" مسلمانوں کے امیر ہارون رشید کی جانب سے رومی کُتے نقفور کے نام!

ام عائشة السلفیہ نے 'تاریخ اسلام / اسلامی واقعات' میں ‏ستمبر 4, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ام عائشة السلفیہ

    ام عائشة السلفیہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏اگست 31, 2017
    پیغامات:
    14
    ٭~ہارون الرشید نے روم کی شہزادی "رنا" کے ساتھ معاہدہ کیا تھا جس کا لقب اغسطہ تھا۔ لیکن روم کے باشندگان نے اس کو معزول کر کے اپنا بادشاہ "نقفور" کو بنا لیا جو ایک جری اور غیر محتاط انسان تھا۔ جب روم کی زمام حکومت نقفور کے ہاتھ آئی تو رومیوں نے مسلمانوں کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو توڑ ڈالا اور نقفور نے ہارون رشید کو یہ خط لکھا:
    شاہِ روم نقفور کی جانب سے شاہِ عرب ہارون رشید کے نام!
    اما بعد!
    مجھ سے پہلے روم کی زمام حکومت جس شہزادی کے ہاتھ میں تھی اس نے تجھے بہت زیادہ اہمیت دے رکھی تھی۔ وہ مرعوب ہو کر ایک عرصہ تک تجھے خراج ادا کرتی رہی، حالانکہ سچی بات تو یہ ہے کہ تجھ جیسے لوگ اس دولت و ثروت کے مستحق ہر گز نہیں ہو سکتےشہزادی نے صرف صنف نازک ہونے کے سبب تیرے ساتھ معاہدہ کر رکھا تھا کیوں کہ عورتیں کمزور دل اور احمق ہوا کرتی ہیں!! لہٰذا جب میرا یہ خط تجھے ملے تو جو کچھ خراج شہزادی نے تجھے بھیج رکھا ہے، وہ جلد از جلد میری خدمت میں واپس بھیج دے اور اس حکم کی تعمیل کر کے اپنا بچاؤ کر لے!! ورنہ تیری سرکوبی اور ہماری جیت کا فیصلہ تلوار کرے گی!!
    ہارون رشید نے شاہ روم کا خط پڑھا تو اس کے چہرے پر سخت غصّے کے آثار نمایاں ہو گئے۔ اس نے ایک لمحہ سوچا اور پھر اسی خط کی پشت پر یہ تحریر لکھی:

    "بسم اللہ الر حمٰن الرحیم۔"
    " مسلمانوں کے امیر ہارون رشید کی جانب سے رومی کُتے نقفور کے نام!
    ....... اے کافر ماں کی اولاد! میں نے تیرا خط پڑھ لیا ہے......اور اس کا جواب سننے سے نہیں بلکہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔"
    والسلام
    پھر ہارون رشید فوراً اٹھ کھڑا ہوا، جنگ کی تیاری کی اور اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ رومی سرحد میں داخل ہو کر رومی شہروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ رومی بادشاہ کی بیٹی کو اپنے حرم میں شامل کر لیا اور بہت سارا مالِ غنیمت اسے حاصل ہوا۔ نیز اس نے دشمن کے گھروں کو ویران کر دیا اور باغات کو جلانے کا حکم دیا۔
    جب شاہ روم کو اپنی شکست نظر آئی تو اس نے ہارون رشید سے ہر سال خراج کی ادائیگی پر صلح کی درخواست کی۔ ہارون رشید نے اس کی درخواست منظور کر لی۔ لیکن جب وہ واپسی میں شام کے علاقہ"رقہ" پہنچا تو نقفور نے اپنا معاہدہ توڑ ڈالا۔
    ہارون رشید کو خبر ملی تو اس نے کہا: کیا اس نے عہد شکنی کر دی؟!
    پھر وہیں سے ہارون رشید روم لوٹ گیا اور شاہِ روم کے آنگن میں اپنی سواری بٹھائی، نقفور سے اس کی عہد شکنی کے عوض کئی گنا بڑھا کر خراج لیا اور اپنے مقصد میں کامیاب ہو کر واپس آیا۔
    مؤرخین کا بیان ہے کہ ہارون رشید نے اس وقت روم پر جو خراج عائد کیا تھا اس کی وجہ سے سلطنتِ روم کی کمر دسیوں سال سیدھی نہ ہو سکی۔
    (اس واقعے کی تفصیل کے لیے دیکھئے: البدایۃ والنھایۃ۔10/۔194)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں