ایمان والی بیوی!

ام عائشة السلفیہ نے 'گوشۂ نسواں' میں ‏ستمبر 15, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ام عائشة السلفیہ

    ام عائشة السلفیہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏اگست 31, 2017
    پیغامات:
    14
    • ایسی نہ بنو جو سب کچھ ہڑپ کر کے بھی خوب مذمت کرے، چیخے چلائے، غصے میں رہے ، اپنے خاوند کی کسی بات کو نہ مانے اور اس کی ڈالی ہوئی قسم پوری نہ کرے، اپنے خاوند کا بھر پور خیال کرو، اس کی محبت میں گھری رہو، ضرورت پڑنے پر اس کی مدد کرو، جب بھی بلائے اور آواز لگائے تو فوری جواب دو، اس کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھو، ہمیشہ اس کی اچھائی بیان کرو، اس کے ساتھ بد سلوکی مت کرو، جب وہ شدید غصے میں ہو تو جھگڑا مت کرو اور جب وہ بہت ہی غضب میں ہو تو اس کے سامنے زبان درازی مت کرو
    سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے عقیل بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے کہا: "تمہیں کون سی خواتین زیادہ پسند ہیں؟" تو انہوں نے کہا: "جو ہماری چاہت کو اپنی چاہت سمجھے" تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: " کون سی خواتین اچھی نہیں ہوتیں؟" تو انہوں نے کہا: "جو ہماری خوشی کو اپنی خوشی نہ سمجھے" اس پر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "یہ تو جلد بازی میں کہہ گئے ہو!" تو عقیل رضی اللہ عنہ کہنے لگے: "لیکن ہے یہ مبنی بر انصاف"

    ابو اذینہ صدفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (تمہاری بہترین خواتین وہ ہیں جو محبت کرنے والی ہوں، بچے جننے والی ہوں، تمہاری اطاعت کے ساتھ غم گساری بھی کرے اور اللہ تعالی سے ڈرے۔ تمہاری بد ترین خواتین وہ ہیں جو بے پردہ پھریں، اپنے آپ پر نازاں رہیں، یہ منافق ہیں، ان میں سے جنت میں صرف اتنی ہی جائیں گی جتنے اعصم [یعنی: سفید]کوّے ہیں!) بیہقی، "اعصم کوّا" اسے کہتے ہیں جس کے پر اور پاؤں دونوں سفید ہوں، آپ ﷺ کا اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ان کی انتہائی معمولی تعداد جنت میں جائے گی؛ کیونکہ کوّوں کی یہ قسم بہت ہی نادر ہے۔

    حصین بن محصن اپنی پھوپھی سے بیان کرتے ہیں کہ: وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے آنے کا مقصد پورا کرنے کے بعد ان سے فرمایا: (کیا آپ شادی شدہ ہو؟) تو انہوں نے کہا: "جی ہاں" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (تم اپنے خاوند کے لیے کیسی ہو؟) تو انہوں نے کہا: "میں کسی قسم کی کمی نہیں کرتی، الّا کہ میری استطاعت سے باہر ہو" تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (خیال کرنا کہ تمہارا خاوند کے ہاں کیا مقام ہے؛ کیونکہ وہ تمہارے لیے جنت بھی ہے اور جہنم بھی)
    رواہ النسائی

    اگر زندگی خوشحال گزر رہی ہو، اخلاقیات سے بھر پور ہو، کسی قسم کی نفرت اور بغض نہ ہو تو بیوی پر طلاق طلب کرنا یا خلع لینا علمائے کرام کے صحیح ترین موقف کے مطابق حرام ہے۔

    ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (کوئی بھی خاتون اپنے خاوند سے بلا وجہ طلاق مانگے تو اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہے) اسے ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔

    اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (خلع لینے والیاں اور [عقدِ نکاح سے] باہر نکلنے والیاں منافق ہیں)
    اسے طبرانی نے روایت کیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
    • مفید مفید x 1
  2. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    150
    بہت عمدہ
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں