امام ابوحنیفہ (رحمة اللہ) اور قیاس

باذوق نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏جون 21, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,624
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    فقہ
    اُن شرعی عملی احکام کے علم کا نام ہے جو تفصیلی دلائل ، کتاب ، سنت اور اجماع سے اخذ کئے جاتے ہیں۔
    اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابِ عزیز اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات میں اسلامی شریعت کے صرف 2 بنیادی مآخذ بتائے ہیں :
    1 : کتاب اللہ
    2 : سنت رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)


    یہ بات معروف ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ ایک فقیہ تھے لہذا وہ لوگوں کو جو فتوے دیتے تھے اور ان کے لیے جو شرعی احکام بتاتے تھے ، وہ قرآن پاک اور احادیث سے مستنبط ہوتے تھے۔
    یہاں یہ واضح کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہ (رحمة اللہ) کی طرف منسوب بعض شرعی احکام میں قیاس سے جو استدلال ملتا ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ کتاب و سنت کی طرح قیاس کو بھی شرعی مآخذ مانتے تھے ۔۔۔
    بلکہ اس وجہ سے کہ جب ان کو درپیش مسئلے میں کوئی حدیث نہیں ملتی تو وہ اس مسئلے کا حکم اسی جیسے مسئلے کے حکم پر قیاس کر کے بتا دیتے تھے۔
    چنانچہ عبدالوھاب شعرانی ، "میزان" میں لکھتے ہیں :
    امام ابوحنیفہ (رحمة اللہ علیہ) کے مناقب و فضائل میں جو گراں قدر کتابیں تصنیف کی گئیں ان سب میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ وہ حدیث کے مقابلے میں قیاس کو درخور اعتنا نہیں سمجھتے تھے اور اپنے شاگردوں میں ہمیشہ یہ اعلان کرتے رہتے تھے :
    جب امت کے علماء کے اندر مناظرہ بازی کا آغاز ہوا اور احقاقِ حق کے بجائے مسلکوں کی تائید و حمایت کے جذبات عام ہو گئے تو ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے الزام تراشیاں شروع ہو گئیں اور امام ابوحنیفہ (رحمة اللہ علیہ) پر مخالف جماعتوں کی جانب سے یہ الزام لگایا جانے لگا کہ وہ قیاس کے مقابلے میں حدیثِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے۔
    مگر یہ صرف بےدلیل الزام ہے کیونکہ امام محترم کی سیرت کا سنجیدہ مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت احادیث کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتے تھے اور کسی حدیث کو ردّ نہیں کرتے تھے۔

    اقتباس بحوالہ : مضمون "کشف و کرامت کی شرعی حیثیت" - ڈاکٹر سید سعید عابدی۔ (اردو نیوز ، 20۔جون۔2008 ، سعودی عرب)
     
  2. ڈان

    ڈان -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 28, 2007
    پیغامات:
    11,683
    جزاک اللہ خیر !
     
  3. رحیق

    رحیق -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    1,593
    اسلام علیکم و رحمۃ وبرکۃ
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    باذوق بھائی اگر اپنی نگاہیں صفۃ الصلاۃ سے آگے بڑھاکر متقدمین محدثین کی کتابوں میں امام ابوحنیفہ کے حالات کو پڑھتے توشاید ایسی بات نہ کہتے۔امام ابوحنفیہ تک کم روایتیں پہنچی تھیں اس الزام کی حقیقت کھولنے کیلئے یہی بات کافی ہے کہ حافظ ذہبی نے اپنی کتاب تذکرۃ الحفاظ مین امام ابوحنیفہ کا ذکرکیاہے۔ اورمحدثین کے درمیان حافظ کس کو کہاجاتاہے میراخیال ہے کہ باذوق بھائی اس سے واقف ہوں گے۔
     
  5. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,624
    محترم بھائی !‌ یہ مراسلہ میری تخلیق نہیں ہے۔ کیونکہ میں نے واضح طور پر لکھا ہے کہ یہ ایک اقتباس ہے جو ڈاکٹر سید سعید عابدی کے ایک مضمون سے لیا گیا ہے۔ لہذا یہ کہنا غیر ضروری ہے کہ میں نے کس کتاب پر نظر رکھی تھی کس پر نہیں رکھی تھی۔ ہاں‌ اگر آپ ایسا کہتے کہ :
    مضمون نگار ڈاکٹر عابدی کو چاہئے تھا کہ صفۃ الصلاۃ سے آگے بڑھاکر متقدمین محدثین کی کتابوں میں امام ابوحنیفہ کے حالات کو پڑھتے ۔۔۔
    تو پھر بھی کوئی بات ہوتی۔
    عزیز بھائی ! کم سے کم اِس تھریڈ میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ پر کسی قسم کا الزام ہی نہیں‌ بلکہ الزام کا اشارہ تک نہیں ہے تو پھر آپ کو حافظ ذہبی کی کتاب تذکرۃ الحفاظ کا ذکر کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ پھر اگر میں اس بات سے ناواقف بھی رہوں کہ :
    محدثین کے درمیان حافظ کس کو کہاجاتاہے
    تو اس سے حقائق میں‌ بھلا کیا کمی آ جائے گی ؟؟
     
  6. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    لووہ بھی کہتے ہیں یہ بے نام وننگ ہے
    یہ جانتااگرتولٹاتانہ گھر کو میں
     
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں