحی تعلیقاً،باب:۱۰)

    مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "لابأس بذبيحةالصبي والمرأة من المسلمين وأهل الكتاب"
    (السنن الكبرى للبيهقي 9/475)
    "مسلمان اوراہل کتاب میں سےبچہ اورعورت کےذبیحہ میں کوئی حرج نہیں ہے "
    امام نووی رحمہ اللہ فرماتےہیں:
    "کعب بن مالک کی حدیث کی بنیادپر بلا اختلاف عورت کا ذبیحہ جائزہے"۔
    (المجموع شرح المھذب 9/87)
    نیز فرماتےہیں :
    " ابن المنذرنے عورت اورصاحب تمییز بچہ کےذبیحہ کی حلّت پراجماع نقل کیاہے۔"
    المجموع شرح المھذب 9/89)
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتےہیں :
    " عورت اورمردکاذبیحہ جائز ہے، عورت حالت حیض میں بھی ذبح کرسکتی ہے۔"
    علامہ ابن بازرحمہ اللہ ایک سوال کےجواب میں فرماتےہیں :
    " مردکی طرح عورت بھی قربانی کاجانورذبح کرسکتی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے۔ عورت اگرمسلمان یاکتابیہ ہےاوراس نے شرعی طریقہ پرجانورذبح کیاہےتواس کاگوشت کھاناجائزہے۔ مردکی موجودگی میں بھی عورت ذبح کرسکتی ہے، اس کےلئے مردکاہوناشرط نہیں ہے"
    علامہ عبد اللہ بن عبدالرحمن الجبرین ایک سوال کےجواب میں فرماتے ہیں :
    " اگرعورت عاقلہ ،مکلفہ ہواوراس نےبسم اللہ پڑھ کرناخن ،دانت اورہڈی کے علاوہ کسی تیزدھاردارآلہ سےذبح کیاہےتواس میں کوئی حرج نہیں ہے۔"
    منقول..
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جزاک اللہ خیرا۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں